وجود امت کی واحد راہ

امت مسلمہ کا وجود خطرے میں ہے۔ آج ملکی و بین الاقوامی حالات پر نگاہ ڈالیے تو صاف نظر آئے گا کہ طاغوتی و شیطانی قوتیں امت مسلمہ کے خلاف متحدہ محاذ بنا چکی ہیں اور چارو ں طرف سے گھیر رہی ہیں۔ ہمیں ذلیل و خوار کرنے اور ہمارے وجود کو مٹانے کے لیے ہر حربے آزما رہی ہیں۔ وہ مغرب کی سامراجیت ہو ،اسرائیل کی صہیونیت ہو یا ہندتو کا فاشزم ہو۔
کہیں تو وہ آمنے سامنے برسر پیکار ہیں جیسے افغانستان اور عراق میں۔ جھوٹے جواز کے سہارے فوج کشی کر چکی ہیں۔ اور ان دو ملکوں کو تباہ و برباد کرنے اور وہاں کے معدنی ذخائر کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ اور وہاں سے جانے کے بعد بھی وہاں امت مسلمہ میں نفاق و تفرقہ کا ایسا بیج بو کر گئی ہیں جس کی فصل یہ ممالک صدیوں کاٹتے رہیں گے۔ عراق میں روزانہ بم دھماکوں میں ہزاروں ہلاکتیں اور افغانستان اور پاکستان میںطالبان اور حکومتوں میں آگ و خون کی کشمکش،شام اور مصر میں نا م نہاد مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار کر دینا، مصر میں محمد مرسی کی جمہوری حکومت کوفوجی بغاوت کے ذریعہ تاراج کر دینا اور خانہ جنگی کے اسباب پیدا کردینا اور میانمار میں بودھوں کے ذریعہ مسلمانوں کا قتل عام۔
ہندوستان میں ہندو فسطائیت اور صہیونیت کا در پردہ گٹھ جوڑ،گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے موذی درندہ کو ہیرو کی طرح پیش کرنا، بلکہ ملک کے آئندہ وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنا(جو ان شاء اللہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے والا) ذرا تصور کیجئے یہ حالات امت مسلمہ کے لیے کس قیامت کا پیش خیمہ ہیں۔ کچھ تو وقوع پذیر ہو چکی ہیں اورکچھ ہونے والی ہیں۔ اور ہم ہیں کہ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم دنیا کی زندگی میں ایسے بد مست ہیں کہ حالات پر بھی نگاہ رکھنے کی فرصت نہیں ہے، آخرت اور خداکو فراموش کر چکے ہیں۔ اگر فکر ہے تو معیار زندگی بلند کرنے کی۔ اگر معیار زندگی بلند ہو بھی گیاتو کتنے دنوں تک چلنے والا۔۔۔
اگر ہم ہی نہ ہوں گے، تو کیا رنگ محفل
اپنے وجود و وقار کی بقا کے لیے اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ایک راہ سجھائی ہے۔ اور وہ ہماری بقا اور عزت کی واحد راہ ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:’’اے مسلمانو! سب مل کر اللہ کی رسی(قرآن) کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ ،ایک اور جگہ ارشاد ہوا: آپس میں تنازعہ نہ کرو۔۔۔ ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘ دوسری جگہ فرماتا ہے:’’جس نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اسے اپنا رب مان لیا اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے لیے نہ کوئی حزن ہے نہ غم۔‘‘ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے:’’تمہیں غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘مومن ہونے کی شرط ہے حالات کیسے بھی ہوں اگر ہم مومن ہیں۔ خدا اور اس کی کتاب سے ہمارا رشتہ مضبوط ہے تو ہمارے لیے نہ کوئی فکر ہے اور نہ کوئی غم۔ کسی حال میں ہمارا خسارہ نہیں ہے۔ فتح یاب ہوئے تو غازی ورنہ شہید۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’اگر تم نے تقوی اور صبر کے ساتھ زندگی گزاری تو یہ باطل طاقتیں تمہارا کچھ نہ بگاڑ پائیں گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *