غازی محمد اسحاق شہید

اس دنیا میں یو ں تو کروڑوں انسان پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں ،مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نرالی زندگی گزارتے ہیں اور اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اس شان سے جاتے ہیں کہ ان کی زندگی اور موت رہتی دنیا کے لیے مثال بن جاتی ہے ۔بقول مولانا محمدعلی جوہرؒ:
تو حید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
انہی خوش بختوں میں حضرت غازی محمد اسحاق شہید کا نام نامی مانند قمر مطلع عالم پر درخشاں ہے ۔
مسجد شہید گنج کا قضیہ اپنے پورے عروج پر تھا۔پورے متحدہ ہندوستان میں اور بالخصوص لاہور میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیاں سخت کشیدگی تھی ۔ انگریز اپنی مخصوص سیاست اور مسلمان دشمنی کے پیش نظر اقلیت کا طرفدار تھا ۔مسلمان پوری کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح موقع پا کر مسجد میں داخل ہو کر اسے سکھوں کے قبضہ سے آزاد کرا لیں ۔لیکن حکومت اور با لخصوص ایک سکھ پولیس افسر اس میں رکاوٹ تھا ۔یہ کشیدگی کئی روز سے جاری تھی ۔مسلمان جتھے بنا بنا کر آتے ،لیکن گولہ بارود اور آنسو گیس و غیرہ کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ جاتی ۔
ادھر غازی محمد اسحاق صاحب دل میں عجیب لگن اور جوش و مستی لیے ایک جدا گانہ راہ پر گامزن تھے۔ ایک شاندار خنجر جس پر کلمہ شریف لکھا ہوا تھا ،ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے ۔وہ صبح سے شام اور شام سے صبح تک ذکر و عبادت میں مصروف رہنے لگے ۔اور اسی عالمِ وجد اور جوش شہادت میں موہڑہ شریف تشریف لے گئے، جہاں سے ولی کامل کی طرف سے فتح کا پر چم عطا ہوا اور اس کو اڑاتے ہوئے لاہور آئے ۔اب تک مسلمان اس رکاوٹ کو توڑ کر مسجد میں داخل نہ ہو سکے تھے، کیونکہ یہ سعادت تو غازی محمد اسحاق مرحوم کے حق میں لکھی جا چکی تھی ۔
ایک روز عین مسجد کے مقابل سکھ پولیس افسر کے سامنے یہ جیالا غازی نمودار ہوا اور پلک جھپکتے ہی خنجر اس کے سینہ میں پیوست کر دیا ۔غازی اپنا کام پورا کرکے دربار حضرت شاہ محمد غوث کے حوض پر وضو فرما رہے تھے تا کہ دشمن اسلام کو جہنم واصل کرنے کی خوشی میں دربار خدا وندی میں سجدۂ شکر ادا کریں کہ پولیس نے انہیںآ گھیرا۔ غازی صاحب نے جو عشق رسول کے نشہ میں سر شار تھے ،گرجدار آواز میں فرمایا کہ خبر دار کوئی کافر میرے قریب نہ آئے حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے ۔مجھے پکڑنا ہے تو کوئی مسلمان افسر مجھے ہاتھ لگائے ۔چنانچہ ایک مسلمان پولیس افسر کے سامنے خود کو نہایت اطمینان کے ساتھ پیش کر دیا ،اور حیات ابدی کے شوق میں تنگ و تاریک کوٹھری کو آزادی پر ترجیح دی ۔نزعی بیان میں مقتول سکھ پولیس افسر نے قاتل کا جو حلیہ بیان کیا تھا وہ انتہائی حسین و جمیل نورانی صورت غازی نوجوان کے خلاف تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر نامور وکلاء غازی صاحب کی پیروی کر رہے تھے ۔صرف قتل سے انکار کرنا کا فی تھا اور جان بچ سکتی تھی ۔پھر اس نو ماہ جیل کی زندگی میں خبر ملی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کی ولادت سے غازی کے گھر کو منور فرمایا ہے ۔عزیز واقرباء ،والدین ،بہن بھائی واسطے دے کر انحراف پر مجبور کر رہے تھے ،لیکن ’’شہادت ہے مقصودو مطلوب مومن ‘‘ غازی صاحب سب سے مسکراکر فرماتے ۔جو میری تمنا ہے اس میں رکا وٹ نہ بنو ،مجھے موت کا کوئی خوف نہیں ۔ عزیز و اقرباء اور دنیا کے تمام رشتے جوش شہادت کے سامنے ہیچ ہیں ۔
نو مہینے جیل میں رہنے کے بعد محرم کی یکم تاریخ 25مارچ 1936ء کو مرحوم کی دلی تمنا کے مطابق انہیں تختۂ دار پر لٹکایا گیا اور شہادت نصیب ہوئی ۔
دیکھنے والوں کی آنکھیں اس منظر کو کیسے بھول سکتی ہیں کہ شاہ کربلا ؓ کے اس غلام نے مسکرا کر موت کا استقبال کیا ۔نہایت خوشی سے چاروں طرف دیکھا،گویا گوہر مقصود ہاتھ آگیا ہو ۔مجاہد پھانسی کی طرف بڑھا۔ غازی خود تختۂ دار پر چڑھا اور پھانسی کی رسی کو چوم کر خود اپنے گلے میں ڈال لیا ۔مرحوم نے اپنی جان قربان کردی۔ آج بھی لاہور کی نواحی بستی سلامت پورہ کے اس شہید غازی کی قبر پر آسمان شبنم بکھیر رہا ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *