توہین رسالت ﷺ …جرم و سزا

[ابو الفضل قاضی عیاض ؒ کا متقدمین علمائے اندلس میںنہایت ممتاز مقام ہے۔آپ کی ولادت مراکش کے شہر سبتہ میںسال۴۹۶ ہجری میں ہوئی پھر سال ۵۰۹ہجری میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اندلس چلے آئے ،جو ان دنوں یورپ میں علوم و فنون کا مرکز تھا ۔اندلس میں آپ نے اساتذہ وقت سے علم حدیث کے علاوہ فن تفسیر،فقہ، ادب ،نحو،انساب اور دیگر علوم متداولہ میں مہارت حاصل کر لی۔آپ کا تعلق مالکی مکتبہ فقہ سے تھا۔مگر آپ نہایت وسیع النظر عالم وقت تھے ۔اس کے علاوہ آپ عربی کے بلند پایہ شاعر ،خطیب اور ادیب بھی تھے،اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔آپ جذبۂ عشق رسول سے سرشار تھے اور آپ کی معرکۃ الآرا تصنیف ’الشفا بتعریف حقوق المصطفی‘اسی عشق و عقیدت اوراحترام و محبت کا مظہر ہے۔اس کے باوجود آپ نے تحقیق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔آپ عدل و قضا کے منصب پر فائز رہے ہیں۔سال ۵۳۱ہجری میں آپ اندلس کے عروس البلاد غرناطہ کے چیف جسٹس ہو گئے۔متاخرین نے حضور اکرم ﷺ کی سیرت نگاری اور آپ کے مقام و مرتبہ، احترام و فضیلت اور گستاخی رسالت مآب کے بارے میں آپ کی اسی کتاب سے خوشہ چینی کی ہے اور یہ ابواب بھی ابوالفضل قاضی عیاض ؒ کی کتاب الشفاء کے ابواب توہین رسالت کا ترجمہ ہیں جو مولانا سید متین ہاشمی مرحوم نے کیا ہے،جن کے اقتباسات نذر قارئین ہیں۔ان اقتباسات میں اصل کتاب بھی مصنف کے پیش نظر رہی ہے اس لیے ترجمہ کو عام فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔]
گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے بارے میںاحکام
ــ’’جان لو (اللہ ہمیں اور تمہیں نیک توفیق دے )جو شخص حضور ﷺ کو گالی دے ۔(العیاذ باللہ)یا آپ پر عیب لگائے یا کسی نقص کی نسبت آپ ؐ کی ذات یا نسب یا دین یا آپ ؐ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے یا آپ ؐؐ کوبطریق گستاخی کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ کو ناقص کہے یا آپ ؐ کی شان کو کم کرے یا آپ ؐ پر یا آپؐ کی کسی بات پر عیب لگائے تو گویا وہ شاتم النبی (حضور ﷺ کو گالی دینے والا)ہے‘‘۔اس کے بارے میں وہی حکم ہے جو صراحتاًآپ کو گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا۔
اسی طرح جو شخص (العیاذ باللہ)آپ پر لعنت کرے یا آپ کے حق میں بد دعا کرے یا آپ کے لیے کسی ضررکی آرزو کرے یا آپ کی طرف ایسی شے کی نسبت کرے جو آپ کے شان کے لائق نہ ہو اور اس کامقصد آپ کی برائی یا آپ پر عیب لگانا ہو ،یا آپ کی شان میں بیہودہ کلام کرے ،آپ کو بر اکہے یا بری بات بکے، یاجھوٹ کہے یا آپ پر جو سختیاں اور مصیبتیں آئیں ان کی بنا پر عار دلائے یا بشریت کی وجہ سے عادتاًجو عارضے (از قسم بیماری،بھوک ، وفات)آپ کو لاحق ہوئے ،ان کی بنا پر آپ کی قدر کو کم کرے ،یہ سب ناجائز اور حرام ہیں اس پر علمائے کرام اور صحابہ کرام سے لے کر آج تک جتنے فتوی دینے والے امام گزرے ہیں ،سب کا اتفاق و اجماع ہے۔
حضرت ابو بکر ؓ کے قول کا تقاضا بھی یہی ہے (کہ اسے قتل کر دیا جائے )اورتمام علماء کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے ساتھی نیز سفیان ثوری ؒ،اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی یہی خیال ہے ۔البتہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ: ’’یہ عمل ارتداد ہے‘‘(یعنی آپ کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد کے حکم میں ہے)ولید بن مسلم نے امام مالک ؒ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب سے بھی یہی روایت ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی ذات میں نقص نکالے یا آپ سے برأت کا اظہار کرے یا آپ کی تکذیب کرے ،بقول سحنون وہ آپ ؐ کو گالی دینے والوں میں شمار کیا جائے گااور یہ سارے کام ارتداد اور زندقہ کے ہیں اسی بنا پر ایسے شخص سے توبہ کرانے اور اس کی تکفیر کرنے کے مسئلے میں اختلاف ہے کہ آیا اس کوقتل کر دینا حد شرعی ہے یا محض تکفیر ہی کافی ہے ۔لیکن اس معاملے میں اختلاف نہیں کہ ایسا شخص مباح الدم (جس کو مار ڈالنا جائز ہو)ہے۔سلف امت اور تمام دیار و امصار کے علماء اس بات پر متفق ہیں ،بہت سے علما ء نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کے قتل و تکفیر پراجماع ہے ،بعض اہل ظواہر نے کہا ہے اور وہ ابو محمد علی بن احمد الفارسی ہیں کہ حضور ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی تکفیرمیں انہیں اختلاف ہے۔لیکن مشہور بات وہی ہے جو محمد بن سحنون کے حوالے سے میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ’’تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم النبی یا وہ شخص جو آپ ؐ میںنقص نکالے ،کافر اور مستوجب وعید عذاب ہے اور پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے۔جو شخص ایسے شخص کے کافر اورمستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے‘‘۔
ابن القاسم نے عتیہ میں لکھا ہے کہ’’جو نبی اکرم ﷺ کو گالی دے یا آپ پر عیب لگائے ،یا آپ میں نقص نکالے اسے قتل کیا جائے اور ساری امت کے نزدیک اس کو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا ،اس لیے (کہ)اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے ‘‘۔
امام احمد بن ابراہیم کی کتاب میں ہے کہ امام مالک ؒ نے فرمایا:’’جوشخص حضور ﷺ کو یا کسی اور نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہ قبول کی جائیگی چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر‘‘۔
عبد اللہ بن الحکم سے روایت ہے کہ ’’جوشخص حضور ﷺ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور س کی توبہ نہ قبول کی جائے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر‘‘۔اشہب نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے وھب سے روایت کی ہے جس شخص نے یہ کہا کہ نبیؐ کی چادر یا آپؐ کی قمیص گندی میلی ہے اور اس سے اس کا ارادہ آپ ؐ کی تحقیر کا ہو تو اسے قتل کیا جائے۔
ہمارے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ:’’جس شخص نے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کے لیے ویل (عذاب)یا برے امر کی بد دعا کی تو اسے بغیر توبہ کرائے قتل کرنا چاہیے‘‘۔
ابو الحسن قالبی نے اس شخص کے بارے میں جس نے حضور ﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ’’ آپ ؐ حمال (بوجھ ڈھونے والے)یا ابو طالب کے یتیم تھے‘‘۔فتوی یہی ہے کہ اسے قتل کیا جائے (کیونکہ یہ کہہ کر وہ حضور ﷺ کی توہین کرنا چاہتا ہے ۔)
ابو محمد بن زید القیروانی نے اس شخص کو قتل کرنے کا فتوی دیا جس نے کچھ لوگوں کوحضور ﷺ کے حلیہ مبارک کے بارے میں گفتگو کرتے سنا تھا۔عین اسی وقت ایک بد شکل اور بد ہئیت آدمی وہاں سے گزرا تو اس نے کہا کہ ’’تم لوگ ان کاحلیہ معلوم کرنا چاہتے ہو؟لوگوں نے کہا ’’ہاں‘‘تو اس نے اس قبیح المنظر اور بد ہئیت داڑھی والے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ’’وہ ایسے ہی تھے ‘‘۔ابو محمد بن زید نے کہا اس کمبخت کی توبہ نہ قبول کی جائے ،اس پر خدا کی لعنت ہو اس لیے کہ اس نے جو کچھ کہا اور یہ بات کسی ایسے آدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتی جس کا ایمان سلامت ہو۔
احمد بن ابی سلیمان صاحب سحنون کہتے ہیں کہ ’’جو شخص یہ کہے کہ حضور ﷺ کا رنگ سیاہ تھا اسے قتل کیا جائے ‘‘۔انہوں نے اس شخص کے بارے میں (بھی قتل کا فتوی دیا)جس سے کہا گیا تھا کہ ’’رسول اللہ ﷺ کے حق کی قسم یہ نہیں ہو سکتا ‘‘۔تو اس نے جواباً کہا ’’(العیاذ باللہ )اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا کرے‘‘اور بہت بری بری باتیں کہیں ۔ابن ابی سلیمان نے اس آدمی سے جو اس سے مخاطب تھا کہا کہ میں تمہارا ساتھی اور گواہ ہوں ۔وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس کار ثواب میں حصہ لیں ۔
حبیب بن الربیع کہتے ہیں (وہ بچھو کہہ کر اپنی گستاخی کی تاویل کرنا چاہتا تھا )حالانکہ جس مقام پر کوئی واضح اور صریح لفظ استعمال کیا جائے ،وہاں کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور چونکہ اس نے حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر کو ملحوظ نہیں رکھا اس لیے و ہ مباح الدم تھا۔
ابو عبداللہ بن عتاب نے اس عشار کے بارے میں قتل کا فتوی دیا تھا جس نے عشر وصول کرتے وقت ایک ایسے شخص سے کہا کہ ’’عشر تو پہلے ادا کرو ، اس کے بعد شکایت کرنی ہو تو رسول اللہ ﷺ سے شکایت کر دینا۔میں نے اگر عشر طلب کیا ہے تو اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے طلب کیا اگر میں جاہل تو (معاذ اللہ )رسول اللہ ﷺ جاہل تھے اور انہوں نے بھی عشر طلب کیاتھا‘‘۔
فقہائے اندلس نے بالاتفاق ابن حاتم طلیطلی کے قتل اور سولی دینے کا فتوی دیا تھا جس نے ایک مناظرے کے دوران نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ ؐ کو یتیم اور علی کا خسر کہا تھا اور اس خیال کا اظہار کیاکہ آپ ؐ کا زہد اختیاری نہیں تھا بلکہ اگر آپ کو دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں ،تو آپ ان کو استعمال کرتے ۔
قیروان کے فقہاء اور سحنون کے شاگردوں نے ابراہیم فزاری کے قتل کا فتوی دیا تھا۔ابراہیم بہت سے علوم میںمہارت رکھنے والا شاعر تھا اور قاضی ابو العباس بن طالب کی مجالس مناظر ہ میں اکثر حاضر ہو ا کرتا تھا۔ اس پر یہ الزام عائد ہو اکہ اس نے اپنے بہت سے اشعار میں اللہ تعالیٰ ،انبیاء علیہم السلام اور سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے ۔اسے قاضی یحیٰ بن عمر کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔اس وقت عدالت میں دوسرے بہت سے نامور فقہاء تھے ، قاضی نے اس کی پھانسی اور قتل کا حکم دیا۔چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب پھانسی کی لکڑی ہٹائی گئی تو وہ لکڑی خود بخود چکر کھانے لگی ۔جب اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے پھر گیا تو لکڑی ٹھہر گئی ۔لوگوں نے اس واقعہ کو اللہ کی ایک نشانی سمجھ کر بلند آواز سے تکبیر کہی ۔اس کے بعد ایک کتا آیا اور ابراہیم کا خون پی گیا ۔یحیٰ بن عمر نے کہا :’’حضور ﷺ نے صحیح ارشاد فرمایا ـ:’’کتا مسلمان کا خون نہیں پیتا ‘‘۔
قاضی عبداللہ بن مرابط نے کہا ہے کہ ’’جو شخص یہ کہے کہ حضور ﷺ میدان جنگ سے فرار ہو گئے اس سے توبہ کرائی جائے اگر وہ توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے ،کیونکہ حضور ﷺ پر یہ ایک قسم کا عیب لگانا ہے اور آپ ؐ اس طرح کے عیوب سے مبرا تھے۔آپ ؐ کا ہر اقدام بصیرت کی بنیاد پر ہوتا (تھا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو معصوم بنا یا تھا‘‘۔
حبیب بن ربیعؒ فروی نے کہا ہے اور یہی امام مالک ؒ اور ان کے شاگردوں کامسلک ہے کہ ’’جو شخص بھی نبی اکرم ﷺ میںکسی قسم کا نقص نکالے اسے توبہ کرائے بغیر قتل کر دینا چاہیے‘‘۔
ابن عتاب ؒ نے کہا ہے کہ ’’یہ بات قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کو ایذا پہنچائے یا آپ ﷺ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ،صراحتاً یا کنایتاً کسی قسم کا کوئی نقص لگائے ،چاہے وہ معمولی سا نقص ہی کیوں نہ ہو اس کا قتل واجب ہے‘‘۔کیونکہ اس طرح کی تمام باتو ں کو علما ء نے ’’سبّ النبی ‘‘ (حضور ﷺ پر دشنام طرازی) میں شمار کیا ہے متقدمیں و متاخرین علماء کے نزدیک بالاتفاق ایساشخص واجب القتل ہے ۔البتہ قتل کا حکم عائد کرنے کے مسئلہ میں علماء نے اختلاف کیا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں ۔
ایسے ہی میں کہتا ہوں کہ جو’’شخص آپ ؐ کو حقیر جانے یا آپ ؐ کوبکریوں کے چرانے ،سہو و نسیان اور جادو کے حملے یا آپؐ کو زخم لگنے یا آپ ؐ کے لشکر کی شکست یا دشمنوں کی ایذا رسانی یا آپ ؐ پر مصائب و شدائد کے نزول یا عورتوں کی طرف آپ ؐ کے میلان کے حوالے سے آپ کو عار دلائے یا ہدف تنقید بنائے ،توان سب باتوں کا حکم یہ ہے کہ جوشخص ان باتوںسے آپ میں نقص نکالنے کا ارداہ کرے ،وہ قتل کیا جائے۔
گستاخ رسول ﷺ کی توبہ قابل قبول نہیں
امام مالک ؒ ان کے ساتھیوں اور سلف کے علماء کا فرمانا یہ ہے کہ ایسے بد زبان اور اہانت کرنے والے کو، جو آنحضور ﷺ پر سب و شتم کرے اس کے کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ سزا کے طور پر اس پر حد جاری کی جائے اور اس کو قتل کیا جائے ،باوجود اس کے کہ اس نے توبہ بھی کر لی ہو کیونکہ ایسے معاملات میں نہ تو اس کی توبہ قابل قبول ہو گی اور نہ اس کا رجوع اس کے لیے نفع بخش ہوگا۔
عدم قبولیت توبہ کی ایک اور دلیل
جناب محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ اس (نام نہاد)مسلمان کی توبہ ،سزائے قتل کو باطل نہیں کر سکتی جس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی کی ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس شاتم نے ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار نہیں کیا ۔البتہ اس نے وہ جرم کیا ہے جس کی سزااسلامی معاشرے میں قتل ہے اور اس میں کسی معافی کی گنجائش نہیں ۔
قاضی ابو محمد بن نصر کی رائے
اس شخص کی توبہ ساقط الاعتبار ہونے کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ بار گاہ احدیت اور بارگاہ رسالت میں گستاخ کے درمیان فرق مشہور قول کی بناء پر ، توبہ کا قبو ل کرنا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم علیہ السلام نوع بشر سے ہیں اور بشریت کا خاصہ ولازمہ نقص ہے۔ماسوا ان نفوس قدسیہ کے جنہیں اللہ رب العالمین نے منصب نبوت پر سر فراز فرمایا ہو اور اللہ تعالیٰ تمام عیوب اور نقائص سے منزہ ومبرا ہیں اور اس کا تعلق قسم وجنس سے نہیں ،جس کو جنسیت کے سبب نقص لاحق ہو۔البتہ بارگاہ رسالت میں گستاخی اور ارتداد کی طرح سے نہیں کیونکہ مرتد اور ارتداد کے معنی میں منفرد ہوتا ہے اور اس میں کسی اور شخص کا حق متعلق نہیں ہوتا ،لٰہذا اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔
لیکن سرکار دو عالم علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والے کا معاملہ دوسرا ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ السلام کا حق بھی متعلق ہو گیا اور یہ بات اسی طرح سمجھی جائے گی کہ جس طرح کسی نے اپنے ارتداد کے وقت کسی کو قتل کیا ہو یا کسی کو تہمت لگائی ہو۔اس طرح اس کی توبہ اس مرتکب جرم سے حد قتل اور تہمت کو ساقط نہیں کرسکتی۔
توبہ کی عدم قبولیت کی ایک اور دلیل
یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ مرتد کی توبہ کی قبولیت کے بعد بھی اس کے جرائم کی وجہ سے حدود شرعیہ چوری،زنا وغیرہ اس پر قائم کی جانے والی ہوں ،تو وہ اس سے ساقط نہیں ہوتیں اور یہاں اس مسئلہ میں جو حد گستاخ و شاتم پر قائم کی جارہی ہے،وہ اس کے کفر کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ حد قائم کیے جانے کی وجہ سے ہے کہ اس نے عظمت وحرمت نبوی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ توبہ اس کو ختم نہیں کرتی۔
اگر اس قائل کی مرادیہ ہو کہ اس کے گستاخی کے کلمات ادا کرنا ،کفر یہ کلمات نہ تھے بلکہ اس کا یہ فعل تحقیر و تنقیص کی بناء پر تھا یا اس کے توبہ ورجوع کا اظہار اس کے ظاہری کفریہ کلمات کے ازالہ کے لیے تھا لیکن اللہ رب العالمین دلوں کے حال سے واقف ہے ۔اب (رجوع انابت اور توبہ کے بعد )گستاخی کا گناہ اور اس پر حکمِ شرعی بجنسہ باقی رہے گا۔
ابو عمران قابس نے فرمایا ہے کہ جس نے سرکار دو عالم علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کی، بعد میں اس کی توبہ گرفتاری اور اس کے کفریہ اقوال پر شہادتیں گزرنے کے بعد کیوں نہ ہو یا وہ گرفتاری کے بعد بظاہر یا دل میں توبہ کرتا ہو اآئے تو اس کی توبہ حد کو ساقط نہیںکرتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حد واجب ہے اور دوسرے حدوں کی طرح اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
شاتم کی وجہ قتل
شیخ ابولحسن قابسی نے فرمایا کہ جب گستاخ شاتم اپنے جرم کا اعتراف کرکے اس سے رجوع کرے اور توبہ بھی ظاہر ہوجائے ،جب بھی ارتکاب جرم کی وجہ سے اس کو قتل کی سزادی جائے گی ،کیونکہ اس جرم کی سزا قتل ہے۔البتہ ابومحمد بن زید نے فرمایا کہ سزا کے بارے میں تو شک وشبہ کی بات نہیں ہے ،البتہ اس کی توبہ وانابت کا معاملہ چونکہ اللہ اور اس کی درمیان ہے،اس لیے اس کی توبہ نفع بخش ہوجائے گی۔
موحد کی گستاخی کی سزا
ابن سحنون نے فرمایا ہے کہ اگر کسی موحد نے بارگاہ رسالت ﷺ میں گستاخی کی اور اس نے اپنے اس فعل پر ندامت کا اظہار بھی کرلیا ،جب بھی اس کو سزائے قتل دی جائے گی اور اس کی توبہ اس کوسزا سے نہیں بچا سکتی۔
اس معاملہ میں یہ بات مدنظر رکھی جائے گی کہ توبہ انابت کے بعد اس کا علماء سے رجوع اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس کو اپنے فعل پر ندامت ہے اور اس طرح ہم اس کے دل کے حال سے واقف ہوگئے۔ برخلاف اس کے کہ جس پر دلائل وبراہین قائم ہوتے ہوں ۔وہ دائرہ اسلام سے بھی خارج ہو گیا ، تو اس کی سزا قتل ہے اور اب اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی اور اس کہ وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کو گالی دینا اس کے حقوق کی پامالی ہے اور اس گالی دینے والے کے ارتداد سے کسی دوسرے کا حق باطل نہیں ہوتا ۔اس جزیہ کی بنا ء پر ہمارے مشائخ کا فرمانا یہ ہے کہ اس قائل کو حد کی بناء پر قتل کیا جائے گا ،ارتداد کی بناء پر نہیں ۔
جو حضرات اس قائل کے ارتداد کو محل نظر دیتے ہیں تو بصورت دیگر وہ حد کے ظہور پر اس کی سزا قتل کے قائل ہوں گے اور ہم دونوں حالتوں میں اس گستاخ کے قتل کا حکم کرتے ہیں ۔اگر وہ قائل ارتکاب جرم کامنکر ہے اور اس پر شہادت شرعی قائم ہو چکی ہے زیادہ توبہ و انابت کا اظہار کرتا ہے تو ہم حد شرعی کے طور پر اس کے قتل کافتوی دیں گے کیونکہ اس کے خلاف کلمہ کفر کا کہنا ثابت ہو چکا ہے اور اس نے سرکا ر دو عالم ﷺ کے اس حق کی تحقیر کی ہے جس کواللہ تعالیٰ نے اعظم قرار دیا ہے ۔
ایک اور اعتراض
یہاں اگر کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ آپ اس قائل کو کافر کہہ کر اس کے کفر پر شہادت لیتے ہیں لیکن توبہ کی قبولیت اور اس کے لوازم کے مسئلہ میں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کوئی حکم نہیں لگاتے اس کی وجہ کیا ہے ؟
جواب اعتراض
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس کی وجہ قتل کفر کو قرار دیا ہے لیکن اس سے ہم اس کے توحید و رسالت کے اقرار کو ،جس کا وہ اقراری ہے ، قطع نہیں کرتے باوجود یہ کہ وہ قائل اس کی شہادت کا جو اس کے لیے لازمی ہے منکر اور اس بات کا مدعی ہے کہ یہ کلمات اس سے غلطی اور معصیت کی وجہ سے صادر ہوئے ہیں اور وہ ان کلمات سے منحرف ہی نہیں بلکہ نادم بھی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض اشخاص پر کفریہ کلمات اور ان کے احکام کو ثابت کرنااس بات کو مانع نہیں کہ اس کی دوسری خصوصیات کو بھی ثابت نہیں کیا جا رہا ہے جیسے کہ تارک صلوٰۃ کا قتل لیکن جس شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے گستاخی کے کلمات اس اعتقاد سے کیے ہیں کہ معاذ اللہ سرکار دو عالم ﷺ کو گالی دینا اور ان کی بار گاہ میں گستاخی کا ارتکاب جائز ہے لہذا اس اعتقاد کی بناء پر اس کے قتل کے حکم میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔
شاتم رسول کافر ہے
اس کلیہ کی بناء پر یہ کہنا درست اورنا قابل تردید ہے کہ( معاذ اللہ )حضور ﷺ کوگالی دینا اسی طرح کفر ہے جس طرح کہ آپ ﷺ کی تکذیب کرنا یا آپ ﷺ کی شخصیت کا انکار اور اسی طرح کے دوسرے امور ۔اب یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ اس قائل کلمات توہین کو حد کے طورپر قتل کیا جائے گا۔باوجود یہ کہ اس نے اپنے قول سے رجوع کیا ہو اور توبہ کی ہو کیونکہ ایسے کلمات کہنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی اور تو بہ کے بعد بھی اس کے ساتھ قول کی بناء پر اور سابقہ کفریہ کلمات کی وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔رہا اس کی توبہ کا معاملہ تو وہ مشیت الٰہی پر منحصر ہے جو دلوں کے حال سے واقف ہے ،خواہ وہ اس توبہ کوقبول فرمائے یا رد فرمائے ۔
اب رہا اس شخص کا معاملہ جس نے توبہ کا اظہار نہیں کیا اور جس سلسلہ میں اس کے بارے میں شہادت پیش ہوئی ،اس کا معترف بھی ہے اور اس پر قائم بھی رہا تو یہ شخص اپنے قول کی بناء پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کو حلال جان کر توہین کا ارتکاب کیا ہے ،کفراً قتل کیا جائے گا۔
اس کی تفصیلی بحث کے بعد جناب مصنف فرماتے ہیں کہ اے عزیز گرامی! آپ کے لیے لازم یہ ہے کہ علماء اسلام کے فرمودات کو اس کی تفاصیل کے ساتھ قبول کریں اور وہ مختلف عبارتیں جو استدلال میں بیان کی گئی ہیں ،ان کو اختیار کریں ۔اس طرح انشاء اللہ صحیح مقصد تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *