جمہوریہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی خوفناک نسل کشی کیوں؟

ان دنوں سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بک پر افریقہ میں مسلمانوںکی لاچارکی، بے بسی ان پر ڈھائے جا رہے دل دہلانے والے مظالم ، انکی دلدوز چیخیں، ’ہل من ناصر ینصرنا‘ کی پکارپردل خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہے۔ اب تک قریب 26مساجد شہید ہو چکی ہیں۔ فلسطین، برما اور افغانستان کے المیوں نے پہلے ہی دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھا تھا کہ افریقہ میں بھی امن و امان غارت ہو گیا ہے۔ بنگوئی سے جانیں بچا کر بھاگ آنے والے مسلمان یوکو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لگائے گئے کیمپ میں جمع ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ آخر ان پر کون سی مصیبت ٹوٹی ہے؟ تو ان کا جواب ہوگا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں انتہا پسند عیسائی ملیشیاوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مسلمان دارالحکومت بنگوئی سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب رواں دواں ہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ جمعہ کو اس افریقی ملک میں امن کے نام پر تعینات امن دستوں نے انہیں بیرون ملک جانے سے بھی روک دیا ہے۔ قابل مذمت فعل تو یہ ہے کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں عیسائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پس انسانیت سوز مظالم اور ان کے وحشیانہ انداز میں قتل عام کی خبریں عالمی میڈیا میں نمایاں طور پر نشر یا شائع نہیں کی جارہی ہیں جب کہ اس کی وجہ قطعی واضح ہے کہ یہاں مرنے والے مسلمان اور مارنے والے عیسائی ہیں۔ اگر معاملہ برعکس ہوتا تو عالمی میڈیا اس وقت حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا ہوتا۔ مسلم اقلیت عدم تحفظ کی شکارہے۔ اس سلسلہ میں جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھی وسطی افریقہ جموریہ میں مسلم اقلیت کے قتل عام کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور مسلم حکومتوں کے رویہ کے مذمت کی ہے۔ ا نہوں نے عالمی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم اقلیت کے قتل عام اور ان کی جائداد کو برباد کرنے، جلانے اور مسجدوں کو مسمسار کرنے کے متعلق خبروں کو مطلوبہ جگہ نہیں دے رہا ہے جب کہ کچھ ذرائع ابلاغ پر عیسائی ملیشیا کی طرف سے انتہائی تشویشناک حملہ کرنے اور مسلم لاشوں کی بے حرمتی کرنے کی تصوریں اورخبریں شائع ہو رہی ہیں۔ مولانا مدنی کے بقول موجودہ صورتحال پیدا ہونے میںکچھ عرب اور افریقی ملکوں میں جاری شورش اور بحران کا بھی دخل ہے جب کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ عالمی برادری اور بڑی طاقتیں خونریزی اور بے قصور انسانوں کے قتل اور جائداد کی بربادی کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے موثر اقدامات نہیں کر رہی ہیں۔ وسطی افریقہ جمہوریہ میں جو خراب صورت حال پیدا ہوئی ہے اس میں فرانس کی فوج کی آمد سے اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اعتراف کے باوجود کہ عیسائی ملیشیا کی طرف سے مسلم اقلیت پر انسانیت سوز مظالم کیے جار ہے ہیں جب کہ بھاری تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، کوئی موثر اقدام کا نہ کیا جانا بہت تشویش کی بات ہے۔ اور جس طرح عیسائی ملیشیا کے لوگ کیمروں کسے سامنے مسلمانوں کو ختم کرنے اور ان سے ملک کو خالی کروانے کی دھمکی دیتے نظر آرہے ہیں اس کے مد نظر متاثرین کا اپنی سابقہ جگہ واپس آنا مشکل ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان سمیت مسلم ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ صورتحال کو بہتربنانے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے اپنا پنا کردار ادا کریں۔ سلیکاحکومت کی حمایت سےبنگوئی اور اس کے نواحی علاقوں میں گزشتہ محض چند روز کے دوران ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں شاہد ہیں کہ مسلح سفاک عیسائی دار االحکومت کی شاہراوں پر نہ صرف دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ وہ کھلے عام مسلمانوں کو للکار بھی رہے ہیں جہاں بھی انہیں کسی مسلمان کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے وہ اس کو پکڑ کر قتل کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مونؔ کی معصومیت کے قربان جائیے کہ انہوں نے سلامتی کونسل سے جمہوریہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کی ’اپیل‘ کی ہے جب کہ فرانس نے اس ملک میں تعیناتی کے لیے مزید چار سو فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل فرانس کے 16سو فوجی اس کی اس سابقہ کالونی میںموجود ہیں لیکن فرانسیسی فوجیوں کے علاوہ افریقی امن دستوں کی موجودگی کے باوجود وسطی افریقہ کے دار الحکومت میںخونریزی جاری ہے جب کہ ’امن دستے‘ عیسائی بلوائیوں کے ہاتھوں مسلمانو ںکے خلاف جاری مظالم کو رکوانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جمعہ کو تازہ لڑائی میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ مسلح عیسائیوں کے جتھے مسلمانوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور وہ انہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں یا کھلے عام سڑکوں پر نہ صرف گھسیٹتے ہیں بلک لاشوں کا مثلہ بھی کر دیتے ہیں۔ انہیںیہ سزا سابق سلیکا حکومت کی حمایت کی پاداش میں دی جا رہی ہے۔مسلمانوں کی حمایت یافتہ اس حکومت کو گزشتہ ماہ اقتدار سے نکال باہر کیا گیا تھا۔ اب عیسائی اس حکومت کے حامیوں کو نہ صرف چن چن کر قتل کر رہے ہیں بلک تمام مسلمانوں کو کھلے عام قتل کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی نوبت یہ آ چکی ہے کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں گزشتہ ماہ بحران شروع ہونے سے قبل مسلمانوں کی آبادی تقریباً 15فیصد تھی جب کہ ملک کی کل آبادی 46لاکھ نفوس پر مشتمل ہے لیکن اب مسلمانوں کی کثیر تعداد خانہ جنگی کے بعد پڑوسی ملک چاڈ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ عالم اسلام کے کھاتے پیتے حکمراں بھلے ہی خواب خرگوش میں مبتلا ہوں لیکن تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے رکن ’عزت الرشق‘ نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جرائم انجام دیے جا رہے ہیں جب کہ ان وحشیانہ جرائم کے مقابلہ میں عالمی برادری کی خاموشی قابل مذمت اور سنٹرل افریقہ میںمسلمانوں کے دفاع میں عربی و اسلامی برادری کا سست رویہ نا قابل توجیہ ہے۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے رکن کے بقول مسلمانوں کا یہ قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے جب کہ اس خطہ میں انتہا پسند گروہ بالا کاہانے اس ملک میں مسلمانو ںکے خلاف نسل پرستانہ اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک سیکڑوں مسلمانوںکو نہایت بے دردری اور سفاکی سےقتل کیا جاچکاہے۔
کیا ہے پس منظر؟
وسطی افریقہ وہ خطہ ہے جس کا انیسویں صدی کے اوائل تک بیرونی دنیا سے بہت کم واسطہ پڑا تھا۔ اسلام یہاں آنے والے عرب تاجروں کی بدولت پھیلا۔ عیسائیت او ریہودیت جیسے بڑے مذاہب کا گزر یہاں ممکن نہ ہو سکا اور نئی دنیا کے خیالات کی روشنی بھی ان تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ یہاں مسلمان تاجروں کی آمد بھی انیسویں صدی کے اوائل میں ہی ہوئی۔ 1850کے قریب غلاموں کے تاجروں کی نگاہ یہاں پر پڑ گئی اور اگلے50برسوںمیں سوڈان، چاڈ، کیمرون، دارالکوتی کے تاجروں نے یہاں کی افرادی قوت کا جی بھر کر استحصال کیا۔ 1880میں فرانس نے اس علاقہ پر قبضہ کر لیا اور اگلے 80سال تک اسے اپنی سلطنت کا حصہ بنائے رکھا۔ 1960میںجمہوری وسطی افریقہ کو آزادی نصیب ہوئی اور ڈیوڈ ڈیکو پہلے صدر بنے۔1966میں ڈیکو کےکزن آرمی چیف زاںبیدل بوکاسا نے اقتدارپر قبضہ کرکے ایک آمرانہ حکومت قائم کر دی اور علاقہ کو سلطنت وسطی افریقہ کا نام دیا۔ افریقہ کے غریب ترین ملکوں میں شامل جمہوری وسطی افریقہ میں عیسائی مسلم کشیدگی 2013میں اس وقت شروع ہوئی جب مسلمانوں کی ایک تنظیم سیلیکا نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس طرح ملک میں پہلی بار مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے مشعل قودیا نے عبوری صدارت سنبھالی لیکن حالات بگڑنے پر جنوری 2014میں وہ بھی عالمی دباؤ میں مستعفی ہو گئے۔ ان کے استعفی کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور خانہ جنگی پر قابو پانے کے لیے ا قوام ِمتحدہ کی درخواست پر فرانس اور افریقی یونین نے اپنے فوجی دستے وسطی جمہوریہ افریقہ بھیجے لیکن ان کی موجودگی میں امن قائم ہونے کی بجائے نہ صرف صورتحال سنگین ہوتی چلی جا رہی ہے بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے مسلم برادری تشدد کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور انہیں اجتماعی طو رپر قتل کیا جارہا ہے۔ مسلم ممالک کے میڈیا فیس بک صارفین اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے

ہیں کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں کئی ہفتوں سے عیسائی دہشت گرد تنظیم اینٹی بلاکا کےدہشت گردانہ حملوں میں مسلمان زیر عتاب ہیں ،مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم اور آتش و خون کامہیب سلسلہ جاری ہے۔ فرانسیسی فوج اور افریقی یونین کے امن دستوں کے سامنے عیسائی تنظیم کے دہشت گرد مسلمانوں کا وحشیانہ قتل عام کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو جلا رہے ہیں۔ دو ماہ کے دوران عیسائی دہشت گردوں کے ہاتھوں نہایت سنگ دلی سے ہزارہا مسلمان باشندوں کو موت کی نیند سلا یا جا چکا ہے اور ان کی املاک کو چشم زدن میںآگ لگا کر خاکستر کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کی بستیوں کو نیست و نابود کیا جا رہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دنیا میں اس عیسائی دہشت گردی کے خلاف کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیںہو رہی اورکسی کو مسلمانوں پر جاری ظلم و بربریت نظر نہیں آرہی۔ افریقی مسلمانوں کے خلاف مظالم پر خاموشی کے نتیجہ میں مغرب کے دجالی ذرائع ابلاغ سے شکوہ تو فضول ہے البتہ مسلم ممالک کی ڈالر میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے جو ان مسلمانوں کی خاک بسری و بے بسی اور ناچاری پر خاموش تماشائی ہے۔ عالمی سطح پر مجرمانہ خاموشی سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جمہوری وسطی افریقہ میں عیسائی دہشت گردوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام وسطی افریقہ سے مسلمانوں کے نسلی صفایے کی منظم کوشش ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *