قرآن اور حدیث کی روشنی میں عورت کا مقام

قرآن مجید میں عورت کے تین اہم کرداروں یعنی ماں ، بیوی اور بیٹی کے بارے میں بارہا الگ سے تاکید بیان ہوئی ہے۔
ماں
ماں کے بلند مرتبے اور اس کی خدمت واِطاعت کی ترغیب اور اس کے ساتھ درشت کلامی یا سلوک بد کی وعید میں کئی آیتیں ہیں۔ سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے معاً بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم بھی موجود ہے۔
اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (النساء ۔ ۶۳)
سورۂ بنی اسرائیل میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی کسی بات پر اُف تک نہ کرنے اور ان کے ساتھ درشت کلامی نہ کرنے کا حکم ہے۔ ان سے ادب سے بات کرنے اور ہمہ وقت ان کے ساتھ مہربانی اور انکساری کا معاملہ کرنے کا واضح حکم ہے۔
آپ کے رب نے فیصلہ کردیا کہ تم لوگ صرف اسی کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہوجائے تو ان سے اُف تک نہ کہو، اور ان سے شریفانہ بات کرو اور نرمی ورحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کررہو اور دُعا کرو کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جس طرح ان لوگوں نے مجھ کو بچپن میں پالا تھا۔( بنی اسرائیل ۔ ۳۲۔۴۲)
حضرت یحییٰ ؑکی خوبیوں کا ذِکر کرتے ہوئے قرآن مجید نے ان کا یہ وصف خاص طور بیان کیا ہے کہ وہ والدین کے خدمت گذار اور ان کے ساتھ خوش سلوک تھے، سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔
اور پرہیزگار تھے اور والدین کے فرمانبردار تھے اور ظالم وسرکش نہیں تھے۔(مریم۔۴۱)
حضرت عیسیٰ ؑکا بھی یہی خاص وصف بیان کیا گیا ہے کہ
اور مجھ کو میری والدہ کا فرمان بردار بنایا اور ظالم وبدبخت نہیں بنایا۔ (مریم۔۲۳)
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ ہم نے پوری بنی نوع انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔والدین کے حکموں کی اطاعت ضروری ہے، بجز اس کے کہ وہ شرک وکفر پر آمادہ کریں، یا کسی معصیت کے ارتکاب کی بات کریں تو ایسی صورت میں ان کی بات اور حکم لائق اطاعت نہیں ہے۔
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور اگر وہ تم کو اس پر آمادہ کریں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائو جس کا تم کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانو۔(العنکبوت ۔۸)
اللہ کی رضا کے طالب بندوں کے لیے بہتری اور خیر اسی میں ہے کہ وہ قرابت کاحق ادا کریں جس میں والدین کے ساتھ دوسرے قرابت دار بھی شامل ہیں۔
قرابت داروں کو ان کا حق دو اور مسکین ومسافر کو یہ ان لوگوں کے لیے باعث خیر ہے جو اللہ کی رضا کے جویا ہیں۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے تو ماں کا رُتبہ اس لیے بلند ہے کہ اس نے حمل اور دودھ پلانے کی مدت میں خاص طور سے ضعف پر ضعف کے باوجود سخت ترین مشقتوں اور اذیتوں کو برداشت کیا اس کا بدلہ صرف یہی ہے کہ خالق حقیقی خدا کے شکر گذار ہونے کے ساتھ ساتھ وجہ تخلیق والدین کا بھی احسان مند ہوا جائے ، دُنیا میں اچھے اور بھلے طریقے سے ان کے ساتھ پیش آیا جائے۔
اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، اس کی ماں نے اس کو ضعف پر ضعف کے باوجود پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا کہ میرا شکر ادا کرے اور اپنے ماں باپ کا۔ میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ اس کی کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہرائو جن کا تم کو علم نہیں تو ان کی بات نہ مانو اور دُنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے رہو۔(لقمان ۔ ۵۱۔۴۱)
جن لوگوں کے حسن عمل کو قبولیت سے نوازا جاتا ہے اور جو لوگ محض خسارہ میں رہتے ہیں تو ان دونوں کے اعمال میں والدین کی اطاعت اور والدین کی نافرمانی کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ سورہ احقاف میں یہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
ہم نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھاکر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور جنا اور اس کا حمل اور دودھ تیس مہینوں کا رہا۔ یہاں تک کہ جب جوان ہوا اور چالیس سال کا ہوا تو اس نے کہا اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا کیں اور یہ کہ ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہوا ور میری اولاد میں میرے لیے درستگی کا سامان رکھ، میں تیری جانب رجوع کرتا ہوں اور میں اطاعت گزاروں میں ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین عمل کو ہم قبول کرتے ہیں، یہی جنت والے ہیں۔ یہ وعدہ سچا ہے جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اور وہ جو اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ افسوس ہے کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں پھر زندہ کیا جائوں گا اور مجھ سے پہلے صدیاں گذریں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ افسوس ایمان لے آ، اللہ کا وعدہ سچ ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کی باتیں ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو قبیلے اس طرح کے گذرے ہیں ان میںیہ بھی ہیں بے شک یہ لوگ نقصان میں ہیں۔(الاحقاف۔۷۱۔۸۱)
ان آیتوں کے بعد ماں اور باپ کا درجہ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ جس اہمیت کے ساتھ متعین ہوتا ہے اس کے بعد کسی اور تفصیل کی ضرورت نہیں رہتی لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جو دراصل قرآن کی تعلیمات کی تشریح اور توضیح ہیں ہم ان کے بھی کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے مختلف موقعوں پر صحابہ کرامؓ کے سامنے خدمت والدین کو خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل بیان کیا ہے، ایک موقع پر آپؐ نے نماز کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کے عمل کو خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل بتایا اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ جیسے عمل پر فوقیت دی۔
الصلوٰۃ علی وقتھا… ثم برا لوالدین ثم الجھا د فی سبیل اللہ۔
نماز اپنے وقت پر پھر ماں باپ کی فرمانبرداری پھر جہاد فی سبیل اللہ
اِمام بخاریؒ نے من احق الناس بحسن الصحبۃ۔ لوگوں میں حسنِ صحبت کا سب سے زیادہ حق دار کون ، کے تحت یہ حدیث درج کی ہے۔
جاء رجل الی رسول اللہ ﷺ فقال یا رسول اللہ من احق بحسن صحابتی۔ قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک۔
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میرے حسن صحبت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، تمہاری ماں ،پوچھا پھر کون، فرمایا تمہاری ماں، پوچھا پھر کون ، فرمایا تمہاری ماں، انہوں نے کہا اس کے بعد فرمایا تمہارا باپ۔
والدین کی خدمت کے لیے اگر اولاد کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے تو پھر ایسی اولاد کے لیے جہاد میں شامل ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ماں باپ کی خدمت ہی میں ان کے لیے جہاد کے برابر ثواب ہے۔
ایک صحابیؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں جہاد کروں ؟
قال لک ابوان قال نعم قال ففیھا فجاھد۔
آپ ؐنے فرمایا تمہارے ماں باپ ہیں تو کہا ہاں ، فرمایا تو ان دونوں کی خدمت میں لگے رہو۔
نسائی کی روایت ہے کہ ایک صحابی حضرت جاہمہؓ جہاد میں شریک ہونے کے لیے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ؐنے فرمایا کہ تمہاری ماں ہیں ان کی خدمت کرو کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔
فقال ھل لک من ام قال نعم قال النھا فان الجنۃ عند رجلیھا۔
آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہیں، کہا ہاں آپﷺ نے فرمایا مستقل ان کی خدمت میں لگے رہو اس لیے کہ جنت ماں کے پیروں میں ہے۔
اس حدیث میں اس بات کی جانب اِشارہ ہے کہ اگر جنت تلواروں کے نیچے ہے تو وہ ماں کے قدموں کے آس پاس بھی ہے۔صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپﷺ نے اس شخص کے حق میں رنج وافسوس کے کلمات بیان فرمائے جس نے والدین کو یا ان میں سے کسی کو بڑھاپے میں پایا پھر بھی ان کی خدمت کے ذریعے جنت کا مستحق نہ بن سکا۔
رغم انفہ رغم انفہ رغم انفہ من ادرک والدیہ عند الکبر اواحدٰھما ثم لم یدخل الجنۃ۔
برباد ہوا، برباد ہوا، بربادہوا جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی کو بڑھاپے میں پایا پھر بھی جنت میں داخل نہ ہوا۔
ماں اگر غیر مسلم ہے مشرک وکافر ہے تو بھی صلہ رحمی کا آپﷺ نے حکم دیا ، حضرت اسماء ؓ نے اپنی غیر مسلم ماں کے بارے میں سوال کیا۔
افا صل امی قال نعم صلی امک
کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں، فرمایا اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔
اس قسم کی اور بھی حدیثیں ہیں جن کو حدیث وفقہ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
بیٹی
ماں کا درجہ تو خیر ظاہر ہے ، عورت کا ایک اور کردار بیٹی کی صورت میں ہے یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اِسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد دوسرے غیرمسلم معاشروں میں لڑکی اور بیٹی کے وجود کو اچھا نہیں سمجھا گیا بلکہ ان کو زندہ درگور کردینے، پیدا ہوتے ہی ختم کردینے اور ان کی پیدائش پر عار محسوس کرنے کے واقعات تاریخ کے صفحات پر بکھرے پڑے ہیں۔
قرآن مجید نے اِنتہائی پر زور اور پر اثر انداز میں بیٹیوں کی اس زندہ درگوری کے خلاف آواز بلند کی کہ قیامت کے دِن یہ سوال ضرور ہوگا کہ بیٹیوں کو کس جرم میں مارا گیا تھا۔
واذاالموء ودۃ سئلت بای ذنب قتلت۔ (التکویر۔ ۵۔۸)
اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں ماری گئی۔
بیٹیوں کو دیوتائوں پر بھینٹ چڑھایا جاتا تھا، قرآن نے اس کو بربادی کا طریقہ بتایا۔
وکذٰلِک زین لکثیرمن المشرکین قتل اولاد ھم شرکاء ھم لیردوھم ولیلبسوا علیھم دینھم۔ (الانعام ۔ ۷۳۱)
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنادیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بناد یں۔
قرآن مجید نے ایسے لوگوں کی نفسیاتی بیماری کی تشخیص کی ہے جن کو بچی کی پیدائش کی خبر ملتی ہے تو غم وغصہ سے ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں وہ بچی کی پیدائش کی خوشخبری پر بجائے مسرور ہونے کے کڑھتے رہتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کریں اس ذِلت کو برداشت کریں یا پھر اس کو سپردخاک کریں۔
واذا بشرا حدھم بالانثیٰ ظل وجہہ مسودا وھو کظیم یتواریٰ من القوم من سوء ما بشربہ۔ ایمسکہ علیٰ ھون، ام ید سہ فی التراب۔ (النحل۔ ۹۵۔۸۵)
اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور غصے کے گھونٹ پیتا ہے وہ لوگوں سے اس خوشخبری کی تکلیف کی وجہ سے چھپا پھرتا ہے۔ (سوچتا ہے) کہ ذِلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا اس کو مٹی میں دبادے۔
اِسلام نے ان بیٹیوں کو بجائے عار وشرم کے جنت کے اِستحقاق کا سبب بنادیا، انسان اور جہنم کے درمیان یہ بیٹیاں ایک آڑ اور ایک حجاب بن گئیں۔ صحیحین اور ترمذی کی روایت ہے کہ
من ابتلی من ھٰذہ النبات بشی فاحسن ایھن کن لہ سترمن النار
ان بچیوں کے بارے میں جس شخص کی کچھ بھی آزمائش کی گئی اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو یہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔
ایک اور روایت کے مطابق قیامت کے دِن رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسا شخص اِنتہائی قریب ہوگا جس نے دو بچیوں کی پرورِش اور تربیت کی ہو۔
ترمذی کی روایت ہے کہ جس نے تین بہنوں یا بیٹیوں اور دو بہنوں اور بیٹیوں کی عمدہ طور پر پرورِش کی تو جنت اس کی ہوگی۔
من عال ثلاث بنات او ثلاث اخوات اواختین اوبنتین فادبھن واحسن الیھن فلہ الجنۃ۔
جس نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو بہنوں یا دو بیٹیوں کی پرورِش کی، ان کو تہذیب سکھائی ان سے اچھا برتائو کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
ایک اور روایت میں واضح طور پر یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص کے گھر میں بیٹی ہوئی پھر اس نے اس کو زندہ درگور نہیں کیا اس کو ذلیل نہیں سمجھا بیٹوں کو اس پر ترجیح نہیں دی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے اجر میں جنت میں داخل کریں گے۔
من کانت لہ انثی فلم یئدھا ویھنھا ولم یوثر ولدہ یعنی الذکور علیھا ادخلہ اللّٰہ الجنۃ۔
جس کی بیٹی ہو پھر وہ اس کو زندہ دفن نہ کرے اور نہ اس بچی کی توہین کرے اور نہ اس پر بیٹوں کو ترجیح دے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کریں گے۔
بیوی کا درجہ
بیوی کا درجہ چونکہ معاشرہ کی تعمیر وتشکیل میں سب سے زیادہ باوزن اور اہم ہوتا ہے اس لیے اس کے متعلق احکام بھی زیادہ ہیں، سورۂ بقرہ ، نسائ، نور ، روم ، تحریم او ر طلاق میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ہیں۔ ہم ان میں سے چند کو نقل کرتے ہیں تاکہ بیوی کی منزلت واہمیت، اس کی فطرت وصلاحیت اور اس کے متعلق حقوق وفرائض کی وضاحت ہوسکے۔ بیوی کا وجود باعثِ تسکین ہے اور یہ سکون آپس کی محبت اور مروت سے حاصل ہوتا ہے۔
ومن اٰیاتہ خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ (الروم۔ ۱۲)
خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور خدا نے تمہارے درمیان مودت ورحمت بنائی۔
بیوی کے ساتھ بھلائی سے زندگی بسر کرنا چاہیے اس کی بات ناگوارِ خاطر ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ اسی میں خیر اور بہتری پوشیدہ ہو۔
وعاشروھن بالمعروف۔ فان کرھتموھن فعسیٰ ان تکرھوا شیئًا ویجعل اللّٰہ فیہ خیراً کثیراً ۔(النساء ۔ ۹۱)
ان (بیویوں) کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہوتو ہوسکتا ہے کسی چیز کو تم برا سمجھتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر کثیر رکھا ہے۔
اِمام جصاصؒ نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ شوہر پر مہر اور نفقہ کے جو حقوق ہیں ان کو پورا کرے، درشت کلامی اور اعراض اور غیر عورت کی طرف التفات کی وجہ سے اس کو اذیت نہ دے، حتیٰ کہ بیوی کے سامنے چہرہ بشرہ سے بھی نفرت وبیزاری کا اِظہار نہ کرے۔ بیوی کے لیے اسی طرح کے حقوق شوہر پر ہیں جس طرح کے حقوق شوہر کے بیوی پر ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔
ولھن مثلُ الّذی عَلَیھِنَّ بِالْمعَروفِ (البقرہ۔ ۸۲۲)
ان عورتوں کے حقوق ایسے ہی ہیں جیسے ان پر (مردوں) کے حقوق ہیں اچھے طور پر۔
اِمام قرطبی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ مردوں کے حقوقِ زوجیت اسی طرح ہیں جس طرح عورتوںپر مردوں کے حقوق ہیں۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ایک بار فرمایا:
ـــ’’ میں اپنی بیوی کے لیے اسی طرح سجتا ہوں جس طرح وہ میرے لیے سنورتی ہے اور جس طرح میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ میرا حق پوری طرح ادا کرے اسی طرح وہ اس کا اختیار رکھتی ہے کہ وہ اپنا حق پوری طرح وصول کرے۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے کہ مردوں پر عورتوں کا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن صحبت اور خوش معاملگی کا سلوک کرے۔
ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور اسی طرح وہ تمہارے بارے میں اللہ سے ڈریں۔
قرآن مجید کی ایک آیت ہے۔
لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِّمَّا اکْتَسَبوُا وَلِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ۔
مردوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ہے۔
شوہر اور بیوی دونوں یکساں طور پر اپنی اپنی ہستی، اپنے فرائض واعمال اور ان کے نتائج وثمرات رکھتے ہیں۔
دُنیا میںاللہ تعالیٰ ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر کسی نہ کسی خاص بات کی بناء پر فوقیت دیتا ہے۔ فطری طورپر عورت کی معیشت کی ضرورتیں مردوں کے ذریعے پوری ہوتی ہیں اس لیے ذمہ داری اور کارگزاری میں سربراہی کا حق قدرتی طور پر مردوں کو حاصل ہے۔
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَائِ بِمَافَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ (النساء ۶)
مرد عورتوں کے حاکم (زندگی کا بندوبست کرنے والے) ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ ۔ (البقرہ ۔ ۸۸۲)
مردوں کا عورتوں پر ایک (خاص) درجہ ہے۔
اِمام قرطبی لکھتے ہیں کہ مرد کا درجہ اس لیے بلند ہے کہ وہ عقل میں ، خرچ کرنے کی طاقت میں ، دیت، میراث اور جہاد میں بعض حیثیتوں سے عورتوں پر تفوق رکھتے ہیں لیکن حضرت ابن عباسؓ کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ درجہ کی اس برتری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت پر ابھاراجائے اور عورتوں کے ساتھ اخلاقی اور اقتصادی دونوں طرح سے کشادگی کا سلوک کیا جائے۔ یعنی جو افضل ہے اسے اِن اخلاقِ عالیہ کا زیادہ بڑا نمونہ ہونا چاہیے۔
اور اصل بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ دونوں کی زندگی ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ اس لیے ضرورت اور مقصد میں دونوں یکساں اور مساوی ہیں۔
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ۔(البقرہ۔ ۳۲)
وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔
اس بلیغ آیت کی تفسیر میں مفسرین نے مختلف رایوں کو بیان کیا ہے ، ہم یہاں مولانا سیّد سلیمان ندوی ؒ کی ایک تحریر نقل کرتے ہیں ۔ وہ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں۔
’’ مرد عورت کو ایک دوسرے سے ملا کر اللہ تعالیٰ نے دونوں کے جنسی میلان کو ان کی معاشی اور معاشرتی کمی کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے ۔ اس لیے یہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ، ایک دوسرے کی پردہ پوش، ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہیں… اس آیت میں بیسیوں معنی پوشیدہ ہیں، تم ان کے ستر پوش ہو وہ تمہارے لیے ،تم ان کی زینت ہو وہ تمہاری، تم ان کی خوبصورتی ہو وہ تمہاری، تم ان کی تکمیل کا ذریعہ ہو وہ تمہاری۔ یہی نکاح کے اغراض ہیں اور انہی اغراض کو پورا کرنا حقوق زوجین کو ادا کرنا ہے۔
قرآن مجید کی چند آیتیں گوہم نے مختصر پیش کی ہیں، لیکن ان سے یہ الزام باطل ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ ذِلت وپستی کا سلوک کیا جاتا ہے۔
حدیث نبوی اور عورتوں کے حقوق
قرآن مجید کے بعد شریعت کا دوسرا سب سے بڑا ماخذ حدیث نبویﷺ ہے۔ حدیث کی تمام کتابوں اور مجموعوں میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے باب موجود ہیں۔ ان ساری حدیثوں کو یہاں پیش نہیں کیا جاسکتا، لیکن زن وشو سے متعلق چند حدیثیں بطوراستحضارہم پیش کرتے ہیں۔ یہ حدیثیں مشہور ومعروف ہیں۔ اسلامیات کا ہر طالب علم ان سے واقف ہے۔ مگر جب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کے ساتھ حقارت ونفرت کرنا ایک اہم نقطہ ہے تو پھر یاد داشت میں تازگی لانے کے لیے ان حدیثوں پر دو بارہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔
لایغرک مومن مومنۃ ان کرہ منھا خلقارضی منھا احدا۔
کوئی مومن مرد کسی مومن بیوی سے نفرت نہ کرے اگر وہ اس کی کسی عادت کو ناپسند کرے گا تو کسی دوسری عادت سے خوش بھی ہوگا۔
ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ذمہ داریوں کے تعلق سے مرد عورت دونوں اپنے فرائض کے بارے میں جواب دہ ہیں۔
الا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ… الرجل راع علی اھل بیتہ وھو مسئول عن رعیتہ والمرأۃ راعیۃ علیٰ اھل بیت زوجھا وولدہ وھی مسئولۃ عنہ۔
سنو! تم سب ذمے دار ہو اور اپنی ذمہ داری کی چیزوں کے بارے میں جوابدہ ہو، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور ان کے بارے میں جوابدہ ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں کی اور اس کے اولاد کی ذمہ دار ہے۔ اور اس سے متعلق جوابدہ ہے۔
شوہر پر بیوی کا حق ہے اور بہترین انسان وہی ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہتر ہو اور دُنیا کی سب سے بہتر چیز نیک بیوی ہے۔ اس مضمون پر مختلف حدیثیں ہیں۔ مثلاً
ان لزوجک علیک حقا اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا وخیارکم خیارکم لنساء ھم۔
تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے، مکمل مومن وہ ہے جو بہترین اخلاق والا ہو اور تمہارے لیے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہیں۔
خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی الدنیا متاع وخیرمتاعھا المرأۃ الصالحۃ۔
تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والے کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم سے بہتر ہوں، دُنیا ایک پونجی ہے اور اس کی سب سے بہترین پونجی نیک عورت ہے۔
ان قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں اِسلامی معاشرہ میں عورت کی حیثیت کا صحیح تعین ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ماں بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے اپنے حقوق وفرائض کی متحمل ہے۔ لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اِسلام نے معاشرہ میں عورت کو جو مقام دیا ہے وہ مقام دُنیا کا کوئی مذہب عورت کو نہیں دے سکتا۔
دین اور دُنیا کا راہ نما
مسلمان جب قرآن اور حدیث میں غور وفکر کریں گے تو اپنی دینی اور دنیوی ضروریات کا علاج اس میں تلاش ہی کرلیں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *