موت کیاشئی ہے فقط عالم معنی کا سفر

ناموس رسالت مآب ﷺ پر انگشت نمائی کر نے والے پر( اس کی مادی طاقت وقوت اور استیلا ء وغلبہ اور ظلم وجارحیت اور اس کے بگڑے تیور اور بربرانہ سوچ و عمل سے واقفیت کے با وجود) رسول پاکﷺکا ادنی ترین نام لیوا بھی، پیام اجل بنکر جھپٹتا اور ضرب کلیمی سے اس ننگ انسانیت کو واصل نار کر دیتا ہے اس طرح فتح و عزت اوربے مثال سعادت سے سرفراز ہو تا ہے۔
یہی فدا کار رسولﷺ جب عشق ومستی میں درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی زیارت وملاقات کیلئے جنت میں حوریںمچلنے لگتی ہیں ۔ دراوغہ بہشت رضوان اس عاشق رسول ﷺ کے استقبال میں اپنی پلکیں بچھا دیتا ہے ۔ دربار خدا وندی میں، مشک و عنبر کے ممبروں و ٹیلوں اور دائمی عیش وعشرت کے سامانوں کے ساتھ پوری جنت سراپا جستجو بن جا تی ہے ۔ بہشت اور اسکے مکینوںکی اس بے قراری اور انتظار پر رب کائنات کو بھی رحم آجاتا ہے اور یہ جا نثار نبیﷺ، بد بخت شاتم رسو ل عربیﷺ پر صاعقہ موت بن کر گرتا ہے جس سے ایک طرف دشمن رسول اپنے ٹھکانہ دوزخ میں پہنچ جاتا ہے تو دوسری طرف باذن الہی خود یہ دیوانہ ء سرور کا ئناتﷺ اپنے خون شہادت سے سرخ رو ہو کر بلا کسی تا خیر کے جنت اور حوران جنت کی دلی آرزووں کی تکمیل کر تا ہے ۔
دربار رسالت ﷺ کے گستاخو ںکو ا بدی ا ٓگ میں پہنچانے والے سزائے موت یافتہ ایسے ہی فدا کا ران مصطفے ﷺ ( غازی عبد القیوم شہید اور غازی علیم الدین شہید)کو کامل خوشی ومسرت اور فرحت وانبساط اور عزم واستقلال کے ساتھ جب تختہ دار کی طرف بڑھتے دیکھا تو ان کو دنیاوی موت سے بچانے کے بجائے ناموس خیر الوریﷺ کی حفاظت کیلئے پھانسی کے پھندوں پرجھول جانے کے بعد ا ن کی عزمتوں کو اقبال نے ان الفاظ میں سلا م پیش کیا ؎

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شئی ہے فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر وقیمت میںہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الھاآخر

ایم اے عربک میں حضرت مولینا ابو الحسن علی ندویؒ کی روا ئع اقبال کے مطالعہ، پھر اقبال سے متعلق ڈاکٹر اسرار احمدکے خطبات کی ،سماعت نیز اقبال کے عشق رسول اور معجزات پر ایمان سے متعلق مولینا سید ابو الاعلی کو دودیؒ کے تأ ثرات سے واقفیت کے علا وہ امسال اقبالیات پر پانچ ہزار سے بھی زائد صفحات کے مطالعہ اور اقبال کے فنکا رانہ کمال و محاسن کے مخصوص پہلوؤوں پر بطور تمرین(Rough) تقریبا پانچ سو صٖفحات کو سیاہ کر نے کے با وجود ،راقم الحروف ، اقبال کی نظم لا ہو ر و کراچی میں اذعان وایقان کی جلا بخشی کا وہ جزو اعظم پانے سے قاصر رہا جسے وحدت جدید نے اپنے خصوصی شمارہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں پیش کیا ہے ۔ اس شمارہ کو پڑھنے سے ایمان کو ایسی تا زگی ملتی ہے کہ بے اختیار دل و زبان پر دعائیں آجا تی ہیں کہ ہماری رگوں میں بھی ایسا لہو ہو اور اس لہو میں ایسی سرخی ہو جسے نامو س رسالت ﷺ کی حفاظت کے لئے با رگا ہ رب العلمین سے شرف قبولیت حاصل ہو۔
ماہنامہ وحدت جدید کا، خصوصی شمارہ رسالت ما بﷺ ، اسی طرح ایما ن پرور مضامین اور تحریروں کا حسین مرقعہ ہے اس کے مشمولات کے ملا حظہ سے معلوم ہو تا ہے کہ جذبات کی فراوانی کے بجائے عقل وشعوراور ایمانی بصیرت سے کا م لیتے ہو ئے جہاں اس میں اہل ایمان کو ناموس رسالت ﷺ پر پروانہ وار نچھاور ہو نے کا درس دیا گیا ہے، وہیں سنجیدہ ومتین مباحث اور علمی و تحقیقی مقالات اور ثبوت وشواہد کی روشنی میں امن وانصاف کی ڈینگیں ما رنے والی عالمی طاقتوں کی اسلام سے اندھی عداوت اور تخریب و فساد پسندی کو واشگاف کیا گیااور مسلمانوں کے صبر وتحمل اور امن پسندی کو خو ش اسلوبی سے بیان کر کے انصاف پسند غیر مسلموں کو بھی نا قابل انکار حقیقتوں پر غور کر نے کی دعوت دی گئی ہے ۔ اللہ تعا لی اس کے جملہ منتظمین کو مزید حو صلہ اور ہمت سے کا م کر نے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *