جمہوری ہندوستان کا سیاہ ترین قانون یو اے پی اے مجریہ ۱۹۶۷ئ؁ ترمیم شدہ ۲۰۱۲ئ؁

کسی بھی مہذب سماج کے لئے قانون ایک ضرورت ہے اور اس کا دیانت دارانہ نفاذ اس کی زندگی۔ قانون بنانے اور اسے نافذ کرنے کا عمل انسانی زندگی میں مطلق آزادی کی تحدید کرتا ہے اور اسے ماننا پڑتا ہے کہ وہ اس زندگی میں شُترِ بے مہار نہیں ہے بلکہ سماج کے تئیں چند اقدار کا تابع ہے۔
قوانین روز بنتے بگڑتے ہیں۔ کبھی ان سے کچھ انسانوں کو فائدہ پہونچتا ہے اور کبھی کچھ کو نقصان۔ لیکن ایسے قانون بھی بنائے جاتے ہیں جن سے صرف اور صرف نقصان ہی مقصود ہوتا ہے۔ ایسے قوانین اربابِ اقتدار اور قانون نافذ کرنے والوں کو فائدہ پہونچاتے ہیں اور کمزوروں اور مظلوموں کے درد میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔
Terroritst and Disruptive Activity Act (TADA- 1985)
کانگریس کی سربراہی والی یو پی اے حکومت نے اسے بناکر مئی ۱۹۸۵ئ؁ میں نافذ کیا تھا۔ اولاً یہ قانون ریاست پنجاب کی ضرورت کے پیش نظر بنایا گیا۔ لیکن دو مرتبہ اس میں ترمیمات کی گئیں۔ پہلی بار ۱۹۸۹ئ؁ میں اور دوسری بار ۱۹۹۳ئ؁ میں۔ اس طرح اسے سارے ملک میں نفاذ کا حق دیا گیا۔ ارباب اقتدار نے ایجنسیوں کا خوب استعمال کرکے اس قانون کے نفاذ میں دھاندلیاں کیں۔ سب سے زیادہ مسلمانوں کا نقصان ہوا۔ اس قانون میں ملزم کا پولس کے سامنے اقبالیہ بیان ہی ثبوت مانا گیا۔ اورپولس کس طرح اقبال جرم کراتی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔نیز اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی ملزم ہی پر ڈالی گئی۔بغیر ضمانت ایک سال کی کسٹڈی کا پولس اور عدالت کو حق دیا گیا۔ اس کے غلط استعمال کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار اور شواہد سے کیا جا سکتا ہے۔
اس قانون کے تحت ۰۰۰,۷۶؍ افراد گرفتار کئے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی (۱۹۸۵ئ؁ تا ۱۹۹۵ئ؁)
صرف ۳۵فیصد افراد کے ٹرائل چلائے گئے۔
۹۵فیصد بری ہوئے۔
۲فیصد سے بھی کم کو سزائیںہوئیں۔
گویا ۰۰ا میں سے ۹۸ افراد اپنی بے گنا ہی کے باوجود TADAجیسے قانون کا شکار ہوئے جبکہ باقی ۲ فیصد کو مجرم قرار دیا جانا بھی شبہہ سے پاک نہیں ہو سکتا۔
Prevention of Terrorist Activity Act (POTA – 2002)
یوپی اے کی کانگریسی سرکار کے ٹاڈا کے بے محابہ استعمال نے بالآخر بے چینی پیدا کی اور اس قانون کو ختم کر دیا گیا۔ مگر بی جے پی کی این ڈی اے سرکاربھلا اپنے حصہ کی قانون سازی سے کیسے محروم رہ سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے TADA کی جگہ POTAکا قانون بنایا۔ جلد بازی اتنی کہ پہلے ایک آرڈیننس کے ذریعہPOTOکا اجرا ہوا اور بعد میں اسے پارلیامینٹ پر حملہ کے فوراً بعد قانونی شکل دے دی گئی۔ ٹاڈا کی طرح پوٹا بھی ارباب اقتدار کی غلط نیتیوں کا شکار ہوا۔ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی ان ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف اس کا بے دریغ استعمال ہوا۔ گجرات اور یوپی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔
اس قانون کے تحت ۱۸۰؍دنوں کا Detaintionبغیر ضمانت کا پولس کو حق دیا گیا۔اور پولس کے سامنے اقبالیہ بیان کو کورٹ میں ثبوت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ظلم جب حد سے گذرتا ہے توسارے حدود توڑ دیتا ہے۔ اس سے جو بے چینی پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں این ڈی اے تو رخصت ہوئی اور نئی سرکار نے پوٹا کی بساط لپیٹ دی۔ لیکن آج بھی گجراتی مسلمان اور یوپی میں بعض لوگ اس قانون کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ اور کچھ لوگ کسی طرح برسوں بعد ضمانت پررہا بھی ہوگئے توان کے خلاف اسی قانون کی دفعات کے تحت مقدمے چل رہے ہیںاور اعلی عدالتوں کے جج صاحبان بھی ان کی بے گناہی پر مہر ثبت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
National Counter Terrorism Centre Act (NCTC 2012)
ممبئی حملہ کے بعد حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لئے قومی سطح پر NIAنیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کو وجود بخشا جو امریکن خفیہ ایجنسی FBIکے طرز پر کام کرتی ہے۔ لیکن IB کی فضیلت میں کمی نہیں کی گئی ہے۔ اسے لوک پال کی دسترس سے دور رکھا گیا ہے یہاں تک کہ وہ پارلیامینٹ کے سامنے بھی جوابدہ نہیں ہے۔
اس وقت کے وزیر داخلہ مسٹر چدمبرم نے یہ بل NCTC – 2012کے نام سے متعارف کرایا جسے مارچ ۲۰۱۲ئ؁سے لاگو کیا جانا تھا لیکن ریاستوں کی مخالفت کی وجہ سے اُسے واپس ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا اس کی خاص باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ یہ سنٹر IB کے تحت چلایا جانا تھا
۲۔ یہ سنٹر امریکی دباؤ میں بنایا جارہا تھا اور روس کی خفیہ ایجنسی KGBکے طرز پر لایا جارہا تھا۔
۳۔ خفیہ معلومات کے ساتھ اسے عملی (opertational)اختیارات بھی دیے جارہے تھے۔
Unlawful Activity Prevention Act 1967, amended 2012
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گروپس و افراد کے خلاف اس قانون کے تحت ایکشن لیا جاتا ہے۔ اسے صرف مرکزی حکومت ہی نافذ کرتی ہے۔ اس قانون میں ۱۹۷۲ئ؁اور ۱۹۸۶ئ؁ مں کئی ترمیمات کی گئیں۔ ٹاڈا اور پوٹا کو لپیٹ دینے کے بعد ۲۰۰۴ئ؁ اور ۲۰۰۸ئ؁ میں بڑی تبدیلیوں کے ساتھ اسے لایا گیا جو درحقیقت Tadaاور Potaہی کی ایک polishedشکل تھی۔
NCTC ACT 2012کی ناکامی کے بعد اس قانون پر دوبارہ نظر کرم ڈالی گئی اور ۲۰۱۲ئ؁ کی ترمیمات کے ساتھ گذشتہ پارلیامینٹ سیشن میں اسے پاس کردیا گیااور اب یہ صدارتی دستخط کا منتظر ہے۔اسے بڑے خوب صورت انداز میں خاموشی سے پاس کردیا گیا۔ میڈیا نے اس پر زبان کھولی نہ اپوزیشن اس پر برسی۔ بلکہ سب سے بڑی اپوزیشن BJPنے اس معاملہ میں حکومت کا ساتھ دیا۔
یہ قانون دہلی عصمت دری معاملہ میں میڈیا کے شوروغل کی آڑ میں خاموشی سے پاس ہوگیا۔ اس کا نفاذ بھی امید ہے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ان کی جماعتوں کے خلاف بھرپور ہو سکتا ہے۔ اسیّ ترمیمی دفعات نے اس کے دانتوں کو مزید تیز ہی نہیں کیا بلکہ نئے دانت بھی عطا کئے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل نکات قابل غور ہیں۔
(الف) ۱۸۰ ؍دنوں تک Detainرکھنے کا حق ایجنسیوں کو دیا گیا ہے تا آں کہ چارج شیٹ تیار ہوجائے۔
(ب) کسی بھی ممنوعہ تنظیم سے ماضی کی وابستگی بھی گرفتاری کی وجہ بن سکتی ہے۔
(ج) کسی بھی ممنوعہ تنظیم سے وابستگی سے انکار کا ثبوت ملزم کے ذمہ رکھا گیا ہے۔
(د)اس قانون میں فرد (Person)کی تعریف صرف فرد تک نہیں بلکہ گھر اور گروپ تک کی گئی ہے۔ مثلاً گھرکا ایک آدمی گڑبڑ ہو تو پورا گھر ہی گھیرے میں لایا جائے گا ۔ ٹرسٹ، سوسائٹی یا دوستوں میں کوئی دوست اس قانون کا شکار ہوتا ہے تو سب اس کی چپیٹ میں لائے جائیں گے۔ایسا کالا قانون ورن کے رکھوالوں نے بنایا ہے۔
(و) اس قانون سے ہندو غیر منقسم خاندان کو علیحدہ رکھا گیا ہے۔ یہ بات خود اس بات کی مظہر ہے کہ قانون بنانے والوں کا مقصد غیر ہندو اقوام کو لقمۂ تر بنانا ہے۔
(ز) اس سے قبل کسی بھی جماعت کو زیادہ سے زیادہ دو سال تک پابند کیا جا سکتا تھا۔ اب یہ مدت پانچ سال کردی گئی ہے۔

(ح)اس کی زد سب سے زیادہ مالیات financeپر پڑتی ہے۔ کسی کی دی ہوئی رقم اگر ممنوعہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو اسے بھی قانون کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
(ط) غیر ملکی کرنسی اور نقلی نوٹوں کے معاملات بھی اس قانون کے تحت لائے گئے ہیں۔اس سے ہمارے مدارس اور تجارت پیشہ افراد سب سے زیادہ متاثرہو سکتے ہیں۔
اس قانون کے خلاف چارہ جوئی اور عوامی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ قانون انگریزوں کے قوانین سے بھی زیادہ کالا ہے۔ اس پر خاموشی آہندہ نسلوں اور اجتماعیتوں کی جڑ کاٹنے والی ہے۔٭

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *