مسلمانوں کے مرکز محبت پر حملہ

نبی اکرم ﷺ کی شخصیت مسلمانوں کے درمیان ایک مرکز محبت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ہم اپنی اصطلاح میں جس شخص کو گیا گزرا مسلمان کہتے ہیں اور اسے بے عمل اور بے نمازی گردانتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ کے ساتھ محبت اور عشق میں ڈوبے ہونے کے حوالے سے اس میں بھی ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے ۔ مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس،فلسفیوں اور لکھنے والوں نے اس بات کو بالکل ٹھیک سمجھ لیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں جو رویے ظہور پذیر ہوتے ہیں ،اس کی وجہ سے مسلمانوں میں یکجہتی موجود ہے،اور ایک اپنائیت کی فضا باربار پیدا ہو جاتی ہے ۔جب بھی حرمت رسول اور حب رسول کی بات کی جائے ،شان مصطفی اور مقام مصطفی کوبیان کیا جائے ،نظام مصطفی اور عشق مصطفی کا ذکر کیا جائے اور ان حوالوں سے پھر جام مصطفی، حوض مصطفی اور دست مصطفی کی نوید سنائی جائے اور مصطفوی انقلاب کا نعرہ لگایا جائے تو مسلمانوں کی آنکھیں ڈبڈبا آتی ہیں اور دلوں کے اندر ایک نرمی اور گداز پیدا ہو جاتا ہے ۔اس مرکز محبت کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کے لیے اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہنا اہل مغرب کا محبوب مشغلہ ہے۔ہمارے معاشرے میں غلامی کے دور سے پید اہونے والی سیکولر لابی بھی اس میں برابر کی حصے دار ہے اور ایک عام مسلمان کے ذہن سے اس محبت کو کھرچنا چاہتی ہے لیکن یہ اللہ تعالی کا فضل اور ایمان کی برکات میں سے ایک برکت ہے کہ ایک بے عمل مسلمان بھی اس سازش اور ان تمام طریقوں اور دیوں سے آگاہ ہوکر ہمیشہ اس کے مقابلے کے لیے سامنے آجاتا ہے اور اس کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے ۔
بڑی سادگی سے ایک بات کہی جاتی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی انتقام نہیں لیا۔ بالکل ٹھیک اور سو فیصد درست بات ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین تھے۔لیکن یہ نبی اکرم ﷺ کی ہی ذات گرامی ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے سخت سے سخت مخالفین کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا مگر توہین کے مرتکب ہونے والے مرد وخواتین کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اگر وہ کعبے کے پردے میں بھی پناہ لے لیں تب بھی ان کو قتل کیا جائے ۔اس کے علاوہ بھی کئی مواقع پر آپ نے ایسے افراد کے قتل کا حکم فرمایا اور ایک موقع پر محمد بن مسلمہ ؓ کی قیادت میں صحابہ کرام کی ایک ٹیم کو ایک گستاخ رسول کو قتل کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔یہ ذاتی انتقام نہیں خدائی حکم تھا۔اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات مسلمانوں کے لیے مرکز محبت اور عشق اور تعلق کا ایک گہرا عنوان ہے۔ لہذا جب بھی اس کو ختم کرنے ،کمزور کرنے اور زک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا نوٹس لیا جائے گا ۔اور اسی لیے اس کی سزا نبی اکرم ﷺ کیامزنے سے قتل ہے۔ایسی سزا جس کو نبی اکرم ﷺ نے مقرر فرمایا ہے ،کوئی ہما شما، کوئی صدر اور گورنر اس سزا میں کوئی ترمیم اور کمی بیشی نہیں کر سکتے اور اگر کریں گے تویہ حرکت اسلامی حدود میں مداخلت قرار پائے گی اور انہیں ایک بڑے رد عمل کاسامنا کرنا پڑے گا۔
یہ محض پروپگنڈا ہے کہ توہین رسالت کا قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے ۔قانون سب کے لیے ہے اور اس قانون کے تحت مسلمانوں کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے ہیں ۔اس قانون کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو تحفظ مل جاتا ہے کہ عدالت کے فیصلے اور اس کے مطابق عمل در آمد کا انتظار کیا جاتا ہے۔ورنہ توہین رسالت کے حوالے سے ہر صاحب ایمان اپنے آپ کو اس قابل سمجھتا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے کانوں سے سنے اور دل و دماغ کی دنیا میں ہلچل محسوس کرے تو حضرت عمر فاروقؓ کی طرح اپنے ایمان کے تقاضے پورا کرگزرے۔میں کسی انتشار ،افرا تفری اور لا قانویت کی بات نہیں کررہا،لیکن یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی ذات اور آپ کے تمام اعمال سے ایک خاص تعلق اور ایک خاص لگاؤ ہے ، اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ،اور یہ نہ سمجھا جائے کہ کسی آدمی کی داڑھی نہیں ہے ،یا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے اور بے عمل مسلمان کے طور پر جانا جاتا ہے ،تو اس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں کوئی سخت بات کی جا سکتی ہے اور اس کے دل و دماغ کی دنیا کوکچوکے دیے جا سکتے ہیں ۔حکومت کوبھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ غیر ملکی دباؤ کے نتیجے میں توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کی کوشش کی گئی تو یہ اس خاموش اکثریت کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے کے مترادف ہوگا جو بہت عرصے سے اس حکومت کو برداشت کر رہی ہے ۔یہ سوچنا کہ توہین رسالت کا قانون ختم کر دیا جائے گا اور وہ پھر بھی گھروں میں بیٹھے رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ہر مسلمان اس حوالے سے ہر وقت غازی علم الدین اور عامر چیمہ شہید بننے کو تیار ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *