ایک گمنام شہید ِ رسالت اور سر محمد شفیع

تقسیم ہند سے قبل کا واقعہ ہے۔ ایک انگریز میجر کی بیوی نے اپنے مسلمان خانسا ماں کے سامنے حضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر اس مرد غیرت مند نے اسی وقت اس انگریز میم کا کام تمام کردیا۔ یہ مقدمہ جب لاہور ہائی کورٹ پہنچا تو ڈویژن بنچ میں دو انگریز جج اس مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے۔ ملزم کی جانب سے اس وقت پنجاب کے سیاسی رہنما اور ممتاز قانون داں میاں سر محمد شفیع، جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں سر محمد شفیع کے سیاسی معتقدات سے بحث نہیں، بلکہ سرکار دربار میں رسائی کی باوجود ان کی دینی حس کو بتلانا مقصود ہے۔ اس مقدمہ میں دوران بحث میاں محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، جس پر مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے حیرت سے پوچھا: ’’سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہوسکتا ہے؟‘‘ جس پر سر شفیع نے جواب دیا: ’’جناب آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبرﷺ کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے۔‘‘ یہ واقعہ بھی راقم کو راجہ سید اکبر مرحوم نے سنایا تھا۔ افسوس کہ اس مرد مجاہد کا نام اور ان ججوں کے نام راجہ صاحب مرحوم کی یاد داشت میں محفوظ نہیں تھے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *