ظلم کی ایک اور کہانی

دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں جو لوگ پکڑے جاتے ہیں اور برسوں جیل میں بند رہنے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں، ان کا مستقبل کیا ہے؟ برطانیہ میں اس قسم کا قانون موجود ہے کہ اگر کسی شخص کو مقدمے میں ماخوذ کیا جائے اور الزام ثابت نہ ہونے پر اسے چھوڑ دیا جائے تو Malicious Prosecutionکا مقدمہ قائم کر سکتا ہے۔ ہندوستان میں بظاہر اس قسم کا کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ ہے تو خالص انسانی مسئلہ لیکن سنگ دل حکومتیں اس قسم کی کسی تلافی کی بات سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔جو تنظیمیں مظلوموں کی پیروی کے لیے مصروف عمل ہیں ان کوچاہیے کہ وہ الگ سے ایک شعبہ قائم کرے جو صرف اس مسئلہ کا جائزہ لے کہ حکومت کے خلاف استغاثہ دائر کرنے کے کیا امکانات ہیں۔ مزید یہ کہ اس قسم کا قانون بنانے کے لیے تحریک شروع کی جائے۔ حالات اس قدر مایوس کن ہیں کہ کوئی امید تو نظر نہیں آتی ہے پھر بھی قانون کے ماہرین سرجوڑ کر کوئی راہ نکالیں۔
یہ تذکرہ ایک ایسے شخص کی بپتا کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا جا رہا ہے جو آٹھ سال تک جیل میں بند رہنے کے بعد رہا ہوا اور جس نے قید خانہ میں رہتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے عدالت کے ذریعہ یہ اجازت حاصل کی تھی کہ وایوا کا امتحان دینے کے لیے وہ پولیس کی نگرانی میں پونے یونیورسٹی جائیں۔ ڈاکٹر انور علی جاوید علی خان کی عمر اس وقت 47سال ہے۔ وہ نیشنل ڈیفنس اکاڈمی کے شعبہ اردو میں لکچرر تھے۔ 11مئی 2003کو انہیں گرفتار کیا گیا اور اس کے ایک دن بعد ان کی ملازمت ختم کر دی گئی۔ شبہ یہ تھا کہ وہ ملنڈ (ممبئی) کے بم دھماکوں میں ملوث تھے۔ بعد میں انہیں گھاٹ کوپرؔ اور ولے پارلے کے دھماکوں میں بھی پھانس دیا گیا۔
گھاٹ کوپر والے مقدمہ میں 4مارچ2004کو انہیں پوٹا کے اسپیشل جج نے اس بنا پر چھوڑ دیا کہ ڈاکٹر خان اور ان کے آٹھ دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی کافی بنیاد نہیں ہے۔ خود استغاثہ کی طرف سے اعتراف کیا گیا کہ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی کافی بنیاد نہیں ہے یہاں سے ایک اور موڑ آیا۔ رہا ہوتے ہی انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔ ان کو ولے پارلے اور ملنڈ کے دھماکوں کے کیس میں پھانسا گیا۔ اس کے بعد یہ مقدمہ طول پکڑتا رہا ۔ پھر وہ 28فروری2011کو ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس سے پہلے انہوں نے خود ضمانت کی درخواستیں تحریر کی تھیں۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ میں اپنا کیس جانتا تھا اور اس بات سے بھی واقف تھا کہ میں اس کے بے بنیاد ہونے کی بات ثابت کر سکتا تھا۔ ظلم کی ایک اور کہانی جیل میں اپنے طویل قیام کو ناقابل فراموش بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اب بھی عدلیہ پر اعتماد ہے لیکن ملازمت ملنے کے امکانات اب تاریک ہیں۔ دہشت گردی کے معاملہ سے تعلق کی وجہ سے مجھے اردو لکچرر کی نوکری نہیں مل سکتی۔ اب میں اور میری فیملی جس میں تین بچے اور میری ماں ہیں کسی نہ کسی طرح ٹیوشن وغیرہ سے گزر بسر کر رہی ہے۔ انہوں نے ’’تیس دن میں اردو‘‘ سیکھنے سے متعلق جو کتاب لکھی ہے وہ بہت مقبول ہے۔ اس کا تیسرا ایڈیشن نکل چکا ہے اور اس کی مانگ اس قدر زیادہ ہے کہ امریکہ تک سے آرڈر آتے ہیں۔ ڈاکٹر انور علی کو پڑھانے میں بہت مزہ آتا ہے اور ضمانت کی درخواستیں تیار کرنے کے بھی وہ ماہر ہیں۔ جیل میں بے شمار حوالاتی ان سےضمانت کی درخواست لکھایا کرتے تھے۔ نیشنل ڈیفنس اکاڈمی میں اردو لیکچر کی حیثیت سے عارضی طور پر ان کا تقرر 1996میں ہوا تھا۔ 2003تک سب ٹھیک ٹھاک چلتا رہا۔ پھر کچھ پولیس والے انکے گھر پر آئے اور کہا کہ وہ ممبئی پہنچیں۔9مئی کو وہ ممبئی پہنچے تو کئی گھنٹہ ان سے پوچھ گچھ ہوئی۔ پولیس نے ان کے وکیل سے کہا کہ وہ جائیں۔ اس کے بعد پولیس نے 11مئی کو انہیں گرفتار کیا۔ ڈاکٹر انور خان اور ایک اور شخص ثاقب ناچنؔ نے جس کی رہائی دس سال بعد ہوئی تھی فیصلہ کیا تھا کہ قانونی امداد کا ایک شعبہ قائم کیا جائے۔ اسی سلسلہ میں تین میٹنگیں ہوئیں جن کو یہ سمجھا گیا کہ بم دھماکے کرنے کی سازش ہوئی تھی۔ ڈاکٹر انور نے لکھنؤ کے علامہ محوی صدیقی کے تنقیدی جائزہ پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا ہے۔ مقدمہ میں کوئی الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر انور کی پونے پولیس کے سامنے ہر پندرہ دن پر حاضری دینا ہوتی ہے۔ اس سے قبل ڈیڑھ سال تک ان کو روزانہ حاضری دینا ہوتی تھی۔ دھاندلی اور ظلم کی بے شمار اس قسم کی کہانیاں موجود ہیں جن سے ایک بات بہر حال ثابت ہوئی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا عرصہ حیات کس طرح تنگ سے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *