اسیمانند:داورِ حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ (قسط دوم)

اسیمانند کی آپ بیتی میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کیلئے جو سامانِ عبرت ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو اس نے خود اپنے دھرم کی رکشا اور اس کی تبلیغ و ترویج کا کام کیسے کیا ؟ دوسرے اس نے عیسائیت کی تبلیغ واشاعت پر کس طرح قدغن لگائی؟ملت میں چونکہ دعوت کا رحجان بڑھ رہا ہے اور ہمارا مخاطب بھی وہی معاشرہ ہے جس میں اسیمانند جیسے لوگ کام کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے ہمیں ان کے طریقۂ کار کا علم ہو۔ مشرق بعید کی ریاستوں میں عیسائی مشنریوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے سنگھ پریوار پریشان تھا اس لئے قبائلی عوام میں کام کرنے کیلئے آرایس ایس نے عیسائیوں کی طرز پر ونواسی وکاس آشرم نامی تنظیم قائم کی۔ یہ تنظیم بھی آدیباسی علاقوں میں اسکول ،ہاسٹل ، کھیل کا میدان اور امدادی دواخانہ بناتی تھی اور اس میں طلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد و نظریات سے روشناس کراتی تھی۔ دراصل قبائلی لوگ نہ تو ہندو تھے اور نہ عیسائی انہیں جو بھی اس کےمذہب کی جانب بلاتا وہ نسبتاً آسانی سے اس کے ساتھ ہوجاتے۔ آر ایس ایس کا ہمہ وقتی کارکن بننے کے بعد اسیمانند تقریباً دس سالوں تک پرولیا اور اس کے قرب و جوار کے قبائلی علاقوں میں سرگرم رہا۔
اسیمانند کی ملاقات ؁۱۹۸۸ میں ونواسی آشرم کے سکریٹری بھاسکر راؤ سے ہوئی جس نے نوجوان ناباکمار کی صلاحیتوں کو بھانپ کر اپنے صدر جگدیو رام اوریون کو مشورہ دیا کہ اسے دھرم جاگرن کی غرض سے انڈمان روانہ کیا جائے۔اس طرحاسیمانند کو پہلی بار اپنے جوہر دکھانے کا موقع انڈمان نکوبار کے جزیروں پرملا جہاں ریاستِ چھتیس گڑھ سے ہجرت کرکے جانے والے اکثر قبائلیعیسائیت میں داخل ہو چکے تھے اور اسی بات نے سنگھ پریوار کو تشویش میں مبتلا کررکھاتھا ۔اسیمانندنے وہاں جاکر دیکھا کہ جو قبائلی عیسائیت قبول کر چکے ہیں ان کے اندرہنوزقدیم رسوم رواج کا چلن باقی ہے۔وہاں کے بزرگ نسل کا اپنی قدیم تہذیب سے ناطہ ابھی نہیں ٹوٹا ہے ۔مجھ جیسا کوئی تند خوانسان ہوتا تو ان مرتدین سے بدظن ہوجاتااور ان پرلعنت ملامت کرکے واپس چلا آتا لیکن اسیمانند ان میں رل مل گیا اور اسی ثقافتی سوراخ سے ان کے قلب و ذہن میں داخل ہوگیا ۔
ہندو مت کی جانب نو عیسائی قبائلیوں کوراغب کرنے کیلئے اسیمانند نے اس تہذیب و ثقافت کا سہارا لیا جس کے جراثیم ان کے اندر ہنوز موجود تھے ۔ اس نے ان بزرگوں سے کہا کہ مجھے چند نوجوان دیجئے جنہیں میں اپنے ساتھ لے جاکر قبائلی تہذیب (تہوار ، رقص و سرود)سے آراستہ کر کے واپس لاؤں ۔ اس طرح ۶ نوجوان لڑکیوں کی ایک ٹیم تیار ہوئی جنہیں لے کر اول تو وہ کنیا کماری کے وویکانند مرکز میں لے گیا۔ آر ایس ایس کے اس مرکز میں ان کو بھجن سکھائے گئے اور ان کے دل سے حضرت مسیحؑ کونکال کر اس جگہ ہنومان کی مورت نصب کردی گئی۔ اس کے بعد وہ انہیں جش پور کے قبائلی مرکز میں لے گیا جہاں تین ماہ تک ان کی تربیت کی گئی۔انڈمان واپس آنے کے بعد وہ ان کی مدد سے جگہ جگہ پر ثقافتی و تفریحی ناٹک وغیرہ کرنا چاہتا تھا لیکن چونکہ یہ لڑکیاں جوان تھیں اس لئے سب سے پہلے ان کا نکاح کردیا گیا ۔ان یاتراؤں اور روایتی رقص و سرود کے دوران چھوٹے بچوں کی ایک اور ٹیم تیار ہوگئی جنہیں لے کر اسیمانند پھر واپس آگیا اس طرح یہ کام پھیلنے لگا ۔ اب اسیمانند نے گھر واپسی نام کی تحریک چلائی اور کثیر تعداد میں قبائلی لوگوں ہندو مت کے اندر لانے میں کامیاب ہوگیا۔جب اس نے دیکھا کہ یہاں ہندوؤں کا کوئی مرکز نہیں ہے اس لئے اسیمانند نے پورٹ بلیر کے اندر پہلا مندر قائم کیا۔
پورٹ بلیئرمندر کمیٹی کی کرسی ٔصدارت پر خود براجمان ہونے کے بجائے اسیمانند نے اسے آر دامودرن نامی مقامی شخص کے حوالے کیا اور بشنو پدا رائے نامی بنگالی کو اس کا سکریٹری بنایا۔اسیمانند نے کہا کرتا تھا مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہمارے کام کا ایک جز ہے ۔ ؁۱۹۹۰ میں انڈمان سے ایک کانگریسی منورنجن بھکترکن پارلیمان ہواکرتا تھا ۔ اسیمانند کی دعوتی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ؁۱۹۹۹ میں بشنو پدا رائے انڈمان کا پہلا بی جے پی رکن پارلیمان منتخب ہوا اور ؁۲۰۰۷ میں دامودرن کو پورٹ بلئیر میونسپل کاؤنسل کا متفقہ صدر منتخب کیا گیاگویا اس نے انڈمان میں سیاست سے دعوت کی فضا ہموار نہیں کی بلکہ دعوت سے سیاست کی ہوا بنائی ۔
ہندو دھرم کی دعوت وتبلیغ کے طریقۂ کار عیسائیت کے بالکل برعکس تھا۔ اس کے اندر ہمدردی اور نرم خوئی کے بجائےسختی و سفاکی کے عناصر پائے جاتےتھے ۔اسیمانند سونامی کے بعد ریلیف کے دوران رونما ہونے والا ایک واقعہ بڑے فخر سے بیان کرتا ہے کہ ایک عیسائی خاتون نے آکر ان کے کیمپ میں دودھ مانگا اس لئے کہ اس کا شیر خوار بچہ تین دن سے بھوکا تھا ۔ سنگھی درندوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا مگر وہ تقاضہ کرتی رہی تو اسے سوامی جی یعنی اسیمانند کے پاس بھیج دیا گیا۔ اسیمانند نے اس سے کہا میرے لوگوں کا رویہ درست ہے تجھے یہاں سےدودھ نہیں مل سکتا ۔ اس سفاکی کے مظاہرے کی توضیح اسیمانند کے ڈانگ میں دئیے گئے بیان سےیوں یوں ہوتی ہے کہ ہندوؤں کے دھرم پریورتن کوروکنے کا سب سےمؤثر طریقہ یہ ہے کہ مذہب کے حوالے سےانہیں کٹرّ(سخت گیر) بنا دیا جائے۔ باقی کام وہ خود کر دیتے ہیں۔ اب ہمیں اپنا جائزہ لے کر دیکھنا چاہئے کہ ہماری کن حرکات
سے ہندوؤں کے اندر اسلام کے تئیں کٹرّپن میں اضافہ ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے ہماری وہ ساری سرگرمیاں اپنے آپ اسیمانند جیسے لوگوں کا بلا واسطہ تعاون بن جاتی ہیں۔
ہندوتوا کے نقطۂ نظر سے اسیمانند نے دوسرا بڑا کارنامہ گجرات ضلع ڈانگ میں انجام دیا جس کو ایک زمانے میں مغرب کا ناگا لینڈ کہا جاتا تھا۔ ؁۱۹۹۱ میں یہاں عیسائی آبادی کے اضافہ کی شرح بڑھ کر ۹ فیصد ہو گئی تھی۔ اسیمانند نے وہاں ؁۱۹۹۸ میں قدم رکھا اور اسی سال عیسائیوں پر ۲۰ حملے ہوئے۔ اسیمانند بڑے فخر سے بیان کرتا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں ہم نے ۳۰ چرچ مسمار کئے اور ۴۰ہزار نوعیسائیوں کو ڈرا دھمکا کر ہندو بنا دیا۔ اس کامیابی کے پسِ پشت خوف و دہشت کے علاوہ اسیمانند کی سادگی، سخت کوشی اور قبائلی عوام کے ساتھ ملنے جلنے اور کھانے پینے کے عادات و اطوار کا بھی دخل تھا۔اسیمانند کی محنت و مشقت اور یکسوئی جہاں اس میدان میں کام کرنے والوں کا حوصلہ بڑھاتی ہے وہیں ان واقعات میںدعوتدین کاکامکرنےوالوںکیلئےیہسبقہےکہاگرنوواردینکیتربیتکاانتظامٹھیکسےنہ کیا جائے تومعمولیسی آزمائش کے آجانے سے برسوں کے کئے کرائے پر منٹوں میں پانی پھر سکتا ہے جیسا کہ عیسائی مشنری کے ساتھ ہوا۔ دعوت دین کے نتیجے میں ایمان کے شجر کا قلب کے اندر راسخ ہونا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
اسیمانند کی اس دہشت گردی کے خلاف سونیا گاندھی نے ڈانگ ضلع کا دورہ کرکے اس کی مذمت کی جس کے جواب میں آر ایس ایس نے اسیمانند کی حوصلہ افزائی کیلئے اسےگرو گولوالکر کے یاد میں دئیے جانے والے’’شری گروجی‘‘ نامی تمغۂ امتیاز سے نوازہ۔ اس کے بعد نریندر مودی کی سرپرستی میں شبری کمبھ میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں اس وقت کےسرسنگھ چالک سدرشن ،ان کے سکریٹری موہن بھاگوت اوراندریش کمار سے لے کر پروین توگڑیا، اشوک سنگھل، شیوراج سنگھ چوہان ، مراری باپو، بدنام زمانہ آسارام باپو کے ساتھ سادھوی رتھمبرا وغیرہ نےشرکت کی۔ اس میلے کو کامیاب بنانے کیلئے مدھیہ پردیش سے قبائلی عوام کو ٹرکوں میں بھر بھر کر لایا گیا تھا جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ اسیمانند کی شہ پرگجرات کی مودی سرکار نے تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون وضع کردیا اور سیروسیاحت کے نام پرسرکاری خزانے سے کروڈوں روپئےڈانگ ضلع کے اندرمندروں ، سڑکوں اور پارکوں کی تعمیر پر صرف کئے جانے لگے ۔ویسے تو یہ اسیمانند عروج کا زمانہ تھا لیکن تبدیلیٔ مذہبکو روکنے کیلئے دہشت ،دولت اوردستورکا بیجا اور بے دریغ استعمال بلا واسطہ طور پرعیسائی مشنری کے بالقابل شکست کا اعتراف بھی تھا ۔
ڈانگ میں اپنے قیام کے دوران اسیمانند کامیل جول اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی شعلہ بیان نوجوان سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور اندور ضلع کے آریس ایس جنونی اور جوشیلےرہنما سنیل جوشی سےہوئی۔ ان لوگوں کی تو جہات کا مرکز عیسائی مشنری کے بجائے مسلمان تھے۔ جب پرگیہ اور جوشی نے اسیمانند سے پوچھا مسلمانوں کے ذریعہ اکشردھام اور دیگر مقامات پر کئے جانے والے بم دھماکوں کا علاج کیا ہے تو اسیمانند کا جواب تھا ’’بم کا بدلہ بم‘‘یہیں سے ہوا کا رخ بدلا۔ دھرم رکشا کی جگہ دھرم یدھ نے لے لی اور دیکھتے دیکھتے ایک برہماچاری سادھو دانستہ یانا دانستہ طور پرخطرناک دہشت گرد گروہ کا فرد بن گیا۔
اس دہشت گردگروہ کو؁۲۰۰۵ میں سر سنگھ چالک موہن بھاگوت اور ان کے دستِ راست اندریش کمار نے ڈانگ ضلع کے ایک خفیہ خیمہ میں اپنے آشیرواد سے نوازہ۔ بھاگوت نے اس وقت اسیمانند سے کہا تھا تم سنیل جوشی کے ساتھ اس مہم میں حصہ لے سکتے ہو۔ ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن سمجھو کہ ہم کہ تمہارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ کریں گے تو اس میں ہماری رضامندی ہےاور کچھ بھی غلط نہیں ہے ۔ کرمنلائزیشن نہیں ہوگا۔ اگر تم نے یہ کارروائی کی تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کوئی مجرمانہ حرکت ہے اس لئےکہ یہ نظرئیے کی خاطر یہ بہت ضروری ہے۔ تم اس کام کو ضرور کرو ہمارا آشیرواد تمہارے ساتھ ہے‘‘۔ اسی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر ؁۲۰۰۶کےشبری کمبھ میلےمیں روحِ رواں ہونے باوجود اسیمانند نے اپنے آپ کواسٹیج سے دور رکھا ۔
اس گروہ میں تین طرح کے لوگ شامل تھے ۔ اول تو جوشی،پرگیہ،ڈانگے ،کالسنگارے،شرما ، گپتاجیسے آرایس ایس کے سابق ذمہ داران ۔ ان کے علاوہ گجرات کے فسادات میں ملوث فراری مجرم مثلاًراج اور میہول وغیرہ جو بیسٹ بیکری کی قتل و غارتگری میں مطلوب تھے ۔ لیکن ان کے ساتھ کچھ نئے لوگ بھی شامل ہو گئے مثلاً کینیڈا سے آنے والا بھرت راٹیشور، ابھینو بھارت کےکرنل سری کانت پروہت اورسوامی دیانند پانڈے وغیرہ۔ان میں سے کرنل پروہت تو ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ وہ ڈبل ایجنٹ تھا اور اس کو افسران کی ہدایت پر اس کام میں لگایا گیا تھا۔ یہ بات قرینِ قیاس اس لئے بھی ہے فوجی تربیت گاہ کا استعمال بغیر اعلیٰ افسران کی ہدایت کے ناممکن ہے۔ وارانسی کا رہنے والے دیانند پانڈے جس کے تین نام ہیں ؁۲۰۰۳ سے جموں کشمیر میں تعینات کرنل پروہت کے ساتھ رابطے میں تھا اور پولس ریکارڈ کے مطابق برابر وہاں آیا جایا کرتا تھا۔ اس ربط ضبط کے علاوہ دیا نند پانڈے کا تمام منصوبوں کی تفصیلات کا ویڈیوریکارڈنگ سمیت اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرلینا شک کے دائرے کو اس کے گرد مزید تنگ کردیتا ہے۔
اس گروہ کے ذریعہ کئے جانے والے یکے بعد دیگرے مختلف دھماکوں کا سلسلہ بالآخر پرگیہ، پانڈے،پروہت ،راٹیشور اور اسیمانند کی گرفتاری پر منتج ہوا۔ان گرفتار شدگان کے علاوہ باقی تمام ارکان گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہیں۔ اس پکڑ دھکڑ کے بعدنوساری کے اونائی مندر کوتو حکومت نے ۶۳ء۳کروڈ روپئے خرچ کرکے تعمیر کردیا لیکن اس کے قریب موجود قدرتی گرم پانی کا چشمہ جو زائرین کی کشش کا بنیادی سبب تھا اچانک پہلی بار خشک ہوگیا ۔اسیکےساتھ اسیمانند کاشبریدھاممندربھیویرانہوگیا ۔ وہآشرمجہاںاسیمانندرہاکرتاتھاڈھادیاگیا۔ اسیمانندکیگرفتاریکےبعدگجراتکےخوشحالبھکتوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی اوراب یہ حال ہے کہ مہاراشٹرسےآنےوالے غریب عقیدتمندوں کےچندےسےمندرکےپجاریکاگزارہتک نہیں ہوتا ۔ جب کارواں جریدے کی مدیرہ گیتانےاسیمانندسےآشرم کی بربادی کا سبب دریافت کیاتواسنےتسلیمکیاکہ’’وہمیریغلطیتھیمیں نے اسےٹھیکسےتعمیرنہیںکرسکاتھا‘‘۔ دراصل قصور وار تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے۔ اسیمانندکیتخریبکارینےاسکےآشرمکوکھنڈربنادیا ۔اسیمانندکو جیل کی کوٹھری میں بیٹھ کر اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں نے کس طرح اس کوساتھیوں سمیت اپنے مفاد میں استعمال کرکے اس کے سامراج کو تتر بتر کردیا اور اگر ممکن ہو سکے تو اس کا اعتراف بھی کرنا چاہئے لیکن اسیمانند جیسے بزدل سے اس کی امید کم ہے۔
کرنل پروہت اور پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی گرفتاری کو تقریباً تین سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔ اس کے بعد کئی اور گرفتار ہوئےلیکن کانگریس کی مرکزی حکومت ان میں سے کسی کا بال بیکا نہ کرسکی ۔ قومی تفتیشی ایجنسی کے وشال گرگ نے گیتا کو بتلا یا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قانونی مو شگافیوں کا سہارا لے کرانہیں سنیل جوشی قتل کیس میں پرگیہ اور پروہت کی تفتیش سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ وہ اندریش کمار سے تفتیش کیوں نہیں کرتے گرگ کا کہنا ہے کہ وہ داخلی معاملہ ہے میں اس بابت زبان نہیں کھول سکتا۔ اندریش کمارکو حکومت کی کمزوری نے اس قدر منہ زور بنا دیا ہے کہ وہ کہتا ہے اگر میرے خلاف شواہد موجود ہیں تو مجھے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا۔ خفیہ ایجنسی کے ایک افسر نے گیتا کو وزارتِ داخلہ کی رپورٹ دکھلائی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ان دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے سبب کیوں نہ آر ایس ایس پر پابندی لگانے کیلئے وجہ بتاؤ نوٹس دی جائے لیکن اس پر بھی وزیر داخلہ کے دفتر سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اس لئے ان دھماکوں نے جہاںسنگھ پریوار کو بدنام کیا ہے وہیں کانگریس کے حصے میں بھی ان کے سبب کوئی نیک نامی نہیں آئی۔
ہندو انتہا پسندوں کے دل میں کانگریس کا خوف تو نہیں ہے مگرنریندر مودی سے ان لوگوں نے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں جس کا اظہار اسیمانند کے بھائی اور خود اس نے بھی کیا۔ اسیمانند نے پھولچند ببلو کو بتایا کہ ’’وہ دن دور نہیں جب ہم رہا ہو جائیں گے اورسنیل جوشی و پرگیہ جیسے لوگوں کا آغاز کردہ کام پھر سےجاری و ساری ہوجائیگا۔ یہ ضرورہوگا اور ہو کر رہے گا‘‘۔ گیتا کی ملاقات جب اسیمانند کے بھائی سشانت سرکارسے ہوئی تو اس نے کہا چند ماہ انتظار کروجب نریندر مودی وزیر اعظم بن جائیگا تو میں گاؤں کے مرکز اسٹیج لگا کر ساری دنیا کو بتاؤں گا کہ میرے بھائی نے کون کون سے عظیم کارنامے انجام دئیے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ نریندر مودی وزیر اعظم بن بھی جاتا ہے تو وہ ان دہشت گردوں کی توقعات پر پورا اترے گا یا اپنے پیش رو ہندو انتہا پسند وزیر داخلہ اڈوانی کی مانند اپنی کرسی بچانے کیلئے ہندوتواوادیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے گا یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *