ہندوستان میں فلسطین کی حمایت جرم

بابائے قوم مہاتما گاندھی نے اپنی پوری زندگی عدم تشدد کا نعرہ لگاتے ہوئے گزاری وہ چاہتے تھے کہ دنیا میں پیا ر و محبت اور انسانیت کے مذہب کوفروغ ملے اور ان کی پیروی کرنے والوں میں پنڈت نہرو ،مولانا ابو الکلام آزاد ،رفیع احمد قدوائی،سردار بلبھ پٹیل وغیرہ اور بعد میں اندرا گاندھی سے راجیور گاندھی تک عدم تشدد کا نعرہ بلند کرتے رہے،مہاتما گاندھی اور ان کے رفقاء کو تشدد سے نفرت تھی۔وہ تشدد کو انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہیں ان کا ماننا تھا کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔یہ حقیقت بھی ہے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہ کل تھا نہ آج ہے اور نہ کل ہوگا۔مسائل کا حل عدم تشدد،پیار ،محبت، اخلاق و کردار میں پوشیدہ ہے ۔اسی لیے مہاتماگاندھی نے پوری دنیا کو عدم تشدد کا نعرہ دیا ۔’’اہنسا پرمودھرم‘‘یعنی عدم تشدد ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس وقت جب دنیا میں آج سے کم مسائل بھی تھے اور وسائل بھی تھے،اسرائیل کی مخالفت کی تھی کیوں کہ اسرائیل نے ہمیشہ تشدد پر یقین رکھا لہذا مہاتما گاندھی،جواہر لعل نہرونے اسرائیل کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کی اور فلسطین سے دوستی کوبہتر قرار دیا۔ملک کی آزادی سے لے کر آنجہانی راجیو گاندھی کے زمانے تک ہم ہر طرح سے فلسطین کے حامی رہے اور ہر مسئلے پر فلسطین کی حمایت کرتے رہے ۔لیکن آنجہانی راجیو گاندھی کے سانحہ کے بعد رفتہ رفتہ ملک کے حالات بدلے اور ہم نے اسرائیل کی دوستی قبول کر لی ۔اسرائیل مدتوں سے چاہتا تھا کہ ہندوستان سے اس کی دوستی ہو جائے۔آخر اس کی یہ آرزو پوری ہو گئی ۔البتہ ہم نے فلسطین سے دوستی تو نہیں چھوڑی لیکن ہم بہت سے معاملات میں فلسطین کی حمایت کرنے سے بچتے رہے ۔اسرائیل اور امریکہ دونوں تشدد پر یقین رکھتے ہیں اس لیے بابائے قوم نے ہندوستانی قوم کو ان سے دوری بنانے کا مشورہ دیا تھا۔لیکن ہم ان کے مشورے پر عمل نہ کر سکے ۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اسرائیل جیسے تشدد پسند ملک کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن کی کیرالا کانفرنس میں امریکی دانشور ڈاکٹر پال لاروڈی بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے تھے ۔انہوں نے کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے فلسطین کی مظلومیت اور اسرائیل کی درندگی پر بھی سوال اٹھائے،کیوں کہ ڈاکٹر پال کا نام پوری دنیا میں امن کے پیامبر کے طور پر جانا جاتا ہے،لہذا جیسے ہی ڈاکٹر پال نے اپنے خطاب کا اختتام کیا ،کیرالا کے ضلع ملا پورم کے ایس پی کے سیتھورمن نے پولیس ٹیم کے ساتھ انہیں حراست میں لے لیا اور انہیں فوراً ہندوستان چھوڑ دینے کا حکم صادرفرمایا ۔ڈاکٹر پال نے کہا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ میں مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے ملک میں خطاب کر رہا ہوں،جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل کی مذمت اور فلسطینیوں کی حمایت کی ہے،انہوںنے کہا کہ حیرت ہے کہ جس ملک کے قائدین مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کی مذمت کرتے ہیں آج اس ملک کی پولیس ظالموں کی حمایت اور مظلوموں سے بیزار نظر آتی ہے ۔مسٹر پال پوری دنیا میں غریبوں اور مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں وہ دبے کچلے اور پسماندہ طبقات کو سر خروئی اور عزت و وقار کی زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں کمزوروں اور مظلوموں کی حمایت ان کا پہلا کام ہوتا ہے انہوں نے غزہ کے عوام پر لگی پابندیوں کو توڑتے ہوئے فریڈم فوٹیلا میں بھی سفر کیا تھا۔حکومت اسرائیل انہیں اپنے بد ترین دشمنوں میں شمار کرتی ہے ،بہر حال اس واقعہ سے کیرالا کے مسلمانوں میں غم و غصہ بھی ہے اور حکومت کے خلاف ایک احتجاج کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے واقعات پر عوام کو افسوس تو ہوتا ہے اور ایک ایسے ملک میں کہ جس ملک کا قائد اعظم مہاتما گاندھی عدم تشددکا پجاری ہو اور اسرائیل کی بربریت کی مذمت اور فلسطین کی حمایت کرتا ہو،اسی کے ملک کی پولس اسرائیل کی حمایت میں کھڑی ہو جائے ،اس سے زیادہ دلوں کو تکلیف دینے والی کون سی بات ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے ہندوستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور ہندوستان نے امریکہ اور بعد میں اسرائیل سے دوستی کی ہے اس وقت سے ملک میں بہت کچھ مسلمانوں کے خلاف ہو گیا ہے اور خصوصاًپورے ملک کی پولس اسرائیل نواز بن گئی ہے اور قوم اسرائیل تو ازلی اسلام دشمن ہے ، لہذا ہند اسرائیل دوستی کے بعد ملک کی پولس ہی نہیں بلکہ حکومت میں شامل بہت سے لیڈران بھی اسرائیل کی زبان بولنے لگے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ملک میںکافی عرصے سے مسلم نوجوانوں کو جو دہشت گردی کے نام پر گرفتار کر کے مقدمات لگا کر جیل بھیجا جا رہا ہے ،یہ سب کارروائی اسرائیل کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔جب سے اسرائیل کا سفارت خانہ ہندوستان میں قائم ہوا ہے مسلمانوں کی پریشانیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ،جن مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل بھیجا جاتا ہے ،وہ اب تک اپنی کوشش و کاوش سے عدالت سے بے گناہ قرار دئے گئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ جو مسلم نوجوان جیلوں میں ہیں وہ سب کے سب عدالت سے با عزت بری ہوں گے ،لیکن جب تک وہ ثبوت و شہادت مہیا کرتے ہیں اس وقت تک ان کی زندگی کے بہت سے سنہرے سال برباد ہو چکے ہوتے ہیں اور باقی زندگی انہیں وبال نظر آتی ہے دراصل یہی اسرائیل کا مقصد ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کو معاشی اور اخلاقی طور پر کمزور کر دیا جائے ،لہذا اسرائیل کے اس خواب کو ہمارے یہاں کے مسلم دشمن سیاسی لیڈران اور ملک کی پولس نیز تفتیشی ایجنسیاں پورا کر رہی ہیںاور سیکولر افراد چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے ہیں اس سے زیادہ اور کیا مجبوری ہوگی۔جہاں تک ڈاکٹر پال کا تعلق ہے وہ پوری دنیا میں امن کے حامی ہیں انہوں نے اکثر و بیشتر اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کی ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی ان سے نفرت کرتے ہیں اور ہندوستان میں ان کی گرفتاری کے یہی اسباب ہیں۔حالانکہ عوام کا ماننا ہے کہ بغیر حکومت کے اسرائیلی ایک پتہ بھی نہیں ہلا سکتے ۔اس لیے ان تمام معاملات میں حکومت ملوث لگتی ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کی پالیسی امریکہ اور اسرائیل نواز ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ ہم فلسطین مخالف ہر گز نہیں ہیں،کیوں کہ ابھی گزشتہ دنوں ہم نے فلسطین کو غیر مبصر ریاست بنائے جانے کے سلسلے میں اپنی حمایت دی ہے ،البتہ ایسا ضرور ہے کہ ہماری حکومت پر کہیں نہ کہیں امریکی دباؤ ضرور محسوس ہوتا ہے ،حالانکہ ملک کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو سے لیکر ان کے نواسے وزیر اعظم ہند آنجہانی راجیو گاندھی تک ہم نے کھل کر فلسطین کی حمایت اور امریکہ ،اسرائیل کی مذمت کی ہے ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک کی پولس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں سرکاری ملازمتوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ملک کی سب سے فرقہ پرست جماعت راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ جو اسلام دشمنی میں ہندوستان میں اپنا مقام رکھتی ہے اس کے اراکین کی تعداد ہر محکمہ میں اکثریت میں ہے اور وہ تمام کے تمام بھی اسلام دشمنی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ،لہذا چورچور مو سیرے بھائی والی مثال کے مصداق ہمارے یہاں کے مسلم دشمن افسران اسرائیل اور امریکہ کی دفلی بجاتے نظر آتے ہیں ،حالانکہ حکومت کی طرف سے ایسا کچھ نہیں ہے ،لیکن ملک کے تمام اہم محکموں پر تو آر ایس ایس کی حکومت ہے اس لئے ہماری حکومت کی صورت لولی لنگڑی جیسی ہو کر رہ گئی ہے فی الحال ایسی کوئی تدبیر بھی نہیں ہے جو اس سے مقابلہ کیا جائے ، ایسی صورت میں مسلمانوں کو چاہیئے کہ آپسی اتحاد سے فرقہ پرستوں کو شکست دیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم آپسی اتحاد بھی نہیں کر پاتے ،یاد رکھیں ابھی پر یشانیوں کی ابتداء ہے آنے والی نسلوں کو ہندوستان میں زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر مسلمان بریلوی ،دیوبندی، اہل حدیث کے پرچم کو نذر آتش کردیں؛ اللہ کے رسول ﷺ کے پر چم تلے اکٹھا ہو جائیں پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *