مالی ۔۔ مغربی طاقتوں کی نئی رزم گاہ

۱۱؍جنوری ۲۰۱۳ء کو شمال مغربی افریقہ کے ملک ’مالی‘کے شمال علاقے میں فرانس نے اسلامی جہادی قوتوں کے خلاف اپنی زمینی فوجیں اتار دیں اور بے تحاشا بم باری کی ۔گزشتہ سال،اپریل ۲۰۱۲ء میں مالی کے شمالی حصے میں جہادی قبائل جنوب کی مرکزی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے ملک کے ۶۰ فیصد حصے پر قابض ہو گئے اور ۶؍اپریل کو ’مملکت ازداد‘کے قیام و آزادی کا اعلان کر دیا ۔اس مملکت میں اہم شہر ٹمبکٹو ،کداراور مویٹی شامل ہیں ۔مجاہدین نے جنوب میں بھی مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ اس طرح اہم شہر ’کوٹا‘اور چاول کے کھیتوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں سے گھر ے شہر ڈایا بیلی پر بھی ۱۴؍جنوری کو قبضہ کر لیا ۔ یہ شہر مرکزی محل وقوع کا حامل ہے اور ملک کے کئی اہم راستوں کے سنگم پر واقع ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق فرانس نے علاقہ خالی کروالیا ہے۔
مالی جو کسی زمانے میں اسلامی تہذیب کا ایک روشن ستارہ ہوا کرتا تھا،حالیہ مسلح کارروائیوں کے سبب باقاعدہ جنگ کا میدان بنا ہو اہے ۔شمالی مالی کا اہم جہادی گروپ ’انصارالدین‘ہے جو مالی کو ’اسلامی امارت ‘بنانا چاہتا ہے ۔مسلمانوں کاایک گروپ’لبرل گروپ‘ہے جس نےمرکزی حکومت سے آزادی کے اعلان سے قطع تعلق کا اعلان کیا ہے۔وہ پہلے اعلان آزادی میں اسلامی قوتوں کے ساتھ تھا۔انصار الدین کے کمانڈر عمر نے اعلان کیا ہے کہ ’’ہماری جنگ اسلامی اصولوں کے مطابق لڑی جائے گی ۔ہم بغاوت اور علیحدگی کی تحریک کے خلاف ہیں ۔ہم اس انقلاب کے خلاف ہیں جو اسلام کے مطابق نہ ہو۔ہم اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں ‘‘۔
مالی شمال مغربی افریقہ میں صحارا کے ریگستان میں ایک مسلمان مملکت ہے ۔ اس کی آبادی ایک کروڑ ۴۵؍ لاکھ ۱۸ ؍ہزارسے زائد ہے ،جب کہ رقبہ ۱۲؍لاکھ ۴۰؍ہزار ایک سو ۹۲مربع کلومیٹر ہے ۔۸۰؍ فیصد آبادی مسلمان ہے جو مختلف قبائل پر مشتمل ہے ۔۲ فیصد عیسائی ہیں ،جب کہ ۱۸ فیصد مظاہر پرست ہیں ۔دار الحکومت ’باما کو‘جنوبی علاقے کا بڑا شہر ہے ۔ملک معدنی ذخائر سے مالامال ہے ، خصوصاًیورینیم کے ذخائر بڑے پیمانے پر موجود ہیں جن پر بیرونی قوتوں کی للچائی نگاہ ہے ۔’اتحاد افریقی علما‘نام کی ایک تنظیم کے مطابق حکومت مخالف مسلح تنظیمیں دو طرح کی ہیں:ایک قومی تحریک برائے آزادی ازداد ہے جو علاقے میں ایک خود مختار سیکولر ریاست قائم کرنا چاہتی ہے ،دوسرے نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والی مسلح تحریکیں ہیں جن میں دو گروہ ہیں:۱۔انصار الدین نامی گروہ سب سے بڑا گروہ ہے۔۲ ۔تحریک توحید و جہاد ہے ،اس میں مالی کے علاوہ موریطانیہ اور الجزائر کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں ۔آخر الذکر کو القاعدہ سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
۱۹۶۰ء میں مالی کو فرانس کی استعماری حکومت سے آزادی ملی ۔جاتے جاتے فرانس نے اپنے گما شتوں کی حکومت قائم کر دی ۔تب سے اب تک ملک میں کئی فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں اور ازداد کی علیحدگی کی اب یہ چوتھی بڑی کاوش ہے جہاں آزاد حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔
جب سے مالی میں موجود صورت حال نے جنم لیا ہے ،قدرتی طور پر فرانس پر وحشت طاری ہے کیوں کہ وہاں اس کے مفادات خطرے میں ہیں ، لہذااس نے واویلا شروع کر دیا ہے۔اپنے یورپی ہمسایوں ،امریکا اور اقوام متحدہ کو دہائی دے رہا ہے ،انسانی حقوق کی انجمنوں کوتوجہ دلا رہا ہے۔افریقی ممالک کی یونین سے مدد کی درخواست کی گئی ہے کہ اس ’خطرے‘سے نبٹا جائے ۔افریقی ممالک کی یونین خصوصاًنائجیریا نے اپنی فوجیں جلد بھیجنے کی حامی بھر لی ہے ۔ ٹوگو اور نائیجیریا سے کچھ فوجی بھی پہنچ گئے ہیں ۔۱۶۰۰؍فوجی نائیجیریا میں موجود ہیں۔
فرانس نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرار داد منظور کرائی جس کا مقصد مالی میں شمالی علاقوں سے باغیوں کا قبضہ ختم کرانا اور افریقی اتحاد کی افواج کو وہاں تعینات کرنا تھا۔لیکن جب افریقی اتحاد کی فوج کو مالی میں کارروائی کے حوالے سے دیر ہوئی تو فرانس نے اپنی زمینی فوجیں اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر مالی کے شمالی حصے میں اتار دی ہیں،تقریباً۱۹۰۰ فوجی۔ ان فوجیوں نے فوجی کارروائی شروع کر دی ہے اور فوجی طیاروں سے بم باری کی جا رہی ہے ۔اس کے باوجود وہ اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا ہے۔مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں مجاہدین مارے گئے ہیں اور انہوں نے علاقے کو چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیا ہے ۔پھر یہ بھی اطلاع ہے کہ بڑی سخت مزاحمت ہے اور مجاہدین اپنے محفوظ ٹھکانوں سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔
فرانس نے امریکا اور دوسرےممالک کو متوجہ کرنے کے لیے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ القاعدہ کا ایک گروپ جو لیبیا میں بر سر پیکار تھا وہ وہاں سے فارغ ہو کر مجاہدین کی مدد کو آپہنچا ہے ۔لیکن امریکا کے ڈیفنس سکریٹری لیون ہر پنیٹ نے کہا ہے کہالقاعدہ کے حوالے سے ہمارا اصل ہدف یمن اور صومالیہ ہیں جہاں القاعدہ کے مراکز ہیں۔ ابھی القاعدہ نے مالی یا شمالی افریقہ میں کوئی مرکز قائم نہیں کیا ہے ۔ ہماری مدد فنی نوعیت کی ہی ہوگی ۔پھر یہ کوشش بھی ہے کہ نائیجیریا کے بوکو حرام نامی مسلمان مجاہدین کو اس قضیے میں ملوث قرار دیا جائے ۔
برطانیہ کے لیے مالی کے حالات پریشان کن ہیں ۔اس نے فرانس کی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے ۔حکومت برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ اخلاقی مدد فراہم کرے گی ،یعنی محدود پیمانے پر لاجسٹک مدد جو دو بڑے RAF C-17جنگی ٹرانسپورٹ جہازوں پر مشتمل ہوگی اور چند تکنیکی فوجی ماہرین ان کی حفاظت کے لیے ساتھ ہوں گے۔اسی طرح کی حمایت کا اعلان کناڈا کی حکومت نے بھی کیا ہے ۔یورپی یونین کئی ہزار فوجی جوانوں پر مشتمل قافلہ آئندہ چند ہفتوں میں روانہ کرے گا۔
فرانس کی فوجی مداخلت اور دوسری کارروائیوں کے باعث مالی کی حالت بدسے بدترین ہوتی جا رہی ہے ۔فرانس نے ناٹو سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مالی کے حالات کے پیش نظر وہاں فوجی کارروائی کرے ،جب کہ خود فرانس ناٹوکی فوجوں سے علیحدہ ہو کر افغانستان سے بھاگ کھڑا ہو اہے ۔ فرانس اور مغربی دنیا مالی کے مجاہدین کو’مسلم شدت پسند ‘اور ’دہشت گرد ‘قرار دیتے ہیں۔یہ شدت پسند اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔مجاہدین کی صفوں میں رخنہ ڈالنے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے کہ مالی کے مختلف مذہبی اور غیر مذہبی گروپوں کو آپس میں الجھا دیا جائے ۔ لہذا آزاد خیال گروپ کو ان سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔افریقہ میں چونکہ صوفیت کے بڑے اثرات ہیں،ان کی چھوٹی بڑی خانقاہیں ،درگاہیں اور ذکر و فکر کے مراکز ہیں ،ان کو بھی ورغلایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی قدامت پسندوں کو بھی ابھا را جا رہا ہے ۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی دنیا بنیادی طور پر صہیونیوں کے زیر اثر ہے اور صلیبی جنگ کے حوالے سے بھی پر امن اسلامی شریعت کے نفاذ کو ہر حال میں روکنا چاہتی ہے ،گویا ساری کوششیں اپنے ذاتی مفاد کے پیش نظر اور اسلام کے غلبے کو روکنے کے لیے ہیں۔
جنوبی مالی کو بچانے اور مجاہدین کا زور توڑنے کے ابتدائی مقصد کے حوالے سے فرانسیسی فوجوں کی کارروائی اب تک کی اطلاعات کے مطابق کامیاب دکھائی دیتی ہے ۔افریقی ممالک،یورپی یونین ،برطانیہ اور امریکا ،کناڈا ،ڈینمارک سے مختلف نوعیت کی مدد پہنچنا شروع ہو چکی ہے ۔پھر فرانسیسیوں کا خیال ہے کہ چونکہ مالی کے دیہی علاقوں میں جہادیوں نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اس لیے ممکن ہے کہ بہت سے شہری ان سے انتقام لینے کے معاملے میں فرانس کی فوجوں سے مدد لیں ۔ ان حالات کے پیش نظر فرانس کے وزیر خارجہ لارینٹ جنیس کا کہنا ہے کہ مالی میں فرانسیسی فوجی کارروائی چند ہفتوں کا معاملہ ہے لیکن دی اکانومسٹ نے اپنے ۲۶ جنوری کے شمارے میں رائے ظاہر کی ہے ’’مگر ایسا لگتانہیں ہے‘‘ ہو سکتاہے کہ مالی میں حقیقی استحکام پیداکرنے میں مزید کچھ وقت لگ جائے ۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فرانس ناٹو افواج کی موجودگی کے باوجود افغانستان کے میدان جہاد کو چھوڑ بھاگا تھا تو مالی کے میدان سے بھی رفو چکر ہو جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *