زہر بوؤگے تو زہر ہی کاٹوگے

دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی استعمار اس قابل نہیں رہ گیا تھا کہ اپنے نوآبادیاتی نظام کوبراہ راست قائم رکھ سکے چنانچہ افریقہ و ایشیاء کے محکوم ممالک کو سیاسی آزادی حاصل کرنے میں کامیابی مل گئی۔ برصغیر بھی برطانوی استبداد کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔ مگر افسوس کہ تہذیبی اور ذہنی غلامی کا قلادہ اپنی گردن سے نہ اتار سکا بلکہ پہلے سے بڑھ کر اس میں مبتلا ہوگیا۔ ہندوستان دو آزاد اور خود مختار ملکوں میں تقسیم ہوگیا۔ آزادی کی یہ بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود مغربی سامراج کے استحصال کا شکار بنتا چلا گیا۔پہلے صرف برطانیہ کے سرکاری درباری لوگ انگریزوں کے طور طریقوں پر چلتے تھے مگر اب حال یہ ہے کہ ایک معمولی فرد اور کسان بھی اسی طرز معاشرت کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ دو نسلیں مغربی تہذیب اور تعلیم کے سانچوں میں ڈھل کر زندگی کے میدان میں اتر چکی ہیںجن کے نزدیک زندگی کے تمام معیارات اور پسند و ناپسند کے سارے پیمانے امریکہ، روس اور برطانیہ سے درآمد شدہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ اب تو نام بھی ایسے رکھے جارہے ہیں جن سے کان پہلے سے مانوس نہیں تھے۔ ماں کی جگہ momاور ابا کی جگہDadنے لے لی ہے۔ لباس اور وضع قطع کا تو کہنا ہی کیا ہے، پسندیدہ شخصیت کا مقام ان ناچنے کودنے والے لوگوں کو حاصل ہو گیا ہے جو سر تا پا مغرب کے پروردہ اور تراشیدہ لوگ ہیں۔ پہلے ایک آدمی اپنی تہذیب، اپنی کاروباری مشغولیت اور معاشی حیثیت کے مطابق طرزِ معاشرت اختیار کرتا تھا۔ مگر اب بیرون ملک سے آئی ہوئی کمپنیاں ان سارے معاملا ت میں دخیل و شریک ہیں ۔ نظام تعلیم جس کے تحت نئی نسل کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے پوری طرح یورپ کی مادی تہذیب و معاشرت کا وضع کردہ ہے۔ جس میں آداب و اخلاق، امانت ودیانت اور شرم و حیا اور رشتوں ناطوں کی برائے نام اہمیت بھی باقی نہیں رہی ہے۔ تجارت کی کنجیاں بھی اب ان کے ہی ہاتھوں میں گروی رکھی جاچکی ہیںجو سیاسی آزادی دے کر بھی معاشی غلامی میں مبتلا رکھنے کے ماہر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ اسباب و عوامل کے تحت جو معاشرہ اور جو سیاسی نظام تشکیل پا چکا ہے اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ کرپشن سے محفوظ رہے گا بلکہ خود کرپٹ نہ ہوکر دوسروں کو بھی اس میں مبتلا نہ کرے گا، یک طرفہ خوش فہمی کے سوا کچھ نہیںہے۔ ہمارے ملک کے سیاسی حکمرانوں اور قانون بنانے والوں اور اسے نافذ کرنے والوں کا رویہ انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہے جو سرتا پا مادہ پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جنہوں نے سیاست اوربے ایمانی کو ہم معنی بناکر رکھ دیا ہے۔ یہ فلاحی ریاست Welfare Stateکا تصور ایک آئیڈیل کے طور پر پیش تو کرتے ہیں لیکن پالیسیاں اس کے برعکس اختیار کرتے ہیں۔ حکومت سب سے بڑے سود خور مہاجن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج کے حکمراں اخلاق کی درستگی کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ ہاں اخلاق برباد کرنے کے لئے سب کچھ کرتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر مغربی تہذیب کا زہر گھول کر پلایا جارہا ہے۔ شراب جیسی لعنت کو قانونی سرپرستی میں عام کیا جارہا ہے۔ حکومت خود شراب کی سب سے بڑی سوداگر ہے اور اربوںروپیہ ٹیکس کے نام پر کماتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک زبردست اخلاقی زوال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لوٹ مار، ڈکیتی، زناکاری، چوربازاری اور رشوت خوری کے سیلاب میں سب بہے چلے جارہے ہیں۔برائی مٹانے کی بات تو دوررہی، برائی کو برائی سمجھنا بھی باقی نہ رہے تو اصلاح کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ سماج کے نچلے اور زیردست حصہ کی خرابی کو دور کرنا آسان ہے مگرکارفرما اور کارپرداز عناصر ہی بدی پر اتر آئیں تو اصلاح کون کرے اور کیسے کرے؟ وعظ و نصیحت کرنے والے اور تعلیم و تلقین کے مناصب پر فائز لوگ جب موقع پرست اور بزدل بن کر ہوا کے رخ پر بہنے لگیںتو اب کسے رہنما کرے کوئی! اقتدارکی کرسیوں پر جب جرائم پیشہ عناصر قبضہ جما لیںاور رزق کے خزانوں پر سود خوروں کا تسلط ہو تو غریبوں کے دکھ درد کا بوجھ کون اٹھائے؟ یہی سب کچھ ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے۔ آج تحقیق طلب یہ نہیں رہا کہ کس محکمہ میں کو ن بد دیانتی اور بد عنوانی میں مبتلا ہے بلکہ تلاش اور جستجو اس کی ہے کہاں اور کون اپنے فرائض کو دیانت داری سے ادا کررہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظام عدل کی حالت بھی حد درجہ تشویشناک ہے۔ اول تو معمول کے مطابق انصاف کا حصول ہی ایک عام آدمی کے لئے حد درجہ مشکل ہے۔ کہا جاتا ہے انصاف ملتا نہیں خریدا جاتا ہے۔ وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کے لئے معقول فیس کی ادائیگی کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ مگر اس سے کام نہیں چلتا۔ کیونکہ قابلیت سے زیادہ تعلقات اور face valueکام آتی ہے۔ اور اس کی قیمت دینا بھی ضروری ہے۔’’انصاف‘‘ کی قدروقیمت معلوم کرکے انسان ششدر و حیران ہوکر رہ جاتا ہے۔
اس سے زیادہ برا حال ایک دوسری اور لازمی ضرورت کا ہے۔ ایک عام آدمی قانونی کارروائی سے تو ایک حد تک گریز کر سکتا ہے۔ مگر دوا علاج کے معاملہ میں اس کی حاجت مندی اورمجبوری واضح ہے۔ طبابت پیشہ نہیں بلکہ قابل احترام منصب تھااور حکیم و ڈاکٹر کو لوگ اپنا محسن سمجھتے تھے۔ اور علاج کرنے والے بھی بیماروں کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے علاج کیا کرتے تھے۔ مریضوں کے لئے ہمدردی ان کے فرض منصبی میں شامل تھی۔ مگر مغرب کے سوداگروں نے اسے بھی ایک وسیع Corporate Businessمیں تبدیل کر دیا ہے۔ ہتھیاروں کی طرح دواؤں کی قیمت کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ کروڑپتی دوا ساز کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیںاور ڈاکٹر ان کے ایجنٹوں کی طرح کام کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ دن بدن بڑھتی ہوئی ڈاکٹروں کی فیس اور دواؤں اور جانچ کی قیمتیں موجودہ شرح آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ کاش ! اس کا اندازہ کیا جا سکتا۔ صحیح بات یہ ہے کہ عام آدمی کے لئے موجودہ طبی سہولیات حاصل کرنا بس سے باہر کی بات ہو گئی ہے اور بغیر علاج کے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجانا اس کی قسمت بن کر رہ گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے حیائی کو ترقی کے لئے لازم سمجھ لیا گیا ہے۔ مادی ضروریات اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کو کامیاب زندگی کا ہم معنی بناکر رکھ دیا گیا ہے اور اس کے لئے دولت کا حصول مقصدِ زندگی بن کر رہ گیا ہے۔ کامیاب وہ ہے جس نے ضرورت بھر بلکہ ضرورت سے زیادہ دولت اکٹھا کر لی ہو۔ دولت جس طرح بھی ملے ، حاصل کر لی جائے۔ کیسے حاصل کی جائے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ذرائع آمدنی کے غلط ہونے پر کون اعتراض کرے ۔ جب ایک حمام میں سبھی ننگے ہوں تو کون کسے روکے ٹوکے۔ اگر کسی میں غیرت کی رمق موجود ہو تو اپنی ہی آنکھیں موند لے۔یا گھر بیٹھ کر اظہارِ افسوس کرے۔ اس سے زیادہ گنجائش ایک عام آدمی کو نظر نہیں آتی۔۔۔!
ماحول کی اسی خرابی نے خوب کو ناخوب بناکر رکھ دیا ہے۔ اصلاح کے لئے انسانی ضمیر کی بیداری اولین شرط ہے۔ اسی کو لذت پرستی نے تھپکیاں دے کر سلا دیا ہے۔ ہندوستان کی مذہبی روایات پر ناز کرنے والے بتائیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ برائی سے لڑنے کے لئے جس کردار کی ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ مذہبی شخصیات اور ادارے تجارتی کمپنیوں کی طرح کام کررہے ہیں۔ India Against Corruptionکے نام سے ایک تحریک نمو دار ہوئی لیکن چند دنوں بعد ہی اس کی ہوا نکلنے لگی۔ اس کے بعد دہلی میں اجتماعی عصمت دری کا ایک سنگین معاملہ ماحول پر چھاگیا۔ ایسا لگا معاشرہ کی اخلاقی حس بیدار ہوگئی ہے۔ لیکن ایسے ہی افسوسناک واقعات کی مزید خبریں اب بھی شائع ہو رہی ہیں۔ پریس کا رویہ بدل چکا ہے۔ برائی اپنی جگہ پہلے کی طرح رقص کر رہی ہے۔ کیونکہ اسباب و عوامل اسی کے حق میں کارفرما ہیں۔ عورتوں کی آزادی کا گمراہ کن تصور اپنا کام کررہا ہے۔ شراب خوری اور شراب فروشی کا دھندہ جوں کا توں جاری ہے۔ مخلوط تعلیم اپنے اثراتِ بد پہلے کی طرح پھیلا رہی ہے۔ بے شرمی و بے حیائی پر کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیںہے۔ کوئی کسی کے سامنے جوابدہ نظر نہیں آتا۔ اخلاقی اقدار اپنی معنویت سے محروم ہورہی ہیں۔ نیکی اور بدی کا کوئی مستقل تصور باقی نہیں رہا ہے۔ جزائے اعمال پر یقین باقی نہیں رہا۔ معاشرہ ہو یا حکومت، دونوں اگر زہر بوئیں گے تو زہر ہی کاٹیں گے ؎
گندم از گندم بروید جو ز جو
از مکافات عمل غافل مشو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اصلاح حال کے بارے میں اربابِ اقتدار سنجیدہ نہیں ہیں۔ گاہے بگاہے وزارت و صدارت کی کرسیوں سے کچھ تبصرے صادر ہوتے رہتے ہیںجن میں لفظی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ تقریباً یہی حال سماجی وقار کے حاملین کا ہے۔ وہ گفتار کی حد تک تو بڑی باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہیں مگر مسلمہ اخلاقی قدروں کی بربادی پر ماتم کرنے کے سوا وہاں بھی یہی کیفیت نظر آتی ہے کہ ؎
اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *