شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول

جس طرح سیاہ و سپید ایک دوسرے کی ضد ہیں؛ جس طرح رات کی تاریکی اور دن کی روشنی باہم متضاد ہیں، اسی طرح حق و باطل کو بھی جمع نہیں کیا جاسکتا۔جہاں حق ہوگا وہاں باطل ٹھہر نہیں سکتا اور جہاں باطل کے اندھیرے ڈیرے ڈالے ہوں گے وہاں حق کی ضو فشانی اور جلوہ گری سے فیض یاب نہیں ہوا جاسکتا۔ جو لوگ حق و باطل کے درمیان ہم آہنگی اور بقائے باہم کی تلاش میں رہتے ہیں وہ درحقیقت ایک ایسے سراب کے پیچھے دوڑتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کی فکری و ذہنی کاوشیں خام خیالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوا کرتیں۔ اس کا ثبوت انسانی تاریخ کا وہ طویل سفر ہے جس میں اس اجتماع ضدین کا کوئی مثبت مفہوم دریافت نہیں کیا جا سکا۔حق و باطل کے مابین جو کچھ ہے وہ ایک دوسرے کی نفی ہے۔
عہدِ حاضر میں باطل کے پرستاروں نے حق کی مخالفت کے کچھ نئے انداز اختیار کئے ہیں۔ دلفریب اصطلاحات اور مغالطہ آمیز الفاظ کے ذریعہ باطل اپنے جواز کی راہیں تلاش کررہا ہے۔ تعلیم، ترقی، اعتدال پسندی اور انسانی حقوق کی حفاظت کے پردے میں راہِ حق سے قافلۂ انسانیت کو بھٹکانے کے لئے نت نئے کھیل کھیلے جارہے ہیں۔ سطور ذیل میں ایسی چند فریب کاریوں پر نظر ڈالتے چلیں۔
عورتوں کی آزادی کے نام پر آوارگی اور بے شرمی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ فطری طور پر نوعِ انسانی بالخصوص عورتوں میں شرم و حیا کا مادہ رکھا گیا ہے۔ بے حیائی اور ننگا پن کبھی بھی پسندیدہ نہیں سمجھا گیا ہے۔ حتی کی ماں اپنے بیٹے کے سامنے بھی برہنگی اختیار نہیں کرتی۔ یہ سب کچھ خارجی ماحول کا اثر نہیں ہے۔ حیا کا داعیہ انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ لباس انسانی شخصیت کا لازمی حصہ ہے۔ غیر ملبوس حالت میں وجاہت و وقارکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ابلیس کے بہکانے کے نتیجہ میں جب آدم و حوا علیہما السلام بے لباسی سے دوچار ہوئے تو اضطراری حالت میں درختوں کے پتوں سے اپنے جسم کو ڈھانپنے لگے۔ یہ سب کچھ اس احساس کاتقاضہ تھا جو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ تہذیب کے نام پر آوارگی پھیلانے والوں سے بھی کہیں نہ کہیں اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ عورتوں کی لائنیں (قطار) مردوں سے الگ لگائی جاتی ہیں۔ غسل اور استنجے کے لئے عورتوں کے واسطے الگ اہتمام کیا جاتا ہے۔ حتی کہ بسوں اور ۓٹرینوں میں عورتوں کے لئے سیٹیں اور ڈبےCompartment مخصوص کئے جاتے ہیں۔ فطری اصولوں اور ان کے تقاضوں کی خلاف ورزی کا انجام نقصان اور شکست سے دوچار ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔مغربی استعمار اپنے سرمایہ پرستانہ نظام کو مستحکم رکھنے کے لئے نظر کو خیرہ کرنے والی جس صناعی میں مصروف ہے ، وہ جھوٹے نگوں کی مینا کاری ہے جسے آج نہیں تو کل انسانی ذہن مسترد کر دے گا۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور فحشاء کو منکرات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے و ینھٰکم عن الفحشاء و المنکر و البغی بے شک اللہ تعالیٰ تم کو روکتا ہے فحشاء، منکرات اور بغی سے۔ ہم سب کے لئےیہ بات قابلِ غور ہے کہ جو تہذیب فحشاء و منکرات اور علانیہ شریعت و فطرت کی خلاف ورزی کے لئے تیار کرتی ہو وہ ایک شیطانی تہذیب ہےخواہ اس نے کتنے ہی اور کیسے ہی خوشنما طور طریقوں کو اختیار کر رکھا ہو۔ ایسی ہر تہذیب قابلِ مذمت ہے۔ مغرب کی نام نہاد تہذیب میں انسان کا تصور ایک حیوان سے زیادہ نہیں ۔ حیوانیت حرص و آز کی شیدائی ہوتی ہے۔ لذت پرستی اس کی پہچان ہے۔ وہ انسان کے بلند مقام ومرتبہ سے جتنی ناآشنا کل تھی اتنی آج بھی ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ انسان کو ایک معاشرتی حیوان Social Animalتصور کرتی ہے۔ جبکہ اسلام کی نظر میں اس کا مرتبہ خلیفۃ اللہ فی الارض اور اشرف المخلوقات کا ہے۔ وہ بشریت کو حیوانیت سےممتاز درجہ دیتا ہےاور کمالِ بشریت یہ ہےکہ وہ نوعِ انسانی کو عبدیت اور رسالت کے اس مقام ارفع سے آشنا کرتی ہےجہاں انسان اپنے طورپہونچ ہی نہیں سکتا۔ حاصل یہ ہے کہ تہذیب حاضر انسانی کے اخلاقی وجود کی منکر اور اسکے صرف مادی وجود کی قائل ہے۔ اسی لئے وہ صرف انسان کی مادی ضروریات اور نفسانی خواہشات کی تکمیل تک ہی ساتھ دیتی ہے۔ اس کا ثبوت سیکولر ملکوں میں ترقی کا مروجہ تصور ہے۔ خود ہندوستان میں ترقی کا مفہوم انہیں دائروں میں محدود ہے۔ تعلیم کو اخلاقیات سے بے تعلق کردیا گیا ہے۔ حتی کہ مشرقیت کی تقدیس کے ثناخوانوں نے بھی اسی دہلیز پر اپنا سر خم کردیا ہے۔ تعلیم گاہوں میں کلچرل پروگراموں کے ذریعہ نئ نسل کو جو زہر دیا جارہا ہےاس تہذیبی قتلِ عام پر کوئی بھی نہیں بولتا۔ بقول مولانا مودودیؒ یہ تعلیم گاہیں نہیں ، قتل گاہیں ہیں۔ جو اسناد یہاںسے نئ نسل کو جاری کی جاتی ہیں وہ (باعتبار حقیقت) قتل کے صداقت نامےDeath Certificatesہیں۔ کل تک اس حقیقت تک پہونچنا زیرکی و دانائی کا کام تھا مگر آج یہ مشاہدہ عام ہے۔ تعلیم کی تلوار سے نئ نسل کے تہذیبی قتل کا بڑے بڑے مقدس اور عزت مآـب گھرانوں میں بچشم سر مشاہدہ کیا جا سکتاہے۔ افسوس و حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب اس قتل عام پر ماتم کرنے والے بھی نظر نہیں آتے۔ کیونکہ ترقی و تہذیب کے پرستاروں نےاہلِ اقتدار سے مل جل کر اس کے راضی نامہ پر بھی دستخظ کردئے ہیں۔لہٰذا باطل کے وضع کردہ پیمانوں کے مطابق اس سانحہ پر اعتراض کرنا ترقی کی تیز رفتاری میں رکاوٹ ڈالنا ہی ہے۔
……………………………………………………………
انسانی فطرت سے بغاوت فحشاء و منکرات کے عام رواج ، اخلاق باختگی کی اشاعت اور خواہشات نفس کی بندگی کے نتیجہ میں دولت کا حصول ہی مقصدِ زندگی بن کر رہ گیا ہے۔ اب حسبِ ضرورت ہی نہیں، ضرورت سے زیادہ دولت کمانا ہی معیارِ ترقی ہے۔ جو کوئی اس معیار و مقصد کے حصول تک نہیں پہونچتا وہ ایک ناکا م آدمی ہے۔ اور کوئی ناکام آدمی یا قوم کس طرح دوسروں کے لئے قابلِ توجہ و تقلید ہو سکتی ہے۔ انسان ہمیشہ ہی کامیابی کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ صحیح معنیٰ میں کامیاب کون ہے اور کامیابی کی حقیقت کیا ہے؟ جو افراد یا قومیں بیک وقت کئی کشتیوں میں سوار رہنا چاہتی ہیں ان کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ان عناصر کو ،جو حق و باطل دونوں سے یکساں رشتہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں ، معلوم ہونا چاہیے کہ فطرت ان کے لئے اپنے اصول تبدیل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح اہلِ باطل اسلام سے تعلق کی سزا دیتے رہیں گے جو اب تک دے رہے ہیں اور حق سے منافقانہ یا نیم دلانہ وابستگی انہیں ایمان کی حلاوت سے ناآشنا بنائے رکھے گی جیسے ان سے پہلے لوگوں کو بنا رکھا تھا۔
……………………………………………………………
فکری سطح پر بھی باطل نے کچھ نئے بت تراشے ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اسلام سے کوئی نفرت نہیں و عداوت نہیں ہے۔ ہم تو صرف انتہا پسندی کے مخالف ہیں۔ پھر یہ کہ انتہا پسندی اور اسلام کیا ہے، اس کی تعریف کیا ہے؟ کسی اور کو زحمت دینے کے بجائے یہ بوجھ بھی انہوں نے خود ہی اٹھا لیا ہے۔ مزید یہ کہ اس میدان میں اپنے ظلوم و جہول ہونے کا احساس بھی انہوں نے دانستہ نظر انداز کردیا ہے۔ اسلام کیا ہے؟ قرآن کی تعلیم کیا ہے؟ توحید جو سارے انبیاء کی دعوت کا بنیادی اصول ہے؛ شرک جس کو مٹانے کے لئے جملہ انبیاء مبعوث کئے گئے؛ ایمان کی بنیاد پر جو امت وجود میں آئی ہے اس کاباہمی تعلق کیا ہے؟ وطن پرستی اور قوم پرستی جیسے سیاسی نظریات کو مسترد کرکے مساواتِ بنیآدم کی جو تعلیم اسلام نے دی ہےاس کی اہمیت و ضرورت کوکیوں نہ تسلیم کیا جائے؟ ان سب دینی اور اصولی حقیقتوں سے صرف نظر کرکے اسلام کا ایک نیا ایڈیشن اور امت مسلمہ کا ایک نیا ماڈل امریکہ اور اس کے حواریین نے بڑی چالاکی اور چابکدستی سے تراشا ہے۔ اس کے مطابق پہلے شریعت کی نفی کی جاتی ہےکیونکہ شریعت براہِ راست باطل کی منصوبہ بندیوں کی راہ روکتی ہے اور بالآخر دینی عقائد و اصول سے انحراف ہے ۔ جس کے بعد ایک لفظ اسلام ہی باقی رہ جاتا ہے۔ اس طرح جو اسم بھی باقی رہ جائے تو مسمیٰ کے بغیر اس کی قیمت ہی کیا رہ جاتی ہے جس کی حفاظت کی جائے؟!
……………………………………………………………
حق و باطل کی کشمکش جاری ہے اور جاری رہے گی۔ البتہ اس کے ابواب و عنوان بدلتے رہے ہیں۔ داستان ایک ہی ہے۔ معرکۂ حق و باطل کبھی مابین ابلیس و آدم ؑبپاہوا؛ کبھی حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کےمشرک سرداروں کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی؛ کبھی حضرت ابراہیمؑ کے مقابل نمرود نے اپنی باطل خدائی کا جھوٹا نعرہ لگایا؛ کبھی حضرت موسیؑ کی صدائے برحق کو دبانے کے لئے فرعونیت نے سینہ زوری دکھائی اور کبھی حضرت مسیحؑ کی معجزانہ شخصیت اور دعوت کو جھٹلانے کے لئے بنی اسرائیل کے علماء سوء نے اپنی سیاہ کاریوں کی قابلِ نفرت داستان مرتب کی۔ اور بالآخر نبی آخر الزماں ﷺکی زیرِ قیادت بدر وحنین کی گھاٹیوں میں باطل کو سرنگوں ہونا پڑا۔ الحاصل
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بو لہبی
نورِ نبوت کے اتمام یعنی محمد رسول اللہﷺ کی بعثت و رحلت کے بعد بھی حق و باطل کی کشمکش جاری ہےاور جاری رہے گی تا آنکہ اتمامِ حجت کے طور پر خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام عمل میں آئے گا اور خدا کے دین برحق کی جلوہ فشانیوں سے عالمِ انسانیت کی آنکھیں ٹھنڈی ہو کر رہیں گی۔
……………………………………………………………
جو لوگ حق و باطل کے درمیان شرکت کے متمنی ہیں اور مخلوط معاشرہ Plural Soceityاوراعتدال پسندی کا سہارا لے کر شرک و توحید کے درمیان من تو شدم تومن شدی؛ من تن شدم تو جاں شدی؛ تاکس نہ گوید بعد ازیں؛ من دیگرم تو دیگری کے جھوٹے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ نورِ بصیرت سے محروم ہیں اور ظلمات بعضھا فوق بعض میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں جا ن لینا چاہیے کہ خدا کے نور (ـدین حق کی روشنی) سے محرومی کے بعد کوئی روشنی نہیںہے۔
……………………………………………………………
رہا بقائے باہم کے نام پر اپنے مفادات اور چندروزہ زندگی کے تحفظ کا مسئلہ، توبھولنا نہیں چاہیے کہ انسان کشاں کشاں جس منزل کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے ۔ قافلۂ حیات کی سمتِ سفر کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے۔ انسان کھلے میدانوں میں ہو یا مضبوط قلعوں اور حویلیوں میں سکونت پذیر ہو کہیں بھی موت کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ دنیا فنا ہونے والی ہے اور ہو رہی ہے۔ آخرت باقی رہنے والی ہے اور بپا ہوکر رہے گی۔ کوئی ذریعہ اور وسیلہ ایسا نہیں ہے جو آدمی کو اس سے بچا سکے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *