درس و تدریس : تنقید کی کسوٹی پر خامیاں کہاں نقائص کدھر؟

علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے ہوا، پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ دین اسلام نے شروع سے ہی اشرف المخلوقات انسان کو ظلمت سے نکل کر روشنی کی اور آنے کے لیے راہنمائی کی ہے اور جب تلک مسلمانوں نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے تعلیم حاصل کی انھیں اخلاقی سطح سے لے کر میدان کارزار تک کسی نے شکست سے دور چار نہیں کیا۔ اخلاقیات کا معاملہ ہو یا پھر جنگی اصول، سماجیات کی الجھنیں ہو یا پھر معاملات کی سخت ترین آزمائشیں، حقوق العباد سے لے کر حقوق اللہ تک کی بھرپور انداز سے حق ادا کرنے میں مسلمانوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہ سب امت ِ مسلمہ کے اس تعلیمی نظام کا کمال تھا جو قرآن و سنت کی روشنی میں ترتیب پاچکا ہے۔ انسانی تاریخ سے اگر نبوت اور خلافت کا دور نکال لیا جائے تو وہاں کیا رہ جاتا ہے؟ انسانیت کو جو امن و سکون کا ماحول دین اسلام نے عملاً دکھا دیا وہ تا حال کسی دوسرے مذہب اور فکر Ideology نے فراہم نہیں کیا ہے۔ اسلام کی بنیادہی تعلیم پر ہے قرآن اور سنت رسول اللہ ﷺ علم و عمل کا ایک ایسا بیش بہا خزانہ ہے جسے اگر صحیح معنوں میں مسلمان اپنالیں گے تو پھر اُنہیں کسی دوسرے فلسفے ، نظریے اور علوم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ زندگی کے تمام شعبوں کے راز اسلامی علوم نے واکیے ہیں یہ الگ بات ہے کہ تحقیق اور غور و فکر مسلمانوں کے بجائے غیر اقوام سے وابستہ لوگ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں رائج الوقت نظام تعلیم کی خو بیوں اور خامیوں کا اگر جائزہ لیا جائے گا تو سوائے خرابی کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ بے شک موجودہ تعلیمی سسٹم نے انسان کو ظاہری ترقی سے ہمکنار کیا ہے ۔ اس کی زندگی کو تیز تر بنانے میں کلیدی رول ادا کیا ہے سائنس اور ٹیکنا لوجی کی دریا فتوں کو سامنے لاکر انسانیت کومشینوں کے تابع بنا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن اس نظام نے مقصد ِ زندگی کو ہی ختم کر دیا۔ انسان کے وجود کو پیٹ اور نفس کے ساتھ ایسے منسلک کر دیا کہ پوری زندگی نفس کی غلامی کی خاطر ہی دوڑ دھوپ کرنے میں صرف ہو جاتی ہے، حالانکہ اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے کائنات کے مالک اللہ ربّ العزت نے اپنی بندگی کے عظیم مقصد کے لیے اسے تخلیق کیا تھا۔
دنیا بھر میں موجودہ زمانے میں جو نظام تعلیم رائج ہے وہ کسی بھی حیثیت سے انسانیت کی بھلائی کا سبب نہیں بن سکتا ہے۔ اس خیال سے بظاہر بہت سارے لوگ اختلاف کرسکتے ہیں لوگ سائنس کی ترقی،طبی شعبے میں انقلاب اور انسان کا آسمان کی وسعتوں تک رسائی حاصل کرنے کو اسی تعلیمیSetup کی مہر بانیاں قرار دیںگے حالانکہ انسانی دریافتوں کی بہت پہلے سے ہی مسلمانوںکے دور میں اُس وقت بنیاد پڑ چکی تھی جب تحقیقی علوم کو ثانوی درجہ حاصل تھا۔ قرونِ اولیٰ کے اُن مسلم دانشوروں، ماہر تعلیم اور سا ئنس دانوں کو بھولا نہیں جاسکتا جن کی تصنیفات اور تجر بات کا مغرب میں ترجمہ کیا گیا اور پھر اُن کی کوششوں اور کاوشوں کو بنیاد بنا کر’’ جدید‘‘ علوم کو وجود بخشا گیا۔ مسلمان احساس کمتری میں مبتلا ہیں، اس حدتک وہ مایوس نظر آرہے ہیں کہ اُن کا دانشور طبقہ تک بلا جھجک یہ کہتا ہے کہ اگر یورپ اور مغرب نے علوم کو جدید یت کی راہ پر گامزن نہ کیا ہوتا تو انسان آج بھی پتھر کے زمانے میں ہوتا۔ یہ ایک مفر وضہ ہے، نظام تعلیم کو جس طرح کی مضبوط و مستحکم بنیاد اسلام نے فراہم کی اُس پر مغرب کے بجائے اگر مسلمانوں نے علوم و تحقیق کی عمارت تعمیر کی ہوتی تو آج دنیا مزید سو سال آگے ہوتی۔ جو سائنسی ترقی آج ہماری شرمندگی کا باعث بن رہی ہے اُس کے ذریعے سے ہم نے دنیا کو صدیوں آگے پہنچا دیا ہوتا۔ یہ ترقیاں تو ہونی ہی تھی کیونکہ قرآن مقدس میں غور و فکر کے نتیجے میں کائنات کے راز وا ہونے کا جگہ جگہ ذکر ہے۔ اب غور و فکر اگر ہم نہ کریں تو یہ راز غیروں کے ذریعے سے ہی افشا ہونا کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے۔ عقل مند اس کے ایک ایک معمے کا راز کھولنے کی اہلیت رکھتے ہیں، قرآن حکیم کی سورہ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اور اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند اور تمام تارے بھی اس کے حکم کے پابند ہیں بے شک اس میں عقل مند لوگوں کے لیے کئی نشا نیاں ہیں‘‘ (النحل:۱۲)
اس لیے یہ کہنا کہ جدید سائنسی ایجادات مغربی طرزِ تعلیم کی مرہون منت ہے سراسر غلط ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی ، طب اور دوسرے اہم شعبوں میں تحقیق و ترقی کے لیے راہیں ، اسلام نے کھولی ہیں، اُن راہوں کا انتخاب مغرب نے کیا اور نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ کنٹرول اُن کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ تعلیمی نظام کو اپنے رنگ میں رنگنے سے مغرب و غیر اقوام نے انسا نیت کی تعمیر کے اس عظیم ذریعے میں بگاڑ پیدا کر دیا۔ اسلام علم کے ذریعے سے انسا نیت پر کائنات کے راز افشا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرکے اُن کی فر ما نبر داری کا حق ادا کریں۔ مغربی نظام تعلیم نے اس کا بالکل اُلٹا کیا، انہوں نے سائنسی ترقی کے ذریعے سے انسان کو کائنات کے مالک خدائے ذو الجلال کا منکر بنا دیا۔ اللہ کی قدرت اور روزجزاوسزا سے بے خوف کرکے اُسے باغی بنا دیا۔
مشرق سے مغرب تک جو بھی نظام ہائے تعلیم رائج ہیں اُنہوں نے تعلیم کے مقصد کو ہی فوت کردیا۔ آج تعلیم حاصل کر نے کا مقصد صرف یہ بتا یا جار ہا ہے کہ انسان مادّی ترقی کرکے زندگی کی تمام تر سہولیات سے لطف اندوز ہوجائے اور موجود تعلیمی سسٹم نے انسان کو یہ مقصد پانے میں ضرور کامیاب کردیا ہے۔ اشرف المخلوقات انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابیوں پہ کامیابیاں حاصل ہوگئیں اور ترقی کے منا زل طے کرتے کرتے عیش و عشرت کا ہر سامان اسے فراہم ہوا۔ اس کے باوجود اس کی تلاش و جستجو جاری ہے۔ سکون اور اطمینان تو جیسے آدم کی اولاد سے چھن چکا ہے سب کچھ حاصل ہو جانے کے بعد انسان کو کون سی چیز جرائم، قتل و غارت گری ، لوٹ مار جیسے گھناؤنے کام کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟ یہ آئے روز ملکوں کے درمیان تنا زعے، فرقوں کے درمیان جنگ، گھر یلو تشدد، خاندانی انتشار ، عصمتوں پہ ڈاکے، کرپشن، دھو کہ دہی، لوٹ کھسوٹ اورحیوا نیت و درندگی کی خبر یں اخباروں میں شائع کیوں ہورہی ہیں؟ اگر مادّی ترقی ہی سب کچھ ہوتی، اگر سائنسی ایجا دات و انکشا فات ہی درد کا مداوا ہوتے تو پھر آج دنیا امن کا گہوار ہ ہوتی۔ یہاں نہ ہی جرائم ہوتے اور نہ ہی پولیس اور فوج کی ضرورت پڑتی لیکن یہ ایک مفروضہ تھا۔ مغربی نظام تعلیم نے انسان کو دھوکے میں رکھا۔ جس ترقی اور جن مشا ہدات و ایجات کا وہ ڈھنڈ ورا پیٹ رہا ہے وہ ہونے ہی تھے البتہ اُ ن کے اس طرز تعلیم نے انسانی سماج میں بگاڑ کا راستہ کھول دیا۔ غیر فطری اصول اور ضا بطے متعارف کرکے مسائل کو جنم دینے والے اس سسٹم نے انسانیت کو پستی اور ذلت کا شکار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ ہم جنس پرستی، Live in Relation سود، ماں کی کوکھ کرایہ پر لینے کو جائز ٹھہرا نے کو جدید یت کانام دیا گیا اور یہ دنیا میں رائج تعلیمی نظام کا ہی کمال ہے کہ پڑھے لکھے جدید جاہل دماغ ان غیر فطری ضابطوں سے نہ صرف اتفاق کرتے ہیں بلکہ ان پر عمل پیراہونے کو Modernismکا نام بھی دیتے ہیں ۔ اس بات میں دورائے نہیں ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام ہر اعتبار سے فرسودہ ہے،بھلے ہی بڑے بڑے تیس مارخان کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے کے لئے فلسفے کا ایسا پاٹھ پڑھاتے ہوں جن سے مزید الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ، دنیا کی حقیقت کو سمجھنا جتنا آسان تھا، موجود ہ زمانے کے دانشوروں اور ماہرین تعلیم نے اسے کئی گناہ مشکل بنا دیا۔مسلمان اگر اسلامی تعلیمات پر کلی طور سے عمل کرنے لگیں گے تو مغربی طرز تعلیم کو اپنا ئے بغیر ہی ترقی کی راہیں ان پر کھلنے لگیں گی۔ مغربیت کے زعم اور مفرو ضے سے نکلنے کی ضرورت ہے، اگر حقیقی معنوں میں بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو اللہ کی رضا مطلوب ہوتو پھر اُنہیں تمام طرح کی احساس کمتریوں سے نکل کر تعلیم کے اُن اصولوں اور طریقوں کو اپنا نا ہوگا جن کی طرف اسلام ہماری رہبری و رہنمائی کرتا ہے۔
دنیا میں سب سے پہلے علمی انقلاب اسلام نے بر پا کیا ہے لیکن اسلام نے جو تعلیمی نظام متعارف کرایا ہے اُس میں کسی بھی صورت میں وقت کا ضیاع نہیں ہوتا تھا۔ موجودہ تعلیمی نظام میں زندگی کے قیمتی۲۵۔ ۳۰ برس پڑھائی میں صرف ہوجاتے ہیں۔ اس نظام کو اس طرح سے وضع کیا گیا کہ پڑھائی کے اِن برسوں میں چا ہتے ہوئے بھی کوئی اور کام نہیں کیا جاسکتا، حالانکہ انسان کی مختصر زندگی میں ۳۰ سال کی عمر تک ہی بڑے بڑے کارنامے انجام دئیے جاسکتے ہیں۔ تاریخ اسلام واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں ۱۵ سے ۳۰ سال کی عمر کے دوران مسلمان نوجوانوں نے بڑے بڑے معر کے سرکیے ہیں۔ اسلام میں جہاد فرض ہے اور جنگی محا ذ پر اسی عمر میں کچھ کرکے دکھا یا جاسکتا ہے۔ دوسرے شعبوں میں بھی یہی عمر کار نامے انجام دینے کے لیے بہترین ہوتی ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں یہ عمر ایسے ضائع ہوجاتی ہے کہ انسان پڑھائی کے سوا اس دوران کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ قر ون اولیٰ کے مسلمان بھی علوم و فنون میں مہارت حاصل کرتے تھے، انہوں نے بھی بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دئیے ہیں لیکن اُن کی پڑھائی میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ ہوتی تھی ، اُن کی پڑھائی سے خاندانی ذمہ داریاں متاثر نہیں ہوتی تھیں، اُن کی پڑھائی شا دی بیاہ میں رکاوٹ نہیں بنتی تھی، وہ کبھی یہ نہیں سوچتے تھےکہ جب تک نہ نوکری مل جائے شادی نہیں کریں گے، وہ بھی اپنے اپنے شعبے میں ماہر بن جاتے تھے ، وہ بھی نئی نئی ایجادات سے عالم انسانیت کو فائدہ پہنچاتے تھے لیکن وہ خالص کتابی دنیا میں عمر ضائع نہیں کرتے تھے بلکہ عملی دنیا میں آکر علوم کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ لیتے تھے۔ آج نصف سے زیادہ عمر کتابوں کی ورق گردانی میں گزر جاتی ہے، آج کے ۹۰ فیصد علوم ایسے ہیں جن کا عملی دنیا میں انسان کو ذرہ برابر فائدہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے نظام ہائے تعلیم جو مغرب نے وضع کیے ہیں انسانی زندگی کے قیمتی ماہ وسال ضائع کر دیتے ہیں، مسلمانوں کو عالمی سطح پر تعلیم کوIslamize کرنے کے لیے ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلامی نظام تعلیم کبھی بھی اس مقصد کے لیے نہیں تھا کہ اس سے مادّی ترقی ہو جائے۔ فر د سے قوم و ملک تک کی مادّی ترقی کو علوم کے ساتھ وابستہ کرنا غیر اقوام کا طریقہ کار ہے جسے موجودہ دور کے مسلمانوں نے بھی قبول کیا ہے۔ مکّی مدنی یا خلافت راشدہ کے ادوار میں کہیں پر بھی ایسی روایت نہیں ملتی کہ کوئی مکتبہ یا پڑھائی کا کوئی ایسا طریقہ رائج کیا گیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں کو اُن لائنوںپر تیار کرتا تھا کہ وہ روز گار حاصل کرکے مادّی ترقی کریں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی ایک طول حدیث ہے جس میں پے در پے عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے ۔ عذاب الٰہی کے لیے جو وجو ہات نبی رحمت ﷺ نے بتائے ہیں اُن میں ایک یہ بھی ہے کہ’’ وتعلم لغیر الدین‘‘ یعنی ’’اورجب علم دین کو دنیا طلبی کے لیے سیکھا جانے لگے‘‘ اسلام نے تعلیم کی اہمیت خالص انسا نیت کی بھلائی و بہبودی اور دین کی سر بلندی کے لئے واضح کی ہے مسلمان تعلیم حاصل کریں تا کہ وہ خدا کی زمین پر خدا کے دین کو قائم کریں ، مسلمان جد ید علوم سے اپنے آپ کو بہر ہ مند کریں تاکہ وہ اسلامی دنیا کے خلاف رچی جانے والی ساز شوں کا مقابلہ کر سکیں، مسلمان تحقیق و تصنیف کا کام کریں تاکہ وہ اللہ تعا لیٰ کی کائنات کے راز کھول کر عام انسانوں کے ایمان کو تازگی بخش دیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کا یہ سب مقصد ہوتو پھر مسلمان کا اک اک لمحہ عبادت بن جاتا ہے، علوم حاصل کرنے کے دوران اُس کی حیثیت مجاہد فی سبیل اللہ کی سی ہوجاتی ہے، پھر چاہے وہ حفظ قرآن کے لیے گھر سے نکلا ہو یا پھر کمسٹری، فزیکس یا طب میں ڈگری پانے کے لیے اُس نے رختِ سفر باند ھا ہو۔ اگر نیت یہ سب نہ ہو بلکہ جدید اصطلاح میں کیرئیر بنانے کی ہو، ڈگری حاصل کرکے نوکری حاصل کرنے پر نظر ہو، اچھی مادّی زندگی تعلیم کا مقصد بنا لیا ہودولت مند گھرانے کا رشتہ پیش نظر ہو یا کسی بڑی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرنا ہی اپنی تعلیم کا مقصد بنا لیا ہو تو پھر غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔ جب نفس اور پیٹ کے لیے تمام تر سرگرمیاں ہوں تو محض مسلم نام کی بنا پر اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کر لینا کہاں کا انصاف ہے۔
موجودہ زمانے میں دین داری چند عبادات کا نام رہ گیاہے۔ ایک شخص نماز ،روزہ ، حج اور زکوۃ کی ادائیگی کے ساتھ ہی اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ سب اسلام کے بنیادی ارکان ضرور ہیں لیکن روئے زمین پر جو عدل و انصاف کا نظام اسلام رائج کرنا چاہتا ہے اُس کے لیے انفراد یت تو اپنی جگہ، اسلام اجتما عیت کا تقاضا کرتا ہے اور جو نظام تعلیم اس وقت ہمارے یہاں رائج ہے وہ اسی اجتماعیت پر چوٹ کرتا ہے۔ سماجی سسٹم کے تانے بانے اس نظام تعلیم نے بکھیر کر رکھ دئیے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو مادّی کے بجائے اللہ کی رضا کے خاطر حاصل کیا جائے ، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے علوم کو حاصل کیا جا ئے ۔ ملّت اسلامیہ دور حاضر میں مختلف علوم کی طرف راغب ہورہی ہے، مسلمانوں نے بھی کافی ترقی کی ہے، مسلم ممالک کے پاس بھی جدید ہتھیاروں سے لیس فوج موجود ہے، اُن کے پاس بھی میزائل ٹیکنا لو جی موجود ہے، ایٹمی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں، دوسرے علوم میں بھی نام کما رہے ہیں ترقی ہورہی ہے، افراد ی صلاحیت کے ساتھ ساتھ مادّی وسائل سے بھی اسلامی مملکتیں بھری پڑی ہیں اس لیے یہ کہنا کہ مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے ہیں صحیح نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ ایٹمی صلاحیت اور بڑی بڑی افواج کے باو جود دنیا بھر میں اُمت مسلمہ پٹ رہی ہے، ذلت ورسوائی اُن کا مقدر بن چکی ہے، خون مسلم اس حد تک بے وقعت رہ گیا ہے کہ آئے روز غیر اقوام اسلامی سلطنتوں میں گھس کر اُن کا خون بہار ہے ہیں۔۔۔۔ آخر کیوں ظاہری طاقت اور ٹیکنا لوجی کے باوجود مسلمان ممالک خوف زدہ ہیں؟ دراصل مسلمان’’وھن‘‘ کاشکار ہوچکے ہیں۔ اُن پر دنیا کی محبت کا بھوت اس قدر سوار ہوا ہے کہ یہ آخرت کو بالکل فراموش کرچکے ہیں اور یہ بیماری اُمت مسلمہ میں جدید تعلیمی نظام نے جو مغرب کادیا ہوا ہے ڈال دی۔ جب تک اسلام کے ماننے والے اپنی تعلیم کو دنیا کمانے کے بجائے خالص اسلام کے نام نہیںکریں گے، وہ زندگی کے ہر شعبے میں صرف اس غرض کے ساتھ مہارت حاصل نہیں کریںگے کہ وہ اسلام کی خدمت کریں ، تواُن کی تمام ترقی بے کار ثابت ہوگی۔ یہ کوئی تھیوری نہیں ہے بلکہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی پیشین گوئی ہے کہ جب مسلمان علوم دین کے بجائے دنیا کمانے کے لیے پڑھیں گے اُن پر ظالم و جا بر حکمران مسلط کر دئیے جائیں گے۔
اگر ہم بحیثیت مسلمان موجو دہ زمانے میں رائج نظام ہائے تعلیم کا سر سری جائزہ بھی لیں گے تو اس میں ہم کوئی ایسا معمولی سا عنصر بھی نہیں پائیں گے جس کا اسلامی نظم تقا ضا کر رہا ہوگا۔ تو ایسی صورت میں ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم اس پورے سسٹم کو بدل پائیں گے یا پھر ہمیں اسے چھوڑ کر ایسے تعلیمی نظام سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہئے۔
اپنے یہاں اگر دیکھا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے نہ ہی ہم نظام تعلیم کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی اس سے فرا ر ممکن ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ہماری ریاست مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ تمام تعلیمی اداروں میں پڑ ھانے والے مدرسین کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور پورے تعلیمی نظام میں ’’اسا تذہ‘‘ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہم یہ کرسکتے ہیں کہ تمام مسلمان اساتذہ بحیثیت مسلم اپنی ڈیوٹی ادا کریں۔ یہی دینی تنظیموں اور ملّت اسلامیہ کے لیے درد رکھنے والے دانشوران کو ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے جن میں اساتذہ کی ذہن سازی کرنے کو اپنا ہدف بنایا جائے۔ اگر اسا تذہ یہ سمجھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کیا چاہتی ہے یا اسلام کس نوعیت کے افراد تیار کرنا چاہتا ہے یا اسلام تعلیم کو کس نہج پر قائم رکھنا چاہتا ہے تو پھر اسلامی سوسا ئٹی تیار ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہاں تعلیم کو اسلامیانے کے لیے سب سے زیادہ ذمہ داری اسلام پسندوں پر آن پڑتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوتے ہوئے ٹھوس اقدا مات کیے جائیں۔ اپنی سوچ کو وسعت دے کر اس میں تمام منفی اور رکا وٹ پیدا کرنے والے خیالات کو نکال باہر کرکے مثبت اندا ز اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کشمیرکی جدو جہد جس انقلاب اور جس نظام کی متمنی ہے اُس کے لیے نظام تعلیم کی تبدیلی ضروری ہے، نظام تعلیم کو اگر ایسا ہی رہنے دیا گیا تو پھر بقول سیدّ مودودیؒ ہم تھو ڑی دیر کے لیے اسلام کے خلاف ہونے والی یلغار کا راستہ روک سکتے ہیں البتہ دیر سویر قومیں ہم پر چڑھ دوڑیں گی۔ دفاعی طرز عمل اختیار کرنے والے کبھی میدان نہیں مار لیتے ہیں بلکہ اقدامی طریقہ کار سے ہی نشا نے پائیں جاتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت مسلمان ہر سطح پر دفاعی طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔
ریاست کے تعلیمی نظام میں سدھار لانا کئی ہفتوں یا مہینوں کا کام نہیں ہے بلکہ اس میں برسوں کیا دہائیوں کا وقت درکار ہے۔ یہ کام مضامین لکھنے، تقریریں کرنے اور بحث و مباحثوں میں دھواں دار تقریریں جھاڑنے سے ہونے والا نہیں ہے بلکہ امت کا درد سمجھنے والی تنظیموں، تحریکوں، دانشوروں اور رضائے الٰہی کے لیے خدمت خلق کرنے والے NGO’S کو یہ کام پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ہاتھ میں لینا چاہیے۔ ایک مربوط اور منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے، ایسے اداروں کا قیام عمل میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں علوم پڑھانے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی ذہن سازی کرنی چاہیے کہ وہاں سے فراغت پانے والا انجینئر، ڈاکٹر، استاد، قانون دان، دانشور، سائنس دان، فوجی وغیرہ وغیرہ اسلام کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت دستیاب رکھیں۔ انشاء اللہ مستقبل ضرور اسلام کا ہے اور مسلمان پھر دنیائے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی جانب لے آنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *