مسلمان کی قومیت

مسلمان کی اجتماعی تنظیم کی بنیادیں : جس ساعت سعیدہ میں اسلام نے نوع انسانی کو اخلاق و اقدار کا نیا تصور دیا ، اور ان اخلاق و اقدار کے حصول کا نیا آستانہ بتایا، اسی ساعت سعیدہ میں اسنے انسان کے باہمی تعلقات اور روابط کا ایک نیا تصور بھی عطا کیا۔ اسلام کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ انسان اور اس کے رب کے درمیان تعلقات کو درست کرے اور انسان کو یہ بتائے کہ پروردگار عالم ہی وہ واحد بااختیار ہستی ہے جس کی بارگاہ عزت سے اسے اپنی زندگی کی اقدار اورر دّ و قبول کے پیمانے حاصل کرنے چاہیئں۔ کیونکہ اسی نے اسے خلعت ہستی اور سرمایۂ حیات کی ارزانی فرمایا ہے۔ اپنے روابط اور رشتوں کے بارے میں بھی اسی ذات کو مرکز و مرجع سمجھے جس کے ارادۂ کن فکاں سے وہ عدم سے وجود میں آیا ہے اور جس کی طرف اسے آخر کار لوٹ کر جانا ہے۔ اسلام نے آکر پوری قوت و صراحت کے ساتھ انسان کو یہ بتایا کہ اللہ کی نظر میں انسانوں کو باہم جوڑنے والا صرف ایک ہی رشتہ ہے۔ اگر یہ رشتہ پوری طرح استوار ہو گیا تو اس کے مقابلے میں خون اور مؤدت و الفت کے دوسرے رشتے مٹ جاتے ہیں۔:
’’جو اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تم نہ دیکھو گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کےدشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں ،گو وہ ان کے باپ اور بیٹے اور بھائی اور اہل قبیلہ ہی کیوں نہ ہوں‘‘ (مجادلہ ۲۲)
دنیا کے اندر اللہ کی پارٹی صرف ایک ہے ۔ اس کے مقابلے میں دوسری تمام پارٹیاں شیطان اور طاغوت کی پارٹیاں ہیں۔
’’جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میںلڑتے ہیں۔ پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں نہایت کمزور ہیں۔‘‘ (النسائَ: ۷۶)
اللہ تک پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ اس کے ماسوا جو راستہ ہے وہ اللہ سے دور لے جانے والاہے۔
’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے۔‘‘ (الانعام: ۱۵۳)
انسانی زندگی کے لیے صرف ایک ہی نظام حق ہے، اور وہ ہے اسلامی نظام، اس کے علاوہ جتنے نظام ہیں وہ عین جاہلیت ہیں۔
’’تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ (المائدہ: ۵۰)
صرف ایک ہی شریعت واجب الاتباع ہے اور وہ ہے اللہ کی شریعت، اس کے سوا جتنی شریعتیں ہیں ،ہوائے نفس ہی ہیں:
’’اے نبی ﷺ ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کرو جوعلم نہیں رکھتے۔ (جاثیہ: ۱۸)
دنیا میں حق صرف ایک ہے جس میں تعدد و تنوع محال ہے۔ حق کے سوا جو کچھ ہے وہ ضلالت اور تاریکی ہے:
’’پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو۔‘‘ (یونس: ۳۲)
دنیا میں صر ف ایک ہی ایسی سرزمین ہے جسے دارالاسلام کہا جا سکتا ہے اور وہ ملک ہے جہاں اسلامی ریاست قائم ہو ۔ شریعت الٰہی کی فرمان روائی ہو ، حدوداللہ کی پاسداری ہو اور جہاں مسلمان باہم مل کر امور مملکت سرانجام دیتے ہوں۔ اس کے علاوہ جو بھی سرزمین ہوگی وہ دارالحرب کے حکم میں داخل ہے۔ دارالحرب کے ساتھ ایک مسلمان دو ہی طرح کا رویہ اختیار کر سکتا ہے : جنگ یا معاہدۂ امان کے تحت صلح ،معاہد ملک دارالاسلام کے حکم میں ہرگز نہیں ہوگااس کے اور دارالاسلام کے مابین ولایت کا رشتہ قائم نہیں ہو سکتا:
’’جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی دراصل ایک دوسرے کےولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے دارالاسلام میں نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ،جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکر حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم (اہل ایمان ایک دوسرے کی حمایت) نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میںگھربار چھوڑے اور جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے خطائوں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میںایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔‘‘ (الانفال: ۷۲ تا ۷۵)
اس روشن اور مکمل ہدایت اور اس قطعی اور فیصلہ کن تعلیم کو لے کر اسلام دنیا میں رونق افروز ہوا۔ اور اس نے انسان کو خاک اور مٹی کے رشتوں اور خون و گوشت کے رابطوں سے نجات دے کر اسے اعلیٰ و ارفع مقام بخشا۔ اسلام کی نظر میں مسلمان کی کوئی قومیت نہیں ہے۔ اگر اس کی کوئی قومیت ہے تو صرف وہ خطۂ زمین جہاں شریعت الٰہی کا علم لہرارہا ہو ، اور باشندوں کے باہمی روابط تعلق باللہ کی بنیاد پر قائم ہوں۔ اسلام کی نظر میں مسلمان کی کوئی قومیت نہیں ہے۔ اگر اس کی کوئی قومیت ہے تو صرف وہ عقیدہ ہے جس کے تحت وہ دارالاسلام کے اندر بسنے والی جماعت مسلمہ کا ایک رکن بنا ہے۔ مسلمان کی کوئی رشتہ داری اور قرابت نہیں ہے۔ سوائے اس کے جو ایمان اور عقیدے کے تقاضے میں وجود میں آتی ہے۔ اور جس کے بعد اس کے اور اس کے دوسرے دینی ساتھیوں کے درمیان ایک نہایت مضبوط و مستحکم ناطہ وجود میں آجاتا ہے۔ مسلمان کی اپنے ماں باپ ، بھائی ، بیوی اور خاندان کے ساتھ اس وقت تک کوئی رشتہ داری استوار نہیں ہو سکتی جب تک وہ بنیادی اولین رشتہ قائم نہ ہو جو سب کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے۔ اور پھر اسی ربانی رشتے کی بنیاد پر ان کے درمیان خونی اور نسلی قرابتیں بھی استوار تر ہوجاتی ہیں:
’’اے لوگو! اپنےرب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اوران دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔‘‘ (النسائَ: ۱)
لیکن ربانی رشتہ اس امر میںمانع نہیں ہے کہ ایک مسلمان اختلاف عقیدہ کے باوجود والدین کے ساتھ معروف کی حد تک اس وقت تک حسن سلوک اور حسن معاشرت رکھے جب تک کہ وہ اسلامی محاذ کے دشمنوں کی صفوں میں شامل نہ ہوں۔ اگر وہ کفار کی کھل کھلا حمایت پر اتر آئیں تو ایسی صورت میں مسلمان کی اپنے والدین کے ساتھ کوئی رشتہ داری اور صلہ رحمی کا تعلق باقی نہیں رہتا۔ اور حسن معاشرت اور نیک برتائو کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ عبداللہ بن ابی جو رئیس المنافقین تھا اس کے صاحب زادے حضرت عبداللہ نے اس معاملے میں ہمارے لیے نہایت درخشاں مثال پیش کی ہے:
ابن جریر نے ابن زیاد کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کے صاحب زادے حضرت عبداللہ کو بلا کر فرمایا : آپ کو معلوم ہے کہ آپ کاباپ کیا کہہ رہا ہے؟ عبداللہ نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس نے کیا کہا ہے؟ آنجناب ﷺ نے فرمایا وہ کہتا ہے کہ اگرہم مدینہ لوٹ گئے تو وہاں عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ حضرت عبداللہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ خدا کی قسم اس نے درست کہا ہے ۔ بخدا آپ عزت والے ہیں اور وہی ذلیل ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ خدائے برتر کی قسم آپ کی مدینہ میں تشریف آوری کے وقت اہل یثرب کو معلوم ہے اس شہر میں مجھ سے زیادہ اپنے والد کا فرماں بردار کوئی شخص نہیں تھا۔ اور اب اگر اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی اس میں ہے کہ میں والد کا سر ان کی خدمت میں پیش کر دوں تو میں اس کا سر لائے دیتا ہوں۔ جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ چنانچہ جب مسلمان مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن ابی کے لڑکے حضرت عبداللہ مدینہ کے باہر اپنے باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے ۔ اور اس سے کہنے لگے کہ کیا تونے یہ کہا ہے کہ اگر ہم مدینہ لوٹے تو وہاں عزت والا ذلیل لوگوں کو نکال دے گا۔ خدائے بزرگ کی قسم تجھے ابھی معلوم ہو جائے گا کہ تو عزت والا ہے یا اللہ کارسول ﷺ ۔ خدا کی قسم جب تک اللہ اور اس کے رسول اجازت نہ دیں تجھے مدینہ کا سایہ نصیب نہیں ہو سکتا۔ اور تو مدینہ میں ہرگز پناہ نہیںلے سکتا۔ عبداللہ بن ابی نے دو مرتبہ چلا کر کہا : اے خزرج کے لوگو! دیکھو یہ میرا ہی بیٹا مجھے گھر میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ حضرت عبداللہ اس کے شور و ہنگامے کے باوجود یہی کہتے رہے کہ جب تک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اذن نہ ہو خدا کی قسم تجھے ہرگز مدینہ میں قدم نہ رکھنے دوں گا۔ یہ شور سن کر کچھ لوگ حضرت عبداللہ کے پاس جمع ہو گئے اور انہیں سمجھایا بجھایا۔ مگر وہ اس بات پر مصررہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے اذن کےبغیر میں اسے مدینہ میں گھسنے نہیں دوں گا۔چنانچہ چند لوگ آنحضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نےسن کر فرمایا عبداللہ کے پاس جائو اور اسے کہو :’’اپنے باپ کو گھر آنے سے نہ روکے‘‘ چنانچہ وہ لوگ عبداللہ کے پاس آئے اور انہیں آنحضور ﷺ کے ارشاد سے آگاہ کیا۔ حضرت عبداللہ کہنے لگے اگر اللہ کے نبی ﷺ کا حکم ہے تو اب یہ داخل ہو سکتا ہے۔
جب عقیدہ و ایمان کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے تو اس کے بعد نسب و رحم کے رشتے نہ بھی ہوں تو بھی تمام اہل ایمان باہم بھائی بھائی بن جاتے ہیں۔ اور ان میں وہ مضبوط تر رابطہ وجود میں آجاتا ہے جو انہیں یک قالب و یک جان بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں‘‘ اس مختصر ارشاد میں حذر ہے اور تاکید بھی ۔ نیز فرمایا:
’’جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑا اور اللہ کی راہ میں اپنےمالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی دراصل ایک دوسرے کےولی ہیں۔‘‘ (الانفال: ۷۲)
اس آیت میں جو ولایت کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف ایک ہی وقت میںپائی جانےوالی اور ایک ہی نسل تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتی رہتی ہے اور امت مسلمہ کے اگلوں کو پچھلوں سے اور پچھلوں کو اگلوں کے ساتھ محبت و مؤدت اور وفاداری و غمگساری اور رحم دلی و شفقت کی ایک مقدس و لازوال لڑی میں پرودیتی ہے۔
’’اور جو لوگ مہاجرین کی ہجرت سے پہلے مدینہ میں رہتےتھے اور ایمان لا چکے تھے (یعنی انصار) وہ ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مال غنیمت میں سے مہاجرین کو جو کچھ بھی دے دیا جائے اس کی وجہ سے یہ اپنے دل میں اس کی کوئی طلب نہیں پاتے اور خواہ انہیں تنگی ہی کیوں نہ ہو مگر وہ (اپنے مہاجرین بھائیوں کو ترجیح دیتے ہیں) اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اور جو ان کے بعد آئے وہ یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں ۔۔۔۔۔ اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رہنے دے اے ہمارے پروردگار بے شک تو بڑا شفقت رکھنے والا اور مہربان ہے۔‘‘(الحشر: ۱۰)
ہر دور میں عقیدہ ہی بنائے جمع و تفریق تھا: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب حکیم میں مومنین کے سامنے انبیاء سابقین کی برگزیدہ جماعت کی متعدد مثالیںاورقصےبیان فرمائے ہیں۔ان انبیائَ علیہم السلام نے مختلف ادوار میں ایمان کی قندیلیں فروزاں کیں ، اور ایمان و عقیدہ کے نورانی قافلوں کی قیادت فرمائی ان مثالوں میںاللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ہر نبی کی نگاہ میں اصل رشتہ اسلام اور عقیدہ کا رشتہ تھا۔ ان کے مقابلے میں کوئی اور رشتہ و قرابت داری کسی لحاظ سے بھی نافع ثابت نہیں ہو سکتی۔
’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا ۔ کہا اے رب !میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے ۔ اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ جواب میں ارشاد ہوا اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیںہے ۔ وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے۔ لہٰذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے ۔ نوح نے فوراً عرض کیا اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں ۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جائوں گا۔‘‘ (ھود : ۴۵ تا ۴۷)
’’اور یاد کرو جب ابراھیم کو اسکے رب نے چند باتوں میں آزمایا ۔ اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا ۔ تو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔ ابراہیم نے عرض کیا اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟ اس نے جواب دیا : میرا وعدہ ظالموں ے متعلق نہیں ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۴)
اور جب ابراہیم نے دعا کی : اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ۔ اللہ نے فرمایا اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۶)
حضرت ابراہیمؑ نے جب اپنے باپ کو اور اپنے اہل خاندان کو گمراہی پر مصر دیکھا تو وہ ان سے کنارہ کش ہو گئے اور فرمایا:
’’میں آپ لوگوںکو چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا۔‘‘ (مریم:۴۸)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ اور ان کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے ان پہلوئوں کو مومنین کے سامنے خاص طورپر پیش کیا ہے جن میں مومنین کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے۔ فرمایا:
’’بے شک تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھی بہترین نمونہ ہیں ، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے دو ٹوک کہہ دیا کہ ہم کو تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم تمہارے( معبودوں  اور عقیدوں)بالکل نہیں مانتے اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کےلئے کھلم کھلا عداوت اور دشمنی قائم ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لے آئو۔‘‘(ممتحنہ: ۴)
وہ جواں ہمت اور جواں سال رفقا جو اصحاب کہف کے لقب سے مشہور ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ دین و عقیدہ کی متاع گراں بہا کے لیے ان کے وطن اہل و عیال اور ان کے خاندان و قبیلہ میں کوئی گنجائش نہیں رہی ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کو خیرباد کہہ کر اپنی قوم سے کنارہ کش ہو گئے ۔ وہ اپنے وطن سے ہجرت کر گئے اور متاع ایمان کو لے کر اپنے پروردگار کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تاکہ وہ دین و ایمان کی بنیاد پر صرف ایک اللہ کے بندے بن کر رہ سکیں:
’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔ ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کر دیئے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جا بات کریں گے۔ (پھر انہوں نے آپس میں ایک دسرے سےکہا) یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ اپنے اس عقیدے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے آخر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ اب جب کہ تم ان سے اور ان کے معبودان غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا۔ اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیا کرے گا۔‘‘ (الکھف: ۱۳تا ۱۶)
حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا ذکر قرآن میں آتا ہے۔ ان برگزیدہ پیغمبروں اور ان کی بیویوں کے درمیان صرف اس بنا پر تفریق ہو جاتی ہے ، کہ ان کی بیویوں کا عقیدہ خاوندوں کے عقیدے سے جدا تھا اور وہ آلودۂ شرک تھیں۔
’’کافروں کی عبرت کے لیے اللہ نوحؑ کی عورت اور لوط ؑ کی عورت کی مثال دیتا ہے۔ یہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں ۔ ان دونوں نے ان سے خیانت کی مگر اللہ کی گرفت سے دونوں کے شوہر ان کو نہ بچا سکے اور دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جائو دوسرے لوگوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہو جائو۔‘‘ (تحریم: ۱۰)
ساتھ ہی جابر و سرکش فرمان روافرعون مصر کی بیوی کی مثال بیان کی گئی ہے اور اہل ایمان کے لیےاسوہ کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے:
’’اور اہل ایمان کی نصیحت کے لیے اللہ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتاہے جب کہ اس نے دعا کی اے میرے پروردگار میرے لیے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھ کو فرعون اور اس کے کردار بد سے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی نجات دے‘‘ (تحریم: ۱۱)
علی ھٰذالقیاس قرآن نے ہر نوعیت کے رشتوں اور قرابتوں کے بارے میں مختلف مثالیں بیان کی ہیں نوح ؑ کے قصے میں رشتۂ پدری ملے گی، حضرت ابراہیم ؑ کے قصے میں بیٹے اوروطن کے رشتے کی مثال بیان کی گئی ہے اصحاب کہف کے قصے میں اعزہ و اقارب قبیلہ و برادری اور وطن و قوم کے رشتہ کی جامع مثال پیش کی گئی ہے۔ حضرت نوح و لوط علیہما السلام کے قصے اور فرعون کے تذکرے میں ازدواجی تعلق کی مثال دی گئی ہے قرآن کی نظر میں یہ تمام رشتے عقیدہ و ایمان کے ابدی رشتہ اور سرمدی رابطہ کے انقطاع کے بعد ناقابل لحاظ قرار پاتے ہیں۔
قوم رسول ہاشمی ﷺ کی بنائے ترکیب: جب انبیائَ کی برگزیدہ جماعت روابط و تعلقات اور رشتوں اور برادریوں کا حقیقی پیمانہ اور پاکیزہ تصور پیش کر چکتی ہے تو امت وسط کی باری آتی ہے۔ چنانچہ امت وسط کے اندر بھی اس نوعیت کی مثالوں اورنمونوں اور تجربوں کا وسیع اور ایمان افروز ذخیرہ ملتا ہے۔ یہ امت بھی اسی ربانی راستے میں گامزن نظر آتی ہےجو ازل سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے گروہ کے لیے منتخب و پسند فرمایا ہے۔ اس امت کے اندر بھی آپ دیکھیں گے کہ جب رشتۂ ایمان ٹوٹ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں جب انسان اور انسان کے درمیان اولین رشتہ منقطع ہو جاتا ہے تو ایک ہی خاندان اور قبیلے کے لوگ جدا جدا گروہوں میں بٹ جاتے ہیں بلکہ ایک ہی گھر کے مختلف افراد میں جدائی واقع ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
’’جو لوگ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو انہیں ان لوگوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائے گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں گو وہ ان کے باپ، یا بیٹے یا بھائی یا اہل قبیلہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ (اہل ایمان) وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے اندر اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے۔ اور فیضان غیبی سے ان کی تائید کی ہے۔ اور وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہ اللہ کا گروہ ہے اور آگاہ رہو اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔‘‘ (مجادلہ:۲)
ایک طرف محمد ﷺ اور آپ کے چچا ابو لہب اور آپ کے ہم قبیلہ عمرو بن ہشام (ابو جہل)کے درمیان تمام خونی اور نسلی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں مہاجرین مکہ اپنے اہل و اقربا کے خلاف برسر جنگ نظر آتے ہیں اور معرکۂ بدر میں ان کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف مکہ کے ان مہاجرین کے درمیان اور یثرب کے انصارکے درمیان عقیدہ کا سرمدی رشتہ استوار ہو جاتا ہے ۔ اور وہ سگے بھائی بن جاتے ہیں اور خونی اور نسلی رشتے سے بھی زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔ یہ رشتہ مسلمانوں کی ایک نئی برادری کو جنم دیتا ہے اور اس برادری میں عرب بھی شامل ہیں اور غیر عرب بھی۔ روم کے صہیب بھی اس کے رکن ہیں اور حبش کے بلال اور فارس کے سلمان بھی ان کے درمیان قبائیلی عصبیت مٹ جاتی ہے نسلی تعصب و تفاخر ختم ہو جاتا ہے وطن و قوم کے نعرے تحلیل ہو جاتے ہیں اور اللہ کا پیغمبر ان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
۱۔ ان عصبیتوں سے دست بردار ہو جائو یہ متعفن لاشیں ہیں۔
۲۔ جو کسی جاہلی عصبیت کی طرف دعوت دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ جو عصبیت کئے لیے جنگ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ جو عصبیت پر مرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔
دارالاسلام اور دارالحرب: الغرض ان مردار و متعفن عصبیتوں کا چلن ختم ہو گیا۔ نسبی تعصب کا مردارلاشہ دففن کر دیا گیا، نسلی برتری کا جاہلی نعرہ پائوں تلے روند ڈالا گیا، قومی گھمنڈ کی گندگی زائل کر دی گئی اور اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور انسان نے گوشت اور خون کے تعفن اور زمین و وطن کے لوث سے آزاد رہ کر آفاق عالم کے عطر بیز چمنستان میں مشام جان کو معطر کیا۔ اس دن سے مسلمان کا وطن جغرافی حدود اربعہ میںمحدود نہیں رہا بلکہ پورا دارالاسلام اس کا وطن ٹھہرا۔ وہ وطن جہاں عقیدہ و ایمان کی حکمرانی ہوتی ہے اور صرف شریعت الٰہی کا سکہ رواں ہوتا ہے۔ یہی وطن مسلمان کی پناہ گاہ بنا۔ اسی کی مدافعت کے لیے وہ کمر بستہ رہا اور اسی کے تحفظ اور استحکام میں اس نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور اس کی توسیع و اضافے میں اس نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ دارالاسلام ہر اس شخص کا مامن ہے جو عقیدۂ اسلام کا قلادہ گلے میں ڈال دیتا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ کو قانون زندگی کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ وہ شخص بھی اس پناہ گاہ سے استفادہ کر سکتا ہے جو مسلمان تو نہیں ہے مگر اسلامی شریعت کو نظام ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ جیسا کہ ان اہل کتاب کا معاملہ ہے جو دارالاسلام کے اندر بود و باش رکھتے ہیں۔ مگر وہ سرزمین جس پر اسلام کی حکمرانی کا پھریرا نہ لہراتا ہو اور شریعت الٰہی کو نافذ نہیں کیا جاتا ہو وہ مسلمان کے لیے بھی اور دارالاسلام کے معاہد ذمی کے لیے بھی دارالحرب ہے۔ مسلمان اس کے خلاف شمشیر بکف رہے گا خواہ وہ اس کی جنم بھومی ہو۔ اس سے اس کے نسبی اور سسرالی رشتے وابستہ ہوں اس کے اموال و املاک اس میں موجود ہوں اور اس کے مادی مفادات اس سے وابستہ ہوں، رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے خلاف تلوار اٹھائی حالانکہ مکہ آپ ﷺ کا پیدائشی اور آبائی وطن تھا، وہیں آپ ﷺ کے اعزہ و اقارب اور خاندان کے لوگ رہتے تھے، آپﷺ کے اور آپ ﷺ کے صحابہ کے مکانات اور جائدادیں بھی وہیں تھیں جنہیں آپ ﷺ ہجرت کے وقت وہاں چھوڑ آئے تھے۔ مگر مکہ کی سرزمین پیغمبر خدا ﷺکے لئے اور ان کی امت کے لیے اس وقت تک دارالاسلام نہ بن سکی جب تک وہ اسلام کے آگے سرنگوں نہ ہو گئی۔ اور شریعت عزا کے ہاتھ اقتدار کی مسند نہیں آگئی۔
اسی کا نام اسلام ہے۔ یہی نرالا تصور زندگی اسلام کہلاتا ہے۔ اسلام چند اشلوکوںکا نام نہیں ہے کہ بس انہیں زبان سے دہرا دینا ہی کافی ہو، اور نہ کسی مخصوص سرزمین کے اندر جس پر اسلام کا بورڈ چسپاں ہو یا جو اسلامی نام سے پکاری جاتی ہو پیدا ہو جانے سے کسی آدمی کو خود بہ خود اسلام کا سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ اور نہ یہ مسلمان والدین کے گھر میں پیدا ہونے سے وراثت میں مل جاتا ہے۔
’’نہیں اے محمدﷺ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو دفیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔‘‘ (النسائَ: ۶۵)
صرف اسی کا نام اسلام ہے۔ اور صرف وہی سرزمین دارالاسلام ہے جہاں اس کی حکومت ہو۔ یہ وطن و نسل ،نسب وخون، اور قبیلہ و برادری کی حدبندیوں سے بالاتر ہے۔
اسلامی وطن اور اس کے دفاع کا اصل محرک: اسلام نے آکر انسان کو ان تمام زنجیروں سے رہا کر دیا جنہوں نے اسے زمین کی پستی سے باندھ رکھا تھا، تاکہ انسان آسمان کی پنہائیوں میں پرواز کے قابل ہو سکے،خون و نسب کے تمام سفلی طوق و سلاسل پاش پاش کر دے، تاکہ انسان آزاد ہو کر بلند ترین فضائوں میں پرواز کر سکے۔ اسلام نے بتایا کہ مسلمان کا وطن زمین کا کوئی مخصوص خطہ نہیںہے، جس کی محبت میں اسے تڑپنا چاہیئے۔ اور جس کے دفاع میں اسے جان کی بازی لگانی چاہیئے۔ مسلمان کی قومیت جس سے وہ متعارف ہوتا ہے کسی حکومت کی عطاکردہ نیشنلٹی نہیں ہے۔ مسلمان کی برادری جس کی وہ پناہ لیتا ہے اور جس کی خاطر وہ لڑتا اور مرتا ہے وہ خون کے رشتے سے ترکیب نہیں پاتی مسلمان کا پرچم جس پر وہ ناز کرتا ہے اور جس کو اونچا رکھنے کے لیے وہ جان تک کی بازی لگا دیتا ہے وہ کسی قوم کا پرچم نہیں ہے، مسلمان کی فتح یابی جس کے لیے وہ بے تاب رہتا ہے اور جس سے ہمکنار ہونے پر وہ اللہ کے سامنے سجدۂ شکر ادا کرتا ہے وہ محض فوجی غلبہ نہیںہے، بلکہ وہ فتح حق ہے جسے قرآن میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
’’جب آگئی اللہ کی مدد اور فتح۔ اور تونے دیکھ لیا لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے۔ سو تو اپنے رب کی حمد کی تسبیح کر اور اس سے استغفارکر، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ النصر)
یہ بات فتح یابی صرف پرچم ایمان کے تحت حاصل ہوتی ہے دوسرے کسی جھنڈے کی عصبیت اس میں شامل نہیں ہوتی۔ یہ جہاد دین اللہ کی نصرت اور شریعت حق کی سربلندی کے لیے کیا جاتا ہے۔ کسی اور مقصد اور مفاد کو اس میں دخل نہیںہوتا۔ یہ اس دارالاسلام کا دفاع ہے جس کی شرائط و خصائص ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ اس دفاع میں کسی اور وطنی اور قومی تصور کی آمیزش نہیں کی جا سکتی۔ فتح یابی کے بعد فاتح قوم کی تمام تر توجہ، دلچسپی اور انہماک کا مرکز مال غنیمت کا حصول نہیں ہوتا، اور نہ یہ جنگ کسی دنیاوی شہرت یا ناموری کے لیے لڑی جاتی ہے، بلکہ اس کا مقصد خالصۃً للّٰلہ تعالیٰ کی رضا ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رضا جوئی اور اس کی تسبیح اور استغفار اس کا اصل مقصود ہے۔ یہ جنگ وطنی حمیت اور قومی عصبیت کی بنیاد پر بھی نہیں لڑی جاتی نہ اہل و عیال کا تحفظ اس کی اصل غرض اور محرک ہوتا ہے۔ البتہ ان کے تحفظ اور حمایت کا جذبہ اگر اس بنا پر شامل ہو کہ ان کے دین و ایمان کو فتنہ و آزمائش سے بچایا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص بہادری دکھانے کے لئے لڑتا ہے اور دوسرا حمیت کی خاطر لڑتا ہے اور تیسرا ریا کے لیے لڑتا ہے ان میں سے کون سا اللہ کی راہ میںلڑتا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جو اس لیے لڑتا ہے کہ صرف اللہ کا کلمہ بلند ہو صرف وہ اللہ کی راہ میںلڑتا ہے۔
شہادت کا مرتبہ صرف اس جنگ جوئی کے نتیجے میں نصیب ہو سکتا ہے جو صرف اللہ کی خاطر ہو دوسرے مقاصد کی خاطر جو قتال آرائی ہوگی اس میں یہ مرتبہ بلند حاصل نہ ہوگا۔
جو ملک مسلمان کے عقیدہ و ایمان سے برسر پیکار ہو، دینی امور کو سرانجام دینے میں اسے مانع ہو اور اتباو شریعت کو معطل کر رکھا ہو وہ دارالحرب شمار ہوگا،چاہے اس میں اس کے اعزہ و اقارب اور خاندان اور قبیلہ کے لوگ بستے ہوں، اس میں اس کا سرمایہ لگا ہو اور اس کی تجارت اور خوشحالی اس سے وابستہ ہو۔ اس کے مقابلے میں ہر وہ خطۂ ارض جس میں مسلمان کے عقیدہ کو فروغ و غلبہ حاصل ہو ، اللہ کی شریعت کی عملداری ہو وہ دارالاسلام کہلائے گا خواہ اس میںمسلمان کے اہل و عیال کی بود و باش نہ ہو اس کے خاندان اور قبیلہ کے لوگ وہاں نہ رہتے بستےہوں ۔ اور اس کی کوئی تجارت اور مادی منفعت اس سے وابستہ نہ ہو۔۔۔۔ ’’وطن‘‘ اسلامی اصطلاح میں اس دیار کا نام ہے جس میں اسلام کے عقیدہ کی حکمرانی ہو اسلامی نظام حیات قائم اور برپا ہو۔ اور شریعت الٰہی کو برتری حاصل ہو۔ وطن کا یہی مفہوم انسانیت کے مرتبہ و مذاق کے مطابق ہے۔اسی طرح قومیت اسلام کی رُو سے عقیدہ اور نظریۂ حیات سے عبارت ہے اور آدمیت کے شرف و فضل کے ساتھ جو رابطہ اور رشتہ مناسبت رکھتا ہے وہ یہی تصور قومیت ہو سکتا ہے۔
قومی اور نسلی نعرے جاہلیت کی سڑاند ہیں
رہی قبیلہ و برادری اور قوم و نسل اور رنگ و وطن کی عصبیت اور دعوت تو نہ صرف یہ دعوت تنگ نظری، تنگ دامانی اور محدودالاثر ہے بلکہ انسانی پسماندگی اور دور وحشت کی یادگار ہے۔ یہ جاہلی عصبیت ان ادوار میں انسان پر مسلط ہوئی تھی جب اس کی روح انحطاط اور پستی کا شکار تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے ’’سڑاند‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی ایسا مردار جس سے عفونت کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں۔ اور انسان کا ذوق نفیس کرب و کراہت محسوس کر رہا ہو۔
جب یہود نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ نسلی اور قومی بنیاد پر اللہ کی محبوب اور چہیتی قوم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ دعویٰ ان کے منھ پر دے مارا اور ہر دور میں اور ہر نسل اور قوم کے لیے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے بزرگی اور تقرب الٰہی اور شرف و فضیلت کا صرف ایک ہی معیار بتایا اور وہ ہے ایمان باللہ ۔ ارشاد ہوا:
’’یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہو جائو تو راہ راست پائو گے، عیسائی کہتے ہیں عیسائی ہو جائو تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو نہیں بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم کا طریقہ اختیار کرو اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھا۔ مسلمانوں! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحٰق، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروںکو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو ہدایت پر ہیں، اور اگر اس سے منھ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں۔ لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۳۵ تا ۱۳۷)
اللہ کی محبوب اور برگزیدہ اور پسندیدہ قوم درحقیقت وہ امت مسلمہ ہے جو نسلی اور قومی اختلاف ، رنگ و روپ کی بوقلمونی اور وطن و ملک کی مغایرت کے باوجود صرف اللہ کے پرچم کے نیچے مجتمع اور متحد ہوتی ہے:
’’تم وہ بہترین گرہ ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر اہمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۰)
یہ وہ خدا پرست امت ہے جس کے ہراول دستہ کی شان یہ تھی کہ اس میں عرب کے معزز خاندان کے چشم و چراغ ابوبکرؓ شامل تھے تو حبش کے بلالؓ اور روم کے صہیب ؓ اور فارس کے سلمانؓ بھی موجود تھے۔ بعد کی نسلیں بھی ہر دور میں اسی دل نشین انداز اور حیرت انگیز نظام کے جلو میں یکے بعد دیگرے منصۂ شہود پر ابھرتی رہیں۔ عقیدۂ توحید اس ملت کی قومیت رہی ہے دارالاسلام اس کا وطن رہا ہے اور اللہ کی حاکمیت اس کا امتیازی شعار رہا ہے اور قرآن اس کا دستور حیات رہا ہے۔
وطن وقوم کی عصبیتیں منافیٔ توحید ہیں: وطن و قومیت اور قرابت کا یہ پاکیزہ و ارفع تصور آج داعیان حق کے دلوں پر پوری طرح نقش ہو جانا چاہیئے۔ اور اس وضاحت اور درخشندگی کے ساتھ ان کے دل و دماغ کے ریشے ریشے میں اتر جانا چاہیے کہ اس میں جاہلیت کے بیرونی تصورات کا شائبہ تک موجود نہ ہو اور شرک خفی کی کوئی قسم اس میں راہ نہ پا سکے۔ ہر قسم کے شرک سے خواہ وہ وطن پرستی ہو یا نسل پرستی ، قوم پرستی دنیا کے گھٹیا مفادات اور منفعتوںکی پرستش ہو ان سب سے یہ تصور پاک و شفاف ہے ۔ شرک کی یہ سب قسمیں اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں جمع کر دی ہیں اور ایک پلڑےمیں ان سب کو رکھا ہے اور دوسرے میں ایمان اور اس کے تقاضوں کو رکھ دیا ہے اور پھر انسان کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ ان دونوںمیں سے کس پلڑے کو ترجیح دیتا ہے۔:
’’اے نبی ﷺ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور وہ مال جو تم نے کمائےہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ ‘‘ (التوبہ: ۲۴)
اسی طرح داعیان حق اور اسلامی تحریک کے علمبرداروں کے دلوں میں جاہلیت اور اسلام کی حقیقت اور دارالحرب اور دارالاسلام کی تعریف کے بارے میں سطحی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہیں ہونے چاہیے۔ دراصل ایسے شکوک و شبہات کے راستے ہی سے ان میں سے اکثر کے اسلامی تصور اور یقین و اذعان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ یہ بات کسی وضاحت کی محتاج نہیں ہے کہ جس ملک پر اسلامی نظام کی حکمرانی نہ ہو اور اسلامی شریعت قائم نہ ہو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بات بھی محتاج تشریح نہیں کہ کوئی ایسا ملک دارالاسلام نہیں ہو سکتا جس میں اسلام کے لائے ہوئے طرز زندگی اور قانون حیات کو اقتدار حاصل نہ ہو۔ ایمان کو چھوڑ کر انسان کفر ہی کےنرغے میں جاتا ہے جہاں اسلام نہ ہوگا وہاں لازماً جاہلیت کا چلن ہوگا،اور حق سے روگردانی کے بعد اسےگمراہی اور ضلالت کےسوا کچھ نہ نصیب ہوگا۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *