Featured

جارح تہذیبی یلغاراور اُمّتِ مسلمہ

                ابنِ خلدون سے لے کر آج کے معروف تاریخ داں ٹائن بی تک سب کا یہ ماننا ہے کہ تہذیبیں سوچ ‘فکر‘ نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ تعلیم‘ معاشی سرگرمیوں و سیاسی عمل کے سایے تلے پنپتی و سنورنتی ہیں، جب فکر و نظر‘ عقیدہ و ایمان کمزور پڑجاتا ہے تو تہذیبیں بھی کمزور پڑتی ہیں اس طرح تاریخ کا ایک ورق بن کر رہ جاتی ہیں۔دنیا میں نظری بنیادوں پر صرف تین کلچر (Culture)دکھائی دیتے ہیں۔

                (۱)  مغربی تہذیب  (۲)  مشرکانہ تہذیب                (۳)  اسلامی تہذیب

                ہر تہذیب جو اپنی جلو میں خدا ‘ کائنات‘ انسان‘ کے بارے میں مخصوص خیال و ذہنیت رکھتی ہے۔ مغربی تہذیب خدا کے وجود کی انکاری یا کم از کم بے اختیار خدا کی پجاری ہے۔ کائنات کو حادثہ مانتی ہے تو انسان کو کبھی بندر کی ترقی یافتہ نسل‘ کبھی سماجی حیوان خیال کرتی ہے تو کبھی معاشی سرگرمیوں میں لت پت وجود ‘ تو کبھی جنسی حیوان گردانتی ہے۔

                اسی طرح مشرکانہ تہذیب میں خدا ہو یا نہ ہو‘ اگر ہو تو کتنے ہو اس کی تعداد متعین نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ زمانے کے گزرتے خداؤں میں اضافہ ہوتاجاتا ہے ضرورت پوری کرنے والی ‘ نفع و نقصان پہنچانے والی ہر شئے خدا ہے۔ کائنات کے بارے میں اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ اُسے مائتھ (Myth)مانتی ہے۔ جس کا کوئی اصلی وجود نہیں ہے بلکہ سب نظر کا دھوکہ سمجھی جانے والی اشیاء ہیں۔ انسان کبھی خدا کا درجہ لے لیتاہے تو کبھی جانوروں سے بدتر اس کی حیثیت مانی جاتی ہے۔ کبھی وہ برھمان کا پالنہار وِدھاتا بن جاتاہے۔تو کبھی اتی شودر کے پیکر میں ڈھل جاتاہے۔

                اسلامی تہذیب میں خدائے واحد کا تصّور ایک زندہ تصّور ہے۔ جس نے کائنات کو بامقصد بنایا کُن کے ذریعے فیکون میںتبدیل کیا۔ ہر آن اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انسان کی اس نے تخلیق کی‘ اُسے دنیا میں بااختیار بنایا۔ وہ اُسے موت دے گا۔ موت کے بعد زندگی کا لیکھا جوکھا سب دکھایا جائے گا۔ نیکوں کے لئے جنّت اور گناہ گاروں کے لئے جہنّم بنارکھی ہے۔ آخرت کا ایک زندہ تصوّر جو حقیقت سے بھرپور ہے‘ سامنے آتاہے۔

                مغربی تہذیب اپنے سائنسی بالادستی کے نتیجے میں سیاسی طورپر غالب تہذیب ہے جس نے انسانی نظریات ‘ سرمایہ دارانہ‘ اشتراکیاتی‘ جمہوری و لادینی نظام ہائے حکومت کو جنم دیا۔ جس میں انفرادیت کا قتل ہوجاتا ہے اور اجتماعیت آمر بن کر انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرتی رہتی ہے۔ اس وقت مغربی تہذیب کا راست مقابلہ اسلامی تہذیب سے ہے۔ اسلامی تہذیب کے پاس صرف دعویٰ ہی نہیں مضبوط دلائل بھی موجود ہیں۔ دنیا میں اس کی نوخیز نسل سب سے زیادہ ہے۔ جو کسی بھی تہذیب کے لئے طویل عمر مہیّا کر سکتی ہے۔

                مشرکانہ تہذیب نظریات سے زیادہ ظاہری اختیاریت پر زور دیتی ہے۔ ظاہر سے اندرون میں تبدیلی کی خواہشمند ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اپنے مخالفین کو اپنے آپ سے مربوط کر لیتی ہے اور اسے بھی اپنے کلچر کا حصّہ بنا ڈالتی ہے۔ ماضی میں بدھشٹ مؤومنٹ ہو یا جینیوں کی اہنسا پرمودھرم تحریک ۔ سکھوں کے معاملات ہوں یا ماضی بعید میں یادوؤں کا گھر سنسار۔ سب سناتن دھرم (برہمنیت)کا حصّہ بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض لوگوں کو ہوش آیا تو وقت بیت چکا تھا۔ مول نیواسی ، او ۔بی۔ سی۔ او ربھٹکی جاتی جماتی و ادی باسی‘ اب اپنے آپ کو غیر ہندو کہلوانا پسند کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کی عمومی شناخت ہندو کی حیثیت سے ہی مانی و جانی جاتی ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ اور اپنی سوچ و تہذیب کی وجہ سے آج تک بچا ہواہے۔ ایک اور بڑی وجہ ان کا 800 سالہ سیاسی اقتدار بھی ہے جو زوال کے باوجود اپنی ایک شناخت کا مظہر رہا ہے۔

                مئی 2014ئ؁ جب سے نئی حکومت آئی ہے جو کیشو بلی رام ہیڈ گوار‘ گولوالکر اور ساورکر کے ہندوتو والے نظریات رکھتی ہے۔ عام اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی جارح تہذیبی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے ہندوتو وادیوں میں بے جا اعتماد و جرأت پیدا ہوئی ہے۔ آر۔ایس۔ ایس۔ کے اشاروں پر تھرکنے والی موجودہ مودی سرکار میں جتنے مذہبی افراد یا سادھو و سادھوی ہیں ۔ وہی ایسی زبان استعمال کررہے ہیں کہ قرآن کی سچائی کھل کر منظر عام پر آجاتی ہے۔

قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء  مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ ـ (آل عمران ـ 118)

(ان کے دل کا بغض ان کے منھ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔)

                کبھی یہ 2021ئ؁ تک مسلم وعیسائی مکت بھارت بنانا چاہتے ہیں‘ کبھی ہندوستانیوں کو “ہندو” کہنے پر اصرار ہوتا ہے تو کبھی مدرسوں میں مداخلت کی بات ہوتی ہے تو کہیں مساجد پر دن دھاڑے حملے (بلپھ گڑھ، پونہ) ہوتے ہیں۔ کہیں ان کی آبادی سے خوف دلایا جاتا ہے تو کبھی انہیں پاکستان چلے جانے کی صلاح دی جاتی ہے۔ کبھی ان کا حق رائے دہی سلب کرانا مقصود ہے تو کہیں لو جہاد کے فتنے اٹھائے جاتے ہیں۔ گائے بیل کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے، تو کبھی سوریہ نمسکار۔ یوگا لازمی قرار دیا جاتاہے تو کہیں وندے ماترم کہنا و سرسوتی وندنا کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ گیتا پاٹھ کا مسئلہ ہے تو تعلیم کا بھگوا کرن ‘ کبھی گھر واپسی کے ڈرامے گھڑے جاتے ہیں تو کبھی حج سے روکنے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ سب تمہیں سوچنے پر مجبور کر دیتاہے۔ یوگا۔ سوریہ نمسکار‘ وندے ماترم‘ سرسوتی وندنا۔ انہیں کبھی سمجھا کر‘ کبھی دبا کر‘ کبھی زور لگاکر کروانے کی کوشش اہلِ اقتدار کا خاص و صف ہے جو اختیار کیا جارہاہے۔

یوگا____ سوریہ نمسکار____

                یوگا دراصل لفظ یوگ سے بناہے جس کے معنیٰ اکٹھا ہونے یا ملنے کے ہیں آتما‘ پرماتما اور شریر کے مربوط ہونے کا نام ہے۔ یوگا کی شروعات کرشن نے کی تھی جسے پہلا یوگی کہا جاتاہے۔ یہ تقریباً 26000سال قبل اس کی شروعات ہوئی تھی۔ جِسے”ست یوگ” کہا جاتاہے بعدمیں پتانجلی نے اُسے codified کیا ہے۔ اُسے آسنوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے 12 ؍آسن بتلائے جاتے ہیں۔ جس میں شروعات سوریہ نمسکار سے ہوتی ہے۔

                سوریہ نمسکار ہی سب سے اہم آسن ہے جس کا وقت طلوعِ آفتاب‘ غروبِ آفتاب یا پھر نصف النہار کے وقت۔ ان تین اوقات کے علاوہ سوریہ نمسکار ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین اوقات کے وقت ہی یوگا کیا جاسکتاہے۔

سورج کی پوجا____

                ویدک دور میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی یہاں تک کہ رام چندر کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں سورج سوریہ ونش کا بادشاہ مانا جاتاتھا۔ اسی لئے سوریہ ونشی باضابطہ ایک نسل ہے جو چلی آرہی ہے جن کا تعلق برہمنوں سے ہے۔تاریخ میں قومِ سبا کے تعلق سے معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سورج کے وارثوں میں فرعون کا نام بھی ماضی کی تاریخ میں ملتاہے۔ جس کی پرستش کی جاتی تھی۔فرعون ‘ ملکۂ سبا ‘ رام چندر گویہ سورج کی نسل سے مانے جاتے تھے عوام ان کی پرستش کرتی تھی۔

                ریگ وید میںسورج کی تعریف کرکے‘ اُس کی پرستش کا بیان ہے۔ ” یہ چمکدار خدا‘ اے سورج‘ آسمانوں کے پرے بڑی جگہ توہے۔ کرنوں سے دنوں کو ملاتاہے اور گذرتی قوموں کا رکھوالا ہے۔ تو تمام کمزوریوں کو دور کرنے والا ہے اور بیماریوں سے شفاء دینے والا ہے۔ ہم تجھ میں دھیان گیان کرتے ہیں تاکہ ہماری عقلمندی بڑھے۔”

                پراچین کال میںکئی سورج کے مندر بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ اُڑیسہ ‘ گجرات‘ کشمیر ‘ آندھراپردیش میں بالخصوص 8سے 13 صدی عیسوی کے درمیان بنائے گئے تھے۔شری راجیو جین نے “سمپرن یوگ ودھیا” میںیہ بات لکھی ہے ہندو مذہب میں سورج کو خدا مان کر پوجا جاتاہے۔ کیونکہ سورن انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ توانائی سے بھرپور ہے۔ ” اوم ساوتر نما” اس کے معنی اے دنیا کے بنانے والے میں تجھے نمن کرتاہوں، سورج کو دنیا کا بنانے والا تسلیم کیا جاتاہے۔

                سورج کے سامنے نمن کے طریقے کو یوگا کہا جاتاہے ۔ جس سے بقول راجیو جین احساسات‘ روح‘ خیالات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور انسان کو مکتی ملتی ہے۔ بھگوت گیتا کے چھٹے باب میں یوگا کا خاص کر ذکر ہے۔ گیتا دراصل کرشن کے بیانات کا مجموعہ ہے۔ ارجن کو کرشن یوگا کی فلاسفی سمجھاتاہے۔ اُسے اختیار کرنے کی ترغیب دیتاہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی بھی یوگا کے حامی رہے۔وہ دانش مندی ‘روح کی بالیدگی اور جسم کی مکتی کے قائل ہیں۔ ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یوگا ایک طریقۂ عبادت ہے نہ کہ کوئی ورزش و کسرت کا عمل ۔ مسلمانوں کو قرآن حکم دیتاہے کہ :

’’وَ مِنْ آیٰتِہِ الَّیْلْ والنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُـ لَاتَسْجْدُوْالِلشَّمْسِ وَلَالِلْقَمَرِ وَاسْجدُوْالِلّٰہِ اَلّذِی خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیّاہ‘ تَعْبُدُوْن ـ (حٰم سجدہ: 37)

(اللہ کی نشانیوں میںسے ہیں یہ رات اوردن اور سورج اور چاند۔سورج اورچاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔)

                مخلوق کے سامنے جھکنے کے بجائے ان کے خالق کے سامنے جھکنے کا حکم دیا جارہاہے۔ طلوع و غروبِ آفتاب اور نصف النہار کے وقت سجدہ کی اجازت مسلمانوں کو نہیں ہے یعنی وہ اپنی نماز و سجدہ بھی ان اوقات میں نہیں کرسکتے تو سورج کونمن کیسے کرسکتے ہیں۔ مسلمان اِسے شرک مانتاہے۔ عمرو بن عبسہؓ کی روایت امام مسلمؒ لائے ہیں جس میں طلوع‘ غروب اور نصف النہار کے اوقات میں نماز پڑھنے سے محمد رسول ﷺ نے انہیں روکا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے صحت کے لئے اچھا ہوتاہے۔ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے تو یہ ایک قوم کے طریقۂ عبادت کی نقّالی ہوگی اور تشبّہ  بقوم میں شمار کی جائیگی۔ محمدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے‘‘۔

                صحت کے لئے 4% والی الکحل بیئر فائدہ مند ہے کیا ہم اُسے استعمال کرسکتے ہیں ؟ صحت کے ساتھ اسلام اخلاق کے اچھے ہونے پر بھی زور دیتاہے۔ صرف اچھی صحت کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں نماز و روزہ جو اچھی صحت کے لئے آسان نسخے ہیں کبھی اپنی غیر مسلم عوام کے لئے لازمی قرار نہیں دیا۔ موجودہ حکومت نے 21؍ جون جوہیڈیگوار سے متعلق خاص د ن ہے اُسے دنیا پر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔ اسکولوں‘ اسپتالوں‘ جیلوں سرکاری دفاتر میں یوگا کروایا گیا اسکول میں نہ جانے کتنے مسلم‘ عیسائی ‘پارسی‘دلت‘ سکھ بچّوں نے اُسے کیاہوگا۔ دوسروں کو چھوڑدیجئے کیا مسلم بچّے جنہیں ابھی خدا کا شعور نہیں ہے غیر خدا کی پرستش کرنے لگ جائیں گے۔ اور بڑے ہو کر شعوری راہ اختیار کرینگے۔ اگر یہ یوں ہی چلتا رہاتو آئندہ 100؍ سال کے فاصلے پر ہم اورہماری نسلیں کہاں ہوں گی پتہ نہیں۔ حضرت یعقوب ؑ جب موت سے قریب تھے تواپنے کنبے کے لوگوں کو جمع کیا ‘کہا۔

                اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ المْوتُ ـ اِذْ قَالَ لِبَنِْیہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ـقَالُوْانَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ آبَآیِکَ اِبْرٰھِمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰہاً وَّاحِداً وَنَحنُ لَہُ مُسْلِموْنْ ـ (البقرۃ: 133)

                (جب یعقوب ؑ دنیا سے جارہے تھے انہوں نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا : بچّو میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے۔ ان سب نے جواب دیا۔ ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جیسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ ‘ اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا تھا اور ہم اسی کے مسلم ہیں‘‘۔)

                یہاں ایک باپ کو مستقبل میں اپنے بچّوں کی فکر کیاہے؟ کھانے‘ کمانے‘ تعلیم‘ منصب‘گھر ‘ کاروبار کی نہیں۔ صرف اور صرف یہ کہ میری اولاد اس مشن پر زندہ رہے جس پر میں چل رہا ہوں۔ جب بچّوں نے کہا ہم اسی خدا کو مانے گے جس کی پرستش آپ اور آپ کے آباء و اجداد کرتے رہے‘ اس وقت انہیں سکون سے موت آئی۔ ہم اپنے بچّوں کے بارے میں کتنے فکر مند ہیں؟ حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

وَاِذْقَالَ لُقْمٰنْ لِابْنِہِ وَھْوَ یَعِظُہ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِک باللّٰہِ ـ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمُ عَظِیمُ ـ (سورۃ لقمان : 13)

(یادکرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھا تو اس نے کہا ‘ بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ‘ حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔)

یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو شرک سے روک رہے ہیں۔ حضرت یعقوبؑ اپنے بچّوں کو توحید کی تعلیم یاد دلارہے ہیں اور یہاں شرک سے روکا جارہاہے۔ اپنی نسلوں کو مسلمان رکھنے کے لئے یہ دو قرآنی واقعات میں باپوں کا عمل ہے۔ ہمیں کس کی فکر کرنی چاہئے اس پر اُمّت کو غور و فکر کرکے اقدامی فیصلوں پر آنا ہی ہو گا۔

ایمان کی سلامتی____

                عالمی منظر نامہ ہمیں بتلا رہا ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال‘ عزّت و آبرو ‘قتل و غارت گری کی نذر ہورہی ہیںاور ملکی منظر نامہ ہمیں اپنے ایمان کے دفاع پر مجبور کررہاہے۔ عام انسان اپنی جان بچانے کے لئے ایمان داؤ پر لگاتے ہیں لیکن مسلمانوں کا تاریخی کردار رہا ہے وہ اپنے ایمان کے لئے جان قربان کرتے ہیں۔ اصحابِ کہف اور اصحابِ اخدود کے واقعات ہمیں بتلاتے ہیں ایمان کے تحفّظ کے لئے کیا کیا جاسکتاہے۔ ’’ہم اُن کا اصل قصّہ تمہیں سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے اُن کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کردئے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کر دیاکہ’’ہمارا ربّ تو بس وہی ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جابات کریںگے‘‘(پھر انہوںنے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ، یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ اُن کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوںنہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑھ کر بڑا ظالم اور کون ہو سکتاہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب جب کہ تم ان سے اوران کے معبودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سامان مہیّا کردیگا‘‘۔ (سورۃ الکہف: 13-16)

                اصحابِ کہف نے ایمان کی سلامتی کے لئے غاروں میں چلے جانا پسند کیا وہ اس وقت کی سب سے بہتر پالیسی و حکمت عملی تھی لیکن آج ایمان کی سلامتی کے لئے میدانوں میں آنا ضروری ہے یہ آج کی حکمت عملی ہوگی۔ کھڑے ہونا‘ ہمّت و حوصلوں سے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے واقعہ میں ایمان کے تحفّظ کے لئے جان کی بازی کو لگا دینا عین کامیابی ہے۔

                ’’مارے گئے گڑھے والے جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔  جب کہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات آپ محمود ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔‘‘ (سورۃ البروج:4 – 9)

                مفسرین نے یہاں ایک عورت کاذکر بھی کیا ہے جس کے ہاتھوں میں دودھ پیتا بچّہ تھا۔ بچّے کی وجہ سے وہ کچھ ججھک محسوس کر رہی تھی۔ تاریخ انسانی میںیہ دوسرا بچّہ ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد جس نے بچپن میں کلام کیا ۔ کہا ماں کیا دیکھتی ہے۔ توحق پر اس میں کود جا۔ وہ عورت بچّے سمت اس آگ کے الاؤ میں کود گئی لیکن اپنے ایمان سے دستبرداری اُسے منظور نہ تھی۔ ایمان کے لئے جان کے سودے ایسی زندہ تاریخ ہے جس سے زندگی میں تازگی آتی ہے۔ سرسبز و شادابی کا عنوان بنتی ہے‘ کامیابی و کامرانی کی ضمانت بن جاتی ہے۔

وندے ماترم و سرسوتی وندنا____

بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو عام کرنے کے لئے سنسکرت و بنگالی میں نظم لکھی گئی ہے جسے وندے ماترم کہا جاتاہے۔جس میں زمین کی بھکتی و وندنا کی بات کہی گئی ہے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی کی بھی وندنا نہیں کرسکتا ہے۔ خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جھک نہیں سکتا اگرجھکتا ہے تو یہ شرک مانا جاتاہے۔ جسے قرآن کے تقریباًہر صفحے پر ممنوع قرار دیاگیاہے۔

قُلْ تَعَالَوْ ا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِ کُوْ ا بِہِ شَیْئاً ـ (سورہ انعام : 151)

(اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے ربّ نے تم پر کیا حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔)

                ایسی نہ جانے کتنی آیات میں مسلمانوں کو شرک سے بچے رہنے کا حکم دیا گیاہے۔ تو مسلمان کیسے وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کر سکتے ہیں۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے یوپی حکومت کے وندے ماترم کو اسکولوں میں لازمی کئے جانے کے بعد یہ کہا تھا کہ ’’ہم مسلمان اپنے بچّوں کو اسکولوں سے نکال لیں گے لیکن شرکیہ کلمات نہیں کہینگے‘‘۔ اس پر یوپی حکومت نے اس وقت اپنے حکم نامے سے رجوع کرلیا تھا۔

                اس وقت راجستھان سرکار نے سرسوتی وندنا ‘ یوگا‘ سوریہ نمسکار‘ گیتا پاٹھ کو لازمی قرار دیاہے۔اس پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بڑے سخت لہجہ میں اُسے اختیار نہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ اس کے بعد حکومت نے اُسے ذرا ہلکا کیا ہے، اسی کے دوسرے دن مرکزی حکومت کی وزارتِ تعلیم نے 500؍ کروڑ روپئے کا بجٹ یوگا کے لئے طے کر دیا ہے۔ ڈگری  و  ڈپلومہ کورسس کو جاری کرنے، نیزیوگا ٹیچرس کی ایک فوج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یوگا ٹیچر ہر اسکول و کالج میں متعین کئے جائیں گے اور بالخصوص مسلمانو ں کے ایمان کی آزمائش ہوتی رہے گی۔(جاری)

٭٭٭٭

(قسط سوم)

Featured

میدان بدر ۔غلبہ اسلام کی اولین سرزمین

’’اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدہ کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا ۔ ‘‘
اللہ رب العالمین کے چہیتے بندے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ عاجزانہ دعا مالک الملک کے دربار میں ان عظیم ہستیوں کے حق میں تھی جن کو دنیا اصحاب بدرؓکے نام سے جانتی ہے اور اس وقت کی گئی تھی جب مٹھی بھر صحابہؓ نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جان ہتھیلی پر لے کر مشرکین مکہ کے جم غفیر سے ٹکر لینے بدر کے میدان کا رخ کیا تھا۔ان کی بے سروسامانی کا اللہ نے بھی تذکرہ کیا ہے۔ ’’اور اللہ نے جنگ بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور (اوربے سروسامان )تھے‘‘ (آل عمران۔ آیت ۱۲۳) جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلی جنگ تھی جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے سورہ آل عمران اور الانفال میں ملتا ہے۔
جنگ بدر ۲ھ میں پیش آئی اور اس سے قبل تقریباً ۱۵ سال تک اسلام اپنی شہرت و مقبولیت میں مسلسل اضافہ کے باوجود مغلوب تھا۔ مکی زندگی تو سب پر عیاں ہے کہ کس طرح ظالم مشرکین اہل ایمان کے ساتھ جو چاہے سلوک کرتے رہے حتیٰ کہ انہیں اپنے گھر بار اور مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑا۔ مدینہ منورہ میں جنگ بدر سے پہلے تک کے حالات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں بھی چین و سکون نصیب نہیں ہوا تھا۔مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش میں ناکام ہونے کے بعد اہل مکہ نے اسلام کو مدینہ میں بھی پنپنے سے روکنے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے لگے۔ ان کی چراگاہوں پر حملے کئے‘ قافلوں کے راستے روکے جانے لگے۔ اہل مدینہ جب طواف کعبہ کے لئے پہنچے تو انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ محمد اور ان کے ماننے والوں کو پناہ دینے کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مدینہ کے اطراف کے قبائل کو بھڑکایا جانے لگا اور خود مدینہ کی بستی میں شورش برپا کرنے اور مسلمانوں کی دشمنی پر اکسانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔ مدینہ کے باہر چھاپہ مار حملے شروع کردیئے گئے تب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے اطراف حفاظتی دستوں کی گشت کے ذریعہ اپنے سابق ابنائے وطن کو احساس دلایا کہ اگر ظلم نے مزید سراٹھایا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی جب قریش مدینہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے جنگ کی زبردست تیاری کر رہے تھے ۔ہجرت کے دوسرے سال قریش ایک ہزار کی تعداد میں اس کروفر کے ساتھ نکلے کہ سو سوار تھے‘ تمام روسائے قریش شریک تھے‘ عتبہ بن ربیعہ فوج کا سپہ سالار اعظم تھا۔اس کے علاوہ کئی سپہ سالار تھے۔ فوج کے پاس 100 گھوڑے اور 600 زرہیں تھیں۔ 500 سپاہی پورے ہتھیاروں سے لیس یعنی تلوار‘ ڈھال ‘ زرہ بکتر اور نیزہ وغیرہ۔ اونٹ اتنی کثرت سے تھے کہ طعام کے لئے روزانہ 9تا 10 اونٹ ذبح کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے دشمنوں کی تعداد کا اندازہ اسی سے لگایا کہ ایک اونٹ 100 آدمیوں کے لئے کافی ہے تو ان کی تعداد 900 سے 1000 کے درمیان ہے۔
دوسری جانب اسلامی لشکر 313افراد پر مشتمل تھا۔ان میں کم و بیش 85 مہاجرین اور باقی انصار تھے۔ پورے لشکر میں صرف دو یا تین گھوڑے‘ 70 اونٹ تھے۔ صرف 6 زرہ پوش ‘ 8 شمشیر زن اور بقیہ سپاہیوں کے پاس نیزوں اور تیر کمانوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دونوں لشکروں کے حالات جاننا اس لئے ضروری ہے تا کہ جنگ کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جاسکے کہ کس طرح ایک قلیل وہ بھی بے سروسامان گروہ کو حق تعالیٰ نے کثیر اور کیل کانٹے سے لیس فوج پر غلبہ عطا فرمایا۔
غزوہ بدر کے بے شمار پہلو ہیں جو زیر بحث آسکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنگ جسے قرآن ’’یوم الفرقان۔ حق و باطل میں فرق کردینے والے دن ‘‘سے تعبیر کرتا ہے‘ دور حاضرمیں کیا افادیت رکھتی ہے۔
جنگ بدر سے قبل کا جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے اس پر غور فرمائیں۔ مسلم فوج کے سامنے دو راستے تھے ۔ فوج سے مقابلہ کریں یا تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے اسے لوٹ لیں۔ سورہ الانفال میں ہے ’’یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔‘‘ (جزو آیت :۷)
چند مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ قافلہ چونکہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کا ہے اس لئے اس پر حملہ کیا جائے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی مفلوک الحالی ختم ہوجائے گی اور مستقبل میں کفار و مشرکین سے جنگ کے لئے ساز و سامان بھی مہیا ہوجائے گا اس صورت میں جنگ کا خدشہ بھی نہیں تھا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت ہی کا اگلا ٹکڑا ہے : ’’تم چاہتے تھے کہ بے خدشہ گروہ تمہیں ملے ۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے ‘‘۔ (الانفال ۔ آیت :۷)پھر اس ٹکرائو کی مصلحت بھی بتادی : ’’تاکہ حق حق ہوکر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الانفال ۔ آیت :۸)
اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا یعنی تجارتی قافلہ کا رخ کریں تو اسے پالیں گے اور دولت سے مالا مال ہوجائیں گے اور فوجی لشکر کی جانب بڑھیں تو فتح نصیب ہوگی اور ہمت و حوصلہ‘ ایمان و یقین‘ جذبہ جہاد‘ ایثار و قربانی‘ ثابت قدمی و اولوالعزمی جیسی صفات عالیہ سے مالا مال ہوں گے۔ تجارتی قافلہ ہاتھ لگنے کی صورت میں بھی جنگ ہوسکتی تھی کیونکہ مکہ سے مشرکین کی فوج کی روانگی کا ایک اہم مقصد تجارتی قافلہ کو بحفاظت بچاکرنکال لے جانا بھی تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ قافلہ پر حملہ ہو تو وہ اسے لٹتا ہوا دیکھیں اور واپس چلے جائیں۔ نتیجہ میں معرکہ ہوتا لیکن نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلمانوں کو اپنی جان کے ساتھ مال کی حفاظت کی بھی فکر ہوتی جو انہیں قافلہ سے ہاتھ لگتا۔ بدر کے میدان میں مسلم فوج کے حق میں جو ہموار میدان مہیا ہوا وہ نہ ملتا اور دشمن کی فوج زیادہ مضبوط پوزیشن کی حامل ہوتی۔ روحانی اعتبار سے صحابہ ؓ کی فوج کمزور پڑجانے کا اندیشہ تھا کہ مال و دولت ہاتھ لگ جانے کے بعد دنیا کی محبت ‘اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب آسکتی تھی۔ ایک اور صورت یہ بھی ممکن تھی کہ اللہ اپنے وعدہ کے مطابق قافلہ پر غلبہ دے اور دشمن پر رعب ڈال کر اسے واپس ہونے پر مجبور کردے اور جنگ کی نوبت نہ آئے اور زیادہ قرین قیاس یہی تھا کیونکہ اللہ نے ایک ’’گروہ‘‘ پر غلبہ عطا کرنے کا وعدہ کرلیا تھاتب مال و دولت کے ساتھ مدینہ لوٹنے والے صحابہؓ کا وہ جذبہ ایمانی نہ ہوتا جو بدر کے میدان سے لوٹنے والے صحابہ کرامؓ کا بن گیا تھا۔ وہ تائید غیبی کے ان نظاروں سے محروم رہتے جس کا مشاہدہ بدر کے میدان میں انہیں کرایا گیا اور خطرات و مشکلات میں انہیں مال و دولت سے زیادہ ضرورت اسی تائید غیبی پر یقین کے حصول کی تھی۔
چنانچہ وعدہ تو دو گروہوں میں سے ایک عطا کرنے کا ہوا لیکن درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ فوج سے مڈبھیڑ کرادے۔ اس میں بے شمار فوائد مضمر تھے۔ ایمان کی پختگی کا سامان ‘ رسول اللہ ﷺ پر جاں نچھاور کرنے کے جذبہ کا استحکام ‘ دین کے لئے مرمٹنے کے عزم میں مضبوطی‘ مستقبل میں حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ‘ فتح کی صورت میں مسلمانوں کی قوت اور حوصلوں میں اضافہ اور کفار و مشرکین پر دھاک‘ مدینہ کی نئی نئی مسلم بستی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو تنبیہ ‘ مسلمانوں کو ترنوالہ سمجھنے کی ذہنیت پر ضرب‘ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے خواہشمند لیکن پریشان کن حالات سے رکے ہوئے افراد کو قبولیت اسلام میں جرأت کی فراہمی ‘خطرات و مشکلات میں قدموں میں لغزش اور دلوں میں ہول و ہیبت کے بجائے مضبوطی و ثابت قدمی کا مظاہرہ۔ ان کے علاوہ نہ معلوم اور کیا کیا فوائد تھے جس کی بناء پر اللہ رب العزت نے فرمایا :
’’ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑائو ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے( ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ‘ لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لئے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ یقینا خدا سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (الانفال۔ آیت :۴۲)
یہاں اللہ کے فیصلہ سے مراد ’فتح‘ ہے جسے اللہ ظہور میں لانا چاہتا تھا اور اس کا مقصد ’’دلیل روشن‘‘ کو واضح کرنا یعنی حق و باطل میں ایسا واضح امتیاز قائم ہوجائے کہ ہر صاحبِ عقل سمجھ سکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔دلیل روشن ہونے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بدر محض چند قبائل کی لڑائی نہیں بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ یہ نظریہ کی جنگ تھی ۔جوصفیں آمنے سامنے مقابل تھیں وہ محض قریشیوں اور مہاجر و انصار کی نہیں بلکہ کفر اور اسلام کی تھیں۔
بدر کے میدان میں نصرت الٰہی کے کئی مشاہدات ہوئے۔ بارش سے زمین مسلم فوج کے حق میں ہموار ہوگئی ‘ پانی جسم پر پڑنے سے ان کے جسموں کی تکان دور ہوگئی ‘ فرحت و شادابی نے ان کے دلوں کو اطمینان بخشا‘ موسم کی خوشگواری کے ذریعہ اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی جس سے دشمن کی کثرت تعداد کی ہیبت جاتی رہی اور بے خوفی پیدا ہوگئی۔ اور پھر وہ رات بھر اطمینان سے سوتے رہے جس سے تازہ دم ہوگئے۔ آسمان سے فرشتے مدد کے لئے نازل ہوئے ۔
یہ ساری باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ زمین و آسمان کی تمام قوتیں مسلمانوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہیں کیونکہ انہیں زمین و آسمان کے رب کی نصرت و حمایت حاصل ہے۔ بدر کے میدان میں غیبی مدد کا یہ حال تھا کہ فرشتوں نے بنفس نفیس جنگ میں حصہ لیا اور دشمنانِ اسلام کی گردنیں سروں سے اتاریں۔ اس کا مشاہدہ کفر کے سرخیلوں نے بھی کیا اور صحابہؓ نے بھی۔
غیبی مدد کا ایک مشاہدہ رسول اللہ ﷺ کے معجزہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : ’’لڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے انہیں لکڑی کا ایک ٹکڑا یا درخت کی ایک شاخ تھمادی اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی ‘ مضبوط اور چم چم کرتی سفید تلوار میں تبدیل ہوگئی۔ انھوں نے اسی سے لڑائی کی۔ اس تلوار کا نام عون یعنی مدد رکھا گیا تھا ۔ دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شہادت تک عکاشہؓ اسی سے لڑتے تھے۔ (الرحیق المختوم)
بدر میں گھمسان کا رن پڑا‘ 70مشرک ہلاک ہوئے جن میں بڑے بڑے سردار شامل تھے۔ 70گرفتار ہوئے۔کثیر مال غنیمت مسلم فوج کے ہاتھ لگا۔ مسلمانوں کی جانب صرف 14صحابہؓ شہید ہوئے۔
جنگ بدر کے نتائج : آخر میں جنگ کے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہوئے موجودہ حالات میں اس سے ملنے والی رہنمائی پر غور کریں گے۔
l اہل بدر کو بخشش کا مژدہ سنایا گیا۔
l جنگ میں کثرت و قلت کا فلسفہ ڈھیر ہوگیا۔
l یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کی فتح کا تعلق مال و اسباب سے نہیں اللہ کی نصرت و حمایت سے ہے ۔
l جنگ بدر کے بعد سارے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
l ناموافق حالات میں ایک خوفناک جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حالات کو مسلمانوں کے حق میں موافق بنادیا۔ جیسے مدینہ منورہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول جو اعلانیہ دشمنی کرتا تھا اب بظاہر اسلام کے دائرہ میں آگیا گو تمام عمر منافق رہا جس سے خود رسول اللہ ﷺ بھی واقف تھے لیکن اب کھل کر مخالفت کی ہمت نہیں رہی ۔
l ادھر مکہ کے ہر گھر میں زلزلہ آگیا۔ انتقام کی آگ اور بھی بھڑکی لیکن رہ رہ کر شکست کا زخم ستانے لگا اور مشرکین کو اچھی طرح یہ احساس ہوگیا کہ مسلمان تر نوالہ نہیں ۔
l مشرکین کی شکست سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مکہ سے جاری مخالفت اور مسلسل دشمنی اور عسکری غلبہ کے باوجود بڑے بڑے سرداروں کے سرکٹ جانا باطل کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔
l یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محمدﷺ کسی دنیاوی و سیاسی مقصد کے تحت یہ ساری جدوجہد نہیں کررہے تھے جیسا کہ مشرکین کا الزام تھا بلکہ آپ صلعم اس آفاقی دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کررہے تھے جو زمین و آسمانوں کے رب کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔
l مدینہ اور اس کے اطراف کے یہودیوں کے حوصلے پست ہوگئے جو قریش کے ساتھ مل کر ریشہ دوانیاں کرتے رہتے تھے لیکن بدبخت قوم نصیحت حاصل کرنے اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے اللہ کے رسولؐ اور آپؐ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کے بجائے حسد کی آگ میں اور بھی جھلسنے لگی ۔
l قبائل عرب فوری طور پر دامن اسلام میں پناہ لینے تیار نہیں ہوئے لیکن سہم ضرور گئے ۔
l مال غنیمت حلال کردیا گیا اور اس کی تقسیم کے احکام نازل ہوئے جو مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت تھی۔
l مسلم فوج روانہ ہوئی تو کسمپرسی کی حالت تھی مدینہ لوٹی تو کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ‘ اونٹ کی نکیل ‘تلوار و نیزہ اور دیگر ساز و سامان بطور غنیمت کے نہ رہے ہوں۔ قیدیوں کی شکل میں ایک متحرک یا منقولہ اثاثہ ہاتھ لگا جس کے بدل مکہ سے تاوان وصول کیا جانے والا تھا۔
l اہل مکہ کے لئے بڑے بڑے سرداروں کی ہلاکت‘ سپاہیوں کے زخم ہی کیا کم تھے کہ قیدیوں کی رہائی کے لئے تاوان ادا کرنا بدترین ذلت سے کم نہیں تھا۔ یہ شکست ان کے لئے ایسی ذلت بن گئی کہ مکہ میں اپنے عزیزوں کی موت پر نوحہ کرنے پر پابندی لگادی گئی اور اعلان کردیا گیا کہ کوئی شخص ماتم نہ کرے کہ اس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔
موجودہ دور میں غزوہ بدر کی افادیت :
l مسلمانوں کے سامنے دو قافلے تھے اور مسلمان تجارتی قافلہ کی طرف مائل نظر آتے تھے لیکن اللہ نے فوجی لشکر حوالہ کیا۔ مال میں بظاہر مسلمانوں کا بھلا تھا لیکن اللہ نے غلبہ اسلام کو پسند فرمایا جس میں مسلمانوں کا فائدہ ازخود مضمر ہے۔ اس سے یہ مشیت الٰہی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کے فائدہ پر اسلام کے فائدہ کو ترجیح دینا چاہئے ۔
l دور حاضر میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے جنگ کو انسانیت ‘ انسانی حقوق اور امن و ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے ممالک خود ہی دنیا بھر میں جنگ کے سامان بیچتے اور اس تجارت کے لئے ملکوں کو باہم لڑاتے ہیں۔ بہرحال جنگ بدر میں اللہ کی مشیت ‘ رسول ؐ کی شرکت اور فتح و نصرت اس بات کے غماز ہیں کہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسلام کو غالب کرنے جنگ کرنا کسی بھی اعتبار سے خلاف انسانیت نہیں ہوسکتابالخصوص جبکہ شریعت نے جنگ کے اصول و شرائط اور حدود بھی متعین کردیئے ہیں۔
l مسلمانوں کو کبھی بھی کم تعداد میں ہونے کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ ملکوتی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہزار فرشتوں کو ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دشمنوں سے بڑھ جائے گی۔ اس طرح مسلمانوں کو جو غیبی مدد حاصل ہے اس سے غیرمسلم محروم ہیں۔
l جو لوگ گھروں سے نکال دیئے گئے وہ بزدل ہوکر بیٹھے نہیں رہ گئے بلکہ مقام ہجرت پر اپنے دین پر مضبوطی سے قائم بلکہ اس کے فروغ کے لئے سرگرم رہے اور جب مقابلہ کا وقت آیا تو غلام نے آقاپر تلوار اٹھائی اور اسلام کے رشتہ نے تمام رشتوں کی طناب کاٹ کر رکھ دی۔
l جنگ بدر اسباب کے ذریعہ نہیں جیتی گئی لہٰذا مسلمان کبھی مال و اسباب پر نظر نہ رکھیں بلکہ مسبب الاسباب پر نگاہ رکھیں۔
l رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے دنیا میں بھی سرفرازی ملتی ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی میں مضمر ہے۔
l دشمن سے مقابلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جنگی تدبیر اختیار کی اور اللہ سے دعابھی کی لیکن مسلمان آج صرف دعائوں کے بھروسے پر اسلام کے غالب آنے کی امید کرتے ہیں۔
l اسلام ایک کامل دین ہے جو نہ صرف عبادات کے طور طریق بلکہ روز مرہ کی زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے اور جنگ کی تدابیر اور آداب بھی بتاتا ہے۔
l جہاد معیوب نہیںبلکہ محبوب ہے ۔یہ خالص قرآنی اصطلاح ہے جسے اس قدر بدنام کردیا گیا کہ لوگ جہاد کا لفظ زبان سے اداکرنے میں عار و تنگ ذہنی تصور کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید کی بے شمار آیات میں یہ لفظ آیاہے جس کی صرف تلاوت سے بھی 40نیکیاں ملتی ہیں۔
l اسلام اخلاقی تعلیمات سے پھلا پھولا لیکن جہاد کے ذریعہ غالب آیا۔
l آخری لیکن سب سے اہم بات یہ کہ موجودہ دور میں مسلمانوں نے طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہوجانے کو خدا کا انعام سمجھتے ہوئے دین کے تقاضوں کو بھلادیا ہے حالانکہ دین کے تقاضوں کی تکمیل ہی مسلمان کی زندگی کا مقصد اولین ہونا چاہئے جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
٭٭٭
(قسط ہفتم)

طالبان، امریکہ مذاکرات

امریکہ نے بالآخر افغان طالبان سے براہِ راست مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان نژاد امریکی شہری زلمے خلیل زاد کو افغان امور کے لیے اپنا نمائندۂ خصوصی مقرر کیا ہے۔ زلمے خلیل زاد اس سے قبل بھی افغانستان کے لیے امریکی حکومت کے خصوصی ایلچی رہ چکے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں سات رکنی امریکی وفد نے طالبان کے نمائندوں سے عمومی اور غیر رسمی مذاکرات کیے ہیں۔ یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئے ہیں جہاں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے۔ اب تک امریکی حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ طالبان کابل حکومت سے مذاکرات کریں، جبکہ طالبان افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کے بجائے براہِ راست مذاکرات کی بات کررہے تھے اور اسی مقصد کے لیے سفارت کاری کے میدان میں کام کرنے کے لیے قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم کیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کا پاکستان کے اوپر بھی یہی دباؤ تھا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرے، جس کا صرف ایک مطلب ہے اور وہ یہ کہ طالبان بالآخر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوجائیں۔ افغان طالبان اس امر پر تیار نہیں ہوئے۔امریکی قبضے کے خلاف طویل ترین جنگ کے دوران امارتِ اسلامیہ افغانستان کے امیر مُلاّ محمد عمر ایک اسپتال میں انتقال کرگئے۔ افغان طالبان کی مزاحمت اپنے امیر کی موت کے باوجود جاری رہی اور وہ ایک طویل عرصے تک اپنے قائد کی موت سے دنیا کو بے خبر رکھنے میں کامیاب رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جنگی قوت و طاقت کے خلاف افغان طالبان کی مزاحمت جاری رہی۔ امریکہ نے مُلاّ عمر کے جانشین امیر کو بھی ڈرون حملے میں شہید کردیا، اس کے باوجود بھی افغان مجاہدین کی مزاحمت میں کسی قسم کا فرق نہیں پڑا۔یہ پورا دور اس خطے میں عالمی کش مکش کا دور ہے جس کا تعلق افغانستان پر امریکی قبضے اور اس کے عالمی عزائم سے ہے۔ افغان مجاہدین نے جس طرح امریکہ اور اس کے چالیس ملکی اتحاد نیٹو کی فوجوں کی مزاحمت کی ہے وہ انسانی تاریخ کا غیر معمولی باب ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کیونکہ امریکی قیادت میں تہذیبِ مغرب اور سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی غارت گر فوج کا ایک حصہ ہیں، اس لیے افغانستان کے مجاہدین کی غیر معمولی مزاحمت کی وقائع نگاری نہیں کی گئی۔ ذرائع ابلاغ کی چکاچوند روشنی کے باوجود اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس کے باوجود تیز رفتار واقعات اصل حقیقت کو عیاں کردیتے ہیں۔ قطر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مرکز کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ اسی پس منظر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کو قائم کرنے کی اجازت کا صاف مطلب یہ تھا کہ افغانستان امریکہ کی جنگی قوت و طاقت کی ناکامی کا مرکز بن چکا ہے۔ اس حقیقت پر امریکہ اپنی اقتصادی، ٹیکنالوجیکل اور جنگی طاقت کے بل پر اب تک پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو شکست ہوچکی ہے لیکن وہ سفارت کاری کے پروپیگنڈے اور دیگر اقدامات کے ذریعے اس کو عیاں ہونے سے روکنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ اس کوشش میں بھی وہ ناکام ہے۔ امریکی وفد اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی جو خبر عالمی ذرائع ابلاغ نے جاری کی ہے اُس نے اس حقیقت کو بے نقاب کردیاہے کہ افغانستان میں امریکہ شکست کھا چکا ہے اور وہ صرف اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ فوجی انخلا کا باعزت راستہ تلاش کرلے۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ قطر میں قائم بین الاقوامی ذریعہ ابلاغ ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکہ طالبان سے مذاکرات کے دوران افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا پر آمادہ ہوگیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں آنے والے امریکی وفد سے مذاکرات کرنے والے طالبان کے ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات کے دوران امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی سمیت تمام مسائل کے حل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات کو آئندہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس خبر کے ظاہر ہونے کے بعد پاکستان میں قائم امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا تو جواب میں نہ تصدیق کی گئی اور نہ تردید کی گئی بلکہ لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ابھی تک افغان طالبان اس مؤقف پر قائم ہیں کہ وہ افغانستان کی ایک انچ سرزمین پر بھی غیر ملکی فوجی قبضے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ بالآخر اپنی شرائط سے دست بردار ہوکر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا مؤقف یہ تھا کہ طالبان کابل حکومت سے مذاکرات کریں۔ حالانکہ دنیا اس بات سے واقف ہے کہ کابل حکومت امریکی فوج کے بغیر ایک دن بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ امریکی فوجی قبضے کے باوجود 70 فیصد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے اور اس کی تصدیق امریکی رپورٹوں نے کی ہے۔ افغانستان پر قبضے کی امریکی جنگ 17 برس پر محیط ہوچکی ہے اور امریکہ اس جنگ میں اپنی کامیابی کا اعلان نہیں کرسکا۔ ایک صدی میں امریکہ تیسری سپر پاور ہے جسے افغانوں کی قوتِ مزاحمت نے شکست دی ہے۔ اس جنگ نے عالمی سیاست کا نقشہ تبدیل کردیا ہے۔ دنیا کے امن اور آزادی کو امریکی بالادستی سے خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ سوویت یونین کا انہدام جو افغان جنگ کی وجہ سے ہوا تھا، امریکہ نے اسے اپنی فتح قرار دیا۔ اس نے ’’نیوورلڈ آرڈر‘‘ کے نام سے یک قطبی سامراجیت کا اعلان کیا۔ اسی تکبر کی وجہ سے عراق اور افغانستان پر قبضہ کیا، دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف جنگ چھیڑی، نائن الیون کے حقائق اور اس کے اصل ذمے داروں پر پردہ ڈالا، عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی جھوٹی رپورٹ جاری کی جس کا اعتراف سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کرلیا ہے۔ عراق پر قبضے کے نتیجے میں عراق تو تباہ ہوا، ساتھ ہی یہ تباہی شام تک پھیل گئی اور کئی مسلمان ممالک امریکہ اور سرمایہ دارانہ ممالک کی ہوسِ ملک گیری اور وسائلِ دولت پر قبضے کی حرص کا شکار ہوگئے۔ لیکن اس دوران تمام مظلوم قوموں کی جانب سے افغان مجاہدین نے مزاحمت کی ہے اور امریکہ اور تہذیبِ مغرب کو شکست دی ہے، اور یہ پیغام دیا ہے کہ اللہ کو پامردی مومن پہ بھروساابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہاراShare this:اسلام آباد — طالبان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں طویل مدت سے جاری افغان جنگ ختم کر کے مذاکرات کے لئے کہا گیا ہے۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی فضائی کارروائیوں کے باوجود، وہ باغیوں سے ایک انچ علاقہ بھی واپس نہیں لے سکا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مختلف زبانوں میں لکھے دس صفحات پر مشتمل خط کی نقول تقسیم کیں۔ جس میں طالبان کی کامیابیوں اور بقول طالبان، امریکی قیادت میں کی جانے والی ناجائز چڑھائی کی ناکامیوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ افغان جنگ 17 برسوں سے جاری ہے۔طالبان نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی عوام، آزاد وخودمختار گروپ اور امن پسند کانگریس مین، دانش مندی سے اس کا مطالعہ کریں گے، تاکہ وہ افغانستان میں اپنے فوجی مشن کے مستقبل کا تعین کر سکیں۔خط میں امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے کے لئے مجرمانہ اقدامات کیے، لیکن اس سے صرف انتشار کی راہ ہموار ہوئی، اور ملک میں داعش کے ابھار سمیت متعدد گروپ وجود میں آئے۔گذشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں طالبان حملوں میں شدت آئی ہے، خاص طور پر مشرقی اور شمالی صوبوں میں۔طالبان کے خط میں، اقوام متحدہ کی جانب سے منعقدہ سروے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں افغانستان میں ریکارڈ سطح پر افیون کی فصل کاشت کرنے اور اس کی پیداوار کا ذکر ہے، جس عدم تحفظ کے احساس کو ہوا ملتی ہے۔فائل فوٹوتاہم اس ہفتے، افغانستان کا دورہ کرنے والے، امریکی اور نیٹو اتحاد کے ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ اتحادی کارروائیوں میں تیزی کے نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ افغانستان بھر میں ریزولیوٹ سپورٹ اور امریکی سرپرستی میں کی جانے والی کارروائیوں سے دشمنوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کی وجہ سے وہ صوبائی دارالحکومتوں اور متعدد اضلاع کا قبضہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عام شہریوں پر جاری حالیہ خود کش طالبان حملوں کی لہر، ملک کے دیگر حصوں میں پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہیں۔تاہم طالبان نے ان امریکی دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔طالبان طویل عرصے سے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر زور دیتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے مستقبل کا تعین کرنے کا حتمی اختیار امریکہ کے پاس ہے اور یہ کہ افغانستان کے حکمرانوں کی حیثیت امریکہ کی کٹھ پتلیوں سے زیادہ نہیں ہے۔Hamdullah Mohib✔@hmohib · Feb 14, 2018Taliban’s open letter is not for aimed at American audiences. It is their master’s propaganda to garner domestic support for the Taliban. The conclusion of the letter clearly indicates Taliban’s loss. They see their end is near. It’s a face saving way of asking for a truce. 1/2Hamdullah Mohib✔@hmohibThe Afghan government has always had an open arms approach to peace and will be happy to reintegrate all those Taliban that repent their actions and seek forgiveness from the Afghan people for their atrocities committed against a peace loving innocent civilians. 2/28110:52 PM – Feb 14, 2018Twitter Ads info and privacy36 people are talking about thisامریکہ کے لیے افغان سفیر حامد اللہ محب نے طالبان کے کھلے خط پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ طالبان کا کھلا خط امریکی عوام کی حمایت حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کے وسیع تر پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ اس خط سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان شکست کھا رہے ہیں۔ انہیں اپنا انجام قریب دکھائی دے رہا ہے اور وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے معاہدے کا کہہ رہے ہیں۔ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت نے امن کے لیے اپنی باہیں ہمیشہ کھلی رکھی ہیں اور وہ خوش دلی سے ان تمام طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے جو اپنی سرگرمیاں ترک کرکے امن پسند معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر افغان عوام سے معافي کے طلب گار ہیں۔ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس جو ولسن نے کہا ہے کہ طالبان کے لئے کانگریس پر اثر انداز ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنا رویہ بدلیں۔ طالبان کے اس خط پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جس میں عسکریت پسندوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہو جائیں، جو ولسن نے کہا کہ گزشتہ کچھ ہفتوں میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کی ہلاکتوں سے بالکل ظاہر نہیں ہوتا کہ طالبان حقیقی معنوں میں ا فغان عوام کے فائدے کے لئے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔رکن کانگریس نے کہا ’ بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنا رویہ بدلیں اور دوسرا راستہ اپنائیں ۔

نصرتِ الٰہی کا انتظار

ملک جن حالات سے گذر رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ جگہ جگہ مختلف بہانوں سے مسلمانوں کا قتل، ان کے ساتھ ظلم اور ناانصافی، طلا ق ثلاثہ بل کے بعد کشمیر کے خصوصی درجہ کا خاتمہ اور وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک، این آر سی کا نفاذ، بابری مسجد کے حصول کے لئے جاری کشمکش، موجودہ حکومت کا مسلمانوں کے تئیں سخت سے سخت تیور اور نہ جانے اس طرح کے کتنے خدشات اور اندیشے ہیں جن کے سبب پورے ملک میں مسلمان سہمے ہوئے ہیں اور ملک میں اسلام اور اس کے پیروکاروں کے لئے آنے والے حالات سے خوف زدہ ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ آخر خدا کی نصرت کب آئے گی؟
بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی طاقت سب سے بلند اور بالا و برتر ہے، اس کی عظمت و ہیبت کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، وہ ہزاروں مکر اور منصوبوں کو لمحوں میں خال میں ملا دیتا ہے، ساری انسانی تدبیروں پر اس کا فیصلہ غالب رہتا ہے۔ اس نے فرعون اور نمرود جیسی طاقت کو تباہ و برباد کیا۔ قوم عاد، قوم ثمود اور ظالم حکمرانوں اور قوموں کی سرکشی اور پھر ان کے انجام بد کو قرآن نے جگہ جگہ بیان کیا اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا سبق دیا ہے۔ جنگ بدر خدا کی نصرت کی بہترین مثال ہے کہ کفار مکہ اس وقت کے سارے جنگی ہتھیاروں سے لیس تھے؛ ان کی تعداد بھی مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ تھی، مسلمان ظاہری اسباب و وسائل میںبہت کم تھے؛ لیکن اللہ نے کفار کی شرارتوں، ان کے منصوبوں اور سازشوں کو ایسا ناکام بنایا کہ رہتی دنیا تک لوگ اسے یاد رکھیں گے۔ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی اور دشمنانِ اسلام کا غرور خاک میں مل گیا۔ اللہ تعالیٰ آج بھی اسی طاقت کے ساتھ موجود ہے اور مسلمانوں کے ساتھ اس کی نصرت کا وعدہ اٹل ہے، اس میںکوئی تبدیلی نہیں ہے؛ لیکن اس نصرت کے لئے کچھ شرطیں خود قرآن میں مختلف جگہوں میں بیان کی گئی ہیں جن کی تکمیل کے بغیر اللہ کی مدد اور اس کی نصرت کا انتظار لاحاصل اور بے معنیٰ ہے۔
پہلی شرط پختہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ ایک کلمہ گو شخص کا ایمان اللہ کی ذات پر اتنا مضبوط اور طاقت ور ہو کہ حالات جیسے بھی ہوں کبھی اس کے اعتقاد اور یقین میں کمی نہ آئے، گھر میں فقر کی نوبت آجائے، بیماریوں اور حادثات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو، پریشانیوں اور تکالیف کا ہجوم ہو پھر بھی دل اس بات پر مطمئن ہو کہ میرا رب اللہ ہے وہی میری مراد کو پوری کر سکتا ہے، وہی سجدوں کے لائق ہے، میری پریشانیوں کو آسانی میں بدلنے والا اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ ایک سکنڈ کے لئے بھی تذبذب اور شک کی کیفیت پیدا نہ ہو ، مشرکانہ ماحول، دشمنان اسلام کی جانب سے اعتراضات اور ناموافق حالات کا ایمان پر کوئی منفی اثر پیدا نہ ہو یہ ایمان کی مضبوطی ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب و مقصود ہے اور یہی ایمان صحابۂ کرام کو حاصل تھا اس لئے کفر کی ساری طاقتیں مل کر ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکیں اور جب تک وہ زندہ رہے تکلیفیں برداشت کرتے رہے؛ لیکن ایک لمحے کے لئے بھی ان کے دلوں میں کوئی شک پیدا نہیں ہوا۔ ایمان کے ساتھ نیک عمل اور اسلامی تعلیمات کی پیروی بنیادی شرف ہے۔ جس قدر اسلام سے محبت ہوگی اتنا ہی عمل کا جذبہ پیدا ہوگا گویا زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنا مضبوط اور طاقتور ایمان کی علامت ہے۔ چھوٹے بچوں کو جس سے محبت ہوتی ہے کھانے پینے، لباس و پوشاک اور وضع قطع میں اسی کا انداز اختیار کرتے ہیں جس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص کو دل سے چاہتا ہے، دنیا میں ہر آدمی خدا کی محبت، عشق رسولؐ اور مستحکم ایمان کا دعویٰ کرتا ہے؛ لیکن اس کی زندگ عمل سے خالی ہوتی ہے جو اس کے دعوے کی تکذیب کے لئے کافی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل صالح پر زور دیا ہے اور ان دونوں کے پائے جانے کے بعد مدد اور غیبی نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری ہے:
’’اور تم میں سے جولوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک اعمال کئے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے بنایا تھا اور ان کے لئے اس دین کو ضرور اقتدار اور قوت بخشے گا جسے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے اس کے بدلے انہیں ضرور امن دے گا۔ (النور:۵۵)
ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ جب مسلمانوں کے سامنے اس وقت کی سب سے بڑی طاقت رومیوں کے پاؤں اکھڑنے لگے تو روم کے بادشاہ ہرقل نے اپنی قوم کے دانشوروں اور وزراء کو جمع کیا اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ جن لوگوں سے تم لڑ رہے ہو وہ تمہاری طرح انسان ہیں یا کچھ اور ہیں؟ ہرقل کے جواب میں لوگوں نےکہا وہ ہماری طرح انسان ہی ہیں پھر پوچھا کہ وہ زیادہ ہیں یا تم زیادہ ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم ان سے کہیں زیادہ ہیں، ہرقل نے کہا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ہر محاذ پر بری طرح شکست کھا رہے ہو؟ اس پر سب نے گردنیں جھکادیں، ایک عمر رسیدہ شخص اٹھا اور کہنے لگا: مسلمانوں کے غالب ہونے کا اصل راز یہ ہے کہ وہ صائم النہار اور قائم اللیل ہیں، راتوں کو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر نمازیں پڑھتے ہیں، دن میں روزے رکھتے ہیں، وہ دن کے شہسوار اور رات کے عبادت گزار ہیں، امانت دار ایسے کہ کسی کے مال کو بغیر قیمت چکائے ہاتھ تک نہیں لگاتے، عہد و پیمان کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، بھلائی پھیلاتے ہیں، برائی مٹاتے ہیں، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف بھی ہوتا ہے تو ہر فریق حق بات کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لیتا ہے، دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ ہم رات میں شراب پیتے ہیں اور دن میں بدکاری میں مبتلا رہتے ہیں دوسروں کا مال و حق ہڑپ کر لیتے ہیں ، وعدہ خلافی کرتے ہیں، ہمارا کردار ظالمانہ اور ہماری طبیعت مفسدانہ ہے، ہر قل نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لیا۔ (دورِ فتن میں راہ عمل صفحہ ۷۸)
اس طرح پوری اسلامی تاریخ پڑھ جائیے آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ نیک بندوں کی مدد کی ہے۔ فسق و فجور کے ساتھ اس کی مدد اور نصرت کبھی نازل نہیں ہوئی، رحمت اور نصرت الٰہی کو متوجہ کرنے کے لئے ایمان کے بعد عمل صالح کی حد درجہ ضرورت ہے اس کے بغیر نصرت کا انتظار اصول قدرت کے خلاف ہے۔
دوسری شرط مسلمانوں کا آپس میںاتحاد و اتفاق ہے۔ اگر گنتی کے اعتبار سے لوگ کم ہوں لیکن ان کے درمیان اتحاد اور اتفاق ہو، ایک مقصد اور مشن پرسب متفق ہوں تو کم ہونے کے باوجود وہ غیر معمولی طاقت کے مالک ہو جاتے ہیںا ور بڑے سے بڑے چٹان سے ٹکرانے کی ان میں صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر آپس میں انتشار اور اختلاف ہو، ایک دوسرے کا دل آپس میں ملا ہوا نہ ہو تو ایک جم غفیر کے باوجود انتہائی کمزور ہوں گے، ایسے لوگ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں اور دنیا میں کبھی ان کو عزت و شوکت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اصحاب رسول کو خاص طور پر اختلاف و انتشار سے بچنے کی تاکید فرمائی تھی اور یہ حکم دیا تھا کہ آپس میں کسی بھی حال میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا ورنہ تم کثرت کے باوجود شکست کھا جاؤگے۔ قرآن کہتا ہے:
’’اور اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم مانو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم کمزور پڑ جاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘
اس حکم کا اثر یہ ہوا کہ صحابۂ کرام مختلف نسلوں ، خاندانوں اور علاقوں کے تھے، ان کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلاف بھی تھا؛ لیکن کبھی دلوں میں دوریاں پیدا نہیں ہوئیں، وہ متحد اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے، باطل طاقتوں کے لئے ہمیشہ وہ چٹان ثابت ہوئے۔ ایک دوسرے پر نہ تنقید کرتے نہ دوسرے کو برا بھلا کہتے، ایثار اور ہمدردی میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ باطل ان سے لرزتا تھا، کثرت وسائل اور تعداد کے باوجود ان کی طرف دشمن آنکھ نہیں اُٹھاتے اور کبھی اگر کسی نے جرأت کی تو مسلمانوں نے آگے بڑھ کر مقابلہ کیا اور ہمیشہ کے لئے ان کی طاقت کو مسمار کر دیا۔ آج جہاں مسلمانوں میں ایمان کی مضبوطی اور عمل کی کمی ہے وہیں اتحاد کا بڑا فقدان ہے۔ ہر شخص اپنی جماعت ، اپنے مسلک اپنے ایجنڈے کے تحفظ میں لگا ہوا ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں بھی مناظروں کا بازار گرم ہے، ایک دوسرے پر تنقید اور کیچڑ اچھالنے کا مزاج عروج پر ہے، کوئی ایک انچ بھی اپنے طے شدہ اصول اور مشن سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے، منبر و محراب سے آج بھی گالیوں کی برسات ہے۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں مسلمانوں کا اپنی فتح اور کامیابی کی امید اور دشمنوں پر فتح کی تمنا کبھی پوری نہیں ہوسکے گی، ضرورت ہے کہ مسلمان مسلکی اور جماعتی اختلافات کو فراموش کرکے دفاع دین کے لئے متحد ہو جائیں، جس کو آپ بہتر سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں لیکن دوسروں پر تنقید نہ کریں، ان پر کوئی مصیبت یا آفت آجائے تو اس پر ہنسنے اور احساس مسرت کے بجائے آگے بڑھ کر تعاون کریں، ان کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھیں ان کے دکھ درد میں کام آئیں، کسی کو جہنمی، گمراہ اور کافر کہنے کے بجائے اس کے لئے رحمت کی دعا مانگیں، جب اس طرح مسلمانوں کے درمیان محبت اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا تو اللہ کی رحمت متوجہ ہوگی اور مسلمان ہر محاذ پر کامیاب ہوں گے۔
تیسری شرط دین الٰہی کی نصرت اور اس کا فروغ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔‘‘ (محمد : ۷)
حضرات مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ دین کی نصرت سے مراد اس کی تبلیغ و اشاعت ہے یعنی جہاں تک انسان کی وسعت ہے اور جتنی طاقت ہے اس کے مطابق دین کو عام کیا جائے، اس کی روشن تعلیمات سے غیروں کو آگاہ کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل گئے اور آخری دم تک دین کی دعوت دیتے رہے۔ اس سے اسلام کو فروغ حاصل ہوا لوگ اسلام کی روشن تعلیمات سے واقف ہوئے، جس کے نتیجے میں وہ اس سے متأثر ہوکر اس کے قریب آئے اور ان کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جب دعوت کا کام کریں گے اور اپنی بستی سے لے کر ایوانوں تک دین کے پیغام کو عام کریں گے تو ان ہی میں سے کچھ لوگ اسلام کے شیدائی بن کر ابھریں گے اور مسلمانوں کو قوت حاصل ہوگی۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے لوگ اسلام کے مخالف ہیں، ان میں بہت سے افراد حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے اسلام سے بغض رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں اسلام کے عادلانہ نظام سے باخبر کیا جائے تو وہ اسے قبول کرکے مسلمانوں کے قریب آسکتے ہیں ، اس طرح باہمی فاصلے کم ہوں گے اور منافرت کا ماحول ختم ہوگا، اس میں نہ صرف دعوت کے کام کرنے والوں کی بھلائی ہے؛ بلکہ تمام مسلمانوں کے حق میں یہ بہتر ثابت ہوگا۔
آج اسلام کے تئیں بغض و عناد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے کبھی غیروں کو اسلام کی سچائی بتانے کی کوشش نہیں کی اور اس کی پرکشش تعلیمات سے انہیں آگاہ نہیں کیا۔ ایک غیر مسلم سے ہم زندگی بھر کام لیتے ہیں، دنیا کے سارے کام ہم ان سے کراتے ہیں لیکن کبھی اس کو توحید اور رسالت کی بات نہیں بتاتے ، بہت سے برادرانِ وطن ہمارے ارد گرد رہتے ہیں، ان سے مختلف طرح کے ہمارے تعلقات ہوتے ہیں لیکن کبھی نماز اور روزے کے فوائد ان کو نہیں بتاتے ہیں، دین حق کا ذکر اگر مصلحت کے ساتھ ان کے سامنے کیا جائے تو یقیناً ان کو تجسس پیدا ہوگا، وہ قرآنی تعلیمات جاننے کی کوشش کریں گے اور ایک وقت آئے گا کہ اسلام کی سچائی کے دامن میں وہ پناہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ دوسروں کی تہذیب و ثقافت اور غیر اسلامی کلچر سے ہم بہت جلد متأثر ہو جاتے ہیں اور نتیجے میں ان کی نقل شروع کر دیتے ہیں لیکن دوسروں پر اسلام کا عکس اور اس کی چھاپ ہم نہیں چھوڑ سکتے، اس لئے کہ خودہمارے ایمان میں وہ پختگی نہیں جس سے دنیا میں ہم انقلاب برپا کر سکیں۔
نصرت الٰہی کی چوتھی شرط مادی اور ظاہری اسباب کو اختیار کرنا ہے۔ ارشادِ باری ہے:
اور (اے مسلمانو! جہاں تک تم سے ہو سکے) ان کے مقابلے کے لئے تیار رہو جو کچھ ساز و سامان مہیا کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کرو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر تمہاری دھاک بیٹھے اور ان کے سوا دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور خدا کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے وہ تم کو پورا پورا ملے گا اور تمہارا حق نہ رہ جائے گا۔(الانفال: ۶۰)
ہر زمانہ میں دفاعی قوت کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں، جس وقت جو قوت سب سے اعلیٰ ہو اس کے حاصل کرنے اور اس کی تیاری کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ تسبیح اور اَوراد و اذکار سے بلاشبہ اللہ سے تعلق حاصل ہوتا ہے لیکن دشمنوں پر غلبہ پانے کے لئے یہ کافی نہیں ہے، ورنہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب میدان کارزار گرم نہ کرتے اور اپنی جانوں کو قربان نہ کرتے۔ ان سے بڑھ کر دنیا میں کون عابد و زاہد ہو سکتا ہے لیکن رات میں وہ جہاں عبادت کرتے وہیں دن کے اجالے میں اسلام کے بہترین اور بہادر سپاہی بن جاتے تھے جن کی شجاعت کو دیکھ کر دشمن کانپ اٹھتا تھا۔ آج سب لوگ اپنی تجارت اور اپنے مفادات کے تحفظ میں مست ہیں، عالمی اور ملی حالات کچھ بھی ہوں، شریعت میں ہزاد مداخلت کی جائے، مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ جائیں، لیکن ان کی نیند اور آرام میں کوئی خلل نہیں ہے، اخبارات پڑھ کر اور نیوز جان کر اس طرح آگے بڑھ جاتے ہیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں، دلوں میں درد ہے اور نہ کوئی تیاری۔ قرآن نے مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ آپ چوکنا رہیں اور جس سے جو بن سکے شریعت کے تحفظ کے لئے اسباب اختیار کریں، اگر کوئی مالدار ہے تو وہ مال خرچ کرے، اہل علم اسلام کی مدافعت کے لئے لٹریچر تیار کریں، تقریر و خطابت کے ذریعہ مسلمانوں کو جگائیں، جو لوگ سیاست سے جڑے ہوئے ہیں وہ سیاسی قوت بنائیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے جولوگ وابستہ ہیں وہ خالص اللہ کے لئے دین کی مدافعت اور اس کے فروغ و اشاعت کے لئے کام کریں، اسلام کے خلاف چیلنجوں کا بھرپور جواب دیں۔
غرض اللہ سے مضبوط تعلق، باہمی اتحاد و اتفاق، دعوت دین اور زمانہ شناسی یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہی ہم اللہ کی مدد اور اس کی نصرت کی امید کر سکتے ہیں۔ عیش و عشرت میں ڈوب کر نصرت الٰہی کی توقع بڑی غلطی اور اُصول قرآنی کے خلاف ہے۔

این پی آر کا بائیکاٹ کیسے کریں

NRCنیشنل رجسٹر آف سٹیزن 1985میں مرکزی حکومت و آسام کی ریاستی حکومت کے درمیان معاہدہ کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت آسام میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے بنگالی زبان بولنے والوں کی شناخت کرنا اور انہیں ملک سے باہر کرنا یا ڈٹینشن کیمپ میں رکھنا پایا تھا۔ گذشتہ دنوں ریاستی انتخابات میں بنگالی زبان بولنے والے ہندوؤں نے بی جے پی کو منتخب کیا۔ آسام میں NRCسے 19/ لاکھ لوگ باہر کر دیے گئے جن میں سے 14/لاکھ غیر مسلم بنگالی زبان بولنے والے ہیں جنہوں نے بی جے پی کی حکومت میں یوگدان دیا ہے۔ 14/لاکھ غیر مسلموں کے دباؤ کا نتیجہ شہریت ترمیمی ایکٹ CAAہے جس میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ انہیں شہریت دے دی جائے گی۔ لیکن 5/لاکھ مسلمانوں کے بارے میں فیصلہ شاید ڈٹینشن کیمپ ہی ہو۔ نیشنل پاپولیشن رجسٹر NPRدراصل 2003میں بنایا گیا قانون ہے جو 2004میں نافذ ہونا تھا لیکن بی جے پی کی حکومت گرنے کی وجہ سے اس میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب جب کہ بی جے پی اقتدار میںا ٓگئی ہے NRC, NPRاور CAAکے مثلث کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے NPRکے کارکنان آپ کے گھر آئیں گے۔ وہ آپ سے سوالات و جوابات چاہیں گے۔ جس میں نام، پتہ، عمر، پیشہ، اولاد، تعلیم، پین کارڈ، پاسپورٹ، راشن کارڈ، آدھا کارڈ، والدین کے نام، ان کی جائے پیدائش و تاریخ پیدائش شامل ہوں گے۔ یہ سب معلومات تحصیل آفس جائے گی جہاں دی ہوئی معلومات پر اگر شک ہوگا تو آپ کو کسی دفتر میں معہ دستاویزات کے بلایا جائے گا۔ ان دستاویزات سے اگر وہ مطمئن ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ آپ کے نام کے آگے ڈی سٹیزن لکھ دیا جائے گا۔ اس کا مطلب آپ مشکوک شہری بنا دیے جائیں گے۔ یہاں سے NRCکا پروسیس شروع ہوتا ہے۔
آپ کو فارن ٹریبونل میں بلایا جائے گا جہاں دستاویزات کی جانچ ہوگی۔ ٹھیک رہے تو بہتر ورنہ غیر ملکی قرار دے دئیے جائیں گے۔ جیسے ہی ٹریبونل نے آپ کو غیر ملکی طے کر دیا، جائدادیں ، سہولیات اور ووٹ کا حق سب چھین لیا جائے۔ عدالتوں کے چکر کاٹ کر آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ بھارتی ہیں تو ٹھیک ورنہ سٹیزن ترمیمی قانون CAAکے تحت آپ سے رویہ اختیار کیا جائے گا۔ غیر مسلم ہوںگے تو جیسے تیسے شہریت مل جائے گی اور مسلم ہوں تو ڈٹینشن کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔
اس طرح NRC, NPRاور CAAکا مثلث مسلمانوں کو ہی نہیں تمام شہریوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ ملک کی 40فیصد آبادی دلت، آدیواسی اور قبائلی ہے جن کے پاس کوئی دستاویزات یا کاغذات نہیں ہیں۔ انہیں نئے سے بڑی مشکلات کے بعد شہریت مل بھی جائے گی پر گذشتہ دنوں میں ملنے والے تحفظات سے محروم ہونا پڑے گا۔ وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ 2018-19))کے مطابق NPRدراصل NRCکا پہلا قدم ہے۔ NPRکو آسام میں لاگو نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ وہاں NRCہو چکا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ NPRدراصل NRCکی طرف جانے والا پہلا عمل ہے۔ جس کا مکمل بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔
NPRکے بائیکاٹ کی اپیلیں
NPRکے بائیکاٹ کے ضمن میں جمعیت العلماء ہند (دونوں) جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث، وحدت اسلامی ہند، PFI، علماء کونسل، الائنس اگینسٹ، CAA, NRC, NPR، دستور بچاؤ تحریک، ہم بھارت کے لوگ، بامسیف، بھارت مکتی مورچہ، مولانا سجاد نعمانی، مولانا ولی رحمانی (سکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کا واضح موقف ہے کہ NPRکا بائیکاٹ کیا جائے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب (رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ)
NPRکے فارم کے ایک ایک لفظ کو ہم نے کئی کئی بار پڑھا ہے۔ اور ان سب کے بعد ملک کے تمام قائدین مسلم ہو یا غیر مسلم، سبھی سماج کے لوگوں کے قائدین کے ساتھ میٹنگیں ہوئیں۔ اور سب کی یہی رائے ہے کہ کسی قیمت پر NPRکا فارم نہیں بھرا جائیگا۔
مولانا ارشد مدنی صاحب (جمعیۃ علماء ہند)
ملک کو بچانے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو لازم ہے کہ وہ این آر سی، سی اے اے کے نفاذ کے خلاف مشترکہ جدو جہد کریں۔ بھارت کے تقسیم کے مسلمان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے خود ستاویزات پر دستخط کی تھی اور ملک کے دو ٹکڑے بڑی سازش کے ساتھ کئے گئے تھے۔ این پی آر و این آر سی کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
مولانا یسین اختر مصباحی صاحب (ترجمان مکتب اہل سنت)
NPRکے سارے پہلو پر غور کرنے کے بعد جو معقول طریقہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ کوئی بھی شخص کسی بھی سرکاری نمائندے کو کسی بھی طرح کی معلومات نہیں دیں گے۔ اور کسی بھی عنوان سے ہم اس طرح کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے کہ ہمارے باپ کہاں پیدا ہوئے؟ کب پیدا ہوئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات سے پرہیز کیا جائے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب (جنرل سکریٹری مجمع الفقہ الاسلامی)
حکومت نے کہا کہ NPRتو ملک میں معمول کے مطابق ہو رہا ہے لیکن اگر آپ اس کا فارم دیکھیں اور اس کا مقصد سامنے رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ NPRیہ NRCکی طرف پہلا قدم ہے اس سے آئندہ NRCکو ترتیب دینے میں آسانی ہوگی اس کے لیے وہ راستہ تیار کر رہی ہے اس لئے اس میں ایسی معلومات کے خاکے بڑھا دیے گئے ہیں جو پہلے مردم شماری میں نہیں ہوا کرتے تھے، اس لئے ہماری ملی قیادت اور منصف مزاج سیکولر قومی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اس میں تعاون نہیں کرنا ہے اور تمام لوگوں سے ہماری اپیل ہے کہ اس کا بائیکاٹ کریں۔
مولانا محمود مدنی صاحب (جمعیۃ علماء ہند)
اس قانون کے تعلق سے ایک ریزولوشن پاس کیا گیا ہے کہ ہم NPRجیسے قانون کا بائیکاٹ کریں گے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہ جلد از جلد اپنا موقف ظاہر کریں۔ اور ہم اسے ایک آپریشن مومنٹ کی طرح چلائیں گے۔ اور اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی (جماعت اسلامی ہند)
نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا جائے گا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے NRCکو رول بیک کرنے CAAکی ترمیم کو منسوخ کرنے تک NPRکے عمل کو روکے رکھیں۔‘‘امیر جماعت اسلامی نے اپیل کی ہے کہ NPRکو اکیلے میں نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ NPRکو NRCاور CAAکے امتزاج سے دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ اس لئے ہم NPR کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ (انڈین ایکسپریس)
مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب (وحدت اسلامی ہند)
حکومت ہند کا کالا قانون CAAاس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے اور حکومت اس کالے قانون کو واپس لینے کے بجائے اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبا رہی ہے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ حکومت تفریق پر مبنی اس کالے قانون کو واپس لے ۔ این پی آر، این آر سی، سی اے اے کو واپس لے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سبھی سماج کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے احتجاج کی بات کو حکومت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ تمام تنظیموں کے متحد فیصلے سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ NPRکا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے۔
مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی صاحب (رہنماء مجلس احرار الاسلام)
ہم تو یہیں کے رہنے والے ہیں باہر کے رہنے والے نہیں ہیں۔ اور یہیں پیدا ہوئے، ہماری نسلیں گذر گئی یہاں، ہمارے سب بزرگوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ جو بھی ہمارے پاس آئے، ہم اسے بڑی محبت سے سمجھائیں اور اسے بتائیں کہ ہم اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ ہم کیوں کاغذ دکھائیں؟ ہمارے اب بزرگوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے۔
ہم بھارت کے لوگ:
4فروری2020کو دہلی میں National Population Registerکے بائیکاٹ کرنے کے لئے ملک بھر میں مطالبہ کیا گیا۔ CAA, NPRاور NRCکے خلاف مزاحمت ہی اس کا واحد راستہ ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں وقتاً فوقتاً دئیے گئے مبہم جوابات (ابھی نہیں، اب تک، فی الحال) اور وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دوسرے سینئر کے جاری کردہ عوامی بیانات کا ذکر کرتے ہوئے بی پی، ایچ بی کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اسے فورطی طور پر این پی آر کو واپس لینا چاہئے ۔
انیس احمد (سکریٹری پاپولر فرنٹ آف انڈیا)
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم NPRکا بائیکاٹ کرتے ہیں کیونکہ یہ NRCکے لیے بیک ڈور انٹری ہے اور حکومت نے NRCکے بارے میں بات کرنا بند کر دیا ہے وہ NPRکو عمل میں لاکر NRCکو عمل میں لائے گی 2003میں حکومت نے ایک Notificationجاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ NPRسے ہندوستان کے عوام کی معلومات یکجا کی جائے گی مثلاً آپ کے رہنے کی جگہ، آپ جس جگہ رہ رہے ہیں اس کا وقفہ وغیرہ وغیرہ اور پھر کوئی بھی آفیسر کسی کے بھی نام کے آگے Doubtful Citizenکا نشان لگا سکتا ہے یعنی کہ آپ کے اس ملک کے شہری ہونے پر شک ہے۔۔
NPRاس سے 10سال پہلے بھی کیا گیا تھا لیکن اس میں یہ سارا پروسیس نہیں تھا لیکن اس NPRکو پہلے جیسا مت سمجھئے کیونکہ اسی کی بنا پر NRCکو عمل میں لایا جائے گا، اس لئے ہندوستان کی ساری عوام سے اپیل ہے کہ اس CAA، NRCکی طرح اس کا بھی بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ یہ NRCکے لئے بیک ڈور انٹری ہے۔
ٹائمز آف انڈیا- این پی آر کا بائیکاٹ کرکے بی جے پی کے ’دباؤ‘ سے لڑو (ممتا بنری)
NPRیہ NRCکی طرف پہلا قدم اور خود کی سیاست کو بڑی اور مضبوط کرنے کے لئے بی جے پی کی ایک بڑی چال ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’اب وہ اختلاف رائے کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے گولیوں کی باتیں کر رہے ہیں۔ اور جو سرکاری آفیسر آپ کے گھر معلومات لینے کے لئے آئے تو انہیں کچھ مت بتانا۔ زمین یا مکان کے کاغذات اور راشن کارڈ جیسی دستاویزات نہ دیں اگر وہ پوچھیں ،یہاں تک کہ اگر وہ حکومت کے شناختی کارڈ لے کر آئیں۔
100تنظیمیں CAA, NRC & NPRکے خلاف ایک جگہ
NPRیہ NRCسے اور بھی زیادہ خطرناک ہے، جس سے سرکاری عہدیداروں کو مشتبہ شہریوں کا انتخاب کرنے کا موقع ملے گا۔ ملک نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کا فیصلہ کرنے کے حکومت کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ NPRصرف NRCکے تحت کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ مردم شماری ایکٹ کے تحت مردم شماری کرتے ہیں۔
بائیکاٹ کیسے کیا جائے؟
(۱) محلہ کمیٹیاں بنائی جائیں۔ صدر کمیٹی امام مسجد محلہ کے کارپوریٹر اور فعال نوجوانوں پر مشتمل ہو۔ جہاں ممکن ہو وہاں دلت، سکھ اور سماجی کارکنان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب NPRکے کارکنان محلہ میں آئیں تو ان سے یہ ایکشن کمیٹی ملے ، ان کا استقبال پھول سے کیا جائے اور انہیں سمجھایا جائے کہ یہ محلہ آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا برائے مہربانی آپ واپس جائیں۔
(۲) محلے کے ہر دروازے پر Go Back – No NPRکا اسٹیکر لگایا جائے۔
(۳) ضرورت پڑنے پر محلے کے تمام افراد گھروں سے باہر آکر NPRکارکنان کو سمجھائیں اور انہیں تحریری شکایت دینے کی تلقین کریں کہ یہ محلہ آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور اس کی پوری ویڈیو گرافی کی جائے۔
(۴) ہر محلے کے داخلی دروازے پر NPRکارکنان کے لئے نوٹس لگایا جائے جس پر کمیٹی کے ذمہ داران کے نام اور موبائل نمبر درج ہوں۔

ارشادِ نبویﷺ

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنقریب دیگر اقوام تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے دسترخوان کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کسی صحابیؓ نے آپؐ سے پوچھا کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ۔ آپؐ نے فرمایا: بلکہ اس وقت تم تعداد میں زیادہ ہونگے لیکن تم خس و خاشاک کی طرح بے وقعت ہوںگے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہیبت اور رعب تمہارے دشمن کے دلوں سے نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا کردے گا۔ کسی نے دریافت کیا وہن کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا : دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔
(رواہِ ابوداؤد)

یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا

اکیسویں صدی میں ظالم اور جابر حکومتوں کے خلاف تیز تند آندھی کی طرح تحریکیں اٹھیں جن سے حکومتوں کے خیمے اکھڑ گئے، بہت پہلے ایران میں اور پھربعد میں عرب ملکوں میں ، تیونس میں ،مصر میں ، شام میں ، لیبیا میں عوام و خواص جابر حکومتوں کے خلاف انقلاب بردوش بن کر اٹھے اور انہوں زمین میں زلزلہ ڈال دیا اور حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ، کہیں یہ انقلاب کامیاب ہوا اور کہیں دنیا کی بڑی طاقتوں کی سازش سے اور خلیجی ملکوں کی کوشش سے ناکام ہوگیا ۔جو منظر عرب ممالک میں چند سال پہلے دیکھنے میں آیا تھا وہی منظر اب ہندوستان میں دیکھنے میں آرہا ہے، مصر کے میدان التحریر کی طرح ہندوستان کا ہر میدان میدان تحریر بن گیا ہے ہندوستان کے طول وعرض میں پرجوش احتجاجات کی لہر اٹھ رہی ہے ، عصری جامعات کے طلبہ اور خواتین کا اس میں قائدانہ رول ہے ،ان کے پیدا کردہ زلزلہ سے زمین ہل رہی ہے اور ان کے غلغلہ سے گنبد مینار گونج رہا ہے ۔ حدیث نبوی کی روشنی میں انسان کو نہ تو ظالم ہونا چاہئے اور نہ مظلوم، ظلم کا مقابلہ کرنا ایک دینی قدر ہے اور جو نوجوان حکومت کے ظلم کو روکنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں وہ قابل قدر ہیں اور ان کی ہمت کی داد دینی چاہئے کہ سخت سردی کے موسم میں ، برفبار ہواوں میں، تمام برادران وطن کے ساتھ مل کر ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری آئین کی حفاظت کے لئے او ر تکثیری سماج کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اگر اس وقت مزاحمت نہ کی گئی تو اس ملک میں اقلیتوں کو لوح ایام سے مٹا دیا جائے گا ۔ پھر نہ مسجدیں رہیں گی نہ چرچ نہ اقلیتوںکی عبادت گاہیںاور نہ مدرسوں کا وجود باقی رہے گا ۔موب لینچنگ ، جے شری رام کے نعرے ، سوریہ نمسکار ، تین طلاق کا قانون ،دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی ، بابری مسجد اور اب شہریت کے قانون میں ترمیم کا ایکٹ آیا ہے جس سے تمام اقلیتوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ، یہ سلسلہ دراز سے دراز تک ہوتاجارہا ہے ،اگر ظلم کے خلاف پوری طاقت سے عوام نہیں کھڑے ہوں گے تو اس ملک کو اسپین اور ہندو راِشٹر بنانے کا آر ایس ایس کا خواب پورا ہوجائے گا ۔ اس تحریک احتجاج میں تمام مذہب وملت کے لوگوںکو ساتھ لینا بے حد ضروری ہے ۔ تاکہ یہ تحریک طاقتور ہو ،گوہر مقصود حاصل ہو اور یہ سفینہ ساحل مراد تک پہنچ سکے ۔ ایک مقولہ یا نعرہ ہے جومصر کی آزادی کی تحریک میںعیسائبوں اور مسلمانوںدونوں کوساتھ لینے کے لئے وہاں کے مقبول اور ہر دلعزیزلیڈر سعد زغلول نے لگایا تھا الدین للہ والوطن للجمع یعنی دین اللہ کا ہے اور وطن سب کا ہے ۔ یہ نعرہ اس مفہوم میں تو غلط ہے کہ دین کا سیاست سے اور ملک کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس مفہوم میں درست ہے کہ دین اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری کا نام ہے اور حقوق وطنیت میں جو لوگ شریک ہیں ان کے مشترک فائدے کے لئے وطن کی حفاظت کے لئے باہمی اشتراک و تعاون سے کام کیا جانا وطن کا تقاضہ ہے اور یہ دین کے خلاف نہیں۔
ہندوستان میںخلافت اور ترک موالات کی تحریک کے زمانہ میں جس طرح ہر ملت ومذہب کے لوگ شانہ بشانہ شریک تھے اس طرح موجودہ احتجاجات کے مد وجزاور تلاطم میں ہر مذہب کے لوگ شریک ہیں اور ان احتجاجات کی باہمی اصل قوت اسی اتحادو اتفاق میں پنہاں ہے ،وہ حکومت جو فرقہ ورانہ خطوط پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے اس احتجاج کو بھی صرف مسلمانون کا احتجاج ثابت کرنا چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ’’ کون احتجاج کررہاہے اس کا پتہ احتجاج کرنے والوں کے کپڑوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔‘‘دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ فرقہ ورانہ خطوط پر اس تحریک کو ہرگز نہ چلایا جائے اس میں تمام انصاف پسند اور سیکولر ذہن کے لوگوں کو اپنا ہم نوااور ہم سفر، ہمساز اور ہم آواز بنایا جائے ،ایسے نعروں سے گریز کیا جائے جن سے کوئی یہ ثابت کرے کہ یہ احتجاج دیش کے خلاف ہے یا جن سے یہ شبہ ہو کہ یہ صرف مسلمانوں کا احتجاج ہے اورصرف مسلمانوں کا مسئلہ ہے ۔جو نوجوان طلبہ خالص مذہبی نعرے لگائیں گے وہ برادران وطن کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر دور کریں گے اور اس حکومت کوطاقت بخشیں گے جو یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ’’ شہریت کے ان قوانین کی مخالفت صرف مسلمانوں کی طرف سے ہورہی ہے اور مسلمان شروع سے دیش ورودھی رہے ہیں ‘‘ سیرت طیبہ میںمسلمانوں کو حلف الفضول سے آسانی سے دلیل مل سکتی ہے جب رسول اکرم نے نبوت سے پہلے اس معاہدہ میں شرکت کی تھی جو ظلم اور حق تلفی کے خلاف طے پایا تھا اور جس میں مختلف قبائل عرب نے شرکت کی تھی ۔ مسلمانوں کا موجودہ احتجاج اسی مبارک معاہدہ کی طرح ہونا چاہئے جو ہر ظلم وقہرمانی اور نا انصافی کے خلاف تھا جس میں رسول اکرمﷺ نے نبوت ملنے سے پہلے تمام قبائل عرب کے ساتھ شرکت کی تھی اور نبوت ملنے کے بعد فرمایا تھا کہ اس طرح کے کسی معاہدہ کے لئے مجھے بلایا جائے گا تواب بھی میں اس میں شریک ہوں گا ۔
اس کے باوجود کہ کہ ظلم کی مخالفت مذہبی قدر ہے اور دین اسلام نے ظالم کا ہاتھ پکڑنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر مسلمانوں نے احتجاجات کو یہ رنگ دیا کہ یہ ان کا مذہبی معاملہ ہے یا صرف ان کی شہریت کو خطرہ ہے، تووہ دوسرے اپنے ہم وطنوں کو اس تحریک سے الگ کردیں گے اور نتیجہ کے اعتبار سے یہ تحریک ناکام ہوجائے گی۔ہندوستان جیسے وسیع ملک میںاور تکثیری سماج میں آخر وہ وطنی تحریک کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جو صرف ایک گروہ اور صرف ایک مذہب کے ما ننے والوں کی طرف سے برپا کی گئی ہو، جس کا ساتھ دوسرے ہم وطن نہ دے رہے ہوں اور وہ اس کے ہم نفس اور ہم نوا نہ ہوں جبکہ حکومت بھی مسلمانوں کے جان ومال اور عزت و آبرو کی دشمن ہو۔ اس وقت بعض بی جے پی کی حکومتوں نے احتجاجیوں کے خلاف سخت گیری شروع کردی ہے اور کہیں کہیں خرمن احتجاج پر حکومت کی بجلی بھی گری ہے چونکہ الکشن ابھی دور ہے اس لئے حکومت کو اطمنان حاصل ہے، ڈر یہ ہے کہ حکومت کی نا مہربانی اورناترسی اور ترہیب کی وجہ سے یہ مرغ بلندبام کہیں زیر دام نہ آجائے ۔ اس وقت برادران وطن اور ان کے سماحی اور سیاسی لیڈر شیر وشکر ہوکر جمہوریت اور آئین کی حفاظت کے لئے احتجاج کی تحریک کاپورا ساتھ دے رہے ہیں یہ بہت خوش آئند بات ہے اور بہت مسرت افزا ہے۔کوئی ایسی غلطی مسلمانوںکی طرف سے نہیں ہونی چاہئے جس کی وجہ سے وہ ساتھ چھوڑ دیں اور مسلمان تنہا رہ جائیں پھر اس اس احتجاج کی حیثیت ایسے دریا کے تلاطم کی ہوجائے گی جس کی تہ میں موتی نہ ہوں ،وہ صرف ایسی آوازوں کا شور ہوگا جو معانی کی قوت سے تہی ہوں ،وہ ایسی کشتی ہوگی جس کی قسمت میں ساحل نہ ہوگا،وہ ایسی صدا ہوگی جو صدا بصحراء کے مصداق ہوگی ، وہ ایسی آواز ہوگی جو دور افتادہ ہوگی ’’فغان قافلہ بے نوا کی قیمت کیا ‘‘۔
احتجاج ، جلوس ، مظاہرے اورمطالبے جمہوریت کے دور کے ضروری ہتھیار ہیں اور ان سے مفر نہیں لیکن یہ احتجا ج پامردی اور استقلال کے ساتھ کب تک جاری رہ سکے گا یہ بہت اہم سوال ہے، نگاہ دور بیں و دور رس کوحاضر الوقت مسائل کا پائدار حل بھی ڈھونڈنا چاہئے۔جاری احتجاجات کی حیثیت وقتی اور عارضی علاج کی ہے، یہ ضروری کام ہے لیکن ہمیں شفائے عاجل ہی پر نہیں شفائے کامل اور شفائے مستقل پر بھی توجہ دینی چاہئے اس کے لئے مرض کے اصل سبب کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت ظلم کررہی ہے اور ظلم اس لئے کررہی ہے کہ اس کو پارلیامنٹ میں غیر معمولی عددی قوت حاصل ہے ، یہ قوت اسلئے حاصل ہے کہ عوام نے اس کو و ووٹ دیا ہے ، عوام نے اس لئے حکمراں جمات کوووٹ دیا ہے کہ عوام کی اکثریت کے جسم میں اسلام اور مسلم دشمنی کے زہر کا انجکشن دیا گیا ہے ،زہر کا انجکشن سب سے پہلے انگریزمورخوں نے لگایا تھا انہوں نے اپنی سیاسی مصلحتوںکے پیش نظر تاریخ کی کتابیں لکھیں اور ان میں مسلمانوں کے مظالم کے فرضی قصے لکھے جن پر یقین کرنے کے بعد ہندووں اور مسلمانوںکے درمیان اتحاد اور یگانگت کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا، انگریزوں کی کتابوں پر یقین کرانے کے لئے ہندووں نے بھی مسلمانوں پر الزامات عائد کئے، اس سے پوری فضا مسموم ہوگئی۔جناب صباح الدین عبد الرحمن نے اور دوسرے مصنفین نے مسلمانوں کی رواداری کی تاریخ پر اردو میں کتابیں لکھیں لیکن مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابیں جامعات میں نصاب کا حصہ نہیں بن سکیں انہیں غیر مسلموں نے نہیں پڑھااسلئے اسلام دشمنی کا زہر برادران وطن کے ذہن ودماغ میں باقی رہا۔ اس لئے برادران وطن کے ذہن سے جب تک اسلام دشمنی کازہر نہیں نکالا جائے گا حالات نہیں بدلیںگے اورہر تھوڑے دنوں پر ایک نیا زخم لگتا رہے گا۔مسلمان ایک ہزار سال سے ہندووںکے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن وہی بیگانگی اور غیریت جو پہلے تھی وہ اب بھی باقی ہے ۔ اس لئے سب سے ضروری کام اور تمام کاموں پر مقدم کام علمی سطح پر اس زہر کا تریاق مہیا کرنا ہے اوربرادران وطن سے رابطہ قائم کرنا ہے ،ہر ایک سے باہمی تعارف اور شناسائی پیدا کرنا اور اپنے کردار اور نیک اطوار سے ان پر اچھا اثر ڈالنا ہے اور دلوں کو جیتنا ہے ۔یہی چیز حفاظت اسلام اور اشاعت اسلام کی ضامن ہوسکتی ہے قرآن میں ادفع بالتی ہی احسن سے یہی حسن اخلاق مراد ہے ،یہی وہ عمل صالح ہے جس پر استخلاف فی الارض کا وعدہ ہے وعد اللہ الذین آمنوامنکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض ( النور ۷)
ہمارے ملک کی مذہبی قیادت ’’الار ‘‘ کی شکارہے ۔پہلے جب بیل گاڑی چلتی تھی یا گھوڑا گاڑی تو گاڑی بان سواریوں سے کہتا تھا داہنی طرف الار ہورہا ہے بائیں طرف آجائیے اور وہ کبھی بائیں جانب بیٹھے ہوئے سوار کو دائیں جانب جانے کو کہتا ۔ہماری مذہبی قیادت بھی ایک جانب جھکی ہوئی ہے۔ قرآن کے مطالعہ سے اور سیرت نبوی کے مطالعہ سے دین کا جومزاج سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ صرف مسلمانون کی اصلاح کی فکر نہیں ہونی چاہئے بلکہ تمام بنی نوع انسان کی عاقبت بخیر ہونے کی فکر کی جانی چاہئے ، مسلمانوں کو خیر امت اس لئے کہا گیا تھا کہ ان کو تمام بنی نوع انسان کے لئے مبعوث کیا گیا تھا۔مسلمانوںکی بہت سی تنظیمیں ہے اور ان سب کا دائرہ کارصرف مسلمانوںکے درمیان ہے ۔قرآن مجید میں انبیاء کرام کا تذکرہ موجود ہے ۔ان کا کام اور ان کا منہج موجودہ دور کے علماء کے کام اور منہج سے مختلف ہے انبیاء کرام نے ایمان لانے والوں کی تربیت بھی کی تھی لیکن ان کو بنی آدم کے سارے کنبہ کی فکربھی تھی ، ہماری دینی قیادتوں کو صرف مسلمانوں کی فکر ہے۔چاروں طرف نظر ڈالئے تو ہر طرف لسان المسلمین (اردو)کے دینی مد ارس موجود ہیں جہاں قال اللہ وقال الرسول کا زمزمہ گونج رہا ہے،خانقاہیں ہیں جہاں سالک مقامات میں کھوجاتا ہے ،مسلم تنظیمیں بھی ہیں جو بہر حال مفید کام انجام دے رہی ہیں،مسلمانوں کی شریعت کی حفاظت کی بھی بجا طور پر علماء کو فکر ہے، اصلاح معاشرہ کا کام بھی ہورہا ہے ،مسلمانوں کے چند عصری اسکول اور کالج بھی ہیں جہاں نئے مضامین کی تعلیم ہوتی ہے، تجارت اور صنعت کے فروغ کی بھی کچھ نہ کچھ کوشش کی جارہی ہے کچھ اہل قلم تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں ۔ بلا شبہ یہ سب مفید اور تعمیری کام ہیں۔لیکن اصل انبیائی مشن غائب ہے اور علماء کرام کو اس خلا کا اندازہ بھی نہیں ہے اور نہ ان کو اپنے منہج کی غلطی کا احساس ہے۔ کوئی شاہین صفت اور شاہین مزاج صاحب فکرشخص جسے اصل کام کی اہمیت کا اور ضرورت کا اندازہ ہے گرد وپیش کے علماء کی سرگرمیوںکودیکھ کرحسرت وافسوس کے ساتھ کہہ سکتا ہے ’’یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا ‘‘۔
(۱) اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ایک ایسی نئی بڑی ہمہ گیر تنظیم کا قیام ہے جو برادران وطن کے درمیان کام کرے اور ان کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرے،نفرت سے بھرے لوگوں کے پاس محبت کا جام اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے۔اور اس رابطہ کو نئے سرے سے استوار کرے جو ٹوٹ چکا ہے ،اس عظیم مشن کے لئے ایسے کارکن میسر آئیں جو اسلامی اخلاق کا پرتو ہوں ، شرافت ، انسانیت ،نرمی ، ہمدری اور اللہ کے مخلوق کی خدمت ان کے صحیفہ اخلاق کے جلی عنوانات ہوں ۔ سمجھ لینا چاہئے کہ موجودہ سنگین حالات کا اصل سبب نفرت کی وہ دیوار ہے جو ہندو اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہے اورجب تک یہ دیوان نہیں گرے گی دعوت کی راہ بھی ہموار نہیں ہوسکتی ہے۔ اب پہلی فرصت میںشریف انسانوں اور صاحب کردار نوجوانوں کو ساتھ لے کر Mass Contact کا پروگرام بنانا چاہئے اور برادران وطن کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرنی چاہئے ، ان کے ذہن ودماغ میں حسن سلوک کے ذریعہ یہ تصور جاگزیںکردینا چاہئے کہ مسلمان اچھا شہری ،ایک اچھا پڑوسی، ایک اچھا انسان ہوتا ہے،شریف ہمدرد، خوش اخلاق، مہذب اور شائستہ۔ہم نے یہ کام صدیوں سے نہیں کیا ہے۔صحیح مزاج دین سے ،مزاج انبیاء سے دوری پر ماہ وسال کی سیکڑوں گردشیں پوری ہوچکی ہیں، اس مقصد کے حصول کے لئے رفاہ عام اور خدمت خلق کے عنوان سے ایک نئی تنظیم کو بروئے کار لانا ہوگا یا یوں کہئے کہ انبیائی کام یا دعوت دین کے کام کے لئے پہلے مناسب پلیٹ فارم تیار کرنا ہوگا۔ ،مسلمانوں کی موجودہ تنظیمیں جو اپنی جگہ مفید کام انجام دے رہی ہیں ان کواس نئی مہم کو بھی سر کرنے کے لئے یعنی برادران وطن سے رابطہ استوار کرنے کے لئے تیار ہنا پڑے گااور اپنے یہان اس ضروری کام کا ایک متحرک اور فعال شعبہ قائم کرنا ہوگا اور سماجی خدمت کے میدان میں آنا پڑیگا اگر اس وقت اس کام کے لئے ایک نئی تنظیم بھی قائم نہ ہوسکی اور مسلم جماعتوںکو بھی توفیق نہ ملی تو انفرادی طور ہر محلہ اور ہر بستی میں دو تین باشعور مسلمانوں کو مقامی طور پر اس کام کا آغاز کردینا چاہئے ۔یہ بات علماء دین کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ امت مسلمہ کو ’’ خیر امت ‘‘ کا جو تمغہ امتیاز رب العالمین کی طرف سے مرحمت فرمایا گیا تھا وہ ’’ اخرجت للناس ‘‘ کے مشن کے لئے تھا جسے غلطی سے ’’اخرجت للمسلمین ‘‘کا مرادف سمجھ لیا گیا ہے ۔یاد رکھئے کہ اس اہم کام کی طرف سے بے التفاتی کے عواقب خطرناک ہوسکتے ہیں‘ یہ ضروری دینی کام مرد بیمار کے لئے زود اثر دوائے شفا کی حیثیت رکھتا ہے اور اب ہر قیمت پر یہ کام انجام دیا جانا چاہئے ’’اس بے حد ضروری کام کے لئے جو اس بیمار ملت کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے اہل خیر اور اہل توفیق کو آگے آنا چاہئے ۔ ‘توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے۔‘‘ایسا نہیں ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام سے مانوس کرنے کے اس بے حد اہمیت کے کام کا احساس راقم سطور کو پہلی بار حاصل ہوا ہے ۔علامہ سید سلیمان ندوی نے مولانا مناظر احسن گیلانی کو ایک خط لکھا تھا جو معارف مئی ۱۹۶۳ میں شائع ہواتھا ۔ اس خط کا اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ آپ سے دل کی بات عرض کرتا ہوں ، دینی خدمت کا شعور دماغ میں جب سے پیدا ہوا ہے ذہنی طور میرا دماغ ہمیشہ اس پہلو کوسوچتا رہا ہے کہ ہندوستان کے غیر مسلم اقوام تک اسلام کو آگے بڑھانے کی کوئی صورت نکالی جائے، میرا خیال ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو زندہ کرنے کی کوشش لاحاصل ہی کوشش ہے ،ہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی تازہ خون اسلام کی رگوں میں کسی راہ سے اگر آجائے تو یہ ممکن ہے کہ اس کی حرارت سے ان پرانے تھکے ہوئے اگھائے ہوئے مسلمانوں میں زندگی پیدا ہو ، مگر براہ راست ان کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے کام کو قریب قریب مردوں کو جگانے اور اور جھنجھوڑنے کے ہم معنی سمجھ رہا ہوں۔‘‘
مذکورہ بالا خط مولانا مناظر احسن گیلانی کے نام تھا ، خود مولانا مناظر احسن گیلانی اپنے ایک مضمون میں جو معارف اپریل ۱۹۵۷ میں شائع ہواتھا لکھتے ہیں: ’’ مسلمانوں کے لئے وہ اندلس زیادہ پائدارہوتا جس میں خواہ الزہراء، اور قرطبہ اور غرناطہ نہ ہوتے مگر مسلمانوں پر جو فرض آخر الامم ہونے کی حیثیت سے عطا کیا گیا ہے اگر اس کو وہاں کا حکمراں طبقہ پیش نظر رکھتا تو وہ سیاسی مصائب و آفات کے جن گردابوں میں تہہ و بالا ہو کر رہ گئے ، شاید یہ صورت پیش نہ آتی ۔‘‘
(۲) ایک اوردوسرا ضروری کام ہے جو حالات کو بدلنے کے لئے ضروری ہے۔یہ بات ’’ خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں‘‘ ۔ ہندوستان کی تاریخ میں اہل دل اور اصحاب روحانیت نے غیر مسلم عوام اور خواص پر بہت اثر ڈالا تھا، ان کی خانقاہیں ستم رسیدہ انسانوں کی پناہ گأہیں تھیں، ان کی شفقت اور دلداری کی شبنم ان کے زخمی دلوں کے لئے مرہم تھی ، مضطرب اور بے چین دلوں کو وہاں سکون اور آرام ملتا تھا ،خلائق کا اورتمام مذاہب کے لوگوں کاان پراس طرح ہجوم ہوتا تھا جیسا پروانوں کا شمع پر ہوتا ہے ،بردران وطن بہت بڑی تعداد میں ان سے معتقدانہ تعلق رکھتے تھے اور کچھ لوگ اسلام بھی قبول کرتے تھے ۔لیکن اب ’’ آں قد ح بشکست وآن ساقی نہ ماند‘‘وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔اس وقت ضرورت ہے کہ ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے فقیرانہ اور درویشانہ زندگی بسر کرنے والے زہد وعبادت کے پیکر موجود ہوں جو ارشاد وتربیت کا کام انجام دیں جو تمام مسلکی اختلافات سے بلند ہوں ۔ایسی شمعیں جب جب روشن ہوںگی پروانے بھی آئیں گے ۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ختم کرنے کے لئے اعلی روحانی استعداد رکھنے والے ایمان ویقین اور درد ومحبت کی مشعل جلانے والوں کی ضرورت ہے ۔ تاریخ میں درویشانہ زندگی اختیار کرنے والے اولیاء کرام نے رواداری اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے اور اس کے ساتھ پشت پر حکومت کی طاقت سونے پرسہاگہ کی حیثیت رکھتی تھی ،اب حکومت کی طاقت تو نہیں ہے، مسلمانوں کی حکومت دوبارقائم نہیںہوسکتی،اور نہ ان کا پرانا اوج اقبال واپس آسکتا ہے لیکن اگر مسلمان تعلیم میں اور اقتصادیات میں کوئی مقام پیدا کرلیں تو یہ انقلاب انگیز قوت حکومتی طاقت کا بدل بن سکتی ہے اور ان کی وجاہت کی بازیابی کا ذریعہ ہوسکتی ہے ٍ ۔ضروری ہے کہ ہر مسلمان کوئی حرفت اور ہنر سیکھ لے اور کوئی مسلمان گداگر باقی نہ رہے ، مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو مسلمانوں کی تعلیم، صنعت اور اقتصادی حالت کے استحکام کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز نے مسلمانوں کے امپاورمنٹ پر پورا لٹریچر تیار کردیا ہے جس سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
(۳) تیسرا ضروری کام جو مسلم قائدین کے ذمہ قرض ہے وہ تمام بڑے شہروں میں جامعات میں عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے اسلامی ہوسٹل کی تعمیر ہے جہاں ہزاروں طلبہ کی ذہنی اور فکری اور اخلاقی تربیت کا انتظام ہوسکے ۔اور وہ امت مسلمہ کے کام آسکیں بہت پہلے مولانا مناظر احسن گیلانی نے اس اہم کام کی طرف توجہ دلائی تھی لیکن ان کا یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ۔
(۴)چوتھا ضروری کام دینی مذہبی مدرسوں میں نصاب تعلیم کی اصلاح ہے یعنی ایسا نصاب تعلیم ہو جسے پڑھ کر اور مدرسوں سے فارغ ہوکر علماء برادران وطن کو ان کی زبان میں مخاطب ہونے کے اہل ہوسکیں اور ان سے ڈائلاگ کرسکیں ،قرآن کی اس آیت کو سامنے رکھنا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ ہر زمانہ کا پیغمبر اپنی قوم سے لسان قوم میں خطاب کرتا تھا ۔لسان قوم میں مہارت تو بڑی چیز ہے اب مسلمان اردوزبان سے بھی جو مادری زبان ہے غافل ہوتے جارہے ہیں ، نئی نسل اردو نہیں سیکھ رہی ہے اردوزبان میں ہماری مذہب اور ثقافت کا بہت بڑا سرمایہ ہے ، یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ یہ سرمایہ ضائع ہوجائے گا ۔اردو زبان اہل اردو سے شکوہ سنج ہے اور ان کی بے غیرتی اوربے حمیتی پر ماتم کناں ہے ۔غالب نے شکایت کی تھی’’ تم کیسے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے ‘‘ اب یہ کام اہل دانش وبینش اور علماء کرام کا ہے جن کی حیثیت مسیحائے قوم کی ہے کہ مذکورہ بالا خطوط پر امت کی رہبری کریں اور اپنی تقریر و تحریرسے ان کے اندر قوت عمل پیدا کریں اور انہیں بتائیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ تعمیراور تعلیم کے کاموں کے لئے اپنی ساری توانائیاں خرچ کرڈالی جائیں ، جنگی خطوط پر کام کیا جائے اور وقت کے تلوں سے سارا تیل نچوڑ لیا جائے اور فضول خرچی کا کوئی کام نہ کیا جائے اور اپنا سرمایہ ملت کے کام پر لگایا جائے،انہیں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ ان کا مقابلہ ایسی تنظیم (آرایس ایس )سے ہے جس کے پاس عسکری قوت اسقدر ہے جس قدر حکومت کے پاس ہے اورپھراس وقت حکومت بھی اسی کی ہے ،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اسی کا ہے، سارے وزراء اسی کے چشم وابروکو دیکھ کر کام کرتے ہیںاور وہ اس کے آگے جواب دہ ہیں ۔ اس تنظیم کے پاس ملک میں سیکڑوں اسکول اور کالج ہیں، وہ دنیا کی سب سے بڑی پرائئویٹ تنظیم ہے اور اس کا نصب العین ہندو اسٹیٹ کو وجود میں لانا ہے۔ گذشتہ پچاس سال میں اس نے اتنی ترقی کی ہے کہ ملک کی اکثریت کے نزدیک وہ میر کارواں ہے اور مسلمانوں کی ترقی معکوس اس قدر ہے کہ وہ گرد کارواں بھی نہیں ہیں ۔ کیا باتیں غور وفکر کودعوت نہیں دیتی ہیں ۔ ہمیںغور کرنا ہے کہ ہمیں اب کیا کام کرنا ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ ’ دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تر است‘‘ لیکن ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے ۔
حضرات ! میری بساط کیا ہے ۔ مجھ سے پہلے ایسے عالم اور دانشورگذرے ہیںجنہوں نے ان خطرات کی طرف توجہ دلائی تھی جو اب ہر طرف سامنے آگئے ہیں اور جن کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے لیکن انذار کچھ کام نہیں آیا اور قوم کی بے حسی میں کوئی فرق نہیں آیا اور قوم کی وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔تقریبا ایک صدی پیشتر علامہ سید سلیمان ندوی نے معارف کے شذرات (جولائی ۱۹۳۶)میں آگاہ کیا تھا :
’’ ایک نکتہ ہندوستان کے مسلمانوں کے غورکے قابل ہے ، اس ملک کے ہندووں نے خواہ وہ اپنے سیاسی مسلکوں میں کتنے مختلف ہوں ایک بات قطعی طور سے طے کرلی ہے ، وہ یہ کہ ان کا قومی نصب العین یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو تہذیب وتمدن کلچر اور ادب بلکہ حکومت تک کو دوبارہ قائم کیا جائے ، اور ہندوستان کو بجا طور پر’’ہندواستھان‘‘ بنایا جائے ،اس مقصد پر آریہ سماج اور سناتن دھرمی ، مہاسبھائی اور کانگریسی ، جی حضوری ، اور آزادو ملازم سرکار ،اور اور غیر ملازم سب متفق ہیں ، اور قوم کا ہرفرد اور ہر رکن اپنے اپنے راستے سے اس منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلاجارہا ہے ، سوال یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا نصب العین کیا ہے اور وہ اس کے لئے کیا کررہے ہیں ۔ ‘‘
جب سخت ہندوتو اور نرم ہندتو دونوں کی منزل مقصود ایک ہوجائے تو پھرمسلمانوں کے ایمان ویقین تعلیم و اقتصاد کے استحکام کا چیلنج بہت بڑھ جاتا ہے ، کچھ کوششیں ضرور ہوئی ہیں لیکن وہ کافی نہیں ہماری ملی قیادت کو اب جنگی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس مختصر تحریر میں پورا لائحہ عمل تجویز کردیا گیا ہے ۔ ملت اسلامیہ کے مرد بیمار کے لئے چار اجزاء پر مشتمل یہ لائحہ عمل ایک تیر بہدف نسخہ کیمیاء اور دوائے شفاہے ۔دیکھنا ہے مسلمانوں کے ارباب حل وعقد میں کون ان کاموں کے لئے اور تمام خطرات کے سد باب کے لئے آگے آتا ہے ۔ ہاتف غیب منتظر ہے کہ دیکھے کون ایسا مسلم قائد میدان میں آتا ہے جو ان افکار کو اور اس طویل مدتی منصوبہ کو عملی جامہ پہنائے اور یہ لکھے کہ اب مسلمانوں کے صحیفہ تاریخ کا ورق الٹنے والا ہے اور عزت وکامرانی کا دور شروع ہونے والا ہے ،ہر شخص کو انتظار ہے ’’ مردے از غیب بروں آید وکارے بکند‘‘ اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔کسی کو غلط فہمی نہ کہ جو کچھ لکھا جارہاہے وہ مضمون نگاری یا انشا پردازی ہے ۔جس طرح ماہر موسمیات موسم کی پیشین گوئی کرتے ہیں اسی طر ح میں بھی اوپر آسمان کو،نیچے زمین کو اور دونوں کے درمیان تیز وتند ہوائوں کودیکھ کر پیشین گوئی کرسکتا ہوں اور کوئی بھی صاحب نظر پیشین گو ئی کرسکتا ہے کہ اگر مذکورہ بالا تجاویز پر عمل نہیں ہوا اور زہر کا تریاق مہیا نہیں کیا گیا تو اس ملت کا وجود خطرہ میں ہے اور آفت وعذاب کی بارش ہونے والی ہے۔ مریض جاں بلب ہے اوروہ ونٹلیٹر پر ہے اورامرجنسی وارڈ میں ہے ، اسے آب حیات کی ضرورت ہے ،اطباء یونان اس حالت میں مریض کے لئے زہر مہرہ تجویز کرتے ہیں ، مذکورہ بالا تدبیروں کی حیثیت زہر مہرہ کی ہے اور تیر بہدف علاج کی ہے ۔ خدا را دیر نہ کیجئے اس ملت کو بچانے کے لئے اسلام اور مسلمانوںکے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے تدبیریں اختیار کیجئے ۔اور اس کے لئے وقت کی اور مال کی قربانی کے لئے تیار رہئے۔مضمون ختم کرنے سے پہلے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی ایک تقریر کا اقتباس ’’مسک الختام ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دیجئے:
’’باہمی اعتماد اور محبت پیدا کرنے کے لئے ہمیں ایک مجنونانہ اور سرفروشانہ جدوجہدکی ضرورت ہے ہندوستان تاریخ کے ایک موڑ اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے ،ایک راستہ ہمیشہ کیلئے تباہی ، نہ مٹنے والے انتشار ،اور نہ ختم ہونے والے زوال کی طرف جاتا ہے، ایک راستہ ہمیشہ کے لئے امن وامان اتحاد ویکجہتی کی طرف جاتا ہے، ہر ایسے موڑ پر کچھ ایسے لوگ سامنے آجاتے ہیں جو تاریخ کا رخ اور
واقعات کا دھارا بدل دیتے ہیں ، ان کی دلیری ، ان کی صاف گوئی اور ان کی جانبازی پورے پورے ملک اورقوم کوبچالے جاتی ہیں، یہی لوگ ملک کے معمار ہوتے ہیں،اکثر ایسے لوگ سیاست اور حکومت کے ایوانوں سے باہر ، ملک کے بے لوث خادموںاور سچے روحانی درویشوں میں پائے جاتے ہیں، جن کی نیتوں پر شبہہ نہیں کیا جاسکتا ،جن کی صداقت اور بے نفسی مسلم ہوتی ہے ، اور ان کا ماضی ہر داغ سے پاک ہوتاہے ‘‘.

معراج کا پیغام2020ء کی عالمی امت مسلمہ کے نام

اللہ کی زمین پر اللہ کے تابعداروں اور باغیوں و شیطان کے پیرؤوں کے درمیان حق و باطل کی کشمکش ازل تا ابد جاری رہے گی۔ موجودہ دور کے ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں معراج نبویؐ کے عظیم تاریخی واقعہ کو بطور تذکیر یاد کیا جانا امت مسلمہ کے لئے امید افزاء اور حوصلہ افزا ثابت ہو سکتا ہے۔ حضور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا بعد از شرف نبوت کا تقریباً آخری پانچ سال کا زمانہ فإن مع العسر یسرا (بیشک ہر تنگی کے ساتھ آسانی اور فراخی ہے) کا بہترین نمونہ ہے۔ اگر آج کے انتہائی صبر آزما، تشویشناک آزمائشوں سے بھر پور ظلم و ستم سے معمور حالات میں ہم اُن پانچ اہم جدوجہد سے بھرے سالوں پر توجہ کریں تو ۷؍نبوی میں شعب ابی طالب کے محاصرہ اور مقاطعہ کے 3سالوں کے بعد 10نبوی کے عام الحزن (غم کے سال )میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد اسی سال دعوتِ دین کی خاطر طائف کا سفر اور وہاں پر پہنچائی گئی شدیداذیت و تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔ ان سخت آزمائشوں کے بعد طائف کے سفر سے واپسی پر پہلی خوشخبری کے طور پر انسانوں کے انکار کے مقابلہ پر جنوں کے اقرار کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کے بعد اللہ پاک کی طرف سے آپ کو معجزہ شق القمر کا انعام عطا فرمایا گیا جسے ہم سفر معراج کے نام سے جانتے ہیں۔
قرآن پاک میں جب یہ اصول بتایا گیا کہ رسولؐ کی زندگی میں تمہارے لئے نمونہ ہے (الاحزاب) تو امت مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ ہر دور میں رسولؐ کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرے اور جانے کہ شدائد، آزمائش، اذیت اور بربریت کے ماحول میں آپ کا کیا رویہ تھا؟ آپ کے اوپر حالات کا وقتی اور مستقل کیا اثر ہوتا تھا، آپ حالات سے کیسے مقابلہ کرتے تھے؛ آپ کے وفادار صحابہؓ کا رویہ اور کردار کیا ہوتا تھا؟ کیا ان کا رویہ جزع و فزع کا ہوتا تھا؛ مرثیہ یا گالی گلوچ کا ہوتا تھا؟ بے صبری اور جلدبازی کا ہوتا تھا؛ اصولوں پر مصالحت یا مداہنت کا ہوتا تھا؟
نبوت کے ساتویں سال جب ہر طرح کی اذیت ، دشنام طرازی، سازشی منصوبہ حضورؐ کے عزم و ارادہ کے سامنے ناکام ثابت ہوتے تو مشرکین مکہ خیف بنی کنانہ میں اکٹھا ہوئے اور فیصلہ لیا کہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا مکمل مقاطعہ کریں گے۔ اِس مدت میں کوئی بھی مشرک ان دونوں قبیلوں سے خرید و فروخت نہیں کریں گے کہ شادی ، نکاح نہیں کریں گے؛ ساتھ اٹھے بیٹھینگے نہیں ، نہ ان کے گھروں کو جائیں گے۔ اس معاہدہ کو لکھ کر خانۂ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ حضرت ابوطالب کی سربراہی خاندان کے لوگوں کے ساتھ پہاڑی درّہ شعب ابوطالب میں مقیّد ہو گئے۔ خرید و فروخت نہ کرنے دینے سے کھانے کا سامان نہیں ملتا تھا۔ فاقہ کشی ہونے لگی۔ جنگلی پیڑوں کے پھل اور پتے کھانا پڑے۔ سوکھا چمڑہ ابال کر کھایا گیا۔ آنے جانے ، ملنے جلنے کی پابندی ہو گئی۔ بچے بھوک سے بلبلا اٹھے۔ ان کی تکلیف دیکھ کر دیکھنے والے دوہری تکلیف میں مبتلا ہوتے۔ اس طرح تین سال کا وقفہ گزر گیا۔ اللہ کی مدد آئی اور وہ معاہدہ اللہ کے حکم سے دیمک نے کھا لیا صرف اللہ پاک کا نام لکھا رہا۔ اتنی زبردست مسلسل آزمائش میں کس طرح اللہ پاک نے اِن اصحاب کو صبر و استقامت پر قائم رکھا اور یہ اصحاب اپنے عہد پر قائم رہے مگر رسولؐ کے دشمنوں کے سپرد نہیں کیا۔ یہ سارے لوگ اہل ایمان نہیں تھے ۔ کافی تعداد صرف قبیلائی عصبیت اور حمیت کی وجہ سے ایسا کر رہی تھی۔ دراصل یہ صبر و عزیمت کا رویہ ہی قیامت تک اہل ایمان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حق کو بغیر لاگ و لپیٹ کے ، بلا کسی خطرہ، نقصان، اندیشہ کی پرواہ کئے بغیر حق کی حفاظت، حق کا اظہار ، حق کی اشاعت کرتے رہنے سے اللہ کی مدد اہل ایمان کے لئے لازم ہو جاتی ہے۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے۔ قید و بند ، مقاطعہ (بائیکاٹ) ، بھوک پیاس کے باوجود حضورؐ اور اہل ایمان حرمت والے مہینوں ، خصوصاً ایام حج میں باہر آکر بیرونی وفود سے ملاقات کرتے اور ایمان کی دعوت دیتے تھے۔ معاہدہ ختم ہونے پر عبد المطلب اور بنو ہاشم اپنی آبادیوں میں آگئے مگر دیمک کے ذریعہ پورا متن معاہدہ کھانے اور اس کی غیبی اطلاع حضورؐ کو معجزانہ طور پر دئیے جانے کے بعد بھی ضدی اور ہٹ دھرم مشرکین انکار پر ہی جمے رہے۔
شعب ابی طالب سے آزاد ہوکر نبیؐ اور اصحاب نے دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد چچا حضرت ابو طالب کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی ۔ مشرکین نے حضرت ابو طالب کے پاس پچیس افراد کا وفد عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب اور قریش کے دوسرے بڑے لوگوں کی سربراہی میں بھیجا۔ انہوں نے ان سے کہا ’’آپ کا ہمارے درمیان جو مرتبہ اور مقام ہے وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ہمیں ڈر ہے کہ یہ آپ کے آخری دن ہیں۔ ادھر آپ کے اور ہمارے بھتیجہ کے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ انہیں بلائیں ، ہم اور وہ ایک دوسرے کو قول دیں کہ وہ ہم کو ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم اُن کو اُن کے دین پر چھوڑ دیں۔ حضورؐ نے جواب دیا کہ ’’میں تمہیں ایک ایسا کلمہ بتا رہا ہوں جسکے اگر آپ قائل ہو جائیں تو عرب کا بادشاہ بن جائیں اور عجم آپ کے پیروں میں آجائے، تو آپ کی رائے کیا ہوگی؟‘‘ یہ بات سن کر وہ حیرت زدہ ہوکر کہنے لگے بتاؤ وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے کہا لا الٰہ الا اللہ کہو اور اللہ کے سوا جس کو پوجتے ہو اسے چھوڑ دو۔ انہوں نے بوکھلاکر ہاتھ پیٹ کر تالیاں بجاتے ہوئے کہا یہ ہم سے ہمارے تمام خدا چھڑوانا چاہتا ہے ۔ چلو اس کو چھوڑو اور اپنے خداؤں پر جم جاؤ۔ کچھ عرصہ میں چچا جان کا انتقال ہو گیا۔ یہ رجب ،۱۰ ؍نبوی کا واقعہ ہے۔ حضرت ابو طالب کے انتقال کےصرف تین دِن یا دو مہینہ بعد امّ المؤمنین حضرت خدیجہؓ بھی انتقال فرماگئیں۔ یہ ۱۰؍نبوی رمضان المبارک کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپؓکی عمر مبارک ۶۵ سال تھی اور حضورؐ کی عمر مبارک ۵۰ سال تھی۔ پے در پے صدمہ اور آزمائش کے ان واقعات کا حضورؐ پر بہت گہرا اثر ہوا۔ دنیا کے سب سے مضبوط ، قابل بھروسہ سہاروں کو بھی چھین کر اللہ نے صرف اپنے سہارے کر لیا۔ نہایت مایوسی و صدمہ اور افسوس کی حالت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جب حضورؐ نے اہل مکہ سے مایوس ہوکر مکہ سے سفر طائف کیا۔ جو مکہ سے ۱۳۰ کلو میٹر دور پر فضا اور خوشحال افراد کی بستی تھی۔
یہاں تھوڑا ٹھہر کر اگر ہم حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد کے تکلیف، ظلم ، طعن و تشنیع کے ماحول کو چشم تصور میں لا کر آج کے اسلام دشمن Islamophobiaکے بین الاقوامی ماحول، پروپیگنڈہ اور سازشوں و تشدد پر لاگو کریں تو کسی درجہ میں سمجھ میں آسکتا ہے کہ آپؐ نے کس عظیم صبر و ثبا ت کا مظاہرہ کرکے بے لاگ و لپیٹ مداہنت و سمجھوتہ کئے بغیر دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا کیا۔ ایک دفعہ آپؐ راہ میں جا رہے تھے کہ کسی ظالم نے آپ کے سر پر خاک ڈال دی۔ آپ اسی حالت میں گھر آئے ۔ آپ کی صاحبزادی آپ کا سر مبارک دھوتی جاتی تھیں اور ابا حضور کی یہ صورت دیکھ کر روتی جاتی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا باپ کی جان ایسے نہ روؤ اللہ تیرے باپ کو یوں نہیں چھوڑے گا۔ انہیں ایام میں ایک مرتبہ آپ صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ سردارانِ قریش حلقہ جمائے بیٹھے تھے۔ نماز پڑھتے دیکھ کر کہنے لگے کہ کوئی اونٹ کی اوجھڑی لاکر اس کی گردن پر رکھ دے۔ چنانچہ ایک بدبخت نے یہ حرکت کردی۔ اس بوجھ سے آپ کی پیٹھ دب گئی۔ کسی نے حضرت فاطمہؓ بنت رسولؐ کو خبر دی وہ آئیں اور کسی طرح اس گندگی کو آپ سے دور کیا۔ ایک دوسرے واقعہ میں ایک دوسرے بدبخت نے آپکی گردن میں پھندہ ڈالکر چاہا کہ آپ کا گلا گھونٹ دے۔ حضرت ابوبکرؓ نے دوڑ کر آپؐ کی جان بچائی اور اس بدبخت کو کہا ’’کیا ایک شخص کی جان صرف اس لئے لینا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے۔‘‘
آج اگر اسی نبی کے ماننے والوں کو اپنے ایمان کی وجہ سے دنیا بھر میں نفرت پر مبنی تشدد Hate Crimesکا سامنا ہے ؛ پبلک ٹرانسپورٹ میں بسوں اور میٹرو میں ان کو طعنہ دئیے جارہے ہیں؛ خواتین کے حجاب نوچے جارہے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں میں پریشان کیا جارہا ہے، مساجد پر حملہ کئے جارہے ہیں۔ ان سے بندوق کی نوک پر، لاٹھیوں کے زور پر مشرکانہ نعرہ لگوائے جارہے ہیں ، انہیں آگ میں ڈالکر جلایا جارہا ہے اور یہ سب مشرق و مغرب میں ہو رہا ہے اور مغرب میں بھی ہو رہا ہے۔ ایک بار ایسے صبر آزما حالات میں رسول کے نمونہ پر غور کرنا ہوگا ۔ انہیں کی طرف دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے اور ان کے ماننے والوں نے ایسے حالات میں کیا کیا تھا؟ کیا انہوں نے ایڈجسٹ کر لیا تھا؟ کیا انہوں نے دعوت و تبلیغ کا کام چھوڑ دیا تھا؟ کیا انہوں نے کچھ لو اور دو give and take کے اصولوں پرعمل کیا تھا؟ اس کا جواب طائف کے دعوتی سفر میں ملتا ہے۔ جب آپ نے زید بن حارثہؓ کو لیکر وہاں کے سرداروں کو دین کی دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ دعوت قبول نہیں کی بلکہ شہر کے اوباش آوارہ لڑکوں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ آپ کے پیچھے ایک طرح کی ماب لنچنگ Moblynchingکرتے ہوئے شہر کے باہر تک آگئے اور رسول اللہ ؐ ایک باغ میں امان کی جگہ پاکر اپنے زخموں سے چور جسم کو آرام دینے لگے۔ آپ کے نعلین مبارک خون کی وجہ سے چپک گئے تھے۔ اس موقع پر اللہ کی مدد ظاہر ہوئی ، فرشتہ نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ حکم کریں تو ان کو دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے۔ ’’آپؐ نے فرمایا میں ان کے لئے کیوں بد دعا کروں، ہو سکتا ہے یہ ایمان نہ لائیں مگر ان کی آنے والی نسلیں ایمان لائیں گی۔‘‘ وہاں پر اللہ کے رسولؐ نے جو دعا کی ہے وہ یاد رکھے جانے اور حوصلہ پانے کے لئے کافی ہے۔آپؐ نے فرمایا: ’’اپنی قوت کی کمی اپنی بے سرو سامانی اور لوگوں کے مقابلہ اپنی بے بسی کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں۔ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ درماندہ بیکسوں کا پروردگار تو ہی ہے۔ تو ہی میرا مالک ہے۔ تو مجھے کس کے حوالہ کرتا ہے کیا اس بیگانہ دشمن کے جو مجھ سے ترش روئی رکھتا ہے یا ایسے دشمن کے جو میرے معاملہ پر قابو رکھتا ہے۔ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ بس تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ میں اس بات کے مقابلہ میں کہ تیرا غضب مجھ پر پڑے یا تیرا عذاب مجھ پر وارد ہو تیرے ہی نورِ جمال کی پناہ چاہتا ہوں۔ جس سے سارے اندھیرے روشن ہو جاتے ہیں۔ جن کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام معاملات سنور جاتے ہیں۔ مجھے تیری خوشنودی اور رضامندی کی طلب ہے۔ بجز تیرے کہیں سے قوت اور طاقت نہیں مل سکتی۔ طائف کی مایوسی کے بعد قرن الثعلب میں جبرئیل اور فرشتہ جبال کی آمد کی شکل میں پہلا انعام غیبی اللہ کے رسولؐ کے لئے بہت بڑا وجہ سکون بنا۔ آپؐ مکہ کی طرف چلے، نخلہ کی گھاٹی میں ٹھہرے۔ یہاں آپ کچھ دن ٹھہرے رہے۔ ایک رات میں اللہ کا دوسرا انعام جنوں کے ٹولہ کے ذریعہ رسولؐ کی تلاوت قرآن سے متاثر ہوکر قبول اسلام کی شکل میں ملا۔ جسکا ذکر سورہ الاحقاف اور سورہ جن میں موجود ہے۔ ’’سورہ جن میں کہا گیا۔ ’’آپ کہہ دیں میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے یہ قرآن سنا جو سیدھی رہنمائی کرتا ہے ، ہم اس پر ایمان لے آئے۔ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کر سکتے۔ (سورۃ الجن) ‘‘ اللہ کے انعام کی اور تسلی اور ڈھارس کی یہ صورت بھی تھی کہ جس سال آپؐ کو حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہؓ کا انتقال پر ملال ہوا اسی سال کے قریب آپ کے دو نکاح حضرت سودہ بنت زمعہؓ اور حضرت عائشہؓ سے ہوا۔ اگر ہم واقعات کی زمانی ترتیب کو دھیان میں رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش اور مدد و انعام ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ حضورؐ نے مکہ آکر آس پاس قبیلوں بنو عاسر، محارب، عنان، مرہ، حنیفہ، سلیم، بنو نصر، کندہ، بنو کلب، حارث بن کعب وغیرہ کو دعوت دین دی۔ ان میں سے اکثر نے دعوت پر لبیک نہیں کہا۔ مگر انفرادی طور پر قابل ذکر ہستیوں عقیل بن عمر دوسیؓ، حماد ازدیؓ، ابوذر غفاریؓ، نوید بن صامتؓ نے اسلام قبول فرمایا۔ ۱۰ یا ۱۱ نبوی میں اللہ کی مدد ایک معجزہ کی شکل میںآئی۔ جب عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق ہم حضورؐ کے ساتھ منیٰ میں تھے۔ حضورؐ نے کہا گواہ رہو چاند کا ایک ٹکڑا پھٹ کر جبل ابوقبیس کی طرف جا رہا ہے۔ یہ معجزہ بہت صاف تھا۔ اہل قریش نے اسے واضح طور پر بہت دیر تک دیکھا۔ آنکھیں رگڑ رگڑ کر دیکھا مگر ایمان نہیں لائے اور کہا کہ یہ چلتا ہوا جادو ہے اور سچ تو یہ ہے محمد ؐ نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ مگر کیا وہ سارے لوگوں پر جادو کر سکتے ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو آنے دو ان سے معلوم ہو جائے گا کہ کیا انہوں بھی اس کا مشاہدہ کیا ہے؟ باہر سے آنے والوں نے بھی تصدیق کی مگر بد قسمت پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ اور اپنی انکار کی روش پر چلتے رہے۔ آزمائش اور انتقام کے ساتھ چلتے رہے۔ فان مع العسر یسرا کے اصول کے تحت طائف کو لبیک کہنے کی سعادت نہیں ملی تو ۱۱؍نبوی میں ہی یثرب کے اوس خزرج کے خوش قسمت افراد کو لبیک کہتے اور طلع البدر علینا من ثنیات الوداع کے نغمہ کی بنیاد ڈالنے کا شرف نصیب ہوا۔
طائف قریب تھا دور ہو گیا، یثرب دور تھا قریب ہو گیا۔ طائف کے امتحان کے بعد حضورﷺکو قرب الٰہی کا انتہائی مقام بلند عطا کیا گیا۔ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول کو اعزاز و انعام دینے کے لئے اپنے ذی وقار دربار میں مہمان کرنے کے لئے سفر معراج کا اہتمام کرایا۔ یہ سفر اب تک کے ابتلاء و آزمائش کے دور کے بعد اگلے دور نصرت و فتح کا پیش خیمہ تھا۔ جب نبیؐ کے سامنے غیب کے پردہ ہٹاکر غیب کو حاضر کر دیا گیا۔ اس سفر کا ذکر سورہ بنی اسرائیل یا سورہ اسریٰ میں ان الفاظ سے کیا گیا ’’ پاک ہے وہ اللہ جو اپنے بندہ کو رات کے کچھ حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا۔ جس کے گردوپیش کو ہم نے با برکت بنایا ہے۔ اس لئے کہ ہم انہیں اپنی قدرت کی بعض نشانیاں دکھائیں۔ یقیناً اللہ خوب جاننے والا اور سننے والا ہے۔ اس سورہ میں ایک طرح سے اس بات کے اعلان کی تیاری ہے کہ اب دنیا میں امامت کا تاج بنی اسرائیل سے چھین کر (ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ) امت محمدیہؐ کو پہنایا جا رہا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں اس طرح کی تعلیمات سے نوازا گیا ہے جن سے آگے کے منصوبہ کا اندازہ ہوتا ہے۔
(۱) بنی اسرائیل کی داستان عبرت سامنے رکھ کر ایک طرف یہ واضح کیا گیا ہے کہ خدا کے قوانین بڑی بڑی طاقتوں کا محاسبہ کرتے ہیں اور ان کی بے راہ روی پر ان کو کسی دوسرے کا آلہ کار بنوادیتے ہیں۔ دوسری طرف غیرت دلائی گئی ہے کہ غلبہ و کامرانی کے دور میں پہنچ کر کہیں یہ طاقت بھی بنی اسرائیل کی روش نہ اختیار کر لے۔ شاید اسی لئے قرآن پاک میں بکثرت قصۂ فرعون و موسیٰ و حالات بنی اسرائیل ذکر ہوئے ہیں۔ اور حدیث میں مسلمانوں کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روش پرنہ چلیں ۔
(۲) یہ خوشخبری صاف صاف الفاظ میں انتہائی سازگار حالات میں سنائی گئی کہ ’’حق آگیا اور باطل دم دباکر بھاگنے ہی والا ہے۔ اندھیرے چھٹ جائیں گے اور جلد ہی صبح نمودار ہوگی۔
(۳) یہ اطلاع دی گئی کہ اب اہل مکہ آپ کو مکہ سے نکال دینے کے در پہ ہوں گے۔ مگر آپ کو نکال کر زیادہ دنوں تک چین سے نہیں رہ سکیں گے۔ دعاء ہجرت ان الفاظ میں سکھائی گئی ’’اے میرے رب مجھے صدق کے دروازہ سے داخل کر اور موجودہ ماحول سے صدق کے راستہ سے ہی نکال اور مجھے اپنی بارگاہ سے اقتدار کی صورت میں مدد نصیب کر۔
(۴) آیت ۲۲ تا ۲۹ میں اسلامی نظام کے بالکل ابتدائی اصول عطا کئے گئے کہ اُن کو بنیاد بناکر نیا معاشرہ اور نیا تمدن استوار کیا جائے۔
(۵) جب ہم کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے کھاتے پیتے لوگوں کو حکم دیتے ہیں ، پر وہ کھلی من مانی کرتے ہیں۔ مگر اس بستی پر (تباہی کا حکم) صحیح ثابت ہو جاتا ہے اور ہم اسے کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ (۱۶ـ:۱۷)
(۶) اور نوح ؑ کے بعد ہم نے کتنی ہی قوموں کو تباہ کر دیا۔ اور تمہارا رب اپنے بندوں کو جرائم کی خبر رکھنے اور دیکھنے کے لئے کافی ہے۔ (۱۷:۱۷ بنی اسرائیل)
سفر معراج کے بارے میں حدیث میں مذکور ہے ’’میں مکہ مکرمہ میں اپنے گھر (حضرت امّ ہانی ؓ) میں سویا ہوا تھا تو گھر کی چھت کو کھولا گیا ۔ حضرت جبرئیل ؑ نازل ہوئے ۔ مجھے خانہ کعبہ کے پاس حطیم میں لے آئے جہاں میں نے کچھ دیر آرام کیا۔ مجھ پر اونگھ طاری تھی اس درمیان کہنے والے نے کہا تین میں سے درمیان والے کو لے لو۔ پھر مجھے اٹھاکر زمزم کی طرف لے جایا گیا۔ وہاں سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا پھر میرا سینہ زیر ناف تک چیرا گیا اور میرا دل نکال کر زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر کر اس کی اصل جگہ لوٹا دیا گیا بعد ازاں میرا سینہ بند کر دیا گیا۔ پھر میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لایا گیا جسے براق کہا گیا۔ یہ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اس کا ایک قدم حد نگاہ تک جاتا تھا۔ مجھے اس پر بٹھایا گیا۔ پھر میں براق پر سوار ہوکر بیت المقدس پہونچ گیا۔ میں نے اتر کر سواری کو اسی جگہ باندھا جہاں گذشتہ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد کے اندر چلا گیا اس میں دو رکعت نماز ادا کی۔ انبیاء کی بھی امامت کی۔ پھر میں مسجد اقصیٰ سے باہر آیا تو حضرت جبرئیل ؑ نے مجھے دو برتن پیش کئے ایک میں شراب دوسرے میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبرئیل ؑ نے کہا ’’آپ نے فطرت کو پسند کیا۔ پھر میں اور جبرئیل چل پڑے یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ گئے۔ اسی کے بعد مختلف آسمانوں پر حضرت آدمؑ ، حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت یوسف ؑ، حضرت ادریس ؑ، حضرت ہارون ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی۔ سب نے آپ کو مرحبا کہا اور آپ کی نبوت کا اقرار کیا۔ اس کے بعد سدرۃ المنتہیٰ تک لیجائے گئے اور وہاں بیت المعمور کو اونچا کیا گیا۔ اور آپﷺ کو جنت میں داخل کیا گیا۔ اور زیادہ بلندی پر لے جایا گیا جہاں قلم چلنے کی سرسراہٹ کی آواز آرہی تھی۔
پھر اللہ پاک کے دربار میں محبوب کی حاضری ہو گئی۔ وہاں وہ اللہ پاک کے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم دوری رہ گئی۔ اس وقت اللہ نے اپنے بندہ پر وحی کے ذریعہ پچاس وقت کی نماز عطا فرمائی۔ جسے حضرت موسیٰ ؑ کی فرمائش پر کم کرواکر پانچ وقت کرایا گیا اس کے علاوہ آپ نے جنت، جہنم کو بھی دیکھا۔ مختلف جرائم کرنے والوں کی سزاؤں کو بھی دیکھا ۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ کو تین چیزیں عطا کی گئیں۔ (۱) پانچ نمازیں۔ (۲) سورہ البقرہ کی آخری آیات (۳) آپ کی امت کے ہر اس فرد کے بڑے گناہ معاف کردئیے گئے جو شرک نہ کرتا ہو۔
آخری نہایت سبق آموز واقعہ سفر معراج میں حضورؐ کے الفاظ میں یوں ہے کہ مجھے عمدہ خوشبو محسوس ہوئی میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ عمدہ خوشبو کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خاتون اور اس کے بچوں کی خوشبو ہے۔ میں نے پوچھا اس کا قصہ کیا ہے؟ جبرئیل ؑ نے بتایا بنت فرعون کی کنگھی کرنے والی خاتون نے گری ہوئی کنگھی اٹھاتے وقت بسم اللہ کہا۔ بنت فرعون نے پوچھا اللہ کون میرا باپ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ وہ ہے جو تیرے باپ کا بھی رب ہے۔ بنت فرعون نے فرعون کو بتایا ۔ فرعون نے پوچھا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہی میرا اور تیرا رب ہے۔ اس نے کہا ایک تانبے کی کڑھائی میں تیل ڈال کر اس کو اور اس کے بچوں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈالو۔ پہلے اس کے بچوں کو ڈالو۔ دودھ پیتے بچہ کی باری آئی تو ماں کو کچھ لغزش ہوئی ، دودھ پیتے بچے نے کہا ’’ماں جہنم کا عذاب دنیا کے عذاب سے بڑا ہے۔‘‘ آپ کڑھائے میں کود جائیں، سب کی لاشوں کو اکٹھا کرکے ایک ساتھ دفن کر دیا گیا۔ یہ خوشبو اس خاتون اور اس کے بچوں کی ہے۔
اللہ پاک قربانی کو پسند کرتے ہیں اس کی بے پایاں ،بے حد و حساب عزت و تکریم فرماتے ہیں۔ جس طرح ایک معمولی کنیز نے قربانی دی اسی طرح اللہ نے اسے ابدی اعزاز عطا کیا کہ نبی آخری الزماں بھی اس کی خوشبو کو محسوس کئے بغیر نہ رہ سکے۔ دنیا میں کروڑوں اہل اللہ آئے اور گئے ان کے مراتب اور فضائل اپنی جگہ مگر ایک کنیز کا رتبہ اتنا بلند کیوں کیا گیا؟ بوقت آزمائش جان و اولاد کی بہ رضاء و رغبت قربانی۔۔۔۔
آج ظلم کے خلاف آزمائش میں امت مسلمہ کو صبر و استقامت، ایثار و قربانی کا وہی اسوہ اپنانا ہوگا جس کا نمونہ شعب ابی طالب ، مکہ کے بازاروں، طائف کی گلیوں اور فرعون کے دربار میں پیش کیا گیا۔
(استفادہ: الرحیق المختوم، محسن انسانیت، محمد عربیؐ، زاد الخطیب، النبی الخاتم)

افغانستان : سُپر پاورس کا قبرستان

برطانیہ کے پرچم یونین جیک کی بابت مشہور تھا کہ اس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرزمین افغانستان پر وہ جھنڈا طلوع ہی نہیں ہوسکا ۔ برطانوی سامراج سے عبرت پکڑنے کے بجائے 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ اس کے بعدچالیس برسوں سے یہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ حالیہ امن معاہدے سے قبل 1988 میں ایسے ہی ایک معاہدے کے تحت سوویت یونین وہاں سے بے نیل و مرام لوٹا تھا اور اب امریکہ کی وہی حالت ہے۔ اس طرح افغانی مجاہدین اسلام نے یکے بعد دیگرے تین سپر پاورس کو زیر کرکے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے۔ سوویت تسلط کے بعد افغانستان اپنے ہمنواوں کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوگیا۔ جس طرح اشتراکیوں نے جنرل داود کی مدد سے حکومت قائم کی اسی طرح امریکہ نے شمالی اتحاد کے احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم کو اپنا کٹھ پتلی بنایا لیکن سنہ 1995 میں اس خس و خاشاک کو صاف کرکے طالبان نے ملک پر ایک مضبوط اسلامی امارت( حکومت) قائم کردی ۔
طالبان ابھی اپنے قدم جما ہی رہے تھے کہ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ پیش آگیا ۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے بلا ثبوت القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر اس کا الزام منڈھ دیا اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً بلا شرط اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کردے۔ افغان کے غیور رہنماوں نے اس دھونس دھمکی کو مسترد کرکے اپنی شرائط رکھ دیں۔ اول تو یہ کہ امریکہ اپنے دعویٰ کے حق میں شواہد پیش کرے بصورتِ دیگر کسی غیر جانبدار ملک میں مقدمہ چلایا جائے۔ اس کے علاوہ کسی صورت وہ اپنے مہمان کو دشمنوں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ رعونت کے نشے میں دھُت امریکہ ناٹو کی فوج کو ساتھ لے کر افغانستان پہنچ گیا ۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں یہ بات نہیں تھی کہ ۲۰ سال بعدوہ طالبان سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ 2001 میں طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر اس کے ہمنواوں تک کو غارت کرنے کا اعلان کردینے کی دھمکی دینے والی سُپر پاور نے طالبان کو امن کی امید بتاکر امن معاہدہ کرلیا۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ اس دوران طالبان کا تو نہ موقف بدلا اور اور نہ فرد تبدل ہوا لیکن امریکہ کا سب کچھ بدل گیا۔امریکہ کے ساتھ معاہدے پر اسی ملا عبدالغنی برادر نے دستخط فرمائے کہ جنہیں فروری 2010 میں بڑے طمطراق کے ساتھ کراچی سے گرفتاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔امریکیوں کے مطابق افغان جنگ کے آغاز سے لیکر اُس وقت تک گرفتار ہونے والے سب سے بڑے طالبان رہنما ملا برادرتھے ۔اس گرفتاری کوقصر ابیض کے ترجمان نے بہت بڑی کا میابی قرار دیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی اس کی تصدیق کردی تھی لیکن طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نےانکار کیا تھا۔ خیر حقیقت جو بھی رہی ہو ا امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط ثبت کرنے کے لیے تنظیم کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزاد نے اپنے اسی سیاسی امور کے نائب ملا عبدالغنی برادر کومنتخب کر کے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔
افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر کے ساتھ ایک ہی مدرسے میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والے ملا عبدالغنی برادر 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے ایک ہیں۔ طالبان کے دور حکومت میں انہیں ہرات صوبے کا گورنر اور فوج کا سربراہ بنایا گیاتھا ۔ کابل سے نکل کر قندھار جانے کے بعد وہاں سے جہاد اسلامی کی نگرانی کرنے کے علاوہ وہ مالی امور کی نگرانی بھی فرماتے ہیں ۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ کل جس شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا تھا آج اس نے دو جانب کے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیے جا نے والے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی روُ سے جنگ بندی اورایک ضا بطۂ وقت (ٹائم ٹیبل) کے مطابق امریکی فوجوں کا انخلاء پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ افغان طالبان کا یہ بنیادی مطالبہ رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالے لیکن اس پر راضی ہونے میں امریکہ نے بیس سال لگائے اور دنیا بھر کی رسوائی مول لی ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں کے اپنے وطن واپس آنے کا وقت آگیا ہے ۔
یہ عجیب و غریب جمہوری نظام ہے کہ اس میں ایک صدر انتخاب جیتنے کے لیے فوج روانہ کرتا ہے اور دوسرا ہزاروں کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے بعد پھر سے انتخابی کامیابی کے لیے فوجی دستے واپس بلا لیتا ہے۔ اس وقت امریکی سکریٹری برائے دفاعی امور مارک ایسپر کا یہ بیان سب سے زیادہ اہم ہے کہ افغانستان میں ‘ہماری کارروائیوں کا اہم حصہ معطل کر دیا جائے گا ‘۔امریکی حکام یہ تسلیم کررہے ہیں کہ اب افغانستان کے اندران کی فوج کی ضرورت نہیں باقی رہے گی۔ امریکہ کے سیاسی مبصرین اس امن معاہدے کو افغانستان کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکی انتخابی کامیابی کی سبیل بتارہے ہیں ۔ تجربہ کار امریکی دفاعی ماہر ٹونی کورڈیس مین امریکی انخلا کو ‘ویتنامائزیشن کے اعادہ قرار دے رہے ہیں یعنی 1950 کی دہائی میں ویتنام جنگ کو ختم کرنے کے بعد پیش آنے والی سیاسی مشکلا ت لوٹ آئیں گی۔
افغانستان کی یہ عظیم تبدیلی میٹھی میٹھی باتوں سے رونما نہیں ہوئی کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔وہ تو ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں اور ڈنڈے مارنے والوں کو ڈنڈے کھانے کے لیے بھی تیار رہنا پڑتا ہے ۔ بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑی ہے۔افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے سن 2001 سے اب تک تقریباً 3500 ارکان ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں سے 2300 سے زائد امریکی فوجی ہیں۔یہ سرکاری اعدادوشمار ذرائع ابلاغ میں شائع ہوے ہیں جبکہ اصلی تعداد یقیناً اس سے بہت زیادہ ہوگی ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی فروری 2019 میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں اب تک 32 ہزار سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں حالانکہ براؤن یونیورسٹی کی رپورٹ 58 ہزار حفاظتی دستوں اور42 ہزار مجاہدین کےہلاک ہونے کی بات کرتی ہے۔دیگر ذرائع ایک لاکھ شہریوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس سےافغان عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔بیس سال تک صبر و استقامت کے ساتھ جاری رہنے والےجہاد نے امریکی اور بین الاقوامی افواج کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکہ کو اپنی شکست کا احساس بہت پہلے ہوگیا تھا اس لیے اوبامہ نےجنوری 2012میں امن مذاکرات کے لیےسے دوحہ قطر میںطالبان کا دفتر کھلوایا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان دوسری نشست جون 2013میں ہوئی ۔ اس سے ناراض ہوکر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات معطل کر دیئے لیکن امریکیوں کے نزدیک نہ تو کرزئی کی کوئی قدروقیمت تھی اور نہ اشرف غنی کی کوئی اہمیت ہے۔ امن مذاکرات کا تیسرامرحلہ جولائی 2015 میں پاکستان کے شہر مری میں طے ہوا۔ اس میں افغان حکومت کے نمائندگان اور افغان طالبان کے ساتھ پاکستان ثالث کے طور پر موجود تھا ۔ نومبر 2018میں افغانستان جنگ کے خاتمے کی خاطر قطرمیں جو بات چیت ہوئی اس میں امریکہ کی نمائندگی زلمے خلیل زاد کررہے تھے لیکن پھر اچانک ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب جیت جانے سے اس پیش رفت پر اندیشوں کے بادل چھا گئے۔
طالبان نے انجام سے بے نیاز ہوکر اپنا جہاد جاری رکھا ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں افغانستان کے اندر 1443 عسکری جھڑپیں ہوئیں جن میں جملہ 7379 افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ 83 فیصد ہلاکتیں طالبان کے حملوں سے ہوئیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے حملوں میں ہونے والے جانی نقصان میں سن 2013 سے 2018 تک کے کسی بھی سال کے مقابلے میں مذکورہ برس 21 فیصد جب کہ افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی فوج کی کارروائیاں کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 18 فیصد بڑھی ہے۔ اس کا مطلب ہے دونوں جانب کی شدت میں اضافہ ہوا ۔ ممکن ہے کہ اس سے امن مذاکرات کی اہمیت ڈونلڈ ٹرمپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی اور دوبارہ بات چیت کا آغاز ہوا ہوگا۔
اگست (2019) میں جب دونوں فریق ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب آگئے تھے لیکن اچانک امریکی صدر نے ستمبر میں امریکی فوجیوں پر حملے کا بہانہ بناکر مذاکرات روک دیئے۔ اس حرکت پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نہایت پرسکون انداز میں کہا تھاکہ ’’ امریکی صدر کے ذریعہ اسلامی امارت کے ساتھ مذاکرات کی منسوخی کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا۔ اُن کے اعتبار کو ٹھیس لگےگی، اُن کا امن مخالف مؤقف دنیا کو نظر آئے گا اور اُن کے جان اور مال کا نقصان بھی زیادہ ہوگا۔‘ اس کے برعکس امریکی صدر نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔انھوں نے مزید لکھا ’یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے قتل و غارتگری کرتے ہیں‘۔
اس بیان کو پڑھ کر ان لوگوں کو ہنسی آگئی ہوگی جو امریکی دہشت گردی کے پس پشت کارفرما وجوہات سے واقف ہیں۔ اس لیے کسی نے اس منسوخی پر توجہ نہیں دی جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا

’’جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟‘ ایک ماہ بعد ٹرمپ نے گفتگو شروع کروا کر تسلیم کرلیا کہ طالبان تو لڑنا چاہتے ہیں لیکن امریکیوں میں اب اس کی سکت باقی نہیں ہے اس لیے جنگ اسلحہ کے سہارے نہیں عزم و حوصلہ کی بنیاد پر لڑی جاتی ہے ۔ امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے اور اس کی افغانستان میں ہمیشہ موجود رہنے کی گیڈر بھپکی اس معاہدے کےساتھ کافور ہو چکی ہے ۔ افغان جنگ کا امتیازی پہلو اس کا دشمن کے وسائل سے لڑا جانا ہے۔ افغانستان میں ناٹو فوجوں کی رسد پاکستان کی بندرگاہوں سے طالبان کے قبضے والے قندھار سے ہوکر جاتی تھی ۔ اس طرح امریکیوں سے وصول کی جانے والی راہداری سے اسلحہ خرید کر ان کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا ۔ اس طرح مشیت نے طالبان کی مدد کا ایک ایسا ذریعہ مہیا فرما دیا کہ بالآخر دشمن کو اپنا بوریا بستر لپیٹ کر فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا اور کامیابی و کامرانی طالبان کے قدم چوم لیے۔ارشادِ ربانی ہے ’’تم اپنی چال چلو اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے۔ اللہ ہی بہترین توڑ کرنے والاہے‘‘

شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا دورہ

سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقہ کا ۳؍مارچ ۲۰۲۰ء کو دورہ کیا جس میں پی ۔ایم۔اے۔ سلام، محمد ساجد صحرائی، ڈاکٹر انیس، عرفان احمد، صادق فضل اور تملناڈو سے دو احباب زین العابدین اور عتیق احمد شریک تھے۔
ہم صبح 40:11پر فسادزدہ علاقہ جعفرآباد کی بستی مصطفیٰ آباد پہنچے۔ ہمارا پہلا پڑاؤ میڈیکل ریلیف کیمپ میں تھا جو الاصلاح پبلک اسکول کے احاطہ میں قائم کیا گیا تھا۔ اور جس کا نظم و نسق دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبہ چلا رہے تھے۔ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے، نقصانات کا اندازہ لگا رہے تھے اور متاثرین کو ضروری رہنمائی فراہم کر رہے تھے۔
اس کے بعد ہماری ملاقات ۶۵ سالہ بزرگ ماسٹر نورعین صاحب سے ہوئی جو بستی کے نمایاں فرد تھے جو بہت زیادہ سرگرم تھے۔ مصطفیٰ آباد کے رضاکاروں کی قیادت کر رہے تھے تاکہ پڑوس کے علاقہ شیو وہار سے آنے والے ہزاروں بے خانماں افراد کی فوری امداد کی جاسکے ان کے درد کا درماں کیا جا سکے۔
ماسٹر نورعین صاحب سراپا تعاون تھے۔ وہ اور ان کے رفقاء نے ہمیں کافی وقت دیا اور بالترتیب ان واقعات کو بیان کیا جن کی وجہ سے جعفرآباد کے نواحی علاقوں موج پور، چاند باغ، گوکل پوری و اطراف میں تشدد اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔
۲۲؍فروری جعفرآباد میٹر اسٹیشن پر دھرنے سے لے کر مسلم کش فساد تک جس میں سینکڑوں نقاب پوش اور ہتھیار بردار حملہ آور شامل تھے پیش آنے والے واقعات کو چند باخبر حضرات نے اس طرح بیان کیا ۔
دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کے تیسرے ہفتہ سے سیلم پور میں ایک دھرنا تسلسل کے ساتھ سڑک جام کئے بغیر جاری تھا۔ فروری ۲۰۲۰ء؁ کے دوسرے ہفتہ سے طالبات اور عورتوں کے ایک گروپ نے جن کا تعلق اس بستی سے نہیں تھا ، نے جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے سامنے سڑک بلاک کرکے ایک اور دھرنا منعقد کرنے کی منظم کوشش کی۔ مگر مقامی افراد اور مقامی ملی قیادت نے تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر اعتراض کیا۔ لیکن سنیچر ۲۲؍فروری کی شام کو چند سو افراد جن میں اکثریت طالبات اور خواتین کی تھی جن کا تعلق اس علاقہ سے نہیں تھا کسی طرح جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے سامنے سڑک بلاک کرکے دھرنے کا آغاز کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طالبات و خواتین جن کا تعلق مقامی علاقہ سے نہیں تھا اور جو دھرنے کی قیادت کر رہی تھیں کے بارے میں واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی بائیں بازو کی تنظیم ’’پنجرہ توڑ‘‘ سے وابستہ تھیں۔
دوسرے روز اتوار ۲۳؍ فروری کو بی جے پی لیڈر کپل مشرا ایک گروپ کے ساتھ آیا اور اس نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (شمال مشرقی دہلی ضلع) کی موجودگی میں اشتعال انگیز فرقہ پرستانہ تقریریں کی۔ ڈی سی پی نے کپل شرما کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہ وہ انتہائی بھڑکاؤ بھاشن دے رہا تھا۔ اور دھمکی دے رہا تھا کہ اگر پولیس نے اس علاقہ کو تین دنوں میں خالی نہیں کرایا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتوار ۲۳؍فروری کی شام تک بی جے پی کے غنڈے موج پور چوک پر جمع ہو گئے۔ دہلی پولیس نے ان کے تشدد اور مسلمانوں کو دھمکانے کی للکار کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔
۲۳؍فروری تا ۲۶؍فروری چار روز تک بڑے پیمانے پر آگ زنی، لوٹ مار، فائرنگ ، قتل و غارت گری کا سلسلہ دہلی پولیس کی رکاوٹ کے بغیر جاری رہا۔ دہلی پولیس تمام علاقوں میںا چھی تعداد میں موجود تھی لیکن یا تو وہ خاموش تماشائی بنی رہی، انہوں نے نقاب پوش ہتھیار بند فسادیوں کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا یا پھر بعض مقامات پر حملہ آوروں کی مدد کی۔ مسلمانوں کو دھمکایا جو پہلے ہی نشانہ ستم تھے۔
۲۶؍فروری کو دہلی ہائی کورٹ کی ایک بینچ نے تشدد کے تعلق سے درخواستوں کی سماعت کی اور بی جے پی لیڈروں کی گرفتاری سے دامن بچانے پر دہلی پولیس کی ناکامی پر غصہ کا اظہار کیا۔ جن لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے تشدد بھڑک اٹھا جس میں کم از کم ۴۹ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ عدالتی بینچ ایک جج جسٹس مرلی دھرنے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی اور حکم دیا کہ بی جے پی سیاستداں کپل مشرا وغیرہ پر فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور تشدد کو بھڑکایا۔
جسٹس مرلی دھر کا راتوں رات فوری طور پر پنجاب ہریانہ عدالت کو تبادلہ کر دیا گیا۔ اگلے ہی روز ایک نئی بینچ نے کپل مشرا وغیرہ پر ایف آئی آر درج کرنے کی خاطر کی گئی درخواستوں پر جواب دینے کے لئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو چار ہفتوں کا وقت دے دیا۔ سماعت کی اگلی تاریخ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۰ء؁ مقرر کر دی گئی ہے۔
آگ زنی، فائرنگ، لوٹ اورقتل و غارتگری کا سلسلہ ۲۳، ۲۴، ۲۵، ۲۶؍فروری مسلسل چار روز تک جاری رہا۔ شیو وہار، مصطفیٰ آباد، موج پور، چاند باغ، گوکل پوری، برج پوری اور نہرو وہار اس کی زد میں رہے۔ شیو وہار میں مسلمانوں کی آبادی صرف ۱۵ فیصد ہے یہاں پر سینکڑوں نقاب پوش غنڈوں نے حملہ کیا جن کے پاس ہتھیار تھے بشمول آتشیں ہتھیار۔ گوکہ شیو وہار میں مسلمانوں کا تناسب ۱۵ فیصد ہے مگر ۲۰۰۰ مسلم خاندان مقیم ہیں۔
جب فضاانتہائی کشیدہ ہوگئی توتمام مسلم خاندان سوائے ایک محدود تعداد کے پڑوس ہی میں واقع مصطفیٰ آباد کو ہجرت کر گئے۔ کئی ایک کے رشتہ دار وہاں تھے جن کے کوئی رشتہ دار نہیں تھے ان کا بھی وہاں عزت و احترام کے ساتھ استقبال کیا گیا اور ان کے لئے گنجائش پیدا کی گئی۔ مگر شیو وہار میں مسلمانوں کے ۹۹ فیصد گھروں، دکانوں، دواخانوں بشمول دو مساجد لوٹا ور نذر آتش کر دیا گیا۔ مساجد اور دوکانوں کے اندرونی اسباب و فرنیچر کو آگ لگانے کے لئے گیس سیلنڈر کا استعمال کیا گیا۔ فساد کے پہلے روز ہی غیر مسلموں کی دوکانوں اور گھروں پر ’’جے شری رام‘‘ کا نشان لگا دیا گیا تھا۔ جنہیں بڑے پیمانے پر کی گئی لوٹ اور آگ زنی کے دوران استثنا حاصل تھا۔
چونکہ تقریباً تمام ہی خاندانوں نے مصطفیٰ آباد کو ہجرت کر دی تھی اس لئے شیو وہار میں جانی نقصان بہت محدود رہا۔ یہاں ایک گلی ہے جس کا نام ہے بیکری اسٹریٹ یہاں واقع ۲۰ تا ۳۰ بیکریوں کو مکمل طور پر لوٹاا ور تباہ کر دیا گیا۔ دو مساجد اولیاء مسجد اور مدینہ مسجد کو توڑ پھوڑ کر ان کی حرمت کو مکمل طور پر پامال کردیا گیا۔ جائیداد اور تجارت کا نقصان بے تحاشہ ہوا ہے۔ مکانوں اور دوکانوں کے ڈھانچے باقی ہیں۔ کئی مکانوں کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور اکثر کے ڈھانچوں اور اندرون کو بڑے پیمانے پر درست کرنا ہوگا اور ان سب کے لئے بہت ہی خطیر رقم خرچ کرنا پڑے گی۔
دوسرا متاثرہ علاقہ ہے برج پور، وہاں فاروقیہ مسجد کے امام اور مؤذن پر حملہ ہوا ہے۔ انہیں جی ٹی بی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک ہے۔ نہرو وہار پر بھی حملہ ہوا ہے ، میونسپل کاؤنسلر طاہر حسین کا تعلق یہیں سے ہے، یہاں کہ ۶۰ فیصد آبادی مسلمان ہے۔
ہم نے عید گاہ میںو اقع ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا۔ مسلمان خاندان جنہیں پڑوس کے علاقوں میں بسایا نہیں جاسکتا تھا انہیں اس ریلیف کیمپ میں پناہ دی گئی ہے۔ ان کی غذا اور دیگر ضروریات کا کافی خیال رکھا گیا ہے۔
راحت اور باز آباد کاری
(۱) فوری راحت : متاثرین اور اجڑے ہوئے خاندانوں کو درکار فوری پناہ ، غذائی اور لازمی طبی راحت کا نظم ، راحت کاروں اور تنظیموں اور گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
(۲) طبی امداد: کئی افراد ایسے ہیں جو شدید طور پر زخمی ہیں اور انہیں علاج کے لئے بڑے اسپتالوں میں داخل نہیں کرایا جاسکا ہے۔ ان کے لئے مہنگے اور جدید علاج اور طبی مدد کی ضرورت ہے۔
(۳) قانونی امداد: درج ذیل زمروں میں قانونی امداد کی ضرورت ہے۔
الف۔ شہداء کے ورثاء اور خاندان کے لئے قانونی امداد۔
ب۔ گرفتار شدگان اور ان کے خاندانوں کے لئے قانونی امداد
ج۔ ان خاندانوں کے لئے قانونی امداد جن کی دوکان، مکان وغیرہ نذر آتش کئے گئے اور تباہ کر دئیے گئے۔
(۴) باز آبادکاری:
الف۔ ان خاندانوں کی مالی امداد جن کے گھر کے کمانے والے افراد شہید یا شدید زخمی یا معذور ہو گئے۔
ب۔ ان غریبوں کی امداد جن کے گھر تباہ کر دئیے گئے اور وہ مالی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ دوبارہ بنا نہیں سکتے۔
ج۔ دکان مالکوں کی امداد جو اپنے طور پر دوبارہ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

سرگرم عدلیہ فسادات میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچا سکتی تھی

دہرہ دون:سن ۱۹۱۸ء میں عدالت عظمیٰ کے جن چار محترم ججوں نے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفریس کی تھی اس میں سے مدن بی لوکور ایک تھے، جناب لوکور نے ہفتہ کے دن فرمایا کہ ‘‘اگر عدلیہ سرگرم ہوتی تو دہلی کے حالیہ تشدد میں تلف ہونے والی زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا’’۔ جسٹس لوکور نےجو کہ اس وقت فی جی کی عدالت عظمیٰ کے غیر مقیم جج ہیں ، یہ تبصرہ دہرہ دون اتر آنچل یونیورسٹی میں ہفتہ کے دن لا کالج کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا۔
عدالت عظمیٰ کے سابق جج نے دہلی فسادات کے سیاق میں عدلیہ کے کردار پر ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انہوں نے اس ہفتہ کے آغاز میں فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ ایسے سنگین حالات میں عدلیہ کو فوری کاروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو شاید زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
جب آپ سےجسٹس ایس مرلی دھر کے تبادلہ کے وقت کے سلسلے میں سوال کیا گیاجب کہ انہوں نے دلی پولیس کی اس بات پر کھنچائی کی تھی کہ اس نے ان لیڈران پر کوئی کاروائی نہیں کی جو دل آزار تقریریں کررہے تھے، ان کا تبادلہ فوراً کردیا گیا تھا، جسٹس لوکور نے فرمایا ‘‘جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آجاتے اس پر کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہےاور متعلقہ جج نے کہا ہے کہ وہ اس پر کوئی بحث کرنا نہیں چاہتے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے بھی بحث کرنا مناسب نہیں ہوگا’’۔ جب ان سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بارے میں پوچھا گیا تو محترم جج نے کہا کہ ‘‘اس قانون میں امتیازی سلوک کا عنصر معلوم ہوتا ہے’’۔
جب ایک طالب علم نے ذکر کیا کہ حکومت ہند نے گزشتہ ایک برس کے دوران 95 مرتبہ انٹر نیٹ خدمات بند کیا اور پوچھا کہ کیا یہ اظہار خیال کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ تو محترم جج نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا۔‘‘ہاں میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر قابو رکھنے کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ عصمت دری کی ویڈیو واٹس ایپ پر میرٹھ میں بیس روپے میں دستیاب ہیں۔ سرکار اس پر قابو کرسکتی ہے۔ لیکن انٹر نیٹ کو بند کرنا ہی ناگزیر طریقہ نہیں ہے۔
ہندوستانی عدالتی نظام میں انصاف کی کسی درخواست پر سماعت میں تاخیر ہونے کے نقص پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محترم لوکور نے فرمایا کہ ہندوستانی عدالتوں کو وقت پر فیصلہ دینے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اس پر فوری طور پر ترجیحی توجہ کی ضرورت ہے۔
‘‘عدلیہ کو سرجوڑ کو خود احتسابی کرنےکی ضرورت ہے کہ انہوں نے وقت اور معاملات کا انتظام کیوں نہیں کیا اور اب اسے کس طرح کیا جائے کہ تاخیر سے بچا جاسکتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا ان کو چیف جسٹس مشراکے عدالت عظمیٰ کے انتظامات کے طریقہ کار پر پریس کانفرنس کرکے تنقید کرنے پر افسوس ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بات کیوں کوئی سوچتا ہے کہ مجھے افسوس ہوگا؟

مسلمان کی قومیت

مسلمان کی اجتماعی تنظیم کی بنیادیں : جس ساعت سعیدہ میں اسلام نے نوع انسانی کو اخلاق و اقدار کا نیا تصور دیا ، اور ان اخلاق و اقدار کے حصول کا نیا آستانہ بتایا، اسی ساعت سعیدہ میں اسنے انسان کے باہمی تعلقات اور روابط کا ایک نیا تصور بھی عطا کیا۔ اسلام کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ انسان اور اس کے رب کے درمیان تعلقات کو درست کرے اور انسان کو یہ بتائے کہ پروردگار عالم ہی وہ واحد بااختیار ہستی ہے جس کی بارگاہ عزت سے اسے اپنی زندگی کی اقدار اورر دّ و قبول کے پیمانے حاصل کرنے چاہیئں۔ کیونکہ اسی نے اسے خلعت ہستی اور سرمایۂ حیات کی ارزانی فرمایا ہے۔ اپنے روابط اور رشتوں کے بارے میں بھی اسی ذات کو مرکز و مرجع سمجھے جس کے ارادۂ کن فکاں سے وہ عدم سے وجود میں آیا ہے اور جس کی طرف اسے آخر کار لوٹ کر جانا ہے۔ اسلام نے آکر پوری قوت و صراحت کے ساتھ انسان کو یہ بتایا کہ اللہ کی نظر میں انسانوں کو باہم جوڑنے والا صرف ایک ہی رشتہ ہے۔ اگر یہ رشتہ پوری طرح استوار ہو گیا تو اس کے مقابلے میں خون اور مؤدت و الفت کے دوسرے رشتے مٹ جاتے ہیں۔:
’’جو اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تم نہ دیکھو گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کےدشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں ،گو وہ ان کے باپ اور بیٹے اور بھائی اور اہل قبیلہ ہی کیوں نہ ہوں‘‘ (مجادلہ ۲۲)
دنیا کے اندر اللہ کی پارٹی صرف ایک ہے ۔ اس کے مقابلے میں دوسری تمام پارٹیاں شیطان اور طاغوت کی پارٹیاں ہیں۔
’’جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میںلڑتے ہیں۔ پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں نہایت کمزور ہیں۔‘‘ (النسائَ: ۷۶)
اللہ تک پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ اس کے ماسوا جو راستہ ہے وہ اللہ سے دور لے جانے والاہے۔
’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے۔‘‘ (الانعام: ۱۵۳)
انسانی زندگی کے لیے صرف ایک ہی نظام حق ہے، اور وہ ہے اسلامی نظام، اس کے علاوہ جتنے نظام ہیں وہ عین جاہلیت ہیں۔
’’تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ (المائدہ: ۵۰)
صرف ایک ہی شریعت واجب الاتباع ہے اور وہ ہے اللہ کی شریعت، اس کے سوا جتنی شریعتیں ہیں ،ہوائے نفس ہی ہیں:
’’اے نبی ﷺ ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کرو جوعلم نہیں رکھتے۔ (جاثیہ: ۱۸)
دنیا میں حق صرف ایک ہے جس میں تعدد و تنوع محال ہے۔ حق کے سوا جو کچھ ہے وہ ضلالت اور تاریکی ہے:
’’پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو۔‘‘ (یونس: ۳۲)
دنیا میں صر ف ایک ہی ایسی سرزمین ہے جسے دارالاسلام کہا جا سکتا ہے اور وہ ملک ہے جہاں اسلامی ریاست قائم ہو ۔ شریعت الٰہی کی فرمان روائی ہو ، حدوداللہ کی پاسداری ہو اور جہاں مسلمان باہم مل کر امور مملکت سرانجام دیتے ہوں۔ اس کے علاوہ جو بھی سرزمین ہوگی وہ دارالحرب کے حکم میں داخل ہے۔ دارالحرب کے ساتھ ایک مسلمان دو ہی طرح کا رویہ اختیار کر سکتا ہے : جنگ یا معاہدۂ امان کے تحت صلح ،معاہد ملک دارالاسلام کے حکم میں ہرگز نہیں ہوگااس کے اور دارالاسلام کے مابین ولایت کا رشتہ قائم نہیں ہو سکتا:
’’جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی دراصل ایک دوسرے کےولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے دارالاسلام میں نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ،جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکر حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم (اہل ایمان ایک دوسرے کی حمایت) نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میںگھربار چھوڑے اور جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے خطائوں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میںایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔‘‘ (الانفال: ۷۲ تا ۷۵)
اس روشن اور مکمل ہدایت اور اس قطعی اور فیصلہ کن تعلیم کو لے کر اسلام دنیا میں رونق افروز ہوا۔ اور اس نے انسان کو خاک اور مٹی کے رشتوں اور خون و گوشت کے رابطوں سے نجات دے کر اسے اعلیٰ و ارفع مقام بخشا۔ اسلام کی نظر میں مسلمان کی کوئی قومیت نہیں ہے۔ اگر اس کی کوئی قومیت ہے تو صرف وہ خطۂ زمین جہاں شریعت الٰہی کا علم لہرارہا ہو ، اور باشندوں کے باہمی روابط تعلق باللہ کی بنیاد پر قائم ہوں۔ اسلام کی نظر میں مسلمان کی کوئی قومیت نہیں ہے۔ اگر اس کی کوئی قومیت ہے تو صرف وہ عقیدہ ہے جس کے تحت وہ دارالاسلام کے اندر بسنے والی جماعت مسلمہ کا ایک رکن بنا ہے۔ مسلمان کی کوئی رشتہ داری اور قرابت نہیں ہے۔ سوائے اس کے جو ایمان اور عقیدے کے تقاضے میں وجود میں آتی ہے۔ اور جس کے بعد اس کے اور اس کے دوسرے دینی ساتھیوں کے درمیان ایک نہایت مضبوط و مستحکم ناطہ وجود میں آجاتا ہے۔ مسلمان کی اپنے ماں باپ ، بھائی ، بیوی اور خاندان کے ساتھ اس وقت تک کوئی رشتہ داری استوار نہیں ہو سکتی جب تک وہ بنیادی اولین رشتہ قائم نہ ہو جو سب کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے۔ اور پھر اسی ربانی رشتے کی بنیاد پر ان کے درمیان خونی اور نسلی قرابتیں بھی استوار تر ہوجاتی ہیں:
’’اے لوگو! اپنےرب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اوران دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔‘‘ (النسائَ: ۱)
لیکن ربانی رشتہ اس امر میںمانع نہیں ہے کہ ایک مسلمان اختلاف عقیدہ کے باوجود والدین کے ساتھ معروف کی حد تک اس وقت تک حسن سلوک اور حسن معاشرت رکھے جب تک کہ وہ اسلامی محاذ کے دشمنوں کی صفوں میں شامل نہ ہوں۔ اگر وہ کفار کی کھل کھلا حمایت پر اتر آئیں تو ایسی صورت میں مسلمان کی اپنے والدین کے ساتھ کوئی رشتہ داری اور صلہ رحمی کا تعلق باقی نہیں رہتا۔ اور حسن معاشرت اور نیک برتائو کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ عبداللہ بن ابی جو رئیس المنافقین تھا اس کے صاحب زادے حضرت عبداللہ نے اس معاملے میں ہمارے لیے نہایت درخشاں مثال پیش کی ہے:
ابن جریر نے ابن زیاد کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کے صاحب زادے حضرت عبداللہ کو بلا کر فرمایا : آپ کو معلوم ہے کہ آپ کاباپ کیا کہہ رہا ہے؟ عبداللہ نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس نے کیا کہا ہے؟ آنجناب ﷺ نے فرمایا وہ کہتا ہے کہ اگرہم مدینہ لوٹ گئے تو وہاں عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ حضرت عبداللہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ خدا کی قسم اس نے درست کہا ہے ۔ بخدا آپ عزت والے ہیں اور وہی ذلیل ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ خدائے برتر کی قسم آپ کی مدینہ میں تشریف آوری کے وقت اہل یثرب کو معلوم ہے اس شہر میں مجھ سے زیادہ اپنے والد کا فرماں بردار کوئی شخص نہیں تھا۔ اور اب اگر اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی اس میں ہے کہ میں والد کا سر ان کی خدمت میں پیش کر دوں تو میں اس کا سر لائے دیتا ہوں۔ جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ چنانچہ جب مسلمان مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن ابی کے لڑکے حضرت عبداللہ مدینہ کے باہر اپنے باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے ۔ اور اس سے کہنے لگے کہ کیا تونے یہ کہا ہے کہ اگر ہم مدینہ لوٹے تو وہاں عزت والا ذلیل لوگوں کو نکال دے گا۔ خدائے بزرگ کی قسم تجھے ابھی معلوم ہو جائے گا کہ تو عزت والا ہے یا اللہ کارسول ﷺ ۔ خدا کی قسم جب تک اللہ اور اس کے رسول اجازت نہ دیں تجھے مدینہ کا سایہ نصیب نہیں ہو سکتا۔ اور تو مدینہ میں ہرگز پناہ نہیںلے سکتا۔ عبداللہ بن ابی نے دو مرتبہ چلا کر کہا : اے خزرج کے لوگو! دیکھو یہ میرا ہی بیٹا مجھے گھر میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ حضرت عبداللہ اس کے شور و ہنگامے کے باوجود یہی کہتے رہے کہ جب تک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اذن نہ ہو خدا کی قسم تجھے ہرگز مدینہ میں قدم نہ رکھنے دوں گا۔ یہ شور سن کر کچھ لوگ حضرت عبداللہ کے پاس جمع ہو گئے اور انہیں سمجھایا بجھایا۔ مگر وہ اس بات پر مصررہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے اذن کےبغیر میں اسے مدینہ میں گھسنے نہیں دوں گا۔چنانچہ چند لوگ آنحضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نےسن کر فرمایا عبداللہ کے پاس جائو اور اسے کہو :’’اپنے باپ کو گھر آنے سے نہ روکے‘‘ چنانچہ وہ لوگ عبداللہ کے پاس آئے اور انہیں آنحضور ﷺ کے ارشاد سے آگاہ کیا۔ حضرت عبداللہ کہنے لگے اگر اللہ کے نبی ﷺ کا حکم ہے تو اب یہ داخل ہو سکتا ہے۔
جب عقیدہ و ایمان کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے تو اس کے بعد نسب و رحم کے رشتے نہ بھی ہوں تو بھی تمام اہل ایمان باہم بھائی بھائی بن جاتے ہیں۔ اور ان میں وہ مضبوط تر رابطہ وجود میں آجاتا ہے جو انہیں یک قالب و یک جان بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں‘‘ اس مختصر ارشاد میں حذر ہے اور تاکید بھی ۔ نیز فرمایا:
’’جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑا اور اللہ کی راہ میں اپنےمالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی دراصل ایک دوسرے کےولی ہیں۔‘‘ (الانفال: ۷۲)
اس آیت میں جو ولایت کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف ایک ہی وقت میںپائی جانےوالی اور ایک ہی نسل تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتی رہتی ہے اور امت مسلمہ کے اگلوں کو پچھلوں سے اور پچھلوں کو اگلوں کے ساتھ محبت و مؤدت اور وفاداری و غمگساری اور رحم دلی و شفقت کی ایک مقدس و لازوال لڑی میں پرودیتی ہے۔
’’اور جو لوگ مہاجرین کی ہجرت سے پہلے مدینہ میں رہتےتھے اور ایمان لا چکے تھے (یعنی انصار) وہ ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مال غنیمت میں سے مہاجرین کو جو کچھ بھی دے دیا جائے اس کی وجہ سے یہ اپنے دل میں اس کی کوئی طلب نہیں پاتے اور خواہ انہیں تنگی ہی کیوں نہ ہو مگر وہ (اپنے مہاجرین بھائیوں کو ترجیح دیتے ہیں) اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اور جو ان کے بعد آئے وہ یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں ۔۔۔۔۔ اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رہنے دے اے ہمارے پروردگار بے شک تو بڑا شفقت رکھنے والا اور مہربان ہے۔‘‘(الحشر: ۱۰)
ہر دور میں عقیدہ ہی بنائے جمع و تفریق تھا: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب حکیم میں مومنین کے سامنے انبیاء سابقین کی برگزیدہ جماعت کی متعدد مثالیںاورقصےبیان فرمائے ہیں۔ان انبیائَ علیہم السلام نے مختلف ادوار میں ایمان کی قندیلیں فروزاں کیں ، اور ایمان و عقیدہ کے نورانی قافلوں کی قیادت فرمائی ان مثالوں میںاللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ہر نبی کی نگاہ میں اصل رشتہ اسلام اور عقیدہ کا رشتہ تھا۔ ان کے مقابلے میں کوئی اور رشتہ و قرابت داری کسی لحاظ سے بھی نافع ثابت نہیں ہو سکتی۔
’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا ۔ کہا اے رب !میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے ۔ اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ جواب میں ارشاد ہوا اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیںہے ۔ وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے۔ لہٰذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے ۔ نوح نے فوراً عرض کیا اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں ۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جائوں گا۔‘‘ (ھود : ۴۵ تا ۴۷)
’’اور یاد کرو جب ابراھیم کو اسکے رب نے چند باتوں میں آزمایا ۔ اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا ۔ تو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔ ابراہیم نے عرض کیا اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟ اس نے جواب دیا : میرا وعدہ ظالموں ے متعلق نہیں ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۴)
اور جب ابراہیم نے دعا کی : اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ۔ اللہ نے فرمایا اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۶)
حضرت ابراہیمؑ نے جب اپنے باپ کو اور اپنے اہل خاندان کو گمراہی پر مصر دیکھا تو وہ ان سے کنارہ کش ہو گئے اور فرمایا:
’’میں آپ لوگوںکو چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا۔‘‘ (مریم:۴۸)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ اور ان کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے ان پہلوئوں کو مومنین کے سامنے خاص طورپر پیش کیا ہے جن میں مومنین کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے۔ فرمایا:
’’بے شک تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھی بہترین نمونہ ہیں ، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے دو ٹوک کہہ دیا کہ ہم کو تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم تمہارے( معبودوں  اور عقیدوں)بالکل نہیں مانتے اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کےلئے کھلم کھلا عداوت اور دشمنی قائم ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لے آئو۔‘‘(ممتحنہ: ۴)
وہ جواں ہمت اور جواں سال رفقا جو اصحاب کہف کے لقب سے مشہور ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ دین و عقیدہ کی متاع گراں بہا کے لیے ان کے وطن اہل و عیال اور ان کے خاندان و قبیلہ میں کوئی گنجائش نہیں رہی ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کو خیرباد کہہ کر اپنی قوم سے کنارہ کش ہو گئے ۔ وہ اپنے وطن سے ہجرت کر گئے اور متاع ایمان کو لے کر اپنے پروردگار کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تاکہ وہ دین و ایمان کی بنیاد پر صرف ایک اللہ کے بندے بن کر رہ سکیں:
’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔ ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کر دیئے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جا بات کریں گے۔ (پھر انہوں نے آپس میں ایک دسرے سےکہا) یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ اپنے اس عقیدے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے آخر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ اب جب کہ تم ان سے اور ان کے معبودان غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا۔ اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیا کرے گا۔‘‘ (الکھف: ۱۳تا ۱۶)
حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا ذکر قرآن میں آتا ہے۔ ان برگزیدہ پیغمبروں اور ان کی بیویوں کے درمیان صرف اس بنا پر تفریق ہو جاتی ہے ، کہ ان کی بیویوں کا عقیدہ خاوندوں کے عقیدے سے جدا تھا اور وہ آلودۂ شرک تھیں۔
’’کافروں کی عبرت کے لیے اللہ نوحؑ کی عورت اور لوط ؑ کی عورت کی مثال دیتا ہے۔ یہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں ۔ ان دونوں نے ان سے خیانت کی مگر اللہ کی گرفت سے دونوں کے شوہر ان کو نہ بچا سکے اور دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جائو دوسرے لوگوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہو جائو۔‘‘ (تحریم: ۱۰)
ساتھ ہی جابر و سرکش فرمان روافرعون مصر کی بیوی کی مثال بیان کی گئی ہے اور اہل ایمان کے لیےاسوہ کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے:
’’اور اہل ایمان کی نصیحت کے لیے اللہ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتاہے جب کہ اس نے دعا کی اے میرے پروردگار میرے لیے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھ کو فرعون اور اس کے کردار بد سے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی نجات دے‘‘ (تحریم: ۱۱)
علی ھٰذالقیاس قرآن نے ہر نوعیت کے رشتوں اور قرابتوں کے بارے میں مختلف مثالیں بیان کی ہیں نوح ؑ کے قصے میں رشتۂ پدری ملے گی، حضرت ابراہیم ؑ کے قصے میں بیٹے اوروطن کے رشتے کی مثال بیان کی گئی ہے اصحاب کہف کے قصے میں اعزہ و اقارب قبیلہ و برادری اور وطن و قوم کے رشتہ کی جامع مثال پیش کی گئی ہے۔ حضرت نوح و لوط علیہما السلام کے قصے اور فرعون کے تذکرے میں ازدواجی تعلق کی مثال دی گئی ہے قرآن کی نظر میں یہ تمام رشتے عقیدہ و ایمان کے ابدی رشتہ اور سرمدی رابطہ کے انقطاع کے بعد ناقابل لحاظ قرار پاتے ہیں۔
قوم رسول ہاشمی ﷺ کی بنائے ترکیب: جب انبیائَ کی برگزیدہ جماعت روابط و تعلقات اور رشتوں اور برادریوں کا حقیقی پیمانہ اور پاکیزہ تصور پیش کر چکتی ہے تو امت وسط کی باری آتی ہے۔ چنانچہ امت وسط کے اندر بھی اس نوعیت کی مثالوں اورنمونوں اور تجربوں کا وسیع اور ایمان افروز ذخیرہ ملتا ہے۔ یہ امت بھی اسی ربانی راستے میں گامزن نظر آتی ہےجو ازل سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے گروہ کے لیے منتخب و پسند فرمایا ہے۔ اس امت کے اندر بھی آپ دیکھیں گے کہ جب رشتۂ ایمان ٹوٹ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں جب انسان اور انسان کے درمیان اولین رشتہ منقطع ہو جاتا ہے تو ایک ہی خاندان اور قبیلے کے لوگ جدا جدا گروہوں میں بٹ جاتے ہیں بلکہ ایک ہی گھر کے مختلف افراد میں جدائی واقع ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
’’جو لوگ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو انہیں ان لوگوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائے گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں گو وہ ان کے باپ، یا بیٹے یا بھائی یا اہل قبیلہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ (اہل ایمان) وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے اندر اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے۔ اور فیضان غیبی سے ان کی تائید کی ہے۔ اور وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہ اللہ کا گروہ ہے اور آگاہ رہو اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔‘‘ (مجادلہ:۲)
ایک طرف محمد ﷺ اور آپ کے چچا ابو لہب اور آپ کے ہم قبیلہ عمرو بن ہشام (ابو جہل)کے درمیان تمام خونی اور نسلی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں مہاجرین مکہ اپنے اہل و اقربا کے خلاف برسر جنگ نظر آتے ہیں اور معرکۂ بدر میں ان کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف مکہ کے ان مہاجرین کے درمیان اور یثرب کے انصارکے درمیان عقیدہ کا سرمدی رشتہ استوار ہو جاتا ہے ۔ اور وہ سگے بھائی بن جاتے ہیں اور خونی اور نسلی رشتے سے بھی زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔ یہ رشتہ مسلمانوں کی ایک نئی برادری کو جنم دیتا ہے اور اس برادری میں عرب بھی شامل ہیں اور غیر عرب بھی۔ روم کے صہیب بھی اس کے رکن ہیں اور حبش کے بلال اور فارس کے سلمان بھی ان کے درمیان قبائیلی عصبیت مٹ جاتی ہے نسلی تعصب و تفاخر ختم ہو جاتا ہے وطن و قوم کے نعرے تحلیل ہو جاتے ہیں اور اللہ کا پیغمبر ان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
۱۔ ان عصبیتوں سے دست بردار ہو جائو یہ متعفن لاشیں ہیں۔
۲۔ جو کسی جاہلی عصبیت کی طرف دعوت دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ جو عصبیت کئے لیے جنگ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ جو عصبیت پر مرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔
دارالاسلام اور دارالحرب: الغرض ان مردار و متعفن عصبیتوں کا چلن ختم ہو گیا۔ نسبی تعصب کا مردارلاشہ دففن کر دیا گیا، نسلی برتری کا جاہلی نعرہ پائوں تلے روند ڈالا گیا، قومی گھمنڈ کی گندگی زائل کر دی گئی اور اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور انسان نے گوشت اور خون کے تعفن اور زمین و وطن کے لوث سے آزاد رہ کر آفاق عالم کے عطر بیز چمنستان میں مشام جان کو معطر کیا۔ اس دن سے مسلمان کا وطن جغرافی حدود اربعہ میںمحدود نہیں رہا بلکہ پورا دارالاسلام اس کا وطن ٹھہرا۔ وہ وطن جہاں عقیدہ و ایمان کی حکمرانی ہوتی ہے اور صرف شریعت الٰہی کا سکہ رواں ہوتا ہے۔ یہی وطن مسلمان کی پناہ گاہ بنا۔ اسی کی مدافعت کے لیے وہ کمر بستہ رہا اور اسی کے تحفظ اور استحکام میں اس نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور اس کی توسیع و اضافے میں اس نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ دارالاسلام ہر اس شخص کا مامن ہے جو عقیدۂ اسلام کا قلادہ گلے میں ڈال دیتا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ کو قانون زندگی کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ وہ شخص بھی اس پناہ گاہ سے استفادہ کر سکتا ہے جو مسلمان تو نہیں ہے مگر اسلامی شریعت کو نظام ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ جیسا کہ ان اہل کتاب کا معاملہ ہے جو دارالاسلام کے اندر بود و باش رکھتے ہیں۔ مگر وہ سرزمین جس پر اسلام کی حکمرانی کا پھریرا نہ لہراتا ہو اور شریعت الٰہی کو نافذ نہیں کیا جاتا ہو وہ مسلمان کے لیے بھی اور دارالاسلام کے معاہد ذمی کے لیے بھی دارالحرب ہے۔ مسلمان اس کے خلاف شمشیر بکف رہے گا خواہ وہ اس کی جنم بھومی ہو۔ اس سے اس کے نسبی اور سسرالی رشتے وابستہ ہوں اس کے اموال و املاک اس میں موجود ہوں اور اس کے مادی مفادات اس سے وابستہ ہوں، رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے خلاف تلوار اٹھائی حالانکہ مکہ آپ ﷺ کا پیدائشی اور آبائی وطن تھا، وہیں آپ ﷺ کے اعزہ و اقارب اور خاندان کے لوگ رہتے تھے، آپﷺ کے اور آپ ﷺ کے صحابہ کے مکانات اور جائدادیں بھی وہیں تھیں جنہیں آپ ﷺ ہجرت کے وقت وہاں چھوڑ آئے تھے۔ مگر مکہ کی سرزمین پیغمبر خدا ﷺکے لئے اور ان کی امت کے لیے اس وقت تک دارالاسلام نہ بن سکی جب تک وہ اسلام کے آگے سرنگوں نہ ہو گئی۔ اور شریعت عزا کے ہاتھ اقتدار کی مسند نہیں آگئی۔
اسی کا نام اسلام ہے۔ یہی نرالا تصور زندگی اسلام کہلاتا ہے۔ اسلام چند اشلوکوںکا نام نہیں ہے کہ بس انہیں زبان سے دہرا دینا ہی کافی ہو، اور نہ کسی مخصوص سرزمین کے اندر جس پر اسلام کا بورڈ چسپاں ہو یا جو اسلامی نام سے پکاری جاتی ہو پیدا ہو جانے سے کسی آدمی کو خود بہ خود اسلام کا سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ اور نہ یہ مسلمان والدین کے گھر میں پیدا ہونے سے وراثت میں مل جاتا ہے۔
’’نہیں اے محمدﷺ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو دفیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔‘‘ (النسائَ: ۶۵)
صرف اسی کا نام اسلام ہے۔ اور صرف وہی سرزمین دارالاسلام ہے جہاں اس کی حکومت ہو۔ یہ وطن و نسل ،نسب وخون، اور قبیلہ و برادری کی حدبندیوں سے بالاتر ہے۔
اسلامی وطن اور اس کے دفاع کا اصل محرک: اسلام نے آکر انسان کو ان تمام زنجیروں سے رہا کر دیا جنہوں نے اسے زمین کی پستی سے باندھ رکھا تھا، تاکہ انسان آسمان کی پنہائیوں میں پرواز کے قابل ہو سکے،خون و نسب کے تمام سفلی طوق و سلاسل پاش پاش کر دے، تاکہ انسان آزاد ہو کر بلند ترین فضائوں میں پرواز کر سکے۔ اسلام نے بتایا کہ مسلمان کا وطن زمین کا کوئی مخصوص خطہ نہیںہے، جس کی محبت میں اسے تڑپنا چاہیئے۔ اور جس کے دفاع میں اسے جان کی بازی لگانی چاہیئے۔ مسلمان کی قومیت جس سے وہ متعارف ہوتا ہے کسی حکومت کی عطاکردہ نیشنلٹی نہیں ہے۔ مسلمان کی برادری جس کی وہ پناہ لیتا ہے اور جس کی خاطر وہ لڑتا اور مرتا ہے وہ خون کے رشتے سے ترکیب نہیں پاتی مسلمان کا پرچم جس پر وہ ناز کرتا ہے اور جس کو اونچا رکھنے کے لیے وہ جان تک کی بازی لگا دیتا ہے وہ کسی قوم کا پرچم نہیں ہے، مسلمان کی فتح یابی جس کے لیے وہ بے تاب رہتا ہے اور جس سے ہمکنار ہونے پر وہ اللہ کے سامنے سجدۂ شکر ادا کرتا ہے وہ محض فوجی غلبہ نہیںہے، بلکہ وہ فتح حق ہے جسے قرآن میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
’’جب آگئی اللہ کی مدد اور فتح۔ اور تونے دیکھ لیا لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے۔ سو تو اپنے رب کی حمد کی تسبیح کر اور اس سے استغفارکر، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ النصر)
یہ بات فتح یابی صرف پرچم ایمان کے تحت حاصل ہوتی ہے دوسرے کسی جھنڈے کی عصبیت اس میں شامل نہیں ہوتی۔ یہ جہاد دین اللہ کی نصرت اور شریعت حق کی سربلندی کے لیے کیا جاتا ہے۔ کسی اور مقصد اور مفاد کو اس میں دخل نہیںہوتا۔ یہ اس دارالاسلام کا دفاع ہے جس کی شرائط و خصائص ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ اس دفاع میں کسی اور وطنی اور قومی تصور کی آمیزش نہیں کی جا سکتی۔ فتح یابی کے بعد فاتح قوم کی تمام تر توجہ، دلچسپی اور انہماک کا مرکز مال غنیمت کا حصول نہیں ہوتا، اور نہ یہ جنگ کسی دنیاوی شہرت یا ناموری کے لیے لڑی جاتی ہے، بلکہ اس کا مقصد خالصۃً للّٰلہ تعالیٰ کی رضا ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رضا جوئی اور اس کی تسبیح اور استغفار اس کا اصل مقصود ہے۔ یہ جنگ وطنی حمیت اور قومی عصبیت کی بنیاد پر بھی نہیں لڑی جاتی نہ اہل و عیال کا تحفظ اس کی اصل غرض اور محرک ہوتا ہے۔ البتہ ان کے تحفظ اور حمایت کا جذبہ اگر اس بنا پر شامل ہو کہ ان کے دین و ایمان کو فتنہ و آزمائش سے بچایا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص بہادری دکھانے کے لئے لڑتا ہے اور دوسرا حمیت کی خاطر لڑتا ہے اور تیسرا ریا کے لیے لڑتا ہے ان میں سے کون سا اللہ کی راہ میںلڑتا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جو اس لیے لڑتا ہے کہ صرف اللہ کا کلمہ بلند ہو صرف وہ اللہ کی راہ میںلڑتا ہے۔
شہادت کا مرتبہ صرف اس جنگ جوئی کے نتیجے میں نصیب ہو سکتا ہے جو صرف اللہ کی خاطر ہو دوسرے مقاصد کی خاطر جو قتال آرائی ہوگی اس میں یہ مرتبہ بلند حاصل نہ ہوگا۔
جو ملک مسلمان کے عقیدہ و ایمان سے برسر پیکار ہو، دینی امور کو سرانجام دینے میں اسے مانع ہو اور اتباو شریعت کو معطل کر رکھا ہو وہ دارالحرب شمار ہوگا،چاہے اس میں اس کے اعزہ و اقارب اور خاندان اور قبیلہ کے لوگ بستے ہوں، اس میں اس کا سرمایہ لگا ہو اور اس کی تجارت اور خوشحالی اس سے وابستہ ہو۔ اس کے مقابلے میں ہر وہ خطۂ ارض جس میں مسلمان کے عقیدہ کو فروغ و غلبہ حاصل ہو ، اللہ کی شریعت کی عملداری ہو وہ دارالاسلام کہلائے گا خواہ اس میںمسلمان کے اہل و عیال کی بود و باش نہ ہو اس کے خاندان اور قبیلہ کے لوگ وہاں نہ رہتے بستےہوں ۔ اور اس کی کوئی تجارت اور مادی منفعت اس سے وابستہ نہ ہو۔۔۔۔ ’’وطن‘‘ اسلامی اصطلاح میں اس دیار کا نام ہے جس میں اسلام کے عقیدہ کی حکمرانی ہو اسلامی نظام حیات قائم اور برپا ہو۔ اور شریعت الٰہی کو برتری حاصل ہو۔ وطن کا یہی مفہوم انسانیت کے مرتبہ و مذاق کے مطابق ہے۔اسی طرح قومیت اسلام کی رُو سے عقیدہ اور نظریۂ حیات سے عبارت ہے اور آدمیت کے شرف و فضل کے ساتھ جو رابطہ اور رشتہ مناسبت رکھتا ہے وہ یہی تصور قومیت ہو سکتا ہے۔
قومی اور نسلی نعرے جاہلیت کی سڑاند ہیں
رہی قبیلہ و برادری اور قوم و نسل اور رنگ و وطن کی عصبیت اور دعوت تو نہ صرف یہ دعوت تنگ نظری، تنگ دامانی اور محدودالاثر ہے بلکہ انسانی پسماندگی اور دور وحشت کی یادگار ہے۔ یہ جاہلی عصبیت ان ادوار میں انسان پر مسلط ہوئی تھی جب اس کی روح انحطاط اور پستی کا شکار تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے ’’سڑاند‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی ایسا مردار جس سے عفونت کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں۔ اور انسان کا ذوق نفیس کرب و کراہت محسوس کر رہا ہو۔
جب یہود نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ نسلی اور قومی بنیاد پر اللہ کی محبوب اور چہیتی قوم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ دعویٰ ان کے منھ پر دے مارا اور ہر دور میں اور ہر نسل اور قوم کے لیے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے بزرگی اور تقرب الٰہی اور شرف و فضیلت کا صرف ایک ہی معیار بتایا اور وہ ہے ایمان باللہ ۔ ارشاد ہوا:
’’یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہو جائو تو راہ راست پائو گے، عیسائی کہتے ہیں عیسائی ہو جائو تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو نہیں بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم کا طریقہ اختیار کرو اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھا۔ مسلمانوں! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحٰق، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروںکو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو ہدایت پر ہیں، اور اگر اس سے منھ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں۔ لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۳۵ تا ۱۳۷)
اللہ کی محبوب اور برگزیدہ اور پسندیدہ قوم درحقیقت وہ امت مسلمہ ہے جو نسلی اور قومی اختلاف ، رنگ و روپ کی بوقلمونی اور وطن و ملک کی مغایرت کے باوجود صرف اللہ کے پرچم کے نیچے مجتمع اور متحد ہوتی ہے:
’’تم وہ بہترین گرہ ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر اہمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۰)
یہ وہ خدا پرست امت ہے جس کے ہراول دستہ کی شان یہ تھی کہ اس میں عرب کے معزز خاندان کے چشم و چراغ ابوبکرؓ شامل تھے تو حبش کے بلالؓ اور روم کے صہیب ؓ اور فارس کے سلمانؓ بھی موجود تھے۔ بعد کی نسلیں بھی ہر دور میں اسی دل نشین انداز اور حیرت انگیز نظام کے جلو میں یکے بعد دیگرے منصۂ شہود پر ابھرتی رہیں۔ عقیدۂ توحید اس ملت کی قومیت رہی ہے دارالاسلام اس کا وطن رہا ہے اور اللہ کی حاکمیت اس کا امتیازی شعار رہا ہے اور قرآن اس کا دستور حیات رہا ہے۔
وطن وقوم کی عصبیتیں منافیٔ توحید ہیں: وطن و قومیت اور قرابت کا یہ پاکیزہ و ارفع تصور آج داعیان حق کے دلوں پر پوری طرح نقش ہو جانا چاہیئے۔ اور اس وضاحت اور درخشندگی کے ساتھ ان کے دل و دماغ کے ریشے ریشے میں اتر جانا چاہیے کہ اس میں جاہلیت کے بیرونی تصورات کا شائبہ تک موجود نہ ہو اور شرک خفی کی کوئی قسم اس میں راہ نہ پا سکے۔ ہر قسم کے شرک سے خواہ وہ وطن پرستی ہو یا نسل پرستی ، قوم پرستی دنیا کے گھٹیا مفادات اور منفعتوںکی پرستش ہو ان سب سے یہ تصور پاک و شفاف ہے ۔ شرک کی یہ سب قسمیں اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں جمع کر دی ہیں اور ایک پلڑےمیں ان سب کو رکھا ہے اور دوسرے میں ایمان اور اس کے تقاضوں کو رکھ دیا ہے اور پھر انسان کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ ان دونوںمیں سے کس پلڑے کو ترجیح دیتا ہے۔:
’’اے نبی ﷺ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور وہ مال جو تم نے کمائےہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ ‘‘ (التوبہ: ۲۴)
اسی طرح داعیان حق اور اسلامی تحریک کے علمبرداروں کے دلوں میں جاہلیت اور اسلام کی حقیقت اور دارالحرب اور دارالاسلام کی تعریف کے بارے میں سطحی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہیں ہونے چاہیے۔ دراصل ایسے شکوک و شبہات کے راستے ہی سے ان میں سے اکثر کے اسلامی تصور اور یقین و اذعان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ یہ بات کسی وضاحت کی محتاج نہیں ہے کہ جس ملک پر اسلامی نظام کی حکمرانی نہ ہو اور اسلامی شریعت قائم نہ ہو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بات بھی محتاج تشریح نہیں کہ کوئی ایسا ملک دارالاسلام نہیں ہو سکتا جس میں اسلام کے لائے ہوئے طرز زندگی اور قانون حیات کو اقتدار حاصل نہ ہو۔ ایمان کو چھوڑ کر انسان کفر ہی کےنرغے میں جاتا ہے جہاں اسلام نہ ہوگا وہاں لازماً جاہلیت کا چلن ہوگا،اور حق سے روگردانی کے بعد اسےگمراہی اور ضلالت کےسوا کچھ نہ نصیب ہوگا۔