ربط ِباہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

کسی اجتماعیت کے قیام وبقا کے لیے جس طرح اس کے مقصدِ وجود اور نصب العین سے وابستگی لازم ہے اسی طرح سے متعلق افراد میں یگانگت اور باہمی اتحاد کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ جو کام کسی اجتماعیت کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا وہ کسی برائے نام اجتماعیت کے ذریعہ بھی پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ اس لیے کہ محض مجموعۂ افراد کا نام اجتماعیت نہیں ہے۔ بازاروں میں پائی جانے والے ہجوم اور میلوں ٹھیلوں کی بھیڑ کو اجتماعیت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے اکٹھا ہونے والے چند افراد کو جماعت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے اور ہونا ہی چاہیے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ ادائے صلوٰۃ کے (مقصد) لیے جمع ہوتے ہیں اور امام جماعت کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں، یہ لوگ بلا شبہ ’جماعت‘ بن جاتے ہیںچاہے ان کی تعداد کم سے کم ہو۔ جیسے ہی سلام پھیر کر وہ نماز سے فارغ ہوتے ہیں، جماعت نہیں رہتے۔ حالت جماعت میں وہ ایک ایک بات میں امام کے تابع تھے حتی کہ ادھر ادھر دیکھنے اور امام سے پہلے رکوع وسجود میں بھی خود مختار نہیں تھے۔ اسلام جس اجتماعیت کو وجود میں لانا چاہتا ہے، اس کی مثالی حالت نماز باجماعت میں ہوتی ہے جس سے اس اجتماعیت کو قیاس کیا جاسکتا ہے جس کو وسیع مفہوم میں اسلامی اجتماعیت کہا جا سکتا ہے۔ افسوس آج یہ اجتماعیت مفقود ہو تی جا رہی ہے۔ لے دے کر اس کا اظہار نماز پنچگانہ اور جمعہ وعید میں ہوتا ہے۔ یا حج کے دوران حرمین اور میدان عرفات میں زیادہ بڑی صورت میں ہوتا ہے۔ ورنہ اسلام جس اجتماعیت کو قائم کرتا ہے اور ماضی میں قائم کر چکا ہے، وہ نہ صرف آج موجود نہیں ہے بلکہ اس کا تصور بھی نگاہِ عام سے اوجھل ہو چکا ہے۔
…………………………………………………………..
دنیا میں مسلمانوں کی کثیر تعداد، اس کے زبردست علاقوں، ان علاقوں کا محل وقوع، ان میں پائے جانے والے ذرائع و وسائل، یہ سب مل کر ’مسلم امت‘ کی عظمت واہمیت کا احساس تو دلاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے باہمی انتشار و تشتت پر نظر ڈالتے ہی دلدوز احساس بھی ابھرتا ہے کہ ان پر ایک عجیب وقت آن پڑا ہے۔ عہد حاضر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کی عظمت رفتہ شاید کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی اور ان کی تاریخ ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔ امت مسلمہ کا موجودہ انتشار اس کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اور اس کے دشمنوں کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی بات خوش کن نہیں ہو سکتی کہ یہ امت کبھی بالادستی حاصل نہیں کرسکے گی کیونکہ وہ باہم متحد نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔
…………………………………………………………..
ایک عرصہ سے مسلمانوں کے سوچنے سمجھنے والے افراد اور ان کی مخلص تنظیموں میں یہ فکر عام ہوتی جا رہی ہے کہ اس تکلیف دہ حالت سے کس طرح نکلا جائے۔ اگرچہ ان کے حکمرانوں اور مقتدر اہل علم میں ابھی بیداری کی لہر نظر نہیں آتی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلم ملکوں کے حکمراں بیشتر اسی حالت کو اپنے لیے غنیمت سمجھتے ہیں۔ اور اسی میں مسلم عوام کو مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ چالیس برسوں میں مسلم ملکوں اور ان کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے، جس طرح مغربی استعمار ان کا استحصال کرتا رہا ہے، ان کے وسائل اور ان کی خودی کو جس طرح پامال کیا جاتا رہا ہے اگر اس کے بعد بھی ان کا مثبت رد عمل سامنے نہیں آتا تو ہزار خواہش کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ واقعی مسلم دنیا آزاد ہے۔ اگر کسی کو اس سچائی میں مبالغہ محسوس ہوتا ہوتو یہ حقیقت تو ناقابل تردید ہے ہی کہ زیادہ تر مسلم ملکوں میں وہ لوگ حکومت کر رہے ہیں جو دوسروں کے غلام ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب تک یہ حکمراں نہیں بدلتے مسلم دنیا کی آزادی اور اتحاد ایک لفظِ بے معنی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
…………………………………………………………..
بات صرت اتنی نہیں ہے کہ امت مسلمہ سیاسی انتشار میں مبتلا ہے اور ان کے حکمراں آزاد نہیں ہیں۔ بلکہ دین و دنیا کے دو الگ الگ خانوں میں تقسیم ہوجانے والی ان کی قیادت کا وہ حصہ جس کو دینی قیادت کے عنوان سے پکارا جاتا ہے، ملت کی شیرازہ بندی کی منزل سے دور اور بہت دور نظر آتی ہے۔ اس کی ایک اصولی وجہ تو یہ ہے کہ وہ اثر انداز ہونے سے بڑھ کر اثر پذیری کی کیفیت سے دوچار رہے۔ یاد رہے کہ جس طرح ایک میان میں دو تلوار کا ہونا محال ہے اسی طرح دو متضاد قیادتوں کا ہونا بھی منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ کا سب سے بڑا پتھر ہے۔ اگر ایک ملک کے دو سربراہ نہیں ہو سکتے تو قوموں اور ملتوں کی رہنمائی بھی دو الگ الگ حصوں میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ متبعین کی تقسیم سے کہیں زیادہ خطرناک قیادتوں کی تقسیم ہے۔ دین و دنیا کی تفریق کے نظریہ نے مسلمانوں کو ایک ایسی دلدل میں اتار دیا ہے جس میں سنبھلنے اور نکلنے کی فی الحال کوئی راہ کھلی نظر نہیں آتی۔ نتیجتاً چنگیزیت، چاہے اس کے کتنے ہی خوبصورت نام رکھ دیے گئے ہوں، کے دامِ تزویر میں پھنسے رہنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ملوکیت کے بطن سے جو فتنہ پیدا ہوا تھا وہ آج اپنے شباب پر ہے۔اور اس کی سرکوبی کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ دین و سیاست کو یکجا کر دیاجائے۔
…………………………………………………………..
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلکی اور فقہی اختلافات نے امت کو تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ بات اس حدتک تو درست ہے کہ دین پر مسالک کو ترجیح اور امت کے مقام و مفاد پر گروہی، مسلکی تعصبات کو فوقیت دینے نے تقسیم در تقسیم کے عمل کو بڑھایا ہے۔ مگر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خرابی بجائے خود فقہی اور مسلکی اختلافات میں نہیں بلکہ ان کے غالی او رمتعصب نمائندوں میں پائی جاتی ہے۔ مگر وقت کے ضمیر نے اس خرابی کو نہ پہلے کبھی قبول کیا اور نہ آج وہ اس پر آمادہ ہے۔بیت المقدس سے لے کر جامع قرطبہ اور بابری مسجد کی بازیابی، جملہ شعائر اسلام کے تحفظ اور شریعت کے تقدس کی پاسداری کے لئے امت مسلمہ کل بھی یک جان ویک صوت تھی اور آج بھی ہے۔ اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی کا سامان مسلکی، فقہی اور تعبیری نوعیت کے اختلافات سے نہیں بلکہ ان کے نمائندوں کے غلو اور تعصب بے جا سے فراہم ہو رہا ہے۔ تعبیری اختلافات تو قرون اولیٰ میں بھی پائے جاتے تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ اگر انہیں ماضی کی طرح اعتدال میں رکھا جائے تو یہ انتشار و تفریق کی نہیں بلکہ توسع اور تنوع کی علامت ہیں، جن کی اپنی اہمیت و ضرورت ہے کیونکہ یہ سب کچھ نصوص صریحہ اور اصول دین کے خلاف نہیں بلکہ ان کے توابع اور فروع ہیں۔ اس معاملہ میں خرابی وہاں جا کر پیدا ہوتی ہے جہاں اپنے وقار ومفاد کے لیے ان کے نمائندے دین و دانش دونوں سے دور نکل جاتے ہیں۔
…………………………………………………………..
قوموں اور جماعتوں کو باہم متحد رہنے کے لیے ان بنیادوں کی تلاش وجستجو رہا کرتی ہے جن پر ان کا اجتماعی وجود قائم رہ سکتا ہے۔ اکثر قومیں زبان، علاقہ، اور نسل کو بنیادِ اتحاد بنایا کرتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو سارے انسانوں کو متحد کر سکتی ہو۔ جو حقیقی عالگیر اجتماعیت کی بنیاد بن سکتی ہے اور جنہیں ترک یا قبول کیا جا سکتا ہے، ان میں زبان، علاقہ اور نسل شامل نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں قوم پرستانہ نظریات نے مخلوق خدا کو جس طرح اقوام کے دائروں میں تقسیم کر رکھا ہے اس کے خطرناک اور تباہ کن اثرات سب کے سامنے ہیں۔ انسانیت کو تقسیم کرنے کا مکروہ عمل جاری ہے۔ کسی بھی ایک قوم پرستی کے رد عمل میں کوئی دوسری قوم پرستی جنم لے لیتی ہے۔ دنیا کی دو عالمگیر جنگیں لاکھوں انسانوں کو فنا کرچکی ہیں اور تیسری عالمگیر جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے جس کے ہولناک نتائج کے تصور سے ہی روح انسانی سہمی جا رہی ہے۔ اس کے برخلاف اسلام نے ایک ایسی امت تشکیل دی جس کی آغوش میں صدیوں سے انسانیت پرورش پا رہی ہے۔ اس کی وسعتوں میں کالے اور گورے، عربی اور عجمی سب کے لیے یکساں گنجائش ہے۔ سب کے لیے پناہ ہے، سب کے لیے سلامتی ہے۔ اس میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس میں اللہ کی توحید، رسول اللہﷺ کی رسالت حرم کی مرکزیت، آخرت پر ایمان بنائے اتحاد ہے۔ مزید یہ کہ کسی کو کسی پر بربنائے رنگ و نسل کوئی فضیلت اور برتری حاصل نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز بنائے اتحاد ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ یہاں اگر ترک قوم پرستی ناپسندیدہ ہے تو عرب قوم پرستی کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں بلال حبشیؓ کو سیادت ملتی ہے اور ہاشمیت سے نسبت ابوالہب کو معتوب ہونے سے نہیں بچا سکتی۔ اس سب کے باوجود ملت اسلامیہ میں افتراق وتشتت کا پایا جانا ایک زبردست المیہ ہی ہو سکتا ہے۔
…………………………………………………………..
آخر اس افتراق تشتت سے بچنا اور ایمانی بنیادوں پر اخوت اسلامی کا قیام کس طرح ممکن ہے؟ اس اہم ترین سوال کا دو ٹوک جواب چند لفظوں میں دینا ہو تو وہ یہی ہے کہ اپنی بنیادوں کو چھوڑ کر کوئی عمارت مضبوط ومستحکم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے مسلم امت کا استحکام صرف ایمان سے وابستہ ہے۔ کوئی اور چیز ایسی نہیں ہے جو اس کا بدل بن سکے۔ مگر ایمان محض زبانی اقرار و اعتراف کا نام نہیں ہے۔یہ ایک جامع عقیدہ ہے جو اپنا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں، جنہیں دل کی گہرائیوں سے قبول کرتے ہوئے اقرار و اعلان کیا جاتا ہے۔ پھر اس اقرار واعلان کے ساتھ ساتھ اس کے وسیع الاطراف تقاضوں کا باب کھلتا ہے۔ جنہیں پورا کرنانہ صرف انفرادی طور پر ضروری ہوتا ہے بلکہ ان کی تکمیل اور ادائیگی کے لیے اجتماعیت ناگزیر ہے جس کا دائرۂ سمع وطاعت زندگی کے ہر گوشہ کو محیط ہے۔ یقیناً انسان پہلے انفرادی طور پر کلمۂ جامعہ کو قبول کرتاہے جو ایک شجرۂ طیبہ کے مانند ہے اور آخرت میں بھی اس کی جوابدہی اور کامیابی اور ناکامی انفرادی حیثیت میں ہے۔ مگر اس انفرادی حیثیت کی کامیابی کے لیے اور دنیا میں عدل وقسط کے قیام کے لیے ایک ایسی اجتماعیت درکار ہے جو نظام زندگی کی صورت میں اس زمین پر بپا ہوتا ہے۔ امت اس کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کو جب اپنا نصب العین بناتی ہے تو خیر امت یا امت وسط تشکیل پاتی ہے جس کی مخاطب پوری انسانیت ہوتی ہے۔ ایمان کی جامعیت،شہادت علی الناس، اقامت دین اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اعلاء کلمۃ اللہ کی بھاری ذمہ داری کو اپنا نصب العین بنانے والی امت ہی صحیح معنی میں بنیان مرصوص اور جسد واحد کی طرح متحد اور متفق ہو سکتی ہے۔ قومی مسائل اور ذاتی وگروہی مقاصد کی حد تک خود کو محدود کرنے والی قومیں، گروہی مفاد اور قومی عصبیتوں کی پرستار قومیں عالمگیر سطح پر کبھی متحد نہیں ہو سکتیں۔ کوئی منفی اور وقتی ضرورت ان کو متحد کر بھی دے تو متحدرہ نہیں سکتے۔ انسانوں اور قوموں کو متحد رکھنے کی صلاحیت اسلام اور ایمان میں ہے۔ دنیا میں کثرتِ تعداد کے لحاظ سے بڑے مذاہب او ر معاشروں کو لیجئے، عیسائیت ایک دو صدی کے بعد ہی ایسے مذہبی انتشار میں مبتلا ہوئی کہ پھر اپنے آپ کو جمع نہیں کرسکی۔ یہودیت تو پوری طرح مذہبی تبلیغ و دعوت سے اتنی دور چلی گئی کہ نسل پرستی اس کی پہچان بن گئی۔ برصغیر میں ہندو دھرم اونچ نیچ اور ذات پات میں اس طرح گم ہو کر رہ گیا کہ اس کے شارحین تک ہندو دھرم کے بجائے ہندو سماج کے نقیب بن کر رہ گئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *