مولانا عبدالقوی صاحب کی گرفتاری مسلم ووٹ بینک پر دبائو کی سازش امیر وحدت اسلامی ہند مولانا عطاء الرحمن وجدی کا شدید ردعمل

حیدرآباد۔ 27؍ مارچ ( پریس نوٹ) مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ امیر وحدت اسلامی ہند نے مولانا عبدالقوی صاحب مہتمم مدرسہ اشرف العلوم کی گجرات پولیس کی جانب سے دہلی میں ڈرامائی انداز میں گرفتاری اور عدالت میں پیشی کے بعد 14 دن کی پولیس تحویل میں دیئے جانے کے تمام واقعہ کو موجودہ سیاسی منظر میں سیاستدانوں کے ایک سوچے سمجھے پلاٹ کا حصہ قرار دیا ہے۔ مولانا وجدی نے وحدت کی آندھرا پردیش شاخ کے ناظم مولانا محمد نصیر الدین سے فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے مولانا عبدالقوی کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور ان کے افراد خاندان سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دراصل مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کرنے اور ان کی آزادانہ سوچ و فکر کو حکومتی سانچے میں قید کرنے کی سازش نظر آتی ہے۔ حکومت اور محکمہ پولیس میں شامل فرقہ پرست عناصر چاہتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی عالم دین یا ملت کے متحرک نوجوانوں میں سے کسی کو گرفتار کرتے ہوئے ملت کی ہمت شکنی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا عبدالقوی آندھرا پردیش کے مشہور عالم دین ہیں جو ہمہ وقت دینی علوم کی اشاعت و تزکیہ نفوس کے سلسلہ میں مختلف مقامات کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ایک دس سال قدیم مقدمہ میں انہیں مفرور بتاتے ہوئے اچانک دہلی میں جس انداز میں گرفتار کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ انتخابی ماحول میں مسلمانوںکو خوفزدہ کرتے ہوئے ایک خاص پارٹی یا اتحاد کے حق میں مسلم ووٹ بینک کارخ موڑا جائے۔ مولانا وجدی نے کہا کہ ایک مدرسہ کے شریف النفس مہتمم کو عدالت کی جانب سے 14 دن کی تحویل وہ بھی پولیس تحویل ناقابل فہم ہے جبکہ عام طور پر خطرناک مجرموں کو بھی پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ 7دن کی پولیس تحویل میں دیا جاتا ہے۔ اس مسئلہ پر پورے ملک کے مسلمانوں میں جو عام بے چینی پیدا ہوئی ہے اس سے حکومت ‘ انٹلی جنس ادارے اور پولیس یقیناً واقف ہیں اور امید ہے کہ مولانا عبدالقوی کو جلد از جلد رہا کرتے ہوئے اس عوامی اضطراب کو ختم کیا جائے گا۔ مولانا وجدی نے اس مشکل گھڑی میں مولانا عبدالقوی کے اہل خانہ کو عزم و ہمت عطا کرنے کی بارگاہ رب العزت میں دعا کی اور عامۃ المسلمین سے خواہش کی کہ وہ ایسے واقعات کو باہمی اخوت و محبت کا ذریعہ بنائیں اور امت واحدہ کا ثبوت دیں۔ (پریس سکریٹری وحدتِ اسلامی)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *