بابری مسجد —- شہادت کے بیس سال بعد

بابری مسجد کی شہادت المیہ بھی ہے اور عبرت آموز داستان بھی۔ چھ دسمبر ۱۹۹۲ئ؁ کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نے علی الاعلان وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد کی تعمیر نو کی جائے گی۔ مگر ابھی تک یہ وعدہ نہ تو وفا ہوا اور نہ دور تک اس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ ہر سال بابری مسجد کا مطالبہ دہرایا جاتا ہے۔ اور مسجد کے انہدام کے خلاف ’یوم سیاہ‘ منایا جاتا ہے، پارلیمان میںبھی اس کی گونج سنائی دیتی ہے، مگر ارباب اقتدار کچھ نہ سننے اور کچھ نہ کرنے پر قائم ہیں۔ گویا ان کے نزدیک یہ مسئلہ قابلِ توجہ اور لائق سماعت نہیں ہے۔ حالانکہ بیس سال کا عرصہ کم نہیںاگر اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہیں۔ لہذا وقت کا تقاضہ ہے کہ ایک بار پھر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تاکہ بابری مسجد کی بازیابی اور تعمیر نو کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکے اور یہ سمجھا جا سکے کہ ہمیں کس طرح کے افراد اور کیسے ماحول سے واسطہ ہے!۔۔۔۔۔
۱۹۹۲ئ؁ میں بابری مسجد اس حال میں شہید کر دی گئی تھی کہ مسجد کی عمارت کو علیٰ حالہ قائم رکھنے کے لئے عدالت عظمیٰ نے واضح احکامات دے رکھے تھے؛ مرکزی حکومت نے حالات سے باخبر رہنے کا پورا اہتمام کر رکھا تھا؛ مسجد کی حفاظت کو یقینی بنائے رکھنے کے لئے ریاستی حکومت اور پولس کے تعاون کے لئے نیم فوجی دستے تعینات کردیے گئے تھے؛ عدالت عظمی (Suprem Court) کا نمائندہ بھی موقع پر موجود تھا ؛ ریاستی وزیر اعلیٰ نے حلفیہ بیان دے کر مسجد کے تحفظ کی یقین دہانی کرا رکھی تھی؛ میڈیا پوری شان و شوکت کے ساتھ مسجد کے اطراف میں شرپسندوں کے ہجوم میں موجود تھا؛ ریاستی افسران اور پولس بڑی تعداد میں ڈیوٹی پر تھی؛ پورے ملک خاص طور پر یو پی میں حالات کشیدہ تھے؛ رتھ یاترائوں ، شیلاپوجن اور شیلانیاس کے ڈراموں کے نتیجہ میںجگہ جگہ مسلم کش فساد ہوچکے تھے؛ صرف یوپی میں۲۵؍مقامات پرکرفیو، لاٹھی چارج اور فائرنگ تک نوبت پہونچ چکی تھی؛ نظم ونسق (Law & Order)کی حالت تشویشناک حد تک خراب تھی؛ بڑی تعداد میں جان و مال کا اتلاف ہوچکا تھا اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی حالت میںبابری مسجد شہید کردی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم فوجی دستے حرکت میں نہیں آسکے۔ ریاستی پولس اور پی اے سی تخریب کاروں کے ساتھ تعاون کرتی رہی اور کھلم کھلاحکم عدولی کی مرتکب ہوئی جس پر کوئی تادیبی کارروائی بھی نہیں ہوئی۔ میڈیا پورے ملک کو پل پل کی خبر دیتا رہا۔ بعد میں شائع کردہ ایک قرطاس ابیض (White Paper)کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ تو بذاتِ خود لحظہ بلحظہ انہدام کی کارروائی سے آگاہی حاصل کرتے رہے مگر ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا مصداق بنے رہے۔۔۔۔اور۔۔۔۔شام ہوتے ہوتے ساڑھے چار سو سال پرانی تاریخی مسجد کی عمارت پوری طرح زمیں بوس کردی گئی۔ ریاستی و مرکزی حکومتیں کچھ نہ کرسکیں۔ دستور ہند بے اثر ثابت ہوا۔ عدالتی نظام جیسے مفلوج ہوگیا ہو۔ نام نہاد سیکولر عناصر جیسے ملک میں موجود ہی نہیں تھے۔ جمہوریت نے فسطائیت کے آگے ہتھیارڈال دیے۔ ملک کے وزیر اعظم کی آنکھ اس وقت کھلی جب ریاستی حکومت نے اپنا شیطانی کردار پوری طرح ادا کرلیااور بابری مسجد کے ملبہ پر ایک نام نہاد مندر کی عاجلانہ طور پر دیواریں کھڑی کردی گئیں۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے اپنے ہی حکم امتناعی کے خلاف ایک دوسرا حکم امتناعی جاری کرکے ایوانِ انصاف کی بنیادیں متزلزل کردیں۔اب کسی ہوش مند اور دیانتدار آدمی کے لئے یہ کہنے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ بابری مسجد کو موقعہ پر موجود ان شرپسندوں نے اپنے بل بوتے پر گرایا تھاجو اپنے ساتھ مسجد کا وہ سنگی کتبہ بھی لے گئے تھے جو مسجد کی تعمیر کے وقت ۱۶۲۸ئ؁ میںمسجد کے بانی نے لگوایا تھا اور جس میں واضح طور پر شہنشاہ بابر اور اس کے سپہ سالار میر باقیؔ کا نام بھی درج تھا۔
یاد رہے کہ ان تحریب کاروں کو کار سیوک(خدمت گار) کا نام دیا گیا تھا جو مسجد کو شہید کرنے کے لئے مختلف علاقوں سے آئے تھے اور سرکاری انتظام میں ان کو بحفاظت گھروں تک پہونچایا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجرموں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سچائی یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی شیطانی منصوبہ بندی کا آغاز ۲۲، ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ئ؁ کی درمیانی شب میں ہی ہو چکی تھی جب دیوار پھاند کر اور مسجد کا تالا توڑکر اس میں مورتیاں (بت) رکھی گئیں تھیں جس کی اولین اطلاع (F.I.R)ماتا پرساد نامی ہیڈ کانسٹبل نے فوری طور پر درج کرائی تھی۔
اس رپورٹ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مسجد کے مسجد نہ ہونے یا اس کے متنازعہ ہونے کا معمولی اشارہ بھی نکلتا ہو۔ اس کے برعکس پانچ بار مسجد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ان لوگوں کو نامزد کیا گیا جن کی سرکردگی میں پچاس ساٹھ شرپسندوں نے مسجد کے احاطہ کی دیوار پھاند کر مسجد کا تالا توڑ کر چوری چھپے اس میں مورتیاں رکھ کر مسجد کی بے حرمتی کی۔ساتھ ہی نماز کی ادائیگی کا ذکر ہے اور آخر میں ضروری کارروائی کے لئے اطلاع دینے کو کہا گیا ہے۔ مگر کیا کارروائی ہوئی اور ہونی کیا چاہیے تھی۔یہ نکتہ قابل غور ہے ۔ مسئلہ چند شرپسندوں کا تھا تو مورتیاں ہٹا دی جاتیں۔ مسجد کی حفاظت و احترام کے لئے (جس میں نمازوں کی ادائیگی بھی لازمی طور پر شامل ہے)پولس فورس بڑھا دی جاتی اور کم از کم نامزد افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا۔ مگر ہو ا کیا؟ مسجد میں تالا ڈال دیا گیا؛ مورتیاں مسجد کے منبر پر ہی رکھی رہنے دیں؛ مسلمانوں کا داخلہ مسجد اور اس کے آس پاس ممنوع کردیا گیا؛ دوسرے فریق (ہندوئوں ) کو پوجا کی اجازت (باہر سے) دے دی گئی اور مسجد قرق کر لی گئی جس کا اُس وقت تک کوئی تنازعۂ ملکیت تھا ہی نہیں۔ کیا یہ سب سازش نہیں تھی۔ اگر نہیں تو وہاں کے DMکو پارلیامینٹ کا ممبر بنا کر کس ’’خدمت‘‘ کا صلہ دیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ بابری مسجد انہدام ایک ایسی مجرمانہ سازش کے نتیجہ میں ہوا جس کے قصورواروں کی فہرست بہت طویل ہے۔ ان میں سے بہت سوںکو اس دنیا میں سزا بھی نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اپنی فرد جرم کے ساتھ دوسری دنیا میں پہونچ چکے ہیں۔ ۱۹۴۹ئ؁ سے ۱۹۸۶ئ؁ تک، جب کہ مسئلہ نے عوامی نوعیت اختیار نہیں کی تھی، اس طویل وقفہ میں عدالتوں کا کسی نتیجہ تک نہ پہونچنا بہت سے شبہات و سوالات پیدا کرتا ہے اور انصاف سے تاخیر انصاف سے انکار کا مصداق ٹھہرتا ہے۔ مسجد کی عمارت کے زور زبردستی انہدام کے سترہ سال بعد الہ آباد ہائی کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے جو عجیب و غریب فیصلہ دیا اس پر ماہرین قانون کے تبصروں کی روشنی میںعدالتی کردار کوبابری مسجد مقدمہ نے مشتبہ بنا دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ا س معاملہ میں کانگریس کی صف اول کی قیادت پر ، جس میں آنجہانی پنڈت نہرو سے لے کر راجیو گاندھی تک کے نام شامل ہیں، انگشت نمائی کی گنجائش ہے جن کے اقتدار کے سائے میں بابری مسجد کا قضیہ الجھتا چلا گیا اور جب کہ ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ مسئلہ سے ناواقف تھے، یا اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔ بقول شاعر:ع
یہ سب جن کے ہیں خون میں ہاتھ تر
یہی تھے مسیحا یہی چارہ گر
تاریخی اعتبار سے بھی بابری مسجد کبھی متنازعہ نہیں رہی۔ کون نہیں جانتا کہ رام کی بھگتی کرنے والے تلسی داس کی رامائن بابر کے پوتے اکبر کے دور میں تصنیف کی گئی اور یہ دور مذہبی رواداری کے لئے نہیں بلکہ ہندو نوازی کے لئے مشہور ہے۔ اوریہ کتاب ہندوئوں کی مقدس کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اگر بابری مسجد رام کا مندر گرا کر بنائی جاتی تو اشارتاًیا وضاحتاً اس میں کوئی تذکرہ ضرور ہوتا۔ کیونکہ مغل دور میں راج پوتوں کی فوجی اہمیت مسلمہ حقیقت ہے حتی کہ اکبر اعظم کا سپہ سالار راجہ مان سنگھ تھا۔ انگریزی دور میں۱۸۸۵ئ؁ کے جس مقدمہ کی بات کی جاتی ہے اور جس کا فیصلہ زیریںاور بالائی عدالتوں نے بابری مسجد کے قریب کی تعمیر کے خلاف دیا، اس میں بھی بابری مسجد کا کوئی تنازعہ نہیں بلکہ اس کے قریب ایک ناجائز تعمیر کرنے کا ہے۔ رہا بابری مسجد کا مسجد ہونا تو وہ سب کے لئے مسلمہ ہے۔ اس کی جگہ ناجائز طور پر مندربنانے کی بات کرنے والے بھی اس کو مسجد ہی مانتے ہیںورنہ بتائیں کہ انہوں نے مسجد گرائی تھی یا مندر۔ اور جسے وہ بابر کی نشانی کہتے ہیں وہ مسجد ہی تھی مندر نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب جانتے ہیں بابری مسجد دلیل کے ساتھ نہیں طاقت کے ذریعہ شہید کی گئی۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جو چیز طاقت کے ذریعہ چھین لی گئی اُسے طاقت کے ذریعہ ہی واپس لیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ مسلمانوں کو یہ گمراہ کن مشورہ بھی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس طاقت نہیں ہے لہذا بابری مسجد سے دست بردار ہونے کے سوا چارہ ہی کیا ہے۔ یہ سب باتیں اسی وقت قابل سماعت ٹھہرتی ہیں جب یہ مان لیا جائے کہ اب ہندوستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور مذہبی آزادی کا بنیادی حق بھی صرف اکثریتی طبقہ کو ہی حاصل ہے۔ ایسا نہیں ہے تو دست برداری کس طرح قابل قبول ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بابری مسجد کی تعمیرِنو اور بازیابی کا مطالبہ سیاسی ماحول کی سازگاری یا قانون ملکی پر منحصر نہیں ہے۔ اگرچہ اس حوالہ سے بھی اس مطالبہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ مگر بھولنا نہیں چاہیے کہ بابری مسجد کی بازیابی بلکہ جملہ شعائر اسلام کے تحفظ کا مسئلہ ایک دینی فریضہ ہے جو اس لئے ساقط نہیں ہو جاتا کہ سیاسی ماحول سازگار نہیں ہے۔ یا براہ راست حصول کی قوت اس وقت مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ ہماری نظر میں صحیح موقف یہی ہے کہ مسلمان اپنے موقف پر قائم رہیںاور اپنا مطالبہ قانونی اور عوامی طور پر پیش کرتے رہیںجس طرح جان و مال اور عفت و آبرو کے تحفظ کے لئے کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ فی الحال نہ تو اہل سیاست لائق اعتبار ہیںاور نہ عدالتی نظام سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ہمارا موقف ایک طرف مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے منسلک ہے اور بنیادی حقوق ہوتے ہی وہ ہیں جنہیں سلب نہیں کیا جاسکتا۔ وہ مراعات کی تعریف میں نہیں آتے جو واپس لی جاسکتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ بشمول بابری مسجد تمام شعائر دینی کا تحفظ ہمارا دینی فریضہ ہے جو ماحول کی ناسازگاری سے ساقط نہیںہو جاتا۔
رہے حالات تو وہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہا کرتے ۔ آئیے! اس عہد کو تازہ کریں کہ منزل کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بابری مسجد سے کبھی دست بردار نہیں ہوںگے۔
والسلام
خاکسار
وجدیؔ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *