مصر : مغربی استعمار و اسرائیلی سازشوں کا شکار

عرب ممالک میں تبدیلی کی دوسری بڑی لہر مصر میں ہی پیدا ہوئی تھی۔ تیونس میں بغاوت کے ایک ماہ کے اندر ہی مصر میں انقلاب نے دستک دے دی۔ اور تین ماہ کی مزاحمت کے بعد حسنی مبارک کے تیس سالہ نامبارک دور کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ تبدیلی عوامی بیداری کا نتیجہ اور پرُامن ذرائع سے وقوع پزیر ہونے والا انقلاب تھا۔ حالانکہ حسنی مبارک نے فوج کے استعمال کے ذریعہ انقلاب کو خون آلود کرنے کی کوشش کی مگر چونکہ اس کے پیچھے ایک متحرک، متدین اور پختہ کار قیادت کارفرما تھی اس لئے ناکامی حسنی مبارک کے حصہ میں آئی۔
عالمی میڈیانے اس وقت بھی اخوان المسلمون کے رول کو نظر انداز کیا اور کچھ ایسا تاثر دیا کہ یہ ایک عوامی غصہ ہے جو تیس سالہ جبر کے نتیجہ میں ابھرا ہے۔ اخوان نے بھی انقلاب کی سرپرستی کو پبلسٹی نہیں دی۔ مگر بعد کے واقعات نے نہ صرف ثابت کردیا کہ ان مظاہروں کو منظم اور پرامن رکھنے کے پیچھے اخوان ہی تھے بلکہ عوام نے انہیں ہی آئندہ کے لئے زمامِ کار سونپ دی۔
2010ء سے لے کر اب تک مصر میں کل پانچ انتخابات مختلف عناوین سے ہوئے اور ان سبھی انتخابات میں الاخوان المسلمون نےاکثریت ثابت کر دکھائی۔
1۔ سب سے پہلے عبوری ریفرنڈم ہوا جس میں حسنی مبارک کے بعد نئی اصطلاحات کو تسلیم کیا گیا۔
2۔ پارلیامینٹ کے لئے ووٹ ڈالے گئے جس میں اخوان کو 51٪ ووٹ ملے۔
3۔ سینیٹ کا انتخاب ہوا ، اس میں بھی اکثریت اخوان کو ہی ملی۔
4۔ صدارت کے لئے ووٹ ڈالے گئے جس میں اکثریت سے محمد مرسی کو صدر منتخب کیا گیا۔
5۔ نئے دستور پر ریفرنڈم ہوا۔ 64٪ووٹ سے ریفرنڈم کامیاب رہا جس میں شریعت اسلامی کو ملک کے قانون کا مصدر بنایا گیا۔ ریفرنڈم کے فوری بعد تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے دستور کے حق میں مظاہرہ کرکے اسے مزید تقویت پہونچائی۔
انتخاب اور عوامی تائید کی ان باریک چھلنیوں سے گذر کر الاخوان المسلمون اقتدار کے گلیاروں تک پہونچے۔ یہ تمام مراحل صاف شفاف اور بین الاقوامی جمہوری اصولوں کی مکمل پاسداری کے ساتھ انجام پزیر ہوئے۔ مغرب اپنی حواس باختگی کے باوجود اخوان کے خلاف کسی غیر جمہوری عمل کا الزام نہ لگا سکا۔ لیکن وہ اس جمہوری فتح کو ہضم بھی نہ کرسکا۔ اور بالآخر بڑی عیاری سے اس نے وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی کے ساتھ خفیہ ساز باز کرکے مصر کی پہلی عوامی جمہوری اخوانی قیادت کا تختہ پلٹ دیا اور دستور کو فی الفور معطل کردیا۔ ظاہر ہے کہ دستور کی موجودگی میں یہ غیر دستوری عمل کیسے بارآور ہو سکتا تھا۔
مصر سے اسرائیل وامریکہ کو بڑی امیدیں وابستہ رہی ہیں۔ مصر ہی وہ پہلا مسلم ملک ہے جس نے main streamسے ہٹ کر سب سے پہلے Camp Davidمعاہدے کے ذریعہ اسرائیل کے وجود کو قانونی طور پر قبول کیااوراس ناجائز صہیونی ریاست کو قلب اسلام میں استحکام بخشا۔ اسی لئے امریکہ و یوروپ سب نے مل کر مصر میںساری فوجی حکومتوں کو شرفِ قبولیت بخشا اور عالمِ اسلام میں اپنی پالیسی کے تحت جمہوریت کی جگہ آمریت کو ترجیح دی۔ شاہ فاروق، انورسادات، جمال عبدالناصر، حسنی مبارک نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ پر محیط آمریت کے دوران مصر میں انسانی حقوق کو پامال کرتے رہے ، عوام کو لوٹ کر اپنی نجی جائیدادیں وسیع کرتے رہےمگر اسرائیل کو ڈھال فراہم کرتے رہے۔
سامراجی نظام کے خلاف اسلامی بیداری کی نقیب الاخوان المسلمون نے جو نعرہ دیا تھا وہ بہت تیزی سے مقبول ہوتا چلا گیا۔ اخوان نے اسلام کو بطور نظام پیش کیا اور سامراج کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اسرائیل کے خلاف جہاد میں سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں۔ اسی کے نتیجہ میں مصر کے فوجی حکمراں جو خود سامراجی ایجنٹ تھے انہوں نے اخوان کو سامراج کا ایجنٹ بتاکر ان پر مصائب و آلام کے ایسے پہاڑ توڑے جن کا ذکر بھی رونگٹے کھڑے کردینے والا ہے۔ مگر اخوان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی اور وہ پوری تندہی سے اپنی دعوت پر قائم رہے اور عوام میں اپنی جڑیں پھیلا تے رہے۔ اخوان کے بانی اور پہلے مرشدِ عام حسن البناء شہیدؒ کو سرراہ گولی مار کر شہید کردیاگیا۔ اور تقریباً پوری صف اول کی قیادت کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا جس میں سید قطب شہیدؒ جیسے اکابرین کا نام بھی شامل ہے۔ فوجی ٹریبونل کے ذریعہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ہمیشہ کی نیند سلادی جانے والی قیادت شہید ہو کر امر ہوتی چلی گئی اور اخوان کی جڑیں مصر ہی نہیں ، پورے عالمِ عرب بلکہ اس سے آگے بڑھ کر امریکہ و یوروپ میںپھیلتی چلی گئیں۔
اسی لئے حسنی مبارک کی چھٹی کے بعد جب اخوان کی حکومت بنی تو نہ چاہتے ہوئے بھی مصر اور عالمی برادری کو اسے قبول کرنا پڑا۔ اخوان نے حکومت میں آتے ہی جس پختگی اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور مختلف و متضاد معاملات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔
ایک طرف جہاں اخوان نے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردیغان کے سیکولر ماڈل کہ بالکلیہ رد کردیا تو دوسری طرف انہوں نے تمام مصری عوام کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کی۔ آج جبکہ فوجی بغاوت کے ذریعہ ان سے حکومت چھین لی گئی ہے تو تبصرہ نگار ان کی خامیوں کی نشاندہی میں لگ گئے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اخوان نے آتے ہی اپنی سخت پالیسیاں نافذ کرنی شروع کردیں، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ اخوان نے ملک کے اصل مسائل پر توجہ نہ دی اور اپنی پالیسی لائن سے ہٹ کر اقدامات کی کوشش کی۔
حالانکہ مرسیؔ حکومت اخوان کے ایجنڈے پر سختی سے عمل پیرا ہوتی تو فی الفور اسرائیل سے معاہدوں کو کالعدم قرار دیتی۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔اسی طرح چیف جسٹس کے عہدے پرعدلی ناصر کا تقرر (جو اب فوج کے نامزد کردہ صدر ہیں( اوروزیر دفاع کے بطور عبدالفتاح السیسی کا تقرر (جنہوں نے فوجی بغاوت انجام دی ہے)ممکن ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ دونوں ہی نہ صرف غیر اخوانی اور سیکولر تھے بلکہ انتہا درجہ مغرب پرست بھی، جس کا اندازہ اب کچھ بھی مشکل نہیں۔
اسی طرح اسرائیل کے ساتھ سابقہ حکومتی معاہدوں کو برقرار رکھتے ہوئے ، اسرائیل کے جواز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔حماس کے رہنمائوں سے کھلے عام ملاقاتیں کی گئیں۔ غزہ کی سرحد بالآ خر کھول دی گئی جس کی وجہ سے دو سال سے دنیا کے سب سے بڑے عقوبت خانہ میں سکون کی سانس ممکن ہو سکی۔ شام میں حالات بگڑنے اور حماس پر مسلسل بشار الاسد کے مخالفین کی مذمت کرنے کے دبائو کے بعد دمشق کو چھوڑ کر حماس نے قاہرہ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔اسرائیل کی نگاہوں سے یہ سب کچھ پوشیدہ نہیں تھا اور ہر گذرنے والا دن اسرائیل کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا تھا۔ مگر اخوان کی جانب سے کوئی موقعہ نہیں دیے جانے کے بعد بالآخر ایک خطیر رقم کے عوض السیسی کو شیشہ میں اتار لیا گیا۔ اب اگر اب بھی کوئی مرسی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے تو بالواسطہ طورپر ہی سہی ، وہ اسرائیل کی پشتیبانی کررہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی صدر مرسی نے جو دورے کئے وہ ان کی پختگی ، دور بینی اور سیاسی سوجھ بوجھ کے غماز ہیں۔ صدر مرسی نے ہندوستان کا بھی دورہ کیا اور ہندوستان کے ساتھ اربوں روپیوں کے معاہدے کئے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے دینی اور تحریکی بھائیوں کو بھی نہیں بھلایا۔ چنانچہ باقاعدہ دعوت دے کر جماعت اسلامی ، جمیعۃ علماء سمیت کئی دینی تحریکی جماعتوں سے ملاقات کی۔ ان کی اس آمد کو ہندوستان میں موجود امریکہ نواز میڈیا صحیح طور پر ہضم نہیں کر پایا۔ مگر چونکہ کروڑوں ڈالر کے مفادات بھی وابستہ تھے اس لئے اکثر قومی اخبارات نےاندرون کے صفحات پر ان کی آمد کی خبریں چھاپیں۔
اسی طرح مرسی حکومت پر ملک کی معاشی بدحالی کا الزام بھی کھوکھلا ہے۔ مرسی حکومت کے حصہ میں خالی خزانہ آیا تھا۔ پچھلی آمرانہ حکومتوں نے قومی خزانہ میں جو لوٹ مچائی تھی وہ تو اپنی جگہ۔ مزید یہ کہ انقلاب کی آمد کے بعد بھی جبکہ حکمراں ٹولے کو اپنی نائو ڈوبتی نظر آئی اس وقت بھی جو کچھ ہاتھ لگا اسے لے کر بھاگنے سے نہیں چوکے۔
حسنی مبارک کی ایک بیوی نے بھاگتے بھاگتے بھی ڈیڑھ سو ٹن سونا مصر سے دوسرے ممالک میں پہونچا دیا۔ خود حسنی مبارک کے بیٹوں نے اربوں ڈالر کی مالیت کی رقم یوروپی و امریکی بینکوں میں ڈپازٹ کر رکھی ہے۔ یہ سب مصر ہی کی دولت ہے جسے دو سال پہلے کے حکمراں لوٹ کر لے گئے۔ اور کسے نہیں معلوم کہ اخوان کی حکومت کو ناکام کرنے کے لئے بین الاقوامی فنڈز کے منھ کس طرح بند ہوگئے تھے اور اس حکومت کو گرانے کے لئے انہیں فنڈز کے منھ کس طرح کھول دئے گئے ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ معدودے چند افراد کو کچھ وقتی فائدے تو ہوئے مگر مجموعی طور پر مصر ایک بڑے خسارہ میں پڑ گیا ہے۔ معمولی برتری کا راگ الاپنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اخوان کو 51٪ؑدیگر تمام اپوزیشن کے مقابلہ میں ملا ہےجس میں دین پسند نوری سلفی بھی شامل ہیں۔ نیز اسلامی دستور کے لئے 64٪کا ریفرنڈم بھی اخوان ہی کے حصہ میں آیا ہے۔ ظاہر ہے یہ اکثریت خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اور مصر ایک خانہ جنگی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔ عراق، لیبیا، افغانستان کی طرح غیر ملکی کمپنیاں لہو پیتی رہیں گی اور ملکی عوام ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں گے۔
اس میں سب سے گھنائونا رول مغرب کے پے رول پر پل رہے دانشور البرداعی کا ہوگا جسے نائب صدر کا حلف دلا دیا گیا ہے۔ یہ شخص ہمیشہ سے مغرب کے پے رول پر رہا ہے اور مصر میں عوامی انقلاب کے بعد میڈیا نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اسے متبادل کے طورپر پیش کیا مگر مصری عوام نے اسے مسترد کردیا۔ اب امریکہ کے زیر سایہ فوجی اقتدار نے اپنے پرانے وفادار کو نائب صدر کا عہدہ دے کر مصر میں اسرائیلی و امریکی مفادات کے تحفظ کا انتظام کر لیا ہے۔
مصر میں دونوں جانب سے مظاہرے جاری ہیں۔اور فوجی حکومت تھوک کے بھائو اخوانی قیادت کو پابند سلاسل کررہی ہے۔ مصر کے ساتھ ساتھ بہارِ عرب سے فیض یافتہ دیگر عرب و افریقی ممالک لیبیا، تیونس، مراکش اور یمن وغیرہ میں بھی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ فوجی ٹولہ مصر میں جلدہی کسی انتخاب کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ کیونکہ اس کا پورا فائدہ مظلوم اخوانیوں کو پہونچ سکتا ہے۔ اور اس بات کا امکان ہے کہ سروں کی گنتی میں اخوان پہلے سے بھی آگے نکل جائیں۔ اس لئے کوشش یہی ہوگی کہ اخوان اور حزب اختلاف میں آپس میں گھمسان کراکر فوج حکومت کا مزہ لیتی رہے۔ اس معاملہ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور شام وغیرہ کی اخلاقی حمایت نے فوج کو مزید تقویت پہونچائی ہے۔ معاملہ کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ امریکہ جس نے اسرائیل کے مفاد میں یہ کھیل کھیلا ہے وہ تو صاف الفاظ میں کچھ کہنے سے گریز کررہا ہے مگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ نام نہاد مسلم ممالک اس ناپاک سازش کا کھلے عام استقبال کررہے ہیں۔ یہ دراصل مصر کے مسئلہ پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی عالمی سازش کا حصہ ہے اور ان ملکوں میں عوام کی خواہش کے برخلاف فوجی ذرائع سے اقتدار پر قابض ٹولے کے دل میں عوامی بیداری سے خوفزدگی کا غماز بھی ہے۔
ان سب تجزیوں اور تبصروں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس بار اس کی ٹکر عالمِ اسلام کی سب سے منظم اور متحرک تحریک سے ، اسی کی سرزمین اور اسی کے میدان میں ہے۔ اخوان کے پاس ساٹھ سالہ سامراج مخالف جدوجہد کا تجربہ ہے۔ اللہ ہمارا رب ہے؛ محمدؐ ہمارے قائد ہیں؛ قرآن ہمارا دستور ہے؛ جہادہمارا راستہ ہے اور شہادت ہماری آرزو ہے کا نعرہ عالمِ اسلام کو اسی نے دیا ہے۔ اور اب تو اس نے اقتدار کے نشیب و فراز کو بھی دیکھ لیا ہے۔ ان شاء اللہ جس طرح پہلے کی شہادتیں اور ابتلاء و آزمائش اخوان کو نہ روک سکیں، اسی طرح اس بار بھی وہ ان آزمائشوں پر کھرے اتریں گے۔ اور دوبارہ نہ صرف مصر بلکہ پورے عالم میں اخوان اور اخوان کے اخوان اللہ کے کلمہ کو پوری قوت سے بلند کریں گے۔ بلکہ امریکہ و اسرائیل کا فرعونی سفینہ جب ڈوبے گا تو فرعون کی طرح وہ بھی پکار اٹھیں گے : ارے ہمیں بچالو! ہم بھی اخوان کے ر ب پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر تب تک کافی دیر ہوچکی ہوگی۔ امریکی پاپ کا گھڑا اس قدر بھر چکا ہے کہ اب دنیا میں اس کے لئے ذلت کے سوا کچھ نہیں بچا۔ اور جب یہودی کو ایک پتھر بھی پناہ دینے سے انکار کردے گا اس وقت امریکہ کے یہی یار مسلمانوں سے پناہ کی خواہش میں امریکی بیڑے میں شگاف ڈالنے سے بھی باز نہیں رہیں گے۔ انشاء اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *