اللہ کے آخری نبی رحمۃللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺکا ذکر خیر اللہ کی کتاب قرآن مجید میں

۱۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
خانہ کعبہ بیت اللہ کی تعمیر کرتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل ؑ نے اپنی بہترین ،نیک،پاک دعائیں کی اور دعاؤں کو اللہ پاک نے شرف قبول بخشا۔ان دعاؤں میں اللہ کے اس پہلے گھر مکۃ المکرمہ میں ایک بار رسول کی بعثت کی دعا بھی کی جو ہزاروں سال بعد خاتم النبیین ختم الرسول حضرت محمد ﷺ کی صورت میں قبول کی ۔
ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلو علیھم ایاتک ویعلمھم الکتاب و الحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم۔
اے ہمارے رب ان میں ،انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے،انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔(سورۃ البقرہ آیت ۱۲۹)
۲۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت
سورۃ الصف میں حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے بعد میں ایک رسول کی بشارت دیتے ہیں ۔جن کا نام احمد (ﷺ) ہوگا ۔
اس لیے بنیﷺ نے فرمایا:میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور حضرت عیسیٰؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔(الفتح الربانی)
و اذقال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراۃ و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد فلماجاء ھم با لبینات قالو ھذا سحر مبین
اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا اے میری قوم بنی اسرائیل!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے پھر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے (سورۃ الصف آیت ۶)
۳۔محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں
محمد رسول اللہ و الذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعا سجداً یبتغون فضلاً من اللہ و رضواناً، سیماھم فی وجوھھم من أثر السجود ،ذالک مثلھم فی التوراۃ ومثلھم فی الانجیل کزرع أخرج شطأہ فآزرہ فا ستغلظ فاستویٰ علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار وعد اللہ الذین آمنوا و عملواالصالحات منھم مغفرۃ وأجراً عظیماً۔
محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں ،تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں ،ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ،ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کا فروں کو چڑائے ،ان ایمان والوں اور نیکو کاروںسے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔(سورۃ الفتح آیت ۲۹)
ٍ ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابہم ومن ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللہ شیئاً و سیجزی اللہ الشاکرین۔
(حضرت )محمد ﷺصرف رسول ہی ہیں اس سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید ہو جائیں تو اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤگے اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔(سورۃ آل عمران،آیت ۹۱۴۴
یس و القرآن الکریم انک لمن المرسلین علیٰ صراط مستقیم۔
یس قسم ہے قرآن با حکمت کی کہ بیشک آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔سیدھے راستے پر ہیں۔ (سورہ یس آیت ۱تا ۴)
ما کان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شئی علیماً۔
(لوگو) محمد ﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ،لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیںاور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو (خوب )جانتا ہے (سورۃ الاحزاب،آیت ۴۰)
اذا جائک المنافقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشہد ان المنافقین لکاذبون۔
تیرے پاس جب منافق آتے ہیں توکہتے ہیں ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا یہ منافقین جھوٹے ہیں۔
یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین۔
ائے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگو ںسے بچا لے گا بیشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔(سورۃ المائدہ،آیت ۶۷)
۴۔آپ کی رسالت پوری انسانیت کے لیے، قیامت تک کے لیے ہے
وماارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔
اور ہم نے آپ کوتمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔(سورۃ الانبیائ،آیت ۱۰۷)
قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً الذی لہ ملک السمواٹ والارض لا الہ الا ہو یحی و یمیت فآمنوا باللہ و رسولہ النبی الامی الذی یومن بااللہ و کلماتہ و اتبعوہ لعلکم تہتدون۔
آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ،جس کی بادشاہی تمام آسمانوں پر اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ۔(سورۃ الاعراف،آیت ۱۵۸)
وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے مگر (یہ صحیح ہے )کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے ۔(سورۃ السبا،آیت ۲۸)
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما۔
(لوگو) محمد ﷺتمہارے مردوں میںسے کسی کے باپ نہیں ،لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیںاور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو (خوب )جانتا ہے (سورۃ الاحزاب،آیت ۴۰)
۵۔کار رسالت
ھو الذی ارسل رسولہ با لھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون۔
اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرک برا مانیں۔ (سورۃ الصف آیت ۹)
یا أیھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یھدی القوم الکافرین۔
اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچالے گا بیشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔(سورۃ المائدہآیت ۶۷)
قل اننی ھدانی ربی الی صراط مستقیم دیناً قیماً ملۃ ابراھیم حنیفا وماکان من المشرکین قل ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی لللہ رب العالمین لاشریک لہ و بذالک أمرت و أنا أول المسلمین۔
آپ کہہ دیجئے کی مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتا یا ہے کہ وہ دین مستحکم ہے جو طریقہ ابراہیم ؑ کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے ۔آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز میری ساری عبادت اور میرا جینا اور مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں ۔(سورۃ الانعام ۱۶۱۔۱۶۳)
المص۔کتاب انزل الیک فلا یکن فی صدرک حرج منہ لتنذر بہ و ذکریٰ للمؤمنین ۔اتبعوا ما أنزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ أولیاء قلیلاً ما تذکرون۔
المص۔یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعے ڈرائیں ،سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے تم لوگ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی پیروی مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔ (سورۃ الاعراف ۱۔۳)
کما ارسلنا فیکم رسولاً منکم یتلوعلیکم آیاتنا ویزکیکم ویعلکم الکتاب و الحکمۃ و یعلکم ما لم تکونوا تعلمون۔
جس طرح ہم نے تم میں تمہیں سے رسول بھیجا وہ ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت اور وہ چیزیں سکھاتا ہے جس سے تم بے علم تھے۔(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۱)
یا أیھا البنی انا أرسناک شاھداًو مبشراًو نذیراً۔وداعیاً الی اللہ باذنہ و سراجاً منیرا۔ً
اے بنی!یقینا ہم نے ہی آپ کو (رسول بناکر) گواہیاں دینے والا خوشخبری سنانے والا بھیجا ہے ۔اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ ۔(سورۃ الاحزاب ۴۵۔۴۶)
وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ولو انھم اذ ظلموا أنفسھم جائوک فاستغفروا اللہ و استغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیماً
ہم نے ہر رسول کو صرف اس لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ، تیرے پاس آجاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول ﷺ بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو یقینا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔(سورۃ النساء آیت۶۴)
الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ و الانجیل یامرھم بالمعروف و ینھاھم عن المنکر ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث ویضع عنھم اصرھم و الاغلال التی کانت علیھم فا لذین آمنوا بہ و عزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ أولئک ھم المفلحون۔
جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں ۔سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتبا ع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے ،ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں ۔ (سورۃ الاعراف آیت ۱۵۷)
یا ایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر وثیابک فطھر والرجز فاھجر ولا تمنن تستکثر و لربک فاصبر۔
اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو جا اور آگاہ کردے اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر ۔ اوراپنے کپڑے پاک رکھ اورناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔(سورۃ المدثر آیت۱۔۷)
شرع لکم من الدین ماو صیٰ بہ نوحا والذی أو حینا الیک وما وصینا بہ ابراھیم و موسیٰ عیسیٰ أن أقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ کبر علیٰ المشرکین ما تدعو ھم الیہ اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب۔
اللہ تعالیٰ نے تمہا رے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام ) کو حکم دیا تھا اور جو ( بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دیا ہے ،اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ( علیہم السلام ) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈا لنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا ہے ۔(سورۃ شوریٰ آیت ۱۳)
انا أ رسلناک شاھداً ومبشراً و نذیراً لتؤمنوا باللہ ورسولہ و تعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ و أصیلا۔ً
ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ۔تا کہ( اے مسلمانوں )تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کاا دب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام ۔(سورۃ الفتح آیت ۹۔۸)
لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ لمن کا یرجو اللہ و الیوم الآخر و ذکر اللہ کثیراً۔
یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ( موجود) ہے ،ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثر ت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے ۔(سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)
ما أفاء اللہ علیٰ رسولہ من أھل القریٰ فللہ وللرسول و لذی القربیٰ و الیتامیٰ و المساکین و ابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیا ء منکم وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا و اتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب۔
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش نہ کرتا رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو ،یقینا اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے ۔(سورۃ الحشر آیت ۷)
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفر لکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم۔
کہہ دیجئے!اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔(سورۃ العمران آیت ۳۱)
یا أیھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکافرین و المنافقین ان اللہ کان علیما حکیماً واتبع ما یوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ً
اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا اللہ تعالیٰ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے و حی کی جاتی ہے اس کی تابعداری کریں ( یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے ۔(سورۃ الاحزاب آیت ۱تا ۳)
فلا تطع الکافرین و جاھد ھم بہ جھاداً کبیراً۔
پس آپ کا فروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں ۔(سورۃالفرقان آیت ۵۲) (باقی آئندہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *