مسئلۂ فلسطین اور امریکی صدر محض ایک صہیونی مہرہ!

امریکی صدر براک اوباما کے ۲۰ سے ۲۲ مارچ۳ٍ۲۰۱ء؁تک ہونے والے اسرا ئیل اور فلسطین کے پہلے سرکاری دورہ نے اس خطے میں ایک صاف و شفاف اور منصفانہ امن کے حصول کے لئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی کسی بھی اہم شراکت کی ناکامی کی تصدیق کی ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صدر اوباما کی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ متعلقہ بات چیت میں بھی دونوں اطراف کی جانب واشنگٹن کے عمومی رویہ میں واضح فرق دیکھنے کو ملا۔جہاں صدر اوبامہ نے اپنے آدھے گھنٹہ کی تقریر میں نہ صرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ۱۰ مرتبہ ان کی عرفیت ’’بی بی‘‘کہہ کر مخاطب کیا بلکہ تمام ہی تقریر میں عبرانی جملوں اور محاوروں کا کثرت سے استعمال کیا وہیں دوسری طرف رملہ میں انہوں نے صرف ’مرحبا‘ کہنے پر ہی اکتفا کیا اور اپنے میزبان کو صرف ’’صدر عباس‘‘کہہ کر ہی مخاطب کیا ۔ حالانکہ انہوں نے اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ فلسطینیوںپرظلم کرنے والے یہودی آبادکاروں کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ،لیکن پھر بھی انہوں نے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میںدن بہ دن توسیع پارہیں اسرائیل کی ناجائز بستیوں کو ایک ہلکی سی تنقید کا ہی نشانہ بنایا اور ان ناجائز بستیوں کو صرف ’’امن کے کاز کے لئے نقصان دہ ‘‘ کہنے پر ہی قناعت کی۔اس کے باوجود انہوں نے صدر محمود عباس کو کہ جن سے انہوں نے تقریبا کرفیو کے حالات میں ملاقات کی اسرائیلی آبادکاروں کے غیر قانونی تجاوزات پر فلسطینیوں کے اعتراض کو چھوڑدینے کی صلاح تک دے ڈالی کہ ان کے مطابق یہ آبادکاری ایک ـ’’چھوٹی اڑچن‘‘ بھر ہے۔
ایک معمول سے زیادہ پرامید جملہ جو صدر براک اوبامہ کی تقریر میں نظر آیا وہ انہوںنے نوجوان یہودی اسرائیلیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لئے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ وہ ایک آزاد اور قابل عمل فلسطین کے قیام کو برداشت کرے۔
اس سب کے باوجود صدر اوبامہ نے آگے کے راستوں کے لئے نہ صرف کوئی عملی تفصیل پیش نہیں کی بلکہ سخت گیر اسرائیلیوں کو خوش کرنے کے لئے بھی خاصی مراعات پیش کیں ۔مثال کے طو ر پر اگر ان کی صلاح کے مطابق فلسطین اسرائیلی ناجائز آباد کاری پر روک لگانے کے لئے اپنی مانگ سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے (حالانکہ واشنگٹن کا خود ماننا ہے کہ بستیاں غیر قانونی ہے) تو اسرائیل کے ۱۹۷۶ء؁ کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کا امکان بخود ختم ہوجاتا ہے۔
دوسرے نوجوان اسرائیلیوں کو خطاب کرتے ہوئے وہ سخت گیر نیتن یاہو کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھے کہ اسرائیل اس دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی مکمل حمایت سے ایک ’’یہودی ریاست ‘‘کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے فلسطینی حکام اور صدر محمود عباس جنہوں نے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر پہلے ہی تسلیم کرلیا ہے سے اس بات کا مزید مطالبہ کرڈالا کہ وہ اس کو ایک ’’یہودی ریاست‘‘ کے طور پر بھی تسلیم کریں۔حالانکہ فلسطینی حکام ایسا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اسرائیل میں مقیم ایک بہت بڑی تعداد غیر یہودیوں کی بھی ہے ۔
صدر براک اوبامہ کا حقیقی مسئلہ یہ تھا کہ نہ تو وہ اسرائیلی یہودیوں کو مخاطب کررہے تھے اور نہ فلسطینیوں کو بلکہ امریکہ میں بیٹھے ان ریپبلیکن اور صیہونی نواز دھڑوں سے مخاظب تھے کہ جو صدر اوبامہ کو گالی بکنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ا ور خاص طور پر جب وہ اسرائیل اور فلسطین کے متعلق ہو۔کیونکہ اسرائیلی سخت گیروں کے لئے دنیا کا یہ سب سے تکلیف دہ خطہ امریکہ کی سیاست میں ایک مہرہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *