ملکی منظرنامہ

نصرتِ الٰہی کا انتظار

اور (اے مسلمانو! جہاں تک تم سے ہو سکے) ان کے مقابلے کے لئے تیار رہو جو کچھ ساز و سامان مہیا کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کرو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر تمہاری دھاک بیٹھے اور ان کے سوا دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور خدا کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے وہ تم کو پورا پورا ملے گا اور تمہارا حق نہ رہ جائے گا۔(الانفال: ۶۰)

Read More

این پی آر کا بائیکاٹ کیسے کریں

NRCنیشنل رجسٹر آف سٹیزن 1985میں مرکزی حکومت و آسام کی ریاستی حکومت کے درمیان معاہدہ کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت آسام میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے بنگالی زبان بولنے والوں کی شناخت کرنا اور انہیں ملک سے باہر کرنا یا ڈٹینشن کیمپ میں رکھنا پایا تھا۔ گذشتہ دنوں ریاستی انتخابات میں بنگالی زبان بولنے والے ہندوؤں نے بی جے پی کو منتخب کیا۔ آسام میں NRCسے 19/ لاکھ لوگ باہر کر دیے گئے جن میں سے 14/لاکھ غیر مسلم بنگالی زبان بولنے والے ہیں جنہوں نے بی جے پی کی حکومت میں یوگدان دیا ہے۔ 14/لاکھ غیر مسلموں کے دباؤ کا نتیجہ شہریت ترمیمی ایکٹ CAAہے جس میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ انہیں شہریت دے دی جائے گی۔ لیکن 5/لاکھ مسلمانوں کے بارے میں فیصلہ شاید ڈٹینشن کیمپ ہی ہو۔ نیشنل پاپولیشن رجسٹر NPRدراصل 2003میں بنایا گیا قانون ہے جو 2004میں نافذ ہونا تھا لیکن بی جے پی کی حکومت گرنے کی وجہ سے اس میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب جب کہ بی جے پی اقتدار میںا ٓگئی ہے NRC, NPRاور CAAکے مثلث کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Read More

شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا دورہ

سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا ۳؍مارچ ۲۰۲۰ء کو دورہ کیا جس میں پی ۔ایم۔اے۔ سلام، محمد ساجد صحرائی، ڈاکٹر انیس، عرفان احمد، صادق فضل اور تملناڈو سے دو احباب زین العابدین اور عتیق احمد شریک تھے۔

Read More

سرگرم عدلیہ فسادات میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچا سکتی تھی

عدالت عظمیٰ کے سابق جج نے دہلی فسادات کے سیاق میں عدلیہ کے کردار پر ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انہوں نے اس ہفتہ کے آغاز میں فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ ایسے سنگین حالات میں عدلیہ کو فوری کاروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو شاید زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔

Read More

کیا مصالحتی کوشش کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟

عدالتی فیصلے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصل کئے جاتے ہیں نہ کہ آستھا، یا اکثریت واقلیت کے جذبات کی بناء پر۔ اس لئے گزشتہ نومبر میں جب سپر یم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اعلان کیا کہ وہ زمینی ملکیت کے تنازع کے عقائد وجذبات سے بلند ہو کر ثبوت و شواہد کی روشنی میں فیصل کرے گا تو امید بندھی کہ اس کا فیصلہ ذیلی عدالتوں کے فیصلے سے مختلف ہوگا لیکن ۸؍مارچ کو جب اس تنازع کو سہ نفری ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تو حیرت کے ساتھ اس کی مجبور یوں کا احساس بھی ہوا۔

Read More

بھساول ٹاڈا کیس ۔۔۔۔انصاف ! مگر تاخیر کے ساتھ

گذشتہ ۲۵ برسوں سے جاری اس مقدمہ کی ہر تاریخ پرجو بالعموم پندرہ دن بعد پڑتی تھیں، تمام ملزمین اپنی ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پابندی سے ناسک کورٹ میں اس خوف سے حاضررہا کرتے کہ کہیں غیر حاضر ی کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کرکے گرفتار ی کے وارنٹ نہ جاری کردیے جائیں۔کیس کے سلسلے میں ابتداء میں ناسک کے مقامی وکلاء سیّد برادران نے کافی مدد کی ‘ پھر ۲۰۱۳؁ء سے جمعیت العلماء مہاراشٹرا گلزار اعظمی اور ان کی ٹیم نے بھر پور تعاون پیش کیا۔بالخصوص ایڈوکیٹ شریف شیخ ،ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ان کے معاون وکلاء نے شب و روز محنت کر کے مقدمہ میں فتح حاصل کی ۔

Read More

تعصب و نفرت کی راہ سے ’’وشو گرو‘‘ کی منزل ممکن نہیں

تاریخ کی گواہی جرمنی و اٹلی ، جاپان ، عراق ، لیبیا، پاکستان وغیرہ کے انجام سے ثابت کرتی ہے کہ صرف منفی ، انتشاری اور نفرت پر مبنی بنیادوں پر وقتی ابھار کے علاوہ مستقل تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ ہٹلر اور مسولنی اور جاپان کے حکمرانوں ، صداموں اور قدافیوں نے وقتی ابھار کے علاوہ ملک اور دنیا کو کیا دیا؟ اور خود بھی برے انجام سے دوچار ہوئے۔

Read More

مسئلہ کشمیر کا نیا رُخ

انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

Read More

دشمنان دین و ملت کے بڑھتے ہوئے عزائم

دین وملت کے دشمنوں پر مسلمانوں کا رعب طاری رہنا ایک ایسی بات ہے جو ہر حالت میں مطلوب ہے۔ اس پر قرآن میں بھی زور دیا گیا ہے اور رسول اللہ کا طریقہ کار اور ارشاد ات بھی اسی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مگر آج ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اپنا رعب طاری رکھنے کی خواہش اور پالیسی ہی ترک کردی ہے اور عاجز رہنے کو پسند کر لیا ہے۔ یہ عام بے دین یا بے علم لوگوں کی بات نہیں ہے بلکہ ملت کی دینی قیادت کرنے والے علماء کے گروہ کا حال ہے۔خود کو انبیاء کی وراثت کے درجہ پر باور کرنے والے علماء کو جاگنے اور مستعد ہونے کی ضرورت ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو دشمنان دین و ایمان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر کھڑا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جانے کی ضرورت ہے۔

Read More