روزہ اور تعمیر سیرت
تقویٰ کا عام تصور یہی پایا جا تا ہے کہ وہ شخص متقی ہے وہ عبادات میں کثرت کرتا ہو اور معاشرتی تعلقات سے اپنے آپ کو کاٹ کر صرف اللہ کی یاد میں کسی مسجد کے گوشے میں بیٹھ گیا ہو یا نماز کے بعد دیر تک اذکار میں مصروف رہتا ہو۔ جبکہ احادیث سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھا اور فحش گوئی یا بری بات زبان سے کہنے سے نہ بچا، جس نے روزہ رکھا اور معاملات درست نہ کئے گویا کہ اس کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے۔