وحدتِ اسلامی ہند

کسی بھی تحریک اور جماعت کو اس سوال کا شافی جواب دینا پڑتا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے ؟اور کیوں چاہتی ہے؟ اسی لئے وحدتِ اسلامی اور اس سے وابستہ افراد کو یہ سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس کا مقصد اور نصب العین کیا ہے ؟ وہ کیا کرنا چاہتی ہے اور کیوں کرنا چاہتی ہے؟ فی الوقت وہ کیا کام انجام دینا چاہتی ہے اور اس کے کام کرنے کے اصول کیا ہیں؟ یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات ہیں جن کو سامنے رکھ کر حسبِ ذیل سطور قلم بند کی جا رہی ہیں ہم توقع کرتے ہیں وحدتِ اسلامی کو سمجھنے میں یہ کوشش معین ہوگی اگرچہ یہ لازم نہیں کہ اس کو پڑھنے کے بعد مزید سوالات پیدا نہ ہوں اور مزید وضاحت کی ضرورت نہ رہے تاہم اجمالی تعارف تفصیلی تعارف حاصل کرنے کے لئے مفید و معاون رہے گا۔ اللہ کرے ہمارا یہ خیا ل درست ثابت ہو ۔ آمین
دنیا کے مختلف گوشوں میں اسلامی تحریکات مصروفِ عمل ہیں ، اور اسلام کے دین برحق و دین کامل ہونے پر یقین رکھنے والے اللہ کے بندے مقدور بھر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مصروف ہیں ۔ زمان و مکان اور احوال و ظروف کے اختلاف کے باوجود جس طرح سارے عالم کے مسلمان ایک امت ہیں ان کا عقید ہ ایک ہے ، ان کا دین ایک ہے۔ اسی نسبت سے اس کے قیام ، اس کی اشاعت و دعوت کا کام کرنے والوں میں بنیادی طور پر مناسبت اور مماثلت پائی جاتی ہے اور پائی جانی چاہئے ۔
وحدتِ اسلامی ہند اپنی تنگ دامنی کے باوجود ایک اسلامی تحریک ہے اس لئے اسے جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلامی تحریک کیا ہے اور اس کے امتیازات کیا ہیں ؟ اس کے بغیر کسی بھی دینی تحریک کی طرح وحدتِ اسلامی کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا لاحاصل اور غیر مفید ہوگا۔
تمہید
اللہ کا نازل کردہ دین اسلام، ایک محکم اور جامع عقیدہ (کلمہ طیبہ) پر مبنی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک شریعت اور مکمل قانون بھی ہے جس کے مطابق ایک نظامِ حیات تشکیل پاتا ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے دین و شریعت کے اس مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے۔ یہ دین انسانیت کی ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے اس کی اساس کتاب الٰہی (قرآن کریم) اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہے اس کے مقابل کسی کو بھی رہنمائی اور قانون سازی کا حق حاصل نہیں ہے۔ زندگی کی گوناگوں ضروریات کے لئے تفصیلی ضابطہ سازی کا حق انسان کو ان ہی حدود تک حاصل ہے جو اللہ نے متعین فرمادی ہیں یعنی اللہ ربّ العزت جس طرح تمام کائنات کا خالق، معبودبرحق اور پالنہار ہے اسی طرح وہ احکم الحاکمین ، مطاع مطلق اورمالک الملک بھی ہے۔
عزت و ذلت موت و حیات، نفع و ضرر سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اس دنیا میں عدل کے قیام اور امن و سکون کے لئے بھی لازم ہے کہ خدا وند کریم کے دکھائے ہوئے سیدھے راستہ پر چلا جائے اور اسکی ہدایت کے مطابق زندگی گزاری جائے اس کے مقابل کسی کو حکمرانی کا حق نہیں ہے نہ ہی کسی کو یہ اختیار ہے کہ وہ انسانوں کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی مرضی اور رہنمائی کے خلاف اپنی مرضی اور رہنمائی کا پابند بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے جو نبی اور رسول بھیجے اور جو کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ان کے تحت زندگی گزارنے میں ہی آخرت کی فلاح اور دنیاوی زندگی کی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔ یہی یقین ، یہی فکر اور یہی رویہ اور پیغام، اوریہی دعوت ہے جس کو لے کر اٹھنے والے قافلوں کا نام تحریکاتِ اسلامی ہے، جو مشرق و مغرب میں مختلف ناموں سے بتوکل علی اللہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پس منظر
ہندوستان میں وحدتِ اسلامی کے زیرِ عنوان تحریکِ اسلامی کا ایک قافلہ ان حالات میں تشکیل پایا جب دنیا میں مغربی استعمار ایک نئے عالمی نظام (New World Order)کے پردے میں اناولاغیری کا اعلان کر رہا تھا اس کے مقابل اشتراکی استعمار (Leftist Power)دم توڑ چکا تھا ۔ بڑے بڑے ممالک امریکہ کی ظاہری قوت و شوکت کے سامنے سرنگوں ہو چکے تھے۔ انہیں اسی میں امن و عافیت اور ترقی نظر آ رہی تھی کہ وہ خود کو اس عالمی استعمار کی مرضی کے تابع کر دیں اور اس نئے عالمی استحصالی نظام کا ایک حصہ بن جائیں۔ بد قسمتی سے دنیا کی دوسری بڑی آبادی اور وسیع حدود اربعہ رکھنے والے ہندوستان کا بر سرِ اقتدار طبقہ بھی اس نئی غلامانہ صف بندی میں شامل ہو گیا تھا۔ اشتراکیت کی طبعی موت کے بعد اس نے بھی امریکی سامراجیت کے سامنے خود کو اسی طرح پیش کر دیا تھا جس طرح اس سے پہلے روسی سامراج سے وابستہ کر رکھا تھا۔ امن عالم اور انسانیت کو باربار برباد کرنے والا مغربی استعمار موقع پرست سیاست دانوں کی نظر میں اب امن عالم کا پاسبان تھا جو بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ اب دنیا یک قطبی ((Unipolar Worldہے۔ مشرق خصوصاً مسلم دنیا کو تاراج کرنے کی جارحانہ مہم جوئی کے درمیان اس نے یہ بھی کہا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یعنی جسے زندہ رہنا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
ملکی تناظر
وطن عزیز ہندوستان میں ہندو سامراج کے خواب دیکھنے والے عناصر بھی اب وہی بولی بول رہے تھے جو طاقت کے نشے میں بدمست لوگ بولا کرتے ہیں۔ ان کے لئے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ ہندتو اور ہندوستان کو ہم معنیٰ قرار دینے والے جھوٹ کو سچ ثابت کر دکھائیں۔ اب ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی کا نعرہ ماضی کے پردوں میں چھپ کر اجنبی بن چکا تھا انہیں گاندھی کا گجرات ہی نہیں پورا ہندوستان پٹیل اور مودی کا گجرات بنانے کا منصوبہ تکمیل کو پہنچتا نظر آ رہا تھا۔ اس کے لئے پورے ۷ برس (۸۶ ۱۹ءسے ۱۹۹۲ء تک) ایسی خونی سازش رچی جاتی رہی جس کے تحت ہندوستان کی جمہوریت، اس کا دستور، متحدہ ہندوستانی قومیت، قانون و انصاف اور سیکولر زم سب کے معنی و مفہوم بدل کر رکھ دئیے گئے تھے برابر کا درجہ شہریت رکھنے والے مسلمانوں کو باور کرایا جا رہا تھا کہ انہیں اکثریت کی مرضی کا تابع بن کر رہنا ہوگا۔ ان کی مذہبی آزادی ان کے شہری حقوق، یعنی انہیں اپنا سب کچھ اکثریت کی انا اور فخر و غرور کے قدموں میں ڈال دینا پڑیگا۔ اس کی سب سے بڑی علامت رام مندر کے نام پر چلائی جانے والی مہم تھی۔ ایسی گھناؤنی سازش جس کی مثال جمہوریت اور دستور کے سائے تلے کہیں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی اس سازش نے پورے ماحول کو نفرت و اشتعال سے بھر دیا تھا اس کے تحت بھیانک فسادات ہوئے اور جان و مال کی زبردست بربادی ہوئی اور اس کے نتیجے میں ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کو بابری مسجد کی شہادت کا المیہ پیش آیا۔ ملت اسلامیہ ہند پر مایوسی اور خوف کا اندھیرا چھا گیااور یہ سب کچھ دن دہاڑے قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں ہوا۔
اس سانحہ کے بعدمسلمانوں، ان کی تنظیموں اور مذہبی و سیاسی قیادت پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ایسا لگا کہ ان کا کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کا عقیدہ اور فکر بھی دشمنوں کی زد پر ہے۔ بابری مسجد کے تحفظ کی تحریک کی ناکامی میں ان کی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا بھی بڑا دخل تھا۔ ان کی لیڈر شپ کے غلط اندازوں اور ناقابل اعتبار سہاروں پر اعتبار ، نیز باہمی انتشار سبھی کچھ اس میں شامل تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے جس بودے پن اور سطح بینی کا مظاہرہ کیا اس نے خاص طور پر حوصلوں کو پست کر دیا۔ وہ بابری مسجد کی شہادت کو دیکھتے رہے اور کچھ نہ کر سکے۔ اس کے باوجود ہزاروں بے گناہ مسلمان شہید کر دئیے گئے۔ ملک کے بعض حصوں خاص طور پر گجرات میں ہندو سامراج کے حامیوں نے وحشت و بربریت کا جو مظاہرہ کیا اس نے مسلمانوں کو ایک ایسے بیابان میں لا کھڑا کر دیا جس میں چاروں طرف سراب ہی سراب تھا۔ حالات کی خرابی صرف سیاسی حدود تک نہیں تھی بلکہ فکری اور اخلاقی زوال بھی آخری حدوں تک پہونچتا نظر آرہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ساری نظریاتی بنیادیں معدوم ہو چکی ہیں ۔
وقت کا طاغوت امریکہ اور اس کے حمایتی جب چاہیں اور جہاں چاہیں ہم پر اپنی مرضی مسلط کر سکتے ہیں۔ بچی کچھی جو اصطلاحات زبانوں پر رقص کر رہی ہیں ان کے معنیٰ اور مفہوم بھی تبدیل ہو چکے ہیں اب مردوں کی غیرت ،عورتوں کی حیا اور رشتوں کے احترام کے کوئی مستقل معنیٰ باقی نہیں رہے ہیں۔ عالمی استعمار اپنی من چاہی تشریحات اور تعبیرات جب بھی پیش کریگا پیشہ ور صحافی اور دانشور قرطاس و قلم لیکر تائید کے لئے حاضر ہو جائیں گے ۔نوبت یہاں تک پہونچ رہی تھی کہ قرآن و سنت کی واضح ہدایات کے برخلاف دین اسلام کی گمراہ کن تعریفات وضع کی جانے لگیں۔
مغرب نے اپنے مکروہ سیاسی عزائم اور اپنی آبرو باختہ تہذیب کو جاری و نافذ کرنے کے لئے عالمی سطح پر اسلام کے خلاف تشہیری جنگ (propaganda war)تیز کردی اور اسے جیتنے کے لئے ایسے مسلمان دانشوروں کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں جو وہ سب کچھ کہہ اور کر سکتے ہیں جو اسلام کا کوئی بدترین دشمن ہی کر سکتا ہے۔
وحدت اسلامی کا قیام
مذکورہ افسوس ناک حالات میں وحدت اسلامی کے نام سے ایک چھوٹا سا قافلہ اعلاء کلمۃ اللہ کے نصب العین کے لئے میدانِ عمل میں اترا۔ افرادی قوت اور اسباب و وسائل کے اعتبار سے اس قافلہ کو ناقابل ذکر قرار دیا جا سکتا ہے مگر جو لوگ ایمان کی قوت، عقیدہ کی پختگی اور فکرو عمل کی استقامت سے واقف ہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہو سکتے ۔ دنیا میں براہِ راست انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی میں جتنی تحریکیں اٹھیں اور سلسلہ نبوت کے اختتام کو پہنچنے کے بعد یعنی پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے بعد ان کی امت میں اصلاحی انقلاب یا انقلابی اصلاح کے لئے جتنے منظّم اقدامات عمل میں آئے وہ سب اپنے آغاز میں افراد و اسباب کی قلت سے دوچار تھے۔
وحدتِ اسلامی کے قافلہ میں شامل لوگوں کو اپنی بے بضاعتی اور اس کام کی عظمت کا پورا احساس ہے۔ یہ کہنا تو کجا یہ خیال کرنا بھی حد درجہ نا سمجھی ہوگی کہ غلبہ و احیائے دین یعنی اعلاء کلمۃ اللہ کے عظیم نصب العین کا حق ادا کرنا ہم جیسے لوگوں کے بس کی بات ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ یہ کام کبھی فرشتوں کے سپرد نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی حضور خاتم النبیینؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ جس کی راست رہنمائی میں اس کارِ عظیم کو انجام دیا جا سکے۔
حالات کی ناسازگاری بھی اس راہ کی سنت رہی ہے۔ ہمیشہ مخالفتوں کے ہجوم ہی میں اس فریضہ کی ادائیگی کی جاتی رہی ہے۔ خدائے علیم و قدیر کی ذات بابرکات پر توکل حق پرستی کے پر پیچ اور دشوار گذار سفر کی اصل زادِراہ ہے۔ اس کی تائید و نصرت کی امید ہی بے سرو سامانیوں کے ہجوم میں سب سے بڑا سامان ہے ۔ یعنی :
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند بہار ہو کہ خزاں لاالہ الااللہ
اس فریضہ کی ادائیگی کبھی بھی حالات کی سازگاری سے مشروط نہیں رہی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملکی اور عالمی حالات سازگار نہیں ہیں وحدت اسلامی نے فکری وعملی استقامت کا راستہ منتخب کیا ہے اور وہ اس پر راضی و مطمئن ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب، اسلام ہی ہمارا دین اور حضور خاتم النبیین رحمۃلّلعلمین ہمارے ہادی و رہبر ہیں۔ قرآن ہی ہمارا دستور حیات ہے۔ باطل سے نبردآزمائی ہی ہمارا مستقل شیوہ ہے اور ہمارا ہر فیصلہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا پابند ہے۔ اخروی فلاح و نجات اور دنیا کی سرفرازی کا حصول صرف اور صرف الٰہی ہدایت کی بجا آوری سے ممکن ہے۔
فکری بنیادیں
ہم نہ تو ملوکیت و آمریت کے قائل ہیں اور نہ ہی مغربی جمہوریت کے حامی ہیں ہمارے معاملات اصول شورائیت اور امیر کی اطاعت فی المعروف کے دائرے میں انجام پاتے ہیں۔ اسلامی خلافت کا قیام ہمارا حتمی ہدف ہے۔ اور بندگی رب کی دعوت، حق کی شہادت، دین اسلام کی اقامت یعنی اعلاء کلمۃ اللہ ہمارا نصب العین ہے۔ ہمارے پیش نظر دین کا کوئی جز و نہیں بلکہ کل دین یعنی بلاکم و کاست پورے کا پورا اسلام ہے اس کی دعوت و اشاعت اور اس کی شریعت کا نفاذ اس کا غلبہ و قیام اس کی بالا دستی ہمارا مطمح نظر ہے ہم اس حقیقت کا ادراک بھی رکھتے ہیں کہ تحریک اسلامی کی کامیابی مختلف ذمہ داریوں کی ادائیگی کا نتیجہ اور انعام ہے اور یہ تحریک متعدد مرحلوں سے گذرکر ہی کامیابی کی منزل تک پہنچا کرتی ہے۔ اس راہ میں صدق ایمانی، دعوتی تڑپ، عملی استقامت ، آہ سحر گاہی، جہاد و ہجرت کی صبر آزمائی، نالۂ نیم شبی کم و بیش سب ہی سے واسطہ پڑتا ہے۔
چند اہم نکتے
٭ ہمارے نزدیک کامیابی اور فلاح کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں لازماً اقتدار حاصل ہو جائے۔ اقتدار ہمارا مقصود اصلی نہیں ہے بلکہ مقصود اصلی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمارے ہر کام کا اصل مقصود اور محرک اللہ کی رضا اور فلاح آخرت کا حصول ہے۔
٭ اصولاً جملہ اسلامی تحریکات کے خطاب کا دائرہ پوری انسانیت کو محیط ہے اور کسی بھی حال میں اس تخاطب کو کسی قوم ، برادری یا طبقہ تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور نہ کیا جانا چاہئے۔
٭ اسلام ایک آفاقی دین ہے اس کی دعوت کو کسی ایک طبقے علاقے یا نسل کے لئے خاص نہیں کیا جا سکتا۔ سب کا رب ایک ہے۔ اس کا دین، اس کی دعوت سب کے لئے ہے جس کو کوئی بھی قبول کر سکتا ہے۔ مگر ترتیب کار کے لحاظ سے اوّل اوّل ہر نبی اور اس کی دعوت کا خطاب عملاً کسی خاص خطہ اور قوم تک رہا ہے، اس لئے ہم پہلے سے موجود امت مسلمہ کو اپنا مخاطب اوّل ٹھہراتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی جدو جہد کو اسی خطہ تک محدود رکھتے ہیں جہاں تک سیاسی سرحدیں تبدیل نہیں ہوتیں۔
٭ اللہ کے دین برحق کے صحیح تعارف اور اسکی وضاحت کے لئے لازم ہے کہ اس پر ایمان رکھنے والے اپنے قول و عمل سے اس کے گواہ بن کر اٹھیں۔ محض دلیلوں کی روشنی میں کسی دعوت کو سمجھنے والے لوگ ہمیشہ بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ دنیا پہلے اس کے ماننے والوں کے کردارو گفتار کو دیکھ کرہی کوئی مثبت یا منفی رائے قائم کیا کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تا تومحض آسمانی کتابوں کا نزول کافی ہوتا ۔نبیوں اور رسولوں کی بعثت اور ان کے اعوان و انصاران کے صحابہ اور حواریوں کی چنداں ضرورت نہ پڑتی۔ آج مسلمانوں کے معاملات اور ان کا معاشرہ ہی سب سے بڑھ کر اسلام کا صحیح یا غلط تعارف کرا رہا ہے۔ یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ تمام نبیوں کی بعثت دو طرح کے حالات میں ہوئی ہے یا تو پہلے سے مسلمان امت موجود تھی، مگر زوال و ضلال میں مبتلا تھی جیسے بنی اسرائیل میں نبی پے بہ پے مبعوث ہوتے رہے یا حالت یہ رہی کہ نبی ایسی قوم میں مبعوث ہوئے جو کھلم کھلا کفر و شرک کی حالت میں تھی جیسے سیّدنا ابراہیم ؑ اور رسول خاتم علیہ السلام ۔اس دوسری صورت میں اوّل اوّل مسلمانوں سے خطاب کا سوال ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ پہلی صورت میں ہر نبی اور رسول کے اوّل مخاطبین پہلے سے موجود مسلمان یا بگڑے ہوئے مسلمان ہی رہے ہیں۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے وحدتِ اسلامی اپنا مخاطب اوّل امت مسلمہ یعنی مسلمانوں کو قرار دیتی ہے۔ جب کہ اصولی طور پر سارے انسان اور ان کا ہر طبقہ ہمارا مخاطب ہے۔ اور دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے ہم اپنے ملک اور پوری دنیا سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔
ترتیب اہداف
اپنے مرحلہ وار کام اور اہداف کے حصول میں وحدتِ اسلامی کے سامنے ایک ترتیب ہے اور ہونی چاہئے۔ ناگزیر ضرورت کے وقت یہ ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، لیکن ہم وقتی و ہنگامی مسائل میں الجھ کر رہ جانا ہرگز صحیح نہیں سمجھتے۔ وقتی ضروریات اور رد عمل تک خود کو محدود کرنے والی تنظیمیں اور تحریکیں جتنی چاہے زور آور اور اثر انداز ہوتی نظر آتی ہوں، لیکن ان کے مستقل او ر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوا کرتے وقتی ردِ عمل کے طور پر نمودار ہونے والی تحریکات وقت گزرنے کے ساتھ ہی اپنی تاثیر اور معنویت کھو بیٹھتی ہیں، اس لئے محکم عقیدہ اور مثبت فکر کی روشنی میں کام کرنا ہی ہمارے نزدیک درست اور نتیجہ خیز ہے۔ جذباتی انداز دیکھنے میں جتنا چاہے شاندار ہو محاسبہ کی ترازو میں اس کا وزن برائے نام ہی رہ جاتا ہے۔ ہم ہر گز ہرگز صالح جذبات کی نفی نہیں کر رہے ہیں کیوں کہ یقین کے ساتھ عمل پیہم کی نعمت صالح جذبات کے ذریعہ ہی پروان چڑھتی ہے ۔ اس وضاحت سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی اور اپنے ساتھ چلنے والوں کی تربیت اور تزکیہ کو ترجیحات میں سب سے پہلا مقام دیتے ہیں اور یہ بھی کہ تزکیہ و تربیت کا کوئی رسمی اور محدود تصور ہمارے پیش نظر نہیں ہے، بلکہ ایسا جامع اور معیاری تصور کا حامل تزکیہ ہے جس کے درجۂ کمال تک پہنچنے کی ہمیشہ کوشش رہا کرتی ہے اور جس کا نمونہ نبوت کے فیضان سے اصحاب کرام و اہل بیت عظام اور صلحائے امت میں ہمیں نظر آتا ہے۔
متوسلین وحدت کے نام
وحدتِ اسلامی اپنے ذمہ داران او ر معاونین کو جس بات کا پابند بنانا چاہتی ہے وہ اسلامی اجتماعیت کے وہ اصول اور ان کے تقاضے ہیں جن سے ہماری تنظیمیں اور جماعتیں ایک عرصہ سے محروم ہوتی چلی آرہی ہیں۔ مثلاً دینی فرائض اور عباداتِ مکتوبہ یعنی ارکان اسلام (نماز، زکوۃ، روزہ اور حج) کو ہی لے لیجئے اور مسلمانوں کی بڑی بڑی شاندار تنظیموں کو دیکھ لیجئے۔ ان کے وابستگان ہی نہیں ذمہ داران تک عملاً ان کے پابند نظر نہیں آتے، کیوں کہ مسلمانوں کی تنظیموں نے یہ لازم نہیں رکھا کہ وہ فرض عبادات اور حرام و حلال کی حدود و قیود کے پابند ہوں۔
ہمارے نزدیک اسلامی اجتماعیت کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ بااعتبار عقیدہ اسلام کے ماننے والوں پر مشتمل ہو بلکہ اسکی پوری ہیئت اجتماعی اسلامی احکامات و ہدایات پر قائم ہونی چاہئے۔ کسی دینی تحریک اور تنظیم کا عقیدہ ، اس کا مقصد اور نصب العین خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ سے ماخوذ ہونا ضروری ہے۔ اس کی مثال مسجد اور نماز کی سی ہے۔ بظاہر مسجد ایک عمارت ہی ہوتی ہے اور اسی سامان سے بنتی ہے جس سے دوسرے مکان بنا کرتے ہیں، مگر جو شرائط ایک مسجد کے لئے لازم ہیں ان کی پابندی ہی مسجد کو مسجد بناتی ہے، مثلاً اس کا اقامت صلوٰۃ کے لئے خاص ہونا اس کا قبلہ رو ہونا اور دیگر شرعی ضروریات کا پورا ہونا وغیرہ وغیرہ۔
بعض ضروریات اور حالات کو بہانہ بنا کر من مانے طریقے اختیار کرنا ہمارے نزدیک ہر گز جائز اور درست نہیں ہے، ہم اپنے کاموں کی انجام دہی کے طریقوں میں اسی حد تک تبدیلی کر سکتے ہیں جس کی اجازت اللہ کے دین میں موجود ہو۔ علاوہ ازیں جو کچھ ہے وہ فکری اور عملی انحراف کی طرف لے جانے والا ہے اگرچہ بظاہر نفع بخش اور خوب تر نظر آتا ہو ہمارے نزدیک کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ راضی ہو جائے چاہے دنیا والے ناراض ہو جائیں۔ ہماری تحریک دنیاوی برتری اور فوری مفادات کے حصول کو اصل کامیابی نہیں سمجھتی یہ صرف اسی حال میں خوش آئند ہے جب فلاح آخرت کے حصول کے منافی نہ ہو۔ رضائے خداوندی کے مقصد کو نقصان پہونچا کر دنیا کی کامیابی حاصل کرنا ایسی تجارت ہے جس میں مسلمان کا خسارہ ہے۔ اور ہم اس خسارہ سے بچنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے سارے کاموں میں للہیت کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اخلاص نیت ہی وہ جوہر ہے جو اعمال کی قدروقیمت متعین کرتا ہے ارشادِ نبویؐ ہے (انماالاعمال بالنیات) اسلئے ہم وحدت سے وابستگی کا آغاز اس اعلان سے کرتے ہیں جس کی تعلیم فرمان خدا وندی کے ذریعہ دی گئی ہے۔ یعنی تجدید شہادت اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ ۔اور۔ انّ صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للّٰہ ربّ العلمین۔
ہم وحدت (کے حلقہ بیعت) میں شامل ہونے والے ہر شخص سے یہ عہدلیتے ہیں کہ وہ محض اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کے حصول کے لئے احکام شریعت کی حتی المقدور پابندی کریگا اوروعدہ لیتے ہیں کہ معروف میں امیر کی اطاعت کریگا اور وہ تحریک اسلامی (یعنی وحدت اسلامی) سے مخلصانہ تعاون کرتا رہیگا۔ ہم توبہ استغفار کرتے رہنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ اپنے گناہوں کو بخشوانے کے لئے اپنے رب کے حضور توبہ و انا بت کا نذرانہ پیش کرتا رہے۔ اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے کام کی بنیاد کیا ہے اور اعلاء کلمۃ اللہ کو اپنا نصب العین قرار دینے والی تحریک (وحدت اسلامی) حقیقتاً کیا چاہتی ہے؟
ترجیحات
وحدت اسلامی مسلم معاشرہ میں اصلاح اور غیر مسلموں تک بندگی ٔرب کی دعوت دونوں کاموں کو ضروری سمجھتی ہے۔ ہمارا نقطہ نظر نہ تو یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح ہو جائے اس کے بعد عام انسانوں کو دعوت دی جائے۔ نا ہی اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ غیر مسلموں میں دعوت کے کام کے علاوہ کسی اور دینی کام کو ترجیح نہ دی جائے جیسا کہ بعض حلقوں میں دعوتی کام کی اہمیت کو حد سے زیادہ بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، حتی کہ اس شوق میں بعض ایسے طور طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں جن میں شرعاً و عقلاً اشکالات نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً بعض ایسی کتابوں کو آسمانی کتابیں تسلیم کر لیا جاتا ہے جن کے بارے میں ان کے حاملین کا بھی یہ دعویٰ نہیں ہے۔ اس بات کا امکان تو ضرور ہے کہ ہندوستان میں بھی خدا کے پیغمبر مبعوث ہوئے ہوں گے، مگر بحالت موجودہ کسی شخص خاص کی نبوت اور کسی کتاب کے منزل من اللہ ہونے کو بطور واقعہ تسلیم کرنا ایک بے جا جسارت ہی ہوسکتا ہے۔
بہر کیف ہمیں مسلم معاشرہ میں اصلاح کا کام ہو یا غیر مسلموں میں دعوت کا کام دونوں کی ضرورت اور اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک بھی رہنا چاہئے کہ کوئی ایک تنظیم یا ادارہ اکیلے اس ذمہ داری کو پوری طرح انجام نہیں دے سکتا۔ اور فی الحال امت میں کوئی ایسی مرکزیت بھی نہیں پائی جاتی جو تقسیم کار کے طور پر کسی کے سپرد کوئی کام کردے اور باقی سب لو گ اس سے تعاون کریں، لہٰذا کسی جماعت اور ادارے کو یہ حق نہیں پہونچتا کہ ازخود کسی بڑی ذمہ داری کو اپنے لئے خاص کرکے بیٹھ جائے۔ درایں حالات یہ دونوں کام تعاون علی البروالتقوی کے تحت ہی انجام دئیے جانے چاہیے۔ اور دینی تحریکات اور اداروں کو ان معاملات میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اگر ایسا نہ ہوا تو دعوت و اصلاح کا شور تو بلند ہوتا رہیگا، مگر اس کا حق ادا نہ ہو سکے گا۔ وحدتِ اسلامی مقدور بھر دونوں کام کرنا تو چاہتی ہے اور ایک حد تک کر بھی رہی ہے، مگر اس کی مدعی نہیں ہے کہ وہ دعوت و اصلاح کا کوئی ایسا کارنامہ انجام دے رہی ہے جو اس کے سوا کوئی اور نہیں کر رہا ہے۔
طاغوت سے مزاحمت
باطل قوتوں کے ارادوں اور منصوبوں کو سمجھنا اور ان سے مزاحمت کرنا بھی ہمارے نزدیک حد درجہ ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ایک بڑی تعداد اس معاملہ میں خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ مسلمانوں کی رہنمائی کے متعدد دعویدار ایسے معاملات ومسائل میں اس وقت زبان کھولتے ہیں جب خاموشی ان کے اپنے وقار اور مفاد کے منافی نظر آتی ہے ایسے موقعوں پر وہ اپنا رد عمل تو ظاہر کرتے ہیں، مگر مستقل جدو جہد سے الگ رہتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر یہ کمزوری نمایاں طور پر سامنے آچکی ہے۔ وحدت اسلامی دینی شعائر کے تعلق سے ملت کو حساس و بیدار کرنا چاہتی ہے اور مستقل و مثبت رویہ کی قائل ہے۔ اپنی محدود افرادی قوت اور وسائل و اسباب کی کمی کے باوجود حتی المقدور یہ کوشش کرتی ہے کہ اسلامی شعائر کے تحفظ اور تقدس کے لئے مسلمانوں کی دینی و سیاسی قیادت منصوبہ بند جدو جہد کرے اور بلا خوف لومۃ لائم (کسی کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر)اپنی ذمہ داری انجام دے۔ اس سلسلہ میں ہم اپنا مد مقابل کسی قوم اور فرقہ کو نہیں سمجھتے، بلکہ ان افراد اور تنظیموں کو سمجھتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی رکھتے ہیں۔ مسلم دشمن تنظیموں کو پہچاننا چنداں مشکل نہیں ہے۔ البتہ اس ذہنیت کے حامل لوگ بڑی تعداد میں حکومت اور انتظامیہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اور ان سیاسی جماعتوں میں بھی موجود ہیں جو خود کو مسلمانوں کا ہمدرد اور مذہبی غیر جانب دار ہونے کے ساتھ وطنی قومیت کے نظریہ کی حامل قرار دیتی ہیں ۔ حالانکہ ان کی ہمدردیوں اور خوشنما وعدوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ملت کے نام ایک پیغام
ہم ملت اسلامی کو یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ وہ صرف اپنے حقوق کی بازیابی اور تحفظ تک خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ اپنے فرض منصبی کو بھی یاد رکھیں ہم دوسری قوموں اور فرقوں کی طرح نہیں ہیں،بلکہ انسانیت کی خیر خواہی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے ہمیں کمر بستہ رہنا چاہئے۔ ہماری سوچ اور ارادے ہمارے منصوبے اور اہداف ان قوموں جیسے نہیں ہونے چاہئیں جو صرف اپنے لئے سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر انسانیت کو دینے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا ہم جہاں بھی رہتے ہوں اپنے قریبی معاشرہ میں ہمارا تعارف انسانیت کے خیر خواہ اور عدل و انصاف کے حامیوں کی حیثیت میں ہونا چاہئے۔ اسلئے ظلم و استحصال اور فحاشی و عریانیت اور انسانی و طبقاتی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانا بھی ہمارے اہداف کی فہرست میں شامل ہے اور رہنا چاہئے ہم ان نظریات کو بھی مسترد کرتے ہیں جو انسانیت کو نسل پرستی ، قوم پرستی اور علاقائی عصبیت کے حصاروں میں مقید رکھتے ہیں۔
اتحاد بین المسلمین
ملت اسلامیہ کے لئے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی اور طاغوتی طاقتوں سے حفاظت و دفاع کے لئے ایمان کے بعد جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اسکا نام اتحادبین المسلمین ہے۔ یعنی یہ دعوت اور دفاع دونوں کا اوّلین تقاضہ ہے اور ایک خدا کی بندگی بجا لانے والی امت اپنی ذمہ داریوں سے اسی وقت صحیح طور پر عہدہ برا ہو سکتی ہے جب وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مربوط ہو۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمین کی تمنا رکھنے والے ہی اس کے تقاضوں سے بڑی حد تک غافل اور نا آشنا ہیں۔ ایک خدا ایک رسولؐ اور ایک کتاب پر ایمان رکھنے اور ایک ہی مرکزِ توحید کی طرف منھ کرکے نماز پڑھنے والی امت مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ آج دین کے نام پر مسلکوں کی تبلیغ ہوتی ہے۔ فرقہ بندی اور ذات برادری کی تقسیم ہماری پہچان بن گئی ہے حالانکہ احیائے اسلام کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ امت مسلمہ اخوت ایمانی کے مقدس رشتہ سے خود کو منسلک نہ کرلے۔ وحدت اسلامی اس حقیقت سے نہ صرف خود آشنا ہے بلکہ پوری امت کو آشنا کرانا چاہتی ہے۔ جب تک مسلکوں کو دین پر اور جماعتوں کو امت پر ترجیح دی جاتی رہے گی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں کو پرورش کیا جاتا رہے گا اور جب تک وعظ و تبلیغ کے نام پر محراب ومنبر سے تفریق بین المسلمین کا کاروبار جاری رہے گا، جب تک صرف اپنی جماعت کے برسرحق ہونے کا ڈھول بجتا رہے گا، اتحاد بین المسلمین کی تمنا پوری نہ ہو سکے گی۔ علمی اور تعبیری اختلافات اور ان کے حدود کی تعیین و تفہیم کرائے بغیر امت کو اس کے مقام و مرتبہ پر فائز نہیں کرایا جا سکتا۔ جب تک کتاب اللہ اور سنت رسول کو فکرو عمل کی اساس نہیں بنایا جائیگا اور جب تک اپنے بزرگوں سے عقیدت وارادت کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت و تعلق کے تابع نہیں کیا جائے گا ہم بنیان مرصوص بن کر شیطان اور اس کی ذریت کی راہ نہیں روک سکیں گے۔ اس لئے ہم نہ صرف وحدت اسلامی کے وابستگان میں بلکہ امت مسلمہ میں یہ شعور بیدار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس معاملہ میں تفرقہ میں نہ پڑیں۔ اسلام کی سربلندی کا راز ایمان و اتحاد میں مضمر ہے۔ اس لئے اٹھو اور سارے امتیازات و اختلافات کو پس پشت ڈال کر ،غالیانہ عقیدتوں اور جاہلانہ عصبیتوں کے بتوں کو توڑ کرنا قابل شکست امت واحدہ بن جاؤ۔
واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعاً و لا تفرقوا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *