مظفر نگر المیہ- نہ سمجھوگے تو مٹ جائوگے۔؟

گذشتہ مہینہ کے آخر میں یوپی کے ضلع مظفر نگر اور شاملی میں ظلم وبربریت کا جو خونیں رقص ہوا اسکی کچھ تفصیل اخبارات میںشائع ہوچکی ہے۔وہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ہر انصاف پسند انسان کے لئے حددرجہ المناک اور دل دہلانے والا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جان و مال کا نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مثلاً مقتولین کی کل تعداد سرکاری حوالہ سے ۶۴ تک پہونچتی ہے جبکہ غیر سرکاری طور پر یہ تعداد دو سو سے کم نہیں ہے۔ نقل مکانی کرنے والے کم وبیش پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو تا حال اپنے گھروں کو واپس ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، اس سے وہ بری طرح ہیبت زدہ ہیں۔ ان کے لئے یہ ماننے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ آئندہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ دوسری تعداد ان لوگوں کی ہے جو ان حالات کے عینی اور معتبر گواہ ہیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ ان کے پڑوس میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اور جو کچھ ہوا ہے وہ ان کے ساتھ نہیں ہوگا (اس کا کوئی بھروسہ نہیں)۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمیشہ کے پڑوسی ہی بلاوجہ ان کا خون بہانے والے اور مکان جلانے والے ہوں گے۔ پناہ گزینوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیںجو اچانک پیش آنے والی مصیبت میں تن بتقدیر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایسے قریبی دیہات و قصبات میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ دیگر بہت سی تنظیموں کی طرح وحدت اسلامی نے بھی اظہار ہمدردی اور پرسش احوال کے لئے ایک وفد ان مقامات پر بھیجاجہاں لوگ ہزاروں کی تعداد میں کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ چھ افراد پر مشتمل یہ وفدتھانہ بھون، شاملی، کاندھلہ، جولہ ، شاہ پور بسی اور مظفر نگر گیا۔ کیمپوں کے ذمہ داروں سے ضروریات و مسائل پر گفتگو کی اور جاننا چاہا کہ مصیبت کی ان ساعتوں میں کیا خدمات انجام دی جاسکتی ہیں۔ ذمہ داروں کے ساتھ جاکر کیمپوں میں متاثرین سےبراہ راست گفتگو بھی کی گئی۔ عمر رسیدہ لوگوں سے لے کر معصوم بچوں اور ستم رسیدہ عورتوں سےان کی زبانی تفصیلات جاننے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچے کہ جو کچھ اخباروں میں شائع ہوا ہے ، جانی و مالی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے، اور شرپسندوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم وزیادتی کی ہے وہ حد درجہ قابل مذمت ہے ۔ اس بہیمانہ رویہ کے خلاف نہ صرف مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پا یا جا رہا ہے بلکہ ہر انصاف پسند انسان کے نزدیک قابلِ احتجاج ہے۔
ظلم وستم کی اس کہانی کو تفصیل سے بیان کرنے کے لئے سیکڑوں صفحات درکار ہیں۔ اس سلسلہ میں متعدد رپورٹیں شائع ہو چکی ہیں جن سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ سطور ذیل میں ہم چند خاص نکات پر توجہ دلانا چاہتے ہیں۔
…………………………………………………………………………………….

مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں کے حالیہ مسلم کُش فسادات منصوبہ بند تھے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کو انجام دیا گیا ہے۔ اس سازش میں سنگھ پریوار کے لیڈروں اور ان سے متاثر بعض افسران نے بنیادی کردار انجام دیا ہے۔ اگر دیانت داری کے ساتھ تفتیش کی جائے تو مجرموں کی نشاندہی اور ان کو سزا دلانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ مسٹر شندےؔ نے ایک اعلان کے ذریعہ اس حقیقت کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر داخلہ ہوتے ہوئے انہوں نے خود کو ایک نجومی کی طرح پیشین گوئی کرنے اور ایک تماشائی کی طرح حالات کو دیکھتے رہنے تک محدود رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ جہاں جہاں بی جے پی حکومت نہیں ہے وہاں فرقہ وارانہ فساد ات ہوں گے۔یعنی یہ بات کسی خاص شہر اور ضلع تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے مختلف مقامات پر ایسے مسلم کُش فسادات ہونے کا نہ صرف خدشہ پایا جاتا ہے بلکہ ان کی منصوبہ بندی بھی ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ماضی میں ہونے والے ایسے سنگین واقعات کی طرح ہیں جو الیکشن کے پس منظر میں رونما ہوا کرتے ہیں۔
اس سلسلہ میں یو پی کی ریاستی حکومت کو بھی بری الذمّہ قرار دینا مشکل ہے۔ حالانکہ اس پر نہ صرف مسلمانوں کی حمایت بلکہ خوشامد والی سرکار ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ کسی بھی حکومت کے پاس اتنی طاقت تو ہوتی ہی ہے کہ وہ شرپسند عناصر کی ہر وقت سرکوبی کرسکے۔ اگر بروقت ایسے اقدامات کئے جائیں تو دو دن کے اندر کسی شہر اور ضلع میں فسادی عناصر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود حالات بگڑنے اور ان پر قابو نہ پانے کا صاف مطلب ہے کہ حکومت یا تو بطور حکمت عملی ایسا ہونے دے رہی ہےیا اس کی انتظامیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مجرمانہ تغافل میں مبتلا ہے۔حالانکہ حالات بے قابو ہونے کے بعد جتنی طاقت استعمال کی جاتی ہے اس سے کم طاقت اگر امن برقرار رکھنے کے کام میں لائی جائے تو حالات کو خراب ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مظفر نگر اور اس کے اطراف میں ایسا نہیں ہو سکا ۔ ہمارے نزدیک یہاں جو کچھ بھی ہوا اسے دنگا فساد کہنا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ یہ کمزور اور قلیل التعداد مسلمانوں پر منصوبہ بند حملے تھےجو خاص طور پر ایک مخصوص ہندو برادری کے شرپسندوں نے کئے ہیں! جن لوگوں پر حملے کئے گئے ان کا قصور اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ کمزور تھےاور مسلمان تھے۔ جنہیں نہ صرف جانی و مالی نقصان پہونچایا گیا بلکہ ان کی عزت و آبرو کو بھی پامال کیا گیا۔ وہ مقابلہ آرائی کی ہمت بھی نہیں رکھتے تھے۔ وہ حملہ آوروں کے کمزور پڑوسی تھے اور ان کا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔ستم بالائے ستم یہ کہ یہ وحشیانہ حملے قانون کی رکھوالی کرنے والے پولیس محکمے کی سرپرستی میں ہوئے۔ پولیس کا عملہ جن لوگوں کے تحفظ کے لئے بھیجا گیا تھا ان کا قتل عام پولیس کی بے جا حمایت اور تعصب کے سایہ میں ہوتا رہا۔ گویا انہیں کمزور اور قلیل التعداد لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے بجائے ظالموں اور قاتلوں کی حفاظت و نگرانی کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بعض افسرا ن نے بطور عُذر اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہم صرف حکم دے سکتے ہیں، اگر اس کی تعمیل نہ کی جائے تو ہم کیا کریں۔ اس کی تائید اس واقعہ سے تو ہوتی ہے کہ جہاں یہ سب کچھ ہوا وہاں جس برادری کی اکثریت ہے اسی برادری کے لوگ بکثرت پولیس میں موجود ہیںاور ان کا برادری بندی کا تعصب جانا پہچانا ہے۔ مگر افسران کا یہ عُذر اس وقت عذرِ گناہ بدتر از گناہ ہو جاتا ہے جب وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف کیا ہوا؟ کیا پولیس کا محکمہ اس لئے ہوتا ہے کہ جب فرائض کی انجام دہی کا موقعہ آئے تو وہ حکم عدولی اور نمک حرامی پر اتر آئے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے؟ بابری مسجد کی شہادت کے وقت بھی علانیہ حکم عدولی کی گئی تھی۔ یعنی ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔ مگر یہ سوال اب تک جواب طلب ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور حکم عدولی کرنے والوں کو کیا سزا ملی اور نہیںتو کیوں؟
سب جانتے ہیں کہ پولیس کا محکمہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا عوام کے تحفظ اور قانون اور نظم و نسق (Law and Order)سے سیدھا تعلق ہے۔ اگر وہ ہی بے کرداری اور بے جا تعصب کا شکار ہوجائے اورحکومت اس کو درست نہ کرسکے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ یا تو وہ حکومت نا اہل ہے یا ان خرابیوں کی ذمہ دار اور شریک ہے۔ بحالاتِ موجودہ یہ بات بھی حددرجہ قابلِ توجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کسی بھی برادری کا تناسب ایک حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یوپی کے پولیس محکمہ میں جاٹ، یادو اور پسماندہ (ہریجن) کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ایک برادری کے پولیس ملازمین کو ان کے اپنے علاقوں میں نہ رکھا جائے۔ مگر مظفر نگر علاقہ میں اس وقت اسی برادری کے لوگ جمع کردئےگئے تھے جس کا وہاں پہلے سے دبدبہ مانا جاتاہے۔
…………………………………………………………………………………….
اسی کے ساتھ مظفرنگر انتظامیہ کے افسران کی سب سے بڑی غلطی مہا پنچایت منعقد کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اس پنچایت کے بلانے والوں اور اس میں شریک ہونے والوں کے تیور اور ارادے پوشیدہ نہیں تھے۔ ان کی اشتعال انگیزی اور فساد پسندی کے شواہد آج بھی محفوظ ہیں۔ اخباروں میں شائع شدہ خبروں اور تصاویر سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے ارادے جارحانہ تھے۔ شریک ہونے والوں کی بڑی تعداد مسلح تھی اور وہ اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے پنچایت میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے۔ دوسری طرف ضلع سہارنپور میں V.H.P.نے دیوبند کے پاس دھرم سنسد کے نام پر ہندؤوں کو جمع کرنے کا اسی تاریخ میں پروگرام بنا رکھا تھا مگر یہاںپر انتظامیہ نے سختی کے ساتھ پابندی عائد کرکے اشوک سنگھل کو واپس جانے پر مجبور کردیا اور اس طرح ایک بڑا خطرہ ٹل گیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مظفر نگر میں مہا پنچایت کے لئے منظوری دے دی گئی؟ان سب معاملات کی گہرائی سے تفتیش ہونی چاہیے اور اس مجرمانہ تغافل کی سزا دی جانی چاہیے۔
…………………………………………………………………………………….
خود کو قومی پریس کہنے والا ہندی اخبارات کا ایک بڑا حصہ ایسے موقعوں پر ’’ہندو پریس‘‘ بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تشویشناک حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ صحافت کا کام صحیح صورتِ حال سے باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو غلط اور گمراہ کن خبروں سے بچانا بھی ہے مگر حالیہ فساد اور بدامنی کے موقعہ پر بعض اخباروں کی شرارت آمیز رپورٹنگ سے یہ غلط تاثر دیا گیا کہ سب کچھ جانسٹھ کے قریب قوال قصبہ میں چھیڑ خانی کے ایک واقعہ کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ اس معاملہ کو جس طرح اچھالا گیا ہےوہ خلافِ حقیقت ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا قتل مسلمان لڑکے کا ہوا، اس کے بعد دوہندو لڑکوں کا قتل ہوا۔ مگر واقعہ کی تشہیر اس طرح کی گئی کہ مسلمانوں نے خواہ مخواہ بے عزتی کی اور دو بے خطا نوجوانوں کو قتل کردیا۔ علاوہ ازیں اس سے پہلے جس طرح مسلمانوں کو زدوکوب کرنے، داڑھی کاٹنے اور چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دینے کے تکلیف دہ واقعات پیش آچکے تھے ان سے دانستہ صرفِ نظر کیا گیا۔ تشدد بھڑکانے میں ایک ایسی C.D.کو دکھاکر بڑا کام لیا گیا جس کا کوئی تعلق نہ صرف مظفر نگر بلکہ ہندوستان ہی سے نہیں تھا۔ مگر اس کو down loadکرکے موبائل فون کے ذریعہ گاؤں گاؤں دکھایا گیااور اس سے ایسی فضا بنائی گئی کہ مسلمانوں نے اس علاقہ میں یہ سب کچھ کیا ہے۔ بعد میں پولیس نے تفتیش کے بعد اس کی تردید کی اور اس شخص کا پتہ بتا نے والے کو ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اس سلسلہ میں بعض لوگوں کو نامزد بھی کیا گیا۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب مسلمانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوچکا تھا یعنی نفرت و اشتعال کی آگ میں پچاس سے زائد دیہات جل چکے تھےاور وہاں کے مسلمان باشندے نقل مکانی پر مجبور کردئے گئے تھے۔دینک جاگرنؔ اور امر اجالاؔ جیسے کثیر الاشاعت اخباروں سے پوچھا جانا چاہیےکہ ان موقعوں میں حالات کو بگڑنے سے روکنے کے لئے انہوں نے صحافتی ذمہ داریوں کو کیوں محسوس نہیں کیا۔ دوسرا غلط تاثراخبارات کی طرف سے یہ دیا گیا کہ جاٹوں کی مہاپنچایت میں شریک ہونے والوں پر حملے کئے گئے اور اس کے نتیجہ میں اشتعال پھیل گیا۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ مہاپنچایت کا بلایا جانا ایک سازش کے تحت تھا اور اس میں شریک ہونے والوں کے ارادے اور انداز جارحانہ تھے۔ ان کی ایک بڑی تعداد مسلح ہوکر پنچایت میں پہونچی تھی اور دانستہ وہاں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں تاکہ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہوکر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے۔
…………………………………………………………………………………….

سب کچھ ہوجانے کے بعد فرقہ وارانہ خیر سگالی کی باتوں سے روکا تو نہیں جانا چاہیے مگر اتنا احساس تو ہونا ہی چاہیے کہ ’’ہر چہ دانا کند ،کندناداں لیک بعد ازخرابیِ بسیار‘‘۔ ہونے والے نقصان کی پوری طرح تلافی تو ممکن نہیں ہے مگر جس حدتک ممکن ہو اس کی کوشش میں کمی نہ کی جائے۔ ہزاروں لوگوں کو اپنے شہر اور ضلع میں کیمپوںمیں زندگی گذارنے پر نہ تو مجبورکیا جاسکتا ہے نہ ایسا ممکن ہے۔ اس وقت خوردونوش کا اہتمام ایمانی رشتۂ اخوت کے فیضان سے ہورہا ہے۔ ریاستی حکومت بھی حصہ لے رہی ہے۔ صفائی اور صحت کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں اور ان کا خیال بھی رکھا جارہا ہے۔ مگر اہم تر دو مسئلے ہیں جن کا فوری حل نکلنا چاہیے۔ پہلا مسئلہ پناہ گزینوں کی باز آبادکاری کا ہےجس میں رہائش کے ساتھ ذرائع معاش کا حصول بھی شامل ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ انصاف کے حصول کا ہے۔ جن ملزموں کو نامزد کیا گیا ہے ان کی گرفتاری کو مشکل بلکہ محال بنایا جارہا ہے۔ مستقبل میں شکایت کرنے والوں کو ڈرانے ، دھمکانے اور اذیت پہونچانے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ پولیس تفتیش صحیح طورپر ہوپائے گی یا نہیں؟ ان ساری پیجیدگیوں کو دور کرنےمیں حکومت اور سماج کے با اثر لوگوں کے کردار کا شفاف ہونا ضروری ہے۔ بے قصور لوگوں کو پھنسانا غلط ہے، وہیں قصور واروں کو بچانے کی کوشش بھی ناقابلِ قبول ہے۔ اس سلسلہ میں ایسے وکیلوں کی بھی خدمات درکار ہیںجو قانونی مہارت کے ساتھ ساتھ مظلومین سے دلی ہمدردی رکھتے ہوں۔
…………………………………………………………………………………….

ہر بڑے فساد کے بعد تحقیق ہوتی ہے۔ حیران کن انکشافات ہوتے ہیں۔ بعض اقدامات بھی زیر عمل آتے ہیں۔ مگر کمزوروںاور خاص طورپر مسلمانوں پر ظلم ستم جاری رہتاہے اور ظلم ڈھانے والوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہو پاتی۔ فساد مخالف بل ابھی تک پیش بھی نہیں ہو سکا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ ظالموں کے حوصلے اور ارادے خطرناک حدود تک بڑھتے جارہے ہیں۔ کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ اس میں ملک اور ملک کے شہریوں کا کوئی حقیقی فائدہ ہے۔ ہاں ان عناصر کی حوصلہ افزائی ضرور ہو رہی ہے جن کا کل سرمایہ مسلمانوں سے نفرت اور اسلام سے بے زاری ہے اور جن کے پاس قوم پرستی کے جارحانہ تصور کے علاوہ کوئی مثبت نظریہ اور پیغام نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا؟! اس کے نتائج کہاں تک پہونچائیں گے؟! لہذا اس ذہنیت کی تبدیلی اور اصلاح کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت بھی ہے کہ ملک کی دوسری بڑی آبادی میں محرومیت اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا رہے گا تو اسے کہاں تک لے جائے گا؟ کروڑوں افراد اپنے جان و مال اور عزت و آبرو کی بربادی کو تماشائی بن کر دیکھتے رہیں گے، یہ سوچنا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *