روایت پرستوں کو باہم لڑایا جائے پھر بھی اعلائے کلمۃ الحق سے باز نہ آئیں تو قتل کر دیا جائے

ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’اتحاد امت کانفرنس ‘‘کا کنونشن سنٹر اسلام آباد میں انعقاد ہو رہا ہے ۔اسلام اور عالم مختلف اور مشکل حالات سے دو چار ہیں حال ہی میں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بارے میں توہین آمیز فلم بھی امریکہ میں جاری کی گئی ۔اہل مغرب انصاف پرستی کے نعروں میں بری طرح سے اسلام اوراہل اسلام پر حملہ آور ہیںاور ہر اعتبار سے اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانان عالم دست و گریباں رہیں ،ان کا نفسیاتی مورل نیچے رہے ،ان سے حرکت عمل چھین لی جائے ،انہیں مختلف حربوں سے بے بسی اور لاچاری کی عملی تصویر بنا دیا جائے ۔اس کے باوجود ان میں زندگی اور ایمان کی رمق نظر آئے تو انہیں قتل بھی کر دیا جائے ۔۔۔ عالم اسلام میں بالعموم اس کا مشاہدہ بھی عام ہے ۔ ڈرون حملے بلا تفریق سب کا نشانہ لے رہے ہیں ۔ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس کے موقع پر ایشیاء کی اس خصوصی اشاعت میں یہ حصہ شائع کیا جا رہا ہے ۔اس سے عالم اسلام میں انتشار میں خارجی مغربی عوامل کا پورا منصوبہ سامنے آتاہے ۔]
آج کی دنیا میں کسی اسلامی ملک میں کسی بھی فرد کو مطعون کرنے کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے جہادی کہہ دیں۔پوری ریاستی مشینری اس کے تعاقب میں لگ جائے گی ،میڈیا اس کی تصاویر شائع کر ے گا ،اگر اس کی داڑھی لمبی ہوگی تو اسے جہادی ثابت کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ گوانتانامو کے جزیرے پریا با گرام ائیر بیس پہنچا دیا جائے ۔
گویا یہ جہادی نہیں فسادی ہے۔یہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے یہ ایک ناسور ہے جس سے پوری انسانیت کوچیلینج در پیش ہے ۔اسے روکنا اور ختم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔پھر جس کی سوچ اور افکار جہادی ہیں اور جو ان کی تبلیغ کرتا ہے ،وہ زیادہ خطرناک جہادی ہے۔وہ نئے جہادی تیار کر سکتا ہے،نئی فوج یا لشکرتشکیل دے سکتا ہے ،ایک قوت کے طور پر سامنے آسکتا ہے ،یہ ایسے امور ہیں جن کی ایک ریاست میںاجازت نہیں دی جا سکتی ۔
اسی طرح سے تعلیم بھی جہادی ہو سکتی ہے ۔جن مدارس میں جہادی تعلیم دی جاتی ہے ،وہ بھی خطرناک ہیں ،ان کاخاتمہ ضروری ہے ۔ان کے نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے۔جہادی تنظیموں کے طور پر ایسی تنظیموں کی نشاندہی ،نگرانی اور پھر ان پر پابندی لگانا ضروری ہے جو جہادی کام کرتی ہیں ۔یہ کام فلاح کا بھی ہو سکتا ہے اور جہاد کا بھی ۔یہ سرگرم پلیٹ فارم ہیں جہاں جہادی آتے ہیں،منظم ہوتے ہیں

اور پھر سرگرم عمل ہو جاتے ہیں ،ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
یہ وہ چند مطالبات ہیں جو آج کامغرب اسلام سے کر رہا ہے ۔ایسے مطالبات کی ایک لمبی فہرست ہے۔اس فہرست میں اقدار ،روایات،ضابطے ،طریقے،تعلیمات،معیشت اور سیاست کے بے شمار قابل اعتراض حوالے ہیں۔ان تمام حوالوں کا خاتمہ مطلوب ہے۔ایسا کر کے ہی ایک جہادی اسلام کا راستہ روکا جا سکتا ہے ،انقلابی اسلام کو شکست دی جاسکتی ہے۔مغرب کا انداز بہت ٹیکنیکل ہے ۔
مغرب خودمتفق نہیں کہ ’’جہادی اسلام‘‘کیا ہے۔کیا یہ انقلابی اسلام ہے ،کیا یہ سیاسی اسلام ہے ۔یا پھر ان تمام صورتوں کا نام جہادی اسلام ہے ۔یا یہ کہ ان تمام انقلابات کو ایک دوسرے سے بدلہ جا سکتا ہے۔جہادی کو انقلابی اور انقلابی کو سیاسی کہا جا سکتا ہے ان تینوں کو بنیاد پرست قرار دے کر تینوں کے خاتمے کا جواز پید اکیا جا سکتا ہے ؟میری ہیباک لکھتی ہیں:
’’جہادی نظریے کو اسلام کے چار بنیادی غیر معمولی الفاظ میں تلاش کیا جا سکتا ہے: توحید،جہاد،خلافت اور دعوت۔اس کے ساتھ چند سادہ تصورات وابستہ ہیں۔جہادیوں کا ایمان ہے کہ ’پہلے ‘دنیا میں سچے مسلمان صرف وہی ہیں ،وہی سب سے زیادہ حق پر ہیں،فتح ان کا مقدر ہے،صرف وہی ہیں جو جنت میں جائیں گے ۔ دوسرے،ان کو یقین ہے کہ دنیا پر ایسے دشمنوں کا قبضہ ہے جو ایمان سے محروم ہیں اوران کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ اسلام کو تباہ کر دیا جائے۔جہادیوں نے تاریخ کے بہت سے مظاہر کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کو دریافت کرنے کا واحد مقصد اسلام کو تباہ کرنا تھا۔تیسرے،جہادیوں کو یقین ہے کہ اس بے ایمان دشمن کے خلاف جنگ جائز ہے ۔یہ اس لیے جائز ہے کہ یہ دشمن ان پر کم از کم نوے سال سے حملہ آور ہے،جارحیت کر رہا ہے ۔یہ سلسلہ مئی ۱۹۱۶ء کے (Skyes-Picot)معاہدے سے جاری ہے۔اس معاہدے میں مشرق وسطی کو تقسیم کر کے یہاں فرانس ، برطانیہ اور دوسروں کی اجارہ داری قائم کر دی تھی۔بن لادن بار بار اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہیں ۔دوسرے جہادیوں کا نظریۂ جنگ اس سے بھی وسیع ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چودہ سو سال قبل صلیبی جنگوں سے اس کا آغاز ہوتا ہے بلکہ انسان کی تخلیق سے ہی اس کا تعلق ہے ۔ان کے خیال میں تاریخ ایک مسلسل جنگ کا نام ہے جو اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان ہو رہی ہے۔یہ روشنی اور اندھیرے ، سچائی اور جھوٹ کے مابین جنگ ہے۔جہادیوں کاموقف ہے کہ ان کی تمام جنگیں مدافعانہ ہیں ‘‘۔
اس جہادی نظریے کا عروج ایک اسلامی ریاست ہے ،میری ہیباک کے خیال میں :’’حتی کہ جہادی ایک ایسی اسلامی ریاست چاہتے ہیں ،جو ان تمام اسباب اور وجوہات سے عبارت ہو ،وہاں اسلام پر صحیح طرح سے عمل ہو سکے ،وہاں اسلامی شریعت مسلط کی جا سکے وغیرہ وغیرہ…بلکہ وہ اس ابدی جنگ کو جاری رکھ سکے۔وہ خلافت کی یہی ذمہ داری اور خارجہ پالیسی قرار دیتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو جاری رکھے۔یہ جنگ اس دن ختم ہوگی جب فیصلہ کا دن آجائے گا۔یہ دنیا ختم ہو جائیگی ۔یہ ایک تاریک اور مجنونانہ تصور دنیا ہے‘‘۔
گویا جنگ ،جنگ اور محض جنگ خواہ وہ مدافعانہ ہو یا جارحانہ ہو،یہ ہے جہادی اسلام کا تعارف،یا سیای اور انقلابی اسلام کا تعارف ۔آئیے اس جہادی تصور کو انقلابی تصور کے طور پر دیکھتے ہیں۔اسے زیادہ علمی مباحث میں سے لیتے ہیں تاکہ مغرب کی علمی سوچ سامنے آسکے۔جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں انقلابی اسلام کی تعریف متعین کی گئی ہے ۔بہت کم ایساہوتا ہے کہ اسلام کے بارے میں یاا س کے کسی مظہر ،کردار کے بارے میںتعریف وضع کی جائے۔عام طور پر منتشر خیالات اور پروپگنڈے سے ہی کام چلایا جاتاہے ۔اس رپورٹ میں انقلابی اسلام کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:
’’مغربی میڈیا نے بار ہا مسلمان کو اس کی سرگرمیوں یا کردار کی وجہ سے انقلابی یا انتہا پسند قرار دیا ہے ،جنوب مشرقی ایشیا میں انقلابی یا انتہا پسند کی تعریف ایک متنازع مسئلہ ہی رہی ہے۔جب ہم دہشت گردی کی کلاسیکی تعریف کرتے ہیں تو اس سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ تشدد کی حمایت کی جائے ،ایسا تشدد جو بے گناہوں کو نشانہ بنائے۔جنوب مشرقی ایشیا میں اس بارے میں یہ عمومی اتفاق رائے موجودہے کہ اسلام کے نام پر ایسے اقدامات تسلیم نہیں کیے جا سکتے۔اس تعریف کو پیش نظر رکھیں تو جنوب مشرقی ایشا میں قومی اور علاقائی تنظیموں میں ایک درجہ بندی کی جاسکتی ہے ۔ان میں سے بہت سی تنظیموں کے یکساں مذہبی مقاصد ہیں اور انہوں نے ماضی میں ایک دوسرے سے تعامل بھی کیا ہے۔حتی کہ جب یہ تشدد کوبطور انقلابیت استعمال بھی کرتی ہیں تو اس سے بعض پیچیدگیاں بھی پیدا ہوتی ہیں ۔اس خطے کے مسلمانوں کی تعداد ایسی ہے جو اس خطے کی انقلابی درجے کی تنظیمات کو اپنے درمیان سے خارج کر دیتی ہے تاکہ ایسے خارجی حملوں سے ،خارجی قوتوں کے اقدام سے بچا جا سکے جو مسلمانوں کو یہاں کمزور کرنا چاہتی ہیں ،چنانچہ آپ کوفلپائن،تھائی لینڈ ،میانمار میں بہت سے جنوب ایشیائی مسلمان مل سکتے ہیںجو بہت سی نسلی ،مذہبی اور علیحدگی پسند مسلمان گروہ بندیوں کو انقلابی قرار دینے سے انکار کر دیں گے،حتی کہ جب یہ انقلابی بین الاقوامی سطح پر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ،تب بھی ان کو انقلابی نہیں کہا جاتا۔ اس کے لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ لوگ صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے اپنی غیر منصفانہ قومی حکومتی پالیسیوں کی مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔
اس رپورٹ میں انتہا پسندی کی بھی ایک تعریف وضع کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہ یہ ہے:
’’مذہبی امور کی بنیاد پر طے کر دینا کہ انتہا پسندی کیا ہے ،یہ ایک زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے ۔ انقلاب پرست مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیںجس

میں اسلامی شرعی قوانین کا نفاذ ہو سکے۔تاہم جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کی ایک غالب تعدادچاہتی ہے کہ ایک ایسی ریاست قائم ہو اور اس میں اسلام کے شرعی قوانین کا نفاذ بھی ہو ۔ملائشیا اور برونائی نے اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا ہے اور ان کے رہنما یہ کہتے ہیں کہ اسلام ان کا رہنما دین ہے اور وہ اس سے رہنمائی لیتے ہیں ۔ملائشیا،برونائی اور انڈونیشا میں اسلامی مذہبی عدلیہ موجود ہےــ‘‘۔
گویا ایک ایسی ریاست کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کرنا ہی انتہا پسندی ہے جس میں اسلام کا نظام رائج ہو،جس میں اسلا م کا ضابطہ فوجداری نافذ ہو،جس میں بنیادی حقوق کا تعین اسلام کرے اور حقوق انسانی کے بین الاقوامی چارٹر کی حیثیت ثانوی ہو یا کوئی نہ ہو،تو ایسی کوشش بھی انتہا پسندی ہی کہلائے گی ۔اس وضاحت کے بعد دو نکات میں انقلابی اسلام یا انتہا پسند اسلام کی تعریف یوں وضع کی گئی ہے :
۱۔غیر محارب کے خلاف لڑنے والوں کی حمایت کرناتاکہ اسلام کے مقاصد حاصل ہو سکیں۔
۲۔ایک ایسے وسیع تراسلام کی حمایت کرناجو مذہبی بنیادوں پر غیر مسلموں کو بنیادی حقوق دینے سے انکار کر دے اور ہر طرح کی مذہبی اور سیاسی تکثریت کی نفی کرے‘‘۔
جمہوریت کا حق کسے ہے ؟
حماس کی جیت نے مغرب اور امریکہ کا ایک اور تضاد دنیا کے سامنے رکھا۔وہ تضاد یہ تھا کہ جس تنظیم ،تحریک یا جماعت کو امریکہ نے انتہا پسند یا دہشت گرد ارقرار دے دیاوہ اپنے عوام میں مقبولیت کے ووٹ کے باوجود حق حکمرانی نہیں رکھتی۔جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کی انتہا پسندی کی تعریف کو قبول کرلیا جائے تو یہ نتیجہ ہم اخذ کر سکتے ہیں:
٭غیر محارب کے ساتھ حرب و ضرب نہ کرنے والی اسلامی تنظیم ،تحریک یا جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ووٹ کی قوت سے بر سر اقتدار آسکے۔
٭غیر مسلموں ،اقلیتوںیا مسلم فرقہ ہونے کی صورت میں بھی ان کے بنیادی حقوق تسلیلم کرنے والی تنظیم، تحریک اور جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ جمہوری عمل میں شریک ہو۔
٭واضح ایجنڈا رکھنے والی ،زیر زمین سرگرمیوں کی نفی و مذمت کرنے والی تنظیم ،تحریک اور جماعت بھی انتہا پسندی ،انقلاب پسندی اور دہشت گردی کے الزام سے مبرہ ہوگی،اسے بھی جہادی کہنا درست نہیں ہوگا۔
لیکن اس تعریف کی روسے اس تنظیم ،تحریک اور جماعت کو یہ حق ضرور ملے گا کہ وہ ووٹ کے لیے باہر نکلے،اپنا ایجنڈا اور منشور پیش کرے اور کامیابی کی صورت میں اس منشور پر عمل در آمد بھی کرے ، اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ :
٭عوامی ووٹ سے فیصلہ کرے کہ اسلامی ریاست قائم کرے گی جس میں بنیادی حقوق بحال ہوں گے۔
٭جمہوری عمل سے وہ یہ حق حاصل کرے گی کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کے انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے اپنے ایجنڈے پر عمل کرے۔
٭اسلام کوریاست کا سرکاری مذہب قرار دے گی۔
ان حقوق اور اس کردار کے باوجود مغرب کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلامی تحریک کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا۔اس کے خیال میں اسلامی تحریک پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔مصطفے کمال السید کے اس موضوع کے تعارف کے طور پر مرینہ اوٹاوے(Marina Ottaway)نے لکھا ہے کہ:
’’اسلامی تحریکوں کا یہ زیادہ معتدل چہرہ ہے جس نے بین الاقوامی برادری کو ایک بڑے مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔اس کا تعلق پالیسی سازی سے ہے۔کیا ان تحریکوں کا عدم تشدد کا دعوی قابل اعتبار ہے اور کیا ان تحریکوں کو جمہوری سیاست کے جائز شراکت داروں کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟کیا ان گروپوں نے اپنے مقاصد تبدیل کر لیے ہیں،کیا انہوں نے اسلامی ریاست کا مقصد ترک کر دیا ہے ،کیا وہ شریعت کے قانون کا نفاذ ترک کر دیں گے اور جمہوریت قبول کر لیں گے ؟یا پھر یہ کہ وہ جمہوری سیاسی مقام کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کچھ مسلم ممالک میں انہیں حاصل ہے۔اس طرح سے وہ اقتدار حاصل کر کے ایک ایسا سیاسی نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں جوجمہوریت کی نفی کرتا ہو اور انسانی حقوق کا احترام نہ کرے ؟سیدھے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایسے مذہبی گروہ ہیں جو جمہوری طریقے سے قوت حاصل کرکے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟یا وہ تکثیریت کو تسلیم کر رہے ہیں اور ایک فرد کے انسانی حقوق تسلیم کر رہے ہیں اور ان کو مستقل سیاسی نظام کے حصے کے طور پر بھی مانتے ہیں؟‘‘
مڈل ایسٹ کوارٹرلی(The Middle East Quarterly)نے ایک گروپ ڈسکشن کا اہتمام کیا ،اس کا موضوع ’بش کا مشرق وسطی میں جمہوریت لانے کا ایجنڈا تھا‘اس کے شمارہ نمبر ۳میں یہ بحث شائع کی گئی ہے ۔یہ موسم گرما ۲۰۰۶ء کا شمارہ تھا۔حماس الیکشن لڑے تو مسئلہ،نہ لڑے تو پریشانی ،کیا ہونا چاہیے؟یہ بھی اس بحث کا حصہ تھا۔یہاں اس بحث کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے اس کا خلاصہ بھی دیاجا سکتاتھالیکن اس پوری بحث کے آجانے سے پورا منظر سمجھنے میں مدد ملے گی۔حماس الیکشن جیت چکی تھی ۔۹مارچ۲۰۰۶ء کو اس بحث کا اہتمام کیا گیا ۔مڈل ایسٹ کوارٹرلی کے سینئیر ایڈیٹرکلاسن کے علاوہ دیگر شرکا یہ تھے:
٭جوشواموراوشک(Joshua Muravchik)ریزیڈنٹ سکالر امریکن انٹر پرائز انسٹی ٹیوٹ آف ایکسپورٹنگ ڈیموکریسی۔

٭ذینیل پائیس،ڈائریکٹر ایسٹ فورم ٭مائیکل روبن ،ریڈیڈ نٹ سکالر اور جوشوا کے ساتھی۔
٭رابرٹ سیٹ لاف ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب پالیسی۔
پہلا سوال تھا!
امریکہ کو جمہوریت کے لیے کتنا دباؤ ڈالنا چاہیے؟
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:جوشوا! آپ کا استدلال ہے کہ جمہوریت کا فروغ بنیادی نکتہ ہونا چاہیے، اگر یہ مرکزی نہ بھی ہو تب بھی اسے خارجہ پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔اس خطرے کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جمہوریت اور الیکشن کی صورت میں مشرق وسطی میں اسلام پسند برسر اقتدار آجائیں گے۔آپ پھر بھی جمہوریت کے فروغ میں کوئی فائدہ دیکھتے ہیں؟
جوشوا:جمہوریتیں ان ممالک سے زیادہ پر امن ہوتی ہیں جہاں جمہوریت نہیں ہے ۔غیر جمہوری ملک کے مقابلے میں ایک جمہوری ملک امریکہ کا زیادہ دوست ہوتا ہے ۔جمہوریت سے بعض دوسرے مقاصد بھی آگے بڑھتے ہیں ۔ان میں ترقی ہے ،اچھی حکومت ہے اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔مشرق وسطی میں جمہوریت کی جانب سفر میں خطرات ہو سکتے ہیں ۔مشرق وسطی ایک طویل مدت سے انتہائی مشکل اور مسائل سے بھر پور علاقہ رہا ہے۔یہ خطہ انتہا پسندی،جنونیت،تشدد اور امریکہ سے نفرت کا مرکز رہاہے ۔مغرب کے بارے میں بھی اس کا یہی رویہ ہے۔اگر چہ جمہوری عمل ایک پر خطر سفر ہوگا ،تاہم جمہوریت ایک طویل مدت تک باقی رہنے والی ہے ،امید ہے اس سےمشرق وسطی زیادہ محفوظ ہو جائے گا اور اس میں رہنا آسان ہوگا۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:ڈینئیل پائیس!آپ نے ہمیشہ اس بارے میں شک کا اظہار کیا کہ جمہوریت سے ہی ہمیںمسئلہ ہوتا ہے۔آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ جمہوری عمل ہی ہمارے وسائل ،وقت اور کوشش کا زیاں ہے؟
ڈینئیل پائیس:جوشوا نے جمہوری عمل کو جس انداز سے بیان کیا ہے مجھے اس سے اتفاق ہے ۔مجھے صدر بش کی ۲۰۰۳ء کی تقریر سے مکمل اتفاق ہے اور میں اس کی تعریف کرتا ہوں ۔استحکام کوئی مقصد ہے تو یہ ایک غلطی ہے ۔میرامسئلہ جمہوری اصول سے نہیں ہے بلکہ اس کے نفاذ سے ہے ۔جمہوریت ایک لمبا اور مشکل عمل ہے ،برطانیہ کو اصلاحات کے بل اور میگنا کارٹا کا درمیانی فاصلہ طے کرنے میں چھ صدیاں لگ گئیں تھیں۔امریکہ میں بھی جمہوریت نے کئی عشروں میں وجود پایا۔اس طرح سے ترکی ، چلی، تائیوان اور میکسیکو جیسے ممالک بھی کئی عشروں میں جمہوری ہوئے،امریکہ کی مشرق وسطی میں جمہوریت لانے کی اچھی خواہش کا مطالبہ ہے کہ اسے ہم کل ہی لے آئیں۔بہتر ہوتا اگر عراق میں بائیس برس پہلے انتخابات ہوتے ،نہ کہ صدام کو ہٹائے جانے کے بائیس ماہ بعدیہ کرائے جا سکتے ۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:کیا امریکہ بہت جلد ی میں ہے کہ وہ حسنی مبارک کے مصر اور شاہ عبداللہ کے سعودی عرب میں جمہوریت جلد ہی آجائے؟
ڈینئیل پائیس:سعودی ماڈل ایسا ہے جہاں جمہوری عمل بہت نچلے درجے سے شروع ہوا ہے اور میونسپل کونسلوںمیں اسے شروع کیا گیا ہے ۔یہ ایک اچھا عمل ہے ۔اس سے سعودیوں کو کافی وقت مل سکے گا کہ وہ سیکھ سکیں کہ جمہوریت کیا ہے اور پھر وہ سول سوسائٹی کے ادارے تعمیر کر سکیں گے ۔پہلے مرحلے میں کتے کو پکڑنے والے کے لیے ہی ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔وزیر اعظم کا انتخاب تو بعد کا مرحلہ ہے۔
کیا انتخابات کا فی ہیں؟
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:رابرٹ تمہاری دلیل یہ ہے کہ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو حسنی مبارک جیسی حکومتوں پر زیادہ دباؤ ڈالنا چاہیے اور تم ابھی تک ہچکچاہٹ میںہو کہ امریکہ حماس کی زیر قیادت بننے والی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہتا ۔تم اس حکومت کے ساتھ معاملات کے بارے میں اپنی ہچکچاہٹ کے بارے میں کیا کہنا پسند کروگے؟
رابرٹ سیٹلاف:اب تک جمہوریت کے بنیادی عنصر کے طور پر انتخابات پر ہی توجہ مرکوز رہی ہے ۔ ڈینئیل اور جوشوا نے اب تک جوکچھ کہا ہے ،مجھے اس سے اتفاق ہے ۔امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے طور پر جمہوریت کے لیے دباؤ ڈالتے رہنا چاہیے ۔ڈینئیل پائیس کی اس بات میں وزن ہے کہ انتخابات پر زور دے کر ہم کیا حاصل کر سکیں گے۔لیکن میرے خیال میں وہ رفتار ہی اہم نہیں ہے جس سے ہم انتخابات کو قریب لانا چاہتے ہیں اور یہ ہمارے جمہوریت کے منصوبے میں سب سے اہم اصول بھی ہے۔جمہوریت انتخابات سے بھی بہت زیادہ اہم معاملہ ہے ۔اس میں دستوری زندگی بھی ہونی چاہیے۔قانون کی حکمرانی،اقلیتوں کے حقوق اور اچھی انتظامیہ بھی اسی کے تقاضے ہیں ۔اچھی انتظامیہ کا معاملہ خصوصی توجہ چاہتا ہے۔
امریکہ کے پالیسی سازوں کو ان زمینی ضابطوں کا بھی جائزہ لیناچاہیے جن سے انتخابات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔اب تک عراق،لبنان،مغربی کنارے اور غزہ میں ہونے والے انتخابات سے سوائے انارکی کے کچھ نہیں بر آمد ہوا۔یہ ایسے ہی تھے جیسے’’…آگئے‘‘۔اگر آپ راکٹ سے فائرکئے گئے گرینیڈیا مشین گن کے فائر کے ساتھ ہیں توٹھیک ہے ،ورنہ جمہوریت کے انداز یہ نہیں ہوا کرتے ۔ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں بھی انتخابات قواعد و ضوابط کے متعین نظام کے تحت ہونا چاہیے۔ہم جلدی انتخابات کرانے کے چکر میں ان اہم اور قیمتی اصولوں اور انتخابی عمل کے عناصر کی قربانی نہیں دے سکتے ۔صرف رفتار ہی نہیں بلکہ جن حالات میں انتخابات ہو رہے ہیں وہ بھی اہم ہیں۔
آخر میں میں یہ کہنا چا ہوںگا کہ امریکی حکومت کو نتائج سے لا تعلق نہیں رہنا چاہیے ۔سٹیٹ

ڈیپارٹمنٹ کوصرف یہ نہیں دیکھنا ہوگا کہ کن ضوابط اور اصولوں کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں بلکہ یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ انتخابات میں حصہ کون لے رہا ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے ۔امریکی حکومت کو دونوں پہلؤوں سے دلچسپی لینا ہوگی کہ اصولوں کی وضاحت کس طرح سے ہو رہی ہے اور معاشرہ کے کون سے طبقات اور عوامل حصہ لے رہے ہیں تاکہ ان کی شرکت یقینی ہو جو ہمارے تصورات کو قریب رکھتے ہیں ۔
پائیس :کیا آپ نے حماس کو فلسطینی انتخابات سے خارج کر دیا ہے؟
سیٹ لاف:مسئلہ ان کو خارج کرنے کا نہیں ہے ،مسئلہ اصولوں کی وضاحت کرنے کا ہے ۔امریکہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اوسلومیں طے پانے والے معاہدے کی ضروریات پر زور دیتا ۔آخر کار یہ دیکھنا ہوگا کہ انتخابات اس ادارے کے لیے ہو رہے ہیں جن کا اوسلو میں تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔اوسلو معاہدے کے تحت ایسے امیدوار اور جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تھے جو تشدد کی حمایت کرتے ہیں ،نسل پرستی کے حامی ہیں اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پر امن راستے اختیار نہیں کرتے ۔(یہ ساری علامتیں تو اسرائیل پر فٹ بیٹھتی ہیں پھر وہ جمہوری کیسے ہے؟ وج)واشنگٹن نے تو ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی ۔واشنگٹن آج حماس کی حکومت سے جو مطالبہ کر رہا ہے وہی مطالبات انتخابات سے پہلے حماس کے سامنے رکھے جاسکتے تھے ،یعنی اسرائیل کو تسلیم کرنا،تشدد سے لا تعلقی کا اعلان کرنا ،اسرائیل فلسطین معاہدوں کو تسلیم کرنا۔یہ بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہوا کہ امریکہ نے اور اس کے پالیسی سازوںنے ۲۰۰۵ء کے سیاسی عمل کو ان باتوں سے مشروط نہیں کیا اور حماس کو پابند نہیں کیا کہ وہ ان تمام شرائط کو تسلیم کرتی جو گزشتہ ربع صدی سے تنظیم آزادی فلسطین تسلیم کرتی آئی ہے۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی :اگر میں آپ حضرات کی توجہ عراق کی طرف لے جاؤں جہاں مائکل رابن کو خاصا تجربہ حاصل ہوا ۔میں دو ایک تصورات پرآپ کی رائے جاننا چاہوں گا ۔اس میں ہم نے دیکھا ہے کہ غیر ملکی اداکاروں میں سے بہتر کون تھا۔ایک گروہ پر دوسرے گروہ کو حاوی کرنے میں کیا مفاد تھا۔کیا امریکہ کو نہایت سرعت سے عراق میں لبرل حلقے کو آگے بڑھانا چاہیے ۔اگر ہم اس کھیل کا حصہ بنتے ہیں تو ہمیں اور امریکہ کو یہ کہنا چاہیے کہ عراق میں اسی کی حمایت کی جائے گی جو ہماری بنیادی اقدار کو فروغ دے گا؟
مائکل رابن:میں عصری اسکالر مسعود الدین ابراہیم کے فارمولے کو قبول کروں گا۔وہ آمروں اور مذہبی پاپائیت کے درمیاں تضاد کو بیان کر رہے ہیں ۔آمریت کا ذرائع ابلاغ پر مکمل اختیار ہے ۔مذہبی پیشواؤں کے قبضے میںمساجد ہیں ۔آمر حکمران…جیسا کہ حسنی مبارک یا تیونس کے صدر زین العابدین علی ہیں…کہتے ہیں کہ واشنگٹن ہماری حمایت کرے یا پھر ان مذہبی پیشواؤں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے ۔امریکہ کے سفارت کاروں کو اس جال سے باہر نکلنا چاہیے اور زیادہ بنیادی کام کر کے لبرل حلقوں کو(مضبوط کرنا چاہیے جنہیں حالات نے ) کہیں زیادہ کمزور تر کر دیا ہے ۔اس منظر میں محض امریکہ ہی نہیں بلکہ لبرل حلقوں کو آگے آنا چاہیے جوان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں لیکن کمزور ہیں ۔
اگر ہم خصوصاً عراق کے حوالے سے بات کریں ،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ تمام گروہوں سے ایک سا سلوک کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ لبرل مفادات کے بر خلاف کام کرنے والے بھی کئی ایک عوامل وہاں موجود ہیں ۔ایران نے ان کو آگے بڑھایا جنہیں وہ جیتنا چاہتے تھے۔امریکہ کے ڈرائنگ روم میں جو بات کاغذ پر بہت اچھی لگتی ہے ،حقیقت میں وہ ویسی ہر گز نہیں ہوتی ۔امریکہ کوایسی پالیسی چاہیے جس سے نہ صرف نتائج حاصل ہوں بلکہ ان مخالفوں کو بھی ختم کیا جا سکے جو امریکی مفادات اور اہداف کو ناکام بنا رہے ہیں ۔واشنگٹن کو اس بات سے قطعی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور مفادات سے پورا کام لے۔
جمہوریت تیزی سے یاآہستہ آہستہ!
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:جوشوا!انتخابات یاجمہوریت میں آہستگی کی پالیسی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں اور یہ کہ انتخابات کو جمہوری عمل کے آخر میں ہونا چایے نہ کہ آغاز میں؟
جوشوا: میں اس بارے میں دو رائے میں مبتلا ہوں ۔اگر ایسا کیا جا سکے توبہت بہتر ہے اگر کوئی پانچ سے دس سالہ منصوبہ ہے جس سے ہم حالات کو جمہوریت کی طرف لے جاسکیں ،یہ اس سے بھی بہتر ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ مشرق وسطی میں کوئی ایسا ہوگا جسے اس دس سالہ منصوبے سے اختلاف ہو اور جمہوریت بھی آسکے۔لیکن میں بہت غور کے بعد یہ بھی سوچتا ہوں کہ وہ کون سی جگہ ہے جہاں یہ کامیاب ہوا ہے ،فریڈم ہاؤس نے گزشتہ برس ایک مطالعہ شائع کیا ہے “How Democracy is Won”اس میں اس تبدیلی کو دیکھا گیا ہے ۔انہوں نے ۶۷ممالک دریافت کیے ہیں جن کو انہوں نے “Not Free”قرار دیا ہے اور وہاں کچھ اہم سیاسی تبدیلی بھی آئی ہے ۔انہوں نے بہت قریب میں آنے والی تبدیلی کو اس مطالعے سے خارج کر دیا ہے یا پھر ایسے ملکوں کو اہمیت نہیں دی جو بہت چھوٹے ممالک تھے۔اگر وہاں سیاسی تبدیلی تھی ،انہوں نے اس کے نتائج کو ہی لیاہے۔انہوں نے معلوم کیا ہے کہ بہت اچھے نتائج وہاں ملے جہاں تشدد نہیں تھا۔جب مخالف تشدد پر اترتے ہیں تو یہ تبدیلی بہت خرابی کے ساتھ آتی ہے ۔ایک ایسا عامل تھا جس نے مجھے حیران کر دیا۔وہ یہ تھا کہ کامیابی کے ساتھ وقت کے کسی دورانیے کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔اس بات نے مجھے قائل نہیں کیا۔
یہ نکتہ کہ انتخابات کسی جمہوریت کو کامیاب نہیں بناتے،درست ہے ۔یہ جمہوریت کا ایک بہت بڑاحصہ ہیں لیکن یہ سب کچھ نہیں ہیں ۔اب بھی انتخابات کو ایک معاشرتی اور تعلیمی حوالے سے دیکھا جاتا ہے ۔ہم نے عراق میں اس عمل کو دیکھا ہے ۔سنی مسلمانوں نے ان کا بائکاٹ کر دیا اور پھر اس نتیجے تک پہنچے کہ اس فیصلے نے ان کے لیے حالات زیادہ خراب ترکر دیے۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ ہم

آئندہ ایسا نہ کریں اور پھر اگلے انتخابات میں وہ بڑی تعداد میں پولنگ کے لیے آئے۔
جمہوریت کا ایک حصہ یہ ہے بار بار انتخابات سے احتساب ہوتا ہے اور لوگوں کو عادت پڑتی ہے کہ درست فیصلے کس طرح کرنا ہیں اور کس طرح سیاست کو زیادہ مہذب بنانا ہے۔
ڈینئیل پائیس:میگنا کارٹا پر دستخط کرنے والے نہیں جانتے تھے کہ ایک دن اس کانتیجہ ایک اصلاحات کے بل کی صورت میں نکلے گا ۔میں نہیں سمجھتا کہ ایک منصوبہ ضروری ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم قیادت کو دیکھیں ۔ہم جمہوری قوتوں کی مدد کریں اور کسی منصوبے کے بغیر ملکوں پر زور دیں کہ وہ جمہوریت لائیں۔ہم نے کوریا اور تائیوان کے ساتھ بھی تو ایسا ہی کیا ہے اس کی ایک اورمثال ۱۹۷۵ء کا ہلنسکی معاہدہ ہے ۔اس معاہدے نے مشرقی یورپ میں جمہوری عمل کو یقینی بنایا۔میرے خیال میں وقت ایک اہم عامل نہیں ہے ،لیکن جب آپ ایک ایسے خطے میں ہوں ،جیسا کہ مشرق وسطی ہے ،تو وہاں جمہوریت کو کامیاب ہونے کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہوگا۔
کیا امریکہ غیر جانبدار ہے ؟
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:اس بارے میں کیا خیال ہے کہ امریکہ کو ظاہر کرنا چاہیے کہ وہ کن گروہوں کی حمایت کر رہا ہے ؟
جوشوا :امریکہ کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی الیکشن مہم کے دوران میں بتائے کہ وہ کس کاحامی ہے ۔اس سے بالکل الٹ نتیجہ نکلے گا۔ہمیں ۱۹۴۰ء کے عشرے میں اس کا بہت تجربہ ہوا ہے ۔ہم نے بہت سے کام کھلے عام کیے لیکن زیادہ تر منصوبے پس پردہ ہی رکھے گئے تھے ۔آج ا سطرح کے اقدامات کرنا ممکن نہیں ہے ۔اب خفیہ ایکشن کو بہت دیکھ بھال کے کیا جاتا ہے ۔اب صحافی ایسے ایکشن کو بے نقاب کرنے کے درپے رہتے ہیں ۔جب یہ آپریشن سامنے آتے ہیں تو الٹے گلے پڑ جاتے ہیں ،لیکن انتخابی مہم سے باہر رہتے ہوئے واحد کام جو ہم کر سکتے ہیں وہ یہ کہ ہم جمہوری اور لبرل لوگوں کو سپورٹ کریں۔اس سے مراد یہ ہے کہ یہ سپورٹ صرف سیاسی جماعتوں کی نہ ہو ،بلکہ این جی اوز،اشاعتی اداروں اور اس طرح کے دوسرے اداروں کی بھی ہم سپورٹ کریں۔
روبن :یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ انتخابات شفاف نہ بھی ہوں تو بھی جمہوری عمل کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ مشرقی وسطی کے بعض علاقوں میں یا مشرقی یورپ میں اور سابق سویت یونین میں بھی ،یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں حکمراں جماعتوں نے اس انداز سے انتخابات کرائے جس سے اپوزیشن کو متحرک کرنے کا موقع مل گیا ۔مصر میں حسنی مبارک نے تمام رکاوٹیں اس لیے دور کر دیں تاکہ وہ اپنے مخالف ایمن نور کو بے اثر کر سکے ۔مبارک نے آسانی سے فتح حاصل کر لی لیکن اب ایمن نور کا نام ہر گھر میں لیا جا رہا ہے ۔اگلے مرحلے کے انتخابات میں …اگر نور کو رہا کر دیا گیا تو …وہ ایک بڑی قوت سے سامنے آئے گا۔
سیٹ لاف:کیا ہم اس وقت جمہوریت کی اصطلاح کو داغدار نہیں کر دیتے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دہشت گرد گروہ نے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح انتخابات میں حصہ لیا ہے ۔لبنان کو ہی لے لیجیے ۔ہم چاہتے تھے کہ وہاں Cedar Revolutionکو استحکام ملے ،ہم نے رضامندی ظاہر کردی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دا د ۱۵۵۹پر عمل در آمد کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں ۔اس قرار داد میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے بجائے ہم نے ایک نقص والے عمل کی حمایت کر دی جس میں اس دہشت گردتنظیم نے حصہ لیا اور منتخب ہو گئی ۔ہم نے اسے بھی درست کہا ،ہم نے کہا کہ یہ جمہوریت ہے ،ہم حزب اللہ کے وزیر سے بات نہیں کریں گے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ایک دہشت گرد گروہ کو جائز قرار دے دیا۔
روبن:آپ نے صحیح کہا،مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں بہت سی چیزوں کو اپنی رضامندی نہیں دینی چاہیے ،جب سفیر ریکارڈن مصر کے ٹی وی پر آتے ہیں اور مصر کے انتخابات کی حمایت کرتے ہیں ،حالانکہ ان میں واضح نقص ہوتا ہے ،اس سے جمہوری عمل میں کمزوری آتی ہے ،ہمیں جو کچھ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم سفارتی وابستگی کو تبدیل کر دیں جس سے ہم حکمراں جماعت کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم بتائیں کہ فلاں اور فلاں خرابی ہم نے انتخابات میں نوٹ کی ہے تاکہ ہماری جمہوریت لانے کی پالیسی کی وقعت بحال رہے ۔ہم بتائیں کہ کہاں کہاں بہتری کے امکانات ہیں اس طرح سے لبنان کے معاملے میں سب سے خراب ترین مرحلہ وہ تھا جب سکریٹری کنڈولیزا رائس گئیں اور انہوں نے سفارتی آداب کے تحت لاہود سے ملاقات کی،حالانکہ ان کی تیسری مدت کئی اعتبار سے غیر قانونی تھی۔
استحکام کی بحث
سیٹ لاف:اس وقت کئی ایک تاریخ (داں)اس میز کے گرد بیٹھے ہیں ۔مجھے اجازت دیں تاکہ میں انتظامیہ کے دعوؤں کے بارے میں کچھ کہہ سکوں ۔میں تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مشرق وسطی کے بارے میں بہت سے لوگوں نے سوچ تبدیل کی ہے ۔گزشتہ چھ عشرے سارے ہی خراب نہیں تھے۔آپ ہر چیز کو خراب کہہ کے ضائع نہ ہونے دیں۔کمیونسٹوں نے کبھی مشرق وسطی پر اختیار حاصل نہ کیا۔ عرب اسرائیل جنگ کوکامیابی سے محدود کیا گیا تاکہ انیسویں صدی کے آخر میں یہ ایک مقامی تصادم میں بدل جائے ۔ یہ تصادم اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہی رہے اور یہ علاقائی تصادم کا ذریعہ نہ بن سکے ۔ایسی کامیابیاں صرف اس لیے مل سکیں کہ ہم نے آمرانہ حکمرانوں سے معاملہ کئے رکھا۔دیگر عوامل بھی تھے۔بیسویں صدی کے نصف آخر میں جو کچھ ہوا ، وہ سارے کا سارا نہ سہی ،کافی حد تک آج کی دنیا کے لیے مناسب ہی رہا ۔لیکن میرے پاس ایک تاریخ دان کا عدم اتفاق بھی موجودہے۔ صدر نے کہا ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں مشرق وسطی میں امریکی خارجہ پالیسی بنیادی طور پر غلطیوں سے بھری رہی ہے۔

ڈیئنیل پائس :استحکام کی قدر ہے ۔
جوشوا:یہ بات دلچسپ ہے کہ گزشتہ ساٹھ برس سارے ہی خراب نہ تھے۔اس میں فہم نظر آتی ہے ۔میں اس سے خود بخود عدم اتفاق نہیں کر سکتا ۔لیکن یہ فرانسس فوکویا ماکے تازہ ترین موقف کے قریب لگتا ہے کہ ہمیں کسی طرح سے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ ہم نے نائن الیون پرسخت خراب رد عمل دیا ۔وہ کہہ رہا ہے کہ تین ہزار افراد کا مارا جانا بہت برا تھا اور بہتر تھا کہ اسامہ بن لادن کوپکڑا جاتا ۔لیکن یہ نائن الیون بڑھتی ہوئی جہادی تحریک میں بنیادی لمحہ تھا ،جو لوگ فوکویاما سے اختلاف کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،ان کی تربیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہ زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں کو مار سکتے ہیں ۔اس کو روکنے کے لیے ہماری طرف سے ایک طویل مدتی رد عمل کی ضرورت ہے۔
سیٹ لاف:مجھے فوکویاما کے نظریے سے اتفاق نہیں ہے ۔میں ایک سیدھی بات جانتا ہوں ،نائن الیون سے پہلے والی پالیسیوں کو مشرق وسطی میں مسترد نہیں کرنا چاہیے ،ان کے اپنے فوائدتھے۔لیکن نئے دور میں نئی پالیسیاں بھی ضروری ہیں ۔یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ ہم نے اتنے بہت سارے سال وہاں غلطیاں کرتے گزار دئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۰ء سے لے کر اب تک حالات مختلف تھے اور اب بالکل نئے حالات ہیں ۔
کیا انتخابات سے اسلام پسند معتدل ہو جاتے ہیں؟
مڈل ایسٹ کوراٹرلی:انقلابی اسلام پسندوں کی انتخابات میں شمولیت پر کچھ بات ہو چکی ہے ۔مجھے ۵ مارچ ۲۰۰۶ء کو واشنگٹن پوسٹ کا اداریہ پڑھ کر بہت حیرانی ہوئی جس میں ان کے حوالے سے جمہوریت کا ذکر تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ …’’انقلابی اسلامی پسندوں اور مغربی مفادات کے دوسرے مخالفین کو ایک طرف نہیں کیا جا سکتا ـ‘‘۔
سیٹ لاف: لیکن انہیں قتل تو کیا جاسکتاہے ۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی :مختلف اوقات میں ان کی انتخابات میں شرکت زیادہ بہتر رہتی ہے بجائے اس کے کہ ان کو نکال باہر کیا جائے ۔ان کے سیاسی مقصد کو حد اعتدال میں لانے کی کوشش روکی بھی جا سکتی ہے کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ انتخاب ان اسلام پسندوں کو حد اعتدال میں لا سکتے ہیں ؟
جوشوا:اس میں کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے کہ اسلام پسندوں کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اور ان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی :کیا عراق اور ایران میں ان کو قتل کرنے یا انتخابات میں شریک کرنے سے یہ معتدل ہو گئے ہیں؟
روبن:انتخابات اسلام پسندوں کو معتدل نہیں کر سکتے ۔اگر وہ عوام کے بجائے خدا کو اپنے لیے حکم مانتے ہیں تو پھر ان کو معتدل نہیں کیا جا سکتا ۔ جب بات آئے گی کہ اصلاح پسندوں اور سخت گیرحلقوں میں سے کون آگے آئے گا تو ایسے مباحث کے لیے ضروری ہوگا کہ اس تجزیے کو سامنے رکھا جائے ، جویورپی اور امریکی ایران اور عراق کے حالات کے آئینے میں کرتے ہیں ۔آپ ان لوگوں کومعتدل نہیں بنا سکتے جو لوگوں کو نظریہ دیتے ہیں ۔جیسا کہ ایران کے آیت اللہ علی خامنہ ای کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
ڈینئیل پائس نے حال ہی میں مڈل ایسٹ فورم سے ایک اہم نکتہ پیش کیا ہے ۔انہوں نے نوٹ کیا ہے کہ پچیس برس پہلے ہر کوئی اسے ناگزیر قرار دے رہا تھا کہ جددیدیت کو قبول کرنا ہی ہوگا۔تھیاکریسی سے نجات پانا ہوگی ،لیکن یہ سب ہو گیا ۔یہ تصور کرنا بھی خطرناک ہوگا کہ اقتدار میں آکر انقلابی اسلام پسند معتدل ہو جائیں گے ۔اس لیے بہت ضروری ہے کہ جہاں بھی یہ اقتدار میں آئیں ان کا کڑا احتساب کیا جائے۔ہم ایک فرد ایک ووٹ کا نظام قبول نہیں کر سکتے ۔اس کے بجائے آپ یہ کیجیے کہ ہزاروں پھول کھلنے دیں ۔سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے عراق میں یہی کیا ہے ۔امریکہ کا کام یہ ہے کہ وہ ایک ایسا ماڈل آگے کرے جو حقیقی ،آزاد،لبرل اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اقتدار میں لائے ۔
پالیسی سازوں کواپنے اس خیال سے بھی نجات حاصل کر لینی چاہیے کہ عرب کے لبرل حلقوں کو امریکی امداد ان کے خلاف جائے گی ۔ہمیں اپنی برتری رکھنی چاہیے ۔یہ فیصلہ ان لبرل حلقوں پر چھوڑ دیں کہ وہ ہماری امدا د قبول کرتے ہیں یا اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔اس کے بعد ان کی کوششوں کا تجزیہ کریں۔
جوشوا:اس بات میں کافی وزن نہیں ہے کہ انتخابات انقلابی اسلام پسندوں یا دوسروں کو معتدل کرتے ہیں یا نہیں ۔سوال یہ ہے کہ انتخابات سے وہ حلقہ انتخاب معتدل ہو سکے گا جس میں سے انہوں نے ووٹ لینا ہے۔اسلام پسندوں کوبدلا نہیں جا سکتا ۔اگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں تو پھر ووٹر دوسرا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
پائیس:لیکن یہ ایک طویل اور صبر آزما دوڑ ہوگی ۔سویت یونین میں یہ اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آبادی کو یہ یقین نہ ہو گیاکہ اسے وہ کچھ نہیں مل رہا ہے جو اسے ملنا چاہیے ۔واشنگٹن پوسٹ کے اداریے میں جوکچھ کہا گیا ہو وہ یہ ہے کہ اسلام پسند اسکول بنائیں گے ،گلیاں پختہ کریں گے تو وہ معتدل ہو جائیں گے ۔یہ تو ایسی جمہوریت ہے جیسا کہ آپ کسی کوکھلا میدان دے دیں۔مائیکل نے بتایا ہے کہ یہاں معاملہ خدا کے ساتھ ہے ۔میں اسے آمرانہ حکومتوں کی مثال سے واضح کرنا چاہوں گا ۔ایسی حکومت کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظام کو برقرار بھی رکھے اور ایک ما فوق الفطرت تصور بھی بنائے رکھے۔

ترکی …ایک ماڈل
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:کیا ترکی کا تجربہ اس ساری بحث سے متضاد نہیں رہا؟کیا سابقہ دو عشروں میں اسلام پسندوں کو انتخابی عمل میں شرکت کی آزادی دینے سے ان میں اعتدال نہیں آیا؟
پائیس :ہاں ایک طرح سے ایسا ہوا ہے ،وہ ضرور معتدل ہوئے ہیں ۔۱۹۷۷ء میں فوج نے نجم الدین اربکان کونکال باہر کیا کیونکہ ان کے اندر کا انقلابی برقرار رہا ۔ان کے نائب رجب طیب اردگان نے اس تجربے سے سبق حاصل کیا ،انہوں نے سیاست میں زیادہ نرم رویہ اختیار کیا۔ان کی کار کردگی حیران کن طور پر بہتر ہے ،لیکن اب بھی ہم اس قصے کے درمیان میں ہی معلق ہیں۔بہت سی علامتوں سے یہ پیغام ملتا ہے کہ رجب طیب طرز حکومت میں بہت بہتر ہیں ۔وہ اسلامی ایجنڈا بھی بڑی چالاکی سے آگے بڑھا رہے ہیں ۔ترکی کے تجربے سے بہر حال حوصلہ مل رہاہے۔ َ
سیٹ لائف :ترکی کو ہم حماس کے فریم ورک میں دیکھ سکتے ہیں ۔بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ حماس نے انتخابی کامیابی تو حاصل کر لی لیکن وہ اب بھی بہت سے فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتی ،تاہم یہ درست ہے کہ انتخابی نظام سے کئی اور ممالک میں اسلامی جماعتیں فائدہ اٹھا سکتیں ہیں ۔ وہ اپنی حقیقی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کر سکتی ہیں۔
روبن:حقیقت یہ ہے کہ AKPنے یہ دکھایا ہے کہ اسلام پسندکس قدر خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس کے زیر اقتدار پورے نظام کو اندر سے ایک بڑے حملے کا سامنا ہے۔جب اردگان استنبول کے مئیر تھے ،انہوں نے کہا تھا کہ ’’جمہوریت ایک ایسی کار ہے جسے آپ ضرورت کے مطابق جہاں تک چلا سکیں ، چلا سکتے ہیں اور پھر آپ اتر جائیں‘‘۔اس تصور کو انہوں نے بطور وزیر اعظم بہت کامیابی سے استعمال کیا ہے ،انہوں نےبنکنگ بورڈ سے لبرل حلقوں کو نکال دیا ہے۔اس شعبہ میں سے تمام ماہرین ایسے مقرر کر دیے ہیں جن کا تجربہ اور جن کا تعارف اسلامی نظام معیشت کے معماروں کے طور پر ہوا ہے اب یہاں ماہرین اور عملہ زیادہ تر ایسے ہی افراد پر مشتمل ہے ،ان میں سے بڑی تعداد میں ماہرین ایسے ہیں جو سعودی عرب میں کام کرتے رہے ہیں ۔طیب اردگان نے جج صاحبان کی نو ہزارکی نفری میں سے چار ہزار تبدیل کر دیے ہیں ۔ان نئے جج صاحبان کو اسلامی عدالتی نظام کا گہرا علم حاصل ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھنے سے یہ کہہ کے انکار کر دیا ہے کہ وہ اعلی عدلیہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ،جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے اسلامی تعلیمی پروگرام کو اعلی تعلیمی کونسل منظور کرنے کو تیار نہیں ہے تو انہوں نے پندرہ نئی یونیورسٹیاں بنا دی ہیں۔اس طرح انہوں نے ان کے پندرہ نئے ریکٹر مقرر کر دیے ہیں۔ہر ریکٹر کا تعلیمی کونسل میں ایک ووٹ ہے وہ اکثریت لے جائیں گے ۔(حیرت کی بات ہے کہ ترکی کو اپنے جمہوری مقاصد کے لیےبہتر قرار دینے کے باوجود یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ طیب اردگان بڑی چالاکی سے اسلام کا نفوذ بڑھا رہے ہیں۔ اور یہ یہود نواز ٹولہ اس پر تشویش یا اس کے ازالہ کی طرف اشارہ بھی نہیں کررہے۔ کہیں یہ اپنے ماڈل کو خوشنما بناکر قابل قبول بنانے کی کوشش تو نہیں۔ وحدت جدید)
سیٹ لائف:میں ایک مختلف ماڈل پیش کرناچاہوں گا وہابی ازم نے جس طرح سے اپنے پنجے پھیلا رکھے ہیں ،دنیا اس کی گرفت میں جا رہی ہے ، میں تجویز کروں گا کہ ’وہابی ازم ایک ملک ،ایک حل ،کا ماڈل اختیار کیا جائے ۔آئیے ہم سعودی عرب کو باقی دنیا سے الگ کرتے ہیں ۔مشرق وسطی میں اس کے اثرات بہت گہرے ہیں اور تباہ کن ہیں ۔آئیے ہم سعودی عرب سے بات کریں کہ وہ اپنی خوفناک اور سازشی نظریاتی شناخت کوایک طرف رکھے۔اسے سعودی عرب تک محدود کرے اور اسے دوسرے ممالک میں برآمد نہ کرے اور نہ ہم ایسا اسے کرنے دیں ۔یہ بہت ہی نہیں بلکہ لاکھوں سعودی شہریوں سے زیادتی ہوگی لیکن یہ برا سودا نہیں ہے کہ ہم لاکھوں کروڑوں لوگوںمیں ا س تصور کو پھیلنے سے روک دیں ۔(گویا سعودی باشندوں کوسعودی عرب سے باہر نہ نکلنے دیا جائے ،لیکن سعودی عرب جانے والے کوبھی روکا جائے گا ،حج کرنے والوں کو بھی…؟مضمون نگار)جی ہاں!مختلف طریقوں سے حجاج کی تعداد کم کرنے یا ان کے ذریعہ سعودی عرب اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں متعدی امراض کے پھیلنے کی افواہیں پھیلانے کا کام WHOبڑی تندہی سے انجام دے رہا ہے تاکہ حاجیوں کی تعداد گھٹائی جائے اور جانے والوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر محلول پلاکر نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیلا جاسکے (وحدت )
بش حکومت کی کارکردگی
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:جمہوریت کے لیے بش انتظامیہ کی کوششیں آپ کے سامنے ہیں ۔آپ کیا گریڈ اسے دیں گے؟
پائیس :میں بش انتظامیہ کو گریڈاول دوںگا۔اس حکومت نے یہ جرأت کی ہے کہ چھ عشروں سے طاری جمود کو توڑا ہے ۔یہ جمود مشرق وسطی میں استحکام کے نام پر طاری رکھا گیا۔میں اس کی نفاذ کی کوششوں پر اسے گریڈ Dدوں گا اس انتظامیہ کا خیال تھا کہ جمہوریت کو ایک نظریاتی تھیاکریسی اور قابل عمل نظام کے طور پر از خود قبول کر لیا جائے گا۔اس حکومت نے ایسی بہت سی علامتیں برقرار رہنے دیں جو مسئلہ پیدا کر رہی تھیں۔یہ مسائل اور رکاوٹیں آپ کو افغانستان،عراق،لبنان ،فلسطین اور مصر میں اب واضح نظر آرہی ہیں ۔(میں سعودی عرب کو اس گروپ میں نہیں رکھ رہا ہوں کیوں کہ میونسپل سطح کے اسلام پسندوں کو محدود کیا جا سکتا ہے)۔
روبن:سعودی عرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں جمہوریت محض برائے نام ہے ،انہوں نے میونسپل نمائندے منتخب کیے ہیں ،جن کو بجٹ کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا ،وہ جدہ جا کر ووٹ دے سکتے ہیں

،جس سے سیوریج کا نظام بنوا سکتے ہیں ،وہ پہلے کی طرح سے شاہی خاندان کے رحم و کرم پر ہیں ۔وہی فیصلہ کرے گا کہ یہ سیوریج کا نظام بھی بننا چاہیے یا اس کی ضرورت نہیں ہے۔
پائپس:بالکل! میں اس نظام کا حامی ہوں ۔انہیں اسی طرح سے سست رفتار سے سیکھنا چاہیے۔ جمہوریت کے ساتھ ان کی وابستگی اس طرح سے ممکن ہے۔
مڈل ایسٹ کواٹرلی:کویت کی پارلیمان کا ماڈل بھی آپ کے سامنے ہے ۔یہ تیس برسوں سے کام کر رہی ہے اور جس بات کی آپ وکالت کرتے ہیں ،اس کے بہت قریب بھی ہیں۔
پائپس:جی ہاں !مجھے یہ ماڈل پسند ہے۔(میں نے اس کی خوبیوں کا تذکرہ اسی جرنل کے ایک مضمون میں کیا ہے)
سیٹ لاف:جمہوریت کوخارجہ پالیسی میں مرکزیت دینے پر بش حکومت کوواقعی گریڈ A ملنا چاہیے ۔میں ا س کی کوشش پر بھی اسے گریڈAہی دوں گا۔لیکن اس نظری پہلو کو عملی طور پر پالیسی میں تبدیل کر نے پر اسے گریڈ Fدوں گا۔اسلام پسند اپنی زیادہ مضبوط قوت کے ساتھ ابھر رہے ہیں ۔وہ غزہ اور لبنان جیسی محدود جمہوری ریاستوں میں ابھر رہے ہیں،جہاں کے نقائص سے بھر پور نظام کو بش حکومت نے تسلیم کر لیا ہے۔انقلابی اسلام پسندوں نے ثبوت دیا ہے کہ انہیں جن حالات میں بھی موقع مل رہا ہے وہ اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔وہ جمہوری تصورات کو برقرار نہ رکھ کر بھی یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔
جوشوا:میں بھی بش کوگریڈ Aدیتا ہوں اور اتفاق کرتا ہوں کہ اس کا نفاذ بہت کمزور رہا ۔میرے خیال میں یہ زیادہ اہم معاملہ نہیں ہے۔پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہی بنیادی کام ہے ۔پھر ہر چیز اپنی جگہ پر خود آجاتی ہے ،معاشرے کے بڑے حلقے پر اسلام پسندوں کو جس قدر بھی نفوذ حاصل ہے اسے توڑنے کا راستہ یہی ہے۔بش نے یہ ضرور کہا ہوگا کہ وہ استحکام کے بارے میں امریکی موقف کوبدل رہے ہیں ، لیکن جو کچھ انہوں نے کر دیا ہے وہ بہت بنیادی اور گہراہے ۔انہوں نے پالیسی سازی کو ثقافتی تناسب سے آزاد کر دیا ہے ۔وہ دہشت گردی ،قتل غیرت اور اس طرح کی دوسری حرکتوں کوپسند کرنے پر یا برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔یہ سارے کام خوفناک ہیں اور پیچھے کی جانب لے جانے والے ہیں۔یہ بہت ضروری ہے کہ مشرق وسطی کے لوگ بھی یہ جان لیں اور سیکھ لیں کہ انہیں جس طرح کے مہذب شہری کردار کی ضرورت ہے،اس کے مشترکہ نکات پر مصالحت نہیں کی جا سکتی۔
پائپس :عدم استحکام نے جو مسائل عشروں میں پیدا کیے ان پر آپ کو فکر نہیں ہے؟کیا آپ حماس فلسطینی اتھارٹی کے طور پر درست سمجھتے ہیں؟
جوشوا:اسرائیل کے لیے امن کی کوئی امید نہیں ہے اور عربوں کے لیے بھی نہیں ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں نے ابھی تک اپنا ذہن ہی نہیں بنایا،وہ اسے دونوں طرح سے چاہتے ہیں ،وہ امن کے فائدے بھی اٹھانا چاہتے ہیں اور جنگ کے مفادات بھی سمیٹنا چاہتے ہیں ،اس دھوکے میں انہیں یاسر عرفات نے ڈالاتھا۔فلسطینی عوام کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ احتساب سیکھ لیں۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:کیا جمہوری پالیسی بش انتظامیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی یا س کے بعد بھی جاری رہے گی؟
سیٹ لاف:ایشو یہ ہے کہ اس پر مغرب اور امریکہ مسلم دنیا کو کس طرح شامل اور شریک کرتے ہیں۔یہ ایک مدت کا کام نہیں ہے ۔اس طرح (جمہوری عمل)سے تو یہ اسلام پسندوں کے ہاتھ میں سب کچھ دینے والا معاملہ ہو جائے گا ،لیکن اسے مباحث کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل کا فیصلہ اس سے ہوگا ۔ایک تنگ نظر تصور یہ بھی ہے کہ عرب اور مسلم ممالک میں جمہوریت کا فروغ امریکی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے اور آنے والا کوئی صدر اسے آسانی سے مسترد نہیں کرسکے گا۔اس کے نفاذ کی حکمت عملی میں اختلاف ہوسکتا ہے۔
روبن:میں اس تصور پر Aاور اس کے نفاذپر گریڈ Cدوں گا۔مجھے جس بات سے بہت تشویش ہے ،وہ یہ ہے کہ بش حکومت میں ایسے بہت سے عوامل ہیں ،جو دہشت گرد گروہوں کو بھی جائز حکمران کے طور پر تسلیم کرنا چاہتے ہیں۔
سیٹ لاف :Cگریڈ تو پاس کرنے کا گریڈ ہے۔
روبن:مجھے اس بات پر حیرانی ہے کہ بش حکومت میں بعض عوامل ایسے ہیں جو حسنی مبارک یا بن علی کے بارے میں مخلصانہ رویہ رکھتے ہیں اور جمہوریت کے لیے شور وغوغا کر رہے ہیں ۔وہ اب تک حزب اللہ اور حماس کو بھی جمہوری قرار دینے پر تیار ہیں۔
مڈل ایسٹ کوارٹرلی:ہر کسی کو یقین ہے کہ بش حکومت کی جمہوریت کی پالیسی کے مشرق وسطی پر گہرےاثرات مرتب ہوں گے ۔وقت فیصلہ کرے گا کہ اسے کیا گریڈ ملنا چاہیے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *