حق ہمیشہ غالب آتا ہے

اسلام مخالف طاقتیں، تحریکیں اور مختلف مذہبی ،سماجی اور سیاسی فلسفے ونظریات پوری دنیا میں اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں، لیکن اسلام اللہ تعالی کی مدد و نصرت سے اور اپنی ذاتی جاذبیت اور تعلیمات کی تاثیر سے پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں۔ حکومتوں کی جانب سے اور وسائل ابلاغ کی جانب سے اور ان کو بدنام کرنے اور دنیا کو بدگمان کرنے کے لیے علمی، ثقافتی اور سیاسی وسائل اختیار کیے جا رہے ہیں ، اس سب کے باوجود ذرائع نشر و اشاعت برابر اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں برضا و رغبت بغیر کسی مادی و دنیاوی لالچ کے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔
افریقی ممالک میں عیسائی مشنریوں کے طاقتور نیٹ ورک اور عالمی طاقتوں کی چیرا دستیوں کے باوجود اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، یورپین ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر اسلام مخالف مہم اور اسلامی عمل پر پابندیوں کے باوجود وہاں کے باشندوں میں اسلام قبول کرنے کا رجحان روز افزوں ہے اور اسلام کی اس مقبولیت اور رجحان کے پس پردہ کوئی سیاسی یا مادی غرض کارفرما نہیں ہے۔ یہی صورتحال ان ایشیائی ممالک کی بھی ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، ظلم و جبر کے حالات سے دوچار ہیں اور نومسلموں کو اپنے خاندان اور ملکی انتظامیہ کی طرف سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں بڑے بڑے نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں حتی کہ شہری حقوق سے بھی محروم ہونے کا خطرہ ہے لیکن اسلام کی دولت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا عیسائی مشنریوں اور غیر مسلم تنظیموں سب کو اعتراف ہے، اپنے اور بیگانے سب اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے اور مسلمانوں کی تعداد بڑی سرعت سے بڑھتی جا رہی ہے۔ کویت سے شائع ہونے والے ایک عربی ہفت روزہ نے یہ خبر شائع کی ہے کہ ویٹیکن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے اور ایک سال میں نصرانیت کے مقابلہ میں اسلام کے ماننے والوں میں تین ملین سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، ویٹیکن کے مطابق اس کا سبب اہل مغرب کا بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہونا ہے۔ ویٹیکن نے اپنے ایک بیان میں اس کا اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب اسلام ہے، اس لیے کہ پوری دنیا میں نصرانیوں کا تناسب ساڑھے سترہ(17.5%)فیصد ہے جب کہ مسلمانوں کا تناسب انیس (19%)فیصد ہو گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں نصرانیوں، یہودیوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا ہے۔ ویٹیکن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ اٹلی کے متعدد شہروں میں ہونے والے نسل پرستانہ حملہ میں متعدد افریقی نژاد مسلمان تاجروں کی موت پر زبردست احتجاج ہو رہے ہیں۔ ہاؤس آف کامنس لائبریری نے اپنے سروے میں انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں عیسائیت گھٹ رہی ہے ، عرب خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ 9برسوں کے دوران30ہزار برطانوی شہریوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ جب کہ اس کے علاوہ صرف گزشتہ سال 5200افراد نے اسلام قبول کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن بات ہے کہ جس زمانہ میں اسلام کے بارے میں معاشرے میں منفی سوچ عام نہیں تھی، اس زمانہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اتنا اضافہ نہیں ہوا۔ لیکن اچنبھے کی بات یہ ہے کہ حالیہ چند برسوں میں اسلام کو ہر حلقہ میں شدید مخالفت اور تنقید کا سامناہے اور اسلام مخالف لٹریچر اور منفی مواد بڑی کثرت سے عام ہو رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی پروگرام میں اسلام اور مسلمانوں کا نام لینا معمول بن چکا ہے۔ اسلام وفوبیا اس وقت ایک پاپولر لفظ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ لیکن مغربی معاشرے میں انتہائی سرعت کے ساتھ اسلام کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شہریوں کی جانب سے مسلمانوں کو جس تنقید کا سامنا ہے کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو اس صورت حال کا سامنا نہیں ہے، پانچ برسوں کے دوران شائع ہونے والے لٹریچر کا 32فیصد حصہ اسلام مخالف مواد پر مشتمل رہا ہے۔ رپورٹ میں ایک سروے کے نتیجہ میں سامنے آنے والی معلومات میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اعداد وشمار سے معلوم ہورہاہے کہ ہر سال پانچ ہزار افراد اسلام قبول کر رہے ہیں ، جب کہ یہ صورت حال صرف برطانیہ میں نہیں بلکہ رپورٹ کے مطابق سروے میں جرمنی اور فرانس کو بھی شامل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں ممالک میں بھی اسلام قبول کرنے والوں کی سالانہ تعداد چار ہزار سامنے آئی ہے۔
اسلام کی اس روز افزوں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسلام مخالف عالمی ایجنسیوں اور اداروں نے اسلام کے خلاف اپنی مہم اور تیز کر دی ہے اور اسلام کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر منصوبہ بند کار روائیاں کی جانے لگی ہیں، کہیں دہشت گردی و تشدد تو کہیں قانون کی خلاف ورزی اور ملک سے غداری کا الزام مسلمانوں پر لگایا جارہا ہے اور کہیں اسلام وفوبیا کا ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں کی شبیہ خراب ہو جائے اور دلوں میں اسلام سے نفرت پیدا ہوجائے۔
اس سلسلہ میں مغرب کا میڈیا سب سے زیادہ سرگرم ِعمل ہے، سیکڑوں ٹی وی چینل اور ویب سائٹ دن رات اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ فیس بک اس گمراہ کن پروپگنڈہ کاسب سے زیادہ مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہا ہے لیکن اسلامی حکومتوں کی طرف سے اس پروپگنڈہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس طرح اسلامی ملکوں میں عیسائی مشنریاں پوری آزادی کے ساتھ نصرانیت کی تبلیغ واشاعت میں مصروف ہیں ،انہیں اپنے کاز میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی ان اسلامی حکومتوں کو عیسائی مشنریوں کو یورپ سے ملنے والی زبردست مالی امداد پر کوئی اعتراض ہوتا ہے، اس کے برعکس اسلامی دعوت اور داعیوں کی نقل وحرکت پر فورا ًپابندی عائد کر دی جاتی ہے، خواہ یہ نقل وحرکت انسانیت کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔
غیر اسلامی حکومتیں،سیکولرزم کے دعوے کے باوجود اپنے قومی اور مذہبی مفادات عقائد اور مقدمات کی حفاظت کے لیے فورا حرکت میں آجاتی ہیں، اس کی تازہ ترین مثال نائجیریا کا واقعہ ہے کہ کرسمس ڈے کے موقع پر جب ایک بم دھماکہ میں چالیس عیسائی مارے گئے تو تمام یورپین حکومتیں حرکت میں آگئیں اور کارروائی شروع کردی جب کہ دوسری طرف دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے ، ان کے مقامات مقدسات اور دینی شعائر کی بے حرمتی اور توہین کی جارہی ہے لیکن یہی یورپ ہے کہ اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی بلکہ درپردہ مجرمین کی پشت پناہی کرتا ہے۔ یورپ اور دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام، قرآن مجید، اسلامی شعائر اور مقدسات کی مسلسل توہین کی جارہی ہے، مسلمانوں پر زیادتیاں کی جار ہی ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اسلامی حکومتیں اپنے آپ کو سیکولرثابت کرنے لیے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
مسلم ملکوں کی حکومتوں کا یہ کمزور موقف اور ملت اسلامیہ کے مسائل سے عدم دلچسپی دنیا کے محتلف حصوں میں مسلمانوں کے مسائل اور پریشانیوں کا باعث ہے اور اس سے اسلام دشمنوں کا حوصلہ مزید بڑھتا ہے اور عام مسلمانوں میںیہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی مسلم حکومتیں ان کے مسائل ،احساسات اور جذبات کی ترجمانی نہیں کرتیں۔ اسی کے ساتھ ان ملکوں میں اسلامی دعوت اور اسلامی کاز پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور اسلامی تنظیموں اور تحریکوں کو زچ کیا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ جب کبھی بھی دنیا کے کسی ایک خطہ میں مسلمانو ںپر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ، ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا اور شمنوں نے ان کا قتل عام شروع کیا تو دنیا کے دوسرے خطہ میں ملت اسلامیہ کو غلبہ نصیب ہوا۔
ماضی میں اشتراکیت، سوویت یونین اور چین اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے راستے میں بڑی رکاوٹ تھے۔ اشتراکی بلاک اور اشتراکیت نواز حکومتوں نے دینی رجحان کو ختم کرنے کے لیے طرح طرح کے وسائل اور حربے استعمال کیے۔ الحاد اور بے دینی کو رواج دیا اور سیکولرزم کو دینی رجحان کو کچلنے کے لیے وسیلہ کے طور پر استعمال کیا، اسلامی لٹریچر حتی کہ قرآن کریم پر پابندی لگا دی گئی، مشرق اسلامی، افریقہ اور وسط ایشیا کے ملکوں میں اسلامی شناخت اور اسلامی عہد کے تاریخی آثار مٹانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ لیکن اپنے ہی گھر میں سوویت یونین کے بکھراؤ کے بعد ان عرب ملکوں کا الحادی نظام بھی جو چالیس سال تک غالب رہا، ٹوٹ گیا اور ان ملکوں میں عوامی انقلابات ہوئے جن کے نتیجہ میں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے لمبی زندگی گزارنے والے اسلام پسند کرسی اقتدار تک پہنچ گئے۔ حالانکہ بہت سے اسلام پسند اس الحادی اشتراکی نظام کے تحت تختہ دار پر چڑھا دیے گئے اور وہ شہیدوں کے قافلہ سے جا ملے۔
اسلام نے تاریخ کے ہر دور میں ایسی ایسی عبقری شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے انسانیت کی کشتی کو ظلم و جبر کے منجدھار سے نکال کر امن وآشتی کے ساحل پر لا کھڑا کیا ، ملت اسلامیہ کی مشکلات و مسائل حل کیے، دشمنوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ، تاریخ کے صفحات میں ان اسلامی شخصیات کے نام دیکھے جا سکتے ہیں اور نسلیں ان پر آج بھی فخر کرتی چلی آرہی ہیں۔یہ شخصیات تاریخ کے مختلف ادوار میں حالات اور تقاضوں کے لحاظ سے منصہ شہود پر آتی رہیں اور ملت کے وقار، عزت ، مقام و منصب کی حفاظت کرتی رہیں، اللہ تعالی سے قوی امیدہے کہ موجودہ حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے والی شخصیات ضرور وجود میں آئیں گی، جو نئے مسائل کے حل اور سیاسی قیادت کی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *