پھر وہی یوم سیاہ

جس وقت ’وحدت جدید‘ کا یہ شمارہ قارئین تک پہنچے گا اس وقت ہندوستان کے کمزور اور مظلوم مسلمان بابری مسجد کی شہادت کے المیہ کو یاد کرتے ہوئے ۶؍دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہوں گے۔ ۲۱؍برس پہلے اس تاریخ کو بابری مسجد جو اپنی تعمیر کی ابتدائی سے صدیوں تک خدائے واحد کے حضور سجدوں سے آراستہ ہوتی تھی، ایک شیطانی سازش کے تحت دستور کے محافظوں اور قانون کے رکھوالوں کی سرپرستی میں دن دہاڑے منہدم کر دی گئی تھی اور یہ المناک واقعہ، جبر و ظلم کی بدترین مثال، جمہوریت کی سب سے بڑی تجربہ گاہ ہندوستان میں رو بہ عمل آئی اور اسے پورے ملک کو علانیہ دکھا گیا ۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ آنجہانی نے اس کو غنڈہ گردی کا نام دیا تھا۔ پورے ملک میں حالات حد درجہ خراب ہو گئے تھے مگر انہیں غنڈوں کوسلامتی کے ساتھ گھروں تک پہونچانے کا اہتمام بھی سرکار نے ہی کیا تھا۔اور مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ان کے سینے گولیوں سے زخمی کر دئے تھے، ہزاروں مسلمان بلا قصور شہید کر دیے گئے تھے۔ گویا؎
نہ تڑپنے کی اجازت تھی نہ فریاد کی تھی
گھُٹ کے مر جاؤں، یہ مرضی میرے صیاد کی تھی
ان حالات کے دباؤ میں اس وقت کے خطاکار وزیر اعظم نےعلانیہ یہ وعدہ کیا کہ بابری مسجد از سرِ نو تعمیر کی جائے گی مگر یہ وعدہ آج تک پورا نہ کیا جا سکا۔ تاریخی بابری مسجد جس میں مستقل نماز ادا کی جاتی رہی تھی، جو تاریخ میں کبھی متنازعہ نہیں رہی۔ بابر کے دور میں میر باقی نام کے سپہ سالار نے یہ مسجد تعمیر کرائی اور اس پر مسجد کی شہادت کے وقت تک اس کا کتبہ بزبان فارسی نصب رہا۔ بابر کے پوتےبادشاہ اکبر کے دورمیں ،جس کی ہندو نوازی مشہور ہے، تلسی داس نے رامائن تصنیف کی۔ اس میں بھی اشارۃً بھی ایسی کوئی شکایت نہیں پائی جاتی۔ اس مسجد میں ۲۲؍۲۳؍دسمبر کی درمیانی شب میں دفعۃً شرارت پسندوں نے چوری چھپے گھس کر مورتیاں رکھ دی اور دروازے پر تالا ڈال دیا۔ اس کے بعد فوری طور پر جو پولیس رپورٹ ماتا پرساد نامی ہندو کانسٹبل نے درج کرائی اس میں پانچ مرتبہ مسجد کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے لیے ضروری کارروائی کے لیے کہا گیا۔ جس کے بعد مسجد کے احترام اورحفاظت کا بندوبست ہونا چاہیے تھا اور چوری چھپے رکھی گئی مورتیوں کو وہاں سے ہٹا دیناچاہیے تھا۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مسجد کو بتوں سے پاک کرنے کےبجائےبتوں کو منبر پر رکھا رہنے دیا اور مسجد میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں مسجد کے آس پاس کے احاطہ میں بھی ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ،دروازہ پر تالا جوں کا توں پڑا رہنے دیا اور دروازہ پر مشرکانہ رسوم کی ادائیگی جاری کر دی گئی۔ یہ سب کچھ سرکار کی سرپرستی میںانتظامیہ کے ذریعہ ہوا۔ انصاف کے نام پر بے انصافی اور قانون کے نام پر لاقانونیت کا یہ پہلا حملہ تھا جو بابری مسجد پر کیا گیا تھا۔
…………………………………………………………..
ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ معاملہ آگے بڑھا ، بات عدالت تک پہنچی۔ اس کے بعد ۳۷؍برسوں تک انصاف ایڑیاں رگڑتا رہا۔ ایک مقدمہ کے کئی مقدمے بن گئے اور مقامی عدالت سے ہائی کورٹ تک پہونچ گئے۔ مگر نماز کی ادائیگی جبراًروک دی گئی اور مسجد کے دروازے پر بت پرستی کے مراسم بلا جواز ادا کیے جاتے رہے۔ اور یہ سب کچھ بھی حکومت کے زیر انتظام ہوتا رہا۔
یکم فروری ۱۹۸۶ ءکو جب کہ مقدمات الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھے، اچانک ایک غیر متعلق شخص نے فیض آباد کی عدالت میں ایک درخواست گزاری کہ بابری مسجد کا تالا کھول کر اس میں بت پرستی کی اجازت دی جائے۔ شام کے چار بجے کے قریب پیش کی جانے والی درخواست پر فریق ثانی کو سنے بغیر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانچ بجے سے پہلے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا گیا۔ جب کہ عدالتِ مذکورہ کو اس درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں تھا کیونکہ مقدمات ہائی کورٹ میں زیر غور تھے۔ تالا کھولنے کے بجائے توڑ دیا گیا اور ایک جم غفیر اشتعال انگیز نعرے لگاتا ہوا داخل ہو گیا۔ پورا تماشہ منصوبہ کے تحت ٹی وی پر دکھایا گیا۔ اس وقت ریاست اورمرکز میں اس پارٹی کی حکومت تھی جو خود کو سیکولرزم کاعلمبردار اور مسلمانوں کا محافظ قرار دیتی ہے۔ اس طرح بابری مسجد کسی قانونی جواز کے بغیر عملاً مندر میں تبدیل کر دی گئی۔ خدائے واحد کی بندگی سے یہ محرومی اور ظلم و جور کا یہ اقدام بھی ایک عدالت کے ذریعہ عمل میں آیا اور حد درجہ بے شرمی کے ساتھ اسے دنیا کو دکھایا گیا۔
…………………………………………………………..
پھر یکم فروری ۹۶ء تک یعنی سات سال تک نفرت کے شعلے بھڑکائے گئے۔ بے دلیل دعوے اور شرارت آمیز نعرے ماحول کو خراب کرتے رہے۔ شیلا پوجن اور شیلانیاس اور مسجد کی جگہ نام نہاد مندر کی تعمیر اورد وسری سیکڑوں مسجدوں کو گرانے کا شور مچایاجاتا رہا۔ یعنی رام مندر کے نام پر سیاست کی ہوس رقص کرتی رہی اور دستور و قانون کا مذاق اڑتا رہا۔ بالآخر ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء کوپولیس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی بلکہ سرکردگی میں سپریم کورٹ کے آرڈر کے بر خلاف اور ارباب حکومت کی حلفیہ یاد دہانی کے باوجود بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ سب کچھ جس طرح ہوا اس سے ثابت ہو گیا کہ دستور ہوتے ہوئے بے اثر ہے؛انصاف کے کوئی مستقل معنی نہیں ہیں؛ اور ہمارے لیےمذہبی آزادی کی حقیقت باقی نہیں ہے۔
…………………………………………………………..
بابری مسجد کے معاملے میں کس پر اور کس طرح اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ یہ ایک سنجیدہ اور اہم سوال ہے۔ چند افراد کو چھوڑ کر کون سی اجتماعیت اور کون سا ادارہ اس قابل ہے؟ دستور ایک دستاویز ہے جس کو بڑی اہمیت اورحیثیت حاصل ہے اور اس کے حوالے سے مجالسِ قانون ساز اور عدلیہ کے ایوان کام کیاکرتے ہیں۔ مگر بھولنا نہیں چاہئے کہ اصل قدر و قیمت دستور ہندکے الفاظ اور اوراق کی نہیںاس کے نفاذ کی ہے۔ مگر ایک بابری مسجد کے معاملہ میں نہیں ،مسلمانوں سے متعلق مسائل میں دستور کا نفاذ ایک معمہ ہے۔ جب چاہے مسلمانوں کی شہریت کو مشتبہ قرار دیاجاتا ہے اور دستور کی عبارت بے معنی ہو کررہ جاتی ہے۔ مسلمان دستور کے حوالہ سے شرعی قوانین کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو بنیادی حقوقFundamental Rights کا اہم باب پسِ پشت چلا جاتا ہےاور ایک رہنما اصول(یکساں سول کوڈ) جس کی حیثیت محض سفارش کی ہے آگے آ جاتا ہے۔ شراب پر پابندی کے مسئلہ پر یہ رہنما اصول یاد نہیں آتے۔ اگرمسلمان بجا طور پر آبادی کے تناسب سے تحفظ (reservation)چاہتے ہیں تو مذہب کے نام پر ریزرویشن نہ دینے کو بہانہ بنا لیا جاتا ہے حالانکہ مذہب کی بنیاد پر ہی پہلے سے ریزرویشن دیا جارہا ہے۔ ایک شیڈول کاسٹ ہندو کو ریزرویشن ملتا ہے اور وہ اگر ہندو نہ رہے، مسلمان یاعیسائی ہو جائے تو پس ماندگی کی مراعات سے محروم کر دیاجاتا ہے۔ بہر کیف ایک شہری کے لیے فی زمانہ سب سے بڑھ کر جس دستاویز کو اہمیت دی جاتی ہے، ہندوستانی مسلمانوں کے لیےوہ غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔
دوسرا ہم معاملہ پارلیمنٹ اوراسمبلیوں کا ہے جو دستور کے دائرہ میں قانون سازی کی پابند ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ اکثرو بیشتر قانون سازی مفاد و وقار کے تحت کی جاتی ہے۔ کہنے کو ہندوستان ایک فلاحی ریاست (welfare state)ہے۔ مگر عوام کے جو نمائندے قانون سازی کا اختیار رکھتے ہیں وہ نسل ،زبان اور علاقہ کی سیاست کرتے ہیں یعنی عوام کے نمائندے عوامی فلاح و بہبود کے بجائے تعصبات اور طبقاتی، علاقائی مفادات کے تحت قانون سازی کرتے ہیں۔ جہاں اصولوں کی سیاست کے بجائے ووٹوں کی سیاست کا بازار گرم ہو وہاں بابری مسجد کی بازیابی اور تعمیر نو کے مطالبہ کی حمایت کون کرے گا؟
کسی ملک کا عدلیہ ہی مظلوموں اور کمزوروں کے لیے آخری سہارا ہوتا ہے جس سے انصاف اور حق طلبی کی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ مگر اس کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے اور بابری مسجد کے معاملہ میں اب تک عدلیہ کاکردار تشویشناک حد تک پہونچا ہوا ہے۔۲۲؍۲۳؍دسمبر ۱۹۴۹ ءکو درج شدہ پولیس رپورٹ پر عدالتی حکم اگر مبنی بر انصاف ہوتا تو ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی اور مسجد کے انہدام کی نوبت نہ آتی۔ مگر اس رپورٹ پر غیر قانونی احکامات سے لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ تک جو کچھ عدالتی کارروائیوں کے نام پر ہوتا رہا ہے اس کے بعد وثوق کے ساتھ کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ ایسی ہی خلاف انصاف کارروائیوں اور فیصلوں کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔
…………………………………………………………..
ایک اور تشویشناک معاملہ نام نہاد قومی پریس کا ہے۔ بالخصوص ہندی پریس کا ایک بڑا حصہ ان معاملات میں ہندی پریس کے بجائے ’ہندو پریس‘بن جاتا ہے۔ اسی نے اب بابری مسجد کی جگہ ایودھیا تنازعہ کہنا شروع کر دیا ہے۔ بابری مسجد کا لفظ بھی جس صحافت کے گلے سے نیچے نہیں اترتا ان پر کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ بابری مسجد کی بازیابی اور تعمیر نو کے مطالبہ پر دیانتداری کے ساتھ صحافتی ذمہ داریاں پوراکر سکیں گے۔
…………………………………………………………..
بابری مسجد کی تعمیر نو کی راہ میں وہ مسلمان بھی بڑی رکاوٹ ہیں جو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں پہونچ کر مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ وہاں پہونچ کر سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اور خدمتگار بن کر رہ جاتے ہیں۔البتہ ان کے سیاسی آقا انہیں ضرورت کے وقت مسلم نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ در حقیقت ان کی حیثیت ان کرایہ کے گورکنوں جیسی ہوتی ہے جن سے مسلم مسائل کو دفن کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بولنے کے وقت اکثر خاموش رہتے ہیں اور بولتے ہیں تو مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کے لیے بولتے ہیں۔اگر کبھی کسی کی دینی حمیت اور انصاف پسندی جاگتی ہے تو اس پر مسلم دشمن عناصر یلغار شروع کر دیتے ہیں ۔ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ بابری مسجد تحریک نمائندگی کی پاداش میں سید شہاب الدین جیسے سیکولر مزاج لیڈر کو بھی ’’دوسرا مٹر جناح‘‘ کہا گیا تھا اور یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات میں عدم شرکت کے فیصلہ کو ملک سے بغاوت کے ہم معنی قرار دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس طرح کے احتجاجی اقدامات بارہا ہوتے رہتے ہیں اور ان کو جمہوریت کا حصہ سمجھ کر برداشت بھی کیاجاتا ہے۔
…………………………………………………………..
بھولنا نہیں چاہیے کہ بابری مسجد کی شہادت کا زخم اس وقت تک مندمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تعمیر نہیں ہوگی اور اس میں خدائے واحد کی بندگی کے معمولات (نماز تلاوت وغیرہ) کی ادائیگی آزادانہ نہیں ہوگی۔ اس مسئلہ پر کسی کو بھی کسی طرح کی سودے بازی کا حق حاصل نہیں ہے۔ مسلمانوں کی دینی قیادت بھی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتی ہے، اسی لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور سارے قابل ذکر دینی ادارے اور تنظیمیںاس موقف کی موید اور حامی ہیں۔ البتہ قانون دفاع کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے بڑھ کر ایک ایسی عوامی تحریک کی سخت ضرورت ہے جو مقصد کے حصول تک جاری رکھی جائے۔ ہم یہ پیش گوئی تو نہیں کر سکتے کہ یہ مقصد کب پورا ہوگا اور ہم اپنی منزل پر کب پہونچیں گے مگر یہ بتا دیناضروری ہے کہ بابری مسجد کی بازیابی اور تعمیر نو کا مطالبہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی لازم ہے۔ جس طرح بیت المقدس سے عالم اسلام دست بردار نہیں ہو سکتا؛ جس طرح صلیبی غاصبوں سے جامعہ قرطبہ کی آزادی ضروری ہے ؛اسی طرح بابری مسجد سمیت تمام غصب شدہ مساجد کی بازیابی کی جدوجہد ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی کا بوجھ ملت اسلامیہ ہند کے کاندھوں پر ہے؎
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *