کیا ظلم کی کو کھ سے امن جنم لے سکتا ہے ؟

تہذیب جدید میں سکہ رائج الوقت کے طور پر لفظ’’ حقیقت پسندی‘‘ یا عملی‘‘(Pragmatic)کے نام پر بد ترین مظالم و انسانی حقوق کی پا مالی اور بے انصافیوں کو جائز اور حلال کر لیا جا رہا ہے اس کو Realisticکا بھی نام دیا جا رہا ہے اس کے عملی مظاہرے دنیا بھر میں ظاہر ہیں ۔جمہوریت او رانسانی حقوق کے دعویدار اپنے مفادات کے لیے ہر اصول کو طاق پر رکھ کر کہتے ہیں یہ’واقعیت پسندی‘ہے آج29/03/13کے اخبارات میں پر اسرار طور پر نمایاںانداز میں امریکی سینیٹروں کے 24رکنی وفد کے دورہ ٔگجرات کی خبر شاہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ جس میں ان ’’حقیقت پسند‘‘امریکی تاجروں اور سیاستدانوں نے مودی کی ترقی و خوشحالی اور گورنینس کی خوب خوب تعریفیں کی ہیں ۔اسے امریکہ مدعو کیا ہے اور اپنی حکومت پر دباؤ ڈال کر ویزا دلوانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے مودی نے اب تک نہ ہزاروں متاثرین سے معافی مانگی ہے نہ ان کے مسائل حل کئے ہیں نہ انہیں انصاف دلایا ہے۔ بلکہ انصاف کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں ۔فون کال کی ڈٹیل ضائع کرنے، میٹنگ کی تفصیلات ضائع کرنے سے لیکر سینکڑوں طریقے سے انصاف کے عمل کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ مودی کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا حق تو ذکیہ احسان جعفری صاحبہ ،ظاہرہ شیخ ،بلقیس بیگم ، انصاری صاحب جیسے ہزاروں متاثرین کو ہے۔ امریکہ، یورپین یو نین اور اقوام متحدہ نے ان متاثرین کے لیے کیا کیا تھا جو وہ معافی دینے کا ڈھونگ رچ رہے ہیں ۔ جنکے ہا تھ خود لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوں ،اور ہزاروں عصمتوں کو بر باد کرنے کا شرف ان کے ظالموں کو حاصل ہے وہ کیا انصاف کا ساتھ دینگے۔ انہوں نے انصاف کا ساتھ کہا ںدیا ہے؟ اسرائیل ،عراق، سوڈان کہاں انہوں نے انصاف کیا ہے ؟ان کا صرف ایک مفاد ہے اپنے لئے مارکیٹ تلاش کر نا وہ جو بھی پورا کرے وہ ان کا ہے۔ کیا امریکہ اس بات کو منظور کریگا کہ 9/11کے حادثہ کی معافی چین یا پاکستان یا سعودی عرب دے؟امریکہ اور انگلینڈ نے کرنل قذافی سے جہاز گرائے جانے کے خلاف ہر جانہ کے طور پر اربوں ڈالر وصول کئے ہیں تب معاف کیا تھا۔9/11کے رد عمل پر دنیا کے متعدد ممالک تباہ کر دیئے گئے انہیں کیوں سزا دی گئی؟
اقوام متحدہ اور سارے عالم کے ڈھونگ انسانیت نوازوں کی بے حسی آپ شام میں دیکھیں جہاں تھوڑی سی آبادی کے ملک میں 7-8ماہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ ہلاک و زخمی ہو گئے اور صرف یہاں بیان با زیاں ہو رہی ہیں۔ما لی میں فرانس نے اپنے منظور نظر غلاموں کے حق میں فوری طور سے افواج بھیج کر مدافعت کر دی ۔ مگر شام میں سب خون اور آگ کا تما شہ دھیمی رفتار کی فلم Slow Motion Filmکی طرح دیکھ رہے ہیں ۔اب دنیا بھر میں عدم تشدد کے دعویدار اور بودھ لوگوں کوبھی خون مسلم کا چسکہ لگ گیا ہے کچھ ماہ قبل ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہید کیا گیا خاص طور سے جلا کر شہید کیا گیا ۔ لا کھوں لوگ پناہ گزیں ہیں ہمارے ملک میںبھی پناہ گزیں آئے ہیں اور دربدرٹھوکر یں کھا رہے ہیں ۔ ان کو ودیشی بتا یا گیا تھا ۔ اب گزشتہ ہفتہ سے میا نمار کے اس علاقے میں مسلم کش فسادات ہو رہے ہیں جو کہ ہندوستانی نسل کے مسلمانوں کی آبادی ہے وہاں بڑے قصبہ میں فسادات کے دوران سو سے زیادہ مسلمان شہید کر دیئے گئے ہیں سینکڑوں مکانوں اور خصوصاً اللہ کے گھر وں ( مساجد) کو جلایا گیا ہے اور پو لیس و فوج تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کسی مسلم ملک میں غیر مسلموں کو نقصان ہو تا تو ساری دنیا کے ’’ انسانیت دوست ‘‘ امن پسند’’صوفی مبلغ‘‘پروپگنڈہ اور لعن طعن کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں ۔ مگر اتنے بڑے مسلم قتل عام کو فساد کا نام دیکر پوری دنیا خاموش بیٹھ گئی ۔
ہندؤں کے مظالم پر اقوام متحدہ میں سری لنکا کے خلاف ووٹ دینے والی اقلیت نواز ہماری حکومت نے احتجاج بھی درج نہیں کرایا۔ کیو نکہ بیچارے بے وقوف مسلمانوں پر رو کر کیا فائدہ ہوگا الٹا نقصان ہی ہو گا ۔ جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وجے نمبیار نے خود مشاہدہ کر کے بتایا ہے کہ تقریباً90000لوگ پناہ گزیں بن گئے ہیں ۔آبادیاں کی آبادیاں خالی ہو گئی ہیں اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار آتشزنی اور چھرے بازی ہوئی ہے۔ اور خصوصاًاہنساکا راگ الاپنے والے بوددھوں کے بھکشؤوں نے یہ حرکت کی ہے وجے نمبیار کا کہنا ہے کہ مقامی مسلمانوں کو یقین نہیں آرہا ہے کہ جن کے ساتھ وہ صدیوں سے رہتے آرہے ہیں انہوں نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟ مگر ’’ اسلامی دہشت گردی‘‘کے خلاف لڑنے والے سارے امن پسند خاموش ہیں ا ور میڈیاکے لیے تویہ کوئی خبر ہی نہیں ہے کیونکہ مسلمان تو اسی سلوک کے مستحق ہیں ۔ مسلمانوں کے خلاف ’’ اسلامی دہشت گردی‘‘ کے سرکاری پروپگنڈہ کی وجہ سے اور کسی بھی ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کا روائی نہ کرنے سے دنیا بھر میں مسلم دشمنوں کے حوصلےبڑھے ہوئے ہیں خصوصاً جنوبی مشرقی ایشیا کے بودھ اکثر یتی علاقوں میں جب سے عالمی طاقتوں کی رسہ کشی ہوئی ہے تب سے اہنسا کے پجاریوں کو بھی خون مسلم کا چسکہ لگ گیا ہے ۔ سری لنکا میں اب تک LTTEہی مسلمانوں کی دشمن تھی مگر اب سنہا لی بودھ بھی بھکشؤوں کی اگوائی میں کولمبو میں 28مارچ کو مسلمان تاجروں کے کپڑے کی دکانوں پر حملہ آورہو گئے اور انہیں آگ لگا دی۔ بودھ بالا سینا  نے پچھلے ماہ مسلمانوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ ملک بھر میں حلال اشیاء کو ضائع کر دیں۔ اگر اپریل تک ایسا نہیں کیا تو ان کی دوکانوں کو آگ لگا دی جا ئیگی۔ اور28مارچ کو دوکانوں کو جلا دیا گیا ۔میا نمار اور سری لنکا میں اس مسلم مخالف تشدد کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ دونوں ملکوں میں عالمی سیا ست کے کھلا ڑیوں کے مفادات کے کھیل میں ان ملکوں میں پہلے سے موجود گر وہی تناؤ کو بھڑکا کر اپنا اپنا تسلط جمایا جا رہا ہے ورنہ اچانک اس طرح کی وارداتوں کی کثرت اور ہمہ گیریت کی کیا وجوہ ہو سکتی ہیں ۔ دنیا بھر میں ’’ امن ‘‘اور ’’انصاف‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے دعویدار وں اور ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کے خلاف جہاد کرنے والوں کی اس مسلم مخالف قتل و بربادی پر خاموشی بہت معنیٰ خیز ہے ۔۔۔۔۔شاید اس بر بادی میں ان کے دلوں کے سکون کا سامان ہو گا!!!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *