شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا دورہ

سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا ۳؍مارچ ۲۰۲۰ء کو دورہ کیا جس میں پی ۔ایم۔اے۔ سلام، محمد ساجد صحرائی، ڈاکٹر انیس، عرفان احمد، صادق فضل اور تملناڈو سے دو احباب زین العابدین اور عتیق احمد شریک تھے۔
ہم صبح 40:11پر فسادزدہ علاقہ جعفرآباد کی بستی مصطفیٰ آباد پہنچے۔ ہمارا پہلا پڑاؤ میڈیکل ریلیف کیمپ میں تھا جو الاصلاح پبلک اسکول کے احاطہ میں قائم کیا گیا تھا۔ اور جس کا نظم و نسق دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبہ چلا رہے تھے۔ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے، نقصانات کا اندازہ لگا رہے تھے اور متاثرین کو ضروری رہنمائی فراہم کر رہے تھے۔
اس کے بعد ہماری ملاقات ۶۵ سالہ بزرگ ماسٹر نورعین صاحب سے ہوئی جو بستی کے نمایاں فرد تھے جو بہت زیادہ سرگرم تھے۔ مصطفیٰ آباد کے رضاکاروں کی قیادت کر رہے تھے تاکہ پڑوس کے علاقہ شیو وہار سے آنے والے ہزاروں بے خانماں افراد کی فوری امداد کی جاسکے ان کے درد کا درماں کیا جا سکے۔
ماسٹر نورعین صاحب سراپا تعاون تھے۔ وہ اور ان کے رفقاء نے ہمیں کافی وقت دیا اور بالترتیب ان واقعات کو بیان کیا جن کی وجہ سے جعفرآباد کے نواحی علاقوں موج پور، چاند باغ، گوکل پوری و اطراف میں تشدد اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔
۲۲؍فروری جعفرآباد میٹر اسٹیشن پر دھرنے سے لے کر مسلم کش فساد تک جس میں سینکڑوں نقاب پوش اور ہتھیار بردار حملہ آور شامل تھے پیش آنے والے واقعات کو چند باخبر حضرات نے اس طرح بیان کیا ۔
دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کے تیسرے ہفتہ سے سیلم پور میں ایک دھرنا تسلسل کے ساتھ سڑک جام کئے بغیر جاری تھا۔ فروری ۲۰۲۰ء؁ کے دوسرے ہفتہ سے طالبات اور عورتوں کے ایک گروپ نے جن کا تعلق اس بستی سے نہیں تھا ، نے جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے سامنے سڑک بلاک کرکے ایک اور دھرنا منعقد کرنے کی منظم کوشش کی۔ مگر مقامی افراد اور مقامی ملی قیادت نے تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر اعتراض کیا۔ لیکن سنیچر ۲۲؍فروری کی شام کو چند سو افراد جن میں اکثریت طالبات اور خواتین کی تھی جن کا تعلق اس علاقہ سے نہیں تھا کسی طرح جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے سامنے سڑک بلاک کرکے دھرنے کا آغاز کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طالبات و خواتین جن کا تعلق مقامی علاقہ سے نہیں تھا اور جو دھرنے کی قیادت کر رہی تھیں کے بارے میں واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی بائیں بازو کی تنظیم ’’پنجرہ توڑ‘‘ سے وابستہ تھیں۔
دوسرے روز اتوار ۲۳؍ فروری کو بی جے پی لیڈر کپل مشرا ایک گروپ کے ساتھ آیا اور اس نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (شمال مشرقی دہلی ضلع) کی موجودگی میں اشتعال انگیز فرقہ پرستانہ تقریریں کی۔ ڈی سی پی نے کپل شرما کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہ وہ انتہائی بھڑکاؤ بھاشن دے رہا تھا۔ اور دھمکی دے رہا تھا کہ اگر پولیس نے اس علاقہ کو تین دنوں میں خالی نہیں کرایا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتوار ۲۳؍فروری کی شام تک بی جے پی کے غنڈے موج پور چوک پر جمع ہو گئے۔ دہلی پولیس نے ان کے تشدد اور مسلمانوں کو دھمکانے کی للکار کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔
۲۳؍فروری تا ۲۶؍فروری چار روز تک بڑے پیمانے پر آگ زنی، لوٹ مار، فائرنگ ، قتل و غارت گری کا سلسلہ دہلی پولیس کی رکاوٹ کے بغیر جاری رہا۔ دہلی پولیس تمام علاقوں میںا چھی تعداد میں موجود تھی لیکن یا تو وہ خاموش تماشائی بنی رہی، انہوں نے نقاب پوش ہتھیار بند فسادیوں کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا یا پھر بعض مقامات پر حملہ آوروں کی مدد کی۔ مسلمانوں کو دھمکایا جو پہلے ہی نشانہ ستم تھے۔
۲۶؍فروری کو دہلی ہائی کورٹ کی ایک بینچ نے تشدد کے تعلق سے درخواستوں کی سماعت کی اور بی جے پی لیڈروں کی گرفتاری سے دامن بچانے پر دہلی پولیس کی ناکامی پر غصہ کا اظہار کیا۔ جن لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے تشدد بھڑک اٹھا جس میں کم از کم ۴۹ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ عدالتی بینچ ایک جج جسٹس مرلی دھرنے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی اور حکم دیا کہ بی جے پی سیاستداں کپل مشرا وغیرہ پر فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور تشدد کو بھڑکایا۔
جسٹس مرلی دھر کا راتوں رات فوری طور پر پنجاب ہریانہ عدالت کو تبادلہ کر دیا گیا۔ اگلے ہی روز ایک نئی بینچ نے کپل مشرا وغیرہ پر ایف آئی آر درج کرنے کی خاطر کی گئی درخواستوں پر جواب دینے کے لئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو چار ہفتوں کا وقت دے دیا۔ سماعت کی اگلی تاریخ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۰ء؁ مقرر کر دی گئی ہے۔
آگ زنی، فائرنگ، لوٹ اورقتل و غارتگری کا سلسلہ ۲۳، ۲۴، ۲۵، ۲۶؍فروری مسلسل چار روز تک جاری رہا۔ شیو وہار، مصطفیٰ آباد، موج پور، چاند باغ، گوکل پوری، برج پوری اور نہرو وہار اس کی زد میں رہے۔ شیو وہار میں مسلمانوں کی آبادی صرف ۱۵ فیصد ہے یہاں پر سینکڑوں نقاب پوش غنڈوں نے حملہ کیا جن کے پاس ہتھیار تھے بشمول آتشیں ہتھیار۔ گوکہ شیو وہار میں مسلمانوں کا تناسب ۱۵ فیصد ہے مگر ۲۰۰۰ مسلم خاندان مقیم ہیں۔
جب فضاانتہائی کشیدہ ہوگئی توتمام مسلم خاندان سوائے ایک محدود تعداد کے پڑوس ہی میں واقع مصطفیٰ آباد کو ہجرت کر گئے۔ کئی ایک کے رشتہ دار وہاں تھے جن کے کوئی رشتہ دار نہیں تھے ان کا بھی وہاں عزت و احترام کے ساتھ استقبال کیا گیا اور ان کے لئے گنجائش پیدا کی گئی۔ مگر شیو وہار میں مسلمانوں کے ۹۹ فیصد گھروں، دکانوں، دواخانوں بشمول دو مساجد لوٹا ور نذر آتش کر دیا گیا۔ مساجد اور دوکانوں کے اندرونی اسباب و فرنیچر کو آگ لگانے کے لئے گیس سیلنڈر کا استعمال کیا گیا۔ فساد کے پہلے روز ہی غیر مسلموں کی دوکانوں اور گھروں پر ’’جے شری رام‘‘ کا نشان لگا دیا گیا تھا۔ جنہیں بڑے پیمانے پر کی گئی لوٹ اور آگ زنی کے دوران استثنا حاصل تھا۔
چونکہ تقریباً تمام ہی خاندانوں نے مصطفیٰ آباد کو ہجرت کر دی تھی اس لئے شیو وہار میں جانی نقصان بہت محدود رہا۔ یہاں ایک گلی ہے جس کا نام ہے بیکری اسٹریٹ یہاں واقع ۲۰ تا ۳۰ بیکریوں کو مکمل طور پر لوٹاا ور تباہ کر دیا گیا۔ دو مساجد اولیاء مسجد اور مدینہ مسجد کو توڑ پھوڑ کر ان کی حرمت کو مکمل طور پر پامال کردیا گیا۔ جائیداد اور تجارت کا نقصان بے تحاشہ ہوا ہے۔ مکانوں اور دوکانوں کے ڈھانچے باقی ہیں۔ کئی مکانوں کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور اکثر کے ڈھانچوں اور اندرون کو بڑے پیمانے پر درست کرنا ہوگا اور ان سب کے لئے بہت ہی خطیر رقم خرچ کرنا پڑے گی۔
دوسرا متاثرہ علاقہ ہے برج پور، وہاں فاروقیہ مسجد کے امام اور مؤذن پر حملہ ہوا ہے۔ انہیں جی ٹی بی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک ہے۔ نہرو وہار پر بھی حملہ ہوا ہے ، میونسپل کاؤنسلر طاہر حسین کا تعلق یہیں سے ہے، یہاں کہ ۶۰ فیصد آبادی مسلمان ہے۔
ہم نے عید گاہ میںو اقع ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا۔ مسلمان خاندان جنہیں پڑوس کے علاقوں میں بسایا نہیں جاسکتا تھا انہیں اس ریلیف کیمپ میں پناہ دی گئی ہے۔ ان کی غذا اور دیگر ضروریات کا کافی خیال رکھا گیا ہے۔
راحت اور باز آباد کاری
(۱) فوری راحت : متاثرین اور اجڑے ہوئے خاندانوں کو درکار فوری پناہ ، غذائی اور لازمی طبی راحت کا نظم ، راحت کاروں اور تنظیموں اور گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
(۲) طبی امداد: کئی افراد ایسے ہیں جو شدید طور پر زخمی ہیں اور انہیں علاج کے لئے بڑے اسپتالوں میں داخل نہیں کرایا جاسکا ہے۔ ان کے لئے مہنگے اور جدید علاج اور طبی مدد کی ضرورت ہے۔
(۳) قانونی امداد: درج ذیل زمروں میں قانونی امداد کی ضرورت ہے۔
الف۔ شہداء کے ورثاء اور خاندان کے لئے قانونی امداد۔
ب۔ گرفتار شدگان اور ان کے خاندانوں کے لئے قانونی امداد
ج۔ ان خاندانوں کے لئے قانونی امداد جن کی دوکان، مکان وغیرہ نذر آتش کئے گئے اور تباہ کر دئیے گئے۔
(۴) باز آبادکاری:
الف۔ ان خاندانوں کی مالی امداد جن کے گھر کے کمانے والے افراد شہید یا شدید زخمی یا معذور ہو گئے۔
ب۔ ان غریبوں کی امداد جن کے گھر تباہ کر دئیے گئے اور وہ مالی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ دوبارہ بنا نہیں سکتے۔
ج۔ دکان مالکوں کی امداد جو اپنے طور پر دوبارہ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *