Featured

جارح تہذیبی یلغاراور اُمّتِ مسلمہ

                ابنِ خلدون سے لے کر آج کے معروف تاریخ داں ٹائن بی تک سب کا یہ ماننا ہے کہ تہذیبیں سوچ ‘فکر‘ نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ تعلیم‘ معاشی سرگرمیوں و سیاسی عمل کے سایے تلے پنپتی و سنورنتی ہیں، جب فکر و نظر‘ عقیدہ و ایمان کمزور پڑجاتا ہے تو تہذیبیں بھی کمزور پڑتی ہیں اس طرح تاریخ کا ایک ورق بن کر رہ جاتی ہیں۔دنیا میں نظری بنیادوں پر صرف تین کلچر (Culture)دکھائی دیتے ہیں۔

                (۱)  مغربی تہذیب  (۲)  مشرکانہ تہذیب                (۳)  اسلامی تہذیب

                ہر تہذیب جو اپنی جلو میں خدا ‘ کائنات‘ انسان‘ کے بارے میں مخصوص خیال و ذہنیت رکھتی ہے۔ مغربی تہذیب خدا کے وجود کی انکاری یا کم از کم بے اختیار خدا کی پجاری ہے۔ کائنات کو حادثہ مانتی ہے تو انسان کو کبھی بندر کی ترقی یافتہ نسل‘ کبھی سماجی حیوان خیال کرتی ہے تو کبھی معاشی سرگرمیوں میں لت پت وجود ‘ تو کبھی جنسی حیوان گردانتی ہے۔

                اسی طرح مشرکانہ تہذیب میں خدا ہو یا نہ ہو‘ اگر ہو تو کتنے ہو اس کی تعداد متعین نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ زمانے کے گزرتے خداؤں میں اضافہ ہوتاجاتا ہے ضرورت پوری کرنے والی ‘ نفع و نقصان پہنچانے والی ہر شئے خدا ہے۔ کائنات کے بارے میں اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ اُسے مائتھ (Myth)مانتی ہے۔ جس کا کوئی اصلی وجود نہیں ہے بلکہ سب نظر کا دھوکہ سمجھی جانے والی اشیاء ہیں۔ انسان کبھی خدا کا درجہ لے لیتاہے تو کبھی جانوروں سے بدتر اس کی حیثیت مانی جاتی ہے۔ کبھی وہ برھمان کا پالنہار وِدھاتا بن جاتاہے۔تو کبھی اتی شودر کے پیکر میں ڈھل جاتاہے۔

                اسلامی تہذیب میں خدائے واحد کا تصّور ایک زندہ تصّور ہے۔ جس نے کائنات کو بامقصد بنایا کُن کے ذریعے فیکون میںتبدیل کیا۔ ہر آن اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انسان کی اس نے تخلیق کی‘ اُسے دنیا میں بااختیار بنایا۔ وہ اُسے موت دے گا۔ موت کے بعد زندگی کا لیکھا جوکھا سب دکھایا جائے گا۔ نیکوں کے لئے جنّت اور گناہ گاروں کے لئے جہنّم بنارکھی ہے۔ آخرت کا ایک زندہ تصوّر جو حقیقت سے بھرپور ہے‘ سامنے آتاہے۔

                مغربی تہذیب اپنے سائنسی بالادستی کے نتیجے میں سیاسی طورپر غالب تہذیب ہے جس نے انسانی نظریات ‘ سرمایہ دارانہ‘ اشتراکیاتی‘ جمہوری و لادینی نظام ہائے حکومت کو جنم دیا۔ جس میں انفرادیت کا قتل ہوجاتا ہے اور اجتماعیت آمر بن کر انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرتی رہتی ہے۔ اس وقت مغربی تہذیب کا راست مقابلہ اسلامی تہذیب سے ہے۔ اسلامی تہذیب کے پاس صرف دعویٰ ہی نہیں مضبوط دلائل بھی موجود ہیں۔ دنیا میں اس کی نوخیز نسل سب سے زیادہ ہے۔ جو کسی بھی تہذیب کے لئے طویل عمر مہیّا کر سکتی ہے۔

                مشرکانہ تہذیب نظریات سے زیادہ ظاہری اختیاریت پر زور دیتی ہے۔ ظاہر سے اندرون میں تبدیلی کی خواہشمند ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اپنے مخالفین کو اپنے آپ سے مربوط کر لیتی ہے اور اسے بھی اپنے کلچر کا حصّہ بنا ڈالتی ہے۔ ماضی میں بدھشٹ مؤومنٹ ہو یا جینیوں کی اہنسا پرمودھرم تحریک ۔ سکھوں کے معاملات ہوں یا ماضی بعید میں یادوؤں کا گھر سنسار۔ سب سناتن دھرم (برہمنیت)کا حصّہ بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض لوگوں کو ہوش آیا تو وقت بیت چکا تھا۔ مول نیواسی ، او ۔بی۔ سی۔ او ربھٹکی جاتی جماتی و ادی باسی‘ اب اپنے آپ کو غیر ہندو کہلوانا پسند کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کی عمومی شناخت ہندو کی حیثیت سے ہی مانی و جانی جاتی ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ اور اپنی سوچ و تہذیب کی وجہ سے آج تک بچا ہواہے۔ ایک اور بڑی وجہ ان کا 800 سالہ سیاسی اقتدار بھی ہے جو زوال کے باوجود اپنی ایک شناخت کا مظہر رہا ہے۔

                مئی 2014ئ؁ جب سے نئی حکومت آئی ہے جو کیشو بلی رام ہیڈ گوار‘ گولوالکر اور ساورکر کے ہندوتو والے نظریات رکھتی ہے۔ عام اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی جارح تہذیبی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے ہندوتو وادیوں میں بے جا اعتماد و جرأت پیدا ہوئی ہے۔ آر۔ایس۔ ایس۔ کے اشاروں پر تھرکنے والی موجودہ مودی سرکار میں جتنے مذہبی افراد یا سادھو و سادھوی ہیں ۔ وہی ایسی زبان استعمال کررہے ہیں کہ قرآن کی سچائی کھل کر منظر عام پر آجاتی ہے۔

قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء  مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ ـ (آل عمران ـ 118)

(ان کے دل کا بغض ان کے منھ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔)

                کبھی یہ 2021ئ؁ تک مسلم وعیسائی مکت بھارت بنانا چاہتے ہیں‘ کبھی ہندوستانیوں کو “ہندو” کہنے پر اصرار ہوتا ہے تو کبھی مدرسوں میں مداخلت کی بات ہوتی ہے تو کہیں مساجد پر دن دھاڑے حملے (بلپھ گڑھ، پونہ) ہوتے ہیں۔ کہیں ان کی آبادی سے خوف دلایا جاتا ہے تو کبھی انہیں پاکستان چلے جانے کی صلاح دی جاتی ہے۔ کبھی ان کا حق رائے دہی سلب کرانا مقصود ہے تو کہیں لو جہاد کے فتنے اٹھائے جاتے ہیں۔ گائے بیل کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے، تو کبھی سوریہ نمسکار۔ یوگا لازمی قرار دیا جاتاہے تو کہیں وندے ماترم کہنا و سرسوتی وندنا کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ گیتا پاٹھ کا مسئلہ ہے تو تعلیم کا بھگوا کرن ‘ کبھی گھر واپسی کے ڈرامے گھڑے جاتے ہیں تو کبھی حج سے روکنے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ سب تمہیں سوچنے پر مجبور کر دیتاہے۔ یوگا۔ سوریہ نمسکار‘ وندے ماترم‘ سرسوتی وندنا۔ انہیں کبھی سمجھا کر‘ کبھی دبا کر‘ کبھی زور لگاکر کروانے کی کوشش اہلِ اقتدار کا خاص و صف ہے جو اختیار کیا جارہاہے۔

یوگا____ سوریہ نمسکار____

                یوگا دراصل لفظ یوگ سے بناہے جس کے معنیٰ اکٹھا ہونے یا ملنے کے ہیں آتما‘ پرماتما اور شریر کے مربوط ہونے کا نام ہے۔ یوگا کی شروعات کرشن نے کی تھی جسے پہلا یوگی کہا جاتاہے۔ یہ تقریباً 26000سال قبل اس کی شروعات ہوئی تھی۔ جِسے”ست یوگ” کہا جاتاہے بعدمیں پتانجلی نے اُسے codified کیا ہے۔ اُسے آسنوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے 12 ؍آسن بتلائے جاتے ہیں۔ جس میں شروعات سوریہ نمسکار سے ہوتی ہے۔

                سوریہ نمسکار ہی سب سے اہم آسن ہے جس کا وقت طلوعِ آفتاب‘ غروبِ آفتاب یا پھر نصف النہار کے وقت۔ ان تین اوقات کے علاوہ سوریہ نمسکار ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین اوقات کے وقت ہی یوگا کیا جاسکتاہے۔

سورج کی پوجا____

                ویدک دور میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی یہاں تک کہ رام چندر کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں سورج سوریہ ونش کا بادشاہ مانا جاتاتھا۔ اسی لئے سوریہ ونشی باضابطہ ایک نسل ہے جو چلی آرہی ہے جن کا تعلق برہمنوں سے ہے۔تاریخ میں قومِ سبا کے تعلق سے معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سورج کے وارثوں میں فرعون کا نام بھی ماضی کی تاریخ میں ملتاہے۔ جس کی پرستش کی جاتی تھی۔فرعون ‘ ملکۂ سبا ‘ رام چندر گویہ سورج کی نسل سے مانے جاتے تھے عوام ان کی پرستش کرتی تھی۔

                ریگ وید میںسورج کی تعریف کرکے‘ اُس کی پرستش کا بیان ہے۔ ” یہ چمکدار خدا‘ اے سورج‘ آسمانوں کے پرے بڑی جگہ توہے۔ کرنوں سے دنوں کو ملاتاہے اور گذرتی قوموں کا رکھوالا ہے۔ تو تمام کمزوریوں کو دور کرنے والا ہے اور بیماریوں سے شفاء دینے والا ہے۔ ہم تجھ میں دھیان گیان کرتے ہیں تاکہ ہماری عقلمندی بڑھے۔”

                پراچین کال میںکئی سورج کے مندر بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ اُڑیسہ ‘ گجرات‘ کشمیر ‘ آندھراپردیش میں بالخصوص 8سے 13 صدی عیسوی کے درمیان بنائے گئے تھے۔شری راجیو جین نے “سمپرن یوگ ودھیا” میںیہ بات لکھی ہے ہندو مذہب میں سورج کو خدا مان کر پوجا جاتاہے۔ کیونکہ سورن انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ توانائی سے بھرپور ہے۔ ” اوم ساوتر نما” اس کے معنی اے دنیا کے بنانے والے میں تجھے نمن کرتاہوں، سورج کو دنیا کا بنانے والا تسلیم کیا جاتاہے۔

                سورج کے سامنے نمن کے طریقے کو یوگا کہا جاتاہے ۔ جس سے بقول راجیو جین احساسات‘ روح‘ خیالات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور انسان کو مکتی ملتی ہے۔ بھگوت گیتا کے چھٹے باب میں یوگا کا خاص کر ذکر ہے۔ گیتا دراصل کرشن کے بیانات کا مجموعہ ہے۔ ارجن کو کرشن یوگا کی فلاسفی سمجھاتاہے۔ اُسے اختیار کرنے کی ترغیب دیتاہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی بھی یوگا کے حامی رہے۔وہ دانش مندی ‘روح کی بالیدگی اور جسم کی مکتی کے قائل ہیں۔ ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یوگا ایک طریقۂ عبادت ہے نہ کہ کوئی ورزش و کسرت کا عمل ۔ مسلمانوں کو قرآن حکم دیتاہے کہ :

’’وَ مِنْ آیٰتِہِ الَّیْلْ والنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُـ لَاتَسْجْدُوْالِلشَّمْسِ وَلَالِلْقَمَرِ وَاسْجدُوْالِلّٰہِ اَلّذِی خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیّاہ‘ تَعْبُدُوْن ـ (حٰم سجدہ: 37)

(اللہ کی نشانیوں میںسے ہیں یہ رات اوردن اور سورج اور چاند۔سورج اورچاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔)

                مخلوق کے سامنے جھکنے کے بجائے ان کے خالق کے سامنے جھکنے کا حکم دیا جارہاہے۔ طلوع و غروبِ آفتاب اور نصف النہار کے وقت سجدہ کی اجازت مسلمانوں کو نہیں ہے یعنی وہ اپنی نماز و سجدہ بھی ان اوقات میں نہیں کرسکتے تو سورج کونمن کیسے کرسکتے ہیں۔ مسلمان اِسے شرک مانتاہے۔ عمرو بن عبسہؓ کی روایت امام مسلمؒ لائے ہیں جس میں طلوع‘ غروب اور نصف النہار کے اوقات میں نماز پڑھنے سے محمد رسول ﷺ نے انہیں روکا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے صحت کے لئے اچھا ہوتاہے۔ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے تو یہ ایک قوم کے طریقۂ عبادت کی نقّالی ہوگی اور تشبّہ  بقوم میں شمار کی جائیگی۔ محمدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے‘‘۔

                صحت کے لئے 4% والی الکحل بیئر فائدہ مند ہے کیا ہم اُسے استعمال کرسکتے ہیں ؟ صحت کے ساتھ اسلام اخلاق کے اچھے ہونے پر بھی زور دیتاہے۔ صرف اچھی صحت کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں نماز و روزہ جو اچھی صحت کے لئے آسان نسخے ہیں کبھی اپنی غیر مسلم عوام کے لئے لازمی قرار نہیں دیا۔ موجودہ حکومت نے 21؍ جون جوہیڈیگوار سے متعلق خاص د ن ہے اُسے دنیا پر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔ اسکولوں‘ اسپتالوں‘ جیلوں سرکاری دفاتر میں یوگا کروایا گیا اسکول میں نہ جانے کتنے مسلم‘ عیسائی ‘پارسی‘دلت‘ سکھ بچّوں نے اُسے کیاہوگا۔ دوسروں کو چھوڑدیجئے کیا مسلم بچّے جنہیں ابھی خدا کا شعور نہیں ہے غیر خدا کی پرستش کرنے لگ جائیں گے۔ اور بڑے ہو کر شعوری راہ اختیار کرینگے۔ اگر یہ یوں ہی چلتا رہاتو آئندہ 100؍ سال کے فاصلے پر ہم اورہماری نسلیں کہاں ہوں گی پتہ نہیں۔ حضرت یعقوب ؑ جب موت سے قریب تھے تواپنے کنبے کے لوگوں کو جمع کیا ‘کہا۔

                اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ المْوتُ ـ اِذْ قَالَ لِبَنِْیہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ـقَالُوْانَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ آبَآیِکَ اِبْرٰھِمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰہاً وَّاحِداً وَنَحنُ لَہُ مُسْلِموْنْ ـ (البقرۃ: 133)

                (جب یعقوب ؑ دنیا سے جارہے تھے انہوں نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا : بچّو میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے۔ ان سب نے جواب دیا۔ ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جیسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ ‘ اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا تھا اور ہم اسی کے مسلم ہیں‘‘۔)

                یہاں ایک باپ کو مستقبل میں اپنے بچّوں کی فکر کیاہے؟ کھانے‘ کمانے‘ تعلیم‘ منصب‘گھر ‘ کاروبار کی نہیں۔ صرف اور صرف یہ کہ میری اولاد اس مشن پر زندہ رہے جس پر میں چل رہا ہوں۔ جب بچّوں نے کہا ہم اسی خدا کو مانے گے جس کی پرستش آپ اور آپ کے آباء و اجداد کرتے رہے‘ اس وقت انہیں سکون سے موت آئی۔ ہم اپنے بچّوں کے بارے میں کتنے فکر مند ہیں؟ حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

وَاِذْقَالَ لُقْمٰنْ لِابْنِہِ وَھْوَ یَعِظُہ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِک باللّٰہِ ـ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمُ عَظِیمُ ـ (سورۃ لقمان : 13)

(یادکرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھا تو اس نے کہا ‘ بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ‘ حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔)

یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو شرک سے روک رہے ہیں۔ حضرت یعقوبؑ اپنے بچّوں کو توحید کی تعلیم یاد دلارہے ہیں اور یہاں شرک سے روکا جارہاہے۔ اپنی نسلوں کو مسلمان رکھنے کے لئے یہ دو قرآنی واقعات میں باپوں کا عمل ہے۔ ہمیں کس کی فکر کرنی چاہئے اس پر اُمّت کو غور و فکر کرکے اقدامی فیصلوں پر آنا ہی ہو گا۔

ایمان کی سلامتی____

                عالمی منظر نامہ ہمیں بتلا رہا ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال‘ عزّت و آبرو ‘قتل و غارت گری کی نذر ہورہی ہیںاور ملکی منظر نامہ ہمیں اپنے ایمان کے دفاع پر مجبور کررہاہے۔ عام انسان اپنی جان بچانے کے لئے ایمان داؤ پر لگاتے ہیں لیکن مسلمانوں کا تاریخی کردار رہا ہے وہ اپنے ایمان کے لئے جان قربان کرتے ہیں۔ اصحابِ کہف اور اصحابِ اخدود کے واقعات ہمیں بتلاتے ہیں ایمان کے تحفّظ کے لئے کیا کیا جاسکتاہے۔ ’’ہم اُن کا اصل قصّہ تمہیں سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے اُن کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کردئے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کر دیاکہ’’ہمارا ربّ تو بس وہی ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جابات کریںگے‘‘(پھر انہوںنے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ، یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ اُن کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوںنہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑھ کر بڑا ظالم اور کون ہو سکتاہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب جب کہ تم ان سے اوران کے معبودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سامان مہیّا کردیگا‘‘۔ (سورۃ الکہف: 13-16)

                اصحابِ کہف نے ایمان کی سلامتی کے لئے غاروں میں چلے جانا پسند کیا وہ اس وقت کی سب سے بہتر پالیسی و حکمت عملی تھی لیکن آج ایمان کی سلامتی کے لئے میدانوں میں آنا ضروری ہے یہ آج کی حکمت عملی ہوگی۔ کھڑے ہونا‘ ہمّت و حوصلوں سے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے واقعہ میں ایمان کے تحفّظ کے لئے جان کی بازی کو لگا دینا عین کامیابی ہے۔

                ’’مارے گئے گڑھے والے جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔  جب کہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات آپ محمود ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔‘‘ (سورۃ البروج:4 – 9)

                مفسرین نے یہاں ایک عورت کاذکر بھی کیا ہے جس کے ہاتھوں میں دودھ پیتا بچّہ تھا۔ بچّے کی وجہ سے وہ کچھ ججھک محسوس کر رہی تھی۔ تاریخ انسانی میںیہ دوسرا بچّہ ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد جس نے بچپن میں کلام کیا ۔ کہا ماں کیا دیکھتی ہے۔ توحق پر اس میں کود جا۔ وہ عورت بچّے سمت اس آگ کے الاؤ میں کود گئی لیکن اپنے ایمان سے دستبرداری اُسے منظور نہ تھی۔ ایمان کے لئے جان کے سودے ایسی زندہ تاریخ ہے جس سے زندگی میں تازگی آتی ہے۔ سرسبز و شادابی کا عنوان بنتی ہے‘ کامیابی و کامرانی کی ضمانت بن جاتی ہے۔

وندے ماترم و سرسوتی وندنا____

بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو عام کرنے کے لئے سنسکرت و بنگالی میں نظم لکھی گئی ہے جسے وندے ماترم کہا جاتاہے۔جس میں زمین کی بھکتی و وندنا کی بات کہی گئی ہے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی کی بھی وندنا نہیں کرسکتا ہے۔ خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جھک نہیں سکتا اگرجھکتا ہے تو یہ شرک مانا جاتاہے۔ جسے قرآن کے تقریباًہر صفحے پر ممنوع قرار دیاگیاہے۔

قُلْ تَعَالَوْ ا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِ کُوْ ا بِہِ شَیْئاً ـ (سورہ انعام : 151)

(اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے ربّ نے تم پر کیا حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔)

                ایسی نہ جانے کتنی آیات میں مسلمانوں کو شرک سے بچے رہنے کا حکم دیا گیاہے۔ تو مسلمان کیسے وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کر سکتے ہیں۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے یوپی حکومت کے وندے ماترم کو اسکولوں میں لازمی کئے جانے کے بعد یہ کہا تھا کہ ’’ہم مسلمان اپنے بچّوں کو اسکولوں سے نکال لیں گے لیکن شرکیہ کلمات نہیں کہینگے‘‘۔ اس پر یوپی حکومت نے اس وقت اپنے حکم نامے سے رجوع کرلیا تھا۔

                اس وقت راجستھان سرکار نے سرسوتی وندنا ‘ یوگا‘ سوریہ نمسکار‘ گیتا پاٹھ کو لازمی قرار دیاہے۔اس پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بڑے سخت لہجہ میں اُسے اختیار نہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ اس کے بعد حکومت نے اُسے ذرا ہلکا کیا ہے، اسی کے دوسرے دن مرکزی حکومت کی وزارتِ تعلیم نے 500؍ کروڑ روپئے کا بجٹ یوگا کے لئے طے کر دیا ہے۔ ڈگری  و  ڈپلومہ کورسس کو جاری کرنے، نیزیوگا ٹیچرس کی ایک فوج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یوگا ٹیچر ہر اسکول و کالج میں متعین کئے جائیں گے اور بالخصوص مسلمانو ں کے ایمان کی آزمائش ہوتی رہے گی۔(جاری)

٭٭٭٭

(قسط سوم)

Featured

میدان بدر ۔غلبہ اسلام کی اولین سرزمین

’’اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدہ کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا ۔ ‘‘
اللہ رب العالمین کے چہیتے بندے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ عاجزانہ دعا مالک الملک کے دربار میں ان عظیم ہستیوں کے حق میں تھی جن کو دنیا اصحاب بدرؓکے نام سے جانتی ہے اور اس وقت کی گئی تھی جب مٹھی بھر صحابہؓ نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جان ہتھیلی پر لے کر مشرکین مکہ کے جم غفیر سے ٹکر لینے بدر کے میدان کا رخ کیا تھا۔ان کی بے سروسامانی کا اللہ نے بھی تذکرہ کیا ہے۔ ’’اور اللہ نے جنگ بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور (اوربے سروسامان )تھے‘‘ (آل عمران۔ آیت ۱۲۳) جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلی جنگ تھی جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے سورہ آل عمران اور الانفال میں ملتا ہے۔
جنگ بدر ۲ھ میں پیش آئی اور اس سے قبل تقریباً ۱۵ سال تک اسلام اپنی شہرت و مقبولیت میں مسلسل اضافہ کے باوجود مغلوب تھا۔ مکی زندگی تو سب پر عیاں ہے کہ کس طرح ظالم مشرکین اہل ایمان کے ساتھ جو چاہے سلوک کرتے رہے حتیٰ کہ انہیں اپنے گھر بار اور مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑا۔ مدینہ منورہ میں جنگ بدر سے پہلے تک کے حالات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں بھی چین و سکون نصیب نہیں ہوا تھا۔مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش میں ناکام ہونے کے بعد اہل مکہ نے اسلام کو مدینہ میں بھی پنپنے سے روکنے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے لگے۔ ان کی چراگاہوں پر حملے کئے‘ قافلوں کے راستے روکے جانے لگے۔ اہل مدینہ جب طواف کعبہ کے لئے پہنچے تو انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ محمد اور ان کے ماننے والوں کو پناہ دینے کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مدینہ کے اطراف کے قبائل کو بھڑکایا جانے لگا اور خود مدینہ کی بستی میں شورش برپا کرنے اور مسلمانوں کی دشمنی پر اکسانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔ مدینہ کے باہر چھاپہ مار حملے شروع کردیئے گئے تب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے اطراف حفاظتی دستوں کی گشت کے ذریعہ اپنے سابق ابنائے وطن کو احساس دلایا کہ اگر ظلم نے مزید سراٹھایا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی جب قریش مدینہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے جنگ کی زبردست تیاری کر رہے تھے ۔ہجرت کے دوسرے سال قریش ایک ہزار کی تعداد میں اس کروفر کے ساتھ نکلے کہ سو سوار تھے‘ تمام روسائے قریش شریک تھے‘ عتبہ بن ربیعہ فوج کا سپہ سالار اعظم تھا۔اس کے علاوہ کئی سپہ سالار تھے۔ فوج کے پاس 100 گھوڑے اور 600 زرہیں تھیں۔ 500 سپاہی پورے ہتھیاروں سے لیس یعنی تلوار‘ ڈھال ‘ زرہ بکتر اور نیزہ وغیرہ۔ اونٹ اتنی کثرت سے تھے کہ طعام کے لئے روزانہ 9تا 10 اونٹ ذبح کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے دشمنوں کی تعداد کا اندازہ اسی سے لگایا کہ ایک اونٹ 100 آدمیوں کے لئے کافی ہے تو ان کی تعداد 900 سے 1000 کے درمیان ہے۔
دوسری جانب اسلامی لشکر 313افراد پر مشتمل تھا۔ان میں کم و بیش 85 مہاجرین اور باقی انصار تھے۔ پورے لشکر میں صرف دو یا تین گھوڑے‘ 70 اونٹ تھے۔ صرف 6 زرہ پوش ‘ 8 شمشیر زن اور بقیہ سپاہیوں کے پاس نیزوں اور تیر کمانوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دونوں لشکروں کے حالات جاننا اس لئے ضروری ہے تا کہ جنگ کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جاسکے کہ کس طرح ایک قلیل وہ بھی بے سروسامان گروہ کو حق تعالیٰ نے کثیر اور کیل کانٹے سے لیس فوج پر غلبہ عطا فرمایا۔
غزوہ بدر کے بے شمار پہلو ہیں جو زیر بحث آسکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنگ جسے قرآن ’’یوم الفرقان۔ حق و باطل میں فرق کردینے والے دن ‘‘سے تعبیر کرتا ہے‘ دور حاضرمیں کیا افادیت رکھتی ہے۔
جنگ بدر سے قبل کا جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے اس پر غور فرمائیں۔ مسلم فوج کے سامنے دو راستے تھے ۔ فوج سے مقابلہ کریں یا تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے اسے لوٹ لیں۔ سورہ الانفال میں ہے ’’یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔‘‘ (جزو آیت :۷)
چند مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ قافلہ چونکہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کا ہے اس لئے اس پر حملہ کیا جائے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی مفلوک الحالی ختم ہوجائے گی اور مستقبل میں کفار و مشرکین سے جنگ کے لئے ساز و سامان بھی مہیا ہوجائے گا اس صورت میں جنگ کا خدشہ بھی نہیں تھا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت ہی کا اگلا ٹکڑا ہے : ’’تم چاہتے تھے کہ بے خدشہ گروہ تمہیں ملے ۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے ‘‘۔ (الانفال ۔ آیت :۷)پھر اس ٹکرائو کی مصلحت بھی بتادی : ’’تاکہ حق حق ہوکر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الانفال ۔ آیت :۸)
اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا یعنی تجارتی قافلہ کا رخ کریں تو اسے پالیں گے اور دولت سے مالا مال ہوجائیں گے اور فوجی لشکر کی جانب بڑھیں تو فتح نصیب ہوگی اور ہمت و حوصلہ‘ ایمان و یقین‘ جذبہ جہاد‘ ایثار و قربانی‘ ثابت قدمی و اولوالعزمی جیسی صفات عالیہ سے مالا مال ہوں گے۔ تجارتی قافلہ ہاتھ لگنے کی صورت میں بھی جنگ ہوسکتی تھی کیونکہ مکہ سے مشرکین کی فوج کی روانگی کا ایک اہم مقصد تجارتی قافلہ کو بحفاظت بچاکرنکال لے جانا بھی تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ قافلہ پر حملہ ہو تو وہ اسے لٹتا ہوا دیکھیں اور واپس چلے جائیں۔ نتیجہ میں معرکہ ہوتا لیکن نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلمانوں کو اپنی جان کے ساتھ مال کی حفاظت کی بھی فکر ہوتی جو انہیں قافلہ سے ہاتھ لگتا۔ بدر کے میدان میں مسلم فوج کے حق میں جو ہموار میدان مہیا ہوا وہ نہ ملتا اور دشمن کی فوج زیادہ مضبوط پوزیشن کی حامل ہوتی۔ روحانی اعتبار سے صحابہ ؓ کی فوج کمزور پڑجانے کا اندیشہ تھا کہ مال و دولت ہاتھ لگ جانے کے بعد دنیا کی محبت ‘اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب آسکتی تھی۔ ایک اور صورت یہ بھی ممکن تھی کہ اللہ اپنے وعدہ کے مطابق قافلہ پر غلبہ دے اور دشمن پر رعب ڈال کر اسے واپس ہونے پر مجبور کردے اور جنگ کی نوبت نہ آئے اور زیادہ قرین قیاس یہی تھا کیونکہ اللہ نے ایک ’’گروہ‘‘ پر غلبہ عطا کرنے کا وعدہ کرلیا تھاتب مال و دولت کے ساتھ مدینہ لوٹنے والے صحابہؓ کا وہ جذبہ ایمانی نہ ہوتا جو بدر کے میدان سے لوٹنے والے صحابہ کرامؓ کا بن گیا تھا۔ وہ تائید غیبی کے ان نظاروں سے محروم رہتے جس کا مشاہدہ بدر کے میدان میں انہیں کرایا گیا اور خطرات و مشکلات میں انہیں مال و دولت سے زیادہ ضرورت اسی تائید غیبی پر یقین کے حصول کی تھی۔
چنانچہ وعدہ تو دو گروہوں میں سے ایک عطا کرنے کا ہوا لیکن درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ فوج سے مڈبھیڑ کرادے۔ اس میں بے شمار فوائد مضمر تھے۔ ایمان کی پختگی کا سامان ‘ رسول اللہ ﷺ پر جاں نچھاور کرنے کے جذبہ کا استحکام ‘ دین کے لئے مرمٹنے کے عزم میں مضبوطی‘ مستقبل میں حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ‘ فتح کی صورت میں مسلمانوں کی قوت اور حوصلوں میں اضافہ اور کفار و مشرکین پر دھاک‘ مدینہ کی نئی نئی مسلم بستی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو تنبیہ ‘ مسلمانوں کو ترنوالہ سمجھنے کی ذہنیت پر ضرب‘ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے خواہشمند لیکن پریشان کن حالات سے رکے ہوئے افراد کو قبولیت اسلام میں جرأت کی فراہمی ‘خطرات و مشکلات میں قدموں میں لغزش اور دلوں میں ہول و ہیبت کے بجائے مضبوطی و ثابت قدمی کا مظاہرہ۔ ان کے علاوہ نہ معلوم اور کیا کیا فوائد تھے جس کی بناء پر اللہ رب العزت نے فرمایا :
’’ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑائو ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے( ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ‘ لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لئے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ یقینا خدا سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (الانفال۔ آیت :۴۲)
یہاں اللہ کے فیصلہ سے مراد ’فتح‘ ہے جسے اللہ ظہور میں لانا چاہتا تھا اور اس کا مقصد ’’دلیل روشن‘‘ کو واضح کرنا یعنی حق و باطل میں ایسا واضح امتیاز قائم ہوجائے کہ ہر صاحبِ عقل سمجھ سکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔دلیل روشن ہونے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بدر محض چند قبائل کی لڑائی نہیں بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ یہ نظریہ کی جنگ تھی ۔جوصفیں آمنے سامنے مقابل تھیں وہ محض قریشیوں اور مہاجر و انصار کی نہیں بلکہ کفر اور اسلام کی تھیں۔
بدر کے میدان میں نصرت الٰہی کے کئی مشاہدات ہوئے۔ بارش سے زمین مسلم فوج کے حق میں ہموار ہوگئی ‘ پانی جسم پر پڑنے سے ان کے جسموں کی تکان دور ہوگئی ‘ فرحت و شادابی نے ان کے دلوں کو اطمینان بخشا‘ موسم کی خوشگواری کے ذریعہ اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی جس سے دشمن کی کثرت تعداد کی ہیبت جاتی رہی اور بے خوفی پیدا ہوگئی۔ اور پھر وہ رات بھر اطمینان سے سوتے رہے جس سے تازہ دم ہوگئے۔ آسمان سے فرشتے مدد کے لئے نازل ہوئے ۔
یہ ساری باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ زمین و آسمان کی تمام قوتیں مسلمانوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہیں کیونکہ انہیں زمین و آسمان کے رب کی نصرت و حمایت حاصل ہے۔ بدر کے میدان میں غیبی مدد کا یہ حال تھا کہ فرشتوں نے بنفس نفیس جنگ میں حصہ لیا اور دشمنانِ اسلام کی گردنیں سروں سے اتاریں۔ اس کا مشاہدہ کفر کے سرخیلوں نے بھی کیا اور صحابہؓ نے بھی۔
غیبی مدد کا ایک مشاہدہ رسول اللہ ﷺ کے معجزہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : ’’لڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے انہیں لکڑی کا ایک ٹکڑا یا درخت کی ایک شاخ تھمادی اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی ‘ مضبوط اور چم چم کرتی سفید تلوار میں تبدیل ہوگئی۔ انھوں نے اسی سے لڑائی کی۔ اس تلوار کا نام عون یعنی مدد رکھا گیا تھا ۔ دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شہادت تک عکاشہؓ اسی سے لڑتے تھے۔ (الرحیق المختوم)
بدر میں گھمسان کا رن پڑا‘ 70مشرک ہلاک ہوئے جن میں بڑے بڑے سردار شامل تھے۔ 70گرفتار ہوئے۔کثیر مال غنیمت مسلم فوج کے ہاتھ لگا۔ مسلمانوں کی جانب صرف 14صحابہؓ شہید ہوئے۔
جنگ بدر کے نتائج : آخر میں جنگ کے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہوئے موجودہ حالات میں اس سے ملنے والی رہنمائی پر غور کریں گے۔
l اہل بدر کو بخشش کا مژدہ سنایا گیا۔
l جنگ میں کثرت و قلت کا فلسفہ ڈھیر ہوگیا۔
l یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کی فتح کا تعلق مال و اسباب سے نہیں اللہ کی نصرت و حمایت سے ہے ۔
l جنگ بدر کے بعد سارے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
l ناموافق حالات میں ایک خوفناک جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حالات کو مسلمانوں کے حق میں موافق بنادیا۔ جیسے مدینہ منورہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول جو اعلانیہ دشمنی کرتا تھا اب بظاہر اسلام کے دائرہ میں آگیا گو تمام عمر منافق رہا جس سے خود رسول اللہ ﷺ بھی واقف تھے لیکن اب کھل کر مخالفت کی ہمت نہیں رہی ۔
l ادھر مکہ کے ہر گھر میں زلزلہ آگیا۔ انتقام کی آگ اور بھی بھڑکی لیکن رہ رہ کر شکست کا زخم ستانے لگا اور مشرکین کو اچھی طرح یہ احساس ہوگیا کہ مسلمان تر نوالہ نہیں ۔
l مشرکین کی شکست سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مکہ سے جاری مخالفت اور مسلسل دشمنی اور عسکری غلبہ کے باوجود بڑے بڑے سرداروں کے سرکٹ جانا باطل کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔
l یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محمدﷺ کسی دنیاوی و سیاسی مقصد کے تحت یہ ساری جدوجہد نہیں کررہے تھے جیسا کہ مشرکین کا الزام تھا بلکہ آپ صلعم اس آفاقی دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کررہے تھے جو زمین و آسمانوں کے رب کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔
l مدینہ اور اس کے اطراف کے یہودیوں کے حوصلے پست ہوگئے جو قریش کے ساتھ مل کر ریشہ دوانیاں کرتے رہتے تھے لیکن بدبخت قوم نصیحت حاصل کرنے اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے اللہ کے رسولؐ اور آپؐ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کے بجائے حسد کی آگ میں اور بھی جھلسنے لگی ۔
l قبائل عرب فوری طور پر دامن اسلام میں پناہ لینے تیار نہیں ہوئے لیکن سہم ضرور گئے ۔
l مال غنیمت حلال کردیا گیا اور اس کی تقسیم کے احکام نازل ہوئے جو مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت تھی۔
l مسلم فوج روانہ ہوئی تو کسمپرسی کی حالت تھی مدینہ لوٹی تو کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ‘ اونٹ کی نکیل ‘تلوار و نیزہ اور دیگر ساز و سامان بطور غنیمت کے نہ رہے ہوں۔ قیدیوں کی شکل میں ایک متحرک یا منقولہ اثاثہ ہاتھ لگا جس کے بدل مکہ سے تاوان وصول کیا جانے والا تھا۔
l اہل مکہ کے لئے بڑے بڑے سرداروں کی ہلاکت‘ سپاہیوں کے زخم ہی کیا کم تھے کہ قیدیوں کی رہائی کے لئے تاوان ادا کرنا بدترین ذلت سے کم نہیں تھا۔ یہ شکست ان کے لئے ایسی ذلت بن گئی کہ مکہ میں اپنے عزیزوں کی موت پر نوحہ کرنے پر پابندی لگادی گئی اور اعلان کردیا گیا کہ کوئی شخص ماتم نہ کرے کہ اس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔
موجودہ دور میں غزوہ بدر کی افادیت :
l مسلمانوں کے سامنے دو قافلے تھے اور مسلمان تجارتی قافلہ کی طرف مائل نظر آتے تھے لیکن اللہ نے فوجی لشکر حوالہ کیا۔ مال میں بظاہر مسلمانوں کا بھلا تھا لیکن اللہ نے غلبہ اسلام کو پسند فرمایا جس میں مسلمانوں کا فائدہ ازخود مضمر ہے۔ اس سے یہ مشیت الٰہی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کے فائدہ پر اسلام کے فائدہ کو ترجیح دینا چاہئے ۔
l دور حاضر میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے جنگ کو انسانیت ‘ انسانی حقوق اور امن و ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے ممالک خود ہی دنیا بھر میں جنگ کے سامان بیچتے اور اس تجارت کے لئے ملکوں کو باہم لڑاتے ہیں۔ بہرحال جنگ بدر میں اللہ کی مشیت ‘ رسول ؐ کی شرکت اور فتح و نصرت اس بات کے غماز ہیں کہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسلام کو غالب کرنے جنگ کرنا کسی بھی اعتبار سے خلاف انسانیت نہیں ہوسکتابالخصوص جبکہ شریعت نے جنگ کے اصول و شرائط اور حدود بھی متعین کردیئے ہیں۔
l مسلمانوں کو کبھی بھی کم تعداد میں ہونے کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ ملکوتی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہزار فرشتوں کو ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دشمنوں سے بڑھ جائے گی۔ اس طرح مسلمانوں کو جو غیبی مدد حاصل ہے اس سے غیرمسلم محروم ہیں۔
l جو لوگ گھروں سے نکال دیئے گئے وہ بزدل ہوکر بیٹھے نہیں رہ گئے بلکہ مقام ہجرت پر اپنے دین پر مضبوطی سے قائم بلکہ اس کے فروغ کے لئے سرگرم رہے اور جب مقابلہ کا وقت آیا تو غلام نے آقاپر تلوار اٹھائی اور اسلام کے رشتہ نے تمام رشتوں کی طناب کاٹ کر رکھ دی۔
l جنگ بدر اسباب کے ذریعہ نہیں جیتی گئی لہٰذا مسلمان کبھی مال و اسباب پر نظر نہ رکھیں بلکہ مسبب الاسباب پر نگاہ رکھیں۔
l رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے دنیا میں بھی سرفرازی ملتی ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی میں مضمر ہے۔
l دشمن سے مقابلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جنگی تدبیر اختیار کی اور اللہ سے دعابھی کی لیکن مسلمان آج صرف دعائوں کے بھروسے پر اسلام کے غالب آنے کی امید کرتے ہیں۔
l اسلام ایک کامل دین ہے جو نہ صرف عبادات کے طور طریق بلکہ روز مرہ کی زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے اور جنگ کی تدابیر اور آداب بھی بتاتا ہے۔
l جہاد معیوب نہیںبلکہ محبوب ہے ۔یہ خالص قرآنی اصطلاح ہے جسے اس قدر بدنام کردیا گیا کہ لوگ جہاد کا لفظ زبان سے اداکرنے میں عار و تنگ ذہنی تصور کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید کی بے شمار آیات میں یہ لفظ آیاہے جس کی صرف تلاوت سے بھی 40نیکیاں ملتی ہیں۔
l اسلام اخلاقی تعلیمات سے پھلا پھولا لیکن جہاد کے ذریعہ غالب آیا۔
l آخری لیکن سب سے اہم بات یہ کہ موجودہ دور میں مسلمانوں نے طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہوجانے کو خدا کا انعام سمجھتے ہوئے دین کے تقاضوں کو بھلادیا ہے حالانکہ دین کے تقاضوں کی تکمیل ہی مسلمان کی زندگی کا مقصد اولین ہونا چاہئے جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
٭٭٭
(قسط ہفتم)

یورپ پناہ گزینوں کی توجہ کا مرکز کیوں؟

شام کے مقتل میں ساڑھے چار برسوں کے دوران خون کی ندیاں بہ چکیں، چار لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ملک کی نصف سے زائد آبادی گھر بار چھوڑ چکی تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کسی نئے انسانی المیے کی بار بار نشاندہی بھی کی مگر عالمی جرگے داروں کی توجہ صرف دولت اسلامی ’’داعش‘‘ نامی ایک پر اسرار جن کو بوتل میں بند کرنے پر مرکوز رہی۔ بہت کم کسی کی توجہ ان ایک کروڑشامی شہریوں کی طرف گئی جو خانہ جنگی اور اقتدار کی رسہ کشی کی چکیوں میں پستے ہوئے گھر بار چھوڑ کر ملک سے نکلنے کے بعد سمندروں، جزیروں اور دوسرے ملکوں کی سرحدوں پر بے یارو مددگار کھڑے ہاتف غیبی کو پکار رہے تھے۔ ترکی کے ساحل پر نقل مکانی کے دوران حادثے میں جاں بحق ہونے والے شامی بچے ایلان کردی کی تصویر نے وہ کام کر دکھایا جو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے بار بار کے واویلے سے بھی نہیں ہو پایا تھا۔ یورپ کی سرحدوں ، جزیروں اور سمندروں میں پھنسے ہزاروں شامی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی راہ ہموار ہوئی مگر کیا اس سے لاکھوں پناہ گزینوں کے مسئلے کا حل نکل آئے گا؟

شام اور یورپ کے درمیان ہزاروں میل کی مسافت ہے، مگر شام کے لٹے پٹے مہاجرین اپنی جانوں پر کھیل کر یوروپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کیوں کر رہے ہیں؟ اس کے کئی اسباب بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک اہم سبب خلیجی اور دوسرے عرب ملکوں کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کے لئے اپنے دروازے بند کرنا ہے۔ خلیجی ملک شامی مہاجرین کو اپنے ہاں آنے سے کیوں روک رہے ہیں، اس کے بعض ٹھوس اسباب ہیں، ناقدین کی ان اسباب کی طرف نظر کم ہی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں اس وقت کئی ملکوں کے لاکھوں شہری تارکین وطن کے طور پر رہ رہے ہیں۔ ان میں شام تیسرا بڑا ملک ہے جس کے پانچ لاکھ باشندے سعودیہ میں پناہ گزین ہیں۔ یمن میں جنگ چھڑنے کے بعد 10لاکھ یمنی متاثرین سعودی عرب داخل ہوئے تو سعودی حکومت نے انہیں ویزوں اور سفری دستاویزات کے بغیر اپنے ہاں قیام و طعام کی سہولت مہیا کی۔ خلیجی ریاستوں میں سلطنت آف اومان میں بھی شامی اور یمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ بحرین داخلی شورش کی بنا پر غیر ملکیوں کو اپنے ہاں آنے کی خاص حوصلہ افزائی نہیں کر پایا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے حسب ضرورت شامی پناہ گزینوں کی مدد کی جارہی ہے۔ شام میں خانہ جنگی کے بعد سیکڑوں پناہ گزین ’یو اے ای‘ جا چکے ہیں۔ اس کے بعد خلیجی ممالک پر شامی پناہ گزینوں کے لئے دروازے بند کرنے کا اعتراض بلا جواز معلوم ہوتا ہے۔
مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ خلیجی ملکوں اور شام کے درمیان ماضی کی تلخ یادیں بھی شامی باشندوں کو ان عرب ملکوں سے دور کرنے کا موجب ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ شامی پناہ گزینوں کے خلیجی ملکوں میں اندھا دھند داخل ہونے سے وہاں پر سیکورٹی کے سنگین مسائل بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، لیکن اس سب کے باوجود خلیجی حکومتوں نے شامی پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے لئے عالمی اداروں سے تعاون میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ شام سے یورپ کی طرف نقل مکانی کی ایک وجہ ترکی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شامی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بوجھ اس وقت ترکی نے اٹھا رکھا ہے۔ ترکی میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد 16لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ 2014کے آخر میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی پناہ گزین ’یو این ایچ سی آر‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر میں جاری خانہ جنگیوں کے پچھلے ایک سال کے دوران یومیہ 42ہزار 500افراد بے گھر ہوتے رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی 86فیصد تعداد ترقی یافتہ ملکوں کے بجائے ترقی پذیر ممالک پر بوجھ بنتی رہی۔ سنہ 2014۔2015ء کے دوران ترکی 15لاکھ 90ہزار شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار پایا تھا۔ عالمی ادارے کے جاری کردہ اعداد و شمار اس اعتبار سے اور بھی لرزہ خیز ہیں کہ پچھلے سال شام سے نقل مکانی کرنے والے کل افراد میں 51فیصد 18سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے یہ تمام افراد بچوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ابتدائی سطور میں شامی پناہ گزینوں کی یورپ منتقلی کا تذکرہ ہوا۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر سمندر جیسے نہایت پر خطر راستوں سے یورپی ملکوں کو سفر شامی پناہ گزینوں کا خواب کیوں بنتا جا رہا ہے؟ ماہرین اس کے بھی کچھ اسباب بتاتے ہیں۔ لٹے پٹے شامیوں کا واسطہ ترکی اور پڑوسی ملکوں میں ان ہزاروں انسانی اسمگلروں سے پڑتا رہا ہے جو انہیں روشن مستقبل کا خواب دکھا دکھا کر یورپ لے جانے کی راہ ہموار کرتے رہے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، یونان اور دوسرے ملکوں میں لاکھوں پناہ گزینوں کو سمویا جاسکتا ہے مگر کیا ان ملکوں کے پاس لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ سہارنے کی گنجائش ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے کیونکہ یونان حال ہی میں ایک خطرناک معاشی حادثے کے بعد یوروپی ملکوں کی بیساکھیوں پر کھڑا ہونے کی دوبارہ کوشش کر رہا ہے۔ جرمنی بھی معاشی بحران سے گذر رہا ہے۔
بعض یوروپی تجزیہ نگار نوجوان پناہ گزینوں کی آمد کو ان ملکوں کی معیشت کے لئے خوش کن خیال کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پناہ گزینوں کی شکل میں انہیں سستی لیبر حاصل ہوگی اور ابتری کا شکار صنعت کو باردگر سہارا دینے کا موقع ملے گا۔ یہ تاثر کافی حد تک درست بھی ہے کیونکہ کئی یوروپی ملکوں نے اب شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد انسانی ہمدردی کم اپنے معاشی فوائد زیادہ ہیں۔ یوروپی مبصرین اپنے حکومتوں کو یہ تجاویز دے چکے ہیں کہ وہ دوسرے ملکوں کے نوجوانوں، لیبر اور ہنر مندوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو اپنے ہاں کام کا موقع دے ورنہ معاشی دیوالیہ پن صرف یونان یا جرمنی تک محدود نہیں رہے گا ، مگر تمام یوروپی ملکوں کا شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے نقطہ نظریکساں نہیں۔ ہنگری، فرانس اور اٹلی جیسے ملکوں کا خیال ہے کہ شام سے آنے والے پناہ گزین چونکہ مسلمان ہیں، اس لئے یوروپی ملکوں میں عیسائی آبادی کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ ہنگری کی شدت پسند حکومت نے تو دوسرے ملکوں سے متصل اپنی سرحد پر خاردار باڑ لگانا شروع کر دی ہے تاکہ شامی پناہ گزین ہنگری میں داخل نہ ہوسکیں۔
یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں میں ایک بڑی تعداد شام میں مقیم ان فلسطینی مہاجرین کی بھی ہے جو پچھلے کئی عشروں سے پناہ گزیں کے طور پر وہاں رہ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی یورپ کی طرف نقل مکانی پر اسرائیل بھی خوش ہے کیونکہ شام سے ہجرت کرنے والوں میں ہزاروں فلسطینی پناہ گزین بھی ہیں۔ اگر یہ فلسطینی یوروپی ملکوں میں اقامت اختیار کرتے ہیں، انہیں وہاں نسبتاً اچھا معیار زندگی ملتا ہے تو ان کے دیکھا دیکھی اردن اور لبنان میں مقیم فلسطینی پناہ گزین بھی یورپ کا رُخ کریں گے۔ اس طرح مسئلہ فلسطین کے ساتھ لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور دوبارہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کا مطالبہ ساقط ہو جائے گا۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو اس کے مسئلہ فلسطین پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ (بشکریہ روزنامہ خبریں )

پیغامِ محمدیﷺ

دوستو! آج میری اور آپ کی یک ماہہ ملاقات کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، آج میری تقریر کی آٹھویں قسط ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ ان دو اخیر تقریروں میں اسلام کے بنیادی امور کے متعلق تمام باتیں آپ کے سامنے پیش کردوں مگر

صد سال می تو ان سخن اززلف یاربست
مسئلہ توحید کے متعلق تمام پہلے مذاہب میں جو حقیقت میں توحیدہی کا پیام لیکر اس دنیا میں آئے تھے، تین اسباب سے غلط فہمیاں اور گمراہیاں پیدا ہوئیں، ایک جسمانی تشبیہ و تمثیل، دوسرے صفات کو ذات سے الگ اور مستقل ماننا، اور تیسرے افعال کی نیرنگی سے دھوکا کھانا، پیغامِ محمدی ؐ نے ان گرہوں کو کھولا، ان غلط فہمیوں کو دور کیا اور ان حقیقتوں کو واضح کیا، سب سے پہلے تشبیہ و تمثل کو لیجئے:۔
(۱) خدا کو ، خدا کی صفتوں کو، اور خدا و بندہ کے باہمی تعلق کو واضح کرنے کے لئے خیالی یا مادّی تشبیہیں، اور تمثیلیں ، دوسرے مذاہب کے مقتدوں نے ایجاد کیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ اصل خدا تو جاتا رہا، اور اس کی جگہ یہ تشبیہیں خدا بن گئیں، انہی تشبیہوں اور تمثیلوں نے مجسم ہو کر بتوں کی شکل اختیار کر لی، اور بُت پرستی شروع ہو گئی، خدا کو اپنے بندوں کے ساتھ جو لطف و کرم، اور محبت اور پیار ہے اس کو بھی تشبیہ و تمثیل کے رنگ میں ادا کرکے مجسم کر دیا گیا، آرین قوموں میں چونکہ عورت محبت کی دیوی ہے، اس لئے خدا اور بندہ کے تعلق کو ماں اور بیٹے کے لفظ سے ادا کیا گیا، اور اس لئے خدا ماتاکی شکل میں آگیا، بعض دوسرے ہندو فرقوں میں اس بے کیف محبت کو زن و شو اور میاں بیوی کے الفاظ میں ادا کیا گیا، سدا سہاگ فقیروں نے ساڑی اور چوڑی پہنکر اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے، رومیوں اور یونانیوں میں بھی عورت ہی کی شکل میں خدا ظاہر ہوا ہے، سامی قوموں میں عورت کا برملا ذکر تہذیب کے خلاف ہے، اس لئے خاندان کی اصل بنیاد باپ قرار دیا گیا ہے، اس طرح بابل و اسیر یا وشام کے کھنڈروں میں خدا مرد کی صورت میں جلوہ نما ہے، بنی اسرائیل کے ابتدائی تخیل میں خدا باپ اور تمام فرشتے اور انسان اس کی اولاد بتائے گئے ہیں، بعد کو باپ خدا کی اولاد صرف بنی اسرائیل قرار پاتی ہے، بنی اسرائیل کے بعض صحیفوں میں زن و شو کا تخیل بھی خدا اور بنی اسرائیل کے درمیان نظر آتا ہے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل اور یروشلم بیوی فرض کئے جاتے ہیں،اور خدا شوہر بنتا ہے، عیسائیوں میں باپ اور بیٹے کی تمثیل نے اصلیت اور حقیقت کی جگہ لے لی، عربوں میں بھی اسی قسم کا تخیل تھا، خدا باپ تصور کیا جاتا تھا اور فرشتے اس کی بیٹیاں، پیغامِ محمدیؐ نے تمام تشبیہی اور تمثیلی صورتوں ، طریقوں اور محاوروں کو یک قلم موقوف کر دیا اور ان کا استعمال شرک قرار دیا، اس نے صاف اعلان کیا لیس کمثلہٖ شیئٌ ۔’’اس جیسی اور اس کی مثل کو ئی چیز نہیں۔‘‘اس ایک آیت نے شرک کی ساری بنیادوں کو ہلا دیا، پھر ایک نہایت ہی چھوٹی سورہ کے ذریعہ سے انسانوں کے سب سے بڑے وہم کو دور کیا:۔
قل ھوا للّٰہ احد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفواً احدٌ ٭
ترجمہ: کہدے (اے پیغمبرؐ) اللہ ایک ہے، اللہ (خود ہر چیز سے) بے نیاز ہے (اور تمام چیزیں اس کی نیاز مند ہیں)۔ نہ وہ جنتا ہے (جو اسکے اولاد ہے) اور نہ وہ جنا جاتا ہے (جو کسی کی اولاد ہوکر پھر خدا ہو) اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے (جو زن و شو کا رشتہ قائم ہو سکے) (سورہ اخلاص)
اس ایک سورہ میں جو قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورہ ہے توحید کی نکھری ہوئی صورت ظاہر ہوئی ہے، جس کی بنا پر دینِ محمدیؐ ہر قسم کے شرک کے مغالطوں سے پاک ہوگیا ہے۔
دوستو! اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ پیغام محمدی ؐ نے خدا اور بندہ کے درمیان محبت، پیار اور لطف و کرم کے تعلقات کو توڑ دیا ہے، نہیں اس نے ان تعلقات کو اور زیادہ پیوستہ اور مضبوط کر دیاہے، لیکن ان تعلقات کے ادا کرنے میں جو جسمانی تعبیریں مختلف انسانی شکلوں میں تھیں صرف اُن کو توڑ دیا ہے، اس لئے کہ اوّل تو یہ انسانی طریقۂ ادا حقیقت سے بہت کم رتبہ ہے ، یعنی اس کی نگاہ میں عبد و معبود کے درمیان جو تعلق ہے اس کے مقابلہ میں باپ ،بیٹے ، ماں ، بیٹیاں یا زن و شو کا تعلق محض ہیچ اور بالکل کم درجہ ہے، دوسرے یہ کہ ان تعبیروں سے شرک کی غلطیاں پیدا ہوتی ہیں، اسی لئے اسلام نے یہ کہا اُذْکُرُو اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَائَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا’ ’ تم اللہ کو اسی طرح یاد کرو جیسے اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو، بلکہ اس سے بہت بڑھ کر (یاد کرو)‘‘دیکھو کہ اس آیت میں محبت الٰہی کو ادا کرنا تھا تو یہ نہیں کہا کہ ’’خدا تمہارا باپ‘‘ یعنی خدا اور باپ کے رشتہ کو مشتبہ اور مشبہ بہ نہیں بنایا، بلکہ خدا کی محبت اور باپ کی محبت کو باہم مشبہ اور مشبہ بہ قرار دیا، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس نے اس جسمانی رشتہ کو چھوڑ دیا، لیکن اس جسمانی رشتہ کی محبت کو باقی رکھا، آگے بڑھ کر اس نے کہا، بلکہ ’’باپ سے بہت زیادہ خدا سے محبت رکھنی چاہئے۔‘‘ او اشد ذکرًا، اس سے ظاہر ہوا کہ اس رشتہ کی محبت کو وہ خدا اور بندہ کی محبت اور تعلق کے مقابلہ میں کم رتبہ اور ہیچ سمجھتا ہے، اور اس میں ترقی کی ضرورت محسوس کرتا ہے، والذین اٰمنوا اشد حبا للّٰہ ’’ایمان والے سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھتے ہیں، ‘‘ اسلام خدا کو ابوالعالمین دنیا کا باپ نہیں کہتا بلکہ رب العلمین دنیا کا پالن ہار کہتا ہے، کیونکہ اس کی نگاہ میں اَبْ سے رَبْ کا مرتبہ بہت بلند ہے، باپ کا تعلق بیٹے سے آنی اور عارضی ہے، مگر رب کا تعلق اپنے مربوب سے اس کی خلقت اور وجود کے اولین لمحہ سے لیکر آخرین لمحہ تک برابر بلا انقطاع قائم رہتا ہے، اسلام کا خدا ودود ہے یعنی محبت والا، رئووف ہے، یعنی ایسی رافت اور محبت والا، جو باپ کو اپنے بیٹے سے ہے، حنان ہے، یعنی ایسی محبت والا، جیسی ماں کو اپنے بیٹے سے ہے، مگر وہ نہ باپ ہے اور نہ ماں بلکہ ان تشبیہوں سے پاک ہے۔
(۲) حضرات! قدیم مذاہب کے عقیدۂ توحید میں غلط فہمیوں کا دوسرا سبب صفات کا مسئلہ ہے، یعنی صفات کو ذاتِ الٰہی سے الگ ،مستقل وجود کے طور پر تسلیم کرنا، ہندؤوں کے عام مذہب میں جو خداؤں کا لاتعداد لشکر نظر آتا ہے، وہ حقیقت میں اسی غلطی کا نتیجہ ہے کہ ہر ایک صفت کو انہوں نے ایک علیحدہ اور مستقل وجود مان لیا، اور اس طرح ایک خدا کے ۳۳ کرو ڑ خدا بن گئے، تعداد چھوڑ کر صفات کی تشبیہ اور تمثیل بھی انہوں نے مجسم کرکے پیش کی، خدا کی صفت قوت کو ظاہر کرنا تھا، تو انہوں نے اسے واقعی ہاتھ کے ذریعہ سے ظاہر کیا، اور اس کی جسمانی تمثیل میں کئی کئی ہاتھ بنا دئیے ، خدا کی حکمت بالغہ کو سمجھنا تھا، تو ایک سر کے بجائے دوسر کی مورت کھڑی کر دی۔
ہندو مذہب کے فرقوں پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ وہ اسی ایک مسئلہ صفات کے تجسم اور مستقل وجود کے تخیل سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں، خدا کی تین بڑی صفتیں ہیں، خالقیت، قومیت اور ممیتیت، یعنی پیدا کرنے والا، قائم رکھنے والا اور فنا کر دینے والا، ہندو فرقوں نے ان صفتوں کو تین مستقل شخصیتیں تسلیم کر لیا، اور برہما، وشنو اور شیو یعنی خالق، قیوم، اور ممیت ،تین مستقل ہستیاں بن گئیں اور برہمن، وشنو پرست اور شیو پرست تین الگ الگ فرقے ہو گئے، اور تینوں کے پوجنے والے الگ ہو گئے، لنگایت فرقہ نے خالقیت کی صفت کو اپنا خدا ٹھہرا کر مرد عورت کے آلاتِ تولید کو اس خالق کا مظہر مان لیا، اور اُن کی تصویر پوجنی شروع کر دی۔
عیسائیوں نے خدا کی تین بڑی صفتوں، یعنی حیات، علم، اور ارادہ کو تین مستقل شخصیتیں تسلیم کر لیا، حیات باپ ہے، علم روح القدس ہے، اور ارادہ بیٹا ہے، اسی قسم کی چیزیں رومی، یونانی اور مصری تخیل میں بھی ملتی ہیں، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نے اس غلطی کا پردہ چاک کر دیا، اور صفات کی نیرنگی سے دھوکا کھا کر ایک کو چند سمجھنا انسان کی جہالت اور نادانی قرار دیا، قرآن نے کہا، الحمد للّٰہ رب العلمین۔سب خوبیاں اسی ایک پروردگارِ عالم کے لئے ہیں، ولہُ المثل الاعلیٰ سب اچھی صفتیں اسی کے لئے ہیں، اللّٰہ نور السموت والارض اللہ ہی آسمان و زمین کا نور ہے، عرب میں اسی ہستی کو صفت رحم سے متصف کرکے عیسائی اس کو رحمان کہتے تھے، عام مشرکین عرب اس کو اللہ کہتے تھے، قرآن نے کہا، قُل ادعواللّٰہ اودعوالرحمن ایّامّا تدعوا فلہ الْاسماء الحسنی یعنی اس کو اللہ کہکر پکارو یا رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اچھے نام یا اچھی صفتیں اسی کی ہیں، فاللّٰہ ھوالولی وھو یحیی الموتیٰ وھو علیٰ کل شیء قدیر (شوریٰ) پس خدا وہی پیارا ہے، یا وہی کام بنانے والا ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، الا ان اللّٰہ ھوالغفور الرحیم، ہشیار بے شک وہی خدا غفور اور رحیم ہے، بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے، ہوالذی فی السماء الہ وفی الارض الہ ط وھو الحکیم العلیم (دخان )’’وہی سننے والا، علم والا ہے، جو آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے بیچ میں ہے سب کا رب ہے، اگر تم کو یقین آئے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، وہی جلاتا ہے، اور وہی مارتا ہے، وہی تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا رب ہے،‘‘ یعنی وہی برہما ہے، وہی شیو ہے، وہی وشنو ہے، تینوں ایک ہی کی صفتیں ہیں، صفات کے تعدد اور اختلاف سے موصوف میں تعدد اور اختلاف نہیں۔
فللّٰہ الحمد ربّ السموت ۔۔۔۔۔۔۔وھو العزیز الحکیم۔ (سورہ جاثیہ)
ترجمہ : خدا ہی کے لئے سب خوبی ہے، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین ،رب ہے سارے جہاں کا،اور اسی کو ہے سب بڑائی آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔
ھواللّٰہ الذی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔(سورۃ الحشر)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں، چھپے اور کھلے کا جاننے والا، وہی ہے مہربان ،رحم والا، وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں وہ بادشاہ، پاک، صلح و امن، امن دینے والا، پناہ میں لینے والا، زبردست دباؤ والا ہے، بڑائیوں والا، پاک ہے اللہ ان باتوں سے جن کو یہ مشرک لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، وہی خدا ہے جو خالق ہے، جو عدم سے لانے والا ہے، جو صورتگری کرنے والا ہے، اسی کے لئے ہیں سب اچھے نام (یا سب اچھی صفتیں) جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں، سب اس کی تسبیح پڑھتی ہیں ،وہی غالب (اور) دانا ہے۔
ان صفتوں والے خدا کو ہم نے صرف پیغامِ محمدیؐ ہی کے ذریعہ سے جانا ہے، ورنہ دوسروں نے تو ذات سے صفات کو الگ کرکے ایک خدا کے چند ٹکڑے کر ڈالے تھے، سبحان اللّٰہ عما یشرکون سے مراد ہی شرک ہے جو صفات کو ذات سے الگ کرکے لوگوں نے اختیار کیا تھا، اس آخری پیغام نے بتایا کہ وہی اللہ ہے، وہی خالق ہے، وہی باری ہے، وہی مصور ہے، وہی ملک ہے، وہی قدوس ہے، وہی مومن ہے، وہی عزیز و جبار ہے اور وہی رحمان و رحیم ہے، ایک ہی ذات کی یہ سب صفتیں ہیں، اور وہ ایک ہے۔
(۳) شرک کا تیسرا سرچشمہ، افعال الٰہی کی نیرنگی ہے، لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ ان مختلف افعال کی کرنے والی، مختلف ہستیاں ہیں، کوئی مارتی ہے، کوئی جلاتی ہے ، کوئی لڑائی لڑواتی ہے، کوئی صلح کراتی ہے، کسی کا کام محبت ہے ،کسی کا کام عداوت ہے، کوئی علم کا دیوتا ہے، کوئی دولت کی دیوی ہے، غرض ہر کام کے لئے الگ الگ سیکڑوں خدا ہیں، اسلام نے ان نادانوں کو بتایا کہ یہ سب ایک ہی خدا کے کام ہیں۔
تمام افعال کی دو بڑی قسمیں ہیں، ایک خیر اور ایک شر۔ یا یوں کہو کہ ایک اچھی اور دوسری بری، اس خیال سے کہ ایک ہی ذات سے خیر و شر کے دومتضاد کام نہیں ہو سکتے، زرتشتیوں نے خیر اور اچھے کاموں اور اچھی چیزوں کے لئے الگ خدا، شر اور برے کاموں اور بری چیزوں کے لئے الگ خدا ٹھہرایا، پہلے کا نام یزدان اور دوسرے کا نام اہرمن رکھا، اور دنیا کو اس یزدان اور اہر من کی باہمی کشمکش کا معرکہ گاہ ٹھہرایا، یہ غلطی اس لئے ہوئی کہ وہ خیر و شر کی حقیقت نہیں سمجھ سکے۔ دوستو! خیر و شر دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔ کوئی شے اپنی اصل کے لحاظ سے نہ خیر ہے نہ شر، وہ خیر اور شر انسانوں کے صحیح یا غلط استعمال سے بن جاتی ہے، فرض کر لو آگ ہے، اگر اس سے کھانا پکاؤ یا انجن چلاؤ یا غریب کو تاپنے کو دو تو یہ خیر ہے، اور اگر اسی سے کسی غریب کا گھر جلادو تو یہ شر ہے، آگ اپنی اصل کے لحاظ سے نہ خیر ہے نہ شر، تم اپنے استعمال سے اس کو خیر یا شر بنادیتے ہو، تلوار خود نہ خیر ہے نہ شر، تم اس کو جیسا استعمال کرو ویسی ہی ہے، تاریکی نہ خیر ہے نہ شر، اگر تم اس کو لوگوں کے گھر میں چوری کا ذریعہ بناؤ تو شر اور اگر اپنے کو چھپا کر نیکیوں کے کرنے کا وقت بناؤ یا انسان کے حواس کے آرام و سکون اور راحت کا ذریعہ بناؤ تو خیر ہے۔
خدا نے کائنات بنائی، آسمان و زمین بنائے ، مادّہ کو خلق کیا، اشیاء میں خاصیتیں رکھیں، اور ان کو مختلف قوتیں بخشیں ، پھر انسان کو بنایا اس کو دِل و دماغ بخشا، عقل و حکمت دی، اب دیکھو کہ ایک انسان اس کائنات کی ترتیب ،اشیاء کی ترکیب اور خاصیتوں کو دیکھ کر ایک خالق و قادر کی صنعت کاری اور صورت گری پر تعجب کرتا ہوا فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین پڑھ کر حضرت ابراہیم ؑ کی طرح یہ پکار اٹھتا ہے : انی وجھت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا و ما انا من المشرکین۔ ’’میں نے اپنا منھ سب طرف سے پھیر کر اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں دوسری طرف اسی مادہ اور اس کی قوتوں اور خاصیتوں کی ظاہر داریوں میں پھنسکر انسان کے دل و دماغ کی عقل و حکمت خدا کا انکار کر بیٹھتی ہے ، اور مادہ ہی کو اصل کائنات اور علۃ العمل سمجھنے لگتی ہے، اور یہ کہہ اٹھتی ہے ، وماہی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر (جاثیہ) ’’اس دنیاوی زندگی کے علاوہ پھر کوئی دوسری زندگی نہیں ، ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم کو زمانہ کے سوا کوئی اور نہیں مارتا۔‘‘ کائنات اور اس کے عجائبات اور خواص، ہر شخص کے سامنے ایک ہی ہیں، البتہ دماغ ہزاروں ہیں، اُن کو دیکھ کر ایک دماغ خدا پرست ہو جاتا ہے، اور دوسرا گمراہ اور دہریہ بن جاتا ہے، غور کرو تو معلوم ہوگا کہ ایک ہی چیز ہے، جو ہدایت کرنے والی اور گمراہ کرنے والی دونوں ہے، یایوں کہو کہ کائنات اپنی اصل کے لحاظ سے نہ ہدایت کرنے والی ہے، نہ گمراہ کرنے والی، تم اپنی عقل کے اختلاف سے ہدایت پاتے ہو، یا گمراہ ہو جاتے ہو، تو گویا ایک ہی کائنات ہادی بھی ہے، اور مفصل بھی، جس طرح خدا کے اس کام (مادّہ) کے دونوں نتیجے ہیں، اسی طرح خدا کے پیغام کے بھی دونوں نتیجے ہیں، اسی قرآن یا انجیل کو پڑھ کر ایک انسان خدا کو پہچانتا ہے، اور تسلی پاتا ہے، اور دوسروں کے دِل میں شبہے پیدا ہوتے ہیں، خطرات آتے ہیں، اور انکار کی طرف مائل ہو جاتا ہے، پیغام ایک ہے، البتہ دل دو ہیں، اور یہ دونوں دِل اور دونوں دماغ ایک ہی خالق کے مخلوق ہیں۔ دو خالق نہیں ہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ نکلا کہ افعال کی دوئی فاعل کی دوئی کی دلیل نہیں، یہ تمام نیرنگیاں ایک ہی قدرت کے تماشے ہیں، خیر و شر دونوں اسی کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت اور ضلالت دونوں ادھر ہی سے ہے۔
یضل بہٖ کثیرا ویھدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم الخاسرون ۔(سورہ بقرہ ،ع۔۳ )
ترجمہ: اپنے اس کلام کے ذریعہ وہ (خدا )بہتوں کو راہِ راست نہیں دکھاتا، (یا گمراہ کرتا ہے) اور بہتوں کو راہِ راست دکھاتا ہے، انہی کو راہِ راست نہیں دکھاتا جو خدا کے عہد کو باندھکر توڑتے ہیں، جو اس کو کاٹتے ہیں، جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے، اور جو زمیں میں فساد کرتے ہیں، یہی ہیں گھاٹا اٹھانے والے۔
واللّٰہ لا یہد القوم الکٰفرین(سورہ بقرہ ، ع۔ ۳۶) ترجمہ: خدا کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ ہدایت اور ضلالت دونوں کی علۃ العلل وہی ہے، مگر دونوں کے لئے ابتدائی محرکات تمہارے ہی ہوتے ہیں، تم نے فسق کیا، قطع رحم کیا، فساد کیا، کفر کیا تو اس جت بعد ضلالت آئی، ضلالت پہلے اور فسق و فجور بعد کو نہیں آیا۔
خدا نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اور بتا دیا کہ یہ راستہ منزلِ مقصود کو جاتا ہے اور یہ عمیق غار میں اُن کو لیجاکے گرا دیتا ہے۔ فرمایا:
انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورًا، (دہر)
ترجمہ: ہم نے راستہ اس کو دکھا دیا، (تو) وہ پھر یا شکر گزار بن جاتا ہے، یا کافر بن
جاتا ہے۔ تمام دنیا کی اچھی بری چیزوں کا وہی ایک خالق ہے، ارشاد ہوا
اللّٰہ ربکم خالق کل شی ء لا الٰہ الا ہو (مومن)
ترجمہ: اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا وہی خالق ہے، اس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔
واللّٰہ خلقکم وما تعلمون (صافات ۔ع ۳)
اور خدا نے تم کو پیدا کیا اور جو تم بناتے ہو اس کو پیدا کیا۔
لیکن :۔
اعطیٰ کل شیئٍ خلقہ ثم ہدی (طہ ، ع۔۲)
ترجمہ : اس نے ہر چیز کو اسکی صورت بخشی، پھر ہدایت دے دی۔
اب تم ہو جو اسکو ہدایت اور ضلالت اور خیر و شر بنا لیتے ہو، اگر غلط راہ پر چلے تو ضلالت ہوئی، صحیح راہ پر چلے تو ہدایت ہوئی، صحیح مصرف میں استعمال کیا تو خیر، اور غلط استعمال کیا تو شر، ورنہ کوئی چیز اپنی اصل کی رو سے ہدایت ہے نہ ضلالت، خیر ہے نہ شر، اس لئے خیر و شر کو دو چیزیں سمجھ کر دو خدا کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک ہی خدا ہے، جو ان دونوں کا خالق ہے۔
ھل من خالق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فانّیٰ تؤفکون٭ (فاطر ، ع۔۱)
ترجمہ: کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے، وہی تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کدھر الٹے جاتے ہو۔
خدا نے اپنا پیغام تمہارے سپرد کر دیا، اب تم اس کو مانو یا نہ مانو۔
ثم اورثنا الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باذن اللہ٭ (فاطر ع۔۴)
ترجمہ:۔پھر ہم نے کتاب کا وارث اُن کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تو اُن میں کوئی اپنی جان کا برا کرتا ہے، اور کوئی خدا کے حکم سے خوبیاں لیکر آگے بڑھ جاتا ہے۔
ومَٓا اصابک من۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر٭ (سورہ شورٰی ،ع۔۴)
ترجمہ: اور جو پڑے تم پر مصیبت ، سو اس کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا، اور وہ معاف کرتا ہے بہت سی باتوں کو۔
فالھمہا فجورہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔من دسھا ٭(شمس)
ترجمہ: ہر نفس میں خدا نے اس کی گنہگاری اور نیکو کاری عام کردی ہے تو جس نے اس (نفس) کو پاک کیا، اس نے نجات پائی، اور جس نے اس کو مٹی میں ملایا وہ ناکام ہوا۔
۴۔ خدا کی عبادت ہر مذہب میں تھی اور ہے، لیکن قدیم مذاہب میں ایک عام غلط فہمی پھیل گئی تھی کہ عبادت کا مقصود جسم کو تکلیف دینا ہے، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ جس قدر اس ظاہری جسم کو تکلیف دیجائے گی، اسی قدر روحانی ترقی ہوگی، اور دل کی اندرونی صفائی اور پاکی بڑھے گی، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوؤں میں عام طور سے جوگ اور عیسائیوں میں رہبانیت پیدا ہوئی، اور بڑی بڑی مشکل ریاضتوں کا وجود ہوا، اور اُن کو روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا، کوئی عمر بھر نہانے سے پرہیز کر لیتا تھا، کوئی عمر بھر ٹاٹ یا کمبل اوڑھے رہتا تھا، کوئی ہر موسم میں یہاں تک کہ شدید جاڑوں میں بھی ننگا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کھڑا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کے لئے غار میں بیٹھ جاتا تھا ، کوئی ساری عمر دھوپ میں کھڑا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کے لئے کسی چٹان پر بیٹھ جاتا تھا، کوئی عہد کر لیتا تھا، کہ پوری زندگی صرف درختوں کی پتیاں کھاکر گذارے گا، کوئی عمر بھر تجرد میں گذار دیتا تھا، اور قطع نسل کو عبادت سمجھتا تھا، کوئی ایک ہاتھ ہوا میں کھڑا رکھ کر سکھا ڈالتا تھا، کوئی جس دم یعنی سانس روکنے کو عبادت جانتا تھا، کوئی درخت میں الٹا لٹک جاتا تھا، یہ تھا اسلام سے پہلے خدا پرستی کا اعلیٰ درجہ اور روحانیت کی سب سے ترقی یافتہ شکل، پیغام محمدیؐ نے آکر انسانوں کو ان مصیبتوں سے نجات دلائی اور بتایا کہ یہ روحانیت نہیں جسمانی تماشے ہیں، ہمارے خدا کو جسم کی شکل نہیں، بلکہ دل کا رنگ مرغوب ہے، طاقت سے زیادہ تکلیف اس کی شریعت میں نہیں۔ ٭٭٭٭
(قسط دوم)

علماء اور قائدین حق گو بنیں

سائنسی اعتبار سے ہر اس شخص کو زندہ کہا جاتا ہے جس کے تنفسی اعضاء کام کرتے رہتے ہیں اور جس کے یہاں سانس کی آمد و شد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پنڈت برج نرائین چکبست کے الفاظ میں زندگی عناصر میں ظہور ترتیب کا نام ہے اور موت ان عناصر کے پریشاں ہونے کا نام ہے۔ میڈیکل سائنس میں زندہ انسان وہ ہے جس کے دل اور دماغ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں لیکن اخلاقی کردار کے اعتبار سے زندہ انسان کسی اور شخصیت کا نام ہے، ایسی شخصیت کا نام ہے جس کے اندر کچھ صفات اور کچھ خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ صفات اگر نہیں ہیں تو پھر وہ زندہ انسان نہیں ہے، زندہ انسان اعلیٰ انسانی قدروں کا حامل ہوتا ہے اور ان قدروں کی حمایت کے لئے اس کے اندر ہمت اور جرأت ہوتی ہے، اسی لئے انسانوں کی بھیڑ میں زندہ انسان بہت کم نظر آتے ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی نے ایک قصہ لکھا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک پیر فرتوت جس کے سارے بال سفید تھے اور کمر خمیدہ تھی، چراغ لے کر اندھیرے میں سنسان راستوں میں کچھ تلاش کر رہے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا تلاش کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ مجھے انسان کی تلاش ہے۔ جلال الدین رومی فارسی زبان کے شاعر تھے اردو کے شاعر غالب نے بھی اسی حقیقت کا اظہار اپنے شعر میں کیا ہے:
ع۔ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
جس طرح آسمان سے موسلادھار بارش ہوتی ہے اور بارش کے قطروں میں کوئی ایک قطرہ موتی بنتا ہے، جس طرح زمین کی کان سے کوئی ہیرا بہت مشکل سے برآمد ہوتا ہے اسی طرح سے انسانوں کے ہجوم میں زندہ انسان مشکل سے ملتا ہے۔ زندہ شخصیت وہ شخصیت ہے جس کے اندر شعور، حسن عمل، ہمت، جذبہ اور استقامت اور حق کی حمایت اور ارادہ کی مضبوطی موجود ہوتی ہے، وہ بلند مقصد کے لئے جان دے سکتا ہے لیکن اعلیٰ قدروں اور مقصد حیات سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔ اگر یہ صفات کسی کے اندر موجود ہیں تو وہ شخصیت ایک زندہ شخصیت ہے اور اگر یہ صفات موجود نہیں ہیں تو پھر شخصیت زندہ شخصیت نہیں ہے وہ ایک مردہ انسان ہے۔ دنیا کے اندر اسلام کے حق میں کسی بڑی تبدیلی کے لئے زندہ شخصیتوں کا وجود ضروری ہے اسلام کے حق میں حالات کی تبدیلی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں میں ضروری صفات نہ پیدا ہوجائیں ، ان میں زندہ شخصیتیں نہ ابھر آئیں ، ایسی شخصیتیں جو مسلمانوں کے دردناک حالات سے اوران پر ظلم سے متاثر ہوتی ہوں اور ان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہوں۔ دنیا میں کہیں صالح اسلامی انقلاب نہیں آسکتا ہے جب تک کہ اندرون میں اسلامی انقلاب نہ آجائے، خارجی حالات کی کوئی تبدیلی اندرون کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اندرونی تبدیلی یہ ہے کہ انسان خود اسلام پر عمل پیرا ہو اور اسلام کے بارے میں شدید طور پر حساس ہو جائے، دنیا میں کوئی واقعہ جس کی ضرب اسلام پر پڑتی ہو اسے بے چین کر دے، خارجی واقعہ اس کے دِل کو مضطرب کر دے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ مسلم ملک میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے اور آزادی اظہار پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں۔ احتجاج کی آزادی سلب کر لی گئی ہے حکومت کے خلاف لکھنا اور بولنا جرم قرار دے دیا گیا ہے، حق گوئی مستوجب سزا ہو گئی ہے اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والوں کو مجرم قرار دیا گیا ہے، مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اسلام پسندوں کو جو اسلامیت کا عالمی نشان ہیں اور احیاء اسلام کے علم بردار ہیں، جن کا مقصد دین کی سربلندی ہے، پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ یہ انصاف پر اتنا بڑا ظلم ہے جس کے مقابلہ میں داعش کا ظلم بھی ہیچ ہے، داعش کا ظلم تو صرف عراق و شام کی شیعی حکومت کے مظالم کا رد عمل ہے لیکن مصر کا ظلم عصر حاضر کی سب سے بڑی اسلامی تحریک پر ہے، یہ وہ تحریک ہے جس کی کوششوں سے عرب دنیا کے ہر ملک میں اسلامی بیداری پیدا ہوئی ہے۔ اسلامی شریعت کے نفاذ کی آواز بلند ہوئی ہے، اس تحریک کے بانی امام حسن البناء شہید ؒکا مقصدانفرادی اور اجتماعی زندگی کو رضائے الٰہی کے رنگ میں رنگ دینا تھا۔ دیکھئے امام حسن البناؒء اور ان کی تحریک الاخوان الالمسلمون کے بارے میں مفکر اسلام مولانا ابولحسن علی ندوی ؒ کیا کہتے ہیں’’ انہوں نے ایک نسل تیار کی وہ ایک پوری قوم کے مربی تھے وہ ایک علمی ،فکری، اخلاقی مکتب فکر کے بانی تھے انہوں نے ایک ایسی دینی اسلامی تحریک اور قیادت پیدا کی جس سے زیادہ ہمہ گیر و فعال تحریک خصوصاً عرب ممالک میں عرصہ سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی ۔۔۔ اس تحریک کے اثرات کو ختم کرنے اور اس کے نقوش کو مٹانے کی کوشش اور اس کے چلانے والوں کو قید و بند اور جلا وطنی کی سزائیں اور رونگٹے کھڑے کرنے والی اذیتیں دینا بدترین جرم ہے جس کو تاریخ بھی معاف نہیں کر سکتی۔‘‘ (پرانے چراغ جلد اوّل)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ بھی ایک جہاں دیدہ شخصیت تھے اور عالم اسلام کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے ان کا بیان ملاحظہ کیجئے ’’عرب ممالک میں آپ عراق سے مراکش تک چلے جائیں ،ہر جگہ آپ یہی دیکھیں گے کہ جن لوگوں کو بھی اسلام سے گہرا اور قلبی تعلق ہے وہ زیادہ تر اخوان ہی کے آدمی ہیں یا ان کی تحریک سے متاثر ہیں، اسی طرح سے امریکا اور یورپ میں بھی آپ دیکھیں گے کہ جو عرب نوجوان اسلامی جذبہ سے سرشار ہیں وہ اکثر و بیشتر اخوانی ہیں۔۔۔۔(ماہنامہ ترجمان القرآن مئی ۱۲۰۷)
یہ واقعہ ہے کہ پہلی عرب اسرائیلی جنگ (۱۹۴۸ئ) میں اخوانی اس قدر بے جگری سے لڑے تھے کہ قریب تھا کہ اسرائیلی حکومت ہزیمت سے دوچار ہو جاتی اور اسرائیل کا قضیہ نامرضیہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا لیکن دباؤ ڈال کر جنگ بند کرادی گئی لیکن اخوان کا خوف یہودیوں کے دلوں میں ایسا بیٹھ گیا تھا کہ جب ایک اخوانی محمد مرسی مصر میں حکومت کی کرسی پر بیٹھا تو بقول ایک مبصر کے اسرائیل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، اس پر خوف سے رعشہ طاری ہو گیا کیونکہ اخوانی وہ لوگ ہیں جو شوق شہادت سے سرشار ہوکر میدانِ جہاد میں آتے ہیں اور موت سے ڈرتے نہیں بلکہ موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور خوشی خوشی گردنوں میں پھانسی کے پھندے پہن لیتے ہیں۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ۶ دسمبر ۱۹۵۴ء کو مصر میں جمال عبد الناصر کے زمانہ میں چشم فلک نے یہ منظر دیکھا تھا اور چشم دیدگواہوں نے گواہی دی تھی کہ اخوانیوں کو جب جیل سے تختہ دار کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے اللہ کے راستے میں موت ہماری سب سے بڑی تمنا ہے۔ یہ وہ اخوان ہیں جو آزمائش کے دور سے گزر کر اور آگ کا دریا پار کرکے اور الیکشن جیت کرکے اقتدار میں آئے تھے اور مرسی صاحب مصر کی پوری تاریخ کے پہلے منتخب صدر تھے۔ اگر مرسی برسراقتدار رہتے تو نہ شام میں بشار الاسد کی ظالم حکومت قائم رہ سکتی تھی اور نہ فلسطین میں اسرائیل کی غاصب حکومت۔ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف نعرہ جہاد انہوں نے ناوابستہ ممالک کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر ایران کی سرزمین میں بھی بلند کیا تھا اور انہوں نے بار بار سربراہوں کے سامنے شام کے مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ وہاں عوام پر بیحد ظلم ہو رہا ہے اور وہ جب بھی یہ کہتے کہ شام میں ظلم ہو رہا ہے تو تہران کی اس چوٹی کانفرنس کے باکمال ایرانی مترجمین برجستہ فارسی میں ترجمہ کرتے کہ بحرین میں بے حد ظلم ہو رہا ہے۔ بعد میں بحرین نے اس دانستہ غلط ترجمہ پر احتجاج بھی کیا۔ مصر میں اخوان کی حکومت دراصل اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ تھی۔ چنانچہ مرسی کی حکومت کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی شاطرانہ چال کامیاب ہو گئی ۔ عبد الفتاح سیسی کو فوجی انقلاب کا ایجنٹ بنا دیا گیا اور سعودی عرب اور کئی خلیجی ملک اس کے دام ہمرنگ میں پھنس گئے اور عبد الفتاح سیسی جیسے اسرائیل کے ایجنٹ کے پشت پناہ اور ہم نوا بن گئے اور ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے حالات سے واقف لوگ خادم الحرمین مَلِک عبد اللہ سے ایک تبسم زیر لب کے ساتھ یہ کہنے لگے ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘ راقم سطور نے قطر اور ترکی کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں عالم اسلام کے مسلم علماء اور دانشوروں کو خلیجی موقوف پر چیں بجبیں دیکھا۔ سعودی حکومت اور خادم الحرمین کی بدنامی کسی کے لئے خوشگوار بات نہیں لیکن علما کا کام ہی یہی ہے کہ ہر حال میں حق بات کہیں ، قطب نما کا کام رات ہو یا دن ہر حال میں صحیح سمت سفر کی رہنمائی کرنا ہے، اگر قطب نما اپنا کام کرنا چھوڑ دے تو قافلے والوں کی منزل کھوٹی ہوگی اور سفینہ حیات کبھی ساحل مراد تک نہیں پہنچ سکے گا۔
اس وقت اخوان کا دور ابتلا دوبارہ واپس آگیا ہے، مصر میں نیا فرعون دوبارہ تخت نشیں ہو گیا ہے، جو روستم کی نئی کھیتی لہلہا رہی ہے، قید خانوں میں تعذیب کے نئے رنگ اور نئے ڈھنگ اختیار کئے جا رہے ہیں۔ خواتین کو بھی پابجولاں جیل خانوں میں لایا جارہا ہے ۔ہزاروں پولیس کی گولیوں سے شہادت سے سرخرو ہوئے، سو سے زیادہ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے اور جن لوگوں کو یہ سزا سنائی گئی ہے ان کو دستور کے مطابق سرخ رنگ کا حلہ شاہانہ پہنا دیا گیا ہے الجزیرہ ٹی وی پر مرسی صاحب لوہے کے پنجرے میں سرخ جوڑا زیب تن کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اخبارات سے آزادی چھین لی گئی ہے حکومت کے موقف کے خلاف کوئی کچھ لکھ نہیں سکتا ہے۔ یہ تحریر جو ناظرین پڑھ رہے ہیں ہندوستان میں لکھی جا سکتی ہے عرب دنیا میں نہیں لکھی جا سکتی ہے، عرب دنیا تو اسلام اور جمہوریت کی قتل گاہ ہے اللہ کا دین زندگی کے ہر شعبہ میں برسرِعمل ہونے کے لئے آیا ہے وہ صرف مسجدوں اور حجروں کے لئے نہیں ہے ۔سیاست معیشت سماج میں اسے برسرپیکار ہونا چاہئے۔ اسلام نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں ایک اہم نعمت آزادی ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اس نعمت کی حفاظت کی گئی تھی۔ خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایک عام آدمی کو بھی حاکم اور خلیفہ پر تنقید کا حق حاصل تھا۔
(ماخوذ راشٹریہ سہارا)

آخری تحفہ

احد کا میدان شہیدوں کے خون سے رنگین تھا۔ دور دور تک حضورؐ کے جاں نثار ساتھی اپنے خون میں نہائے پڑے تھے اور خاموش کھڑے حضورؐ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ۱۵ سال کی محنت کے بعد جو چمن انہوں نے سر سبز کیا تھا۔ آج اسے مسل دیا گیاتھا اور مسلے ہوئے پھول دو دوقدم کے فاصلے پر پڑے ہوئے تھے۔

کیسا سکون تھا ان کے چہروں پر۔ وہ کچھ لوگ جو اپنا دیس چھوڑ کر اس پر دیس میں آپڑے اور پھر اس یثرب بستی کے باسیوں نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ پھر ایسا بھائی چارہ ہوا ان میں کہ سچے (سگے)بھائیوں میں بھی ایسا پیار شاید کسی نے دیکھا ہو۔۔۔ اور آج ان مہاجر اور انصاریوں کی ایک دوسرے پر لپٹی لاشیں اس بھائی چارے کا کیسا انوکھا ثبوت تھیں۔
شہیدوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے حضورؐ ایک جگہ رک گئے اور دیکھتے ہی رہ گئے انکے پیارے چچا حمزہؓ مٹی اور خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔
کافروں نے ان کے ناک کان کاٹ دئیے تھے، ان کاسینہ چیر کر دل نکال لیا تھا لیکن پھر بھی ان کے چہرے پر کیا دبدبہ تھا جیسے کوئی زخمی شیر سو رہاہو۔
’’آہ حمزہؓ۔۔۔‘‘ ایک ٹھنڈی سانس حضورؐ نے لی اور اپنے پیارے چچا کی ہمدردیوں کو یاد کرکے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ مکہ میں حمزہؓ کا کیا دبدبہ تھا۔ حمزہ کو سب ’’شیر عرب‘‘ کہتے تھے اور ایک روز جب اپنے بھتیجے کے سر سے خون بہتا دیکھا تو ان کا پتھر دل بھی پگھل گیا تھا ۔ اللہ کے لیے میرے بھتیجے کو کتنے دکھ برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ کیا وہ لاوارث ہے؟ کیا کوئی اس کا سرپرست نہیں۔۔‘؟ اور یہی غیرت انہیں اسلام میں لے آئی اور پھر کیسا ساتھ نبھایا اس شیر دل چچا نے ابی طالب کی گھاٹی میں تین سال بھوکے پیاسے رہے۔ بھتیجے نے وطن چھوڑا تو خود بھی چلے آئے۔
زندگی اور حرارت سے بھر پور حمزہؓ۔۔۔۔ شجاعت اور غیرت کی تصویر حمزہؓ۔۔۔ آج اس حال میں پڑے تھے۔۔۔۔۔ایک شیر کو دھوکے سے مار کر مکے والوں نے کیسا سلوک کیا تھا حمزہؓ کے ساتھ۔
حضورؐ کا دل بھر آیا۔ آنسوؤں میں ڈوبی آواز میں پکار کر آپؐ نے کہا:
’’آہ چچا ۔۔۔۔میرے چچا۔۔۔۔۔۔ ایک دن میں ضرور انتقام لوں گا آپ کا۔۔۔آپ عرب کی آن تھے چچا۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے ستر آدمی بھی آپ کا بدلہ نہیںہو سکتے میرے چچا۔۔۔‘‘
حمزہؓ کا جسم دیکھانہیں جاتا تھا تو آپؐ نے چادر سے انہیں ڈھانک دیا۔
’’سنو زبیر۔۔۔۔۔‘‘ آپؐ نے ان کے بھانجے سے کہا
’’امی آئیں تو یہ منظر انہیں دیکھنے مت دینا، سگے بھائی کا یہ حشر دیکھ کر ایک شفیق بہن کا دل ٹوٹ کر رہ جائے گا۔ میری پھوپھی صفیہ یہ سب برداشت نہ کر پائیں گی زبیر!‘‘
زبیرؓ نے دیکھا۔ امی تیزی سے چلی آرہی تھیں۔ اپنے بھائی کو الوداع کہنے کے لیے۔ آخری بار اپنے بھائی کا چہرہ آنکھوں میںبھر لینے کے لیے۔
’’نہیں امی۔۔۔‘‘زبیرؓ آگے بڑھ آئے۔
’’آپ ماموں کو نہ دیکھیں۔ حضورؐنے منع کر دیا ہے۔ کافروں نے ان کے ناک کان کاٹ دیئے ہیں۔‘‘
’’ تو یہ کون سی بڑی بات ہے بیٹے؟‘‘پورے حوصلے کے ساتھ صفیہؓ نے جواب دیا۔
’’حضورؐ سے کہو زبیر— اللہ کی راہ میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ تم حضورؐ سے کہو زبیر میں صرف دو چادریں لائی ہوں اپنے بھائی کے لیے۔ ایک بہن کا آخری تحفہ۔۔۔۔۔کفن کی دو چادریں۔ کم از کم اپنے بھائی تک مجھے پہنچانے کی اجازت لو حضورؐ سے۔‘‘
زبیر ؓکی درخواست پر صفیہ ؓکو اجازت مل گئی تو وہ حمزہؓ کی لاش کے سرہانے کھڑی ہوگئیں۔ ایک بھی آنسوان کی آنکھوںمیں نہ تھا۔
’’ یا اللہ ! حمزہؓ کو بخش دے۔‘ ‘ بس ایک ہی دعا ان کے ہونٹوں پر تھی۔
اور جب ایک بہن کا آخری تحفہ’’کفن ‘‘ بھائی کو دیا جانے لگا تب ہی زبیرؓ کی نظر برابر میں پڑے ایک انصاری شہید پر پڑی۔ یہ انصاری حضرت سہیلؓ تھے۔
ایک مہاجر حمزہؓ اور انصاری سہیلؓ کی لاشیں برابر پڑی تھیں۔اسلام کے رشتے نے خاندان اور وطن کے سارے امتیاز مٹا دیئے تھے۔
دونوں کی لاشیں ایک ہی خاک و خون میں لتھڑی پڑی تھیں، اسلامی اخوت اور وفاداری کی یہ کیسی انوکھی تصویر تھی جس میں ان دونوں نے اپنے دل کا خون بھرا تھا۔
پردیس سے آئے ہوئے مہاجر مسلمانوں کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دینے کا جو معاہدہ انصاریوں نے کیا تھا—سہیلؓ کی لاش اس معاہدے کی کیسی عجیب سی تکمیل تھی۔
اور—یہ لاش بھی بے گور وکفن تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبیرؓ نے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔صفیہؓ نے بھی دیکھا اور صفیہ تڑپ اٹھیں۔
’’وہ بھی تو میرا بھائی ہے زبیر۔ ایک چادر اسے بھی دو۔ قرعہ ڈال کر دیکھو کون سی چادر کس کے حصہ میں آتی ہے۔‘‘
قرعہ ڈالا گیا ۔بڑی چادر سہیلؓ کے حصہ میں آئی اور چھوٹی حمزہؓ کے ۔
شیر کی طرح طویل قامت حمزہؓ اس چھوٹی سی چادر میں کفنائے نہ جا سکتے تھے۔ ان کے پاؤں ننگے رہے تو بھانجے نے ان کے پیروں کو گھاس سے ڈھک دیا۔
صفیہؓ نے ایک اطمینان بھر ی نظر دونوں جنازوں پر ڈالی اور انّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا الیہ راجعون پڑھ کر چپ ہوگئیں۔
ان کے دونوں بھائی ایک ہی طرح خون اور مٹی میں لتھڑے ہوئے اور ایک ہی جیسی سفید چادریں لپیٹے کتنے چین کی نیند سو رہے تھے۔

احتساب فکرو عمل لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم عرصۂ محشر میں ہیں (۲)

جس طرح انسانی طبعی زندگی کی کچھ خاص علامات ہیں مثلاً جب دل کی دھڑکن رُک جاتی ہے، جب آنکھوں کی روشنی رخصت ہو جاتی ہے، جب نبضیں ڈوب جاتی ہیں ،جب خون کی گردش تھم جاتی ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ انسان کا جسم اب زندگی کی دولت سے محروم ہو گیا ہے۔ اسی طرح حیات اجتماعی یا قوموں کے زندہ رہنے کی بھی کچھ نشانیاں ہیں۔ جنہیں اہل علم و بصیرت اور ارباب عقل و دانش نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ جب کوئی قوم یا ملت ان نشانیوں سے محروم ہو جاتی ہے یا ہونے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ مردہ ہے۔ یا عالم نزع میں گرفتار ہے (علامہ اقبال ؒ)جب کسی ملت کے زیادہ تر افراد اپنے ذاتی فائدوں کو اپنے اجتماعی فائدوں پر ترجیح دیتے ہیں یا اپنی مادّی فوائد پر اخلاقی اور معنوی مفادات پر ترجیح دینے لگتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم اپنے اخلاقی مفادات سے محروم ہونے والی ہے۔ اسی طرح احتساب فکرو عمل بھی زندہ قوموں یا قومی زندگی کی علامت ہے۔ احتساب فکر و عمل کی یہ صلاحیت ایک بڑی دولت ہے جس سے محرومی کی علامت یہ ہے کہ ایسی قوم قوت ارادی کی خوبی سے محروم ہو گئی او راس نے خود کو گردش حالات کے سپرد کر دیا ہے۔ اب اس کی تقدیر محض یہ ہے کہ وقت کی آندھی جس طرف چاہے اسے اڑا کر لے جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقینا ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور بے انصافی کرنے والوں کو یہ کہہ کر معاف نہیں کیا جا سکتا کہ امت مسلمہ خود ہی قصور وار ہے اور اس میں فلاں فلاں خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم اپنے منصب و مقام کو فراموش کر دیں اوراپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی برتتے رہیں۔ اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنا تو کجا ان کو سننا بھی پسند نہ کریں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم بڑی حد تک خود احتسابی کی دولت سے محروم ہیں۔ ہمارے عوام ہی نہیں خواص اور ذمہ داروں کے یہاں بھی اس کا فقدان ہے۔ ہمارے خود پسند سربراہوں اور تنظیموں کو یہ بھی پسند نہیں کہ ان پر سنجیدہ تنقید کی جائے۔ وہ اپنی مدح سرائی چاہتے ہیں بلکہ خود ستائی میں مبتلا ہیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کارناموں کی فہرست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ جماعتی اور مسلکی عصبیت ہماری پہچان بن کر رہ گئی ہے۔ ہم دینی مسلمات اور واجبات کو ترک کرتے ہیں اور فروعات پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ ان معمولی نسبتوں سے کیا جاسکتا ہے جن پر ہمیں بے جا ناز ہے۔ ظاہر ہے کہ جو جس مسلک سے وابستہ ہے یا جس گروہ سے منسلک ہے اس کو بہتر سمجھتا ہے۔ اس حد تک کوئی اعتراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قابل اعتراض اور قابل اصلاح بات یہ ہے کہ ہم اپنے مسلک کے علاوہ کسی اور مسلک کی اور اپنے بزرگوں کے سوا اوروں کی نفی کریں۔ جب کہ معلوم ہے کہ ہم سب کا دین ایک ہے اور اصولوں میں باہم متحد ہیں، سارے اہل ایمان بھائی بھائی ہیں ۔ازروئے کتاب و سنت سب کے دینی و ملی حقوق مساوی ہیں۔ سارے اہل ایمان کو خدا کی کتاب ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتی ہے۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں واضح طور پر ایک مسلمان کی جان و مال اور عزت آبرو کو محترم قرار دیا گیا۔ قتل مسلم ہی نہیں ایذاء مسلم بھی بالاتفاق حرام ہے۔ اختلاف رائے اور تنقید کی حدود و شرائط موجود ہیں۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مسلمان عوام سے پہلے علماء اور اکابرین باہم دست و گریباں اور برسرپیکار ہیں۔ اختلافِ مسالک کے نام پر مسجدیں اور مدرسے منقسم ہیں،الزام تراشیوں ، منافرت اور اشتعال کا بازار گرم ہے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے خلاف ایسی کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں جن کا دینی مراکز اور مساجد کے تعلق سے کوئی جواز نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی غلطی اور کوتاہی کے لئے دوسرے کی غلطی اور کوتاہی کو وجہ جواز قرار دے رہا ہے۔ کہیں کہیں تو باپ اور بیٹے ،چچا اور بھتیجے ایک دوسرے کے مرد مقابل کھڑے ہیں۔ اگر ایک کی پشت پناہی ایک سیاسی اور لادینی جماعت کر رہی ہے تو دوسرے کی سرپرستی اس کی مخالف پارٹی کر رہی ہے۔ اور دونوں اس تماشے سے لطف اندوز اور فیض یاب ہورہے ہیں۔ اور دونوں کا شمار دین و ملت کے سرپرستوں اور محسنوں میں ہورہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درست ہے کہ یہ تکلیف دہ صورت حالت بیک لحظہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ مسالک کا اختلاف حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے ایسا ہے بھی نہیں کہ اسے زور زبردستی ختم کیا جائے۔ بجائے خود یہ مطلوب بھی نہیں ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ ہر روز ہونے والی باہمی چپقلش کو ختم کرنے کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ مسلمان جھگڑالو قوم ہے ،ان میں تحمل و برداشت نہیں ہے۔ لڑنا بھڑنا ان کی خصلت ہے، یا ساری بے اصل باتیں اور بے بنیاد الزام تراشیاں ہمارے موجودہ حالات پر چسپاں ہو رہی ہیں۔ حکومتوں اور ملکوں کی لڑائیاں تو ایک بڑا پیچیدہ معاملہ ہے ،ہمارا معاشرہ اور ہماری تنظیمیں بھی اپنے عمل سے اس کو تقویت پہنچا رہی ہیں۔ حالانکہ غیر مسلموں کے مابین بھی اختلافات ہیں ، مگر اس کے باوجود باہمی ربط و اتحاد کی راہیں نکالی جاتی ہیں۔ وہ بھی اتحاد و اتفاق کی بنیادیں تلاش کر رہے ہیں جن کے یہاں معبودوں میں بھی اختلاف ہے۔لیکن جن کا خدا ئے واحد اور اس کے آخری رسول اصول دین اور کتاب الٰہی پر ایمان ہے وہ ایک دوسرے کے جان و مال ،عزت و آبرو کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان کے عوام کالانعام ہی نہیں خواص بھی ایک دوسرے سے ملتے اور تنازعات کو ختم کرتے نظر نہیں آتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی استبداد کے خاتمے کے بعد برصغیر ہندو پاک میں ایک نئے اور پیچیدہ سیاسی دور کا آغاز ہوا۔ ہندوستان کی مسلم آبادی دو بلکہ تین ملکوں میں تقسیم ہو گئی۔ مسلمان جو پہلے ہی قلیل التعداد تھے اس نئی تقسیم سے مزید کمزور ہوکر رہ گئے اور اس تقسیم کو بھی کھلے دِل سے تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ الٹا مسلمانوں کے سر پر ملک کی تقسیم کا الزام تھوپ دیا گیا۔ حالانکہ تقسیم ملک باہمی رضامندی سے عمل میں آئی تھی۔ اگر یہ کوئی جرم تھا تو اس کے لئے انگریزی حکومت کے ساتھ ساتھ کانگریس و مسلم لیگ دونوں ہی ذمہ دار تھے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ ملک کی تقسیم کے لئے سب سے بڑھ کر کانگریس کے وہ لیڈر ذمہ دار تھے جو پہلے اس سے اختلاف کرتے تھے اور پھر اس پر راضی ہو گئے۔ جس میں پٹیل، نہرو اور گاندھی جی بھی شامل تھے۔ لے دے کر مولانا آزاد ہی اس کی مخالفت کرتے رہے۔ ۱؎ ہندوستان کی اس نئی تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ جس کی تلافی کی کوئی صورت اب تک پیدا نہیں ہو سکی۔ بھارت میں مسلمانوں کی کس مپرسی ،محرومی اور مایوسی کی ایک نئی داستان مرتب ہونے لگی۔ جس میں آئے دن کے ہونے والے مسلم کش فسادات کا حد درجہ افسوس ناک سلسلہ بھی شامل ہے جو بند ہوتا نظر نہیں آتا اور جس کا مقصد مسلمانوں کو غلاموں کی طرح زندہ رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان موقعوں پر حکومت ، انتظامیہ ،پولیس اور پریس سبھی مسلمانوں کے مرد مقابل بن جاتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ حق و انصاف کی بات کرتے ہیں تو انہیں شدید مخالفت اورمزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا جانتی ہے کہ تقسیم ملک کے وقت ہندوستان کی مسلم ملت تقسیم کے عمل سے دوچار تھی۔ دونوں طرف علماء و عوام اور لیڈران تھے ۔ سب کو اپنی اپنی رائے پر اصرار تھا۔ اور اس وقت کوئی ایسی مؤثر کوشش نہیں کی جارہی تھی جو اس طوفان کو روک سکتی۔ دوسری جانب یہ حال تھا کہ ملک کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے اچانک اس کے حامی بن گئے۔ ان میں اور کوئی انتشار نہیں ہوا۔ کیا اس میں ہمارے لئے کچھ قابل غور نہیں تھا؟ تحریک خلافت کی ناکامی ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے زوال کا پیش خیمہ بنی۔ سب کچھ قربان کرکے بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی و محرومی کے سوا کچھ نہ آیا۔ تحریک خلافت کی اصل قیادت رخصت ہو گئی اور اس کی میراث ہندوستانی تحریک آزادی کی قیادت کے حصہ میں آئی۔ جس میں کوئی خوبی ہو بہرحال وہ انگریزی سامراج کے مقابل ’انقلاب پسند ‘نہیں تھی۔ بلکہ اعتدال پسند تھی۔ اس میں نئی ہندوستانی قومیت کا تصور واضح نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستانی قومیت اور ہندو قوم پرستی دونوں کے حامی جمع تھے۔ جس کے نتیجہ میں ایک جانب مسلم لیگ کو اپنے اندیشوں کی تائید کے لئے بہت کچھ کہنے کا موقع ملا اور ہندو قوم پرستی کو تقسیم ملک میں ہی فائدہ نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ کانگریس کی پوری لیڈر شپ بشمول گاندھی جی اس پر راضی ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بر صغیر ہندوستان پہلے دو حصوں میں اس کے بعد تین حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ ہندوستانی مسلمانوں کو پہنچا۔ مگر ہم نے اس سے کیا سبق سیکھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ اور ہماری موجودہ حالت اس منفی جواب کی منہ بولتی تصویر ہے۔ روز ایک تازہ زخم ہے، روز ایک نیا دردہے۔ اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم آج بھی اس کے علاج کے لئے پوری طرح سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ ہماری بے خبری اوربے حسی، بے ضمیری تک پہنچ چکی ہے۔ پہلے جب کوئی بڑا خطرہ درپیش ہوتا تھا تو ہم جمع ہوتے تھے ایک مشترک درد کا احساس ہوتا تھا اور اس کے علاج کی فکر بھی ہوتی تھی ۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب مرحوم نے متعدد کنونشن طلب کئے ۔ ان کا کانگریسی ہونا انہیں اس سے باز نہیں رکھ سکا ۔ مسلمانوں کی قیادت ملی قیادت کی صورت میں ابھرتی رہی۔ مسلم مجلس مشاورت بنی ، مسلم پرسنل لاء بورڈ بنا۔ مگر آج اس کے آثار بھی معذوم نظر آرہے ہیں۔ ملکی سیاسی پارٹیوں کو ہمارا اس طرح ملنا بھی گوارا نہیں۔ برسراقتدار طبقہ طاقت کے نشے میں چور ہے۔ ارباب سیاست چاہتے ہیں کہ ہمارا اپنا اجتماعی وجود قائم نہ رہے ۔ کچھ باصلاحیت مسلمان بے نتیجہ سیاسی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں اور بس۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ تقسیم ملک سے لے کر آج تک ملک کی دوسری بڑی آبادی پر مشتمل مسلمانوں کی حصہ داری اکثریت کے دعویداروں کو نہ پہلے تسلیم تھی اور نہ آج تسلیم ہے۔ جب تک دیانتداری کے ساتھ اس سچ کو تسلیم نہیں کیا جائیگا ،مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکے گا۔ حالانکہ لفظوں کے الٹ پھیر سے حقیقتیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آخر کس چیز نے ہمیں اس مومنانہ فراست سے محروم کر دیا جس کے حوالے سے ہمیں آگاہ کیا گیا تھا کہ ’’مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔ ‘‘(الحدیث) مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ایک ہی سوراخ سے سو سو بار ڈسے جاتے ہیں۔ اب ہم مسلسل پسپائی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ آخر ایک ہزار سالہ پیش قدمی مسلسل پسپائی میں کیوں اور کس طرح بدل گئی؟ کیا ہم اس نازک سوال کا کوئی معقول اور واضح جواب تلاش کر سکتے ہیں؟

مکہ اور مدینہ نزدیک تھا

ملک شام اور شہر دمشق مسلمانوں کے پانچ مقدس ترین شہروں اور ملکوں میں شمار ہوتے ہیں، شام انبیاء ،صحابہ، اولیاء اور مؤرخین کا ملک ہے، دمشق اور حلب دونوں شہر مذہبی سیاحت کے عظیم مراکز ہیں۔ شام کو اور اعزازات بھی حاصل ہیں، یہ ملک دنیا کی قدیم ترین آرگنائزڈ سولائزیشنز میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا کا 80فیصد حصہ جب پتھر اور غار کے دور سے گزر رہا تھا شام میں اس وقت باقاعدہ حکومت بھی تھی اور میونسپل کمیٹیوں کا نظام بھی۔ دمشق اور حلب دنیا کے قدیم ترین شہروں میں بھی شمار ہوتے ہیں، شام کا ایک اعزاز اس کا انسانی حسن ہے، شام میں پچھلے چھ ہزار سال سے دنیا کی خوبصورت ترین نسلیں آباد ہیں۔ ایک اعزاز ، یہ وہ ملک ہے جس نے عالم اسلام کو وہ لازوال ادارے دئے تھے جن پر ہم آج بھی فخر کرتے ہیں، حضرت عمر فاروق ؓ کا پولیس کا محکمہ ہو، ریگولر آرمی کا تصور ہو، ویلفیئر اسٹیٹ کا فارمولہ ہو یا پھر ڈاک کا نظام ہو، یہ تصورات دمشق سے مدینہ پہنچے تھے۔
آپ اب شام کے اردگرد موجود ممالک کو بھی دیکھئے ، شام 9مقدس ترین مسلمان ملکوں کے ہمسائے میں واقع ہے، شام کی سرحدین ترکی، عراق، اردن، لبنان، مصر، سعودی عرب، یمن، ایران اور عمان سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ملتی ہیں، ان نو ممالک میں شامی قبائل بھی موجود ہیں اور شامیوں کے ہم ملک اور ہم عقیدہ لوگ بھی۔ ان 9ملکوں میں ہزاروں سال سے رابطے بھی استوار ہیں، نبی کریم ؐ نے اپنی تجارتی زندگی کا آغاز شام کے تجارتی قافلوں سے کیا تھا، مسلمانوں کے مقدس شہر دمشق اور حلب مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین شہروں مدینہ، مکہ، نجف، قم، استنبول، قونیہ، قاہرہ، جارڈن سٹی، صنعائ، تبوک اور بیروت سے زیادہ دور نہیں ہیں، ان شہروں کے درمیان کوئی سمندر اور بلند و بالا پہاڑ بھی موجود نہیں ہیں۔
آپ اگر دمشق اور حلب سے پیدل نکلیں تو آپ چند دِن بعد کسی نہ کسی مقدس شہر میں داخل ہو جائیں گے، ان نو مقدس ممالک میں شام کے ہم مذہب اور ہم مسلک لوگ آباد ہیں ، دمشق سے لے کر ازمیر، قم، صنعاء اور قاہرہ تک پانچ وقت اذان ہوتی ہے، پانچ وقت جماعت کھڑی ہوتی ہے، صدقہ اور خیرات بھی دی جاتی ہے، نقاب، حجاب اور اسکارف بھی لیا جاتا ہے، قرآن مجید پڑھا جاتا ہے، حلال گوشت کھایا جاتا ہے اور ایک اللہ اور ایک رسول ؐ کو مانا جاتا ہے لیکن جب 2011میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوتی ہے اور شامی خاندان ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں تو یہ لوگ برادر اسلامی ممالک کے بجائے ، یہ لوگ مقدس ترین مکہ، مدینہ، قم نجف، جارڈن اور بیروت کے بجائے اس یورپ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جہاں حلال گوشت نہیں ملتا، جہاں مسجد نہیں ہیں، جہاں چرچ کی گھنٹیاں بجتی ہیں، جہاں اسکارف، نقاب اور حجاب کی اجازت نہیں، جہاں تبلیغ جرم ہے۔ جہاں ڈاڑھی ، نماز اور تلاوت کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جہاں اسکولوں میں سیکولر تعلیم دی جاتی ہے، جہاں بچیاں مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی ہوں آپ انہیں بوائے فرینڈ رکھنے سے نہیں روک سکتے اور جہاں آپ کو انگریزی ،فرنچ، جرمن، یونانی اور آسٹرین زبان سیکھنا پڑتی ہے اور جہاں آپ کو ان عیسائی، یہودیوں اور لادین لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے گا جو پچھلے چودہ سو سال سے عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
آپ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھئے گا، شام اور یورپ کے درمیان کوئی زمینی راستہ موجود نہیں، شامیوں کو یورپ پہنچنے کے لئے سیکڑوں میل لمبے سمندر پار کرنا پڑ رہاہے ۔ یہ لوگ یورپ پہنچنے کے لئے اس قدر بے تاب ہیں کہ یہ ایلان جیسے بچوں تک کی قربانی دے رہے ہیں، کیوں؟ آخر کیوں؟ عالم اسلام کو کبھی نہ کبھی مذہبی، سماجی اور نسلی عصبیت کو سائیڈ پر رکھ کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس کیوں کا جواب تلاش کرنا پڑے گا، ہمیں حقائق کو بہر حال ماننا ہوگا اور وہ حقائق یہ ہیں، ملک میں اگر جبر، بد امنی، بے انصافی اور غربت ہو تو لوگ انبیائ، صحابہ، اولیاء اور اسکالرز کے دمشق سے بھی نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ انسان جب گھر چھوڑ تا ہے تو یہ امن اور آزادی کے لئے مقدس ترین شہروں کے قریب سے گزر کر ان ملکوں، ان شہروں کی طرف دوڑ پڑتا ہے جہاں ان کے اور ان کی نسلوں و تہذیب کے ایمان تک کی گارنٹی نہیں ہوتی اور حقائق تو یہ ہیں امن، انصاف، عزت، جمہوریت ، انسانی حقوق اور ترقی کے برابر مواقع انسان کو اگر یہ سہولتیں ان ملکوں میں بھی نظر آئیں جن کو یہ صدیوں تک اپنے ایمان، اپنی تہذیب کا دشمن سمجھتا رہا ہو تو یہ سیکڑوں میل پیدل چل کر، کشتیوں میں بیٹھ کر اور اپنے ایلان کی قربانی دے کر بھی دشمن ملکوں میں پہنچ جاتا ہے اور حقائق تو یہ ہیں انسان پر امن زندگی کے لئے اذانوں، مسجدوں، حلال گوشت اور حجاب والے ملک چھوڑ کر چرچوں، گھنٹیوں، فحاشی، نیوڈ بیچز، کلبوں، شراب خانوں اور بوائے فرینڈ گرل فرینڈز کے معاشروں میں چلا جاتا ہے اور حقائق تو یہ ہیں انسان کو جب چوائس مل جائے تو یہ مقدس شہروں کے بجائے میونخ، بڈاپسٹ، پیرس اور لندن کا رُخ کرتا ہے اور آپ کو اگر اب بھی یقین نہ آئے تو آپ انٹرنیٹ سے جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کا یہ بیان نکال کر فریم کرالیں اور اپنی میز پر رکھ لیں۔ اینجلا مرکل نے حیرت سے کہا ’’میں حیران ہوں، جرمنی آنے والے شامی مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ نزدیک پڑتا تھا‘‘ آپ اینجلا مرکل کا یہ فقرہ اپنی میز پر رکھ لیں، مجھے یقین ہے، آپ زندگی میں جب کنفیوژ ہوں گے، یہ ایک فقرہ آپ کو دوسیکنڈ میں کنفیوژن سے نکال لے گا۔ آپ کو حقائق جاننے میں دیر نہیں لگے گی۔ (بشکریہ روزنامہ خبریں )

(مکتوب)

مدیر محترم!
وزیر اعظم نے اپنی 30/8/15کی ریڈیائی تقریر میں صوفی اسلام کی ترویج و اشاعت کی بات کہی ہے ۔ اور انتہا پسند اسلام کا مقابلہ کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ خوبصورت باتیں ہیں۔ مگر کیا انتہا پسندی صرف مسلمانوں کی ہی بری ہے؟ کیا انتہا پسندی کو فروغ غیر مسلموں میں نہیں مل رہا ہے؟ صوفی اسلام کی ترویج کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ آپکی ہی پارٹی نے اگست میں گجرات سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نشان مہتہ نے داخل کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ہم گجرات زلزلہ اور 2001؁ کے دنگوں میں تباہ شدہ مذہبی مقامات کی مرمت نہیں کرا سکتے۔ اس کام کے لئے سرکاری پیسہ نہیں خرچ کیا جا سکتا۔ ان مذہبی مقامات میں بڑی تعداد میں صوفی اسلام کے مراکز مزارات، درگاہ، مقابر شامل ہیں۔ 2001؁ کے فسادات میں مشہور صوفی شاعر ولی دکنی کا مزار مسمار کرکے راتوں رات سڑک بنا دی گئی تھی۔ تو کیا ان صوفی مقامات کی مرمت نہیں کرائی جائیگی؟ سیکولر سرکار مذہبی مقام کی تعمیر نہیں کر سکتی مگر اگر سرکار تعمیر شدہ مذہبی مقام کی بربادی کو نہیں روک سکی تو یہ کس کی ذمہ داری ہے؟
ایک طرف مسلم انتہا پسندی کا ہوا کھڑا کیا جارہا ہے دوسری طرف پورے ملک کے اسکولوں میں مخصوص نظریہ کے حامل لوگوں اور درسی کتابوں Text Booksکو ٹھونسا جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر انتہا پسندی کا مذہب کیا صرف اسلام اور مسلمانوں سے ہی تعلق ہے؟ پورے یوروپ، میانمار، امریکہ، نیپال ہر جگہ عیسائی، بودھ اور ہندو انتہا پسند زور نہیں پکڑ رہے ہیں؟ اور وہ لوگ اپنے مخالفین پر ہر طرح کے مظالم بھی کر رہے ہیں تو اس کا ذکر اور ان سے مقابلہ کی بات کیوں نہیں ہوتی؟ بھارت میں آپکی حکومت کے قیام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں آپکی وزارت داخلہ کے مطابق غیر معمولی بڑھوتری ہوئی ہے یہ کیوں ہوا ہے؟ اس کی وجہ صرف انتہا پسند مسلمان ہیں؟ ایک ملک کے وزیر اعظم کے ذریعہ مسلمانوں کے اندرونی معاملات کو ہوا دیکر کسی فریق کی حمایت کرنے کا کھیل ملک کے امن و امان کے لئے اچھا ماحول نہیں بنائیگا۔ وزیر اعظم کو شاید یاد نہ رہا ہو بھارت کی آزادی کی لڑائی میں سب سے زیادہ رول انہیں مبیّنہ انتہا پسند مسلمانوں کی قربانیوں کا رہا ہے۔ جنہیں آج سیاسی حساب کے لئے ، نکّو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے معاملات وہ خود سمجھ لیں گے۔ کیا اگر مسلمان بھی اتنی دلچسپی منڈل کی تفریقی سیاست میں لینے لگیں تو وزیر اعظم کو ہضم ہوگا؟ ڈاکٹر ایم اجمل ، 15، گاندھی روڈ

جارح تہذیبی یلغاراور اُمّتِ مسلمہ

گائے بیل کے ذبیحہ پر پابندی:۔
19؍ سال قبل مہاراشٹر میں بنائے گئے قانون کو صدارتی دستخط کے بعد لاگو کر دیا گیاہے۔ جس میں گائے کے ساتھ اس کے خاندان کی کٹائی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی انہیں ذبح کرے گا‘ گوشت کا کاروبار کرے گا‘پکائے گا‘ کسی کے قبضے سے حاـصل کیا جائے گا اُسے سزاؤں کو بھُگتنا پڑے گا۔ اس قانون کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیاہے۔ حکومت نے جو argument عدالت کے سامنے رکھا ہے اس کا جائزہ ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ جانوروں کا قتل بڑی بے رحمی سے ہوتا ہے اس لئے پابندی لگائی گئی ہے۔ پوچھا یہ جانا چاہئے کہ کیا صرف گائے و بیل کو بے رحمی سے قتل کیاجاتاہے۔ بھینسیں‘ بکری ‘ مرغی اور بعض لوگ مچھلی کو کاٹتے ہیں۔ دوسروے جانوروں کے بارے میں رحم دلی کیوں نہیں دکھلائی جارہی ہے؟ صرف گائے و بیل سے ہی ہمدردی کیوں ہے؟ دوسری بات یہ کہی گئی کہ زراعت اور دودھ کے پیداوار( اتپادن) کو بڑھا نا مقصود ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ڈنمارک اور آسٹریلیا ‘ بھارت سے بھی چھوٹے ممالک ہیں لیکن دودھ اور گوشت دونوں ممالک بھارت سے زیادہ برآمد (export)کرتے ہیں۔دودھ کی وجہ سے گوشت کی برآمد نہیں ہوسکتی، ایسا کیوںہے ؟اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ زراعت کے لئے آج مشنری اتنی advance ہوگئی ہے۔ ناگر چلانے‘ کھیت کو تیار کرنے‘ بونے‘ کٹائی اور دانے نکالنے تک کی مشینیں کام آرہی ہیں۔ جانوروں کا استعمال صفر ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم کیا کھائیں اور کیا پئیں، یہ بھی اب سرکار ہمیں حکم دے گی۔ جو بنیادی انسانی حقوق کے علیٰ الرغم (خلاف)ہے۔دستوری دفعات 16سے 31میں‘ کئی دفعات ہیں جس میں آزادیٔ مذہب ‘ مساوات تعلیم‘ تنظیم‘ تبلیغ ‘ مدارس وغیرہ کو اپنی مرضی سے بنانے چلانے اور سرگرمیاں انجام دینے کی آزادی دی گئیں ہیں۔اس کے علیٰ الرغم یہ قانون مندرجہ بالا دفعات کی خلاف ورزی کرتاہے۔ مذہبی طور پر ہندو سماج گوشت کا استعمال کرتا تھا ویدک دور اس کی شہادت (گواہی) دیتاہے۔
گئورکھشا ابھیان مذہبی ہے‘ کاروباری ہے یا بابری مسجد کی طرح شردھا کا خیال رکھنا ہے۔ اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج جن لوگوں نے گوشت خوری کو بالکل حرام کررکھا ہے وہ خود اپنے سنہری دور میں گائے اور بچھڑوں کے گوشت کے مزے لیتے رہے ہیں۔ آریا ورش کی بات کریں تو وہ تھے ہی گئوپالک۔ غذا کے لئے اُسے ہی استعمال کرتے تھے۔ شادی بیاہ رسم و رواج میں عام قاعدہ تھا کہ گایوں اور بچھڑوں کوکاٹ کر دعوتیں کی جاتی تھیں۔ مہمان نوازی کے لئے بہترین گوشت کے سوا اور کیا تھاان کے پاس۔ ویدوں کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ سے 1500 – 2000 سال قدیم ہے۔ راجہ دشرتھ کے بارے میں آتا ہے کہ و ہ شکار کرتے تھے ایک دن انکے تیر سے شراون کمار کی جان تلف ہوگئی۔ہرنوں کا شکار کر اُسے کھایا جاتاتھا۔ یہ تاریخ تو تحتانیہ کی سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔
بنواس میںرام و لکشمن خود شکار کر جانوروں کا گوشت کھاتے تھے اور سیتا کوبھی کھلاتے تھے۔ منوسمرتی میں اس لئے کہاگیا ہے۔’’ہر مہینہ جو شرادھ کیا جاتا ہے وہ ایشور وادی کہلاتا ہے۔ اس کو اچھے ماس (گوشت) سے کرنا چاہئے‘‘۔ (منوسمرتی : 3/123)
سوامی وویکانند نے کہا تھا’’آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پراچین کرم کانڈ کے مطابق وہ اچھا ہندو نہیںجو گئوماس نہیں کھاتا اُسے کچھ خاص اوسروں پر بیل کی بلی دیکر ماس اوّشئے کھانا چاہئے‘‘۔ (The Complete work of Swami Vivekanand Vol:3, Page 536)
اس سے بھی آگے سوامی جی فرماتے ہیں کہ ’’بھارت میں ایک سمئے ایسا بھی رہا ہے کہ جب بناگئو ماس کھائے کو ئی برہمن‘ برہمن نہیں رہ سکتا تھا‘‘۔ (Page 174)
ڈاکٹر وی ۔ ایم آپٹے کا خیال ہے جوانہوں نے اپنی کتاب میں صاف طور پر تحریر کیا ہے۔ ’’ رگ وید کے ایک شلوک (10/85) سے جسے وِواہ شلوک کہتے ہیں‘ شادی کے اہم رسم و رواج کا پتہ چلتاہے‘ دُلھا اور بارات دُلھن کے گھر جاتے تھے (10/17/1) وہاں دُلھن بارات کے ساتھ مل کرکھانا کھاتی تھی۔ مہمانوں کو اس اوسر پر ماری گئی گائیوں کا ماس پروسا جاتا تھا‘‘(10/85/13) ۔
ویدک انڈکس کی جلد نمبر ۲؎ صفحہ 145سے معلوم ہوتا ہے کہ ووھا سنسکار کے سمئے بھوجن کے لئے گائیں ماری جاتی تھیں‘‘۔
بنارس ہندو یونیوورسٹی میں موجود ویدک کوش (page:374) میں رگ وید کے دشم منڈل کے 85 ویں سوکت کے 13 ویں منتر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کی رسم و رواج میںمہمانوں کی تواضع کے لئے گوشت کا اہتمام ویدک زمانے کا خاصہ رہا ہے۔ مہمانوں سے قبل کھانے پینے کو اخلاقی اعتبار سے اچھا نہیںسمجھا جاتاتھا۔ منوسمرتی میں ہے کہ ’’یہ جو گائے کا دودھ اور گوشت ہے یہ زیادہ لذید ہوتا ہے اُسے مہمانوں سے پہلے نہ کھائے‘‘(39/6/9)۔ خوشی کے مواقع ہی نہیں بلکہ غم کے لمحات میں بھی گوشت کی ضرورت ویدک زمانے کا خاص وصف ہے۔ آخری رسومات میں شودھی کے لئے بھی گوودھ کیا جاتا تھا اس لئے کہاگیا ’’اگنیرورم پری گو بھی وریسّو سے پرنوشوّ پسوا مید ساچے‘‘ (رگ وید 10/16/7)۔ انتم سنسکار کے پرسنگ میں گوودھ اوّشک جان پڑتا ہے۔ یہاں اس کے ماس سے شوؤ (لاش)کو ڈھکنے کا وُللیک آتا ہے۔
شری مکندی لعل نے اپنی کتاب “Cow Slauter- Honour of dilema” میں یہ بات کہی ہے ’’پراچین بھارت میں سماروھوں میں گائیوں کو مارنا شوبھ مانا جاتاتھا۔ دلھا دلھن دیوی کے سامنے لال بیل کی کچّی کھال پر بیٹھتے تھے۔ وے کھال اس اؤسر پرمارے گئے بیل کی ہی ہوتی تھی۔ جسے اس اؤسر پر کھانے کے لئے مارا جاتاتھا۔ ایسے ہی راجیہ ابھیشیک کے سمئے بھاوی راجہ کو لال بیل کی کھال پر بٹھایا جاتا تھا۔اناج کے حصول کے لئے یگیہ کئے جاتے تھے ان میں اِندر کے لئے بیل پکائے جاتے تھے۔ یہ رگ وید سے معلوم ہوتاہے۔
’’اندھری ناتھے منی دَن اِندر تو یانتا سُنوتی سو مانوپی وستوّ
میشام پنچ نیتے تے ونشّبھا اتس تیثہ پُر کھشن ینمدھون ہوتی مان (رگ وید: 10/28/3)
ہے اِندر اَنّ کامنا سے جس سمئے تمہارے لئے ھوّن کیا جاتا ہے اس سمئے یجمان جلدی جلدی پتھر کے ٹکڑوں پر سومرس تیار کرتے ہیں اُسے تم پیتے ہو‘ یجمان بیل پکاتے ہیں‘ تم انہیں کھاتے ہو‘‘۔
ویدک لٹریچر میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے’’گودھن‘‘ جس کے معنی پراچین کال میں ’’گائے کو مارنے والا‘‘ لیا جاتاتھا لیکن پانچویں صدی عیسوی سے گودھن کے معنی گائیوں کو پالنے والا‘‘ لیا جاتاہے۔ اس تبدیلی کی بھی ایک وجہ ہے۔ مہابھارت کے کال میںراجہ رنتی دیو کی رسوئی کے لئے روزانہ دوہزار پشو کاٹے جاتے تھے‘ پرتی دِن دو ہزار گائیں کاٹی جاتی تھیں۔ اَنَ کے ساتھ ماس کا دان کرنے سے راجہ کی مقبولیت بہت تھی۔ (مہابھارت۔578)
شانتی پرو 29کی 179 اشلوک کے مطابق رنتی دیو کے گھر مہمان آئے اس نے 20100 گائیں کاٹی اور ان کی ضیافت کی۔ مہابھارت ہی کے ادھائے 29 اشلوک 123 سے معلوم ہوتاہے کہ کاٹی گئیں گائیوں کی کھالوں سے رس کر خون بہہ نکلا اور ایک مہاندی کا روپ دھار لیا۔ وے ندی چرمن وتی(charmanwati) کہلائی جسے آج لوگ چمبل کہتے ہیں۔
رگ وید میں راجہ دیوداس کا نام مشہور ہے جس کے لئے اتی تھی گو(Atithigav) ’اتی تھی کے لئے گو مارنے والا‘ مہمانوں کے لئے گائیوں کو کاٹنے والا کہا جاتاتھا۔ یجروید میں گائے کی چربی سے اجداد کو آسودگی ملنے کا بیان ہے (یجروید ادھیائے 35: منتر 20)۔ شتپاتھ برہمان 3/4/1/2 اتی تھی (مہمان) کے لئے مھوکش (بڑا بیل)مارنا چاہئے کہاگیاہے گائے یا بیل میں کِسے کھانا چاہئے ’’دونوں میں سے جونرم ہو اُسے کھانا چاہئے‘‘(شتپاتھ برہمان)
سوامی وویکانند سے کسی نے پوچھا کہ بھارت ورش کا سب سے سورن کال کونسا تھا انہوں نے جواب میں کہا ’’ویدک یوگ سورن یوگ تھا جب پانچ برہمن ایک گائے چٹ کرجاتے تھے‘‘۔ (Vivekanand A – Biography) ۔
اپنشدوں میں خاص کر (برہدا کونپشید 6/4/18 کہا گیا ہے۔ ’’جو یہ چاہے کہ میرا بیٹا (پتر) سبھاؤں میں واگمی (فصیح اللسان) اور سب ویدوں میں پارنگت ہوتھتا شتایوں ہو اُسے چاہئے کہ وہ اور اس کی پتنی بیل و سانڈ کا ماس پکا کر گھی اور بھات ملا کر کھائے‘‘۔اس اشلوک میں ایک لفظ وکشا ہے جس کی ترجمانی ادی شنکر آچاریہ کو چی ’’ویر سیچن میں سمرت بیل‘‘ کا ماس لیا ہے۔ جب کوئی برہمن گھر آئے اس کا میدوپرک سے سمّان کرنا چاہئے ۔ میدوپرک داتا گائے اس کے سمکش کرے یدی وہ آگیّا دے تو Gao Rassiya Pahatpa اتیادی منتر پڑھکر اُسے مار کر آگنیتک کو دے۔
’’اتر رام چترم ‘‘ میں لکھا ہے کہ بھوبھوتی جب والمیکی کے آشرم میں پہنچے تو ان کا ستیکار دو برس کی بچھیا کاماس کھلا کر کیا گیا۔ اسی دوران کسی طالب علم نے کہا کہ اس نے توپوری بچھیا چٹ کر ڈالی۔ اسی پر کہا گیا کہ ’’میدوپرک ماس یوکت ہونا چاہئے‘‘ اس لئے اتی تھی(مہمان) کے لئے گائے‘ بیل‘ بکرا کا پراودھان رکھا گیا۔
مندرجہ بالا سطور سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ جانوروں کو مار کر کھانے کا عام رواج تھا بالخصوص گائے اور بیلوں سے ضیافتیں ہوا کرتی تھیں۔ گائے سے ہمدردی و اُسے بچانے کے لئے رگ وید کا سہارا لیا جاتاہے جس میں یہ کہاگیا ’’یہ گائے دونوں اشونی کماروں کے لئے دودھ دیتی ہے۔ یہ ہماراسوبھاگیہ بڑھائے یہ مارنے کے لئے نہیں ہے‘‘ (رگ وید 27/146/1) یہاں خاص گائے کو نہ مارنے کا ذکر ہے نہ کہ ہر گائے کے ذبیحہ سے روکا گیاہے۔
اس کو بنیاد بناکر پانچویں صدی عیسویٰ میں گئودھن غلط قرار دیاگیا اور اگر ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی بات کو مانے تو انہوں نے کہا ہے ’’یہ برہمنوں کی جنگی چال کا حصّہ ہے کہ وہ گوشت خور بننے کے بجائے گائے کے پجاری بن گئے۔ بدھشٹ اور برہمنوں کے بیچ 400؍سالہ لڑائی میں یہ راز پنہاں ہے۔ بدھشٹ رحم کے جذبے کولے کر اپنی تعلیمات آگے بڑھارہے تھے‘ ان سے آگے بازی لے جاکر یہ لڑائی برہمنوں نے جیت لی‘‘ (Dr. Ambedkar – The untachable)
دنیا کی 80% آبادی گوشت خور ہے جانوروں ‘ سمندری مچھلیوں سے اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔ بھارت میں بھی بڑی آبادی گوشت خور ہے بلکہ گوونش کو کھانے والی ہے۔مسلمانوں کے علاوہ عیسائی ‘ بدھشٹ‘ نیپالی‘ گورکھے‘ بنواسی‘ گونڈ‘ بھیل‘ پارسی ‘ چمار‘ بھنگی‘ ہریجن اور ساؤتھ انڈین ہندو۔ اس کے علاوہ بڑے کے گوشت پر ہی سرکس کے جانوروںاور zoo کے جانوروں کا دارومدار منحصر ہے۔
صرف بمبئی کی 3 تا 5 ستارہ ہوٹلوں میں 90ہزار کلو گوشت (بیف) کی کھپت ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرے نمبر والا ملک ہے جہاں سے گوشت باہر بھیجا جاتا ہے۔ گوشت کی برآمد کرنے والی کمپنیوں کو حکومت نے 12 طریقوں سے سبسیڈی دے رکھی ہے۔ بھارت سالانہ 22.5 ؍لاکھ ٹن گوشت باہری ممالک برآمد کرتاہے۔ جس سے اربوں ڈالر کا کاروبار کیا جاتاہے۔
ذبیحہ کئے گئے جانوروں کی چربی بین الاقوامی مارکیٹ میںبڑی لاگت کا خام مال ہے۔ خون کو دواؤں میں استعمال کئے جانے کی بات معلوم ہوئی ہے۔ اس کی ہڈیوں سے شکر‘ جلیٹین (کپسول) اور دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ سینگ و کھور سے کپڑوں کے بٹن بنانے کی گھریلو انڈسٹریز چل رہی ہیں۔ چمڑا سب سے اہم عنصر ہے۔ صرف مہاراشٹر سے 20؍ لاکھ چمڑے سالانہ تمل ناڈو جاتے ہیں اور تمل ناڈو میں وہ 40% ہی ہوتے ہیں۔ چمڑے کا بیوپار 12؍ ارب ڈالر سالانہ کا بتلایا جاتاہے جو تقریباً 754 ؍ارب روپئے بنتاہے۔
مہاراشٹر میں 338 ذبیحہ خانے ہیں ان سے متعلق مزدور و اسٹاف سب کی بے روزگاری کا مسئلہ ‘ زندہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کا سالانہ خرچ 13000 ؍کروڑ تک جا پہنچتا ہے۔ بنگال کے ایک سروے کے مطابق سالانہ 25 ؍لاکھ گائیں بنگلہ دیش سرحد سے بھگادی جاتی ہیں۔ VHP کے بقول ملک میں روزانہ 50؍ ہزار گائیں کاٹی جاتی ہیں۔ اگر انہیں روک لیا گیا تو ان کاپالن و پوسن اربوں کھربوں روپیوں کی لاگت کا ہوگا۔ جس ملک میں چارے کا قحط ہو‘ پانی انسانوں کو ہفتے میں ایک مرتبہ مل رہا ہو۔ بھلاوہاں کیا جانوروں کی زندگیاں ‘ انسانوں سے بھی بڑھ جائیگی؟ایک اور مسئلہ جسے ہمیں سمجھنا چاہئے وہ یہ کہ گوشت ‘چمڑے‘ ہڈی کا مسئلہ چھوڑئیے۔ اللہ نے جس چیز کو حلال ٹھہرایا ہو اُسے ہم کیسے حرام تسلیم کرلیں؟ پیغمبروں کو بھی حلت و حرمت کا حق نہیں دیا گیا۔ یہ حق ہم کیسے حکومت کو دے دیں!
سورۃ التحریم میں اللہ نے نبی کریم ﷺکے واقعہ کو قیامت تک کے لئے ریکارڈ پر لے آیا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ حلال و حرام کا حق صرف اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے نبی کریمﷺ کو بھی یہ حق نہیں دیا گیاہے۔
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ـ (سورۃ التحریم: 1)
(اے نبیﷺ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے۔ تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا ‘ رحم فرمانے والا ہے۔)
اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ایک بیوی کی دلجوئی کے لئے شہد کو اپنے لئے حرام کرلیاتھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ساری دنیا اُس کی تلاوت کرتی ہے اور حلّت و حرمت کے بنیادی مسئلے کو اللہ کا حق سمجھتی ہے اور تسلیم کرتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیںکہ ’’اللہ دیتاہے اور میں بانٹتا ہوں‘‘۔ (الحدیث)
اس کے علیٰ الرغم قرآن میں اللہ تعالیٰ کاحکم ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ـ (سورۃ المائدہ : ۱(
(اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے۔ )
اس آیت میںلفظ انعام (مویشی)عربی زبان میں اونٹ ‘ گائے‘ بھیڑ‘ بکری اور ان کے نروں و اولاد کے لئے استعمال کیا گیاہے۔
قابلِ غور بات :۔
محمد رسول ﷺ کو باطل کے ارادوں سے آگاہ کیا جاتارہا اسی لئے آپﷺ کا روّیہ عقائد کے معاملات میں انتہائی بے لچک رہاہے۔
وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ (سورۃ القلم: ۹)
( وہ چاہتے ہیںتم ذرا مداہنت اختیار کرو تو وہ بھی مداہنت برتیں گے۔)
مشرکین کا رویہ رہا ہے جب کہ اہلِ کتاب کی پالیسی کو قرآن مزید واضح کر قیامت تک ریکارڈ پر لے آیا ہے۔
وَلَن تَرْضَی عَنکَ الْیَہُودُ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ـ (سورۃ البقرہ : 120)
(یہ یہود و نصاریٰ ہر گز راضی نہ ہوں گے حتیٰ کہ آپ ان کی ملّت کی پیروی کرنے لگو۔)
زیادہ سے زیادہ محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اجازت ملی تھی اس کا ذکر بھی سورۃ الکافرون میں کردیا گیاہے۔
قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ(1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ (4) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (6)ـ (سورۃ الکافرون)
(کہہ دوکہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیںکرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتاہوں اورنہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ، تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرادین ۔)
عقائد کی گمرہی سے تمدّن کج رو ہوجاتے ہیں ۔ تہذ یب کھوکھلی اورکلچر curruptہوجاتے ہیں۔الحمداللہ! مسلمانوں کی تہذیب و تمدّن جس حد تک بھی بچی ہوئی ہے وہ اللہ کے فضل کے بعد ا ن کی اعتقادی قوت ہے جو اس کا دفاع کر رہی ہیں۔ وندے ماترم‘ سرسوتی وندنا‘ سوریہ نمسکار ‘ یوگا جیسے ڈراموں سے ان کا اندرون بھی متاثر ہوگا۔ بیرون کو بگڑتے دیر کتنی لگتی ہے۔ جب کہ یہ ڈرامے سیاسی و حکومتی سطح سے وارد ہو رہے ہوں تو اس سے بچنا انتہائی ضروری ہو جاتاہے۔ اپنی کوششوں میں اُمّت میں بیداری کے ذریعے اللہ کے فضل کے راستے اس کی جناب میں دُعا شاید کچھ ہمیں اندھیروں کو دور کرکے روشنی کی کرنوں سے ہم آغوش کر سکے۔
کوشش ہمارا کام ہے، نتائج مرتب کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ سو ہمیں اپنا کام خلوص ِ نیت ‘ جہدِ مسلسل ‘ مایوس ہوئے بغیر کرتے چلے جاناہے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو! (آمین)

بلا تبصرہ

مشرق وسطیٰ میں جاری خونی جنگ سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے
نئی دہلی (ایجنسی)دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس اور امریکہ کی جنگ سے ایک طرف مشرق وسطیٰ کے ممالک تباہ ہو رہے ہیں تو دوسری طرف امریکی کمپنیوں کے لئے یہ خونی جنگ سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے۔ ہندوستان آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال سے عراق اور شام میں جاری امریکی بمباری کے درمیان ان کمپنیوں نے اربوں روپے کے ہتھیاروں کی سپلائی کی ہے۔ نیویارک میں واقع ایس او ایس انٹرنیشنل نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی اس سال عراق میں 400ملین ڈالر یعنی 25.2ارب روپے کا کنٹریکٹ حاصل کر چکی ہے۔ (روزنامہ خبریں5/08/15)
تلک برطانوی ایجنٹ اور ہندوتو کے پرچارک تھے
دقیانوسی مضامین لکھتے تھے اور بانٹو اور راج کرو کی انگریزی مہم کو فروغ دیتے تھے : کاٹجو
نئی دہلی (ایجنسیاں) اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے اکثر موضوع بحث بننے والے سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے مجاہد آزادی بال گنگا دھر تلک کو برطانوی ایجنٹ قرار دے کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ تلک کی برسی کے موقع پر بلاگ میں کاٹجو نے لکھا کہ تلک کو عظیم لڑاکا سمجھا جاتا ہے ، لیکن میری رائے مختلف ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ اس کے لئے لوگ مجھے گالیاں بھی دیں گے، لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ میرا خیال ہے کہ بال گنگادھر تلک دقیانوسی نظریہ والے ،ہندو انتہا پسندوں کے پرچارک اور ایک برطانوی ایجنٹ تھے۔ ان کے نظریات، بیانات اور کام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ (روزنامہ خبریں 02/08/15)
سنی علماء کونسل سے مسلم پرسنل لاء بورڈ متفق نہیں
لکھنؤ، 3ستمبر (صحافت بیورو) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور متعدد مسلم تنظیموں نے ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہے جانے کو ’’ایک بار کہا‘‘ ماننے سے متعلق گزارش تقریباً مسترد کردیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج کہا کہ قرآن اور حدیث کے مطابق ایک بار میں تین طلاق کہنا حالانکہ جرم ہے لیکن اس سے طلاق ہر حال میں مکمل سمجھی جائے گی۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اس نظام میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا عبد الرحیم قریشی نے کہا کہ انہیں اخبار کی خبروں سے پتہ لگا ہے کہ آل انڈیا سنی علماء کونسل نے بورڈ کے ساتھ ساتھ دیوبندی اور بریلوی مسلک کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اسلامی قانون میں گنجائش ہو تو کسی شخص کی طرف سے ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہے جانے کے لئے ایک بار کہا ہوا مانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ غصے میں ایک ہی دفعہ تین بار طلاق کہنے کے بعد پچھتاتے ہیں۔ قریشی نے کہا کہ خبروں کے مطابق کونسل نے پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ایسا نظام لاگو ہونے کی بات بھی کہی ہے۔ حالانکہ بورڈ کو بھی ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے لیکن وہ کونسل کی تجویز سے متفق نہیں ہے۔ بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ کسی مسلم ملک میں کیا ہوتا ہے، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، سوڈان اور دیگر ملکوں میں کیا ہو رہا ہے، وہ ہم نہیں دیکھتے۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف، حدیث اور سنت کیا کہتی ہے؟ اسلام میں ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہنا اچھا نہیں مانا گیا ہے لیکن اس سے طلاق مکمل سمجھی جائے گی۔ اس نظام میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قریشی نے کہا کہ بورڈ نے گزشتہ ہفتے ملک کے تمام علماء کے نام ایک سوالنامہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک وقت میں 3طلاق کہنے والوں کو کیا جرمانے کی کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کا بہت پرانا فتویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہنا جرم ہے مگر اس سے طلاق مکمل ہو جاتی ہے۔ پہلے ایسا کرنے والے شوہر کو کوڑے لگائے جاتے تھے لیکن اب تو ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں علماء سے سوال کیا گیاہے۔ (صحافت 9/8/15)
عام اور خاص کے لئے الگ الگ انصاف(نیلم کرشنا مورتی)
٭ دہلی کے اٹھارہ سال پرانے اُپہار آتشزنی سانحہ کے ملزمین ستیما مالکان سنیل اور گوپال انسل کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ پر متاثرین کی تنظیم اور حادثہ میں مارے گئے بھائی بہن کی والدہ نیلم کرشنا مورتی نے غصہ میں کہا ’’18سال پہلے میں نے بھگوان پر بھروسہ ختم کر دیا تھا، اب میرا عدلیہ پر سے بھی بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ میں بہت افسردہ اور مایوس ہوں دولت اور طاقت اداروں کے لئے اتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ 59انسانی جانوں کا ضیاع صرف اعداد و شمار بن جاتے ہیں۔ (انڈین ایکسپریس 20/8/15)
٭ ہم اس فیصلہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگر دہلی سرکار کے نزدیک انسانی جان کی کچھ بھی حرمت باقی ہے تو اسے وہ 60کروڑ روپیہ واپس کردینے چاہئے جو انسل برادر انہیں بطور جرمانہ ادا کریں گے۔ انہیں یہ رقم عدلیہ کو واپس کردینی چاہئے وہ جیسا مرضی سمجھے اسے خرچ کرے۔ نیلم کرشنا مورتی (ٹائمس آف انڈیا 21/8/15)
٭ امیر لوگ پیسہ دیکر سزا سے بچ جاتے ہیں مگر عام شہری کے لئے دوسرا قانون ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ میں نے اس فیصلہ سے یہی سمجھا ہے کہ عام اور خاص کے عدالتی قوانین الگ الگ ہیں۔ اگر یہاں معاملہ سیاستدانوں اور ججوں کے بچوں کا ہوتا تو ایک سال میں انصاف ہو گیا ہوتا۔ عدلیہ اس متاثرہ خاتون کے جذبات نہیں سمجھ سکتی جو 18سال عدلیہ کے سامنے انصاف کے لئے لڑتی رہی اور اسے اتنی بڑی ناامیدی ہاتھ لگی۔ عام آدمی کی کوئی فکر نہیں کرتا امیر آدمی اور طاقتور لوگ چھوٹ جاتے ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا 20/8/15)
عدلیہ کا ایک فیصلہ یہ بھی اور اس پر رد عمل
راجستھان ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں جین مذہب کی رسم نتھارا کو غیر قانونی اور خودکشی کی طرح کے جرم پر اکسانے والی مذہبی رسم ہے اور یہ جرم ہے۔ (اس رسم کے تحت جین مذہب کا پیروکار اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے ختم کرنے کے قدم اٹھاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیتے ہیں) فیصلہ میں کورٹ نے کہا کہ جینے کے حق کا مطلب مرنے کا حق نہیں ہے۔ اور یہ جین مذہب کا لازمی حصہ بھی نہیں ہے، جبکہ IPCکی دھارا 309کے تحت خودکشی جرم ہے مگر سپریم کورٹ نے خودکشی اور عزت کے ساتھ موت کو گلے لگانے میں فرق کیا ہے۔ (گیاں کور v/sپنچایت سرکار) حالیہ دنوں میں مذہبی آزادی کے حق کی تفسیر میں عدالتوں نے مسئلہ پیدا کرنے والا انداز اختیار کیا ہے کہ مذہب میں کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں لاعلاج بیماری میں مبتلا مریضوں کو موت کو گلے لگانے کی آزادی اور ستی کی رسم کا بھی حوالہ دیا ہے۔ مگر عدالت کا انداز سامراجی مصلح والوں کا تھا نہ کہ مذہبی روایتی اقدار کی دنیا سے ناواقفیت کو دکھانا تھا۔ اس مذہبی رسم کے تحت آدمی اپنی زندگی کو غیر فطری انداز میں ختم نہیں کرتا بلکہ اپنے جسم اور دنیاوی سامان کو اپنے خاندان اور سماج کی مدد سے چھوڑ دیتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کے ٹھیک الٹا ہندو، جین اور بودھ مذاہب انسانی جسم پر خدائی حق کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ جسم سے چھٹکارا پانے کو اختیاری سمجھتے ہیں۔ اس عمل میں کیونکہ زورزبردستی کو دخل نہیں ہے اس لئے یہ غیر قانونی نہیں ہونا چاہئے۔ کورٹ نے اس معاملہ میں رائے دیکر نازک حساس معاملہ میں مداخلت کی ہے۔ سپریم کورٹ کو اس میں زیادہ ہمدردانہ رویہ دکھانا چاہئے۔ (اداریہ ٹائمس آف انڈیا ،نئی دہلی 26/08/15)
٭ راجستھان ہائی کورٹ کا فیصلہ جلد یا دیر سپریم کورٹ کے ذریعہ بدل دیا جائیگا۔ یہ فیصلہ جو 46صفحات پر مشتمل ہے اس کے 40صفحات میں مخالفین کے دلائل کو مختصراً سمیٹ دیا گیا ہے جس میں جلد بازی سے کام لیا گیا ہے ۔ اس کا اختتام تعبیر جواز اور منطق سے کیا گیا ہے اور اسے بہت ہی لاپرواہی یا بے پرواہی سے عامیانہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں شدید قانونی سقم اور حقائق سے ناواقفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ سنتھارا موت کو بہترین طور پر خوش آمدید کہنے کا فن ہے۔ یہ ستی اور خود کشی سے الگ رسم ہے۔ بہت ہی سیدھے سادھے ،عامیانہ، سطحی اور لاپرواہی اور ضروری سنجیدگی سے خالی فیصلہ میں کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ نہیں ملتا‘‘ ۔ (ٹائمس آف انڈیا 28/8/15)ابھی شیک منو سنگھوی کانگریس MPسابق ایڈیشنل سالسٹر جنرل آف انڈیا
٭نتھارا پر کورٹ کا فیصلہ کورٹ کے ذریعہ موت اور زندگی کے نظریہ کو نوآبادیاتی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش ہے۔ مذہب اور نیشن اسٹیٹ دو طاقتیں ہیں جو موت کے متعلق رویہ کا رخ اور معنیٰ دیتے ہیں۔ اسٹیٹ اور مذہب بتاتے ہیں کہ کیسے مرنا ہے۔ ریاست اپنی فرمانروائی اور خود مختاری کا اظہار کرتے ہوئے وطن کے لئے مرنے کو سرخ روئی کا درجہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طریقہ کی موت کو جائز نہیں قرار دیتا۔ ریاست ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کیا مذہبی ہے اور کیا غیر مذہبی ۔ مذہب میں ہی کیا ضروری (essentialلازمی) ہے کیا غیر لازمی۔ مگر بارہا ریاست کا نظریہ موت بھی ایک طرح کی مذہبیت تقدس لئے ہوتا ہے۔ یقینی طور پر IPCتعزیرات ہند کی جڑیں عیسائیت کے نظریہ موت اور حیات سے ادھار لی گئی ہیں اسی لئے IPCاس کے علاوہ کوئی اور طریقہ یا نظریہ سوچ ہی نہیں سکتا جو موت اور زندگی کو مختلف طریقہ سے دیکھتا ہے۔ جس طرح انگریزی کی تنگدامنی کی وجہ سے ’’محبت‘‘ کے لئے ایک ہی لفظ ’’Love‘‘ استعمال ہوتا ہے جبکہ سنسکرت میں اسی کے لئے 9الفاظ ہیں۔ اسی طرح ’’موت‘‘ کا بھی معاملہ ہے۔ کس طرح ایک IPCاور عیسائی تعلیمات سے ان نظریات کو سمجھا جا سکتا ہے جو خودکشی کو زور دیکر برا قرار دیتی ہے مگر وہ اس نظریہ کے لئے گنجائش پیدا کرتی ہے کہ جہاں ’’اہنسا‘‘ اس سے مطالبہ کرتی ہے کہ نہ وہ زندگی کو مزید طول دے اور نہ موت کو گلے لگائے۔ جین روایات میں ’خودکشی‘ اور سلکھاتایا سنتھارا میں ’نیت‘ کا فرق ہے۔ جین مذہب ’نیت‘ کی کیفیت پر زور دیتا ہے جبکہ IPCصرف نیت کی شکل دیکھتا ہے۔
سنتھارا مختلف قسم کے جذبات اور اہنسا پر فتح پانے کا نام ہے مگر یہ سمجھنا ججوں کے لئے مشکل ہے جو موت کی مختلف شکلوں کو ہی نہیں جانتے۔ ریاست ان رسموں کو روکنے میں بالکل بجا ہے جہاں زور زبردستی پایا جاتا ہو چاہے وہ مذہب کا ضروری حصہ ہوں یا غیر ضروری حصہ ہوں۔ سنتھارا اس سے بالکل الگ ہے کیونکہ یہ ان دو برائیوں پر مشتمل نہیں ہے جو اکثر مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ (۱) عورتوں کو ماتحت سمجھنا یا جبر کرنا۔ ریاست کا زندگی کا تحفظ کرنا اور انصاف کا بڑھاوا دینا الگ معاملہ ہے مگر موت اور زندگی کے مختلف معانی اور تفاسیر کو نو آبادیاتی نظر سے ڈھالنا الگ بات ہے اور اس فیصلہ میں یہی ہوا ہے۔ (پرتاپ بھانو مہتہ۔ صدر سنٹر پالیسی ریسرچ معاون ایڈیٹر انڈین ایکسپریس نئی دہلی 19/8/15)
(مندرجہ بالا اقتباسات ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ سے ماخوذ ہیں۔ ان میں استعمال کی گئی زبان، لہجہ اور عدالت کے لئے تضحیک صاف موجو ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس انداز پر حکومت، میڈیا، دیش بھکتی کے ٹھیکیدار سب کے سب چپ ہیں۔ خود عدلیہ بھی خاموش ہے۔ کیا اسی طرح کی زبان یا لہجہ مسلمان بھی طلاق، نفقہ، کم سن کی شادی وغیرہ معاملات میں عدالت کے فیصلوں پر اختیار کر سکتے ہیں؟؟؟)

امن کے نصف کی فکر کی فکر کون کریگا؟

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ مجوزہ عوامی بیداری مہم برائے اقلیتی حقوق کی تیاریوں کے دوران ایک اہم تشویشناک خبر 23/8/15کے تمام اخباروں میں جلی طور پر شائع ہوئی۔ جس میں ایک غیر معروف مبینہ مسلم خاتون تنظیم بی۔ایم۔ایم۔اے کے سروے کا تجزیہ شائع ہوا ہے۔ اخباروں کی سرخیاں ہی کچھ بتارہی ہیں کہ کھیل کیا ہے۔ مگر سروے میں بتائے گئے اہم حقائق کو سامنے رکھ کر ملت اسلامیہ ہند کو اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی 10ریاستوں کی 4710مسلم خواتین کی آراء میں پایا گیا کہ 90%مسلم خواتین 3طلاق پر روک لگانے کی حامی ہیں۔ 88%مسلم خواتین قانونی عمل کے ذریعہ طلاق کی حامی ہیں۔ 92%مسلم خواتین نے کہا کہ دوسری شادی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ۔53.3%خواتین کی شادی 18سال سے کم عمر میں ہوئی اور گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 75%خواتین چاہتی ہیں کہ لڑکی کی شادی کی عمر 18سال سے اوپر اور لڑکے کی 21سال سے اوپر ہونی چاہئے۔ 83.3%خواتین کا کہنا ہے کہ اسلامی قانون نافذ ہو تو ان کے خاندانی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو اس کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ (یہ بات صرف روزنامہ صحافت نے لکھی ہے ،ہندی ،انگریزی اخبارات اسلامی قوانین کے اطلاق کی مانگ کا ذکر نہیں کرتے) تعلیم کے میدان میں پسماندگی کا بھی ذکر ہے کہ 50%مسلم خواتین تعلیم یافتہ ہیں جبکہ ملکی اوسط 53%ہے مگر ڈگری یافتہ کی شرح میں زبردست فرق ہے جو کہ ملکی 37%کے مقابلہ میں محض 01%ہے۔ (ایجنسیاں ہندی ہندوستان ،نئی دہلی 23/8/15، روزنامہ صحافت نئی دہلی 22/8/15)
خواتین کے تعلق سے بھارتیہ مسلم معاشرہ خصوصاً شمالی ہند کے مسلمان معاشرہ کا رویہ تشویشناک بلکہ مجرمانہ حد تک لاپرواہی، تغافل اور شترمرغی ہے۔ کسی طرح زور زبردستی کرکے اپنی مرضی کے اسلام پر عمل کروا دینے کو دین پر عمل آوری سمجھ کر مطمئن ہیں۔ ایک طرف حصول تعلیم کے لئے بے روک ٹوک دوڑ لگی ہے ،مخلوط تعلیمی اداروں میں بے دھڑک بچیوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ اپنے ادارہ قائم نہیں کئے جا رہے ہیں۔ پہلے سے قائم شدہ تعلیمی ادارہ مسلم اساتذہ کی عموماً فرائض سے لاپرواہی اور ادارہ جاتی سیاست وانتظامیہ کی آپسی رسّہ کشی کی نذر ہو گئے ہیں۔ بہت کم مسلم اداروں میں واقعتا تعلیمی ماحول ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور تفریح کے دوسرے ذرائع خصوصاً ٹی وی سیریل ڈراموں اور فلمی میگزینوں ، ہندی، انگلش اور بڑی حد تک اردو اخباروں نے بھی خواتین میں بیداری کم گمراہی زیادہ پھیلانے کے ایجنڈہ پر عمل کر رکھا ہے۔ مگر سب سے زیادہ غفلت آمیز، خودکشی کے رجحان کا حامل مجرمانہ رویہ ہماری دینی قیادت کا ہے۔ مسلم خواتین کی ذہنی، فکری، اخلاقی اسلامی تربیت کا کوئی پروگرام عام طور پر مستقل بنیادوں پر ہمارے یہاں نہیں چلایا جاتا۔ جتنا کامیابی سے ہم نے خواتین کے مساجد میں داخلہ سے متعلق مختلف فیہ عدم اجازت کے فتویٰ پر عمل کرایا اتنی کامیابی سے مسلم خواتین کو بازاروں، سنیماگھروں، سیریلوں، عریانیت سے بھرپور لباس اور مخلوط تعلیم و مخلوط نوکریوں کے اثرات مہلکہ سے نہیں روک سکے۔ اہل مدارس کہتے ہیں سارے کام ہم کو تھوڑا کرنے ہیں، پرسنل لاء بورڈ کی خواتین ونگ کبھی کبھار اصلاح معاشرہ کے خواتین اجلاس منعقد کر لیتی ہیں۔ مسلم تعلیمی اداروں میں اردو کو سیکولر نصاب کے علاوہ دینیات کے نام پر شاید کچھ کرایا جاتا ہو مگر فکری تربیت جو امت کی تقریباً نصف آبادی یعنی 7کلچر (Consumerism)سے مقابلہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
اسلام وہ دین ہے جو تمام انسانیت کے ہر طبقہ کے لئے انصاف اور بھلائی کا ضامن ہے اس کی تعلیمات پر اگر امت مسلمہ کا نصف ہی مطمئن نہ ہو اور اس میں تبدیلی ، ترمیم یا تنسیخ کی مانگ کر ے تو یہ امت غیر مسلمین کو کس فکر یا نظام کی طرف دعوت دے گی؟ پھر یہ دین ’’ھدیً للناس‘‘ اور یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللعالمین کیسے ہوں گے جو اپنے ماننے والوں کو ہی اپنی تعلیمات پر مطمئن نہ کر سکے؟؟ ہم جانتے ہیں کہ امتی باعث رسوائی پیغمبرؐ ہیں کے مصداق قصور ہمارا ہی ہے ،ہم خود ہی مجرم ہیں۔ ہم نے حالات کی سختی کے عذر کے ذریعہ کاہلی، ہزیمت اور کھاؤ پیو موج کرو کو مقصد بنا لیا۔ صبر و توکل کے نام پر بے عملی، سستی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ مذکورہ سروے رپورٹ کے بعد ہندوستانی میڈیا میں مختلف قسم کے رد عمل آرہے ہیں۔ جس میں پہلے سے حکومت کے پیش نظر دیرینہ مقصد یکساں سول کوڈ کے مطالبہ کو تقویت ملی وہیں اسلامی تعلیمات کو بھی نشانہ بناکر دل کے پھپھولے پھوڑنے کا بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے۔ انڈین ایکسپریس میں ایک خط میں کہا گیا کہ حکومت کہتی تھی کہ ہم زبردستی یکساں سول کوڈ لاگو نہیں کریں گے۔ جب تک کہ خود فرقہ کے اندر سے اسکی مانگ نہ اٹھے۔ جبکہ 90-91%کی غالب ترین اکثریت سے خود مسلم خواتین ہی مانگ کر رہی ہیں تو اب یکساں سول کوڈ لاگو کرنے میں دیر کیوں کی جائے؟
پوری انسانیت کی بھلائی کی لئے جو نظام زندگی اللہ پاک نے دینِ اسلام کی صورت میںعطا کیا ہے اسی میں ترمیم اور تبدیلی ہوجائیگی تو انسانیت کی کامیابی کیسے ممکن ہے۔؟ عورت مرد کے درمیان واضح جسمانی، نفسیاتی، حیاتیاتی فرق کے باوجود یکساں ذمہ داری اور رول کے نظریہ سے کیا عورت کا یا انسانیت کا بھلا ہوا ہے؟ امریکہ ،یوروپ، مشرق کے ترقی یافتہ ممالک جہاں اسی غیر فطری نظریہ مساوات پر عمل ہوا جو معاشرہ وجود میں آیا کیا وہ بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے کامیابی یا بھلائی کا نمونہ ہے۔ جن معاشروں میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت نہیں ہے کیا اُن معاشروں میں غیر قانونی ،غیر اعلانیہ جسمانی تعلقات اور جسم فروشی کا بول بالا نہیں ہے؟ بظاہر ایک خاتون سے قانونی تعلق مگر حقیقتاً فرینڈشپ، Dating، ریڈلائٹ ایریا اور جسم فروشی کے بنیادی حق اور قانونی پیشہ مان لینے کی آڑ میں ان گنت خواتین سے ہوس کا تعلق بنانا ہی عورتوں اور انسانی معاشرہ کے استحکام کا سبب بن گیا ہے کیا؟ یہ صورت حال زیادہ باعزت ہے یا زیادہ سے زیادہ چار کے ساتھ (عدل کی شرط کے ساتھ) تعلق خواتین کے لئے زیادہ محفوظ اور باوقار ہے؟ ہمارے ملک کی حالیہ مردم شماری میں 65لاکھ خواتین غائب ہیں وہ کسی کی بیوی ہیں مگر اعلان نہیں ہو سکتا۔ یوروپ ،امریکہ اور ان کے نقلچی ممالک میں شرح طلاق کی رفتار کیا ہے؟ بھارت میں فیملی کورٹ میں التوا میں پڑے خوانگی جھگڑوں اور طلاق کی تعداد کیا ہے؟ غیر قانونی تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کی بڑھتی تعداد کا مستقبل کیا ہے؟ ان کا سرپرست ،کفیل، وارث کون ہے؟ جس ہندو میرج ایکٹ کو سول کوڈ بنانے کی بات ہے اس سے چلنے والے معاشرہ میں طلاق کی شرح کیا مسلم پرسنل لاء سے چلنے والے معاشرہ سے کم ہے؟ قانونی پابندی کے باوجود ہندو/غیر مسلم سماج میں غیر قانونی تعدد ازدواج مسلم سماج سے زیادہ نہیں ہے؟ حالیہ مردم شماری کی رپورٹ اور اس سے پہلے کی رپورٹ چلّا چلّا کر بتا رہی ہیں کہ غیر مسلم معاشرہ میں تعدد ازدواج زیادہ ہے۔ فلموں اور برھمنی میڈیا میں طلاق جتنا آسان بتایا جاتا ہے وہ حقیقت ہوتی تو ½یا 1/3مسلم خواتین مطلقہ ہوتیں اور گھروں میں بیٹھی ہوتیں۔ کیا انسان اپنے خالق سے زیادہ اپنے آپ کو جانتا ہے کہ وہ اپنے لئے اللہ سے بہتر قانون بنا سکتا ہے ؟ رہی بات قوانین اور رعایتوں کے غلط استعمال کی ۔ وہ تو ہر قانون کے ساتھ ممکن ہے۔ جہیز مخالف قوانین، چھیڑ چھاڑ مخالف قوانین کیا ان سب کا غلط استعمال ہونے کے باوجود قوانین برقرار نہیں ہیں؟ قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لئے اللہ کا ڈر اور اس کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے یہ کام پورے مسلم معاشرہ کو اس کے ہر ادارہ کو لازماً کر نا ہوگا۔