فسادات

یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا

جب سخت ہندوتو اور نرم ہندتو دونوں کی منزل مقصود ایک ہوجائے تو پھرمسلمانوں کے ایمان ویقین تعلیم و اقتصاد کے استحکام کا چیلنج بہت بڑھ جاتا ہے ، کچھ کوششیں ضرور ہوئی ہیں لیکن وہ کافی نہیں ہماری ملی قیادت کو اب جنگی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

Read More

شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا دورہ

سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا ۳؍مارچ ۲۰۲۰ء کو دورہ کیا جس میں پی ۔ایم۔اے۔ سلام، محمد ساجد صحرائی، ڈاکٹر انیس، عرفان احمد، صادق فضل اور تملناڈو سے دو احباب زین العابدین اور عتیق احمد شریک تھے۔

Read More

سرگرم عدلیہ فسادات میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچا سکتی تھی

عدالت عظمیٰ کے سابق جج نے دہلی فسادات کے سیاق میں عدلیہ کے کردار پر ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انہوں نے اس ہفتہ کے آغاز میں فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ ایسے سنگین حالات میں عدلیہ کو فوری کاروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو شاید زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔

Read More

بھساول ٹاڈا کیس ۔۔۔۔انصاف ! مگر تاخیر کے ساتھ

گذشتہ ۲۵ برسوں سے جاری اس مقدمہ کی ہر تاریخ پرجو بالعموم پندرہ دن بعد پڑتی تھیں، تمام ملزمین اپنی ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پابندی سے ناسک کورٹ میں اس خوف سے حاضررہا کرتے کہ کہیں غیر حاضر ی کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کرکے گرفتار ی کے وارنٹ نہ جاری کردیے جائیں۔کیس کے سلسلے میں ابتداء میں ناسک کے مقامی وکلاء سیّد برادران نے کافی مدد کی ‘ پھر ۲۰۱۳؁ء سے جمعیت العلماء مہاراشٹرا گلزار اعظمی اور ان کی ٹیم نے بھر پور تعاون پیش کیا۔بالخصوص ایڈوکیٹ شریف شیخ ،ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ان کے معاون وکلاء نے شب و روز محنت کر کے مقدمہ میں فتح حاصل کی ۔

Read More

تعصب و نفرت کی راہ سے ’’وشو گرو‘‘ کی منزل ممکن نہیں

تاریخ کی گواہی جرمنی و اٹلی ، جاپان ، عراق ، لیبیا، پاکستان وغیرہ کے انجام سے ثابت کرتی ہے کہ صرف منفی ، انتشاری اور نفرت پر مبنی بنیادوں پر وقتی ابھار کے علاوہ مستقل تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ ہٹلر اور مسولنی اور جاپان کے حکمرانوں ، صداموں اور قدافیوں نے وقتی ابھار کے علاوہ ملک اور دنیا کو کیا دیا؟ اور خود بھی برے انجام سے دوچار ہوئے۔

Read More

مسئلہ کشمیر کا نیا رُخ

انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

Read More