تختۂ مشق مسلم اوقاف ہی کیوں؟

ضلع گورنمنٹ ایڈوکیٹ کی حیثیت سے لکھنو سے ایک میٹنگ میں شرکت کرکے میں لوٹ رہا تھا۔ بات 1985کی ہے میرے ہم سفر یوپی محکمہ فلاح و بہبود کے سکریٹری( اب رٹائرڈ )تھے۔ یہ دلت فرقہ سے تھے۔ انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ ’’1955کے بعد سبھی مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی خفیہ پالیسی ہے کہ مسلم اوقاف کو دھیرے دھیرے ختم کیا جائے، وہ بھی مسلمانوں کے ذریعہ ۔عیسائی اوقاف کیرل، مدراس اور شمالی مشرق کی چھوٹی ریاستوں کو چھوڑ کر عیسائی اوقاف ختم پذیر ہیں۔‘‘1954وقف ایکٹ کی ترمیمات ،1995وقف ایکٹ اور اس میں ترمیمات اور دو آتشہ عمل کے لیے سبھی وقف بورڈوں میں کرپشن کی انتہا یہ اشارہ کرتی ہے کہ مذکورہ بیان کی صداقت کیا ہے!اس مختصر رائٹ اپ میں صرف چند اہم امور کی طرف اشارات ہی ممکن ہیں۔
لمبےعرصہ کے لیے لیز پر دیے جانے کا پروویژن (دفعہ 56ترمیم شدہ) قانون کا عام طالب علم جانتا ہے کہ لیز(پٹہ دوامی) دفعہ 105قانون انتقال جائداد (Transfer of Property)ہے۔ سبھی مکاتب فقہ میں وقف جائداد ایک دو یا تین سال کے لیے کرایہ پر دی جا سکتی ہیں وقف کا بنیادی تصور ہی جائداد کا ناقابل انتقال ہونا ہے۔’’ملت کی ترقی‘‘ تعلیمی ترقی فلاحی اسکیموں کے نام پر وقف جائدادیں دوامی پٹہ(Permanent) پر دیے جانے سے منتقل کی جائیں گی۔ یہ نوشتۂ دیوار ہے اوقاف کے تحلیل کیے جانے کا۔ باشعور حضرات غور کریں اور وکلاء حضرات بتائیں کہ 30سال60سال90سال کے پٹے سے آج تک کوئی جائداد آزاد ہوئی ہے؟ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں نزول کی اراضیات سرکار نے دوامی پٹوں پر دی تھیں۔(1860)کے بعد سرکاری مشینری بھی یہ جائدادیں واپس نہیں لے سکی۔ مجبور ہو کر مارکیٹ ویلیو پر پریمیم لے کر سرکار نے قانون فری ہولڈ بنا کر پٹے داروں کو ملکیت کے حقوق دے دیے۔ کیا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس پہلو پر غور کیا؟جب سرکاریںنزول کی زمینیں ری کور(بازیافت) نہیں کر سکیں تو متولیان وقف بورڈ کی طاقت ہی کیا ہے؟
اوقاف کے ڈیولپمنٹ کا پروویژن وزیر باتدبیر کے رحمن خان نے اپنے اس برین چائلڈ پر فخر کیا ہے۔ این ایم ڈی ایف سی کی ذیلی کمیٹی نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی ہے۔ یہ کارپوریشن اتھارائزڈ کیپٹل پانچ سو کروڑ روپے سے ہے یعنی اس رقم کی مرکزی(Nucleus) حیثیت ہے:(۱)اس کے سود کی رقم سے اوقاف کا ڈیولپمنٹ کیا جائے گا(۲)جن اوقاف کو ڈیولپمنٹ کرنے کے لیے کارپوریشن سرمایہ دے گی اس پر سود لیا جائے گا، قسطوں پر ادائیگی ہو گی۔ (۳) کارپوریٹ سیکٹر یعنی بڑی بڑی کمپنیوں کو جیسے ڈی ایل ایف، انسل کواوقاف کی جائدادیں ڈیولپمنٹ کے لیے دی جائیں گی۔(۴)اقلیتی تعلیم ادارے جو اصل میں تعلیم کے تاجر ہیں،بڑی بڑی رقمیں انڈر ٹیبل ک۔۔۔فیس لے کر میڈیکل انجینئرنگ ٹیکنیکل کورسوں میں داخلے دیتی ہیں اس کا فائدہ اٹھائیں گی۔ کیا اس طرح ہوگی ملی تعلیمی ترقی؟ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے علما اس طریقہ کو جائز قرار دیں گے؟ کیونکہ یہ سب پروسس سودی اصول پر ہوگا کیا فرماتے ہیں علماء دین شرح متین اس پہلو یا اس مسئلہ پر؟
وقف بورڈ (جو پہلے سے ہی کرپشن کی کانیں ہیں )کے افسران، عہدیداران، بلڈر، لینڈ مافیا اور نادان(بے ایمان) متولیوں کی چاندی ہوگی۔مثال کےطور پر(۱)سہارنپور کی عیدگاہ جدید کے غرب میں میونسپل بورڈ کو ا یک بڑی اراضی پٹے پر دی گئی تھی، پٹہ 1970میں ختم ہو گیا تھا۔ اس پر میونسپل بورڈ نے صفائی ملازمین کو آباد کیا تھا جب کہ یہ اراضی متعدی (چھوت) بیماریوں کا اسپتال قائم کرنے کے لیے دی گئی تھی۔ سہارنپور کی عیدگاہ قدیم رقبہ 2700مربع میٹر 1994سے اب تک پٹوں پر دے کر اس عیدگاہ کا کیرکٹر ختم کر دیا گیا ۔ اندرا بھون اور نہرو بھون اور رائل ہوٹل ممبران اسمبلی کی رہائش گاہ لکھنؤ بھی وقف کی جائدادوں پر تعمیر ہیں۔ ان کے درمیان قدیم مساجد نوابی دور کی اب بھی ہیں۔ کیا وقف بورڈ میں اتنی سکت ہے کہ وہ ان وقف جائدادوں کو واپس لے لے؟
وقف علی الاولاد: وقف علی الاولاد کا قانونی تصور مسلم قانون میں مخصوص ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کی قیادت میں 60سال کی جدوجہد کے بعد 1993میں یہ قانون بنا تھا اب اس قانون کو 1878کی قانونی حالت پر واپس پہنچا دیا ہے۔ وقف جائداد اس حد تک وقف ہے جس حد تک مسلم قانون کے مطابق مذہبی پاک اور امور خیر کے لیے ہو یعنی اگر کوئی جائداد مثلاً پرائم لوکیشن پر ایک بڑی کوٹھی ایک بیگھ آراضی پر ہے۔ وقف علی الاولاد کی گئی اور وقف نامہ میں اسی روپے سالانہ مدرسہ عبدالرب کشمیری گیٹ کے لیے امور خیر ہے۔ تو اس جائداد کو اس طرح تقسیم کیا جا سکے گا کہ چند فٹ جگہ مدرسہ کو دس روپے سالا نہ کی حیثیت سے دے دی جائے اور باقی جائداد کو منتقل کر دیاجائے ۔اس طرح قدیم رؤسا کے خلاف وقف علی ا لاولاد کا قطعی خاتمہ ہو جائے گا۔ جو مالی طور پر کمزور اور ضرورت مند ہوتے ہیں ۱نتقال ہو سکے گا۔ اور وقف ٹریبونل کی تشکیل ایک اچھی انتظامی تبدیلی ہے۔ لیکن اس میں بھی سیاست کی کارفرمائی شروع ہو گئی ہے۔ مثلاً مسلم چہرہ مانے جانے والے وزیر نے ایک ٹریبونل اپنے شہر رامپور میں اور دوسرا لکھنو میں قائم کر دیا ہے۔ یہ سیاسی جادوگری نہیں تو اور کیا ہے؟ گورکھپور، بلیا، غازی پور جیسے مشرق اضلاع لکھنو کے چکر کاٹیں گے۔ میرٹھ اور سہارنپور جیسے مغربی یوپی کے اضلاع کے لوگ رامپو رکا طواف کریں گے۔ ناجائز قابض کی اصلاح میں اس کرایہ دار کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جس کی کرایہ داری دفعہ 106قانون انتقال جائدادسے ختم کر دی گئی ہو۔ وقف بورڈ چالاک متولی اور لینڈ مافیا جس طرح سے کرایہ داروں کو پریشان کرکے اوقاف کا استحصال کریں گے۔
اہم بات: مسلم قوانین کے ارتقا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قانون سازی ایک طویل سماجی عمل ہے۔ قانون وقف علی الاولاد کی تدوین(مولانا شبلی نعمانی)، شریعی اپلی کیشن1937(ایکٹ)(مولانا اشرف علی تھانویؒ اور محمد احمد کاظمی) قانون انفساخ مسلم نکاح1939(مولانا اشرف علی تھانوی، حافظ ہدایت حسین) طویل ملی نیشنل ڈ۔۔۔اور تبادلۂ خیال کے بعد بنائے گئے۔ وقف ایکٹ 1995اور اس میں ترمیم2013مسلم مطلقہ قانون1986بند کمروں میں چند دانشوران ملت نے گھڑدیے ہیں۔ یہ نتائج سے پر قانون اہم سوال یہ ہے کہ آخر ان دانشوران کا موضوع مشق قوانین سازی مسلم وقف قانون ہی کیوں ہے؟ ہندو اوقاف ہندو انڈ۔۔۔ملک بھر میں بنارس، ہری دوار، متھرا، کاشی اور جنوبی ہند کے شہروں میں گجرات، بنگال اور راجستھان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے ڈیولپمنٹ اور ہندو سماجی بھلائی کے لیے قوانین سازی اور کارپوریشن سازی کیوں نہیں کی جاتی۔تختۂ مشق مسلم اوقاف ہی کیوں ہیں۔؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *