این پی آر کا بائیکاٹ کیسے کریں

NRCنیشنل رجسٹر آف سٹیزن 1985میں مرکزی حکومت و آسام کی ریاستی حکومت کے درمیان معاہدہ کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت آسام میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے بنگالی زبان بولنے والوں کی شناخت کرنا اور انہیں ملک سے باہر کرنا یا ڈٹینشن کیمپ میں رکھنا پایا تھا۔ گذشتہ دنوں ریاستی انتخابات میں بنگالی زبان بولنے والے ہندوؤں نے بی جے پی کو منتخب کیا۔ آسام میں NRCسے 19/ لاکھ لوگ باہر کر دیے گئے جن میں سے 14/لاکھ غیر مسلم بنگالی زبان بولنے والے ہیں جنہوں نے بی جے پی کی حکومت میں یوگدان دیا ہے۔ 14/لاکھ غیر مسلموں کے دباؤ کا نتیجہ شہریت ترمیمی ایکٹ CAAہے جس میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ انہیں شہریت دے دی جائے گی۔ لیکن 5/لاکھ مسلمانوں کے بارے میں فیصلہ شاید ڈٹینشن کیمپ ہی ہو۔ نیشنل پاپولیشن رجسٹر NPRدراصل 2003میں بنایا گیا قانون ہے جو 2004میں نافذ ہونا تھا لیکن بی جے پی کی حکومت گرنے کی وجہ سے اس میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب جب کہ بی جے پی اقتدار میںا ٓگئی ہے NRC, NPRاور CAAکے مثلث کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے NPRکے کارکنان آپ کے گھر آئیں گے۔ وہ آپ سے سوالات و جوابات چاہیں گے۔ جس میں نام، پتہ، عمر، پیشہ، اولاد، تعلیم، پین کارڈ، پاسپورٹ، راشن کارڈ، آدھا کارڈ، والدین کے نام، ان کی جائے پیدائش و تاریخ پیدائش شامل ہوں گے۔ یہ سب معلومات تحصیل آفس جائے گی جہاں دی ہوئی معلومات پر اگر شک ہوگا تو آپ کو کسی دفتر میں معہ دستاویزات کے بلایا جائے گا۔ ان دستاویزات سے اگر وہ مطمئن ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ آپ کے نام کے آگے ڈی سٹیزن لکھ دیا جائے گا۔ اس کا مطلب آپ مشکوک شہری بنا دیے جائیں گے۔ یہاں سے NRCکا پروسیس شروع ہوتا ہے۔
آپ کو فارن ٹریبونل میں بلایا جائے گا جہاں دستاویزات کی جانچ ہوگی۔ ٹھیک رہے تو بہتر ورنہ غیر ملکی قرار دے دئیے جائیں گے۔ جیسے ہی ٹریبونل نے آپ کو غیر ملکی طے کر دیا، جائدادیں ، سہولیات اور ووٹ کا حق سب چھین لیا جائے۔ عدالتوں کے چکر کاٹ کر آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ بھارتی ہیں تو ٹھیک ورنہ سٹیزن ترمیمی قانون CAAکے تحت آپ سے رویہ اختیار کیا جائے گا۔ غیر مسلم ہوںگے تو جیسے تیسے شہریت مل جائے گی اور مسلم ہوں تو ڈٹینشن کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔
اس طرح NRC, NPRاور CAAکا مثلث مسلمانوں کو ہی نہیں تمام شہریوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ ملک کی 40فیصد آبادی دلت، آدیواسی اور قبائلی ہے جن کے پاس کوئی دستاویزات یا کاغذات نہیں ہیں۔ انہیں نئے سے بڑی مشکلات کے بعد شہریت مل بھی جائے گی پر گذشتہ دنوں میں ملنے والے تحفظات سے محروم ہونا پڑے گا۔ وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ 2018-19))کے مطابق NPRدراصل NRCکا پہلا قدم ہے۔ NPRکو آسام میں لاگو نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ وہاں NRCہو چکا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ NPRدراصل NRCکی طرف جانے والا پہلا عمل ہے۔ جس کا مکمل بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔
NPRکے بائیکاٹ کی اپیلیں
NPRکے بائیکاٹ کے ضمن میں جمعیت العلماء ہند (دونوں) جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث، وحدت اسلامی ہند، PFI، علماء کونسل، الائنس اگینسٹ، CAA, NRC, NPR، دستور بچاؤ تحریک، ہم بھارت کے لوگ، بامسیف، بھارت مکتی مورچہ، مولانا سجاد نعمانی، مولانا ولی رحمانی (سکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کا واضح موقف ہے کہ NPRکا بائیکاٹ کیا جائے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب (رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ)
NPRکے فارم کے ایک ایک لفظ کو ہم نے کئی کئی بار پڑھا ہے۔ اور ان سب کے بعد ملک کے تمام قائدین مسلم ہو یا غیر مسلم، سبھی سماج کے لوگوں کے قائدین کے ساتھ میٹنگیں ہوئیں۔ اور سب کی یہی رائے ہے کہ کسی قیمت پر NPRکا فارم نہیں بھرا جائیگا۔
مولانا ارشد مدنی صاحب (جمعیۃ علماء ہند)
ملک کو بچانے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو لازم ہے کہ وہ این آر سی، سی اے اے کے نفاذ کے خلاف مشترکہ جدو جہد کریں۔ بھارت کے تقسیم کے مسلمان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے خود ستاویزات پر دستخط کی تھی اور ملک کے دو ٹکڑے بڑی سازش کے ساتھ کئے گئے تھے۔ این پی آر و این آر سی کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
مولانا یسین اختر مصباحی صاحب (ترجمان مکتب اہل سنت)
NPRکے سارے پہلو پر غور کرنے کے بعد جو معقول طریقہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ کوئی بھی شخص کسی بھی سرکاری نمائندے کو کسی بھی طرح کی معلومات نہیں دیں گے۔ اور کسی بھی عنوان سے ہم اس طرح کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے کہ ہمارے باپ کہاں پیدا ہوئے؟ کب پیدا ہوئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات سے پرہیز کیا جائے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب (جنرل سکریٹری مجمع الفقہ الاسلامی)
حکومت نے کہا کہ NPRتو ملک میں معمول کے مطابق ہو رہا ہے لیکن اگر آپ اس کا فارم دیکھیں اور اس کا مقصد سامنے رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ NPRیہ NRCکی طرف پہلا قدم ہے اس سے آئندہ NRCکو ترتیب دینے میں آسانی ہوگی اس کے لیے وہ راستہ تیار کر رہی ہے اس لئے اس میں ایسی معلومات کے خاکے بڑھا دیے گئے ہیں جو پہلے مردم شماری میں نہیں ہوا کرتے تھے، اس لئے ہماری ملی قیادت اور منصف مزاج سیکولر قومی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اس میں تعاون نہیں کرنا ہے اور تمام لوگوں سے ہماری اپیل ہے کہ اس کا بائیکاٹ کریں۔
مولانا محمود مدنی صاحب (جمعیۃ علماء ہند)
اس قانون کے تعلق سے ایک ریزولوشن پاس کیا گیا ہے کہ ہم NPRجیسے قانون کا بائیکاٹ کریں گے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہ جلد از جلد اپنا موقف ظاہر کریں۔ اور ہم اسے ایک آپریشن مومنٹ کی طرح چلائیں گے۔ اور اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی (جماعت اسلامی ہند)
نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا جائے گا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے NRCکو رول بیک کرنے CAAکی ترمیم کو منسوخ کرنے تک NPRکے عمل کو روکے رکھیں۔‘‘امیر جماعت اسلامی نے اپیل کی ہے کہ NPRکو اکیلے میں نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ NPRکو NRCاور CAAکے امتزاج سے دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ اس لئے ہم NPR کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ (انڈین ایکسپریس)
مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب (وحدت اسلامی ہند)
حکومت ہند کا کالا قانون CAAاس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے اور حکومت اس کالے قانون کو واپس لینے کے بجائے اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبا رہی ہے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ حکومت تفریق پر مبنی اس کالے قانون کو واپس لے ۔ این پی آر، این آر سی، سی اے اے کو واپس لے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سبھی سماج کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے احتجاج کی بات کو حکومت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ تمام تنظیموں کے متحد فیصلے سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ NPRکا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے۔
مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی صاحب (رہنماء مجلس احرار الاسلام)
ہم تو یہیں کے رہنے والے ہیں باہر کے رہنے والے نہیں ہیں۔ اور یہیں پیدا ہوئے، ہماری نسلیں گذر گئی یہاں، ہمارے سب بزرگوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ جو بھی ہمارے پاس آئے، ہم اسے بڑی محبت سے سمجھائیں اور اسے بتائیں کہ ہم اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ ہم کیوں کاغذ دکھائیں؟ ہمارے اب بزرگوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے۔
ہم بھارت کے لوگ:
4فروری2020کو دہلی میں National Population Registerکے بائیکاٹ کرنے کے لئے ملک بھر میں مطالبہ کیا گیا۔ CAA, NPRاور NRCکے خلاف مزاحمت ہی اس کا واحد راستہ ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں وقتاً فوقتاً دئیے گئے مبہم جوابات (ابھی نہیں، اب تک، فی الحال) اور وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دوسرے سینئر کے جاری کردہ عوامی بیانات کا ذکر کرتے ہوئے بی پی، ایچ بی کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اسے فورطی طور پر این پی آر کو واپس لینا چاہئے ۔
انیس احمد (سکریٹری پاپولر فرنٹ آف انڈیا)
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم NPRکا بائیکاٹ کرتے ہیں کیونکہ یہ NRCکے لیے بیک ڈور انٹری ہے اور حکومت نے NRCکے بارے میں بات کرنا بند کر دیا ہے وہ NPRکو عمل میں لاکر NRCکو عمل میں لائے گی 2003میں حکومت نے ایک Notificationجاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ NPRسے ہندوستان کے عوام کی معلومات یکجا کی جائے گی مثلاً آپ کے رہنے کی جگہ، آپ جس جگہ رہ رہے ہیں اس کا وقفہ وغیرہ وغیرہ اور پھر کوئی بھی آفیسر کسی کے بھی نام کے آگے Doubtful Citizenکا نشان لگا سکتا ہے یعنی کہ آپ کے اس ملک کے شہری ہونے پر شک ہے۔۔
NPRاس سے 10سال پہلے بھی کیا گیا تھا لیکن اس میں یہ سارا پروسیس نہیں تھا لیکن اس NPRکو پہلے جیسا مت سمجھئے کیونکہ اسی کی بنا پر NRCکو عمل میں لایا جائے گا، اس لئے ہندوستان کی ساری عوام سے اپیل ہے کہ اس CAA، NRCکی طرح اس کا بھی بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ یہ NRCکے لئے بیک ڈور انٹری ہے۔
ٹائمز آف انڈیا- این پی آر کا بائیکاٹ کرکے بی جے پی کے ’دباؤ‘ سے لڑو (ممتا بنری)
NPRیہ NRCکی طرف پہلا قدم اور خود کی سیاست کو بڑی اور مضبوط کرنے کے لئے بی جے پی کی ایک بڑی چال ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’اب وہ اختلاف رائے کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے گولیوں کی باتیں کر رہے ہیں۔ اور جو سرکاری آفیسر آپ کے گھر معلومات لینے کے لئے آئے تو انہیں کچھ مت بتانا۔ زمین یا مکان کے کاغذات اور راشن کارڈ جیسی دستاویزات نہ دیں اگر وہ پوچھیں ،یہاں تک کہ اگر وہ حکومت کے شناختی کارڈ لے کر آئیں۔
100تنظیمیں CAA, NRC & NPRکے خلاف ایک جگہ
NPRیہ NRCسے اور بھی زیادہ خطرناک ہے، جس سے سرکاری عہدیداروں کو مشتبہ شہریوں کا انتخاب کرنے کا موقع ملے گا۔ ملک نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کا فیصلہ کرنے کے حکومت کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ NPRصرف NRCکے تحت کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ مردم شماری ایکٹ کے تحت مردم شماری کرتے ہیں۔
بائیکاٹ کیسے کیا جائے؟
(۱) محلہ کمیٹیاں بنائی جائیں۔ صدر کمیٹی امام مسجد محلہ کے کارپوریٹر اور فعال نوجوانوں پر مشتمل ہو۔ جہاں ممکن ہو وہاں دلت، سکھ اور سماجی کارکنان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب NPRکے کارکنان محلہ میں آئیں تو ان سے یہ ایکشن کمیٹی ملے ، ان کا استقبال پھول سے کیا جائے اور انہیں سمجھایا جائے کہ یہ محلہ آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا برائے مہربانی آپ واپس جائیں۔
(۲) محلے کے ہر دروازے پر Go Back – No NPRکا اسٹیکر لگایا جائے۔
(۳) ضرورت پڑنے پر محلے کے تمام افراد گھروں سے باہر آکر NPRکارکنان کو سمجھائیں اور انہیں تحریری شکایت دینے کی تلقین کریں کہ یہ محلہ آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور اس کی پوری ویڈیو گرافی کی جائے۔
(۴) ہر محلے کے داخلی دروازے پر NPRکارکنان کے لئے نوٹس لگایا جائے جس پر کمیٹی کے ذمہ داران کے نام اور موبائل نمبر درج ہوں۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *