خاک بسمل پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے! پارلیمنٹ پر حملہ اور ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ بھارت سرکار نے خود کرایا، یہ بالکل نیا انکشاف نہیں ہے

بہت دن پہلے احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک بسمل پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے۔۔۔
پچھلے پینسٹھ سالوں سے لگاتار خون ناحق صرف خاک بسمل پر ہی جمتا رہا ہے، اور قاتل اتنا شاطر ہے کہ وہ مقتولوں سے ہی قتل کی مزدوری بھی وصولتا رہا۔ اب حالات میں تبدیلی کے آثار ہیں۔ اور خون ناحق اب کف قاتل پر بھی جمنا شروع ہوچکا ہے۔ اس کی شروعات مہاراشٹر کے خواجہ یونس کے خون ِ ناحق سے ہوئی پھر سہراب الدین، کوثر بی، پرجا پتی، صادق جمال، عشرت جہاں اور جاوید پلائی کا خون ناحق قاتلوں کے کھپریل پر چڑھ کر آواز لگارہا ہے۔ اب یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اب خون ناحق کف قاتل پر جمے گا اور جلد ہی خالد مجاہد کا خون بھی کف قاتل پر نمایاں ہوکر ابھرے گا۔
یہ صرف اتفاق نہیں ہے کہ آج کانگریس بی جے پی کو یہ نصیحت دے رہی ہے کہ ننگی فرقہ پرستی سے بہتر یہ ہے کہ ہماری طرح سیکولرازم کا برقعہ پہن لیا کرو۔ تم نے ۲۰۰۲ ءمیں گجرات بنایا اور ننگے ہوکر بھارتیہ سماج کے سامنے کھڑے ہو۔ ہم نے سیکولرازم کا برقعہ پہن کر سیکڑوں ہزاروں گجرات بنا ڈالے لیکن ہمارے دامن تک خون کے چھینٹے نہیں پہونچے کیونکہ برقعے نے ہمارے دامن کو رنگنے سے بچا لیا۔
بھارت سرکار میں وزارت داخلہ کے اندر سکریٹری رہے مسٹر منی نے جو یہ انکشاف کیا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ اور ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ بھارت سرکار نے خود کرایا، یہ بالکل نیا انکشاف نہیں ہے، اہل نظر ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن یہ انکشاف ایسے آدمی نے کیا ہے جس کے قبضے میں وزارت داخلہ کا ایک ایک کاغذ رہتا ہے۔
میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ اس وقت کی این ڈی اے سرکار نے خود کرایا تھا۔ میں اس پر پہلے بھی مضامین لکھ چکا ہوں۔ پارلیمنٹ صرف پتھروں سے بنی عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ وہ عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کے اجتماع کا نام ہے۔ پانچ حملہ آور جتنی آسانی کے ساتھ کار سے اندر آئے، اگر چاہتے تو اصل عمارت کے مین گیٹ پر موجود تقریباً پچاس کیمرہ مینوں سمیت دربانوں کو ہلاک کرکے انھیں سنٹرل ہال میں پہنچنے میں ایک منٹ سے زیادہ کا وقت نہ لگتا۔ لیکن وہ مین گیٹ سے گزرنے کے بعد ہی گیٹ نمبر ۱۱ پر اپ راشٹرپتی کی سیکورٹی پر حملہ آور ہوئے اور سات پولیس والوں اور پانچ حملہ آوروں کے علاوہ صرف چھوٹے موٹے پتھروں پر کچھ گولیاں لگیں، کسی دیگر آدمی کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی۔
پارلیمنٹ پاس لگی ہوئی گاڑی بھی جب ہی اندر جاسکتی تھی جب اس پر ممبر پارلیمنٹ بیٹھا ہو، اور ڈرائیور کا بھی مستقل پاس ہو۔ بغیر پاس کے ایم پی بھی کسی کو اپنے ساتھ بٹھا کر نہیں لے جاسکتا۔ لیکن ایک گاڑی جس پر پاس اور لال بتی لگی ہو وہ پانچ اجنبی لوگوں کو لے کر اندر چلی جائے، یہ تبھی ممکن تھا جب محافظوں کو ایسا حکم پہلے سے دیا جاچکا ہو۔ اس گاڑی کو دھماکے سے اڑا دینے کا پورا انتظام تھا کوشش بھی ہوئی لیکن بارود نہیں پھٹا۔
کیا پارلیمنٹ چہار دیواری کے مین گیٹ کے بہت موٹی تنخواہ پانے والے پہرہ داروں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلا۔ کیا عوام کو یہ بتایا گیا کہ وہ گاڑی تھی کس کی اور اس پر لگاپاس کس ایم پی کے نام سے جاری ہوا تھا۔ صرف یہ دو سوال یہ ثابت کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں کہ حملہ مرکزی حکومت کی مرضی اور مدد سے ہوا تھا۔
لطف تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے افضل گرو کی سزا یہ لکھ کر برقرار رکھی کہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے جبکہ جرم ثابت نہیں ہے۔ اگر جرم ثابت بھی ہوتا تو ہمارے قانون میں دفعہ ۱۲۰؍ بی کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے اور سپریم کورٹ کو قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔ سچائی صرف اتنی ہے کہ افضل گرو آئی بی کا (کھلونا)تھا۔ اندیشہ تھا کہ وہ حملے کی سچائی سے واقف نہ ہو۔ اسی لیے اس پر جھوٹا مقدمہ چلا۔ پھانسی کی سزا سنائی گئی اور جب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوگیا، بی جے پی صبح شام دن رات سوتے جاگتے اس کو فوراً پھانسی پر لٹکا دینے کا مطالبہ کرتی رہی۔
بمبئی حملہ سو فیصدی بھارت سرکار، مہاراشٹر پولیس، آئی بی، ابھینو بھارت، لشکر طیبہ کا منصوبہ بند کارنامہ تھا۔ اصل مقصد ہیمنت کرکے کو ختم کرانا اور اس کی آڑ میں پولیس کو خدائی اختیارات سے لیس کرنا تھا۔ بمبئی کے قلابہ میں مچھیروں کی بستی کے پاس ربڑ کی کشتیوں سے جو لوگ اترے تھے سارے چشم دیدوں کے مطابق ان کی تعداد آٹھ اور ایک چشم دید کے مطابق نو تھی۔ تاج، اوبرائے ہوٹل اور نریمان بھون سے حملہ آوروں کی نو لاشیں ملیں۔ پھر وی ٹی اسٹیشن پر فائرنگ کرکے سیکڑوں کو موت کی نیند سلادینے والے وہ تین لوگ کون تھے جو آپس میں مراٹھی میں بات کرتے تھے اور بھیڑ پر اس طرف گولیاں چلاتے تھے جدھر داڑھیاں، ٹوپیاں اور برقعے نظر آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وی ٹی پر مرنے والوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔
کاما اسپتال پر پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے وہ تین لوگ کون تھے جو آپس میں مراٹھی میں بات کرتے تھے اور جیسے ہی ہیمنت کرکرکے کی گاڑی وہاں پہونچی انھوں نے اس پر گولیوں کی بوچھار کردی۔
۲۷؍ نومبر کی صبح چھپنے والے ممبئی کے سارے اخباروں میں کاما اسپتال کے تیمارداروں کا یہ بیان چھپا کہ وہ تین تھے۔ انھوں نے ہم کو صرف اندر جانے کو کہا۔ وہ آپس میں مراٹھی میں بات کر رہے تھے۔ اور جیسے ہی وہ گاڑی آئی انھوں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
۲۷؍ نومبر کی صبح ہیمنت کرکرکے کے زخمی ڈرائیور کا یہ بیان چھپا کہ جیسے ہی ہماری گاڑی وی ٹی پہنچی صاحب کو یہ پیغام ملا کہ فوراً کاما اسپتال پہنچو۔ صاحب نے مجھے حکم دیا، میں جیسے ہی کاما اسپتال پہنچا گولیوں کی بوچھار ہوگئی۔ صاحب کو کاما اسپتال پہنچنے کی ہدایت کس نے دی یہ معرکے کا سوال ہے۔
مقدمے اور جانچ سے وی ٹی اور کاما اسپتال کے حملہ آوروں کے مراٹھی بولنے، ان کے کاما اسپتال پر پہلے سے موجود رہنے، ان کے ہاتھوں پر کیسریا دھاگے کے بندھے ہونے اور کر کرے کے ڈرائیور کو مقدمے کا حصہ کس نے نہیں بننے دیا۔ اجمل قصاب کا یہ بیان کہ وہ پہلے سے پولیس کے قبضے میں تھا اور پولیس نے اسے وہیں زخمی کرکے مقدمے میں ملوث کیا، اس کو سرسری طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بات کانگریسیت کا نقطۂ عروج ہے کہ صرف افضل گرو اور اجمل قصاب کو پھانسی پر لٹکوانے کے لیے ہی سشیل کمار شندے کو پاور منسٹری سے کئی زینے کی ایک ساتھ ترقی دے کر وزیر داخلہ بنایا گیا۔ یہ کام ایک برہمن چدمبرم کے بجائے ایک دلت سے کرانا کانگریسیت کی اصل کسوٹی ہے۔ میں بچپن ہی سے ایک بہت مشہور قسم کا ’دلت پریمی‘ رہا ہوں۔
مجھے گھاگھ کی وہ مشہور کہاوت بھی یاد ہے کہ ’کالے برہمن اور گورے دلت‘ پر اعتماد کرنے والے ہمیشہ دھوکہ کھائیں گے۔ پوری تاریخ میں کانگریس غلام قسم کے مسلمانوں اور دلتوں سے ہی گھناؤنے کام لیتی رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ وزیر داخلہ بننے کے بعد ’شنڈے‘ نے اپنے دلت ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا تھا۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے ان کا یہی کام نمایاں رہا کہ انھوں نے اچانک قصاب اور گرو کو لٹکواکر انھیں جیل میں ہی گڑوا دیا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *