سرگرم عدلیہ فسادات میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچا سکتی تھی

دہرہ دون:سن ۱۹۱۸ء میں عدالت عظمیٰ کے جن چار محترم ججوں نے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفریس کی تھی اس میں سے مدن بی لوکور ایک تھے، جناب لوکور نے ہفتہ کے دن فرمایا کہ ‘‘اگر عدلیہ سرگرم ہوتی تو دہلی کے حالیہ تشدد میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا’’۔ جسٹس لوکور نےجو کہ اس وقت فی جی کی عدالت عظمیٰ کے غیر مقیم جج ہیں ، یہ تبصرہ دہرہ دون اتر آنچل یونیورسٹی میں ہفتہ کے دن لا کالج کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا۔
عدالت عظمیٰ کے سابق جج نے دہلی فسادات کے سیاق میں عدلیہ کے کردار پر ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انہوں نے اس ہفتہ کے آغاز میں فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ ایسے سنگین حالات میں عدلیہ کو فوری کاروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو شاید زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
جب آپ سےجسٹس ایس مرلی دھر کے تبادلہ کے وقت کے سلسلے میں سوال کیا گیاجب کہ انہوں نے دلی پولیس کی اس بات پر کھنچائی کی تھی کہ اس نے ان لیڈران پر کوئی کاروائی نہیں کی جو دل آزار تقریریں کررہے تھے، ان کا تبادلہ فوراً کردیا گیا تھا، جسٹس لوکور نے فرمایا ‘‘جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آجاتے اس پر کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہےاور متعلقہ جج نے کہا ہے کہ وہ اس پر کوئی بحث کرنا نہیں چاہتے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے بھی بحث کرنا مناسب نہیں ہوگا’’۔ جب ان سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بارے میں پوچھا گیا تو محترم جج نے کہا کہ ‘‘اس قانون میں امتیازی سلوک کا عنصر معلوم ہوتا ہے’’۔
جب ایک طالب علم نے ذکر کیا کہ حکومت ہند نے گزشتہ ایک برس کے دوران 95 مرتبہ انٹر نیٹ خدمات بند کیا اور پوچھا کہ کیا یہ اظہار خیال کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ تو محترم جج نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا۔‘‘ہاں میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر قابو رکھنے کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ عصمت دری کی ویڈیو واٹس ایپ پر میرٹھ میں بیس روپے میں دستیاب ہیں۔ سرکار اس پر قابو کرسکتی ہے۔ لیکن انٹر نیٹ کو بند کرنا ہی ناگزیر طریقہ نہیں ہے۔
ہندوستانی عدالتی نظام میں انصاف کی کسی درخواست پر سماعت میں تاخیر ہونے کے نقص پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محترم لوکور نے فرمایا کہ ہندوستانی عدالتوں کو وقت پر فیصلہ دینے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اس پر فوری طور پر ترجیحی توجہ کی ضرورت ہے۔
‘‘عدلیہ کو سرجوڑ کو خود احتسابی کرنےکی ضرورت ہے کہ انہوں نے وقت اور معاملات کا انتظام کیوں نہیں کیا اور اب اسے کس طرح کیا جائے کہ تاخیر سے بچا جاسکتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا ان کو چیف جسٹس مشراکے عدالت عظمیٰ کے انتظامات کے طریقہ کار پر پریس کانفرنس کرکے تنقید کرنے پر افسوس ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بات کیوں کوئی سوچتا ہے کہ مجھے افسوس ہوگا؟

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *