فُکُّوْ الْعَانِی(الحدیث) (قیدیوں کو چھڑاؤ)

یہ زمین اللہ کی ہے۔ پورا نظام کائنات اللہ کی مٹھی میں ہے۔ اللہ نے زمین کو گہوارہ بنایا تاکہ ہر جاندار مخلوق اس پر رہ سکے۔ انسان کو تمام مخلوقات سے اشرف بنایا۔۔۔۔۔۔۔ نعمتوں سے مالامال کیا اور اس کو بتا دیا کہ تم زمین پر اللہ کے نائب ہو۔ اللہ کے احکامات کے مطابق ہی تمہیں زندگی گزارنی ہے، تمہیں زمین پر اللہ کا بندہ بن کر رہنا ہے۔ تمہارا رب، تمہارا الٰہ صرف اللہ رب العالمین ہے۔ اسی نے پیدا کیا ہے ؛زندگی دی ہے؛ تمام طرح کی نعمت دی ہے ؛ اور ایک متعین مدت تک مہلت عمل دی ہے کہ زمین پر انسان ان نعمتوں سے متمتع ہو اور اللہ کی بندگی کرے۔ لیکن شیطان جو ازلی دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں آکر انسان سرکشی کرنے لگتا ہے۔ مقام عبدیت سے انحراف کرکے خود خدائی کا دعوی کرنے لگتا ہے۔ سرکشی اور انحراف و عدوان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اور اللہ کے مخلص بندوں کے لیے زمین تنگ کرنے لگتا ہے۔ وہ خود گناہوں میں لت پت الٹا حق پرستوں کو ہی سب و شتم کا نشانہ بنانے لگتا ہے۔
فرعون جب کھلے میدان میں حضرت موسیٰ سے دلیل کی جنگ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔ سرعام رسوا ہوا تو غلط قسم کے پروپگنڈے کرنے لگا۔
ترجمہ ’اے موسی کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کردے‘(سورہ طہ ۷)
’ دراصل فرعون حضرت موسیؑ کی معقول و مدلل تقریر اور انکے معجزے کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ نہ صرف اس کے اہل دربار بلکہ اس کی رعایا کے سبھی عوام و خواص اس سے متأ ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے اس لیے اس نے جھوٹ، فریب اور تعصبات کی انگیخت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کردی‘(۔سورہ طہ حاشیہ نمبر ۳۰ تفہیم القرآن )اور کہنے لگا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو تم سے تمہاری دھرتی ماتا اور تمہاری پیاری تہذیب چھیننا چاہتے ہیں۔
ترجمہ ’یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کردیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کردیں‘۔ ( طہ ۶۳)
’ تعصبات کی آگ بھڑکا کر حکمراں طبقے کو اندھا جوش دلانا چاہتے تھے۔ اور یہ خوف انھیں دلارہے تھے کہ موسیٰ کا غالب آجانا تمہارے ہاتھوں سے ملک نکل جانے اور تمہارے مثالی (Ideal ) طریق زندگی کے ختم ہوجانے کے ہم معنی ہے۔ فرعون ملک کے بااثر طبقے کو ڈرا رہا تھا کہ اگر موسی کے ہاتھ اقتدار آگیا تو یہ تمہاری ثقافت اور یہ تمہارے آرٹ، یہ تمہارا حسین و جمیل تمدن اور تمہاری تفریحات اور یہ تمہاری خواتین کی آزادیاں (جن کے شان دار نمونے حضرت یوسف کے زمانے کی عورتیں پیش کرچکی تھیں ) غرض وہ سب کچھ جس کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں، غارت ہوکر رہ جائے گا اس کے بعد تو نری ملائیت کا دور دورہ ہوگا جسے برداشت کرنے سے مرجانا بہتر ہے۔ ( تفہیم القرآن سوہ طٰہٰ حاشیہ ۳۷۰ )
فرعون نے حق کی تکذیب کے لیے جادوگروں کو بلایالیکن جب جادوگروں کے سامنے سحر کا ابطال اور حق کا اثبات ہوگیا تو وہ جادوگر فوراً ایمان لائے۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ جادوگروں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اوراس کے ساتھی میدان مقابلہ میں غالب ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوگئے۔ جادوگروں کا یہ حال ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انھیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو (سورہ الاعراف ۱۲۲۔۱۲۱)
ہم نے مان لیا رب العالمین کو، اس رب کو جسے موسیٰ و ہارون مانتے ہیں۔ فرعون نے کھلے عام اپنی شکست اور جادوگروں کا اعلانیہ ایمان لانا دیکھ کر بالکل غلط بات مشتہر کی اور کہا کہ یہ تم لوگوں کی خفیہ سازش تھی۔ تم ہم سے ہمارا اقتدار چھیننا چاہتے ہو۔
فرعون نے کہا کہ تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔
ترجمہ’یقیناً یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کردو اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔( الاعراف ۱۲۳) اورفرعون نے جادوگروں کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی:
میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دونگا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا۔ (سورہ اعراف ۱۲۴)
سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی دونگا تم کو کھجور کے تنہ پر (سورہ طہ: )
فرعون کی دل دہلا دینے والی دھمکی کے جواب میں جادوگروں نے بالکل صاف اور واضح انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا:
ترجمہ ’سو تو کر گذر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں ‘( طہ ۷۲)
اب تو جو کچھ کرسکتا ہے کر گذر تیرا بڑا زور یہ چل سکتا ہے کہ ہماری اس فانی زندگی کو ختم کردے سو کچھ مضائقہ نہیں ہم پہلے ہی دارالقضاء کے مقابلہ میں دارالقرار کو اختیار کرچکے ہیں۔ ہم کو اب یہاں کے رنج و راحت کی فکر نہیں، تمنا صرف یہ ہے کہ ہمارا مالک ہم سے راضی ہوجائے۔ ( تفسیر مولانا شبیر عثمانی طہ ۷۲ )
جادوگروں کا جواب مزید وضاحت سے سورہ اعراف میں بیان ہوا ہے۔
’ انھوں نے جواب دیا ہمیں پلٹنا اپنے رب کی طرف ہے تو ہم سے جس بات پر انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں‘۔ (سورہ اعراف ۱۲۶)
اور ان مصلحین اللہ کے برگزیدہ بندوں کو مزید سب و شتم کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ظالم کہتے ہیں۔
ارے یہ تو فساد پھیلانے والے لوگ ہیں، یہ مفسد ہیں۔ فرعون نے اپنی رعایا و امراء سے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں فساد پھیلائے۔ (المومن ۲۶)
ور باطل پرست حکومتوں کے وزراء حکومت کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ان حق پرستوں کو پابند سلاسل کرے، دیش نکالا دے یا جیلوں میں ٹھونس دے۔ فرعون کے وزراء نے کہا کیا آپ موسی اور اسکی جماعت کو چھوڑ دیجئے گا کہ ملک میں فساد پھیلائے اور آپ کے اقتدار اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائے ا تذر موسی و قومہ لِیُفْسِدُوْافِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِھَتَک
حق پرستوں کی جماعت و افراد کے اوپر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ یہ جذباتی لوگ ہیں۔ یہ قوم کے وسیع تر مفاد کے خلاف اقدام کرتے ہیں۔ قوم نوح کے گمراہ سرداروں نے حضرت نوحؑ اور ان کے کے بارے میں یہی کہا تھا اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن( الاعراف ۶۰)
ان ظالموں نے حق پرستوں کو پاگل، مجنوں، دیوانہ کہا؛ جھوٹا کہا۔ قوم لوط کے سرداروں نے حق پرستوں کے خلاف یہ صدا بلند کی کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں اِنَّھُمْ اُنَاس’‘ یَّتَطَھَّرُوْن (اعراف ۸۲)
ان ظالموں نے حق کے خلاف غلط پروپگنڈے کئے ؛ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں؛ سب و شتم کے تیر برسائے؛اور کھلے لفظوں میں جیل کی دھمکیاں دیں۔
’فرعون نے کہا اگر تو نے میرے علاوہ کسی کو معبود مانا تو تجھے بھی ان لوگوں میں شامل کردونگا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں ‘(الشعراء ۲۹)
’یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ آج کی طرح زمانہ ٔقدیم میں بھی معبود کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا یعنی یہ کہ اسے بس پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا استحقاق پہنچتا ہے۔ رہی کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اور سیاسی معنوں میں بھی بالادست ہے تو یہ چیززمین کے مجازی فرمانرواؤں نے نہ پہلے کبھی مان کردی تھی نہ آج وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ فرعون کی اس گفتگو کے پیچھے یہی تصور کام کر رہا تھا اگر معاملہ پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا ہوتا تو اس کو اس سے کوئی بحث نہ تھی کہ حضرت موسیؑ دوسرے دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ رب العالمین کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اگر اس معنی میں توحید فی العبادات کی دعوت موسیؑ نے اسکو دی ہوتی تو اسے غضب ناک ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ جس چیز نے اسے غضبناک کردیا تھا وہ یہ تھی کہ موسیؑ نے رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کرکے اسے اس طرح ایک سیاسی حکم پہنچایا کہ گویا وہ ایک ماتحت حاکم ہے اور ایک حاکم برتر کا پیغامبر اس سے اطاعت امر کا مطالبہ کررہا ہے۔ اس معنی میں وہ اپنے اوپر کسی کی سیاسی و قانونی برتری ماننے کے لیے تیار نہ تھا اسی لیے اس نے صاف صاف دھمکی دے دی کی ملک مصر میں تم نے میرے اقتدار اعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدار کا نام لیا تو جیل کی ہوا کھاؤ گے تو جیل میں سڑا سڑا کے مار دوں گا (تلخیص تفہیم القرآن سورہ شعراء حاشیہ ۲۴)
حضرت موسیٰ نے کہا فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ( الشعراء ۱۶)
ہم پیغام لے کر آئے ہیں پروردگار عالم کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے کورب العالمین کا پیغمبر کہا۔ اس پر فرعون ہٹ دھرموں کی راہ سے بولا (العیاذ باللہ) رب العالمین کیا چیز ہوتی ہے۔ میری موجودگی میں کسی اور رب کا نام لینا کیا معنی رکھتا ہے کیونکہ اس کا دعویٰ تو اپنی قوم کے روبرو یہ تھا ما علمت لکم من الہ غیری۔ القصص ۳۸(میں اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں سمجھتا ) و انا ربکم الاعلی تمہارا بڑا پروردگار میں ہوں۔
’حضرت موسیٰ نے پھر کہا کہ رب العالمین وہ ہے جو مشرق و مغرب کا مالک ہے اور تمام سیارات کے طلوع و غروب کی تدبیرایک محکم و مضبوط نظام کے موافق ہے۔ اگر تم میں ذرا بھی عقل ہے تو بتلا سکتے ہوکہ اس عظیم الشان نظام کا قائم رکھنے والا بجز خدا کے کون ہوسکتا ہے ؟کیا کسی کو قدرت ہے کہ اس کے قائم کئے ہوئے نظام کو ایک لمحہ کے لیے بھی توڑ دے یا بدل ڈالے۔ یہ آخری بات سن کرفرعون بالکل مبہوت ہوگیا اور بحث وجدال سے گذر کر دھمکیوں پر اتر آیا۔ اور صاف کہہ دیا کہ مصر میں کوئی اور خدا نہیں اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو یاد رکھو قید خانہ تیار ہے‘۔ ترجمہ شیخ الھند مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی)یعنی جب فرعون نے دیکھا کہ موسی مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کا ملہ کی وضاحت کررہے ہیں جس کا کوئی معقول جواب اس سے نہیں بن پارہا ہے تو اس نے دلائل سے صرف نظر کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسی کو حوالہ زنداں کرنے سے ڈرایا (تشریح مولانا جونا گڑھی) ’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی اور ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کردئیے جب وہ اٹھے اور انھوں نے اعلان کردیا کہ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالک بے جا بات کریں گے‘ (سورہ الکہف ۱۴)
’ بادشاہ سخت غالی بت پرست تھا اور جبرواکراہ سے بت پرستی کی اشاعت کرتا تھا ایسے وقت میں چند نوجوانوں کے دلوں میں خیال آیا کہ ایک مخلوق کی خاطر خالق کو ناراض کرنا ٹھیک نہیں ہے ان کے دل خشیت الہی اور نور تقویٰ سے بھرپور تھے۔ حق تعالی نے صبر و استقلال اور توکل و تبتل کی دولت سے مالا کیا تھا بادشاہ کے روبرو جاکر انھوں نے لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰھًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا (الکہف آیت۱۴)کا نعرہ ٔمستانہ لگایا اور ایمانی جرأت و استقلال کا مظاہرہ کرکے دیکھنے والوں کو مبہوت و حیرت زدہ کردیا (، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی حاشیہ ۹ ص سورہ کہف ) اس کے بعد میں انھوں نے غار میں پناہ لی۔
’جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوگئے اور انھوں نے کہا اے ہمارے پروردگار! ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کردے ‘۔ ان نوجوانوں نے غار میں کیوں پناہ لی مولانا مودودیؒ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ’ یہ لوگ شہر سے نکل کر پہاڑوں کے درمیان ایک غار میں جا چھپے تاکہ سنگسار ہونے یا ارتداد پر مجبور کئے جانے سے بچ جائیں ‘ (حاشیہ سورہ کہف ۱۲،تفہیم القرآن)
’کہا جاتا ہے کہ سرکاری آدمیوں نے بہت تلاش کیا پتہ نہ لگا۔ تھک کر بیٹھ رہے اور بادشاہ کی رائے سے ایک سیسہ کی تختی پر ان نوجوانوں کے نام اور مناسب حالات لکھ کر خزانہ میں ڈال دئے گئے تاکہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ ایک جماعت حیرت انگیز طور پر لاپتہ ہوگئی۔ ممکن ہے آگے چل کر اس کا کچھ سراغ لگے۔‘ (تفسیر مولانا شبیر عثمانی ص ۳۹۳)
کیا جرم تھا جادو گروں کا جن کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی؟ یہی کہ وہ سب اللہ واحد پر ایمان لائے تھے، جنھیں یقین تھا کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ کیا جرم تھا حضرت موسیؑ اور ان کے پیروکاروں کا جنھیں جیل میں ڈال کر سڑا دینے کی دھمکی دی گئی یہی ناکہ وہ فرعون کو الہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اللہ رب العلمین کو الہ مان رہے تھے۔ کیا جرم تھا ان نوجوانوں کا جنھیں فراری جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑ ی اور پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی۔ یہی کہ ان نوجوانوں نے بادشاہ وقت کے سامنے حق بات کہنے کا جرم کیا تھا۔ حق کی خاطر دربدر ہوگئے Most wanted قرار دیئے گئے۔
کیا جرم تھا، اس نوجوان کا جو نیک، پاکباز، وفا شعار، خوبصورت اور خوب سیرت تھا۔
حضرت یوسفـ کا کیا قصور تھا؟ ایک نیک شریف باپ کے انتہائی لائق فرزند، حسن سیرت، حسن صورت سے مالا مال۔ سوتیلے بھائیوں کی عصبیت کا شکار، اندھے کنویں میں ڈال دئیے گئے۔ باپ رو رو کر نڈھال اندھا ہوگیا۔ ایک خوشحال نیک خصال گھر کے فرزند بازار میں غلام بناکر بیچ دئے گئے، جس گھر میں بطور غلام تھے وہی عورت ان پر فریفتہ ہوگئی۔ خطا عورت کی تھی۔ زیادتی عورت کی تھی۔ یوسف پارسا اور بے خطا تھے۔ وہ بار بار اپنی بے گناہی بتا رہے تھے قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ۔ یوسف ؑنے کہا اس عورت نے مجھے پھانسنے کی کوشش کی اور ان کے بے قصور ہونے کی دلیل۔۔۔۔۔۔ خود انکی پھٹی ہوئی قمیص تھی۔
اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہوا ہوتو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا جب لوگوں نے دیکھا یوسف کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں۔ واقعی غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ یوسف! اس معاملے سے درگذر کر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ توہی اصل میں خطا کار تھی۔ ( سورہ یوسف آیت ۲۷ تا ۲۹)
یوسف بے داغ تھے، بے قصور تھے، بری قرار پائے۔ عزیز مصر کی بیوی قصور وار تھی لیکن اس عورت نے اپنی سہیلیوں کی جھرمٹ میں حضرت یوسف کو پھر دھمکی دی کہ یہ اس دن تو بچ نکلا حالانکہ میں نے رجھانے کی بڑی کوشش کی تھی۔ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ ط وَلَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَآ اٰمُرُہٗ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَکُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْن (سورہ یوسف ۳۲)
بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا۔ اور اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی جارہی ہے آخر قصور کیا تھا یہی ناکہ وہ بے قصور تھے، انھوں نے خود کو برائیوں سے بچارکھا تھا۔
اے میرے رب مجھے قید منظور ہے بہ نسبت اسکے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔
پھر ان لوگوں نے (یوسف کی پاکدامنی کی ) بہت سی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی مناسب یہی سمجھا کہ کہ انھیں ایک مدت تک قید خانے بھیج دیں‘(یوسف ۳۵)
’ یعنی اگرچہ یوسف کی بیگناہی اور پارسائی کے بہت سے دلائل ان لوگوں کے سامنے آچکے تھے لیکن عزیز مصر نے اپنی بیوی کو بدنامی سے بچانے اور اس واقعے کا چرچا ختم کرنے کے لیے مناسب یہ سمجھا کہ کچھ عرصے تک انھیں قید خانے میں ہی بند رکھا جائے‘ ( توضیح القرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
یہ عجب بات ہے کہ سراسر غلطی عورت کی تھی۔ یوسف بے گناہ تھے قمیص کے پیچھے سے پھٹے ہونے کا ناقابل انکار بثوت بھی تھا۔ اس کے بعد بھی محض بدنامی سے بچنے کے لیے اس بے قصور کو ناحق پھنسا دیا۔ ناحق جیل میں ڈلوا دیا۔
٭یوسف صفت بے قصوروں کو جیلوں میں ڈالنا؛
٭صرف اللہ کو رب اور الہ ماننے والوں کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینا،جیلوں میں ڈال کر سڑا دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا بے قصوروں کو مطلوب دہشت گرد قرار دے کر دربدری پر مجبور کردینا ؛ یہ ظالمین کا پرانا حربہ ہے جو آج تک جاری ہے۔ یوسف صفت جیلوں میں ہوں۔ اعلائے کلمۃ اللہ کی پاداش میں یا اپنے مال و آبرو کی حفاظت میں لڑنے کی وجہ سے جیلوں میں ہوں۔ یہ فی سبیل اللہ قیدی ہیں۔
قید اور غلامی میں ایک باریک سا فرق ہے۔ اور جیل کا قیدی غلاموں سے بدتر ہوتا ہے۔ غور کریںکہ حضرت یوسف تو عزیز مصر کے غلام تھے لیکن ان کو قید میں ڈال دینے کی دھمکی دی گئی اور بالآخر قید میں ڈال دیا گیا۔ بنی اسرائیل کو تو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا لیکن اس نے قید میں ڈال کر سڑا دینے کی دھمکی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جیلوں کی قید غلامی سے بدرجہا بدتر ہے۔
جیل خانہ
جیل کا تصور توکافی پرانا ہے حضرت یوسف جیل میں تھے۔
فرعون نے جیل کی دھمکی دی تھی۔
آپﷺ نے جنگی قیدیوں (جنگ بدر کے ) اپنے صحابہ میں بانٹ دیا تھا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی تھی۔ ثمامہ ابن اثال کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ رکھا گیا تھا۔
مسجد نبوی کے قریب ایک حضیرہ (باڑہ ) تھا جسے خواتین قیدیوں کے لیے خاص کیا گیا تھا لیکن وہ بھی اس طرح کی تھی وہاں موجود قیدیوں کو حضور سے آتے جاتے فریاد کرنے کا پورا موقع تھا وہاں کسی طرح کی تعذیب و ٹارچر کا تصور نہیں تھا۔ انھیں قیدیوں کے ساتھ حاتم طائی کی بیٹی سفانہ نے اسی حضیرہ سے رسولﷺ کو آتے دیکھا اور قریب آنے پر فریاد کی۔ یا رسول اللہ ہلک الوالد و غاب الوافد منن علی من اللہ علیک میں سردار کی بیٹی ہوں، میرا باپ رحم و کرم میں مشہور تھا فوت گیا اور مجھے فدیہ دے کر چھڑانے والا فرار ہوگیا۔ آپ مجھ پر احسان فرمائیں۔ اللہ تعالی آپ پر بڑا احسان کرے گا‘یہ اس قیدی خاتون کی فریاد ہے جو حضیرہ میں قید حضور پاک سے روبرو ہوکر فریاد کررہی ہے۔ تصور کریں کہ اس عارضی جیل میں کتنی آسانیاں تھیں۔ اس حضیرہ سے جیل کا ایک تصور پایا جاتا ہے۔ لیکن مستقلاً جیلوں کے رہنے، یا خواہ مخواہ جیلوں کو آباد رکھنے کا تصور نہیں تھا بلکہ اسیروں کی فریاد سننے اور اس کو فی الفور حل کرنے کی ہی کی بات سامنے آتی ہے۔ خواہ مخواہ جیلوں میں سڑانے کا قطعی رجحان اسلامی تاریخوں میں نہیں ملتا۔ ہاں معاملہ کی تہہ تک جانا معاملات کو سمجھنے اور اس کو حل کرنے کی مدت تک جیل میں رکھنے کی بات ثابت ہے۔ حکومت اور نظم وانصرام چلانے میں بہرحال جیل خانوں کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں متعدد جیل خانے بنوائے۔ اول اول مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کا مکان چار ہزار درہم پر خرید کر جیل خانہ بنوایا اور پھر اور اضلاع میں بھی جیل خانے بنوائے۔ بصرہ کا جیل خانہ عتبہ بن غزوان نے تعمیر کروایا تھا جو بالکل دارلامارہ کے متصل تھا۔ کوفہ کا جیل خانہ بانس یا نرکل سے بنا تھا (اسوہ صحابہ جلد دوم، ص ۷۲)
اس وقت تک صرف مجرم جیل خانے میں رکھے جاتے تھے لیکن دور خلافت کے بعد قاضی شریح مدیونون کو بھی قید کی سزا دیتے تھے اور جیل خانے میں بھجواتے تھے۔
جیل خانہ تعمیر ہونے کے بعد بعض بعض سزاؤوں میں بھی تبدیلی ہوئی، مثلاً ابو محجن تقفی بار بار شراب پینے کے جرم میں ماخوذ ہوتے تو اخیر دفع حضرت عمرؓ نے ان کو حد کے بجائے قید کی سزا دی۔
جلاوطنی کی سزا بھی حضرت عمرؓ کی ایجاد ہے، چنانچہ ابو محجن کو حضرت عمرؓ نے یہ سزا دی تھی اور ایک جزیرہ میں بھیج دیا تھا۔ (الفاروق حصہ دوم ص ۵۵)
دور حاضر کی جیلیں کیا ہیں، کیسی ہیں، جیلوں کے شب و روز کیا ہیں۔ اونچی دیواروں کے پیچھے کی دنیا کیسی ہے اور باہر سے ان جیلوں کے کس کس طرح کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں کوئی ان جیلوں کو سدھار گرہ، کوئی انھیں آشرم کوئی اور کن کن ناموں سے یاد کرتا ہے۔
یہ جیلیں کیسی ہیں۔۔۔۔۔ جنھوں نے ان جیلوں میں اپنے قیمتی ماہ و سال گذارے ہیں خود تکالیف کو برداشت کیا، معاملات کے عینی شاہد ہیں، ان کی زبانی جیلوں کی دینا سے واقف کرارہے ہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ جیلیں کسی قدر شدید اور وحشت ناک ہیں جس سے فرعون نے ڈرایا تھا۔
پروفیسر خورشید احمد صاحب جو ؁میں حوالہ زندان ہوگئے سنٹرل جیل۔ جیل کیا ہے انھیں کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
’جیل ایک دوسری ہی دنیا کا نام ہے۔ چند ایکڑ زمین کا وہ قطعہ جس پر زنداں واقع ہے بظاہر اسی خاک وطن کا ایک حصہ ہے جیسے باقی تمام حصے اور علاقے۔ یہاں بھی انھیں اینٹوں اور پتھروں سے قفس تعمیر ہوتے ہیں جس سے دوسری تعمیرات وجود میں آتی ہیں یہاں بھی ویسی ہی شکل و صورت کے انسان پائے جاتے ہیں جو باقی دنیا میں دیکھے جاتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود زنداں ایک دوسری ہی دنیا کا نام ہے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ یہاں کی ہر چیز مختلف ہر بات نرالی ہر شے منفرد ہے ظاہری مماثلت خواہ کیسی ہی ہو لیکن یہاں کے پورے ماحول پر ایک مخصوص فضا طاری ہے۔ گھٹن، پراگندگی، جرم اور معصیت کا سایہ ہر چیز کے اوپر چھایا ہوا ہے۔ بے چارگی، مجبوری اور بے کیفی ہر شے سے ہویدا ہے۔ بے بسی اور پابندی یہاں کا دستور و قانون ہیں۔ آزادی، خودداری اور عزت نفس کی پرچھائیاں بھی یہاں نظر نہیں آتیں۔ ہر شے پر ایک سوگواری مسلط ہے۔ یہاں کی ہر چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ میں زندانی ہوں۔ گھٹن، بے بسی، بے چارگی اور مجبوری کا احساس جیل کی چہار دیواری میں قدم رکھتے ہی ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر انسان پابند محض ہے اور کچھ نہیں‘ ( تذکرہ زنداں۔ پروفیسر خورشید احمد )
بقول مولانا ابوالکلام آزاد ’ قید خانے میں بھی سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، یہاں بھی رات کو تارے چمکتے ہیں، یہاں بھی صبح اندھیرے کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہاں بھی خزاں کے بعد بہار آتی ہے، یہاں بھی صبح میں پرندے چہکتے ہیں مگر ان کا معنی باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ رہائی کے لیے پل پل گن کر ان چیزوں کا جائزہ ایک قدرتی عمل تھا بہار کے آنے کی امید لیے کئی بہاریں بیت جاتی تھیں مگر پھر بھی بہار کا انتظار کررہی تھی۔ (قیدی نمبر ۱۰۰ ص ۱۶)
قید کیا ہے، جیل کیا ہے، تحریک اسلامی کے صف اول کے قائد محترم مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب جو ۲۰۰۱؁ء میں سورت جیل میں قید تھے۔ ایک طویل عرصہ جیل میں گذارا۔ وہ جیل کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ’ کہتے ہیں کہ قید مجبوریوں اور دوریوں کا نام ہے۔ آج کل اسی کا ایک بار اور طویل تجربہ ہورہا ہے۔ یہاں آرام بھی ہے اور تکلیف بھی؛ سکون بھی ہے اور بے چینی بھی؛ کام بھی نہیں ہے اور فرصت بھی نہیں؛ معمول کے کاموں کے سوا کوئی کام نہیں ہے مگر ذہن سوچتے سوچتے تھک جاتا ہے اور اپنے ساتھ جسم کو بھی تھکا دیتا ہے۔ رہائی کا دن معین نہیں مگر نیند آجاتی ہے شاید ان سب باتوں اور کیفیتوں کے مجموعے سے ہی قید کا تصور ایجاد ہوا ہوگا‘۔ ( نقوش زنداں۔ مولانا عطاء الرحمن وجدی ص ۲۳)
جیل میں قیدیوں کو انسان نہیںسمجھا جاتا
جیلوں کے سدھار گرہ ہونے جیلوں کے آشرم ہون کے جو چرچے عام ہیں وہ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔
جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ کیاسلوک روا رکھا جاتا ہے۔ جیلوں میں کسی قسم کی اصلاح ممکن ہے ؟ اس پر جیل میں قید تحریک اسلامی کے صف اول کے قائد مولانا انعام الرحمن صاحب اپنی جیل کی ڈائری میں لکھتے ہیں۔ وہ جون ۱۹۵۳؁ء میں بھوپال جیل میں قید تھے۔
’جون ۵۳ء میں جب میں جیل گیا تو چونکہ میرا یہ پہلا تجربہ تھا میں نے اپنے آپ کو چیک کرنے کی غرض سے ڈائری لکھنا شروع کیا اس میں خیالات سے زیادہ احساسات ہیں۔ اہتمام کیا گیا ہے کہ جس وقت جو احساس ہو وہ ویسا ہی آئے تاکہ میں خود کو چیک کرسکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ تہذیب حاضر نے جو یہ ڈھنڈھورا پیٹ رکھا ہے کہ آج کل جیلوں میں مجرمین کی اصلاح کی جاتی ہے یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ قیدیوں کی اصلاح تو بڑی بات ہے ان کو سرے سے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اور قواعد کچھ ایسے رکھے ہیں کہ قیدی جیل میں رہ کر مزید چوریاں اور بدا خلاقیاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اس طرح ان کی بچی کھچی انسانیت بھی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ ( (زنداں کا داعی ص ۲۸)
محترم پروفیسر خورشید احمد جو ؁ میں پاکستان جیل میں قید تھے۔ وہ اپنی جیل ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جیلیں بگاڑنے کی جگہ ہیں یہ مجرم ساز فکٹریاں ہیں۔ چند ہی دنوں میں جو چیز ہم لوگ شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہماری جیلوں کو محض عذاب گھر بنا دیا گیا ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے یہ مجرم ساز فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ یہاں کوئی باقاعدہ کوشش قیدیوں کی اصلاح اور ان کے اخلاق کو سنوارنے کی نہیں کی جاتی بلکہ ہر چیز اسے بگاڑنے کی طرف لے جانے والی ہے ‘(تذکرہ زنداں۔ پروفیسر خورشید احمد )
ہماری ان جیلوں میں قیدیوں (فی سبیل اللہ قیدیوں کے لیے ) کتنی وسعت گھومنے پھرنے کی ہوتی ہے کیسی وسیع جگہوں میں رکھا جاتا ہے، کتنا انھیں انسان سمجھا جاتا ہے۔ مارچ ۲۰۱۴؁ء میں ناصر نامی نوجوان کم و بیش سات سال جیل میں گذارنے کے بعد رہا ہوا۔ اس کی تفصیلات ملاحظہ ہوں اور تصور کریں کہ ہمارے ملک کی جیلوں میں کیا ہوتا ہے۔
’اتراکھنڈ کے رشی کیش واقع آشرم شیوا نند سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میںملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے بڑھا پور ساکن محمد ناصر کو عدالت نے باعزت بری کردیا۔ اس کی رہائی میں سوامی آنند کا رول بنیادی رہا۔ محمد ناصر کو اے ٹی ایس افسران نے ۱۹؍ جون ۲۰۰۷ کو صبح ساڑھ پانچ بجے شیوا نند آشرم سے گرفتار کیا اور دو دن بعد ۲۱؍ جون کو لکھنؤ سے گرفتار دکھایا۔ اور اس کے پاس سے آر ڈی ایکس اور دیگر دھماکہ خیز مادہ برآمد دکھایا۔سخت تعذیب سے گزارا اور جیل میں اس طرح رکھا کہ ’ ان آنکھوں نے پانچ برس تک طلوع ہوتا سورج بھی نہیں دیکھا۔ سیلن زدہ کمرہ کا اندھیرا پانچ برسوں تک ہمارا مقدر بنارہا۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو ۲۸؍ مارچ ۲۰۱۴)
اس بے قصور شخص کو کس قدر تعذیب کا نشانہ بنایا گیا اور سیلن زدہ اندھیرے کمرے میں پانچ سال تک سورج کی روشنی تک سے محروم کردیا گیا۔ ہمارے ملک کی جیلوں میں قیدیوں پر کس طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں جس میں داخلے کے ساتھ ہی ان پر کیا ظلم کیا جاتا ہے ہے۔ ایشیا کی مشہور زمانہ جیل تہاڑ میں داخلے کے ساتھ کشمیر ٹائمزکے مشہور و معروف صحافی افتخار گیلانی کی آپ بیتی انھیں کے الفاظ میں سنیں اور جانیں تہاڑ آشرم کی اصلیت۔
جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کی بدترین مثال
’جیل میںداخلہ کے بعد کمرے میں داخل ہوتے ہی اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے میرا نام پوچھا ابھی پورا نام بھی بتا نہ پایا تھا کہ ایک نیپال نزاد جیل ملازم آنند نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا۔ یہ باقی لوگوں کے لیے اشارہ تھا۔ ایک ساتھ سب لوگ مجھ پر پل پڑے۔ پیچھے سے لاتوں اور کمر پر گھونسوں کی بارش شروع ہوگئی۔ میں اے ایس کی میز پر گرپڑا۔ اس نے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر میرا سر زور سے میز پر دے مارا۔ میرے منہ سے خون نکلنے لگا میری ناک اور کان سے بھی خون بہہ رہا تھا اس کے ساتھ چن چن کر گالیاں بھی دی جارہی تھیں۔’ سالا غدار،‘’ پاکستانی ایجنٹ‘ وہ چلارہے تھے۔ کچھ لوگ ڈنڈوں سے بھی پیٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ مار پیٹ کا یہ سلسلہ میری بے ہوشی تک جاری رہا۔ ہوش آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون میں لت پت تھا۔ مجھے حکم دیا گیا کہ جاکر اپنا چہرہ دھوڈالوں۔ میں چہرہ دھونے کے لیے آگے بڑھا۔ تبھی ایک آواز گرجی،’ ٹائلٹ صاف کرو ‘۔ ٹائلٹ کسی بس اڈے کے سرکاری پاخانے کی طرح متعفن اور غلیظ تھا۔ میں اسے صاف کرنے کے لیے ادھر ادھر کچھ تلاش کرنے لگا تو اس نے حکم دیا کہ اپنی شرٹ اتار کر صاف کرو۔۔۔۔ حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ٹائلٹ صاف کرنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا ‘۔(تہاڑ میں میرے شب و روزص ۵۰) یہ سلوک جیل میں داخلے کے ساتھ ہی کشمیر ٹائمز کے مشہور صحافی افتخار گیلانی کے ساتھ روا رکھا گیا۔وہ سات ماہ تہاڑ جیل میں گذارنے کے بعد باعزت رہا ہوگئے لیکن اس بے قصور کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا تھا وہ ہوش اڑا دینے والا تھا۔ اس سے خوب صاف ہوتا ہے کہ ہماری جیلوں میں کیا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی جیلیں کیسی ہیں؟
جیل کے اندر ڈاکٹر کا قیدیوں سے سلوک
افتخار گیلانی کے ساتھ ڈاکٹروں کا سلوک کیا تھا۔ ایشیاء کی سب سے بڑی جیل تہاڑ اور دنیا بھر میں اس جیل کی بڑی دھوم ہے۔ اس جیل میں نظم و انصرام کتنا اچھا ہے ڈاکٹروں کا مریضوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟ اور جب تہاڑ کا یہ حال ہے تو ہندوستان کی اور جیلوں کا حال کیا ہوگا افتخار گیلانی نے اپنا واقعہ بیان کیا ہے:
ـ’ڈاکٹر نے میرے خلاف لگائے ہوئے الزامات دریافت کئے، جب اسے بتایا گیا کہ میں آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہوں تو اپنے پیشے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ڈاکٹر نے بھی پیٹنا شروع کردیا حالانکہ ایک معالج کے طور پر اس کا فرض نئے قیدیوں کی طبی جانچ اور اگر وہ زخمی ہوں تو زخموں کا اندراج کرنا تھا ‘۔ (تہاڑ میں میرے شب و روز ص ۵۲)اسی تہاڑ جیل میں بے گناہ افتخار گیلانی اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا تھا۔ کس طرح کی مشقتیں اس سے لی جارہی تھیں اس طرح کی مشقتیں بدترین غلامی کے دور میں غلاموں سے بھی نہیں لی جاتی تھیں۔ افتخار گیلانی کے جیل کے صبح و شام کیا تھے۔ جیل میں ایک پڑھے لکھے قیدی سے لیے جانے والے کام کی تفصیلات۔۔۔’ بیرک کھلتے ہی مجھے وارڈ کے جنرل ٹائلٹ کی صفائی، فرش اور دوسری جگہوں کا جھاڑو پونچھا کرنا پڑتا تھا۔ صبح کو جھاڑو دینا، ٹائلٹ باتھ روم فرش اور وارڈ کی صفائی، صبح دس بجے ہی دوپہر کا کھاناکھلا کر جہاں سب قیدیوں کو آرام کے لیے بیرکوں میں بند کردیا جاتا وہاں جمع کچھ دوسرے قیدیوں کے ساتھ جیل میں ہی جاری تعمیراتی کام پر عمارتی مزدور کے طور پر کام کے لیے بھیج دیا جاتا۔ جہاں شام تک مجھے پتھر توڑنے اور اینٹ مٹی ڈھونے کا کام کرنا پڑتا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میںاس قدر جسمانی محنت نہیں کی تھی۔ راج مزدوروں کا کام میرے لیے عذاب تھا۔ کہاں میں ایک صحافی جس کا کام ہے انگلیوں میں قلم پکڑ کر معلومات پھیلانا، لوگوں کو علم دے کر بے باک بنانا اور کہاں اب وہی انگلیاں کنکریٹ کے ان ڈھانچوں کی تعمیر میں استعمال ہورہی تھیں۔ میرے ہاتھ سخت اور کھردرے ہوگئے اور ان پر جابجا کٹنے اور چھلنے کے زخم تھے۔ میری کھال جھلس گئی اور بدن پر نشان پڑگئے‘۔ (تہاڑ میں میرے شب و روز ص ۶۵)
جیل کی تعریف۔ آقا اور غلام کا رشتہ
جیل میں قیدی اور ملازم کا رشتہ نہیں ہوتا۔ جیل اپنے آپ میں ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی اپنی تہذیب اور معاشرت ہے۔ جیل افسر اس شہر کے آقا ہیں جن کے کام کرنے کے اپنے انوکھے ڈھنگ ہیں۔
’عہد وسطی کا تاریخی زمانہ اگر کسی کو دیکھنا ہوں تو تہاڑ میں دیکھ سکتا ہے یہاں قیدیوں اور جیل حکام کے درمیان ایک ہی رشتہ ہے آقا اور غلام کا رشتہ۔ اگر اتفاق سے باپ اور بیٹا دونوں جیل میں ہوں اور کسی بھی وجہ سے باپ کو پیٹا جارہا ہو تو بیٹا تماشائی بنا رہے گا بیٹے کو زدوکوب کیا جائے تو باپ کو چپ چاپ دیکھنا پڑے گا۔ رومن سلطنت کے غلام اتنے ڈرے سہمے کیوں ہوتے تھے اس کا راز مجھ پر تہاڑ جیل میں ہی کھلا، میری سمجھ میں آگیا کہ رومن آقا جان بوجھ کر ڈر اور خوف کا ایسا ماحول پیدا کرتے تھے جس سے کسی بھی غلام کو اپنی ذاتی سلامتی کے سوا کچھ نہ سوجھے اور وہ بس ہر اس سزا سے محفوظ رہنے کی خواہش کرتا رہے جو اس کا غلام ساتھی جھیل رہا ہو۔ ‘
تہاڑ میں قیدیوں کو کیا کرنا ہے اس کی ہدایات حالانکہ تحریری شکل میں کہیںنہیں ملتی لیکن جیل میں داخل ہوتے ہی ہر قیدی خود بخود ان پر عمل کرنے لگتا ہے۔ یہ بے لکھی ہدایات اس طرح ہیں:
۱۔ چائے اور پانی پینے کے لیے قیدی کپ کا استعمال نہیں کرے گا۔
۲۔ قیدی کسی کرسی پر نہیں بیٹھے گا، اگر مجبوری ہے تو صرف اسٹول پر بیٹھے گا۔
۳۔قیدی ہمیشہ قطار میں سڑک کے ایک کنارے چلے گا۔ سڑک کے بیچ میں چلنے کی سخت سزا ہے۔
۴۔قیدی کسی جیل افسر کو اپنی طرف آتا دیکھے تو رک جائے اور اس کے گذرجانے کے بعد ہی آگے بڑھے۔
۵۔کسی بھی جیل افسر سے بات کرتے وقت قیدی دونوں ہاتھ جوڑے رہے گا۔
۶۔نگاہیں نیچی رکھے گا۔ افسر کو ہمیشہ ’ سر‘ کہہ کر مخاطب کرے گا۔
۷۔کسی جیل افسر سے ملنے کے لیے جانا پڑے تو قیدی اپنی چپل کمرے کے باہر اتارے گا۔
ان ہدایات کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے۔ ایک بار میں نے ایک قیدی کو ڈیوڑھی پر پٹتے ہوئے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے کپ سے پانی پینے کی کوشش کی تھی۔
ایک غائب دماغ قیدی کی نہایت بے دردی سے اس لیے پٹائی ہوئی کہ اس نے ایک جیل افسر کو ’ چاچا ‘ کہہ دیا تھا۔ (تہاڑ میں میرے شب و روز ص ۱۱۵)
انجم زمرد حبیب کے الفاظ میں جو تہاڑ جیل (خواتین جیل میں) ۵ سال قید رہی ہیں:
’جیل ایک الگ ہی دنیا ہے جہاں آقا اور غلام کے اصولوں پر پابندی سے عمل کیا جاتا ہے۔ اس دنیا کے مختلف rules & regulation ہیں جن کو Follow کرتے کرتے قیدی اسی دنیا کا باسی بن جاتا ہے۔ سر جھکا کے آفیسر کے سامنے کھڑے ہونا اور صرف ہاں جی میڈم ہاں جی میڈم کی رٹ لگانا پڑتی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ اور دیگر آفیس میں چپل اتار کر ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے ‘۔(قیدی نمبر ۱۰۰ انجم زمرد ص ۶۰)
جیل میں ملاقات ایک جذباتی منظر
سید علی شاہ گیلانی جو کہ نینی جیل میں قید تھے۔ ان سے ایک سال بعد ان کے بیٹے ملنے آئے اس جذباتی منظر کو وہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں:
’گیٹ پر پہنچ کر میری باچھیں کھل اٹھیں جب میں نے نعیم اور نذیر کو گیٹ پر کھڑا پایا جسم کے روئیں روئیں اور دل کی عمیق گہرائیوں سے رب ذوالجلال کے لیے شکر وسپاس کی صدائیں بلند ہونے لگیں‘
’۹؍ اپریل ۱۹۹۰ ؁ء کو بیٹے نعیم کا چہرہ دیکھا تھا۔ آج ۶؍ اپریل ۹۱ ء ہے۔ ایک سال گذرنے میں صرف تین دن باقی ہیں۔ نذیر احمد آگے بڑھ کر گلے ملتا ہے۔ میں نے چھاتی کے ساتھ اس کو بھینچ لیا اور پیشانی کو ان گنت بوسے دئے۔ اس کے بعد نعیم بیٹا آگے بڑھ کر بغل گیر ہوجاتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے ہیں مگر ضبط فغاں سے کام لیتا ہوں، سینے کے ساتھ چمٹا کر پیشانی پر پدرانہ شفقت کے نامعلوم کتنے بوسے دئے۔ جسم کا انگ انگ رواں رواں پکار اٹھا۔ میں بار بار اپنے دونوں بیٹوں کے چہروں کی طرف دیکھتا ہوں اور میرے دل میں تراوٹ اور ٹھنڈک کی کیفیت مرئی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ (روداد قفس ج اول ص ۱۰۹)
قیدی کے لیے ملاقات۔۔۔ زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ
قیدی زمرد حبیب جیل میں ملاقات کے اوپر اپنا تاثر بیان کرتی ہیں۔ صرف چند ہی منٹ کی ملاقات ہوتی ہے۔ تاہم جیل کی اسی ملاقات کا دل پر الگ ہی اثر ہوتاہے۔ ’ مگر قیدی کے لیے ملاقات زندہ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ پندرہ بیس منٹ کی ملاقات رہی۔ گھر کے لوگوں سے، اس کے بعد وہ تمام لوگ چلے گئے اورمیں اندر آگئی۔ ملاقات سے جیسے میری جان میں جان آگئی ملاقات کا اثر دوسری ملاقات تک رہتا تھا۔ قیدی کے لیے ملاقات جینے کا سہارا ہے‘۔ (قیدی نمبر ۱۰۰ ص ۱۴۸)
ایک دوسری ملاقات کا تذکرہ وہ یوں کرتی ہیں۔ اور اس بات کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو کبھی قید میں رہا ہو۔
’تقریباً بیس منٹ کی ملاقات تھی سب سے بڑی بات یہ کہ آج میں اپنی ماں اور بھائیوں سے ہاتھ ملا سکی اور گلے مل سکی ‘
جیل قیدیوں سے ان کے اعزہ اہل خانہ متعینہ دنوں میں ملاقات کرسکتے ہیں یہ ملاقات کسی جیل میں ہفتہ میں دو دن کسی جیل میں ایک ماہ میں ایک بار ہی ہوسکتی ہے۔ اکثر جیلوں میں بالخصوص تہاڑ جیل میں قیدیوں اور ملاقاتیوں کے بیچ دو دیواروں کے فاصلے ہوتے ہیں دونوں طرف موٹی گھنی جالیاں ___ اور تہاڑ میں تو ان جالیوں پر دونوں طرف سے شیشے لگے ہوتے تھے۔ اتنے فاصلے کی ملاقات پر دونوں طرف سے زور زور سے چیخنا پڑتا ہے چونکہ ایک ساتھ بہت سے قیدی ملاقات کرتے ہیں ان کی آوازوں کا شور اس قدر ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔
جیل میں ملاقات کی کیفیت
مولانا انعام الرحمن صاحب جیل میں ایک ملاقات پر اپنے تاثرات کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’۱۲ بجے اطلاع آئی کہ چلو گیٹ پر ملاقاتی آئی ہے۔ میں اور زبیر بھائی پہنچے سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں مولانا امیر جماعت، مولانا حامد علی، سید صاحب، حاجی صاحب، عزیز شحمہ، خلیل، شفیق سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں کیا لطف تھا اس کو صرف وہ جان سکتا ہے جو جیل میں بند رہ چکا ہو۔ اس جیل کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ آنکھوں نے قصور کیا۔ اپنی قید پر افسوس یا شکایت کا شائبہ بھی نہیں تھا لیکن خدا معلوم کیوں انھیں دیکھ کر دل بھر آیا۔ شاید دلوں کے لگا ؤ کا کرشمہ ہے ‘ (زنداں کا داعی ص ۲۵۷)
کیفیت زنداں
’جیل میں مختلف کیفیات کا ہجوم ہوتا ہے جولوگ قید میں رہتے ہیں انھیں ہی یہ لذت حاصل ہوتی ہے اور وہی اس کا ادراک کرسکتے ہیں۔ اشعار کی شکل میں جگر مرادآبادی نے اسکو مشکل کردیا ہے۔
بے کیف مے ناب ہے معلوم نہیں کیوں
پھیکی شب مہتاب ہے معلوم نہیں کیوں
بے نام سی ایک یاد ہے کیا جانئے کس کی
بے وجہ تب و تاب ہے معلوم نہیں کیوں
دل سینہ میں پہلے بھی پھڑکتا تھا مگر اب
کشتی سی تہہ آب ہے معلوم نہیں کیوں
دیکھا تھا کبھی خواب سا معلوم نہیں کیا
اب تک اثر خواب ہے معلوم نہیں کیوں
جگر مرادابادی
مولانا انعام الرحمان خان صاحب اور ان کے ساتھ دیگر رفقاء کو بھوپال جیل سے اندور جیل لے جایا جارہا تھا۔ جیل سے جیل میں ہی جانا ہے _____یوں تو یہ خوشی کی بات نہیں ہے لیکن بھوپال سے اندور جانے تک آزاد دنیا میں سانس لینے کی اورر گاڑی کی باریک جالیوں سے ہی آزاد دنیا کا نظارہ کرنے کی کیسی خوشی ایک قیدی کو ہوتی ہے اس کا اندازہ ان تحریروں کو پڑھ کر کریں۔
’نفسیات کے ماہرین کی رائے ہے کہ آدمی کو اس کے ماحول سے علیحدہ کرکے ایک جگہ بند کردیا جائے، اس سے زیادہ سخت اس کے لیے اور کوئی سزا نہیں ہوسکتی۔ ان کی یہ رائے بالکل صحیح ہے۔ پنجرہ لوہے کا ہو یا سونے کا، ہے پنجرہ ہی۔ یہ معلوم ہے کہ اندور جاکر بھی جیل ہی میں رہیں گے لیکن خواہ مخواہ خوشی ہورہی ہے۔ صرف اس لیے کہ ایک ہی دن کے لیے سہی باہر کی دنیا تو نظر آجائے گی۔ ابھی تو بس اتنا ہے کہ کچھ اخباروں سے معلوم ہوگیا کچھ کسی سے سن لیا۔
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
(زنداں کا داعی، ص ۱۷۸)
مولانا نے جیل کی ان خاص کیفیات کا بڑی صفائی اور بے باکی سے تذکرہ کیا ہے جس میں نہ تو تصنع ہے نہ بناوٹ، جسب ذیل سطور کو پڑھ کر جیل کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا آسان اور جیل کے اثرات کیا ہوتے ہیں اس کا بہ آسانی ادراک ہوسکے گا۔
’جیل میں افطار و سحر کے وقت توپوں کی آواز ہوا (روشنی) سورج وغیرہ قسم کی چیزیں تو پہنچتی ہیں جن سے ہماری ملاقات پہلے سے ہے، آسمان اور چاند تارے بھی نظر آجاتے ہیں، جن کو ہم پہلے سے جانتے ہیں اور ہاں دوچار درخت بھی یہاں ویسے ہی ہیں جیسے میرے وطن میں ہوتے تھے۔ اپنے گھر اور وطن سے میل دو میل کے فاصلے پر ہوں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے ملک میں ہی نہیں بلکہ دوسری دنیا میں لے آیا گیا ہوں۔ ایک یہی خیال کیا خیالات کا جنگل ہے جس میں گھر گیا ہوں ویسے تو میں ڈینگیں مار سکتا ہوں۔
نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اس قفس میں چاہے آرام سے پڑے پڑے موٹا ہوجاؤں لیکن جہاں تک احساس کا تعلق ہے گرفتار ہونے پر خوشی کو میں سراسر تصنع جانتا ہوں۔ میرا یہ جاننا بزدلی نہیں بالکل فطری بات ہے کہ میں بھی آزاد ہوتا‘۔ (زنداں کا داعی، ص ۱۱)۔
قید کیا ہوتی ہے ؟ قید میں انسان کس قدر مجبور ہوتا ہے اور کتنا باہر کے خیالات سے بے خبر۔ باہر سے آنے والے ایک مختصر سے پوسٹ کارڈ اور باہر سے آنے والی ادنیٰ درجہ کی چیزیں جیل میں کتنی اہمیت کی ہوجاتی ہیں اس کا اندازہ ان سطور کو پڑھ کر کیا جاسکتا ہے:
’دوریاں اور مجبوریاں بس یہی قید کی حقیقت ہے، کھانے پینے، سونے کا طے شدہ معمول ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ اگر نمک کی ضرورت پڑے تو لازم نہیں کہ بروقت مل جائے، یہاں معمولی معمولی چیزوں کے بدلے بڑی بڑی خدمات لی جاتی ہیں۔ یہاں بظاہر فرصت ہے مگر فرصت ذہنی بمشکل میسر آتی ہے، اس دنیا میں اگر باہر کے حالات معلوم ہوتے رہے تو بڑی آسانی محسوس ہوتی ہے۔ عزیزوں اور دوستوں کو اگر یہ انداز۔ہ ہوجائے کہ ان کے خطوط کی یہاں کیا قدر و قیمت ہے اور کس طرح ان کا انتظار رہتا ہے تو شاید وہ روزانہ ایک خط ضرور لکھتے رہیں۔ مگر ایسا کہاں ہوتا ہے، یہاں میں خود بھی اسی شدت انتظار کے مزے لیتا ہوں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ الانتظار اشد من الموت‘۔ (نقوش زنداں از مولانا عطاء الرحمن وجدی، ص ۳۵)
شاید انہی کیفیات کو حفیظ میرٹھی نے شعری جامہ پہنایا ہے ؎
اسیروں کے لیے سوغات ہوگی ہمیں کانٹے ہی بھجوا دو چمن سے
جیل میںگھر، بیوی، بچوں کی یادوں کا ہجوم بھی گھیر لیتا ہے اس کیفیت کا اظہار محترم سید علی شاہ گیلانی کے ان تاثرات میں پڑھیں:
’ آج سینٹرل جیل نینی الٰہ آباد سیل نمبر ۳ میں جبکہ یہ سطور میں لکھ رہا ہوں اپنی ان پیاری بیٹیوں کو دیکھے پورے گیارہ ماہ چودہ دن بیت چکے ہیں۔ اس دوران مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے کہ یہ بیٹیاں اور دوسری بڑی تین بیٹیاں ان کے بچے، بچوں کی نانی ام آنسہ، بھائی صاحبان، بہنیں اور ان کے بچے بستی کے لوگ اور دوسرے متعلقین کیسے ہیں، کس حال میں ہیں، کون زندہ ہے، کون مردہ۔ کیسے گزر بسر کررہے ہیں ؟ یہ کہنا کہ میرے دل میں کوئی اضطراب نہیں محض ایک تعلّی اور لایعنی بات ہوگی، آخر ہم انسان ہی تو ہیں ‘۔ (روداد قفس، ج ۱، ص ۳۴)
جیل میں رہتے رہتے جیل کی در و دیوار جنگلے اور سلاخوں سے تھوڑا انس اور لگاؤ ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اتنا وقتی اور عارضی ہوتا ہے کہ بس ایک جھٹکے میں نابود، جیل کی اس کیفیت کا اظہار ان سطور میں جھلکتا ہے:
’ آج ہی دن میں کہہ رہا تھا کہ اب تو جیل میں دل لگ گیا ہے۔ بلکہ ان درو دیوار سے کچھ انس ہوگیا ہے لیکن اس وقت جیسے ہی معلوم ہوا کہ عزیز باہر کھڑا ہے، جیل جیل معلوم ہونے لگی، خود پر بھی ترس آیا اور عزیز پر بھی، خدا معلوم کیا کیا خیالات گھومنے لگے ‘۔ ( زنداں کا داعی، ص ۸۸)
جیل کی ایک خاص کیفیت، ہر قیدی ایک ایک دن گنتا ہے
جیل میں کتنا ذہنی اضطراب، کس قدر جذبات کا تلاطم ہوتا ہے کہ جیل کا ہر قیدی اپنی قید کا ایک ایک دن گنتا ہے، جنہیں انگریزی مہینوں کے نام نہیں معلوم وہ موسموں کے سہارے یاد رکھتے ہیں۔ جیل میں بظاہر مسکرانے والے قیدی سے بھی اگر پوچھا جائے کہ وہ کب گرفتار ہوا، کیوں گرفتار ہوا، اور کب رہائی متوقع ہے، تو وہ ان تفصیلات کو بیک وقت بتا دے گا۔
انجم زمرد حبیب کے الفاظ میں ملاحظہ کریں:
’جیل میں ایک ایک دن گنتی تھی، ہر قیدی قید و بندکے ایک ایک دن انگلیوں پر گنتا تھا، ہر قیدی کو یاد ہے کہ کب گرفتار ہوئے، کتنی کورٹ ڈیٹ پڑی، کس ڈیٹ پر کیا ہوا، جج چھٹی پر کب تھا، کون دن کونسی تاریخ ؟ ان سب کا حساب قیدی اچھی طرح رکھتا ہے، زیادہ تر قیدی انگریزی مہینوں اور ڈیٹ سے واقف نہیں، وہ اپنی نظربندی اسی طرح گنتی تھی، میں فلاں موسم میں گرفتار ہوئی، آرتی نام کی قیدی جو پچھلے نوسالوں سے یہاں بند تھی، تو وہ مجھ سے کہتی تھی ’جب مجھے قید ہوئی، ان دنوں بارش کا موسم تھا، اب آٹھ بارشوں کے موسم میں نے جیل میں گزار دیے اور میری رہائی آم کے موسم میں ہوجائے گی، غرض ہر قیدی ہر پل، ہر ہفتہ، ہر مہینہ، ہر سال، ہر موسم کا حساب رکھتی تھی اور یہ گنتی کئی قیدیوں کے لیے طویل سے طویل تر ہوتی جاتی تھی ‘۔ ( قیدی نمبر ۱۰۰، ص ۱۷۹)
پروفیسر خورشید نے جیل کی اس خاص کیفیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
’جیل کے اس پورے قیام میں اس بات کو میں نے خصوصیت سے محسوس کیا ہے کہ ہمیں کوئی ایک بھی قیدی ایسا نہیں ملا ہے کہ جو تعین کے ساتھ ایک لمحہ بھی توقف کے بغیر فوراً یہ نہ بتا دے کہ اس نے کتنے سال، کتنے مہینے اور کتنے دن گزارے ہیں۔ اور دنوں کے تعین کے ساتھ کتنی مدت باقی ہے، ہر شخص کی روح پر جیل کا کتنا بڑا بوجھ ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہی کیا جاتا ہے۔ یہاں ہر ہر دن بے چینی سے گنا جاتا ہے ‘۔ (تذکرہ زنداں، از پروفیسر خورشید احمد، ص ۳۰۲)
رؤیا اہل السجون( جیلوں کے خواب)
اچھے خواب خواہ جیلوں میں دیکھیں جائیں یا جیل کے باہر، رویا صالحہ نبوت کا حصہ ہیں، اچھے خواب مبشرات ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ نے روایت کی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا ۴۶ واں حصہ ہے (بخاری جلد سوم، ۱۸۷۵)
آپﷺ نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں، صحابہ نے پوچھا ماالْمُبَشِّرَات قال الرویا الصالحہ۔ یہ مبشرات کیا ہیں آپ نے فرمایا اچھے خواب۔ لیکن جیل کا خواب سے ایک الگ ہی تعلق ہے اسی لیے صاحب بخاری نے بخاری شریف میں ایک اسی عنوان سے باب باندھا ہے، اس باب کے تحت حضرت یوسفؑ کے قیدی ساتھی کے خواب کا تفصیلی تذکرہ ہے، جس سے اہل السجون کے خواب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ اپنے خاص بندوں کو جنہیں آزمائشوں کے لیے چنتا ہے تو انہیں مایوسی سے بچانے، ان کے اندر جذبۂ استقامت کو بڑھانے کے لیے مبشرات سے نوازتا ہے۔ آگے جیل کے اندر قید اہل السجون کے خواب کا ذکر کریں گے۔
جیل کے خواب مبشرات
محترم سید علی شاہ گیلانی جو نینی جیل میں اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ قید تھے، وہ اپنے رفقاء کے شب و روز، ان کے معمولات کے ساتھ ساتھ ان کے جیل کے خواب کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’نینی جیل میں ہمارے نوجوان ذکر و اذکار، تلاوت قرآن، عبادات اور خدمات میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے، دو تین کے سوا اس زمرے میں ہمارے نوجوان قابل رشک اور باعث صد افتخار تھے، وہ ایسے سچے اور بشارتی نوعیت کے خواب دیکھتے تھے کہ جو کچھ واقعات کی دنیا میں ہمارے سامنے دن کی روشنی میں آتا تھا، وہ رات کی آرام گاہوں میں پہلے ہی دیکھ چکے ہوتے تھے۔ علی الصباح ناشتہ کے دوران یا ناشتہ کے بعد جب مل بیٹھتے تو اپنے خواب بیان کرتے تھے، بعض اوقات ہمیں سن کر ان کی تعبیر بہت دور دکھتی تھی، مگر کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ صبح خواب سنا اور دن میں بعینہٖ اس کی تعبیر سامنے آگئی۔
۷؍ اگست ۱۹۹۰ء کی تاریخ تھی، ناشتے کے بعد میں نہانے کے لیے غسل خانے کی طرف جارہا تھا کہ برادر فضل الحق قریشی برآمدے میں ملے، کہنے لگے امتیاز احمد نے خواب دیکھا ہے، انہوں نے خواب میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا منظر دیکھا، پاکستان کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت کی برطرفی انہوں نے حواب میں دیکھی، بظاہر تو ہمیں ایسی صورت حال کے پیدا ہونے کے اسباب معلوم نہیں تھے، میں نے کہا دیکھیے کس رنگ میں اس کی تعبیر سامنے آئے گی۔ ریڈیو تو ہے نہیں اب اخبارات کی اطلاع پر ہی انحصار کیا جاسکتا ہے۔ دس بجے جیل کا عملہ جو ڈیوٹی پر آیا اس نے پہلی خبر یہی سنائی کہ پاکستان کے صدر جناب غلام اسحاق خان صاحب نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت کو برخاست کردیا ہے، محترم غلام مصطفی جتوئی کو نگراں وزیر اعظم مقرر کردیا ہےاور اکتوبر ۱۹۹۰ تک قومی اسمبلی کے نئے انتخابات کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ واہ رے امتیاز! تیری سادگی اور معصومیت اللہ کے یہاں کتنی مقبول اور پسندیدہ ہے، اللہ کے یہاں ہر خلوص اور بے لوث بندگی، قربت کا کتنا عظیم ذریعہ ہے، وہ اپنے نیکوکار بندوں کو کس طرح بشارتوں سے نوازتا ہے۔ (روداد قفس، جلد اول، ص ۱۹۹ تا ۲۰۰)
مولانا انعام الرحمن خاں صاحب لکھتے ہیں:
’اکثر راتوں میں رفقاء اور اہل و عیال سے ملاقات ہوجاتی ہے، آج خواب دیکھا کہ جب میں یہاں سے گھر پہنچا تو پیر صاحب نے مجھ کو اور میں نے ان کو گود میں اٹھا لیا، اس کی مٹھاس اب تک محسوس کررہا ہوں ‘ (زنداں کا داعی، ص ۹۸)
مولانا انعام الرحمن کا خاں صاحب خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں:
’آج راستے میں گاڑی میں سوگیا، خواب میں اپنے گھر والوں اور حاجی صاحب، سید صاحب، مولانا (امیر جماعت) اور مولانا حامد علی صاحب اور دیگر کو دیکھا، اس خواب کا مزہ اب تک آرہا ہے، اس کنج قفس میں کب تک رہنا ہے، طبیعت متاثر ہے، بے حد دل چاہتا ہے کہ ان سب لوگوں سے خواب میں ہی ملاقات ہوجایا کرے ‘۔ (زنداں کا داعی، ص ۱۹۲)
کھلی آنکھوں دیکھا:
کھلی آنکھوں نظر آنے والے یہ مناظر یہ اللہ کی خاص عنایات ہیں ’رات سے بار بار شمہ وغیرہ خصوصاً شفیق سامنے آجاتے ہیں اور ایک ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے اب رفتہ رفتہ وہ ٹیسیں تو کم ہورہی ہیں لیکن ان کے کم ہونے کا ملال ہے، کیونکہ وہ ٹیسیں بے حد لذیذ معلوم ہوتی ہیں۔
(زنداں کا داعی، ص ۲۴۴)
تہاڑ جیل میں قید افتخار گیلانی لکھتے ہیں: میں نے کھلی آنکھوں دیکھا کی آنسہ جیل میں آگئی، میں نے مایوسی سے بیرک کی چھت اور دیواروں پر نظر دوڑائی، قیدیوں کی چیخ و پکار کے شور میں بھی موت کا سناٹا اور شدید تنہائی محسوس کررہا تھا، لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا، دور دور تک امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف لاچاری ہی لاچاری تھی، درد ہی درد تھا، اچانک آنسہ (افتخار گیلانی کی زوجہ) کا مسکراتا چہرہ میری نظروں کے سامنے آگیا۔ اتنا صاف اور واضح کہ لگتا تھا کہ میں اسے چھو سکتا ہوں، تمام رکاوٹوں کو توڑ کر وہ میری بیرک میں آگئی تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس سے کیا کہوں، اس نے بھی کچھ نہیں کہا، اس کی ایک جھلک کا میرے اوپر ایک ناقابل بیان اثر ہوا، تمام اضطراب تھم گیا، ایک گہرا سکون میرے وجود میں اتر آیا، کچھ دیر کے لیے میں اپنی تمام تکالیف بھول گیا۔ ( تہاڑ کے شب و روز، ص ۷۶)
جیل کی ایک خاص کیفیت
جیل میں قیدی رہا ہونے والے سے کچھ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں، وہ یہ چاہتے ہیں کہ باہر جاکر یہ ہمارے لیے ہماری صورت حال سے آزاد دنیا کو باخبر کریں، جیل میں موجود قیدیوں میں سے کچھ نے اپنی زندگی سے سمجھوتا کرلیا تھا، کچھ انتقام لینا چاہتے تھے، کچھ انصاف چاہتے تھے، کچھ صرف اتنا چاہتے تھے کہ باہر جاکر نئے سرے سے زندگی شروع کرسکیں، ہر قیدی کی اپنی ایک داستان تھی، انہیں امید تھی کہ میں انکی داستان جیل سے باہر کی دنیا کے لوگوں کوسناؤں گا ہوسکتا ہے کوئی باضمیر افسر یا سیاسی لیڈر ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کی رہائی کے لیے بھی کچھ کرے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ ان کی توقعات پر کیسے پورا اتر سکوں گا (تہاڑ میں میرے شب و روز، ص ۷)
جیل میں حضرت یوسفؑ نے اپنے اس قیدی بھائی سے جس کے خواب کی تعبیر تھی کہ وہ رہا ہوگا اور بادشاہ کا مصاحب خاص بنے گا، اس سے کہا تھا کہ رہا ہوکر بادشاہ سے کہنا کہ جیل میں ایک بے قصور بند ہے، جس کی کوئی خطا نہیں ( سورہ یوسف آیت نمبر ۴۲)
جس قیدی کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا، پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا، چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے۔
’آقا سے مراد بادشاہ ہے، حضرت یوسفؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جاکر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا، اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم بادشاہ سے میرا تدکرہ کرنا کہ ایک شخص بے گناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملہ پر آپ کو توجہ کرنا چاہیے، مگر جب کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال جیل میں رہنا پڑگیا ‘۔ (تفسیر توضیح القرآن از مفتی تقی عثمانی)
یہ بھی جیل کی نفسیات کا حصہ ہے، نکلنے والے قیدی سے لوگ کہہ دیتے ہیں اور نکلنے والا بھی بالعموم وعدہ کرلیتا ہے لیکن کم ہی لوگ وعدہ پورا کرتے ہیں۔
مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ ایک مظلوم شخص کا اپنی رہائی کے لیے دنیوی تدابیر اختیار کرنا خدا سے غفلت اور توکل کے فقدان کی دلیل قرار دیا گیا ہوگا۔ یہ بات باور کرنے کے قابل نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، سورۂ یوسف، حاشیہ ۳۵)
قید سے رہائی کی خوشی
قید میں ہر قیدی ایک ایک دن گنتا ہے اور اپنے رہا ہونے کی امید میں وہ قید و بند کے ایام گذارتا ہے اور جب رہائی کا دن آتا ہے تو وہ ایک الگ ہی کیفیت ہوتی ہے۔ایسی خوشی کہ الفاظ ساتھ نہیں دیتے، بس اس سے وہی واقف ہوگا کہ جس پر یہ دن گزرا ہوگا۔
محترمہ انجم زمرد حبیب لکھتی ہیں ’جیل کی بے رخی اور افسر دہ زندی کو خوش گوار بنانے کی گوشش میں قیدی ایک دوسرے کی خوشی میں شامل ہوتے تھے جب بھی کسی وارڈ سے کوئی عورت رہا ہوجاتی تھی کنتی بند ہونے پر تالیاں بجا بجا کر خوشی خوشی اسے رخصت کرتے تھے اگر رہائی کی خبر ایک دو دن پہلے معلوم ہوجاتی تھی تو وارڈ کی عورتیں جمع ہو کر ڈھول بجا کر گانا گاتی تھیں۔ سکھ میں ساتھ دیکر اپنا غم تھوڑے وقت کے لیے غلط کرتی تھیں۔ (قیدی نمبر ۱۰۰، ص ۱۱۱)
قیدی کے دل و دماغ پر کتنے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا اندازہ حسب ذیل تحریروں کو پڑھ کر لگاسکتے ہیں، سید افتخار گیلانی لکھتے ہیں:
’سا ت مہینے کی قید کیا تھی، لگتا تھا جیسے میں ایک پوری زندگی گزار آیا ہوں۔ میں اپنے بچوں کے چہرے بھول گیا تھا۔ جب عدالت میں میری پیشی ہوتی تھی تو بس میری بیوی اور چند دوستوں کے مرجھائے ہوئے چہرے ہی نظر آتے تھے۔ ( تہاڑ میں میرے شب و روز ص ۴ )
مولانا انعام الرحمن خاں صاحب اپنی انہی کیفیات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’ابھی کل ہی تو یہاں آیا ہوں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بچوں کو دیکھے صدیاں بیت گئی، سوچتا ہوں کہ اپنے گھر کو، اپنے اہل و عیال کو، اپنے اعزہ و اقارب کو، اپنے رفیقوں اور دوستوں کو دوبارہ اسی حالت میں دیکھنا نصیب ہوتا ہے یا نہیں ‘۔ (زنداں کا داعی، ص ۱۱ )
رہائی کے بعد بھی طبیعت پر جیل کے گہرے اثرات، ایک خاتون قیدی کی داستان
’رہائی کے بعد بھی میں بے خوابی کی بیماری میں مبتلا ہوں، نیند کی دوا کھانے کے بعد رات رات بھر جاگتی ہوں، گھٹن بھرے خواب اب بھی مجھے ستاتے ہیں، کیونکہ خواب میں جیل، جیل کی سلاخیں، جیل کا اسٹاف، جیل کا تناؤ بھرا ماحول ہی دیکھتی ہوں، ابھی بھی جب شام کے ۶ بج جاتے ہیں تو ایک خوف سا طاری ہوتا ہے، چھ بجے کے بعد مجھے گھر سے نکلنا ایک معمہ سا لگتا ہے، کیونکہ ۶ بجے جیل کی گنتی بند ہوجاتی تھی اور اس عادت نے میرے ذہن کو مقفل کردیا، بظاہر میں آزاد دنیا میں ہوں مگر ابھی بھی بنا ہاتھ پکڑے میں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں سکتی، کیونکہ پانچ سال تک مسلسل پولیس والے میرا ہاتھ پکڑے مجھے تہاڑ جیل سے عدالت اور عدالت سے تہاڑ تک لے جاتا کرتے تھے اور اس عادت نے میرے ذہن میں وہ نقوش چھوڑے ہیں جن کا مٹنا مشکل ہے ‘۔ (قیدی نمبر ۱۰۰، انجم زمرد حبیب، ص ۱۲)
اندازہ کریں کہ جیلیں کس قدر بری جگہیں ہیں اور ان جیلوں کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں، جیلوں کے الگ الگ اثرات اور اس کی ڈھیروں تفصیلات ہیں۔
قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک
اسلام قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، اللہ پاک نے اہل ایمان کی صفات بتاتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ (سورۂ دہر: ۸۔ ۹۔(
یعنی اللہ کی محبت کے جوش میں اپنا کھانا باوجود خواہش اور احتیاج کے نہایت شوق اور خلوص سے مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔
(تنبیہ)قیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر، حدیث میں ہے کہ بدر کے قیدیوں سے متعلق حضورﷺ نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چنانچہ صحابہ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے، حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق اس سے بھی زیادہ ہے اوراگر لفظ اسیر میں ذرا توسیع کرلیا جائے تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل کرسکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہے۔ (ترجمہ حضرت شیخ الہند، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی )
قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبیﷺ نے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ ان کی تکریم کرو، چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر، تفسیر مولانا جونا گڑھی )
اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
وہ کھانے کے محبوب اور دل پسند ہونے اور خود اس کے حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلا دیتے ہیں، قیدی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قید میں ہو۔ ایسے شخص کو کھانا کھلانا بڑی نیکی کا کام ہے۔ (تفہیم القرآن، سورۂ دہر، حاشیہ ۱۳)
اسلام قیدی بنائے رکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا:
آیت قرآنی میں بڑی وضاحت ہے، اللہ پاک نے فرمایاوَعَدَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط ھِیَ حَسْبُھُمْ ج وَلَعَنَھُمُ اللّٰہُ ج وَلَھُمْ عَذَاب’‘ مُّقِیْم’‘ (الانفال: ۶۷۔۶۸)
کسی نبی کے لیے جائز نہیں تھا (آپؐ سے قبل کہ اس کے پاس قیدی ہوں (دشمنوں میں سے) جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے (یہاں تک کہ انہیں نیست و نابود کردے)۔ تم دنیا کے فائدے چاہتے ہو (یعنی قیدیوں کے بدلے فدیہ چاہتے ہو) حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے (یعنی حالت جنگ کفار کو کچل کر دین اسلام کو غالب کیا جائے اور آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے)۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے کیا ہے۔ (یعنی قیدی اور غنیمت حاصل کی ہے) اس کی پاداش میں تم کو بہت بڑی سزا دی جاتی۔
’پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے، اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم لوگوں کے قبضے میں جو قیدی ہیں ان سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا۔ اللہ درگزر کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
اسلام سے پہلے جنگوں میں قیدی بنائے جانے کے بعد قیدیوں کو تہ و تیغ کردیا جاتا تھا، لیکن قرآن میں اللہ پاک بصراحت فرمادیے: حَتّیٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ قلا فَاِمَّا مَنًّا م بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً (سورہ محمد آیت ۴)
جب تم لوگ خوب خوب خوں ریزی کرچکو تو قیدی بناؤ، ان کے ساتھ صرف دو صورتیں ہیں یا احساناً ان کو آزاد کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو ‘۔ یعنی اسلام قیدی بنائے رکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ جلد سے جلد اسے قیدیوں کو چھوڑ دینے کی تلقین کرتا ہے۔
’اور جب تمہارا مقابلہ ہو ان لوگوں سے جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی طاقت کچل چکے ہو تو مضبوطی سے گرفتار کرلو، پھر چاہے احسان کرکے چھوڑ دو یا فدیہ لے کر، یہاں تک جنگ اپنے اختیار پھینک کر ختم ہوجائے، تمہیں تو یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود اس سے انتقام لے لیتا لیکن تمہیں یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعہ امتحان لے ‘۔ (سورۂ محمد: ۴)
اس آیت کی روشنی میں اسلامی حکومت کو چار قسم کے اختیارات حاصل ہیں:
۱- قیدیوں کو بلا معاوضہ احسان کے طور پر چھوڑ دے۔
۲- یہ کہ اس سے کوئی فدیہ یا معاوضہ لے کر چھوڑ دے۔ جس میں جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔ \
۳- یہ کہ اگر ان کو زندہ چھوڑنے میں اندیشہ ہو کہ وہ مسلمانوں کے لیے خطرہ ہیں تو انہیں قتل کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ جیسا کہ سورۂ انفال (۸: ۲۲-۲۳) نے بیان فرمایا گیا ہے۔
۴- یہ کہ اگر ان میں یہ صلاحیت محسوس ہو کہ وہ زندہ رہ کر مسلمانوں کو لیے خطرہ بننے کے بجائے اچھی خدمات انجام دے سکیں گے تو انہیں غلام بنا کر رکھا جائے اور ان اسلامی احکام کے مطابق رکھا جائے۔ جو غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کرتے ہیں، انہیں بھائیوں کا سا درجہ دیتے ہیں (تشریح سورۂ محمد، توضیح القرآن مفتی محمد تقی عثمانی، جلد سوم)
غلام اور قیدی ایک ہی بات:
مولانا عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب اسوۂ صحابہ میں غلام اور غلامی کی تعریف اور یہ ابتدا کیسے ہوتی ہے، بڑی وضاحت سے لکھا ہے، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آج کے فی سبیل اللہ قیدی اور غلام یہ دونوں دو چیزیں نہیں ہیں۔
’غلامی کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ ایک بدقسمت شخص میدان جنگ میں گرفتار ہوجاتا ہے، گرفتاری کے بعد مال غنیمت کے ساتھ اس کی تقسیم ہوتی ہے اور وہ ایک خاص شخص کی ملک بن جاتا ہے، اس کے بعد اپنے آقا کی شخصی حکومت کے ساتھ اس کو سلطنت کے عام قوانین کے ماتحت زندگی بسر کرنا ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کسی قوم کی نسبت یہ سوال ہوکہ غلاموں کے متعلق اس کا کیا طرز عمل تھا ؟ تو بہ ترتیب حسب ذیل عنوانات میں یہ سوال کیا جاسکتا ہے:
۱- حالت قید میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا گیا ہے ؟
۲- آقا نے غلام کو غلام بنا کر رکھا ہے یا آزاد کردیا ہے۔
۳- غلاموں کو کیا کیا ملکی حقوق دیے اور بادشاہوں کا غلاموں کے ساتھ کیا طرز عمل رہا ؟ (اسورۂ صحابہ، جلد دوم، ص ۱۰۴)
جنگ بدر میں ۷۰ قیدی لائے گئے تھے، یہ شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ تمام جنگی قیدی تھے۔ یہ تمام آپ اور آپ کے اصحاب سے لڑنے آئے تھے، ان تمام جنگی قیدیوں کے ساتھ آپ نے کیا سلوک کیا، دنیا بھر کے انسانوں کے لیے قیامت تک کے لیے یہ محسن انسانیت کا اسوہ ہے کہ قیدیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جائے۔ قیدیوں کے تعلق سے جنیوا کمیشن کی سفارشات دیکھیں، حقوق انسانی کے علمبردار تنظیموں کی رپورٹیں اور رسولﷺ کا اسوہ دیکھیں۔
آپﷺ نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی۔
آپﷺ نے اسیروں کی رسیاں کھول دیں۔ آپ نے اسیروں کو فدیہ لے کر چھوڑا۔ آپ نے قیدیوں کو احساناً چھوڑا۔ آپ نے پڑھے لکھے قیدیوں کا یہ فدیہ متعین کیا کہ وہ دس مدنی بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔ آپ نے ادائیگی فدیہ میں بھی کمزور کا خیال رکھا، آپ نے قیدیوں کو ٹارچر کرنے سے منع کیا۔
آپ نے فدیہ لے کر قیدیوں کو رہا کیا۔ اس کی تفصیلات ملاحظہ کریں:
معرکۂ بدر میں ۷۰ قیدی گرفتار کرکے لائے گئے، ان قیدیوں کے بارے میں آپ نے مشورہ کیا اور بالآخر مشورہ سے طے پایا کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ اس میں بطور خاص بات یہ تھی کہ جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، وہ دس مدنی بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔
’کئی قیدی جن کی تعداد دس تھی، اس شرط پر رہا کردیے گئے تھے کہ وہ دس مدنی بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ کیا فدیہ ہے، اس کے دوررس اثرات مرتب ہوئے اور اس سنہری اصول سے تعلیم و تعلم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
زر فدیہ کی سب سے بڑی شرح یعنی چار ہزار درہم یا ایک سو اوقیہ چاندی یہ فدیہ کی سب سے بڑی رقم تھی۔ جن کو بہرحال تمام قیدیوں پر نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی شکلیں۔
رسول اکرمﷺ کے ایک عم زاد بھائی نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہاشمی کے بارے میں یہ بیان ملتا ہے کہ ان سے بطور فدیہ ایک ہزار چھوٹے نیزے (رمع) ادا کرنے کو کہا گیا تھا۔ قیدمی مذکور قریش کے ایک بڑے تاجر اسلحہ تھے ‘۔
تمام اسیران بدر سے وصول ہونے والی فدیہ کی کل قیمت ایک لاکھ پندرہ ہزار درہم کے برابر رہی ہوگی۔ (نقوش رسول نمبر، ج ۱۱، ص ۴۰۵)
ایک قیدی کے فدیہ میں حضرت خدیجہ کا ہار تھا اسے دیکھ کر آپ زار و قطار رونے لگے، حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے تو آپ کی صاحب زادی نے ابو العاص کے فدیہ میں کچھ مال اور ہار روانہ کیا تھا، جو کہ حضرت خدیجہ کا تھا، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ نے یہ ہار دیکھا تو آپ پر شدید رقت طاری ہوگئی۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا تم لوگ اگر مناسب سمجھو تو زینب کی خاطر ان کے قیدی کو رہا کردو اور جو مال حضرت زینب نے دیا ہے وہ واپس کردو، تو صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ (سنن ابی داؤد، ج ۲، باب فی فداء الاسیر بالمال، حدیث نمبر ۹۱۹)
آپ نے بغیر فدیہ لیے چھوڑ دیا:
آپ نے قیدیوں سے فدیہ لیا اس فدیہ کی تفصیلات دیکھیں، آپ کے جذبۂ رحم کا اعتراف قلب و جان سے کرنا ہوگا، جنگی قیدیوں کا ایسا فدیہ۔ اس کے ساتھ ھی خطرناک سے خطرناک جنگی مجرمین کو آپ نے بغیر کچھ لیے مختلف بہانوں سے چھوڑ دیا۔ جس سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا عمومی مزاج قیدی بنائے رکھنے کا نہیں ہے بلکہ انہیں رہا کردینے کا ہے۔ حتی کہ وہ قیدی جو آپ کی جان لینے کے ارادے سے آئے تھے، پکڑے گئے، انہوں نے اپنا جرم قبول کیا، پھر بھی آپﷺ نے تادیب کرکے چھوڑ دیا۔ حدیبیہ کے سال مکہ کے ۸۰ آدمی آپ اور آپ کے اصحاب کے قتل کے ارادے سے مقام تنعیم کے پہاڑ سے اتر کر آئے، عند صلاۃ الفجر لیقتلوہم فاخذہم رسول اللہﷺ سلماً فاتقہم رسول اللہﷺ (فجر کی نماز کے وقت آپ نے ان تمام کو زندہ پکڑ لیا، پھر آپ نے ان کو آزاد کردیا، سنن ابی داؤد، باب فی المن علی الاسیر بغیر فدائً)
قیدیوں کے ساتھ آپ کا یہ فیاضانہ رویہ ایسے خطرناک قیدیوں کو جنہوں نے ارتکاب جرم کیا تھا کہ آپ نے بغیر کچھ لیے چھوڑ دیا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں، ہمارے اپنے ملک میں جھوٹے طور پر سالہا سال جیلوں میں بے قصوروں کو محض اس بنیاد پر جیلوں میں سڑایا جاتا ہے، یہ لوگ مودی کو قتل کرنے کی سوچ رہے تھے، یہ لوگ مایاوتی کو قتل کرنے کی سازش کررہے تھے، ان کے پاس سے نقشہ برآمد ہوا تھا، یہ لوگ اڈوانی کو مارنے کا ارادہ رکھتے تھے، ایسے الزامات کے تحت جیلوں میں بند بے قصوروں کی تعداد خاص بڑی ہے، صالح طلبہ و نوجوانوں کی اسلامی تنظیم پر آج تیرہ سالوں سے پابندی ہے، اس بنیاد پر کہ یہ ملک کے لیے خطرہ ہیں اور اگر اس پر پابندی نہیں لگائی تو یہ اس دیش میں اسلامی انقلاب برپا کردیں گے۔
آپ نے قیدیوں کو شادی کی بنا پر آزاد کردیا:
بنو مصطلق نے ایک بڑا اجتماع کیا تھا مدینہ پر حملے کے لیے آپ کو اس کی اطلاع ملی، آپ نے ان کو اچانک آلیا، اس میں مال غنیمت کے علاوہ دو سو خاندان بھی بطور قیدی ہاتھ لگے تھے مگر پھر سردار قبیلہ حارث بن ابی ضرار کی خوش نصیب دختر حضرت جویریہ کی رسول سے شادی کے سبب ان میں نصف کو بلا زر فدیہ وصول کیے رہا کردیا گیا۔ باقی سو خاندانوں نے زر فدیہ ادا کرکے رہائی پائی۔ (نقوش، جلد ۱۱، ص ۴۱۳)
غزوۂ حنین – کتنی خطرناک مہم تھی اس جنگ کے قیدیوں کی تعداد اس خطرناکی کے باوجود قیدیوں کے ساتھ آپ کا سلوک
۶؍ شوال ۸ھ کو بارہ ہزار مجاہدین (دس ہزار اہل مدینہ، ۲ ہزار اہل مکہ) کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہوئے۔ ۱۰؍ شوال کو وادی حنین پہنچے، وہاں ثقیف و ہوازن ہزاروں کی تعداد میں پہلے سے مقیم تھے۔ ان کی قیادت مالک بن عوف کے ہاتھ میں تھی، ان لوگوں نے پہلے سے ہی تمام موزوں مقامات پراپنے تیر انداز بیٹھارکھے تھے، جیسے ہی اسلامی فوج قریب پہنچی، ان تمام نے تیروں کا ایسا مینہ برسایا … کہ اسلامی لشکر افرا تفری کے عالم میں منتشر ہوگیا۔ حضور کے ساتھ صرف حضرت عباسؓ، حضرت علی، حضرت فضل بن عباسؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت اسامہ بن
زیدؓ اور حضرت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب تھے۔ حضورﷺ نے دائیں بائیں زور سے آواز دی یا معشر الانصار انا ابن عبدالمطلب، انا نبی لاکذب (اے انصار میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں اور بلا ریب میں نبی ہوں ) ’اس معرکہ میں دشمن ۷۰ لاشیں میدان میں چھوڑ کر بھاگا، صحابہ میں سے صرف چار نے شہادت پائی، اسیروں کی تعداد چھ ہزار تھی، مال غنیمت میں چوبیس ہزار اونٹ، بیس ہزار بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی تھی ‘ (نقوش، ج ۴، ص ۴۱۶)
ایسے خطرناک معرکہ میں جو قیدی ہاتھ آئے جنہوں نے اس قدر شدید حملہ کیا تھا کہ صحابہ کی جمعیت بکھر گئی تھی، ایسے قیدیوں کے ساتھ آپ نے حسن سلوک کی اعلیٰ مثال پیش کی۔ آپ نے مال غنیمت تقسیم کردی، ابھی معاملہ قیدیوں کا موخر تھا کہ قبائل کا ایک وفد قیدیوں کی رہائی کے لیے آیا، آپ سے رہائی کی درخواست کرنے لگا، رحمۃ للعالمین نے تمام قیدیوں کو رہا کردیا۔ (نقوش ج ۴، ص ۴۶۱)
اللہ اللہ ایسے خطرناک قیدیوں کو بلا شرط، بلا توقف رہا کردیا۔ امریکہ نے افغانستان پر ۲۰۰۱ء میں بلاجواز، بلا ثبوت حملہ کیا اور بے گناہوں سے بگرام جیل، ابو غریب جیل، کیوبا اور گوانتا ناموبے کی جیلیں بھر دیں۔ ان تمام بے گناہوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے اور دنیا کو جھوٹ باور کرایا کہ یہ خطرناک جنگی قیدی ہیں اور ان کے ساتھ اس قدر مظالم کہ اللہ کی پناہ۔
قیدیوں کو بلا شرط رہا کردیا گیا
ہوازن کی قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی، ان تمام جنگی قیدیوں کے ہوازن کی مسلم اور غیر مسلم سرداروں کی دردمندانہ درخواستوں پر بلا شرط رہا کردیا گیا تھا۔ (نقوش، ج ۵، ص ۶۵۲)
بنو قریظہ کے تمام قیدیوں کو جن کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، ان تمام کو حضرت ثابت بن قیس، حضرت ام منذر کے مشورہ اور سفارش پر بلاشرط رہا کردیا گیا۔ (نقوش، ج ۵، ص ۶۵۱)
صرف ایک وفد نے درخواست کی، آپﷺ نے قیدی چھوڑ دیے:
تمیم عرب کا ایک قبیلہ تھا، جو خلیج ایران کے مغربی ساحل پر آباد تھا۔ آپ کو اطلاع ملی کہ یہ قبیلہ مدینہ پر حملے کی تیاری کررہا ہے، آپ نے حضرت عیینہ بن حصن الفزاری کو پچاس سواروں کے ہمراہ روانہ کیا۔ وہاں سے وہ گیارہ مرد، گیارہ عورتیں اور تین بچے گرفتار کر لائے، پیچھے پیچھے رؤسا تمیم کا ایک وفد بھی آن پہنچا، حضور نے ان کی درخواست منظور فرماکر تمام قیدی چھوڑ دیے۔ یہ واقعہ محرم ۹؍ ہجری میں پیش آیا۔ (طبقات، ج ۱، ص ۴۹۹، (نقوش، ج ۴، ص ۱۷)
سوچیے وہاں کے لوگ سازش کررہے تھے، حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جب ایسے لوگوں کو قیدی بنا کر لایا گیا تو محض ایک وفد کی درخواست پر آپ نے بلاشرط، بلامعاوضہ قیدیوں کو چھوڑ دیا۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *