علامہ اقبالؒ کا تصوراتحاد

علامہ اقبال نےامت اسلامیہ کوہمہ گیرسطح پرجھنجھوڑنےکی کوشش کی ہے۔ان کی شاعری امت اسلامیہ کی تاریخ میں جامعیت کے لحاظ سےعدیم المثال شاہکار ہے۔انہوں نےمسلمانوں کومختلف جہات سےاتحادویگانگت کاسبق دیا۔وہ اپنی نظم “بزم انجم”میں باہمی اتحاد کوستاروں سےتشبیہ دیتے ہوئےکہتےہیں کہ :
ایک عمرمیں نہ سمجھےجسکوزمیں والے
وہ بات پاگئےہم تھوڑی سی زندگی میں
ہیں ربط باہمی سےقائم نظام سارے
پوشیدہ ہےیہ نکتہ تاروں کی زندگی میں
علامہ اقبال امت اسلامیہ کےاتحادمیں مغربی تصورقومیت کونہایت تباہ کن خیال کرتےہیں۔وہ کہتےہیں کہ رنگ ،نسل،وطن،ذات اوربرادری اسلامی اتحادقائم کرنےمیں رکاوٹ بنتےہیں۔امت اسلامیہ کااتحادوحدت مذہب وتمدن پرقائم ہے۔
اس سلسلہ میں علامہ اقبال اپنے ایک مضمون میں لکھتےہیں کہ:
”قدیم زمانہ میں ”دین“ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسیحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس میں انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ”اسٹیٹ “ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ”دین“ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد یاوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔‘‘
علامہ اقبال جس قومیت کےقائل ہیں،اس کادائرہ اسلام کےاندرہےاوراس کی بنیادوہ دینی معتقدات پررکھتےہیں۔لہذاوہ کہتےہیں:
قوم مذہب سےہےمذہب جو نہیں تم بھی نہیں جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں
وہ مزیدکہتےہیں کہ:
تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے نشہ مئے کو تعلق نہیں پیمانے سے
وہ مزیدکہتےہیں کہ:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کاہےملک ونسب پرانحصار قوت مذہب سےمستحکم ہےجمعیت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
وہ مزیدکہتےہیں کہ:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیر ہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
ایک اور جگہ کہتے ہیں:
اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
علامہ اقبال کہتےہیں کہ اسلا م کانصب العین ہی یہ ہےکہ اجتماعیت واتحادقائم کیاجائے،حضرت عمررضی اللہ عنہ کےالفاظ میں:
“لااسلام الابالجماعۃ ولاجماعۃ الابالامارۃ ولاامارۃ الابالطاعۃ”
ترجمہ:جماعت کےبغیراسلام نہیں اور امارت کےبغیرجماعت نہیں اوراطاعت کےبغیرامارت نہیں۔
وہ مسلمانوں کو ایک ملت میں گم ہو جانے کا درس دیتے ہیں اور ایک عالمگیر ملت کے قیام کی خواہش رکھتےہیں جس کا خدا ، رسول ،کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو۔وہ کہتےہیں کہ:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی ، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
وہ اجتماعیت واتحادکی اہمیت کوبتاتےہوئےکہتےہیں کہ:
فرد راربط جماعت رحمت است جوہر او را کمال ازملت است
تا توانی باجماعت یار باش رونق ِ ہنگامئہ احرار باش
ترجمہ:فردکےلیےجماعت رحمت ہے۔اس کی خوبیوں کوملت ہی کےذریعہ کمال حاصل ہوتاہے۔جہاں تک ہوسکےجماعت کےساتھ وابستہ رہواورآزادلوگوں کےہنگامہ کی رونق بنےرہو۔
وہ فرداورجماعت کےربط کی اہمیت کوواضح کرتےہوئےایک جگہ کہتےہیں کہ:
فرد تا اندر جماعت گم شود قطرہ وسعت طلب قلزم شود
فردتنہاازمقاصدغافل است قوتش آشفتگی رامائل است
ترجمہ:فردجب جماعت میں گم ہوجاتاہےتووہ وسعت طلب قطرے کی طرح سمندربن جاتاہے۔تنہاآدمی اپنےمقاصدسےغافل ہوجاتاہےاوراس کی طاقت انتشارکی طرف مائل ہوتی ہے۔
وہ کہتےہیںکہ فردکی بھرپورتوانائی کااظہاراجتماعیتن کےساتھ ہی پورے طور سے ہو سکتاہے:
فردقائم ربط ملت سےہےتنہاکچھ نہیں موج ہےدریامیں اوربیرون دریاکچھ نہیں
وہ مزید کہتےہیں کہ:
ملت کےساتھ رابطہ استواررکھ پیوستہ رہ شجرسےامیدبہاررکھ
وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ رنگ و خون کےبتوں کو توڑ کر ایک ملت کی شکل میں متحد ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک ،قوم ، نسل اور وطن کی مصنوعی حد بندیوں نے نوع انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیاہے۔ اور اس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرہ کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرہ کا حصہ بنا لیں۔
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی
وہ مزید کہتےہیں کہ:
ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو
اخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا
غبارآلودہیں رنگ ونسب سےبال وپرتیرے
تواےمرغ حرم اڑنےسےپہلےپرفشاں ہوجا
وہ انتشاروافتراق کا گہرائی سےجائزہ لینےکےبعدکہتےہیں کہ:
تعصب چھوڑناداں دہرکےآئینہ خانےمیں یہ تصویریں ہیں تیری جن کوسمجھاہےبراتونے
وہ مزید کہتےہیں کہ :
رشتہ وحدت چوں قوم ازدست داد صدگرہ برروئےکارےافتاد
ماپریشاں درجہاں چوں اختریم ہمدم و بیگانہ ا زیک دیگریم
بازیں اوراق را شیرازہ کن باز آئين محبت تازہ کن
ترجمہ:جب قوم نےاتحادکارشتہ چھوڑدیاتوہمارےکام میں سینکڑوں گرہیں پڑگئيں۔ ہم دنیامیں ستاروں کی مانندبکھرےہوئےہیں اورایک دوسرےسےبیگانہ ہیں۔ان اوراق کی پھرسےشیرازہ بندی کرواورمحبت کےآئین کوپھرتازہ کرو۔
وہ مزید کہتےہیں کہ :
بتان شعوب وقبائل کوتوڑ رسوم کہن کے سلاسل کو توڑ
یہی دین محکم یہی فتح باب کہ دنیامیں توحیدہوبےحجاب
وہ ایک دوسرےزاویہ سےمزیدکہتےہیں کہ:
ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک ِ رہ گزر
وہ کہتےہیں کہ اسلام ایک ازلی ، ابدی ، آفاقی اور عالمگیر پیغام ہے۔اس کامقصدتما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کا قیام عمل میں لاناہے۔وہ کہتےہیں کہ اسلام ، ہر قوم اور ہر ملک کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک ووطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جاناچاہیے اور دنیائے انسانیت کے لئے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔اس سلسلہ میں ”جمعیت اقوام“کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا اصل ہے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا:
اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم
تفریق ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام جمعیت اقوام ہے جمعیت آدم
علامہ اقبال اتحادکےلیےاسلامی قومیت کی درست فکرکولازمی خیال کرتےہیں۔ان کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے ۔۔۔ملک و نسب ،نسل اوروطن پر نہیں۔ اس تصور کی انہوں نے عمر بھر شدو مد سے تبلیغ کی ۔ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخر کا ر اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی ، جغرافیائی ، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہو ا شوشہ ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے انہو ں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریۂ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا ۔ تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ اور مسلمان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقا م ایک بار پھر حاصل کر سکیں۔ اس مسئلہ میں ان کاارتقائی عمل بالکل ظاہروباہرہے۔ان کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ان کے اولین اردو مجموعہ” بانگ درا“ کا آغاز ایک ایسی نظم سے ہوتا ہے جو وطن پرستی کے بلند پایہ جذبات سے بھرپور ہے اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصول تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئیں۔ مثلاً اپنی نظم ” تصویر درد “ میں وہ ہندوستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں:
رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو

کہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میں
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
”ترانہ ہندی“ ان کی وہ مشہور اور مقبول نظم ہے جو ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے۔ اس میں انتہائی دلنشین طریقہ سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگاؤ اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم ،رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا
یونان و مصر و روما ، سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
اس زمانہ کی ایک اور نظم” ہندوستانی بچوں کا گیت“ ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے:
بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کا سینا نو ح نبی کا ٹھہرا آکے جہاں سفینا
رفعت ہےجس زمیںکی بام فلک کا زینا جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
اسی طرح اپنی نظم ” نیا شوالہ“ میں انہوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی اتنہا کر دی تھی کہ:
پتھرکی مورتوں میں سمجھاہےتوخداہے خاک وطن کا مجھ کوہر ذرہ دیوتا ہے
بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقاءکے مراحل طے کرتے گئے ، ان کے وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریہ سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض بالکلیہ درست نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بعد کے ادوار میں ان کی شاعری میں وطن پرستی کا والہانہ جذبہ نہیں ملتا جو ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔لہذاطاہر فاروقی ”سیرت اقبال“ میں لکھتے ہیں:
” وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاستِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے آپ اس کے شدید مخالف ہیں ۔ اور اقوام وملل کے حق میں اس کو سم قاتل خیال کرتے ہیں لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی ، عراقی ، خراسانی ، افغانی، روسی ، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبار سے ہر فرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے، اس کے آپ قائل اور معترف ہیں۔“
ان کی پختگی کے دور کی تصانیف ”جاویدنامہ “۔”پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق“ اور مثنوی مسافر میں بھی حب وطن کے لطیف جذبات کا اظہار جا بجا ہوا ہے ”جاوید نامہ کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں انہوں نے ”قلزم خونیں“ کے تحت روح ہندوستان اور اس کے نامہ و فریاد کی خوب تصویر کشی کی ہے۔ انہوں نے میر جعفر ، اور میر صادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن ، قرار دیکر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہےکہ اس مسئلہ پرعلامہ اقبال نےاپنےایک مضمون میں حتمی گفتگو کی ہے۔
علامہ اقبال وطنیت کےمسئلہ پر مارچ 1938ءکےایک مضمون میں لکھتےہیں کہ :
” میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا ۔مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میںفرنگی نظریۂ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔(بحوالہ سیرت اقبال)
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
” اگر بعض مسلم علما ء اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ”دین “ اور ”وطن“ بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت متنبہ کرتا ہوں کہ اس راہ کا مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“
(بحوالہ سیرت اقبال)
علامہ اقبال وطنیت کواسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اس کوشرک سےتعبیرکرتےہیں۔اسی لئے وہ اس نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں چنانچہ ”بانگ درا“ کی ایک نظم “وطنیت” جس کا ذیلی عنوان ہے ”وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے“۔ انہوں نے بڑی وضاحت سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے:

اس دورمیں مئےاورہے،جام اورہےجم اور
ساقی نےبناکی روش لطف وستم اور
مسلم نےبھی تعمیر کیا اپناحر م اور
تہذیب کےآزرنےترشوائےصنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے
بازو تر اتوحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
وہ کہتےہیں:
ما مسلمانیم و اولاد خلیل
از ابیکم گیر اگر خواہی دلیل
اصل ملت دروطن دیدن کہ چہ
باد و آب و گل پرستیدن کہ چہ
برنسب نازاں شدن نادانی است
حکم اواندرتن وتن فانی است
ملت مارااساس دیگراست
ایں اساس اندردل مامضمراست
حاضریم ودل بغائب بستہ ایم
پس زبنداین وآں وارستہ ایم
مدّعائے مام آل مایکے ست
طرز وانداز و خیال مایکے ست
ما ز نعمت ہائے او اخواں شدیم
یک زبان ویک دل ویک جاں شدیم
ترجمہ:ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی اولادہیں۔اگرتم دلیل چاہتےہو توقرآن کی آیتملّۃ ابیکم ابراھیم”سےدلیل حاصل کرو۔قوم کی بنیادوطن میں دیکھنا کیسا!ہوا،مٹی اورپانی کوکیاپوجنا!نسب پرفخرکرناحماقت ہے۔اس کاتعلق جسم سےہوتاہےاورجسم فانی ہے۔ہماری قوم کی بنیاددوسری ہے۔یہ بنیادہمارےدل کےاندرپوشیدہ ہے۔ہم حاضرہیں لیکن ہم نےدل کوغائب(اللہ تعالی)سےوابستہ کررکھاہے۔پس ہم کسی بھی طرح کی پابندی سے آزادہیں۔ہمارےطورطریقےاورہماراخیال ایک ہے۔ہم اللہ تعالی کی نعمت (اسلام) سے بھائي بھائي بن گئے۔ہم ایک زبان،ایک دل اورایک جان بن ہوگئے۔
اس کی عملی مثال پیش کرتےہوئےعلامہ اقبال ایک جگہ کہتےہیں:
اسودازتوحیداحمرمی شود خویش فاروق وابوذرمی شود
ترجمہ:توحیدکےذریعہ کالاگورابن جاتاہے۔یعنی اس کاہمسربن جاتاہےاورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اورحضرت ابوذررضی اللہ عنہ کاقرابت دارہوجاتاہے۔
وہ مزیدکہتےہیں:
ہرملک ملک ماست کہ ملک خدائےماست
ترجمہ:ہرملک ہماراملک ہےکیونکہ ہمارےخداکاملک ہے۔
حضرت کعب بن زہیررضی اللہ عنہ نےجب قصیدہ بردہ کہاتھاتوانہوں نےاس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ شعربھی کہاتھاکہ:
ان الرسول لنوریستضاء بہ وسیف من سیوف اللہ مصلول
ترجمہ :رسول کی ذات بلاشبہ نورکی مانندہے،جس کےذریعہ روشنی حاصل کی جاتی ہے۔اوراللہ کی تلواروں میں سےسونتی ہوئي ایک تلوارہیں۔
انہوں نےپہلے(سیف من سیوف الھند-ہندوستانی تلواروں میں سےایک تلوار، اس زمانےمیں ہندوستانی تلواراپنی تیزی اوراچھائي کی وجہ سےپوری دنیامیں مشہورتھی) کہاتھا،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کوناپسندفرمایااور(سیف من سیوف اللہ؛ –اللہ کی تلواروں میں سےایک تلوار)کہنےکوکہا۔
علامہ اقبال کہتےہیں:
جوہر مابمقامے بستہ نیست بادہ تندش بجامےبستہ نیست
صورت ماہی بہ بحر آزادشو یعنی از قیدمقام آزاد شو
ترجمہ:ہماراجوہرکسی ایک مقام سےوابستہ نہیں ہے۔اس کی سخت شراب کسی ایک جام تک محدودنہیں ہے۔مچھلی کی مانندسمندرمیں آزادرہو۔یعنی کسی مقام کی قیدسےآزادہوجاؤ۔
علامہ اقبال کہتےہیں کہ ہجرت کامقصدیہ تھاکہ مسلمانوں کویہ درس دیاجائےکہ ان کی قومیت کی بنیادوطن نہیں بلکہ نظریہ توحیدہے:
عقدہ قومیت مسلم کشود
ازوطن آقائےماہجرت نمود
حکمتش یک ملت گیتی نورد
بر اساس کلمہ تعمیرکرد
قصہ گویاں حق زماپوشیدہ اند
معنی ہجرت غلط فہمیدہ اند
ہجرت آئين حیات مسلم است
ایں زاسباب ثبات مسلم است
معنی اوازتنک آبی رم است
ترک شبنم بہرتسخیریم است
بگذرازگل گلستاں مقصودتست
ایں زیاں پیرایہ بندسودتست
ترجمہ:حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلم قومیت کاعقدہ حل کردیا۔ ہمارے آقامحمدصلی اللہ علیہ وسلم نےوطن سےہجرت کی۔آپ کی حکمت نےدنیامیں پھرنےوالی قوم کی تعمیرکلمہ توحیدکی بنیادپرکی۔قصہ سنانےوالوں نےہم سےحق کوپوشیدہ رکھااورہجرت کے معنی غلط سمجھائے۔ہجرت مسلمان کی زندگی کادستورہے۔یہ مسلمانوں کےثبات واستحکام کاایک سبب ہے۔اس کامطلب تھوڑےپانی سےگریزاوردریاکی خاطرشبنم کوترک کرناہے۔اے مسلماں! پھول کوچھوڑدےکیونکہ تیرامقصودتوباغ ہے۔اورپھول چھوڑنےکایہ نقصان تیرےفائدےکی خاطرہے۔
اس سیاق میں یہ بات قابل ذکرہےکہ 1927میں جمیعۃ العلماء کاجواجلاس پشاور میں ہواتھا،اس میں علامہ انورشاہ کشمیری نےجومعرکۃ الآراءخطبہ دیاتھا،وہ 78صفحات پر مشتمل اور28عنوانات کےتحت پھیلاہواتھا۔اس میں آپ نےواضح طورپرفرمایاتھاکہ اسلامی قومیت کی بنیادرابطہ دینی اوراخوت مذہبی ہے۔اسلامی اقوام وامم میں بجزقوم عرب،قوم ترک اور قوم افغانستان کےجوبحیثیت نسل بھی مسلمان ہیں اورکوئی قوم بحیثیت نسل اسلام میں منحصر نہیں، بلکہ ہرملک کی ہرقوم میں مسلم وغیرمسلم دونوں ہیں۔اس لیےاسلامی قومیت کامداراتحادنسل یا اتحادِ وطن پرنہیں ہوسکتا،بلکہ اسلامی قومیت کی زندگی وبقاصرف دین ومذہب اورملت کےاحیاء وبقاء پرمنحصرہے۔
بالکل یہی بات آپ کےہم عصراورساتھی حضرت مولاناحسین احمدمدنی نےدہلی میں اپنی ایک تقریرمیں کہی تھی کہ اگرچہ دنیامیں قومیت وطن سےبنتی ہے،مگراسلام اس نظریہ کی مخالفت کرتےہوئےقومیت کی اساس اخوت دینی ومذہبی کوقراردیتاہے۔اس تقریرکی قصداً یا سہواًغلط رپورٹنگ نےبڑافتورپھیلایا۔بتایایہ گیاکہ مولاناحسین احمدمدنی قومیت کی بنیادوطن کو قراردےرہےہیں،جس پرحضرت علامہ اقبال نےاپنامشہورقطعہ کہا:
عجم ہنوز نداند رموز دیں، ورنہ
زدیوبندحسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است
سرود برسر ممبرکہ ملت ازوطن است
چہ بےخبر زمقام محمدعربی است
بمصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگربہ او نرسیدی تمام بولہبی است
ترجمہ:عجم کوابھی تک دین کےرمزکی خبرنہیں ہے۔دیوبندمیں حسین احمدسےیہ کیسی بوالعجبی ہوئي ۔ممبرکےاوپریہ راگ الاپناکہ ملت وطن سےہے۔یہ محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سےکس قدربےخبری کی بات ہے۔آپ اپنےآ پ کومحمدصلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، کیونکہ یہی دین ہے۔اوراگروہاں تک نہیں پہنچ سکتےتویہ سراسربولہبی ہے۔
یہ مسئلہ اخبارات میں سب وشتم کاموضوع بن گیا۔اس پرحضرت علامہ انورشاہ کشمیری کےایک شاگردنےطالوت کےنام سےدونوں اکابرسےخط وکتابت اورطویل مراسلت کےبعد حضرت علامہ اقبال کوحضرت مولاناحسین احمدمدنی کےخیالات اوراصل ارشادات سےمطلع کیا۔ جس پرحضرت علامہ اقبال نےاس قطعہ سےاپنی براءت کااعلان کرتےہوئےاپنےکلام کے ناشرین کوحکم دیاکہ آئندہ ان کےکلام میں یہ اشعارشامل نہ کیےجائيں،مگرعلامہ اقبال کی خواہشات وتصریحات کےباوصف وہ قطعہ برابرشریک اشاعت کیاجارہاہے۔
(نقش دوام ،صفحہ212)
لیکن یہ بات محل نظرہے۔کیونکہ مولاناحسین احمدمدنی نےمسئلہ قومیت کے تعلق سےاپناایک رسالہ”متحدہ قومیت اوراسلام” تحریرکیاتھا۔جس میں ان کےیہ مشہورالفاظ مع دلائل درج ہیں:”فی زمانناقومیں اوطان سےبنتی ہیں”۔نیزعلامہ اقبال نےاپنامجموعہ کلام خودترتیب دیاتھااوروہ ان کی زندگی میں شا‏ئع ہوکرعام ہوچکاتھا۔
علامہ اقبال مزیدکہتےہیں:
آں چناں قطع اخوت کردہ اند
بر وطن تعمیر ملت کردہ اند
تا وطن را شمع محفل ساختند
نوع انساں را قبائل ساختند
جنتے جستند در بئس القرار
مااحلوا قومھم دار البوار
مردمی اندر جہاں افسانہ شد
آدمی از آدمی بیگانہ شد
روح از تن رفت ہفت اندام ماند
آدمیت گم شد و اقوام ماند
ترجمہ:انہوں نےاخوت کےرشتہ کواس طرح توڑاہےکہ وطن پرقوم کی تعمیرکی ہے۔ جب انہوں نےوطن کوشمع محفل بنادیاتونوع انساں کوقبائل میں تقسیم کردیا۔انہوں نےبدترین ٹھکانےمیں جنت کوتلاش کیا۔یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کوبدترین جگہ جہنم میں لےگئے۔دنیامیں انسانیت افسانہ بن گئی ۔آدمی آدمی سےبیگانہ ہوگيا۔جسم سےروح نکل گئي اورجسم باقی رہ گيا۔ آدمیت گم ہوگئی اورقومیں باقی رہ گئیں۔
اسلام حسب ونسب کےحوالےسےتشخص کاقائل ہےنہ کہ تفضل کا۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سےکسی نےنسب پوچھاتوآپ نےکہاکہ سلمان بن اسلام ۔علامہ اقبال کہتےہیں :
نہ افغانیم ونےترک وتتاریم چمن زادیم ویک شاخساریم
تمیزرنگ وبوبرماحرام است کہ ماپروردہ یک نوبہاریم
ترجمہ:ہم نہ افغانی ہیں نہ ترکی اورنہ تاتاری۔ہم ایک چمن اورایک شاخسار(اسلام) سےہیں۔ہم پررنگ وبوکی تمیزحرام ہے۔ہم ایک نئی بہارکےپروردہ ہیں۔
ایک دوسری جگہ انہوں نےکہاہے:
یوں توسیدبھی ہو،مرزابھی ہو،افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو ،بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو
علامہ اقبال کہتےہیں کہ اتحادکےلیےایک مرکزدرکارہوتاہے۔اورہمارامرکزبیت الحرام ہے:
قوم را ربط ونظام از مرکزے
روزگارش را دوام از مرکزے
رازدار و رازما بیت الحرام
سوزما ہمسازما بیت الحرام
تو زپیوند حریمے زندہ
تا طواف او کنی پایندہ
ترجمہ:قوم ایک مرکزکےساتھ ہی مربوط اورمنظم ہوتی ہے۔اس کی زندگی کومرکزہی سےدوام حاصل ہوتاہے۔ہمارارازداراورہمارارازبیت الحرام ہے۔ہماری آرزؤں اورہماری تگ ودوکامحوربیت الحرام ہے۔توبیت الحرام سےوابستگی کےذریعہ زندہ ہے۔جب تک تواس کاطواف کرتارہےگا‍ قائم رہےگا۔
علامہ اقبال اتحاد کےلیےوسعت نظری کولازمی خیال کرتےہیں۔فقہی وکلامی مباحث میں کشادگی ووسعت کی وکالت اورتنگ نظری پرتنقیدکرتےہوئےکہتےہیں:
فقیہ شہر کی تحقیر کیا مجال میری
مگریہ بات کہ میں مانتاہوں دل کی کشاد
نہ فلسفی سے،نہ ملاّسےہےغرض مجھ کو
یہ دل کی موت وہ اندیشہ ونظر کافساد
ملت اسلامیہ کااتحاداسی وقت قائم ہوسکتاہے،جب اس کوصالح اور باشعور افراد میسر ہوں۔ہرشخص اپنےآپ میں مثل انجمن ہواورانہیں سےاسلامی قیادت تشکیل پائي ہو۔اس کے لیےعلامہ اقبال کایہ شعرنہایت جامع ترین ہے:
نگہ بلند، سخن دلنواز ، جاں پرسوز یہی ہے رخت سفرمیرکارواں کےلیے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *