نقصان اور گھاٹے کی سیاست

جب جب ہمارے اکابرین اور قومی رہنما کانگریس کے حق میں بولتے ہیںیا پھر ان کے حمایتی بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو میرےسینے پر سانپ لوٹنے لگتا ہے ۔میں پریشان ہو جاتا ہوں اور میرے ذہن میں ایک کے بعد ایک سوال اٹھنے لگتے ہیں جو مجھے اور پریشان کرنے لگتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارا اور قوم کامستقبل تو تابناک دکھائی دیتا ہے مگر موجودہ سیاست خسارے میں نظر آتی ہے۔جب جب کانگریس پارٹی اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ سیاست کے
افق پر چمکتی ہے، مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و ستم میں اضافہ کرتی ہے ۔کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کی حمایت کرنے کے پیچھے چاہے جوبھی وجوہات کیوں نہ ہومگر آخر کار نقصان قوم و ملت ہی کا ہوتا ہے ۔ناحق ہم کانگریسی ہونے پر بدنام ہوتے ہیں۔ کانگریس ہمیں اپنی جاگیر سمجھ کرجب جیسے چاہے ویسے استعمال کرتی ہے ۔جب چاہے ہمیں وطن پرست بنا دیتی ہے،جب چاہے ہمیں دہشت گرد بنا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے۔ہماری ترقی کے راستوں میں، ہمارے علم کے راستوں میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جائیں ،تب یہ ہمارے رہنما کہاں ہوتے ہیں۔یہ سیاست مسلمانوںکے گھاٹے پر مشتمل ہے ۔گجرات سانحہ اور پھر نریندر مودی کا ہیر وبنایا جانا۔بار بار پھر انہیں کامیاب بنا کر ملکی سطح پر لانے کا کام کس کا ہے؟ آخر مودی کو کون آگے بڑھا رہا ہے ۔ مودی کا خوف کون دکھا رہا ہے؟مودی کو این ڈی اے کی جانب سے مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے کون کام کر رہا ہے؟آخر سنگھ اور ہندو دہشت گردی کی بات کون کر رہا ہے ؟اور آخر کیوں کیا جا رہا ہے ؟ان سب کے پیچھے سازش تو ہے کہ مسلمان خوف و خطر کے مارے کانگریس کی حمایت کرنے لگیں۔بغیر کسی وعدے وعید کے ،بغیر وعدہ پورا کیے،بغیر کسی شرط کے مسلمان کانگریس کی جھولی میں ووٹ ڈال دیں ۔آخر بار بار عدلیہ ،مودی اور مرکزی حکومت چوہے اور بلی کا کھیل دکھا کر مسلمانوں کو بیوقوف کیوں بنا تی ہے۔یہ سب مرکزی حکومت گجرات حکومت اور کانگریس اور بی جے پی کی کھیل بھری سیاست ہے ،جس کے تحت انہیں علاقائی پارٹیوں کے زور کو کم کرنا ہے اور مسلمانوں کو خوف دکھا کر اور ہندو ووٹ کو بی جے پی کی جھولی میں ڈال کر بے خوف و خطر دونوں بڑی پارٹیوں کے ذریعہ ہندوستانی سیاست پر قبضہ جمائے رہنا ہے ۔نریندر مودی گجرات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بار بار دہلی آتے ہیں اور دہلی کے ایک کالج میں ان کے خلاف جس طرح ہنگامہ ہوتا ہے یا یوں کہا جائے کہ ہنگامہ کروا کر انہیں سرخیوں میں لا کھڑا کیا جاتا ہے ۔انہیں قاتل کہا جاتا ہے ،شور مچانے والے مسلمانوں کے حق میں،آواز بلند کرنے والے ،مسلمانوں کی فکر کرنے والے ،سلمان رشدی کے حمایتی ، مسلمانوں کی قبر پر سیاست کرنے والے ،جب آسام اور گجرات سے مہاراشٹرا تک مسلمانوں کا خون ہوتا ہے تو آپ کہاں ہوتے ہو؟آج تک کسی مسلم تنظیم نے انہیں نہیں مدعو کیا ۔کسی مسلمان نے ان کے گھر جا کر انہیں مسلمانوں کے لیے لڑنے کے لیے دعوت نہیں دی۔ہاں کچھ مسلمان ابن الوقت نے انہیں سیمناروں اور کانفرنسوں میں ضرور بلایا۔آج مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے اپنے اقتدار والے صوبوں میں مسلمانوں کا نقصان اور استحصال کرتے آتے ہیں۔آخر یہ کون سی سیاست ہے اور اس سیاست سے نقصان تو مسلمانوں کا ہی ہوتا ہے ۔شاہ رخ خان نے Outlookمیں ایک مضمون لکھا ۔حافظ سعید کی ہمدردی اور پاکستان کی حمایت کا نام دے کر انہیں غدار ثابت کرنے کی بہت کوششیں ہوئیں۔شاہ رخ خان کا نقصان تو کم ہوا مگر مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جو ہوا وہ غلط ہوااس سے عا
م ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔یہ دونوں ملکوں کے سیاسی رہنماؤں کے لیے کسی دوا سے کم نہیں ،دونوں ملکوں کی کامیاب سیاست کا ایک واحد ذریعہ ہے۔ جب کہ دونوں ملکوں کی سرکار عوام کی گرفت میں آجاتی ہے اس وقت اس حربے کا خوب استعمال کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کامیاب سیاست کا نقصان تو ہمیشہ سے مسلمانوں کو اٹھانا پڑا ہے ۔کمل حاسن کی فلم ’وشوروپم‘اور جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے درمیان جو کچھ ہوا۔وہ اس صوبہ کی وزیر اعلیٰ جے للتا اور کمل حاسن کے درمیان کی سیاست کی وجہ تھی جس کے تحت مسلمانوں کو استعمال کیا گیا ۔ہاں ایک بات جو نکل کر سامنے آئی وہ یہ کہ جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کا مضبوط اور منظم چہرہ دکھائی دیاجو شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے مثال ہے۔ قصاب اور افضل گروکی پھانسی ۔ جیسا کہ ہندوستان کی عدلیہ نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ دہشت گردی میں شامل تھے اور ہندوستان کے گناہ گار تھے اورانہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔تو حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی عوام کے دل میں جتنا غصہ ان کے لیے تھے تومسلمانوں کے دل میں ان کے لیے رحم نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور نہ ہے ۔اگر کشمیری عوام وہاں کی حکومت اور یٰسین ملک پاکستان میں ان کے لیے احتجاج کر رہا ہے ۔کشمیر کی سیاسی پارٹیاں،سری نگر ،دہلی اور اسلام آباد میں الگ الگ سیاست کیوں نہ کر رہے ہوں مگر ان دونوں پھانسیوں سے قبل اور پھانسی کے بعد نقصان صرف عام ہندوستانی مسلمانوں کا ہوا ہے ۔اکبر الدین اویسی جیل میں ڈال دئے گئے ۔ان کے بڑے بھائی اور ان کی پارٹی کے ایک ممبر پارلیمان دہلی اور مرکزی سرکار کے ساتھ حکومت میں شامل رہے ہیں ۔ان کی سرکار کو بار بار مدد پہنچاتے رہے ہیں۔جب کہ صوبائی سطح پر ان کے چھ ممبر اسمبلی کانگریس کی سرکار سے جیسے ہی علیحدگی اختیار کی اور کانگریس کے دشمن جگن موہن ریڈی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔اس وقت اویسی برادران اور ان کی پارٹی سماج اور وطن مخالف ہو گئی۔ان کی تقریر سے سماج اور وطن کا نقصان ہونے لگا ۔اویسی کے بر عکس توگڑیا اور ٹھاکرے برادران اور ان کی ترجمان سب سماج اور وطن کے لے مفید ہیں،یہ کیسی سیاست ہے۔صرف مسلمانوں کو بدنام کرنے اور نقصان پہنچانے کی سیاست ہے جس میں کانگریس کے ساتھ تمام تر سیاسی پارٹیاں شامل ہیں ۔کاش ہمیں وقت رہتے ہوش آجائے۔الہ آباد میں جو ہوا وہ قدرتی آفات تھیں جسے نہیں روکا جا سکتا تھا ۔اس کے لیے اعظم خان کیسے ذمہ دار ہو گئے محکمہ ریل اور ان کے انتظامیہ اس کے لیے پورے طور سے ذمہ دار ہیں۔الہ آباد کے حادثے نے اس لیے اعظم خان پر حملے کاموقع دیا کیوں کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ مسلمان ہیں جب کہ حقیقت یہی ہے کہ بقول اعظم خاں وہ پہلے سماج وادی ہیں ۔وہ مسلمان ہونے یا مسلم حمایت میں یقین نہیں رکھتے ۔انہیں اپنے سیکولر ہونے پر اتنا ہی ناز ہے تو مسلم اکثریت والے رام پور کے بجائے گورکھپور یا ورانسی سے کامیاب ہو کر مثال پیش کرنی چاہیے ۔یہ ہمارے قومی یا مسلم رہنماء ووٹ حاصل کرتے وقت مختلف سیاسی پارٹیوں سے ٹکٹ حاصل کرتے وقت تو مسلمان ہوتے ہیں ،اور مسلم ووٹ پر کامیاب ہوکر اسمبلی یا پارلیمان پہنچنے کے بعد مکمل طور پر اس سیاسی پارٹی کے وفادار نظر آتے ہیں۔جب کہ جنہوں نے انہیں کامیاب کرایا اسے نظر انداز کرتے ہیں۔پورے ہندوستان بھر میں میرا دعوی اور یقین ہے کہ ایک ایسی شخصیت ہے اور ان کی واحد پارٹی ہے ،جسے مسلم ہندو دونوں کی حمیات حاصل ہے۔جنہوں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر سیاست کے میدان میں تاریخ درج کر دی ہے ،ان کی شہرت اور رتبہ لگ بھگہر پارٹیاں حیران اور پریشان ہو کر ان کے خلاف سازشوں میں شامل ہوگئیں ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ ڈیڑھی جیسی پارلیمان حلقہ سے نمائندگی کر رہے ہیں۔دہلی کی مرکزی حکومت میں شامل ہیں اور صوبائی ستح پر برسر اقتدار کانگریس حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔جس کی وجہ سے آسام کے مسلمان سخت مصیبت میں مبتلا ہیں ۔کانگریس کی صوبائی سرکاراور غیر کانگریسی پارٹیاںدونوں مل کر پورے طور پر مسلم مخالف سازشوں میں شامل ہو گئے ہیں ۔بنگلہ دیشی مہاجرین کا بہانہ بنا کر بوڑو کو آگے کر کے مسلمانوںکا قتل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔مگر قابل تعریف بات یہ بھی ہے کہ مسلم مخالف ان سازشوں کو ناکام بنانے اور مصیبت زدہ مسلمانوں اور دیگر متاثرین کے لیے بدرالدین اجمل قاسمی صاحب نے اور ان کی تنظیمیں اور پارٹیوں نے قابل تعریف کام کیے ہیں ۔ان کے ذریعے کیے گئے اقدامات اور فراہم کی جانے والی امداد دوسری سیاسی پارٹیوں اور مسلم تنظیموں کے لیے کسی مثال سے کم نہیں ہے ۔کاش ان کے کارناموں کو ہماری سب سے بڑی تنظیم جمعیت علماء ہند اپنے سامنے رکھتی ،جن کے ایک کروڑ کارکن اور سرکار سے بڑے اچھے رشتے ہیں۔جو انتخاب سے پہلے رام لیلا دہلی کے میدان میں کانگریس کے حق میںحمایت کا اعلان کرتی ہے ۔نقصان تو ہر حال میں ہمارا ہی ہوتا ہے ،ہمارے رہنماؤں کو اور سرکار کو حمایت کرنے والوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ پورے ملک بھر سے ہمارے ہونہاروں،قابل نوجوان کو ایک سازش کے تحت مرکزی حکومت،کانگریس اور سنگھ کے مزاج میں رنگے افسران،انڈین مجاہدین کے روپ میں ،دہشت گرد اور ہندوستان مخالف سازشوں کے تحت گرفتار کر رہے ہیں۔اب تو اس گرفتاری کا دائرہ ملک سے باہر تک وسیع سے وسیع تر کر دیا گیا ہے ۔ہندوستان سے باہر ترقی کی منزل پر گامزن نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ایک سازش کے تحت ان علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں کے مسلم ترقی کر رہے ہیں ۔پہلے تو یہ مذہبی فسادات کراواتے تھے اب تو گرفتاریاں کراوانے لگے ہیں ْپھر مسلم اکثریتی مسلمانوں کو بد نام کر رہے ہیں ۔جن کے ذمہ ہماری خوشحالی اور ترقی کی ذمہ داریاں تھیں انہوں نے ہمارا راستہ روکا ۔انہوں نے ہمیں اندھیروں میں دھکیلا۔ہمارے سارے راستے روکے ہمیں بدنام کیا ۔صرف دو یونیورسٹی جامعہ اور علی گڑھ دے کر بہلا دیا ہمارے تعلیمی ادارے الگ الگ کر دیے اور دوسری جگہوں میں داخل ہونے سے روک دیا،ان دونوں اداروں کو سیاست اور نفرت کے میدان میں تبدیل کر دیا وقت نے کروٹ بدلی ہے انہوں نے مولانا آزاد یونیورسٹی اور دیگر علی گڑھ کے مراکز پر سیاست شروع کر دی
ہے ۔ہندوستان میں ہمارا پلیٹ فارم نہیں کے برابر ہے ۔اردو کے دو بڑے اور کامیاب روزنامہ غیروں کی ملکیت ہے ۔نیوز چینل ہمارا نہیں ہے ۔تعلیمی ادارے اعلیٰ اور معیاری ہمارے پاس نہیں ہے،اور نہ ہی ہم نے اس جانب سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کیں۔ہامرے لیے رکاوٹیں تو ضرور ہیں مگر مشکل اور ناممکن نہیں ہیں۔اچھے صحافی تو ہیں مگر کم ہیں ،اچھے ڈاکٹر تو ہیں مگر تناسب کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔ہم اور ہماری یاد پانچ برس میں ایک مرتبہ آتی ہے ہمارے لوگ چند سیمینار اور کانفرنس کرتے ہیں۔اپنے اپنے برادری کا اجتماع کرتے ہیں ۔مگر کچھ خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ترقی ہمارے حصے میں اوروں کے مقابلے میں کم نظر آتی ہے، یہاں نقصان بھی ہمارا ہے ۔
ہندوستان کے وزیر داخلہ یا پھر دوسرے سرکاری نمائندے بار بار عوامی پلیٹ فارم سے ایسی بات کرتے ہیں جس سے مسلمان گمراہ ہو جائے،خوش ہو جائے یا پھر ان کے مخالفین پر برہم ہا جائیں ۔ہم مسلمان انہیں اپنا اور اپنا ہمدرد سمجھنے کی بھول کر بیٹھیں۔اگر ان کو لگتا ہے کہ ہندوستان کے خلاف اور ہندوستانی سماج کے خلاف دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی شامل ہیںتو ان کے ہاتھ کس وجہ سے بندھے ہیں۔حکومت ،سرکار اور ایجینسیاں ان کے خلاف قدم کیوں نہیں اٹھاتیں عدلیہ بھی اس وقت سرگرم نظرآتا ہے جب انتخاب سر پر ہوتے ہیں۔یعنی کہ جس کو ہم اپنا سمجھ کر ووٹ دیتے ہیں ،جسے ہم اپنی ذمہ داریاں سونپتے ہیں حد تو یہ ہے کہ وہ کبھی ہمارا ہوا ہی نہیں ،الٹے ہمارے خلاف سازشوں میں شامل ہو جاتا ہے ۔ہمیں سبز خواب دکھانے والے پیچھے سے ہمیں خنجر چبھوتے ہیں ۔اصل میں یہی ہے موجودہ ہندوستان کی تصویر جس میں سیاست کے ہر ہر قدم پر خسارہ اور نقصان مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے ۔ سیاست کوئی اور کرتا ہے ،سیاسی فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے اور نقصان مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *