غلبۂ دین ایک مطالعہ

(غلبۂ دین تحریکِ اسلامی کا جزء لاینفک ہے۔اس تعلق سے فکر جس قدر واضح اور الجھاؤ سے خالی ہوگی اسی قدر تحریک میں وزن پیدا ہوگا اور یکسوئی میسر ہوگی۔ اسی غرض سے ہم غلبۂ دین کے عنوان سے یہ سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ قارئین سےاستدعا ہے کہ وہ آداب و شرائط کو ملحوظ رکھتےہوئے اس بحث میں ضرور حصہ لیں۔)
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ دین کیا ہے؟ اللہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
اِنِِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰہِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰـکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَo
(یوسف:۴۰)
ترجمہ: الحکم صرف اللہ کے لیے ہے، اس نے حکم دیا کہ تم سب صرف اسی کی غلامی کرو، یہی الدین القیم ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں دو چیزوں کو الدین القیم کہا گیا ہے (۱)الحکم (۲) العبادۃ۔ الحکم صرف اللہ کو زیبا ہے اور یہ صرف اسی کا حق ہے اور اسی بنیاد پر اس نے تمام نوع انسانی کو اپنی غلامی کا حکم دیا اور یہ مطالبہ کیا کہ تمام انسان پورے معنوں میں صرف اسی کے غلام رہیں اور اپنے آپ کو پورے طور پر غلامی کے رنگ میں رنگ لیں، اسی کا نام الدین القیم ہے۔
فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْق اللہ َذَلِک الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ (روم: ۳۰)
ترجمہ: دین کے لیے آپ اپنے رخ کو یکسو ہوکر قائم رکھیں، (یہ )اللہ کی وہ فطرت (ہے)جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی تخلیق کے لیے کوئی تبدیلی نہیں ہے، یہی الدین القیم ہے لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں ایک چیز کا حکم ہے اور ایک چیز کی خبر دی گئی ہے، حکم پر عمل کرنا اور خبر کی معرفت حاصل کرنا اسی کا نام الدین القیم ہے۔ اللہ نے حضرت اقدس محمد ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے رخ کو، اپنے چہرے کو، اپنی توجہات کو، اپنی ترجیحات کو پورے طور پر یکسو ہوکر دین کے لیے قائم کریں، دین کے علاوہ دوسری کوئی بھی چیز سامنے نہ ہو، پورے معنوں میں اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کردیں، زندگی کے تمام امور و معاملات میں صرف دین ہی کی طرف توجہ اور رخ کا ہونا لازمی ہے، اس کے نتیجے میں وقتی ثمرات کا ہونا یا نہ ہونا فطرۃ اللہ سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ نے لوگوں کو مختلف جہات و صفات پر پیدا فرمایا ہے۔ ان میں قلبی، ذہنی، جسمانی، امکانی، ساختی، خوش قسمتی، بدبختی، شقاوتی اور سعادتی وغیرہ متفرق جہات پائے جاتے ہیں، اس کا تعلق ربانی تخلیق سے ہے اور اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے، دین حنیف پر قائم فرد کے لیے اس حوالے سے باخبر ہونا ضروری ہے تاکہ یہ معاملہ اس کی یکسوئی میں حائل نہ ہو اور تبلیغ دین میں باعث انتشار نہ ہو اور وہ حقیقی معنوں میں ربّانی تخلیق کے منصوبے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ربّانی شخصیت بن جائے اسی کا نام الدین القیم ہے۔
إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِندَ اللّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ (توبۃ: ۳۶)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی کتاب اللہ میں بارہ ہے اسی دن سے جب اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ان میں سے چار حرمت کے ہیں، یہی الدین القیم ہے۔
وقت کا اپنی فطری روش پہ ہونا الدین القیم کے لیے لازمی ہے، مشرکین اپنی چال بازیوں اور تخریب و خیانت سے مہینوں میں الٹ پھیر کردیتے تھے، یہ گویا فریبی طور پر فطرت اللہ کی تنسیخ کے ہم معنیٰ تھا۔ الصلوٰۃ، الصوم، الحج وغیرہ سب کا تعلق اوقات و ایام سے ہے، یہ دنیا اللہ کی القدر پر قائم ہے، دنیا کے اوقات و ایام میں تبدیلی گویا ’القدر‘ میں تبدیلی ہے، اللہ نے لیلۃ القدر میں القرآن نازل کیا، اللہ نے ایام نحس میں قوم عاد کو تباہ کیا،اوقات و ایام میں تبدیلی اس زمین کے اوپر اتنا بدترین جرم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے متقیوں کو ان تمام مشرکین سے قتال کا حکم دیا۔ قرآن و احادیث کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہی چیز اب اور بھیانک شکل میں ظاہر ہونے والی ہے، البرٹ ائنسٹائن Albert Einstein کا مشہور نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity)اسی سلسلے کی آخری کوشش ہے، مغرب میں (Back to the future) اور (Time machine) اسی ذیل کی کوششیں ہیں، اور غالباً یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان الفاظ میں خبردی ہے، کہ المسیح الدجال زمین پر چالیس دن رہے گا اور اس کا پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا اور دوسرا دن ایک مہینے کے برابر اور تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر اور بقیہ دن عام دنوں کے مانند ہوں گے۔ (بخاری)ان حالات میں جو لوگ محفوظ رہیں گے وہ صرف صاحب تقویٰ اشخاص ہیں، اللہ ہر وقت ان کے ساتھ ہے۔
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (التوبۃ: ۳۶) تم سب جان لو کہ بیشک اللہ اصحاب تقویٰ کے ساتھ ہے۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاء وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَذَلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ (البینۃ: ۵)
اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے ان کو صرف اللہ کی غلامی حکم دیا گیا اور یہ کہ وہ یکسو ہوں اور نماز قائم کرتے ہوں اور زکواۃ دیتے ہوں، یہی دین القیمۃ ہے۔
عبادت اور یکسوئی کے علاوہ ایک لازمی چیز اخلاص فی الدین ہے، دین کو پورے طور پر اللہ کے لیے قائم کرنا، اہل ایمان کی زندگی کی تمام تگ و دو صرف اللہ کی رضا کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہوں، ان کے جذبات، تمنائیں، اور خواہشات سب دین میں ڈھل چکے ہوں اور وہ اللہ کی غلامی مخلص الدین کی سطح پر کرنے لگیں، اس کےدو بنیادی مظاہرنماز ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا ہے اور یہی دین القیمۃ ہے اور یہی اللہ کے نزدیک قابل قبول ہے۔
أَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ (الزمر: ۳) جان لو دین خالص ہی اللہ کے لیے ہے۔
وَلَہُ الدینُ وَاصِباً (النحل: ۵۲) اور دائمی طور پر اسی کے لیے الدین ہے۔
اللہ تعالیٰ صرف دین خالص ہی کو قبول کرے گا اور اسی کو ہمیشگی اور دوام ہے، وہ اپنے رسولوں کو مبعوث فرماتا ہے، وہ پورے طور پر الدین القیم کے حامل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے رسولوں کے درمیان کوئی اختلاف اور تفرق نہیں ہوتا ہے، الدین القیم کا مذکورہ بالا تصور اللہ کو تمام انسانوں سے مطلوب ہے، اس میں زمانی و مکانی حدود و قیود کا کوئی دخل نہیں ہے، تمام انبیاء کو اس کی اقامت کا لازمی اور کلی حکم دیا گیا، یہ ایمان کی جڑ ہے، اس کی درستگی اور صحت کے بغیر الدین القیم کے ثمرات کا ظہور ممکن نہیں ہے،تمام بندوں کے لیے یہ شرط کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو الدین القیم اور الدین الخالص کا حامل بنائیں، اس کے بغیر اصلاح کا کوئی تصور اسلامی نہیں ہوسکتا ہے، اور یہی وہ بات ہے جو درج ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے۔
شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ اللَّہُ یَجْتَبِیْ إِلَیْہِ مَن یَشَاء ُ وَیَہْدِیْ إِلَیْہِ مَن یُنِیْبُ (شوری:۱۳ )
اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا حکم اس نے نوح ؑکو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ) اب آپ کی طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کی ہدا یت ہم ابراہیمؑ اور موسیؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف آپ انہیں دعوت دے رہے ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف مائل ہو۔
سارے انبیاء کرام نے اقامت دین کیا اور اس میں تفرق اور اختلاف نہیں کیا، اقامت دین کی سب سے پہلی سطح اقامت وجہ ہے اور اس کا طریقہ حنیفیت ہے، اس میں کسی بھی طرح کے شرک (Share)مادی، قلبی، نظری، ترجیحاتی، التفاتی اور خواہشاتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تمام حرکات و جہود کا محور صرف اللہ کی رضا کا ہونا لازمی ہے، شجرۂ طیبہ کی یہی وہ اصل ہے جو راسخ اور ثابت ہے اور کسی کے لیے اس پر قبضہ کرنا ممکن نہیں ہے، اس کا مرکز حقیقی قلب ہے، اس کی شاخیں اللہ کی رضا کے لیے آسمان میں اس کے پاس لہلہا رہی ہیں۔ مشرکین مخلصین کی ضد ہے ، بغیر مخلص بنے ہوئے شرک سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے، اور یہی اقامت دین کی اوّل اور تأسیسی سطح ہے۔ اور اقامت دین کے بقیہ مراحل اختلاف احوال سے متعلق ہیں۔ اور دین محمدی اس حوالے سے اپنا منفرد اختصاص رکھتا ہے۔
ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفَی بِاللَّہِ شَہِیْداً
(فتح: ۲۸)
اس آیت میں غلبۂ دین کی توجیہ ہدایت اور دین حق سے مربوط کی گئی ہے، رسول کی ذات بابرکت ہدایت اور دین حق کا کامل نمونہ تھی۔
حضرت اقدس ؐکے فیض یافتہ صحابۂ کرام بلا اختلاف اطاعت خالصہ کا نمونہ تھے اور ان کی ذات پر ہدایت اور دین حق کا کلی غلبہ تھا اور اسی کے نتیجے میں اللہ نے دین محمدی کو زمین کے اوپر سیاسی، مادی، روحانی غرض یہ کہ تمام غلبہ سے سرفراز فرمایا، اور یہ کلی غلبہ انبیاء کی تاریخ میں فقید المثال تھا، دین محمدی کے جیالوں نے اس وقت کی دنیا کی دو سب سے بڑی سیاسی قوتوں کو جڑ سے اکھاڑ کر ہمیشہ کے لیے زمیں بوس کردیا۔ ایک ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اس کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیاCtesiphan)) تھا اور دوسری باز نطینی سلطنت (Byzantine Empire)اس کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) تھا۔ اس طرح دین کا کلی سیاسی غلبہ ہوگیا یہاں تک کہ دین محمدی کا کوئی مدمقابل نہ رہا۔ روم و ایران کی عیسائیت و مجوسیت اور یثرب کی یہودیت پورے طور پر مغلوب ہوگئی چہار دانگ عالم میں امت مسلمہ کی تہذیب و ثقافت، علم و عمل، عدل و قسط کا غلغلہ بلند ہونے لگا اور سارے ادیان دین محمدی کے سامنے مغلوب ہوگئے فتنوں کا خاتمہ ہوگیا اور اظہار دین اپنے پورے معنوں میں رونما ہوگیا لیکن یہ ہدایت اور دین حق کا ثمرہ تھا۔ جیسے جیسے ہدایت اور دین حق میں کمی واقع ہوتی گئی اختلاف و انتشار پھیلنے لگا، اطاعت خالصہ باقی نہ رہی، اس کے نتیجے میں نصر اللہ قریب سے بعید ہوگئی، زندگی کے مختلف شعبوں سے دین کا غلبہ اٹھتا گیا، سب سے پہلے قلب و دماغ سے دین کا غلبہ ختم ہونا شروع ہوا، پھر طرز زندگی، طرز رہائش، طرز تمدن، طرز کلام، طرز معاملات، طرز ضبط و اخلاق، طرز علم و عمل،ساری چیزوں سے دین کا غلبہ ختم ہونا شروع ہوا، اس لیے بعد کی تاریخ میں دین کے ثمرات میں اسی طرح کمی واقع ہونے لگی، اور دینی غلبہ و استیلاء کے لیے ایمان مطلوب کی شرط باقی نہ رہی جو اللہ نے وَلاَ تَھِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ میں لگائی تھی۔ لہٰذا اظہار دین مطلق معنوں میں باقی نہ رہا اور ایمان مطلوب جو ہدایت اور دین حق سے مربوط ہے مضمحل ہوگیا۔ حق و باطل کے تجزیہ کا یہی مطالعہ بتاتا ہے کہ حق نے ہمیشہ صرف دو چیزوں کی بنیاد پر غلبہ پایا ہے، ایک حق کی کامل اتباع اور دوسری اس کے نتیجے میں نصر اللہ سے سرفرازی۔ پوری نمرودیت کے مقابلے میں حضرت ابراہیمؑ دین کے حق کا کامل و عملی نمونہ تھے۔ پوری فرعونیت کے سامنے حضرت موسیؑ و ہارون ؑاتباع حق کا کامل نمونہ تھے۔ اللہ نے حق کی اتباع اور اپنی نصرت سے فرعون کو اس کی پوری شان وشوکت کے ساتھ بحراحمرRedSea))میںغرق کردیا۔ غزوۂ بدر میں بھی مسلمانوں نے اتباع حق کامل اور نصر اللہ سے فتح حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے نبی آپ اہل ایمان کو قتال پر ابھاریے، اگر تم میں سے بیس مؤمن صابر ہوں تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر ایسے ہی سو مؤمن ہوں تو وہ کافروں میں سے ہزار آدمیوں پر غالب رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تم سے تخفیف کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو مؤمن صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ (انفال:40-44)
گروہ حق کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ پورے طور پر اطاعت خالصہ کا ثبوت دے اور کسی بھی سطح پر باطل سے سمجھوتہ نہ کرے، حق اگر کسی بھی سطح پر باطل سے سمجھوتہ کرے گا تو وہ اسی لمحے اللہ کی نصرت سے محروم ہوجائے گا اور اللہ کی نصرت سے محروم ہونے کے بعد وہ کبھی غلبہ نہیں پاسکتا۔ حق کسی بھی حالت میں شرک کو برداشت نہیں کرسکتا اللہ نے فرمایا۔
اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں اور وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرسکتا ہو، اور اہل ایمان کو تو بس اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (آل عمران: ۱۶۰)
امت مسلمہ کے عروج کی آخری سطح محمدی سطح ہے، اس سے اوپر عروج کی کوئی سطح نہیں، خلافت راشدہ ہی دین کی علامت ہے، اور یہی امت مسلمہ کا ماڈل ہے ۔ خلافت بنو امیہ خلافت عباسیہ اور دیگر خلافتیں امت مسلمہ کے تدریجی زوال و فساد کی تاریخ ہے، اس میں پیداشدہ تہذیب و تمدن اور ثقافت و اقدار امت مسلمہ کی تباہیوں کا نمونہ ہیں۔ ان حالات میں علماء حق کا طرز عمل حکومت الٰہیہ اور اقامت دین کی کیا تصویر پیش کرتا ہے؟ مشہور واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام مالکؒ سے اپنے بیٹے کو تعلیم و تربیت دینے کے لیے کہا اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی، لیکن امام مالک نے کہا کہ اگر آپ کو تعلیم دلوانی ہے تو اپنے بچوں کو درس عام میں بھیجئے وہاں آکر وہ عام طلبۂ علم کی صفوں میں بیٹھیں، ہارون نے کہا کہ آپ ان کے لیے کوئی مخصوص جگہ مقرر کردیجیے لیکن امام مالک نے انکار کیا۔ اس طرح کے واقعات سے اسلامی تاریخ کے اوراق بھرے ہوئے ہیں، یہ واقعات بتاتے ہیں کہ فہم دین کی درست تعبیر کیا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میںامام مالک کو حکمت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا تاکہ شہزادوں کی دینی تعلیم و تربیت کے بعد خلافت اسلامیہ کو اس کی اصل شکل میں واپس لانے کے لیے مدد ملتی۔ لیکن یہ نہایت ناقص فہم ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی تاریخ میں بعض لوگوں نے تعزیرات اسلام کو غلبۂ دین سے تعبیر کردیا۔ امام مالک یہ سمجھتے تھے کہ ہدایت قلب پر اترتی ہے، اس میں جبر نہیں ہوسکتا، معاشرہ فرد سے بنتا ہے، فرد کے اندر جب تک غلبۂ دین نہیں ہوگا دینی معاشرہ نہیں تشکیل پاسکتا۔ آدمی کا ذہن، اس کی سوچ، اس کے خیالات، اس کے اطوار و اقدار،اس کی صبح و شام، سب پر غلبۂ دین کا ہونا ضروری ہے یہاں تک کہ صحابۂ کرام کا عکس نظر آنے لگے۔ بعد کے حکمرانوں نے اللہ کے ہزاروں احکام کو توڑا لیکن استحکام کے لیےLaw & order)) ان لوگوں نے قرآنی رکھا۔ نفاذ اسلام، حکومت الٰہیہ، اقامت دین اور اس طرح کی دیگر اصطلاحیں صرف تعزیرات اسلام کو کنٹرول کرسکتی ہیں، اس کے علاوہ دین کے نوے فیصد حصے پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے اور مطلوب اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا ہے، کیونکہ دینی معاشرہ غلبۂ ایمان چاہتا ہے اور ایمان کوجبراً نافذ کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ حالانکہ غلبۂ ایمان ہی دراصل غلبۂ دین ہے، اور اس کا مرکز فرد کا قلب ہے، غالباً غلبۂ دین کی یہی وہ تفہیم ہے جو حکمراں اور حکومت کے مقابلے میں علماء حق کا طرز عمل چودہ سو سال کے دوران بتا رہا ہے، غلبۂ دین کی روح یہ ہے کہ مؤمن اپنے نفس، اپنے غضب، اپنی خواہش، اپنی تمام حرکات و سکنات پر دین کو غالب کرے اور کسی بھی حالت میں باطل کے آگے نہ جھکے، باطل کا غلبہ یہ ہے کہ انسان باطل کے آگے جھک جائے اور باطل کی شکست یہ ہے کہ آدمی باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کردے یہی باطل کی شکست ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو ایک حدیث میں افضل جہاد کہا گیا ہے، اس کے لیے اپنی عزت، مال، جان، جہان سب کچھ قربان کردینے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہی اسلام کی چوٹی ہے۔ اللہ نے فرمایا: میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے (مجادلہ) کبھی کوئی نبی باطل کے سامنے نہیں جھکا، یہی ان کی فتح ہے۔ اور باطل نے ہمیشہ سر جھکایا ہے، یہی اس کی شکست ہے؛ فرعون مرتے وقت مغلوب ہوگیا اور حضرت ابراہیمؑ آگ میں جاکر غالب ہوگئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *