شاتمین رسول ﷺ کو سزا کیوں نہیں؟

جب کبھی شاتمین رسول کے لیے شرعی سزا کا ذکر کیا جاتاہے مسلمانوں کا ایک طبقہ شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے ۔اسے یہ فکر ستاتی ہے کہ’’دنیا کیا کہے گی؟‘‘کہ‘اسلام خوںریزی کا مذہب ہے‘،مسلمان وحشی ہیں ۔قتل وغارت تو وحشیانہ تہذیب کی علامت ہے ۔دنیا میں تو خطرناک ترین مجرموں کے لیے بھی سزائے موت میں تخفیف کی باتیں ہو رہی ہیں ۔بلکہ اس سزا کو یک قلم موقوف کرنے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہم دنیا کو کس طرح باور کرا سکیں گے کہ ہم ’’روشن خیال‘‘ ہیں ،’’وسیع النظر‘‘ہیں ،شدت پسند یا تنگ نظر نہیں ،تحمل اور برداشت کی اخلاقیات سے عاری نہیں ،مذہبی جنون میں مبتلا نہیں ۔پھر آخر جو لوگ آنحضور ؐ پر ایمان ہی نہیں رکھتے ان پر آپؐ کی حرمت واجب ہی کیونکر ہوتی ہے ؟
حالیہ مذموم اور دل آزارترین فلم کے خلاف عالمی سطح پر مسلمانوں کا جو رد عمل سامنے آیا اس نے بھی بیچاروں کو شرمندہ کر دیا ہے۔ وہ اس کے شرعی جواز پر بھی سوال اٹھانے اور بال کی کھال اتارنے میں لگے ہیں ۔اور لیبیا میں امریکی سفیر اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت نے تو انہیں شدید احساس جرم میں مبتلا کر کے رکھا دیا ہے ۔جبکہ CIAکے ڈائریکٹر ڈیوڈپیٹر یاس کے استعفیٰ کے بعد کی تحقیقات کے دوران جو دستاویزات سامنے آئیں ہیں ،ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیبیا میں امریکی سفارت خانہ سے متصل ایک قید خانہ بھی تھا ۔مظاہرین میں شامل لیبیائی ملیشیا کے کچھ افراد نے اس جیل سے قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ حملہ کیا تھا۔تاہم حقائق کا باریک بینی سے تجزیہ اور اس سے صحیح نتائج اخذ کرنا ایک تو میڈیا کی پروپگنڈہ وار کی وجہ سے مشکل ہو گیا ہے ،دوسرے ہمارے ذہنی غلامی اور فکری تساہل کا یہ عالم ہے کہ ہم اس کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔
شاتمین رسول ؐ کے لیے سزا کے معاملہ میں مداہنت آمیز رویہ رکھنے والوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس کی بنیاد میں حقیقت پسندی سے کہیں زیادہ ذہنی غلامی کا عنصر پایا جاتا ہے ۔معاملات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے اور اسی کے ذہن سے سوچتے ہیں ،خواہ ان کا تعلق طبقۂ علماء سے ہو یا عصری علوم کے پروردہ افراد سے ۔مگر ؎
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے ،مغرب سے نہیںہے !
ضروری ہے کہ ان کے تمام اندیشوں کی حقیقت کو واضح کیا جائے تاکہ اس معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت کے بغیر مثبت اور مبنی بر حقائق موقف اختیار کیا جا سکے ۔پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا اسلام کو اپنے نزول کی ابتداء (حضرت آدم ؑ) سے لیکر انتہا(حضرت محمدؐ)تک اس بات کی پروا رہی کہ’’دنیا کیا کہے گی؟‘‘اسلام دنیا کے معیارات کے مطابق خود ڈھلنے کے لیے نازل ہوا ہے یا دنیا کو اپنے معیارات کے مطابق ڈھالنے کے لیے؟آخر اس مذہب کی حقیقت ہی کیا ہے جو مروّجہ معیارات کے مطابق ڈھل جائے ؟دوسری بات یہ کہ اسلام پر خونریزی کے الزامات لگانے والوں کو غور سے دیکھیں کیا وہ سرتاپا معصوموں کے خون میں رنگے ہوئے نہیںہیں ؟جہاں تک عام طور سے سزائے موت کو موقوف کرنے کا سوال ہے اس کا مقصد جرائم پروری کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟کیا مجرمین کے ساتھ نرمی کا مطلب جرم کاشکار ہونے والوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟اس تناظر میں مغرب میں بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کو سمجھنا مشکل نہیں ہے ۔گو سزا ئے موت کے خلاف مہم چلاتے ہوئے وہ یہ باور کرانے کی کوشش کر تے ہیں کہ اصل مقصود ’’انسانی جان کا احترام ‘‘ہے ۔کیاا نہوں نے انسانی جان کی قدر وقیمت کا واقعی اندازہ لگا لیا ہے ؟یقینا ۔ اسی لئے تو وہ دونوں عظیم عالمی جنگوں سے لیکر آج تک کروڑوں انسانی جانوں کے اتلاف کے مرتکب ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔شاید ان کے مطابق اپنے مفادات کے حصول کے لیے تو قتل وغارت کسی بھی حد تک رواہے۔۹/۱۱کے بعد شروع کی جانے والی جنگوں کو (Crusades)کہہ کے جارج بش نے خود ہی اس مذہبی جنون کے عنصر کا راز فاش کر دیا تھا جو ان میں سے سب سے زیادہ کا رفرما ہے ۔گو تیل کے کنویں اور معدنیات کے ذخیرے ان کے ماسوا ہیں ۔لہذا ان کے مطابق سیکو لر فاشنرم کے تحت تو ہر قسم کی قتل و غارت کا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے مگر کسی مذہبی رہنما کی حرمت کے نام پر ایک انسان کی جان پر بھی آنچ نہیں آنے دی جاسکتی ۔خواہ وہ مذہب پسندوں کی کتنی ہی دل آزاری ، توہین، تحقیر ،تذلیل اور تضحیک کا مرتکب کیوں نہ ہو ا ہو ۔سوال یہ ہے کہ روشن خیالی ،وسیع النظری کی تعریف بھی یہی سیکولر فاشسٹ طے کریں گے؟جن کو فکری انحطاط ،اخلاقی دیوالیہ پن ،تہذیبی تنزل مگر تکنیکی اور سیاسی بر تری کے غرور نے اندھا کر کے رکھ دیا ہے ؟
جولوگ یہ باور کرانے میں سارا زور صرف کرتے ہیں کہ ’’زمانہ قلم کا ہے !‘‘وہ کس طرح یہ فراموش کر سکتے ہیں کہ گذشتہ پورے ہزارے میں مغربی مفکرین اور مستشرقین کی جانب سے رسول اکرم ؐ پر جو بیہودہ اعتراضات کئے جاتے رہے ہمارے اہل علم ان کے جواب مدلل طور سے قلم ہی کے ذریعے دیتے رہے ہیں مگر معاملہ اب اعتراضات سے آگے بڑھ کہ مغلظات اور کردار کشی کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔اس نئے سلسلہ کی ابتداء رشدی نے اپنے شیطانی ناول سے کی تھی۔سوال یہ ہے کہ مہذب دنیا کے وہ باشندے جو ہمیں اس پر تحمل کا درس دیتے نہیں تھکتے خود اپنے اوپر بے بنیاد اور رکیک الزامات کو برداشت کر لیں گے؟کیا اسے افراد کی شخصی آزادی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا ؟اور کیا وہ اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کے متعلق بھی اس طرح کی دریدہ دہنی کو برداشت کر سکتے ہیں ؟یا ان کے متعلق ان کے جذبات شدید تر ہونگے؟تو ساری وسیع النظری ، روشن خیالی ،اور تحمل و برداشت کی ’’اخلاقیات‘‘ کی تان آنحضور ﷺکی ذات اقدس پر سب وشتم پر جاکے ہی کیوں ٹوٹتی ہے جنہیں مسلمان اپنے والدین بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں ۔
شاتمین رسولؐ کے جرائم سنگین ترین ہیں ۔اوّل تو وہ مسلّمہ تاریخی حقائق سے انکار کرتے ہیں ۔آنحضور ؐ پر ایمان کسی کو ہو یا نہ ہو وہ اس بات سے انکار تو نہیں کر سکتا کہ آپؐ کی ہستی اور سیرت تاریخ کی مکمل روشنی میں مستند ترین طریقہ پر لکھی گئی ہے ۔آپؐ کی ہستی کوئی دیومالائی یا ماقبل تاریخ شخصیت نہیں ہے بلکہ جس قدر مستند آپؐ کی تاریخ ہے دنیا میں کسی اور کی ہو نہیں سکتی ۔پھر کسی کو اس عظیم ترین ،بر گزیدہ اور تاریخی طور پرتسلیم شدہ ہستی کی کردار کشی کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے ؟دوسرے ،شاتمین رسولؐ دنیا میں شمع رسالتؐ کے اربوں پروانوں کے لیے شدید ذہنی ،نفسیاتی اور روحانی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ انہیں اس کا اختیار دینا کون سی اخلاقیات کے تحت روا ہے ؟جبکہ انفرادی اذیت قابل تعزیر جرم ہے تو اربوں انسانوں کو اس بدترین اذیت سے دوچار کرنا ،قابل معافی کیو نکر ہو سکتا ہے ؟مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہم عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی کے الفاظ نوٹ کریں جو انہوں نے حالیہ دل آزار ترین فلم کی ریلیز کے بعد ۲۶ نومبر ۲۰۱۲ئ؁کو ایک مطالبہ کی صورت میں اقوام متحدہ سے خلاب کرتے ہوئے ادا کئے تھے۔انہوں نے کہا تھا ’’جب بین الاقوامی برادری نے جسمانی اذیت کو قابل تعزیر جرم تسلیم کیا ہے تو نفسیاتی اور روحانی اذیت کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جانا چاہیے ۔‘‘دوسری جانب ماہرین قانون بجا طور پر یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق مغرب کے مختلف ممالک میں موجود Blasphemyسے متعلق قوانین کا اطلاق آنحضورؐ کی ذات گرامی کی بے حرمتی کے معاملات پر کیوں نہیںکیا جاتا ؟اس سے غرض نہیں کی کوئی شخص آپؐ پر ایمان لائے یا نہ لائے ،مسلم ہویا کھلا کافر ،مگر آپؐ کے خلاف دریدہ دہنی کا حق اسے کسی قیمت پر نہیں دیا جاسکتا ۔شاتمین رسولؐ درحقیقت اپنے گھناؤنے الفاظ کے ذریعے اعلیٰ انسانی قدروں کے بھی قتل کے مرتکب ہوئے ہیں جو ساری انسانی برادری کے خلاف ایک سنگین جرم ہے ۔
بعض لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ آپ ؐ نے اپنی ذات کے لئے خود کسی سے بدلہ نہیں لیا۔مگر سیرت کی کتابوں سے ایسی کئی دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نے شاتمین رسولؐ کو قتل کرنے کا خود حکم دیا ۔اگرچہ آپؐ نے بعض کو معاف بھی فرمایا ۔مگر یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تائب ہو جانے کے بعد آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام قبول کرنے کے بعد ساری زندگی دین کی خدمت میں گزاردی۔ مستقبل میں کون دین کے لئے کتنا مدد گار ہوگا اس کا اندازہ آپؐ کو وحی کے ذریعے ہو جاتا تھا ۔اور معافی کون صدق دل سے مانگ رہا ہے یہ بھی صرف آپؐ ہی جان سکتے تھے۔کیا آپؐ نے اپنے صحابیؓ حذیفہ بن الیمان کو منافقین کے دلوں کی حالت سے باخبر نہیں کر دیا تھا ؟آج جب آپؐ خود معاف کرنے کے لئے موجود نہیں رہے تو امت کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ شاتمین رسولؐ کو معاف کردے۔یہ چیز تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے کہ صحابہؓ کرام نے شاتمین رسولؐ کی معافی تو کجا ان کے لیے توبہ کرنے کے حق کو بھی تسلیم نہیں کیا ہے ۔اور اس ضمن میں متعدد اور مستند کتابیں موجود ہیں جس میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس موضوع پر تحقیق کی گئی ہے ۔جو لوگ جاننا چاہتے ہیں وہ ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔بہر کیف یہ ثابت اور تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شاتم رسولؐ کو معاف کرنے کا امت کو اختیار ہی نہیں ہے ۔اسلام تو کسی بھی مرنے والوں کو برے القاب سے یاد کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔چہ جائیکہ معاملہ رسولؐ اکرم کی ذات گرامی کا ہو۔پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ ’رشدی‘تسلیمہ‘ڈچ فلمساز‘تھیوڈووان گوگ‘ڈنمارک کارٹونسٹ‘ جیری فالویل یا نکولاس بسیلے میں سے کس کو اپنی مذموم حرکتوں پر افسوس ہوا ہے ؟اگرچہ ان پر توبہ یا معافی کے دروازے بند ہیں مگر جو لوگ اپنی رکیک حرکتوں پر مسلسل دیدہ دلیری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ،ان کے لیے معافی کا خیال بھی ہمارے اس روشن خیال طبقے کو کیوں آتا ہے ؟کیا جو نقصان اور اذیت انہوں نے پہنچائی ہے اس کا ازالہ ممکن ہے ؟
کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ان مذموم اور ذلیل حرکتو ںسے اسلام کا بال بیکا نہیں کیا جا سکتا فحاشی اور دریدہ دہنی پر مشتمل اس پورے گورکھ دھندے کے باوجود آپؐ کی عزت واکرام میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اللہ نے خود آپؐ کے ذکر کو بلند فرمایا ہے ’’و رفعنا لک ذکرک‘‘جس کا ثبوت ہے ۔اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس منفی اور گھناؤنے پروپگنڈے نے خود آپؐ کی سیرت کے مطالعہ کے لیے بھر پور مواقع دئے ہیں اور آپؐ کے شیدائیوں کا حلقہ وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ہمیں معلوم ہے قرن اولیٰ میں آپ کو شاعر اور کاہن کہنے والوں کی مذموم حرکتوںکے نتائج بھی اس سے مختلف نہیں تھے۔اس میں بھی شک نہیں کہ قبول اسلام کے واقعات کے پس پشت وجوہات کا تجزیہ کرنے والے مغربی مفکرین نے بھی رشدی جیسے معاملات کو ان کا اہم محرک قرار دیا ہے ۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان پوری بے عزتی کے ساتھ اسے برداشت کرتے چلے جائیں ۔سعید نفوس آپؐ کی سیرت کا مطالعہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوتی رہیں گی ۔مگر خبیث نفوس کو آپؐ کی حرمت کو پا مال کرنے کی آزادی حاصل رہی تو ہر کس و ناکس آپؐ کی ناموس سے کھلواڑ کی جسارت کرنے لگے گا اور خدانخواستہ آپؐ کی ذات گرامی کو بھی معاذ اللہ حضرت عیسیٰؑ کی طرح مستقل تضحیک کا نشانہ بنایا جانے لگے گا ۔
اس موقع پر ہمیں حضرت امام مالکؒ کا وہ قول یاد آتا ہے :ما بقاء الامۃ بعد شتم نبیّھایعنی اس امت کی کیا زندگی جس کے نبی ؐ کو گالیاں دی جا ئیں ۔یا یہ کہ اس امت کی بقاء کا کیا سوال ہے بعد اسکے کہ اس کے نبی کو گا لیاں دی جائیں ۔سوال یہ ہے کہ نبیؐ کی ہستی کے بغیر امت کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے ؟اپنے نبیؐ کی حرمت کے بغیر امت کی حیثیت ہی کیا ہے ۔نبیؐ کی ذات کا اعتبار اور احترام اگر قائم ہے تو امت کی شناخت اور بقاء کی ضمانت دی جا سکتی ہے ورنہ نہیں ۔جو امت اپنے نبیؐ کی حرمت کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ خود اپنے تحفظ سے محروم ہو جاتی ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *