اسرائیل نواز مسلم دانشور!!

مکرمی! دہلی کے ایک مؤقر روزنامے میں ایک خبر پڑھ کر میری غیرت ایمانی کو شدید ٹھیس لگی اور میں دل پکڑ پکڑ کر رہ گیا۔ اخبار میں موٹے موٹے حرف میں سرخی لگی تھی ’’عالمی یوم قدس‘‘ کے موقع پر ملت فروش مسلم رہنماؤں کی اسرائیل کی دعوت افطار میں شرکت۔‘‘ یہ سرخی میرے اعصاب پر ایٹم بم بن کر گری اور میں بری طرح مضمحل ہوگیا۔ اضمحلال کی حالت میں دل کو چیرتے ہوئے یہ احساسات نکلے… افسوس یہ کیسے مسلمان ہیں جو ایسے ملک کی دعوت افطار میں شریک ہوئے جس نے اپنے حامیوں کے ساتھ فلسطین، مصر، عراق، افغانستان، پاکستان غرض تمام عالم اسلام کو جہنم کا نمونہ بنا رکھا ہے؟ یہ کیسے مسلمان ہیں جنہیں ایک ساعت کے لیے بھی مظلوم فلسطین کی ماں بیٹیوں، باپ بھائیوں اور معصوم بچوں کی مظلومیت کا خیال نہیں آیا؟… خبر کے ساتھ ایک تصویر بھی روزنامے میں شائع کی گئی ہے جس میں ان نام نہاد مسلمانوں کے ساتھ ایسے حضرات کی بھی تصویریں ہیں جن کے بارے میں اس قسم کی ملت فروشی کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ … ایسے لوگوں میں آل انڈیا تنظیم ائمہ کے صدر مولانا عمیر الیاسی اور کئی روزناموں کے ایڈیٹر ایس ایم آصف نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں۔
اخبار لکھتا ہے:جمعۃ الوداع کے موقع پر پوری دنیا میں ایک طرف ’’یوم القدس‘‘ کا اہتمام کرکے اسرائیلی سفارت خانے میں چند ملت فروش نام نہاد مسلم لیڈران دعوت افطار کھاکر اسرائیل کے مظالم کو صحیح ٹھیرا رہے تھے۔ اس دعوت میں جبہ و دستار والوں سے لے کر چند لبرل قسم کے مسلم دانشوران شریک تھے۔ اخبار، اسرائیلی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ اس موقع پر ایمبسی کے ۶۰؍ لائف ممبر مسلم شریک تھے۔ گو سفارت خانے نے شرکا کے نام ظاہر نہیں کیے تا ہم تصویر میں غور کرنے سے چند لوگ صاف طور پر پہچانے جارہے ہیں جن میں کئی روزناموں کے مالک ایس ایم آصف اور مولانا عمیر الیاسی نظر آ رہے ہیں مگر جب ان سے باری باری رابطہ کیا گیا تو اس سے صاف منکر ہوگئے نیز مزید گفتگو کرنے پر فون ہی کاٹ دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’دال میں کچھ کالا ضرور ہے یا پوری دال ہی کالی ہے۔‘‘
اخبار مزید لکھتا ہے۔ ’’مولانا متعدد بار اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں اور اس کے حق میں بیان بھی دے چکے ہیں …‘‘
مسلمانان ہند اپنے ان رہنماؤں کی حقیقت دیکھیں اور احساس کریں کہ اسرائیل کس قدر ہمارے اندر تک داخل ہوچکا ہے۔ اس نے ہمارے کیسے کیسے قلعوں کو توڑ دیا۔ ایک طرف یہ لوگ ہم سے ہمدردیاں کرتے ہیں اور دوسری جانب اسرائیل جیسے شیطان کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے مل کر فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے بے گناہوں کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ اسرائیل کو اس کی سیاہ کاریوں پر شہہ دیتے ہیں اور اس کے کارناموں کو صحیح ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ کیا اسی کا نام ایمان ہے؟ کیا اسی کو غیرت ایمانی کہا جاتا ہے؟ یقینا جواب ’’نا‘‘ میں ہوگا۔ یہ لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مسلمان تو ہوں گے لیکن ایمان انھیں چھوکر بھی نہیں گزرا ہوگا۔ سچ ہے! یہ لوگ ایسے ہی ہیں۔
اسرائیل کے مظالم طشت ازبام ہیں اور دنیا کا بچہ بچہ اس کی درندگی اور سفاکیت سے واقف ہے لیکن اس کے باوجود اس نے عامۃ الناس کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے پروپیگنڈے اپنائے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ اخبار لکھتا ہے۔
’’ویب سائٹ کے مطابق اس موقع پر اسرائیلی سفیر نے مسلمانوں اور اسرائیلیوں کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اور اسرائیل ایک باپ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد ہیں۔ اسرائیلی سفیر نے بڑی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے ملک میں بھی ۱۲؍ فیصد مسلمان ہیں جنھیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔‘‘
عزیز قاری! اسرائیلی سفیر کی یہ فریب کاری دیکھیے!جھوٹ دیکھیے اور گمراہی کا نمونہ دیکھیے! ان پر فریب باتوں میں سیدھے سادے لوگ کیوں نہیں آئیں گے… مگر حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ قرآن ان کی اصلیت بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’یہ یہود تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی خواہشات کے مطابق عمل نہ کرو۔‘‘ (آل عمران)
خدائے پاک کا یہ فرمان دیکھیے اور جان لیجیے کہ موجودہ اسرائیلیوں کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ وہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔‘‘ اس لیے کہ ان کے کارنامے ان کے دعوؤں کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے فلسطین کا وہ حال کر رکھا ہے حیسا کسی چیچک زدہ انسان کا ہوتا ہے۔ بچوں تک کو یہ سفاک لوگ کتوں سے نچواتے ہیں اور ننھی معصوم لڑکیاں، خواتین، دوشیزائیں ان کی حیوانیت کی شکار ہوتی ہیں۔ کیا فلسطین میں مسلمان نہیں ہیں؟ کیا وہاں بسنے والے انسان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد نہیں ہیں؟ انہیں اسرائیل اپنا بھائی کیوں نہیںمانتا؟ انہیں کیوں ستاتا ہے اور کیوں ان پر زمین تنگ کرتا ہے؟ اس طرح کے اور بھی سوالات ہیں جو ایک طویل عرصے سے اسرائیل سے کیے جا رہے ہیں مگر وہ مسلسل چپ سادھے دنیا کو گمراہ کیے جا رہا ہے۔
اسرائیل کے مظالم کی یہ خونی داستان کوئی نئی نہیں ہے بلکہ گزشتہ ۶۰؍ سال سے لکھی جا رہی ہے۔ ایک طویل عرصے سے بے بس و نہتے فلسطینیوں پر اس کا ظلم جاری ہے۔ جس میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود عالم یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والے کچھ لوگ اس کی ہمنوائی میں آگے آگے نظر آتے ہیں۔ انہیں اسرائیل سے نوازشیں ملتی ہیں اور عنایات و الطاف کے بادل ہمیشہ ان پر سائبان رہتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باوجود لوگ کیوں ان کی اقتدا کرتے ہیں، انہیں اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں کو چومتے ہیں… میں عامۃ الناس کو یہ تحریری آئینہ دکھا کر اور مظلوم فلسطین اور تباہ حال عالم اسلام کا واسطہ دے کر کہہ رہا ہوں کہ خدا را ہوش کے ناخن لیں اور ایسے نام نہاد مسلمانوں اور ملت فروشوں کا اجتماعی طور پر بائیکاٹ کریں۔ یہی ایمان کا تقاضا بلکہ وقت کا تقاضا ہے۔معصوم فلسطینیوں کی دل خراش چیخیں یہی کہہ رہی ہیں۔ ذرا سن کر تو دیکھیے! ذرا احساس تو کرکے دیکھیے! ذرا سوچ کر تو دیکھیے! آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جائیں گے جو ان نام نہاد مسلمانوں، ائمہ اور لبرل دانشوروں کی عقیدت کا غبار دھو دیں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *