اس نام سے ابلیس بہت چیں بجبیں ہے

ہر آیۂ قرآنی میں وہ جلوہ نشیں ہے
یہ سیرتِ اطہر ہے کہ قرآنِ مبیں ہے

جس روز سے وہ نورِ خدا دل میں مکیں ہے
ہر لمحہ تعاقب میں میرے مہرِ مبیں ہے

سر جس کا کہیں اور ہے دل اور کہیں ہے
وہ نعتِ نبی کہنے کا حقدار نہیں ہے

سلطانِ دو عالم ہیں مگر فقر کا عالم
بستر ہے چٹائی کا ، غذا نانِ جویں ہے

کفار بھی اس بات کی دیتے ہیں شہادت
وہ صدق کاپیکر ہیں لقب ان کا امیں ہے

سورج نہیں حاجت ہے مجھے نورِ نبی کی
یہ صرف عقیدت نہیں ، ایمان و یقیں ہے

رکھ نام محمدؐ کا سدا ورد میں راشد
اس نام سے ابلیس بہت چیں بجبیں ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *