چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

شاعر مشرق اقبال نے اپنے مصرعہ میں چین کے بعد عرب کا ذکر کیا ہے ،عرب دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، فلسطین اور مسجد اقصی یہودیوں کے قبضہ میں ہے ۱۹۴۸ میں اور پھر ۱۹۶۷ کی جنگ میں فلسطینیوں کواپنے گھربار سے محروم ہونا پڑا ان کی اولاد آج تک پناہ گزین ہے ان کو اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت نہیں اب تک کئی ہزار فلسطینی ہلاک کئے جاچکے ہیں کئی ہزار جیلوں میں ہیں اور کئی ہزار زخمی ہیں امریکہ کی پوری سیاست قوم یہود کی مٹھی میں ہے ،

Continue Reading

تعصب و نفرت کی راہ سے ’’وشو گرو‘‘ کی منزل ممکن نہیں

تاریخ کی گواہی جرمنی و اٹلی ، جاپان ، عراق ، لیبیا، پاکستان وغیرہ کے انجام سے ثابت کرتی ہے کہ صرف منفی ، انتشاری اور نفرت پر مبنی بنیادوں پر وقتی ابھار کے علاوہ مستقل تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ ہٹلر اور مسولنی اور جاپان کے حکمرانوں ، صداموں اور قدافیوں نے وقتی ابھار کے علاوہ ملک اور دنیا کو کیا دیا؟ اور خود بھی برے انجام سے دوچار ہوئے۔

Continue Reading

مسئلہ کشمیر کا نیا رُخ

انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

Continue Reading

خطیب اقصیٰ کی وفات اور وارسو کانفرنس

غزہ کے مہاجر کیمپ ہی کی یہ یادیں بھی دل میں تازہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ ہمیں تقاریر کی تربیت بھی دیا کرتے۔ کبھی یہ ہوتا کہ کسی چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر ہم کھلے سمندر میں چلے جاتے۔ ہمارے اساتذہ ہمیں فی البدیہ تقریر کرنے کے لیے کوئی موضوع دیتے اور کہتے کہ یہ سمندر کی موجیں، موجیں نہیں آپ کے سامعین ہیں۔ آپ نے ان سے خطاب کرنا ہے۔ ہم تقریر کرتے اور ہمارے اساتذہ ساتھ ساتھ اپنا تبصرہ نوٹ کرتے جاتے۔ اس وقت کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ سمندر کی لہروں سے کیے جانے والے یہ خطاب بالآخر قبلۂ اوّل کے منبر پہ خطبات جمعہ کی بنیاد بنیں گے۔

Continue Reading

روزہ اور تعمیر سیرت

تقویٰ کا عام تصور یہی پایا جا تا ہے کہ وہ شخص متقی ہے وہ عبادات میں کثرت کرتا ہو اور معاشرتی تعلقات سے اپنے آپ کو کاٹ کر صرف اللہ کی یاد میں کسی مسجد کے گوشے میں بیٹھ گیا ہو یا نماز کے بعد دیر تک اذکار میں مصروف رہتا ہو۔ جبکہ احادیث سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھا اور فحش گوئی یا بری بات زبان سے کہنے سے نہ بچا، جس نے روزہ رکھا اور معاملات درست نہ کئے گویا کہ اس کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے۔

Continue Reading

روزہ

روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک لمبی مدّت تک شریعت کے احکام کی لگاتاراطاعت کراتا ہے۔ نماز کی مدّت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں صرف ایک وقت آتا ہے۔ حج میں البتہ لمبی مدّت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور وہ بھی سب کے لیے نہیں۔ ان سب کے برخلاف روزہ ہر سال پورے ایک مہینے تک شب وروز شریعت محمدیؐ کی اتباع کی مشق کراتا ہے۔ صبح سحری کے لیے اٹھو، ٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کردو۔ دن بھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو۔ پھر کھانا کھا کر آرام کر لو، پھر تراویح کے لیے دوڑو۔ اس طرح ہر سال کامل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قائدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جا تا ہے

Continue Reading

دشمنان دین و ملت کے بڑھتے ہوئے عزائم

دین وملت کے دشمنوں پر مسلمانوں کا رعب طاری رہنا ایک ایسی بات ہے جو ہر حالت میں مطلوب ہے۔ اس پر قرآن میں بھی زور دیا گیا ہے اور رسول اللہ کا طریقہ کار اور ارشاد ات بھی اسی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مگر آج ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اپنا رعب طاری رکھنے کی خواہش اور پالیسی ہی ترک کردی ہے اور عاجز رہنے کو پسند کر لیا ہے۔ یہ عام بے دین یا بے علم لوگوں کی بات نہیں ہے بلکہ ملت کی دینی قیادت کرنے والے علماء کے گروہ کا حال ہے۔خود کو انبیاء کی وراثت کے درجہ پر باور کرنے والے علماء کو جاگنے اور مستعد ہونے کی ضرورت ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو دشمنان دین و ایمان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر کھڑا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جانے کی ضرورت ہے۔

Continue Reading

دین میں غلو

قلْ یٰٓاَھْلَ الکِتَابِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سَوَآ السَّبِیلِ (سورۃ المائدہ ۷۷) (کہواے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرواور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کروجو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اوربہتوں کو گمراہ کیااور سَوَآئِ السَّبِیلِ سے بھٹک گئے) یٰٓاَھْلَ الکِتٰبِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیلاً (سورہ النساء ۱۷۱) (اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرواور اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ ڈالو، مسیح عیسٰی ابن مریم ؑ تو بس اللہ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف القا فرمایااور اس کی جانب سے ایک روح […]

Continue Reading

بابری مسجد کی شہادت کا المیہ! لہو پکارے گا آستیں کا

۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کو تاریخی بابری مسجد ظلم و جبر کے ذریعہ شہید کر دی گئی، جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب کچھ قانونی طور پر ہندو جارحیت کے نام پر ہوا۔ یہ لڑائی ہندو جارحیت کے نام لیوا مقامی عدالتوں سے لیکر پریوی کونسل تک بہت پہلے ہار چکے تھے اور بابری مسجد پر دست درازی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ بات تاریخی سطح پر بھی تسلیم شدہ تھی کہ بابری مسجد صدیوں پہلے شہنشاہ بابر کے سپہ سالار میر باقی کے ذریعہ تعمیر کی گئی تھی اور اس میں مسلمان نماز(باجماعت) ادا کرتے چلے آرہے […]

Continue Reading

یورپ پناہ گزینوں کی توجہ کا مرکز کیوں؟

شام کے مقتل میں ساڑھے چار برسوں کے دوران خون کی ندیاں بہ چکیں، چار لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ملک کی نصف سے زائد آبادی گھر بار چھوڑ چکی تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کسی نئے انسانی المیے کی بار بار نشاندہی بھی کی مگر عالمی جرگے داروں کی توجہ صرف دولت اسلامی ’’داعش‘‘ نامی ایک پر اسرار جن کو بوتل میں بند کرنے پر مرکوز رہی۔ بہت کم کسی کی توجہ ان ایک کروڑشامی شہریوں کی طرف گئی جو خانہ جنگی اور اقتدار کی رسہ کشی کی چکیوں میں پستے ہوئے گھر بار چھوڑ […]

Continue Reading