مسلمانوں کوکس طرح متحد کیا جاسکتاہے؟

یہ جتھا جو رسول اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا،اس کی بنیاد کسی مادر وطن کی فرزندی،کسی نسل انسانی کے انتساب،کسی سیاسی ومعاشی مفاد کے اشتراک پر نہ تھی، بلکہ ایک مخصوص عقیدے اورایک مخصوص طرز عمل پر تھی اس کو جوڑ نے والی طاقت خدا کی محبت اور بندگی تھی نہ کہ اغراض کی محبت اور مادی مقاصد کی بندگی۔اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا نعرہ اذان کا نعرہ تھا،نہ کہ وطنیت کا نعرہ اس کے اجزاء کو سمیٹ کر بنیان مرصوص بنانے والی چیز ایک ان دیکھے خدا کی محبت تھی،نہ کہ کوئی محسوس مرئی علامت۔اس کو حرکت میں لانے والی چیز رضائے الہی کی طلب تھی نہ کہ منافع مادی کی طلب۔اس میں عمل کی گرمی پھونکنے والی قوت اعلائے کلمۃ اللہ کی خواہش تھی نہ کہ نسل و وطن کو سربلند کرنے کی تمنا۔۔۔
اس قوم کے نفسیات دنیا سے نرالے ہیں۔جو چیزیں دنیا کو جمع کرنے والی ہیں وہ اس قوم کو منتشر کردینے والی ہیں۔۔۔۔جو صدائیں اپنے اندر دوسروں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتی ہیں وہ اس قوم کے دل میں الٹی نفرت پیدا کردیتی ہیں جن مرئی علامتوں پر دوسرے گرویدہ ہوتے ہیں مسلمان ان کے لیے کوئی جذبہ عقیدت اپنے اندر نہیں پاتے جن چیزوں میں دوسروں کو گرمادینے کی طاقت ہے وہ ان کے دلوں میں الٹی سردی پیداکردینے کا اثررکھتی ہیں جو چیزیں دوسروں کو عمل پر ابھارنے والی ہیں وہی ان کو میدان عمل سے دور بھگانے والی ہیں۔سارے قرآن کو اٹھاکر دیکھ جاؤ۔پوری سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پرنظرڈال لو۔خلافت راشدہ کے دور سے اس زمانہ تک کی اسلامی تاریخ پڑھ لو۔تم کو معلوم ہوجائیگا کہ اسلام کی فطرت کیا ہے اور مسلمان قوم کا مزاج کس قسم کا ہے؟
جو قوم اس سوال پر صدیوں سے جھگڑرہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرسلام بھیجتے وقت بھی کھڑا ہونا چاہیے یانہیں،کیا تم توقع رکھتے ہوکہ وہ “بندے ماترم”کا گیت سننے کے لیے تعظیماً کھڑی ہوگی؟جس قوم کے دل میں مرئیات سے عقیدت کے بجائے سخت نفرت بٹھائی گئی ہے، کیا تمہیں امیدہے کہ وہ کسی جھنڈے کو سرجھکاکر سلامی دیگی؟جو قوم تیرہ سو برس تک خدا کے نام پر بلائی جاتی رہی ہے، کیا تم سمجھتے ہوکہ اب وہ بھارت ماتا کے نام پر پروانہ وار دوڑی چلی آئیگی؟ جس قوم کے دل میں عمل کی گرمی پیدا کرنے والا داعیہ اب تک محض اعلائے کلمۃ اللہ کا داعیہ رہاہے، کیا تمہارا گمان ہے کہ اب معدے اوربدن کے مطالبات اس میں حرارت پیدا کریں گے؟یاکونسلوں کی نشست وںاور ملازمتوں کے تناسب کا سوال اس کے قلب وروح کوگرما دے گا؟ جس قوم کو عقیدے اور عمل کی وحدت پر جمع کیا گیا تھا،کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ سیاسی اور معاشی پارٹیوں میں تقسیم ہوکر کوئی طاقتور عملی قوم بن جائے گی؟ تخیل کی بنیادوں پر نظریات کی عمارتیں اٹھانے والے جو چاہیں کہیں، مگر جس کسی نے قرآن اور سنت سے اسلام کے مزاج کو سمجھاہے، وہ بادنیٰ یہ رائے قائم کرسکتاہے کہ مسلمان قوم کی فطرت جب تک بالکل مسخ نہ ہوجائے،وہ نہ توان محرکات سے حرکت میں آسکتی ہے اورنہ ان جامعات کے ذریعہ سے جمع ہوسکتی ہے۔ غیرمسلم بلاشبہ ان ذرائع سے جمع ہوجائیں گے اوران میں حرکت بھی ان محرکات سے پیدا ہوجائیگی، کیونکہ ان کو جمع کرنے اورحرکت میں لانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے ان کا مذہب ان کو منتشر کرتا ہے اور صرف وطن کی خاک ہی ان کو جمع کرتی ہے ان کے معتقدات ان کے دلوں کو سرد کرنے والے ہیں، ان میں حرارت صرف معدے ہی کی گرمی سے پیدا ہوسکتی ہے۔مگر مسلمان جس کو خدا کے نام پرجمع کیا گیاتھا اور جس میں ایمان کی گرمی پھونکی گئی تھی، آج تم اس کو ذلیل مادی چیزوں کے نام پر جمع نہیں کرسکتے، اورنہ ہی ادنی درجہ کی خواہشات سے اس میں حرارت پیدا کرسکتے ہو۔اس طریقہ میں اگرتم کوکامیابی نصیب ہوسکتی ہے توصرف اس وقت جب کہ تم مسلمان کو فطرت اسلام سے ہٹادو اور اسے بلندیوں سے گراکر پستیوں میں لے آؤ۔
اس کے معنی یہ نہ سمجھوکہ مسلمان وطن کا دشمن ہے۔ ہرگز نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وطن کی اصلاح وترقی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ؟ خلفائے راشدین نے وطن اورابنائے وطن کی کیا کچھ خدمت نہ کی؟ بعد کے مسلمان جس جس ملک میں گئے، انہوں نے اس کو جنت بناکر نہیں چھوڑا؟غیرمسلم قوموں کے ساتھ فیاضانہ معاملہ کرنے میں کیا کبھی کوتاہی کی گئی ؟پس اوپر ہم نے جوکچھ کہاہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے ملک یا اپنی قوم کے معاشی اورتمدنی مسائل سے بالکل بے پرواہے بلکہ ہم یہ بات ذہن نشیں کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان کی اصلی قوت محرکہ یہ چیزیں نہیں ہیں،اس کی جمعیت ان بنیادوں پرقائم نہیں ہوئی ہے،اس میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے والی آگ یہ نہیں ہے۔ وہ طاقت ور اور منظم ہونے کے بعد ان سب مسائل کو حل کرنے میں حصہ لے سکتاہے اور دوسروں سے بڑھ کرحصہ لے سکتاہے، مگر اس کو طاقت ور اور منظم بنانے کے ذرائع یہ نہیں ہیں بلکہ کچھ اور ہیں۔
مسلم قوم کس طرح بنائی گئی تھی
اب ایک قدم او رآگے بڑھیے۔یہ دیکھئے کہ رسول اللہﷺ نے نئی قوم کن طریقوں سے بنائی تھی اوراس میں کن ذرائع سے وحدت اور قوت عمل پیدا کی تھی۔
جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت لیکر اٹھے تھے توساری دنیا میں تنہا آپ ہی ایک مسلم تھے۔کوئی آپ کا ساتھی اورہم خیال نہ تھا۔ دنیوی طاقتوں میں سے کوئی طاقت آپ کو حاصل نہ تھی۔گردوپیش جو لوگ آباد تھے ان میں خودسری اور انفرادیت انتہا درجہ کو پہنچی ہوئی تھی۔ ان میں کوئی کسی کی بات سننے اور اطاعت کرنے پرآمادہ نہ تھا وہ نسل اورقبیلہ کی عصبیت کے سوا اور عصبیت کا تصورہی نہ کرسکتے تھے۔ ان کے ذہن ان خیالات اور مقاصد سے دورکا لگاؤ بھی نہ رکھتے تھے جن کی تبلیغ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تھے۔اس ماحول اوران حالات میں کون سی طاقت تھی جس سے ایک تنہا انسان، بے یارو مددگار اور بے وسیلہ انسان نے ان لوگوں کو اپنی طرف کھینچا؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کویہ لالچ دیا تھاکہ میں تم کو زمین کی حکومت دلواؤں گا؟رزق کے خزانے دلواؤں گا؟دشمنوں پرفتح اور غلبہ بخشوں گا؟ بیرونی غاصبوں کو نکال باہرکروں گا اور عرب کو ایک طاقت ورسلطنت بنادوں گا؟ تمہاری تجارت اورصنعت وحرفت کو ترقی دوں گا؟ تمہارے وسائل معیشت بڑھاؤں گا اور تمہیں ایک ترقی یافتہ اور غالب قوم بناکر چھوڑوں گا؟ظاہر ہے کہ ایسا کوئی لالچ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دلایا تھا۔ پھرکیا آپ نے امیروں کے مقابلے میں غریبوں کی، اورسرمایہ داروں اور زمین داروں کے مقابلہ میں مزدوروں اورکاشت کاروں کی حمایت کا بیڑا اٹھایا تھا؟ سیرت نبوی گواہ ہے کہ یہ چیز بھی نہ تھی پھر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سیاسی یاتعلیمی یاتمدنی یامعاشی یافوجی تحریک اٹھائی تھی اوراس کی طرف لوگوں کو کھینچنے کے لیے نفسیاتی حربوں سے کام لیاتھا؟ واقعات شاہد ہیں کہ ان میں سے بھی کوئی چیز نہ تھی پھر غور کیجیے کہ آخر وہ کس چیزکی کشش تھی جس نے عربی اور عجمی، امیر اورغریب،آقا اور غلام سب کو آپ کی طرف کھینچا ؟دنیا جانتی ہے کہ وہ صرف دو چیزیں تھیں۔ ایک قرآن کی تعلیم۔دوسرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت۔لوگوں کے سامنے یہ پیغام پیش کیا گیاتھا:
أَلَّا نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہ
ترجمہ:یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا ربّ نہ بنا ئے۔ (آل عمران:64)۔
ان کو اس بات پر جمع کیا گیا تھاکہ:
اِتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء
ترجمہ:لوگو! جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اْس کی پیروی کرو اور اپنے ربّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔(اعراف:3)
ان کویہ تعلیم دی گئی تھی کہ:
قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
ترجمہ:کہو! میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ (انعام:162)
ان کےسامنےیہ نصب العین رکھاگیاتھاکہ:
الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکا ۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَر
ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔(حج:41)
پھرجس شخص نے ان کویہ دعوت دی تھی اس کا یہ حال تھا کہ کا ن خلقہ القرآن۔وہ جو کچھ کہتا تھاسب سے پہلے اورسب سے بڑھ کرخود اس پر عمل کرکے دکھاتا تھا۔وہ فضیلت اخلاق اور عمل صالح کا مجسمہ تھااوراس کی زندگی میں راست بازی اور راست روی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
یہی دو چیزیں تھیں جنہوں نے ہرطرف سے لوگوں کوکھینچا اور وہ قوم بنادی جس کا نام مسلمان ہے۔نوع انسانی کے مختلف طبقوں اور گروہوں میں سے جن جن لوگوں کے لیے ان دو چیزوں میں کشش تھی، وہ اس مرکزکی طرف کھینچتے چلے گئے اور انہی سے مسلمان قوم وجود میں آئی۔ دوسرے الفاظ میں اس حقیقت کو یوں سمجھیں کہ اسلامی جمعیت نام ہی اس جمعیت کا ہے جو قرآن اورسیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کشش سے وجود میں آئی ہے۔
جہاں زندگی کے وہ اصول اور مقاصدہوں گے جو قرآن نے پیش کیے ہیں اورجہاں طرز عمل وہ ہوگا جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا تھا وہاں “مسلمان”جمع ہوجائیں گے،اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ہوں گی وہاں ان لوگو ں کے لیے قطعاکوئی کشش نہ ہوگی جو”مسلمان “ہیں۔
مسلمانوں کی قومی تحریکا ت کے ناکا م ہونے کی وجہ
اب ہر شخص سمجھ سکتاہے کہ ہماری قومی تحریکات میں بنیادی نقص کونسا ہے جس کی وجہ سے مسلمان کسی تحریک کی طرف بھی فوج درفوج نہیں کھنچتے اور داعی کی آواز بہرے کا نوں سے سنتے ہیں؟ ان کی فطرت وہ آواز سننا چاہتی ہے اوروہ طرز عمل دیکھنا چاہتی ہے جس کی کشش نے ان کوساری دنیا سے الگ ایک قوم بنایا تھا۔مگر افسوس !نہ وہ آواز کسی طرف سے آتی ہے اورنہ وہ طرز عمل کہیں نظر آتاہے۔بلانے والے ان کو ایسے مقاصد کی طرف بلاتے ہیں جوان کی زندگی کے اصلی مقاصد نہیں ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ علّو اور تمکّن فی الارض کی طرف آؤ۔حالانکہ یہ مسلمانوں کا نصب العین نہیں ہے، اپنے نصب العین (اعلائے کلمۃ اللہ)کے لیے اس کی بے غرضانہ جدو جہدکا طبعی نتیجہ ہے۔کوئی ان کو وطن پرستی کی طرف بلاتاہے، حالانکہ اسی چیز کو چھوڑ کرتو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہوئے تھے کوئی ان کو نہایت ادنی درجہ کے مادی فوائد کی طرف بلاتاہے، حالانکہ مسلمان کی نگاہ میں ان کی حیثیت متاع غرور سے زیادہ نہیں۔پھر جو لوگ مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اٹھتے ہیں ان کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ادنی جھلک تک نظرنہیں آتی۔کہیں مکمل فرنگیت ہے؛کہیں نہرو اور گاندھی کا اتباع ہے؛ کہیں جبّوں اورعماموں میں سیاہ دل اور گندے اخلاق لپٹے ہوئے ہیں۔زبان سے وعظ، اور عمل میں بدکاریاں، ظاہر میں خدمت دین اور باطن میں خیانتیں، غداریاں اورنفسانی اغراض کی بندگیاں جمہور مسلمین بڑی بڑی امیدیں لیکر ہر نئی تحریک کی طرف دوڑتے ہیں۔مگر مقاصدکی پستیاں اور عمل کی خرابیاں دیکھ کران کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔
خیر یہ ایک دوسری داستان ہے۔اب رسول اللہ علیہ وسلم کے طریق تنظیم پرغورکیجیے کہ مسلمان قوم کی تنظیم اگر ہوسکتی ہے تو اسی طریق پر ہوسکتی ہے۔
اسلامی تنظیم کے اصول
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی جمعیت اس ڈھنگ پر بنائی تھی کہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی گروہ میں سے صرف ان لوگو ں کوچھانٹ لیاجن کی فطرت میں ایک خالص صداقت اورایک پاک زندگی کی طرف کھنچنے کی صلاحیت تھی۔پھر تعلیم وتربیت کے بہترین ذرائع سے کا م لیکران میں سے ایک ایک فردکی اصلاح فرمائی،اس کے دل میں زندگی کا ایک بلند مقصد بٹھادیا،اوراس کے کیریکٹر میں اتنی مضبوطی پیدا کی کہ وہ اس مقصد کے لیے جم کر جدوجہد کرے اور کسی فائدہ کا لالچ یاکسی نقصان کا خوف اسے اس مقصد کی راہ سے نہ ہٹا سکے۔ اس کے بعد ان افراد کو ملاکر ایک جماعت بنادیا تاکہ افراد میں جو کچھ کمزوریاں باقی رہ جائیں،جماعت کی طاقت ان کو دورکردے۔ اجتماعی ماحول ایسا بن جائے جس میں نیکیاں پرورش پائیں اور برائیاں ابھرنہ سکیں۔افراد اپنے مقصد حیات کی تکمیل میں ایک دوسرے کے مددگارہوں، اور اجتماعی طاقت سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اس تعمیر کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی ماہرفن انجینئر اینٹوں کے ڈھیر میں سے چھانٹ کر بہترین اینٹیں لے۔ پھر ان کو اس طرح پکائے کہ ایک ایک اینٹ بجائے خود پختہ ہوجائے۔ پھر ان سب کو نہایت عمدہ سیمنٹ سے جوڑکر ایک مستحکم عمارت بنادے۔
اس تنظیم کے بڑے بڑے اصول یہ تھے:
۱۔ جماعت کے تمام افراد کم ازکم دین کے جوہر سے واقف ہوں تاکہ وہ کفرو اسلام میں تمیز کرکے اسلام کے طریقہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہ سکیں۔
۲۔ اجتماعی عبادات کے ذریعہ سے افراد میں اخوت، مساوات اورتعاون کی اسپرٹ پیدا کی جائے۔
۳۔ جماعت کے تمدن ومعاشرت میں ایسے امتیازی خصائص اور حدود مقررکیے جائیں جن سے وہ دوسری اقوام میں خلط ملط نہ ہوسکیں اور باطنی وظاہری دونوں حیثیتوں سے الگ الگ قوم بنے رہیں۔اسی لیے تشبہ بالاجانب(دوسروں کی نقالی) کی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔
۴۔ تمام اجتماعی ماحول پر امربالمعروف اورنہی عن المنکر چھایا رہے تاکہ جماعت کے دائرہ میں کوئی انحراف اورکوئی بغاوت راہ نہ پاسکے۔ سرکشی کا پہلا اثرظاہر ہوتے ہی اس کا استیصال کردیا جائے اور منافقین کے ساتھ غلظت اورشدت کا ایسابرتاؤ ہوکہ یاتو وہ جماعت سے نکل جائیں یا اگررہیں تو کوئی فتنہ نہ اٹھاسکیں۔
۵۔ پوری مسلمان قوم ایک انجمن ہو،اور ہر مسلمان مرد اورعورت کو مجرد اسلامی حق کی بنا پر اس کی رکنیت کا مساویانہ مرتبہ حاصل ہو۔ ایسے تمام انتسابات اورامتیازات کو مٹادیا جائے جومسلم اورمسلم میں تفریق کرتے ہوں۔ہر فرد مسلم کو قومی معاملات میں حصہ لینے اور رائے دینے کا پورا حق حاصل ہو، حتی کہ ایک غلام بھی کسی کو امان دیدے تو وہ پوری قوم کی طرف سے امان ہو۔
۶۔ جماعت کے تمام افراد ایک نصب العین پر متحد ہوں اوراس کے لیے جدو جہداور قربانی کرنے کا جذبہ ان میں موجود ہو ایک گروہ صرف اسی نصب العین کی خدمت کے لیے وقف رہے۔اوربقیہ افرادجماعت اپنی معاش کے لیے جدوجہدکرنے کے ساتھ ساتھ پہلے گروہ کی ہرممکن طریقہ سے مدد کرتے رہیں اور مجموعی طور سے پوری جماعت اوراس کے ہر ہرفرد کے دل میں یہ خیال بیٹھا ہوا ہوکہ اس کی زندگی کا اصل مقصود روزی کمانا نہیں ہے بلکہ اسی ایک نصب العین کی خدمت کرناہے۔
تنظیم کے یہی اصول تھے جن سے وہ زبردست جماعت پیدا ہوئی جو دیکھتے دیکھتے آدھی دنیا پر چھاگئی۔اس طریق تنظیم کی رفتار ابتداء میں بہت سست تھی، حتی کہ پندرہ برس تک وہ چند سو سے زیادہ افراد کو اپنے دائرے میں نہ لاسکی۔ مگر اس میں یہ قاعدہ مدنظر رکھا گیاتھا کہ توسیع (Expansion)کے ساتھ استحکا م(Consolidation)بھی ہوتا رہے،اس لیے یہ نظام جماعت جتنا پھیلتا گیا اتناہی مضبوط ہوتا چلاگیا،یہاں تک کہ جب ایک معتدبہ جماعت اس طریق پ رمنظم ہوگئی تووہ اتنی طاقت کے ساتھ اٹھی کہ دنیا کی کوئی چیز اس کے سیل رواں کو نہ روک سکی۔ قرآن مجید میں اس کی چھوٹی سی ابتداء، پھر تدریجی ترقی،پھر غیر معمولی شان وشوکت کے ساتھ اس کے ظہور کو کیسے بلیغ انداز میں بیان کیا گیاہے:
کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّار
ترجمہ:کہ(وہ) گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل (سوئی) نکا لی پھر اس کو تقویّت دی، (سہارا دیا)پھر وہ گدرائی، (سخت ہوئی) پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کا شت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفّار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں(فتح:29)
مسلمان قوم کے مزاج کے ساتھ یہی طریق تنظیم مناسبت رکھتا ہے۔یہ قوم تو پہلے ہی سے ایک جمعیت ہے۔۔۔اس جمعیت کے اندر کوئی الگ جمعیت الگ نام سے بنانا،اور مسلمان اور مسلمان کے درمیان کسی دوری یاکسی ظاہری علامت یاکسی خاص نام یاکسی خاص مسلک سے فرق وامتیاز پیدا کرنا، اور مسلمانوں کو مختلف پارٹیوں میں تقسیم کرکے ان کے اندرگروہ بندیوں اور فرقوں کی مصیبتیں پیداکرنایہ دراصل مسلمانو ں کو مضبوط کرنا نہیں ہے،بلکہ ان کو کمزور کرنا ہے۔ یہ تنظیم نہیں تفرقہ پردازی اورگروہ بندی ہے۔لوگوں نے آنکھیں بندکرکے جمعیت سازی کے یہ طریقے اہل مغرب سے لے لیے ہیں۔مگر ان کو معلوم نہیں ہے کہ جو چیزیں دوسری قوموں کے مزاج کو موافق آتی ہیں،وہ مسلمان قوم کے مزاج کوموافق نہیں آتیں۔اس قوم کو اگر کوئی چیز راس آسکتی ہے تو ایک ایسی عمومی تحریک ہے جو پوری قوم کو ایک انجمن سمجھ کر شروع کی جائے۔ اور جس میں توسیع واستحکام کے اسی تناسب کو ملحوظ رکھا جائے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملحوظ رکھا تھا۔آپ اگرکچے اور کمزور مسالے سے ریت کی سطح پر ایک عمارت کھڑی کردیں گے اوراس سے قلعہ کا کام لینا چاہیں گے تو لامحالہ وہ سیل حوادث کی ایک ٹکربھی نہ جھیل سکے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *