غازی علم الدین شہید

انگریز کے دور میں آزادی کی لگن کے دوش بدوش کئی ناہنجار تحریکیں بھی زور پکڑ رہی تھیں ۔مذہبی مناظرے تو ایک عرصے سے ہوتے چلے آرہے تھے ۔اور ان میں پھبتی کا رواج تھا ۔لیکن دشنام طرازی کی باقاعدہ ابتداء ہندوؤں کے ایک مخصوص فرقے آریہ سماج نے کی ۔مقصد محض مسلم آزاری تھا۔حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کے خلاف چند دریدہ دہن مصنفین نے اس شدت اور تواتر سے گندگی اچھا لنا شروع کی کہ مسلمانوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔پوری مسلم قوم خیبر سے لیکر راس کماری تک شعلہ بد امن ہوگئی ۔انہیںدریدہ دہن ناشروں میں ایک رسوائے زمانہ راجپال بھی تھا جس نے ایک کتاب ’’رنگیلا رسول ‘‘ شائع کی ۔مصنف کا نام گومخفی رکھا گیا ،عام خیال تھا کہ یہ کتاب پرتاپ کے مہاشہ کرشن کی ہے ۔
مقدمہ چلا ۔مسلمانوں کے نقطۂ نظر کی نمائندگی سر محمد شفیع نے کی ۔سر محمد شفیع اپنے وقت کے چوٹی کے وکلاء میں سے تھے ۔ان کی ہائی کورٹ میں تقریر اتنی ولولہ انگیز تھی کہ اگلے روز ان کے ازلی دشمن زمیندار تک نے ’’سر شفیع کی عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی تقریر ‘‘کی سرخی لگائی ۔راجپال کو ہلکی سے سزا ہوئی۔مسلمانوں کی آتش انتقام کو ہندو نواز انگریز ججوں کی اشک شوئی سردنہ کر سکی ۔سزا کچھ یو ں دی گئی کہ جیسے مسلمانوں کے سرپر احسان دھرا جا رہا ہے ۔
دلی میں شردھا نند نے اور لاہور میں راجپال نے اس تحریک کو پروان چڑھایا ۔جب ان کے خبث باطن کے چرچے عام ہوئے اور پڑھے لکھے لوگوں کی محفلوں سے گزر کر عام مسلمانوں تک پہنچے تو ایک ہیجان بپا ہو گیا۔ چنانچہ راجپال پر حملے ہونا شروع ہوئے ،دو مرتبہ تو بچ نکلا اور حملہ آور لمبی سزا ئیں بھگتنے کے لیے جیلوں میں ڈال دیئے گئے ۔حتیٰ کی لاہور کے سریاں اوجھریاں والے بازار کے ایک بڑھئی طالع مند کے بیٹے علم الدین کو جب علم ہوا کہ حضور ﷺ کی شان میں ایسی بے محابا گستاخیاں ہو رہی ہیں تو اس نے تہیہ کر لیا کہ ایسے منھ پھٹ کا علاج قطع شہ رگ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔
اپریل کی ایک دوپہر کو جب لاہور کے بازار اور گلیاں سنسان تھیں ۔علیم الدین چوہٹہ مفتی باقر سے ہسپتال روڈ تک آیا ۔اس نے راجپال کو بیٹھے دیکھا ۔جب آگے بڑھا تو راجپال سہم گیا ۔لیکن پیشتر اس سے کہ وہ مدافعت کرتا ،اس نوجوان کا خنجر اس کے جگر کے پار اتر چکا تھا ۔خون کو فووارے کی صورت میں بہتا چھوڑ کر یہ جوان لکڑی کے گوداموں تک خراماں خرامان چلا ۔پھر یکا یک خیال آیا کہ کہیں وار اوچھا نہ پڑ اہو ،اور راجپال کہیں پھر نہ بچ نکلا ہو ۔دل کی تشفی کے لیے لوٹا تو گرفتار کر لیا گیا ۔انار کلی کے ایک ذیلی بازار میں دن دہاڑے قتل اور وہ بھی ایک ایسے شخص کا جس کا نام ہر ایک کی زبان پر تھا ۔ہندو محلوں میں ہاہا کا رمچ گئی ۔یہ خبر علم الدین کے محلے میں اس وقت پہنچی جب اس کی ماں اس کی سگائی کے لڈو بانٹ رہی تھی ۔
مقدمہ چلا ۔سیشن جج نے پھانسی کی سزا دی ۔ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی ۔علم الدین کی وکالت کے لیے بمبئی سے قائد اعظم محمد علی جناح تشریف لائے۔مقدمہ کی سیاسی اور مذہبی نوعیت ،جناح ایسے فاضل بیرسٹر کی آمد، ملک گیر دلچسپی ،عدالت کے کمرے میں بلکہ احاطے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔ فین روڈ پر ہجوم جمع ہو رہا تھا ، اور ہر لحظہ بڑھتا جا رہا تھا ۔اس ہجوم میں آہنی جنگلے کے ساتھ مجھے بھی قدم رکھنے کی جگہ مل گئی ۔یکا یک آواز آئی، جناح آرہے ہیں ۔ ہم جنگلے کے سہارے ذرا اور اونچے ہو گئے ۔دور سے دیکھا کہ بر آمدے میں جمع ہونے والے لوگ راستہ دے رہے ہیں ،اور مسٹر جناح سیاہ گون میں ملبوس بڑے وقار کے ساتھ عدالت کے کمرے کے جانب جا رہے ہیں ۔ان کے پیچھے علم الدین کے والد طالع مند تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کی صندوقچی تھی ۔
بحث کے دوران قائد آعظم نے زیریں عدالت کے فیصلے اور گواہوں کے بیانات کے پر خچے اڑادیئے۔ عدالت تک تو ہم لوگوں کی رسائی نہیں تھی کہ وہاں صوبے بھر کے نامور وکلاء کا ہجوم تھا ۔اگلے روز اخبارات میں جو روداد چھپی اس میں عاشقان رسول ﷺ کے لیے تازگی ایمان کا بڑا سامان تھا ۔ ٹھیٹھ قانونی اعتبار سے قائد اعظم جناح کی تقریر نکتہ آفرینی اور اسلوب بیان کا شاہکار تھی ۔
انگریز جج براڈوے نے دلائل سننے کے بعد وہی فیصلہ دیا جو متوقع تھا ۔علم الدین کی سزا ئے موت بحال رہی ،اور اب لوگ اس کے واصل حق ہونے کے منتظر رہنے لگے ۔اسے میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا ،اور صبح اسے تختۂ دار پر کھینچ دیا گیا ۔اخباروں میں آخری لمحوں کی جو روداد چھپی ،ان سے علم الدین کی پامردی نمایاں تھی۔ موت کو اس نے مردانہ وار خوش آمدید کہا اور بلند آواز سے …
بنا کر دند خوش رسمے بخاک وخون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
پڑھا اور جان جان آفرین کے سپرد کردی۔
مسلمانوں کے لیے یہ بڑے اندوہ والم کی بات تھی کہ ان کا ایک ہیرویوں پنجاب کے ایک دور دراز علاقے میں موت کی نیند سلا دیا جائے ،اور پھر اس کی قبربھی نگاہوں سے اوجھل رہے ۔چنانچہ غم وغصہ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور باقاعدہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ۔وہ لوگ بھی باہم اکٹھے ہو گئے جن کی سیاسی راہیں مدتوں سے جدا جدا تھیں ۔اقبال،سر شفیع اور ظفر علی خاں اس تحریک کے روح و رواں تھے ۔سر شفیع کی سرکار دوستی ،ظفرعلی خان کی سرکار دشمنی،اقبال کی بے نیازی ،سبھی پس منظر میں چلی گئیں ۔قوم کے سامنے علم الدین کی نعش کا حصول تھا ۔چنانچہ تحریک کا نعرہ ’’نعش لیں گے یا نعش بن جائیں گے ‘‘ٹھہرا۔
اقبال اور سر شفیع گورنر سے ملے اور اسے یقین دلایا کہ مطالبہ حصول نعش تک محدود ہے ۔اور اگرچہ آج کے دن مسلمانوں کے جذبات کی کوئی حد نہیں پھر بھی غیر مسلموں کی عزت و ناموس یا مال و دولت ان کے ہاتھ سے محفوظ رہیں گے ۔گورنر نے اس یقین دہانی کے بعد لاش مسلمانوں کے سپرد کر دینے کا فیصلہ دے دیا ۔دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح کو نعش گا ڑی میں لاہور لائی گئی ۔چھاؤنی کے ا سٹیشن پر پل کے نزدیک گاڑی رکی ۔اور گورا فوج کا ایک دستہ تابوت لے کے گونر ہاؤس تک آیا ۔جہاں اسے مسلمان زعما کے سپرد کر دیا گیا ۔
ایسا جنازہ علم الدین کو میسر آیا ،تاریخ میں خال خال شخصیتوں کو میسر آیا ہو گا ۔لاہور کی نواحی بستیاں تو درکنار ،دور دور کے مقامات سے لوگ اتنی تعداد میں آئے کہ اس شہر کے لیے ان کا سنبھالنا دشوار ہو گیا ۔وہ زمانہ ریلوے کی محدود آمدورفت کا تھا ۔بسوں کی چلن بھی عام نہیں ہوئی تھی ۔نجی موٹر گاڑیاں ابھی کم تھیں اور مسلمانوں کے یہاں قریب قریب مفقود تھیں ۔لیکن پھر بھی لوگ جالندھر ،امرتسر ،گوجرانوالہ ،سیالکوٹ ،گجرات ،منٹگمری اور ملتان سے کھنچے چلے آرہے تھے ۔ نماز جنازہ کے لیے وہ میدان منتخب ہوا جسے چاند ماری کہتے تھے اور جہاں آج کل چوبر جی کے کوارٹر اور دیگر آبادی پھیلی ہوئی ہے ۔یہ علاقہ دریا کی ترائی تک بڑا سر سبز تھا ۔حد نظر تک سبزی کے کھیت تھے ۔نماز جنازہ کے بعد جب تابوت اٹھایا گیا تو چار پائی سے لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے تاکہ لوگ کندھا دینے کی سعادت سے محروم نہ رہیں ۔جنازے کے آگے آگے پھولوں سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی جا رہی تھی ،جو ہجوم میں پھول تقسیم کرتی جا رہی تھی ۔جنازہ نزدیک آیا تو جو لوگ دیر سے کندھا دینے کے لیے منتظر کھڑے ہوتے ایک ہی ریلے میں سڑک سے دور جا پہنچتے ۔چار پائی کے ارد گرد ایک جم غفیر تھا ۔
اکثر لوگوں نے کمر سے پٹکے باندھ رکھے تھے اور ایک عجیب سر مستی کے عالم میں لہرا رہے تھے ،اور لاالہ الااللہ کا ورد کرتے جارہے تھے ۔الااللہ کی ضرب پر ہر بار معلوم ہوتا کہ لاہور کی زمین تھرا اٹھی ہے ۔پھولوں کی بارش میں جنازہ آہستہ آہستہ میانی صاحب کے وسط تک بڑھتا رہا۔قبر کے قریب اژدہام اتنا بے پناہ تھا کہ بڑے بڑے تنومند قبر تک پہنچنے سے عاجز تھے ۔میں نے بدقت تمام جب جھانک کے دیکھا تو لحد میں پھولوں کی سیج بچھی ہوئی تھی ۔
قریب ہی ایک وسیع گڑھے کے وسط میں مولانا ظفر علی خاں کناروں پر امڈے ہوئے ہجوم کو انگریز کی ستم رانیوں کی داستان سنا رہے تھے ۔ مجمع حسب معمول مسحور تھا ۔جب میاں سر محمد شفیع نے انہیں یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ یہ محل کسی سیاسی تقریر کا نہیں تو مولانا نے بجلی کی طرح تڑپ کر کہا کہ جب تک انگریز کا ظلم ختم نہیں ہوتا، اس کی داستان کیسے ختم ہو سکتی ہے ؟ہندو کو تو یہ افسانہ سناتے عار محسوس نہیں ہوتی ۔ہم کیو اتنے محجوب ہوں ؟وہ آزادی کے نغمے الاپتے ہیں ۔ہم غلامی پر کیوں قانع رہیں ؟سر شفیع نے مولانا کے تیور دیکھے تو ایک منجھے ہوئے سیاست داں کی طرح وہی راستہ اختیار کیا جو مولانا کا ہر عافیت کوش حریف ایسے موقعوں پر اختیار کیا کرتا تھا۔تقریر جاری رہی تا آنکہ علم الدین کا جسد خاکی لحد میں اتار دیا گیا اور لاہور کا یہ غیر معروف نجار زادہ چنددنوں میں عالمگیر شہر ت پاکر اسی شہر کی خاک میں آسودۂ راحت ہو گیا ۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف سب ّوشتم کی تحریک جو ہندوؤں میں اٹھی ،وہ اس تحریک کا گھناؤنا پہلو تھی ،جس کی بنا عیسائی علماء نے تحقیق کے پردے میں ڈال دی تھی اور جس کے دوران وہ جھوٹ تراشے گئے کہ افشائے حق ہونے کے بعد خود ان کے ہم مذہبوں کی گردنیں ندامت سے جھک گئیں ۔ آج یورپ کے علماء میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کی تحقیق و تفتیش کو خود پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے ۔انگریز جب آزادیٔ مذہب کی آڑ میں غیر جانبدارانہ ہو گیا تو گھٹیا قسم کے چند ہندو مصنفوں اور ریفارمروں نے پیغمبراسلام ﷺ پر نجاست اچھالنے کو پیشہ بنا لیا۔بہر کیف دلّی میں عبد الرشید کے ہاتھوں شردھانند کیفر کردار کو پہنچا ۔لاہور میں علم الدین کے ہاتھوں راجپال اور کراچی میں عبدلقیوم کے ہاتھوں شاتمان رسول ﷺ کے اس انجام نے اس تحریک کا خاتمہ کر دیا ۔
گاؤں میں سناتن دھرمیوں کی پاٹھ شالہ کے سامنے ایک آریہ سماج دیوان چند بھاٹیہ آٹے کی چکی چلایا کرتے تھے ۔ان کے ساتھ اچھی رسم وراہ تھی جس روز عبدالقیوم نے کراچی میں پراچین کہانی کے مصنف کو قتل کیا، اتفاق سے میرا ادھر سے گذر ہوا ۔مجھے روک کے کہنے لگے :یار سنو! یہ قرآن کی تعلیم میں نقص ہے یا مسلمانوں میں قوت برداشت کی کمی ہے کہ مذہبی تحقیق کا جواب انہوں نے ہمیشہ خنجر سے دیا ہے ‘‘میں نے کہا کہ اگر تحقیق گالی دینے کی نیت سے کی جائے تو ؟ابھی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ ایک معمر سکھ آگئے ۔پوچھنے لگے کیا بات ہے ؟میں نے بھاٹیہ کے سوال اور اپنے جواب کو دہرایا اور ان کی رائے پوچھی ۔وہ جوش میں آکے کہنے لگے کہ اگر میرے گوروؤں میں سے کسی کو گالی دی جائے تو میں تو سر اتار کر ………
میں نے کہا :’’بھاٹیہ جی سن لیجئے‘‘
بہر کیف مسلمان قوم نے اپنے غیظ و غضب کے اظہار میں کسی مداہنت کو روانہیں رکھا ۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ایک جلسہ میں برملا کہہ دیا ’’اللہ سے گستاخی کرنے والوں سے تو وہ خود نپٹ لے گا ۔لیکن رسول کی طرف اٹھنے والی انگلی کو ہی نہیں ،شانے سے بازو تک کاٹ دیا جائے گا ‘‘
یہ محض حادثہ نہیں تھا کہ خلافت ایجی ٹیشن کا اتحادو اتفاق ہندو مسلم فسادات کے خونیں سلسلے کی نذر ہوگیا اور آزادی کی قرارداد پاس ہوتے ہی شاتمان رسول کی ایک کھیپ پیدا ہوگئی۔صاف عیاں ہوچکا تھا کہ یا آزادی کا خواب پریشان کیا جا رہا ہے یا آنے والے دور کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی جا رہی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *