شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل سے انکار کا فتنہ

ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ہندوستان کے ان محققین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے بلند پایہ مقالہ میں علمی دیانت کے ساتھ تحقیق کا پورا پورا حق ادا کیا ۔لبرل ازم کے نام پر بیسیوں صدی میں جو فتنہ اٹھا ہے ان کے افکار ونظریات کا ناقدانہ جائزہ لے کر دانش قر آنی اور منطقی استدلال کے ساتھ جس انداز اور اسلوب میں جواب دیا ہے اسے عصر حاضر کا برہان قاطع کہا جا سکتا ہے ۔مقالہ کا اقتباس نذر قارئین ہے۔
شاتم رسول ﷺ کے لیے سزائے قتل کی مخالفت اور اہانت رسولﷺ پر احتجاج کو خلاف اسلام قرار دینا دراصل مزاج اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔اور اجماع امت کی مخالفت ہے۔ گزشتہ چودہ سو سال میں یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے اور کسی نے بھی شاتم رسول ﷺ کی سزا ئے قتل کا انکار نہیں کیا ۔علامہ ابن تیمیہ ؒ نے تو اس موضوع پر ایک مکمل کتاب ’الصارم المسلول علی الشاتم الرسول‘کے نام سے لکھ دی ہے ،حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اب شاتم رسولﷺ کی قتل سے انکار کی دعوت اٹھی ہے اور اس فکر کے داعی ہیں وحید الدین خاں صاحب اسلامی مرکز کے صدر ،الرسالہ کے اڈیٹر۔انہیں بڑا اضطراب ہے اس بات پر کہ ساری دنیا کے مسلمان سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف احتجاج کا جھنڈا اٹھا ئے ہوئے ہیں ۔اور اس کے قتل کا فتویٰ بھی صادر کر چکے ہیں ۔نہ صرف ایک سلمان رشدی بلکہ تاریخ تمام شاتمین رسولﷺ کو قتل سے بچانے میں انہوں نے وکیلا نہ منطق اور غیر موزوں وغلط استدلال کی صلاحیتیں وقف کر رکھی ہیں ۔اس بارے میں ان کا موقف ان کے الفاظ میں یہ ہے۔
’’موجودہ زمانے میں مسلمان کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزا ء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے ،اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہے‘‘
’’امتحان کی اس دنیا میں جہاں ہر ایک کو آزادی ہے آپ کسی کو اس پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہی الفاظ بولے جو آپ چاہتے ہیں کہ بولے جائیں ….موجودہ زمانہ میں آزادی فکر خیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتی ہے ــ‘‘
’’رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ بر پا کیا اس نے اسلام کے معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دیا کہ وہ اس کو لیکر اسلام کو بدنام کریں ۔وہ تمام دنیا کو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے وہ قتل و خون کا دین ہے ۔‘‘
’’رسولﷺ کے نام پر رسول کے طریقے کے خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔‘‘
’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی علی الاطلاق طور پر مستوجب قتل جرم ہے۔وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس قرآن وسنت کی کوئی دلیل نہیں ،‘‘
’’سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے مجنونانہ ایجی ٹیشن کا فائدہ کچھ نہیں ہوا۔‘‘
وحید الدین خاں نے رشدیات پر اپنے مضامین میں یہ چیلنج دیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل قرآن وسنت سے ثابت نہیں ۔اب ہم ذیل میں اس چیلنج کا جواب پیش کریں گے ۔قرآن وسنت، آسمانی کتابوں، دور صحابہ ؓ کے نظائر ،فقہاء کے اقوال سے یہ شہادتیں پیش کریں گے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا علی الاطلاق قتل ہے ۔اور اس میں کسی دوسرے سبب کا پایا جانا ضروری نہیں۔
وجہ قتل:
ایک مسلمان شاتم رسول ﷺ دو سبب سے اپنی زندگی کا ستحقاق کھوتاہے۔(۱)شتم رسول بذاتہ مستوجب قتل ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے اور صحابہ ؓ نے کافر اور ذمی کو سب وشتم رسول کے جرم میں قتل کیا ہے ۔
(۲) شاتم رسول اگر مسلمان تھا تو اس کے یہاں دو وجہ قتل جمع ہو جاتی ہیں ۔ایک سب وشتم اور دوسرے ارتداد ۔یہ ارتداد کی نہایت سنگین قسم ہے ۔ مسلمان پیغمبر پر سب وشتم سے مرتد اور کافر ہو جاتا ہے ۔
شاتم رسول کو قتل سے بچانے والے وکیل کے لیے دو شکلیں رہ جاتی ہیں یا تو وہ یہ کہے کہ شاتم رسول سے مسلمان مرتد نہیں ہوتا یا وہ یہ ثابت کرے کہ مرتد کی سزا اسلام میں قتل نہیں ۔ جہاں تک پہلی شکل کا تعلق ہے تو محمد بن سحنون کا قول یہاں تک ہے کہ شاتم رسول کے کفر اور عذاب میں جو شک کرے گا وہ خود کا فر ہو جا ئے گا۔
مسلمان شاتم رسول کے لیے دو وجہیں جومستوجب قتل ہیں جمع ہو جاتی ہیں ۔ایک شتم اور دوسرے ارتداد ۔اب ہم قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے وہ دلیلیں پیش کریں گے جن سے کہیں توشتم کی وجہ سے سزائے قتل کاثبوت ملے گا اور کہیں ارتداد کی وجہ سے قتل کی سزا ثابت ہوگی ۔
قرآن سے استدلال
صاحب الفقہ المیسر نے مرتد کی سزا ئے قتل پر قرآن سے استدلال کیا ہے وہ لکھتے ہیں :
’’جس شخص کا ارتداد ثابت ہو جائے اس کا خون (رائگاں)ہدر ہے ۔کیونکہ اس نے بدترین قسم کے کفر کا ارتکاب کیا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور مرے کافر ہو کر تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے ،وہ دوزخ کے لوگ ہیں ،اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
مذکورہ آیت کی تشریح
مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :
’’تنبیہ مسلمانوں کو بھی کر دی گئی ہے کہ اگر ان کے ظلم و ستم سے مرعوب ہو کر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور اسی حالت میںمر جائے گا اس کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت ہو جائیں گے۔اس آیت میں ایک خاص نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ اعمال کے اکارت ہونے کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہو جائیں گے ۔آخرت میں مرتد ہو جانے والوں کے اعمال کا اکارت ہونا تو واضح ہے ۔البتہ یہ سوال پید اہوتا ہے کہ دنیا میں ان کے اعمال کے اکارت ہونے کی شکل کیا ہوگی۔ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہو جاتا ہے وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے ۔ریاست پر اس کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ہے ۔چنانچہ اسی اصول پر اسلامی تعزیرات کا وہ قانون مبنی ہے جو مرتدوں کی سزا سے متعلق ہے‘‘۔
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی حبطت اعمالھم فی الدنیا کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’پس ایسے شخص کے دنیا میں مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کاخون اور مال محفوظ نہ رہے گا اس کو قتل کر دیا جائے گا‘‘
قرآن سے دوسرا استدلال
اگر کوئی ذمی کھل کر دین اسلام کے خلاف زبان درازی کرے تو اس کا قتل درست ہے ۔اس لیے کہ اس کے ساتھ معاہدہ اس بات پر تھا کہ وہ زبان درازی نہ کرے گا اور جب اس نے زبان درازی کی تو عہد ٹوٹ گیا اور اس کا ذمہ ساقط ہو گیا۔
ابن حبان کہتے ہیں کہ ائمۃ الکفر کے قتل کا حکم عوام کے قتل کی نفی نہیں ہے ۔ائمۃ کی تصریح اہتمام و خصوصیت اور تاکید کے لیے ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ قاتلوا ائمۃ الکفر سے مراد ہے’’قاتلوا الکفار‘‘۔
صاحب روح المعانی کہتے ہیں :
’’ائمہ کفار کے ذکر کی تخصیص اس وجہ سے ہے کہ ان کا قتل سب سے ضروری ہے ۔یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر ائمہ کو قتل نہیں کیا جائے گا‘‘۔
احادیث سے استدلال
شاتم رسولﷺ جو جرم شتم سے پہلے مسلمان رہ چکا ہو مرتد ہو جاتا ہے اور شتم رسول ﷺ کی بنا پر اور پھر ارتداد کی بنا پر وہ مستحق قتل ٹھہرتا ہے۔ذیل میں وہ احادیث بھی درج کی گئی ہیں جن سے ارتداد کی وجہ سے سزائے قتل ثابت ہوتی ہے اور وہ حدیثیں بھی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شتم رسول کی بنا پر مجرم کو قتل کر دیا گیا۔
1۔ مرتد کی سزائے قتل پر احادیث اور سیرت کی کتابیںشاہد ہیں ۔ارتداد کے بہت سے واقعات میں نفس ارتداد پر سزائے قتل دی گئی گو کہ کسی مخصوص بغاوت کی قیادت کا جرم ثابت نہیں ہوا کیونکہ نفس ارتداد خود ایک بغاوت ہے ۔اسی طرح سے شتم رسول ﷺ بذات خود پیغمبر اور بانی دین سے بغاوت ہے۔الگ سے کسی باغیانہ تحریک کی قیادت کا جرم سر زد ہونا ضروری نہیں ۔
ابن عباس ؓ کی ام ولد کے قتل والی حدیث سے واضح ہے کہ اس کو سب و شتم اور ارتداد کی وجہ سے نابینا صحابی نے قتل کر دیا تھا جس کے خون کو حضور ﷺ نے رائگاں قرار دیا۔
2۔ بلوغ المرام فی احادیث الاحکام (صفحہ۱۳۳)میں ہے کہ نابینا صحابی والی یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کوبر اکہنے والا شخص قتل کر دیا جائے گا اور مسلمان ہونے کی صورت میں وہ مرتد ہو جائے گا اور اس سے توبہ بھی طلب نہیں کی جائے گی۔
3۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے ابن خطل کواس وجہ سے کہ وہ شاتم رسول ﷺ تھا حرم میں قتل کرو ادیا ۔فتح الباری میں اس واقعہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ابن خطل خانہ کعبہ کا کپڑا پکڑ کر لٹکا ہوا تھا ایک صحابی نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں اطلاع دی ۔آپ نے فرمایا جاؤ اسے قتل کر دو ۔انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔
4۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جن مجرمین کا خون رائگاں قرار دیا تھا،ان میں ابن خطل کی دو لونڈیاں بھی تھیں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں ان میں ایک نام قریبہ تھا جو قتل کر دی گئی تھی۔
5۔ مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو عفک تھا رسول ﷺ نے جب حارث بن سوید بن صامت کو قتل کرا دیا تو اس نے منافقت کا رویہ اختیار کیا اور حضور ﷺ کی شان میں منظوم ہجو لکھی۔ حضور ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا ،کوئی ہے جو اس کو قتل کردے ۔سالم عمیر اٹھے اور انہوں نے جا کر اس کوقتل کر دیا۔
6۔ بنو امیہ کی ایک عورت تھی جس کا نام اسماء بنت مروان تھا۔یہ شاعرہ تھی ،ابو عفک کے قتل سے اسے ناگواری ہوئی اور اس کا نفاق ظاہر ہوا ۔ذات رسول ﷺ آپ کے مشن اور اہل اسلام کے خلاف اس نے اشعار میں ہرزہ سرائی کی۔حسان بن ثابت نے اس کے قصیدہ کا جواب دیا ۔دونوں کے قصیدوں کے اشعار سیرت ابن ہشام میں بھی مذکور ہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ کیا کوئی شخص نہیں جو انتقام لے اور اس عورت کو جا کر قتل کر دے۔ عمیر بن عدل الخطمی نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور اس کے گھر جا کر اسے قتل کر دیا ۔قتل کرنے کے بعد وہ رسول ﷺ کے پاس آئے اور قتل کی اطلاع دی آپ ﷺ نے فرمایا ۔نصرت اللہ رسولہ یا عمیر۔’’ عمیر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی‘‘۔
صحابہ کے آثار و نظائر سے استدلال
درج ذیل واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک ذمی کو بھی شتم رسول کے جرم میں قتل کیا جائے گااور یہ قتل وہ شخص بھی کر سکتا ہے جو سب و شتم اپنے کان سے سنے۔
حضرت ابن علقمہ سے روایت ہے کہ غرفہ بن حارث الکندی ایک صحابیہ تھیں جن کا گزرا ایسے شخص پر ہوا جو ذمی تھا۔حضرت غرفہ نے اس ذمی کو اسلام کی دعوت دی اس نے جواب میں نبی ﷺ کو گالی دی ۔حضرت غرفہ نے اسے وہیں قتل کردیا۔حضرت عمر و بن العاصؓ نے کہا ۔انہیں (یعنی ذمیوں کو ) ہمارے عہد اور ذمہ کی وجہ سے اطمینان رہتا ہے ۔کہا گیا کہ ہم نے انہیں عہد اور ذمہ اس بات کا نہیں دیا ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کے بارے میں ہمیں ایذا پہنچائیں ۔
وحیدالدین خاں صاحب کی نظر سے مذکورہ بالا صحابی کا واقعہ نہیں گزرا ۔ورنہ وہ یہ نہ لکھتے کہ ’’شتم رسول ﷺ سے مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا تعزیرات اسلام کی کوئی دفعہ نہیں ،‘‘
علماء اسلام اور ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ:۔
شاتم رسولﷺ (مسلمان )مرتد ہے ۔
اور مرتد واجب القتل ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ شاتم رسولﷺ واجب القتل ہے ۔
اب ذیل میں وہ آثار و نظائر پیش کئے جاتے ہیں جن سے ارتداد پر سزا ئے قتل کا ثبوت ملتا ہے ۔
حضورﷺ کی وفات کے بعد یمن اور نجد کے علاقے میں ارتداد کا فتنہ پھیل گیا تھا ۔بہت سے لوگوں نے مسیلمہ کذاب اور سجاح کی نبوت کو مان لیا تھا ۔حضرت ابو بکر صدیق ؓ فتنہ ٔ ارتداد کو ختم کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سرکوبی کے لئے انہوں نے عکرمہؓ بن ابی جہل کو روانہ کیا اور یہ ہدایت دی۔
عمان سے حضرت موت اور یمن تک جو مرتد ین ملیں انہیں قتل کردو۔ حضرت علیؓ کو اطلاع ملی کہ کچھ لوگ عیسایت کو چھوڑ کر مسلمان ہو گئے اور اس کے بعد دوبارہ عیسائی ہوگئے حضرت علی ؓ نے ان سب لوگوں کو گرفتار کروایا اور انہیں بلا کر ان سے معاملہ دریافت کروایا ۔انہوں نے کہا کہ ہم عیسائی تھے پھر ہم نے اپنے اختیار سے اسلام قبول کر لیا مگر اب ہماری رائے ہے کہ عیسائیت سے افضل کوئی دین نہیں ۔اس لیے ہم پھر سے عیسائی ہوگئے ہیں۔ حضرت علی ؓ کے حکم سے یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے۔
اجماع امت سے استدلال:
کتاب و سنت اور سیرت و تاریخ کے واقعات اور ائمہ مجتہدین کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ شتم رسول اور ارتداد کی سزا قتل ہے ۔اور رسول اللہ ﷺ کی امت نے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی مسلمان شاتم رسول کو زندہ نہیں چھوڑا کیو نکہ گستاخی رسول ارتداد کو مستلزم ہے ۔قاضی عیاض نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے ۔
شاتم رسولﷺ ،سلمان رشدی کے قضیئے میں ایک علمی بحث یہ اٹھی ہے کہ مرتد کو قتل کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے۔
اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ کی رائے یہ ہے کہ یہ ذمہ داری امام اور اولوالامر کی ہے ۔لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تصریح ہے کہ ایک عام آدمی بھی مرتد کو اگر قتل کردے تو اس پر کوئی ضمان نہیں کیو نکہ ارتداد کی وجہ سے وہ پہلے ہی مہدور الدم ہو چکا تھا۔
مذہب امامیہ میں ہے کہ جس شخص نے شاتم رسول کی زبان سے رسول کی شان میں گستاخی کی باتیں سنیں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ خود اسے قتل کردے۔
امام جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے اور رسول اللہ ﷺ سے سرکش ہو تو اس کا خون ہر اس شخص کے لیے مباح ہے جو اس کو سنے اور ایسا ہی حکم ہے کہ اگر کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ پر سب وشتم کی تو جائز ہے اس کے سننے والے کے لیے اسے قتل کردے۔
علامہ ابن تیمیہؒ نے شتم رسول کے موضوع پر ایک مستقل کتاب ’’الصارم امسلول علی شاتم الرسول‘‘ لکھی ہے۔ ان کے زمانے میں ایک بدبخت عیسائی توہین رسالت کا مجرم ہوا انہوں نے مسلمانوں کو لے کر اس کے گھر کا محاصرہ بھی کیا ۔علامہ ابن تیمہؒنے جو کچھ کیا اسے دور جدید کی اصطلاح میں ایجیٹیشن کہتے ہیں ۔اب وحید الدین خاں صاحب یہ فرماتے ہیں کہ شاتم رسول سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کو کوئی ایجیٹیشن نہیں کرنا چاہیئے تھا اور یہ سراسر مجنونانہ حرکت تھی۔
فقہ حنفی کی ممتاز شخصیت امام سر خسی ؒ نے شاتم رسول کے قتل پر اجماع نقل کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ وہ کہیں بھی ہو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔
عقلی دلیل:
اسلام دوسرے مذاہب کی طرح مجرد مذہب اور صرف رسوم و عبادات کا مجموعہ نہیں ہے ۔اور نہ صرف انسان کا ذاتی اور نجی معاملہ ہے ۔بلکہ اس کا تعلق ریاستی وبین الاقوامی قوانین اور تعلقات سے بھی ہے ۔حدود کی تنفیذ اور تعزیرات کا اجراء اس کے دائرہ احکام کے اندر داخل ہے وہ مکمل شریعت اور ایک نظام زندگی ہے ۔کیا ایسے دین کے اندر اس بات کی ذرہ برابر بھی گنجائش ہو سکتی ہے کہ ایک شخص پہلے تودین کے لانے والے رسول کی وفاداری اختیار کرے وفاداری کا عہد کر لینے کے بعد وفاداری کا قلادہ اتار کر پھینکے اور رسول کو اپنی ہرزہ سرائی اور سب و شتم کا ہدف بنائے اور اپنے اس مکر وفریب کے رویہ سے اہل ایمان کے دلوں میں شکوک کا بیج بوئے اور پھر اپنے اس جرم کے باوجود قابل تعزیرنہ ہو ۔اسلام عبادت بھی ہے اور ریاست بھی دنیا میں کوئی ریاست اپنے باغیوں کو معاف نہیں کرتی۔پھر اسلامی ریاست سے یہ کیوں توقع کرلی جائے کہ وہ اس دینی و دنیوی سربراہ اور خدا کے رسول کے خلاف سب وشتم کو معاف کردے جس کی اطاعت ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا واحد ذریعہ ہے اور جو ذات بنی نوع انسان میں سب سے افضل ہے ۔اور خود خالق کائنات نے جس کی مدح وثنا کی ہے۔آپﷺ کی ذات مخلوقات میں اتنی ارفع ہے کہ ایک شخص اس دنیا میں کسی کا خون بہا کر قابل قصاص ہوتا ہے وہاں آپﷺ کی شان میں بے ادبی اور توہین سے قابل قصاص بن جاتا ہے ۔
شیطانی آیات کے خلاف احتجاج:
سلمان رشدی تاریخ کا سب سے بڑا شاتم رسول ہے ۔اس نے اپنی بدنام زمانہ کتاب شیطانی آیات میں جو کچھ لکھا ہے وہ رکا کت و ابتذال کا بدترین نمونہ ہے ۔نقل کفر اگرچہ کفر نہیں ہے ۔لیکن اسے دہرانے کی ہمت بھی آسانی سے نہیں ہوتی ہے ۔اس نے خدا کی شان میں بھی بے ادبی کی ہے ۔
اس بد بخت نے ابو الانبیاء حضرت ابراہیم ؑ کے خلاف بھی دریدہ دہنی اور گستاخی کی باتیں لکھی ہیں ۔پھر اس نے ذات رسالت حضور ﷺ کو ’’ماہونڈ‘‘ لکھا ہے جسے پہلے قدیم مستشرقین اسم گرامی محمدﷺ کی جگہ پر لکھتے آئے تھے۔
اس شیطان صفت انسان نے امہات المومنین کو نعوذباللہ قحبہ کا پیشہ کرنے والی عورتوں میں شامل کیا ہے۔حضرت سلمان فارسیؓ ،حضرت بلالؓ اور حضرت خالد ؓ کے خلاف صریح بد زبانی کی ہے ۔
ایسی کھلی ہوئی گستا خی رسول ﷺ سے لبریز کتاب کے خلاف مسلمانوں کا وہی رد عمل ہوا جو اسلام کی چودہ سو سالہ روایت کے مطابق ہے ۔احادیث اور صحابہؓ سے جس کی تصدیق اور اجماع امت سے جس کی توثیق ہوئی ہے ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کے عہد میں ایک نصرانی حاکم نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے تھے ۔سلطان نے حطین کی جنگ کے بعد جب اس کو گرفتار کیا تو یہ کہتے ہوئے اسے خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔
’’میں آج رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انتقام لے رہا ہوں ‘‘۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *