الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا

مدیر محترم عطاء الرحمٰن وجدی صاحب نیز اسٹاف وحدت جدید! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے کہ آپ حضرات بخیر ہوں گے۔ ماہنامہ وحدت جدید برائے اپریل 2013ءکے مضامین اس قدر دلچسپ اور معلومات سے پُر ہیں کہ لگا وحدت جدید روز افزوں افق کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ:
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارامہِ کامل نہ بن جائے آمین
میں نے ایک سانس میں نصف سے زیادہ مضامین پڑھ ڈالے اور دوسری بیٹھک میں مکمل مضامین پورے کرلئے۔اس شمارہ کےمضمون ’’میڈیا کی دخل اندازی ناقابل برداشت ‘‘کا ایک جملہ کسی طرح گلے سے نیچے نہ اتر سکا کہ کشمیر بلاشبہ ہندوستان کا ایک اٹوٹ انگ ہے۔ ریڈینس ویوز ویکلی کے ایک مضمون کے حوالہ سے میں نے قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی سعی کی ہے۔ امید کہ من وعن شائع کرکے ممنون فرمائیں گے۔یہ مضمون Radianceکے شمارے 16-22جولائی 2000ء میں Autonomy Debate Needs wider Forum by Surender Mohanکے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔
از۔ اقبال خان، بسم اللہ نشیمن، اولڈ پاور ہائوس، oppمنڈی دائودپورا، برہان پور (ایم پی)450331
وحدت جدید:آپ نے جن نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اس کے لئے آپ کا شکریہ۔یہ جان کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ آپ وحدت جدید کے مستقل خریدار ہیں۔اللہ تعالی مانگ کر پڑھنے والے اس دور میں آپ جیسے مزید قارئین نصیب فرمائے۔ البتہ مضمون نگار کی ہر بات سے نہ ادارہ کا اتفاق ضروری ہے نہ قارئین کا۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ کو وہ پورا مضمون پسند آیا سوائے ایک جملہ کے۔ ہم تنگی داماں کی وجہ سے آپ کی رائے کے تعلق سے صرف حوالہ پر اکتفا کررہے ہیں۔ البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ انسانی زبان بہت محدود معانی پر مشتمل ہے اور اکثر اوقات ناممکن کے ممکن ہونے کے امکان کے باوجود امکان کے واقعی طور پر وقوع پزیر ہونے تک اسے ناممکن ہی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے وقوع پزیر ہونے تک وہ علاقہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہی کہا جاتا رہا۔ تقسیم سے قبل بنگلہ دیش پاکستان کا اٹوٹ انگ ہی تھا۔جنوبی سوڈان تقسیم سے قبل سوڈان کا اٹوٹ انگ ہی تھا۔ USSRکے زوال کے بعد وقوع پزیر 15 جمہوریائیں روس کا اٹوٹ انگ ہی تھیں اور اسے ٹوٹنے سے بچانے کے لئے روس نے اپنے لاکھوں جگر گوشوں کو خود قتل کردیا۔ جغرافیائی حدود بالفعل قبضہ کی بنیاد پر تسلیم و رد کئے جاتے ہیں۔ البتہ ہر فریق اپنی بات منوانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور کسی مرحلہ پر اگر کوئی فریق حالات کو تبدیل کرنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے تو اس کی کامیابی کی راہ میں کسی کا اٹوٹ کہنا کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ اس پوری تحریر کو دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ بقول شاعر:
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گوہر سے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *